افغانستان ، جنگ کے بدلتے ہوئے انداز : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

افغانستان کی جنگ آزادی میں تین دہائیوں کے قلیل عرصے میں جنگ کے طریقوں میں دو مرتبہ اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔1987ء میں افغان مجاہدین نے‘ سٹنگر میزائیلوں’ کے ذریعے روسیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور اب خود کش بمباروں کے ذریعے امریکیوں کو افغانستان سے متعلق منصوبے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سٹنگرز میزائیل: 1986ءمیں روسیوں نے افغانستان میں ہیلی بورن کمانڈو بریگیڈ شامل کیا جس سے مجاہدین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس وقت امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل کرسٹ (General Crist) نے پشاور میں میرے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ وہ مجاہدین کی پسپائی اختیار کرنے پر حیران تھے۔

اس کے ایک ہفتہ کے اندر امریکی فوج کے کمانڈر جنرل وکم (Wikam General ) نے مجاہدین کے پسپا ہونے کی تصدیق کرنے کیلئے پشاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے حالات کا زمینی جائزہ لیا اور مجاہدین کو ہاتھ سے چلنے والے سٹنگر میزائیلوں کی ضرورت کے معاملے پر مطمئن ہو کر واپس چلے گئے اورجلد ہی مجاہدین کو سٹنگر میزائیل دے دیئے گئے جنہیں مجاہدین نے استعمال کیا اور روسی ہیلی کاپٹروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کے سبب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور روسیوں کو پسپا ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہ ہر لحاظ سے مناسب اور بر وقت فیصلہ تھا۔

خودکش بمبار: یہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے۔ طالبان کمانڈر ہیبت اللہ کے بیٹے عبدالرحمن خالد کی قیادت میں خود کش بمباروں کے دستے نے بارود بھری امریکی (Humvy) پر بیٹھ کر خود کش حملہ کر کے مدافعت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اس کارروائی نے نوجوان حریت پسندوں کو نیا ولولہ عطا کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کریں گے۔ ذرا سوچئے کہ اگر خود کش بمباروں سے بھری ہوئی نصف درجن ایسی گاڑیاں کسی ٹھکانے پر حملہ کر دیں تو دفاعی فوجوں کی ہمت اور حوصلے کو توڑ کر رکھ دیں گی اور جب وہ بھاگیں گے تو ان کے پیچھے درجنوں خودکش بمبار ان کا تعاقب کر رہے ہوں گے اور اس طرح ایک کے بعد دوسرے حصار ٹوٹتے جائیں گے۔ اب ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں نے ان خطرات کو بھانپ لیا ہے اور افغانستان سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

دراصل امریکہ اور اس کے اتحادی 2010ءمیں مکمل طور پر شکست کھا چکے تھے لیکن ان میں روسیوں کی طرح شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنا نمائندہ رچرڈ آرمیٹیج جو کہ افغانستان کے سینٹ کی کمیٹی کے سربراہ تھے’ انہیں میری طرف بھیجا تا کہ افغان مجاہدین کے ساتھ بات چیت کی راہ نکالی جائے۔ (رچرڈ آرمیٹیج وہی شخص ہیں جنہوں نے 9/11 کے بعد جنرل مشرف کوسخت دھمکیاں دیں اور انہیں افغانستان کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کیلئے امریکہ کے سات مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا)۔ ہم نے ملا عمر سے رابطہ کیا اور ان کی جانب سے اشارہ مل چکا تھا اور انہوں نے امریکیوں سے بات چیت کیلئے ایک پانچ رکنی وفد بھی تیار کر لیا تھا لیکن اسی دوران واشنگٹن میں کچھ ایسی سازش بنی کہ پینٹاگون نے رچرڈ آرمیٹیج کو روک دیا ’جنہوں نے کرنل امام اور خالد خواجہ کے اغوا اور قتل کے بعد ہمارے ساتھ رابطے ختم کر دیئے۔ 2010ء سے امریکہ اور اس کے اتحادی ”سامنے نظر آتی ہوئی شکست کو فتح میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں“ لیکن ملا عمر کے پرعزم مطالبے کی وجہ سے اس سلسلے میں انہیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی۔

ملا عمر نے کہا تھا کہ: ”افغانستان سے نکل جاو اور ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دو۔“ ایسا بہر صورت ہونا ہی تھا جیسا کہ میں نے بھری محفل میں جنرل مشرف کی جانب سے افغانستان کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ”طالبان پھر سے منظم ہو کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنے ملک کی مکمل آزادی تک جنگ لڑیں گے’ وہ جیتیں گے اور امریکہ اوراتحادی ہار جائیں گے۔“ میری اس بات پر سب حاضرین طنزاً ہنس پڑے تھے مگر آج وہ خود اپنے آپ پر ہنس رہے ہوں گے۔ لہٰذا اب امریکہ کے ممتاز تجزیہ کار اور پالیسی ساز حلقوں کی جانب سے ”افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی تبدیل کرنے“ کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔

•افسوسناک بات یہ ہے کہ 16 سالوں تک خزانے لٹانے اور اتنا بیش بہا خون بہانے کے باوجود محفوظ اور پرامن افغانستان کے خواب کی تکمیل کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

•”ہم افغانستان میں اس وقت تک ہرگزکامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہمیں پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل نہ ہو۔“ (جنرل ڈیون فورڈ’ امریکی جوائنت چیف آف سٹاف۔)

• ”وائیٹ ہاوس کواب اس امر کا ادراک کرلینا چاہیئے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج سالانہ 23 بلین ڈالر سے زائد اخراجات کر رہی ہے لیکن اس کے مقابلے میں امریکی مفادات کا تحفظ بہت کم ہے۔ ایک ناکام جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو بڑھانا کسی طور سودمند فعل نہیں ہے۔ امریکی فوج ماضی کی کارروائی ہی دہرا رہی ہے لیکن توقع مختلف نتائج کی ہے۔“

•”امریکی پالیسی سازحلقوں نے بالآخر افغانستان کے بارے منصوبے تبدیل کرنے کی ضرورت کا ادراک کر لیا ہے جو پچیس سالوں سے ایک ہی پالیسی پر گامزن ہیں اور توقعات مختلف نتائج کی رکھتے ہیں۔“ یہ عقلمندی کی علامت ہرگز نہیں ہے کہ آپ بار بار ایک ہی جیسی کاروائیاں کرتے رہیں اور توقع مختلف نتائج کی رکھیں۔“

•”اگر امریکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ کر کے انہیں آزاد کرانا چاہتا ہے تو قبل اس کے کہ دہشت گردوں کا صفایا ہو ’اسے اپنی فوجوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے“ اور افغانستان کی سرزمین افغانیوں کےلئے تنگ نہ ہو گی۔

• ”پاکستان کیلئے تزویراتی گہرائی کا مطالبہ طالبان کے‘ غیر ملکی فوجوں کے انخلاء اور افغان (پاکستان) پختونوں کوغیر ملکی دباو سے آزاد باعزت زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے’ برحق ہے۔ اگرچہ یہ بہت ہی مشکل فیصلہ ہے لیکن بدترین اقدامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔“

امریکہ کو اب ہمارے تزویراتی گہرائی کے نظریے کی حقیقت کا ادراک ہوا ہے کیونکہ افغانستان میں تحریک آزادی اب عروج پر ہے اور اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان 1988ء کی طرح باہمی اتحاد سے خطے میں مسلم ممالک کا تزویراتی محور بنا سکتے ہیں اور تمام زاویوں سے تزویراتی سلامتی کے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ 25 اگست 1988ء کو نیا چیف آف آرمی سٹاف بننے پر میں نے اپنے سینئر افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”ہم اسلام کے غلبے اور جمہوری اقدار کی ترویج کا سورج طلوع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان، ایران اور افغانستان تینوں ممالک باہم متحد ہو کر آزاد، مستحکم اور پرعزم انداز سے مشترکہ منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک باہمی اتحاد سے طاقت کے ایک مرکز کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہی اتحاد عالم اسلام کی تزویراتی گہرائی کا نظریہ ہے۔“

یہ ایسا نظریہ ہے جسے بہرصورت حقیقت کا روپ دھارنا لازم ہے۔ ”اس نظریے کے خلاف ہمارے دشمنوں سے زیادہ ہمارے اپنے آستین کے سانپوں نے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ یہ ہے وہ خواب جسے شرمندہ تعبیر ہونا ہے تاکہ ”افغانستان سے غیر ملکی فوجو ں کے انخلاء کا ہمارا مطالبہ پورا ہو سکے اور ہم غیروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے آزاد باعز ت زندگی گزار سکیں۔ ہمیں توقع رکھنی چاہیئے کہ ہماری حکومت اس اہم مسئلہ کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین ہدف سمجھتے ہوئے، شرمندہ تعبیر کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرے گی۔ اس خواب کی تعبیر ملکی دفاع کی سب سے اہم حقیقت ہو گی۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

ایٹم بم گرانے کے لیے ناگا ساکی کو کیسے چنا گیا ؟

چھ اگست سنہ 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔ اس دھماکے کے بعد 13 مربع کلومیٹر تک کے علاقے میں تباہی پھیل گئی تھی۔ ایک جھٹکے میں ہزاروں زندگیاں برباد ہو گئیں۔ اس سے ہونے والے نقصان کا جب تک پورا اندازہ لگایا جاتا، 9 اگست کو جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرا دیا گیا۔ حالانکہ ناگاساکی اصل نشانہ نہیں تھا۔

تو آخر ناگاساکی نشانہ کیوں بنا؟
آٹھ اگست 1945 کی رات گزر چکی تھی۔ امریکہ کے بم گرانے والے بی۔ 29 سُوپر فوٹریس طیارے پر بم لدا ہوا تھا۔ بڑے سے تربوز کے سائز والے اس بم کا وزن 4050 کلوگرام تھا۔ اس دوسرے بم کے نشانے پر جاپان کا صنعتی شہر کوکرا تھا۔ یہاں جاپان کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں تھیں۔
صبح نو بج کر پچاس منٹ پر نیچے کوکرا نظر آنے لگا۔ اس وقت بی۔ 29 طیارہ 31 ہزار ٖفٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ لیکن شہر کے اوپر بادل تھے۔ طیارہ فضا میں گھوم کر بادلوں کے ہٹنے کا انتظار کرتا رہا۔ بی۔ 29 پھر سے لوٹ کر کوکرا پر آیا لیکن جب بم گرانے کا وقت آیا تو شہر پر دھوئیں کا قبضہ تھا اور نیچے توپیں آگ اگل رہی تھیں۔ بی۔ 29 کا ایندھن تیزی سے کم ہو رہا تھا اور اب طیارے میں صرف اتنا ایندھن ہی بچا تھا کہ وہ واپس لوٹ سکے۔ طیارہ زیادہ دیر فضا میں انتظار نہیں کر سکتا تھا۔

اس مہم کے گروپ کپتان لیونارڈ چیشر نے بعد میں بتایا ‘ہم نے صبح نو بجے پرواز شروع کی تو کوکرا نشانے پر تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بادل تھے۔ تبھی ہمیں اس علاقے کو چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔ اور ہم دوسرے ٹارگٹ کی طرف بڑھے جو کہ ناگاساکی تھا۔‘ کچھ ہی دیر میں ایک بھاری بھرکم بم تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 52 سیکینڈ تک گرنے کے بعد بم زمین سے 500 فٹ اونچائی پر پھٹ گیا۔ گھڑی میں وقت تھا گیارہ بج کر دو منٹ۔ کھمبی کی شکل کا آگ کا ایک بہت بڑا گولا اٹھا جس کا سائز آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور پورے شہر کو نگل گیا۔ ناگا ساکی کے ساحل پر کھڑی تمام کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی تھی۔ کوئی یہ جان بھی نہیں سکا کہ ان کے شہر کے ساتھ ہوا کیا۔ احساس ہونے سے پہلے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔

شہر کے باہر چند جنگی قیدی کانوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بتایا ‘پورے شہر سے انسانوں کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ کچھ بہت ہی غیر معمولی ہوا ہے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ لوگوں کے چہرے، ہاتھ، پیر گل رہے تھے۔ ایٹم بم کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔‘
ناگاساکی پہاڑوں سے گھرا تھا اس لیے تباہی 6.7 مربع کلومیٹر سے باہر نہیں پھیل سکی۔ بعد میں اندازہ لگایا گیا کہ ہیروشیما میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ ناگاساکی میں مرنے والوں کی تعداد 74 ہزار تھی۔

موہن لال شرما
بی بی سی ہندی

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

لاس اینجلس : امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر

لاس اینجلس (انگریزی: LosAngeles) المعروف ایل اے (L.A) بلحاظ آبادی امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا سب سے بڑا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر تقریباً 40 لاکھ کی آبادی کا حامل ہے اور 498 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ امریکی محکمہ شماریات کے مطابق لاس اینجلس کا ام البلد 4850 مربع میل پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ (13 ملین) افراد رہتے ہیں۔ لاس اینجلس 1781ء میں ہسپانوی عیسائی مبلغین نے بسایا، البتہ اسے بلدیہ کا درجہ 4 اپریل 1850ء کو کیلیفورنیا کو ریاست کا درجہ دیئے جانے سے 5 ماہ قبل دیا گیا۔

یہ ثقافت، سائنس، طرزیات، بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین مراکز میں سے ایک ہے اور دنیا کے کچھ معروف ترین تعلیمی اداروں کا حامل ہے۔ شہر اور اس کے نواح کے علاقے دنیا کی سب سے مشہور تفریح فلم و ٹی وی پروگراموں کے باعث عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ بھی اسی شہر میں واقع ہے، اس طرح یہ شہر دنیا کے مشہور ترین اداکاروں، فلمی ستاروں، گلوکاروں، ہدایت کاروں و فلمسازوں کی آماجگاہ ہے۔ شہر 1932ء اور 1984ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا شرف حاصل کر چکا ہے۔

 

ایا صوفیہ اور توپ کاپی, استنبول کا مقدس عجائب گھر

ایاصوفیہ سلطان احمد کی نیلی مسجد سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے ۔ ایاصوفیہ کو قیصر قسطنطین نے 360 ھ میں تعمیر کروایا تھا اور یہ گرجا قسطنطنیہ کی فتح کے بعد بھی آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز رہا اور صلیبی حکومت کے سربراہ کا مسکن بھی۔ یہ ترکوں کی مذہبی رواداری کا جیتا جاگتا ثبوت تھا لیکن خلافت کے خاتمہ کے بعد اتاترک کے ایک حکم پر اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج اس میں داخلے کے لئے ٹکٹ خریدنی پڑتی ہے ۔

ایاصوفیہ میوزیم کے برابر میں ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ٹاپ کاپی میوزیم ہے ۔ یہ بھی ایک زمانے میں سلاطین عثمانیہ کا محل رہا ہے بلکہ اس سے پہلے بازنطینی حکمرانوں کا قلعہ بھی۔ میوزیم کے اندر سکیورٹی کا خاصا انتظام ہے۔ خصوصاََ اس حصہ میں جہاں نوادرات رکھے ہوئے ہیں ۔ یہاں قرآن مجید کا وہ نسخہ بھی موجود ہے جو تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ شہادت کے وقت پڑھ رہے تھے اور آج بھی اس پر حضرت نائلہؓ کے اس خون کے نشانات موجود ہیں جو ان کی انگلیاں شہید ہوتے وقت بہا تھا۔ چوتھے خلیفہ حضرت علی ؓکی تلوار بھی موجود ہے ۔ اس حصہ سے ذرا دور وہ مسجد بھی واقع ہے جہاں عثمانی سلاطین اپنے اپنے دور میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔

منظور حسین

غذائی قلت اور عالم انسانیت : 2 کروڑ افراد کو فاقہ کشی کا خطرہ

عالمی سلامتی کونسل نے یمن ، صومالیہ ، جنوبی سوڈان اور شمال مشرقی نائجیریا میں متحارب فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد داخل ہونے کی اجازت دیں۔ کونسل نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ 2 کروڑ افراد کو درپیش فاقہ کشی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے مزید رقوم عطیہ کریں۔ سویڈن کی جانب سے تشکیل دیے گئے بیان میں 15 ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ حالیہ تنازعات اور پرتشدد واقعات کے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور چاروں ممالک میں یہ فاقہ کشی کا مرکزی سبب ہے۔

رواں برس فروری میں اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے 4.9 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی تھی تا کہ 70 برس قبل اقوام متحدہ کی تشکیل کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے انسانی بحران کا انسداد کیا جا سکے۔ تاہم تنظیم کے ایک ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق اقوام متحدہ کو مطلوبہ رقم میں سے صرف 51 فی صد موصول ہوئی۔

سلطنت عثمانیہ کا آغاز کیسے ہوا

1282ء میں ارطغرل نے 90 سال کی عمر میں وفات پائی اور عثمان خان اس کا جانشین ہوا اور یہی بعد میں سلطنت عثمانیہ کا بانی بھی ہوا۔ جس وقت عثمان خان نے حکومت سنبھالی نہ صرف دولت سلجوقیہ دم توڑ رہی تھی بلکہ اپنے وقت کی عظیم بازنطینی شہنشاہیت بھی فرقہ وارانہ بدنظمی اور انتشار کا شکار تھی ۔ سلطان علائوالدین کے نائب کی حیثیت سے عثمان نے کراجہ حصار کے علاقہ کی بغاوت کو فرو کر کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کامیابی پر سلطان نے عثمان کو نیزبک کا خطاب دینے کے ساتھ اپنا سکہ جاری کرنے اور جمعہ کے خطبہ میں اپنا نام شامل کرنے کا اختیار بھی دیدیا ۔

اس طرح عثمان کو سلطانی کے تمام اختیارات حاصل ہو گئے۔ 1300ء میں تاتاریوں نے ایشیائے کوچک پر حملہ کردیا ۔ اس جنگ میں سلطان علائوالدین اپنے بیٹے کے ساتھ مارا گیا ۔ یوں ایشیائے کوچک سے دولت سلجوقیہ کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ اب عثمان آزاد اور خود مختار تھا۔ اس نے آئندہ 26 برس تک تمام فتوحات ایک عثمانی فرمانروا کی حیثیت سے حاصل کیں اور اپنی قلمرو میں کئی ایک بازنطینی شہروں اور قلعوں کو شامل کر لیا۔ ترکوں کی الگ زبان نے ان کو ایک الگ ثقافت دی جو رفتہ رفتہ ان کی شناخت بن گئی۔ تیرھویں صدی سے بیسویں صد ی تک عثمانی حکمران بغیر کسی مداخلت کے حکومت کرتے رہے اور حکومت کو مضبوط کرنے میں ینی چری کا بہت بڑا ہاتھ رہا۔

منظور حسین

ملازم کو نوکری سے نکالنے پر گوگل کے خلاف بینر لگ گئے

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک انجنیئر کو ملازمت سے فارغ کیے پر کمپنی کے سربراہ خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں احتجاجی بینر لگ گئے۔ خیال رہے کہ گوگل کے چیف ایگزیٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے نوجوان انجنیئر جیمز ڈیمور کو کمپنی میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر تنقید کرنے پر گزشتہ ہفتے 8 اگست کو ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ سندر پچائی نے ملازم کو ایمیل کے ذریعے نوکری سے فارغ ہونے کی اطلاع دی۔

انجنیئر جیمز ڈیمور نے گوگل میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر کمپنی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 300 الفاظ پر مشتمل اپنے مضمون میں کہا تھا کہ خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی ماہر نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی تعداد نہ بڑھائی جائے۔ ملازم کی جانب سے جنسی تعصب پر مبنی تجویز سامنے آنے کے بعد گوگل کے سی ای او نے جیمز ڈیمور کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا، جس پر سب سے پہلے ملازم نے خود اور اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے احتجاج شروع کیا، لیکن اب یہ احتجاج مختلف شہروں میں آویزاں کیے گئے بینرز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد جیمیز ڈیمور نے گوگل کے ہیڈ آفیس کے باہر 11 اگست کو بینر اٹھا کر احتجاج کیا۔ ملازم کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد لاس اینجلس سمیت امریکا کے مختلف شہروں میں گوگل کے بھارتی نژاد سی ای او سندر پچائی کے خلاف احتجاجی بینر لگ گئے۔ بینرز میں سندر پچائی اور ایپل کے سی ای او کا موازنہ کیا گیا، جب کہ کچھ بینرز صرف گوگل کمپنی کے خلاف لگائے گئے۔ گوگل کے خلاف احتجاجی بینر لگائے جانے کے ساتھ کچھ مقامات پر گوگل کے دفاتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر کے سڑک کنارے بینر آویزاں کیے گئے۔ لاس اینجلس کی ایک خاتون نے وینیس علاقے کی تصاویر ٹوئیٹ کیں، جن میں بتایا گیا کہ گوگل کے دفتر جانے والے راستے کو بند کردیا گیا۔

کیا موصل میں کچھ بچا بھی ہے؟

موصل کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے چھٹکارہ دلوانے کے لیے خونریز لڑائی نے شمالی عراق کے اس شہر کو کھنڈرات بنا دیا ہے، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور جو بچ گئے وہ در بدر ہو گئے ہیں۔ امریکی اتحاد میں ہونے والی فضائی کارروائیوں، عراقی فورسز اور شدت پسند گروپوں کے درمیان ہونے والی اس لڑائی سے کتنا کقصان ہوا ہے اور اب اس سب کے بعد کیا ہو گا؟ نو ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کا اب خاتمہ ہو گیا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی اس لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں جن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں سے دسیوں ہزار تک ہے جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ قریب کے تمام علاقے تباہ ہو چکے ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہیں اور گلیاں بارود اور ان پھٹے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ اس لڑائی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد شہر میں لڑی جانے والی سب سے خطرناک لڑائی کہا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق موصل کے تقریباً ہر حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم جولائی میں حکومتی افواج کے دوبارہ زیر کنٹرول آنے والے شہر کے مغربی حصے کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ’موصل کے 45 رہائشی اضلاع میں سے 15 کو شدید نقصان پہنچا ہے، یعنی کے وہاں کی زیادہ تر عمارتیں اب رہائش کے قابل نہیں رہیں۔‘ جبکہ اقوام متحدہ کے فضائی جائزوں کے مطابق دس ہزار عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہو گئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اصل میں پہنچنے والا نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ابتدائی فضائی جائزوں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان رہائشی علاقوں کو ہوا ہے۔ تقریباً 8500 رہائشی عمارتیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سڑکوں کی طرف نظر ڈالیں تو 130 کلو میٹر تک سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔
اتحادیوں کی مدد سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں مشرق کو مغرب سے ملانے والے تمام پل بھی تباہ ہو چکے ہیں، جس کا مقصد شدت پسندوں کو محدود کرنا بتایا جاتا ہے۔ شہر میں موجود ائیر پورٹ ریلوے سٹیشن اور ہسپتالوں کی عمارتیں بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ عمارتیں، پل اور سڑکیں تو ایک طرف لیکن سب سے زیادہ جو متاثر ہوئے وہ تھے یہاں کے رہائشی۔ چار لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

عامرہ جن کی عمر 10 برس ہے متاثر ہونے والے افراد میں شامل ہیں۔ جب مارٹر گولا ان کے مکان پر گرا تو اس کے نتیجے میں ان کی ٹانگوں پر زخم آئے اور ان کی والدہ ہلاک ہو گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی والدہ کو پکارتی رہی، مدد کے لیے چیختی رہی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، میں حرکت نہیں کر سکتی تھی۔‘ ’میرے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا۔ تین دن اور راتیں میں تنہا تھی، ہر کسی کو آوازیں دیتی رہی لیکن کوئی میری آواز نہیں سن پا رہا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میری والدہ زندہ ہیں یا نہیں۔‘

اب موصل کا کیا ہو گا؟
اب جب کہ موصل شہر کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا گیا ہے، سرکاری حکام اور ان کے شراکت دار اب اس شہر کو دوبارہ سے آباد کرنے کے لیے تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ان کے لیے ایک مشکل چیلنج ہے، خاص طور پر مغرب میں۔ نو آباد کاری کو بظاہر کئی سال اور کروڑوں ڈالرز کی ضرورت ہے، لیکن عراقی حکام اس وقت شہر کو اتنا محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے رہائشیوں کی واپس کے قابل بنایا جا سکے۔ جس کا مطلب ہے کہ لاشوں کو ہٹانا اور دولت اسلامیہ کے سلیپر سیلز، مجرمانہ گینگز اور ملیشیا کو ختم کرنا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

آزادی کو کیا سمجھتے ہو ؟

ہوا ، بادل ، بارش ، روشنی ، خوشبو ، خوشی ، محبت آپ محسوس کر سکتے ہیں چھو بھی سکتے ہیں مگر قید نہیں کر سکتے۔ آزادی کا بھی ایسا ہی قصہ ہے ۔ یہ کوئی برتن یا دس بائی آٹھ کا پانا یا فیتہ بند تحفہ نہیں بلکہ احساس کا نام ہے۔ ایک جانور ، ایک سال کا بچہ اور ایک نابینا بھی بتا سکتا ہے کہ آزادی فضا میں گھلی ہوئی ہے کہ نہیں۔ جہاں دلیل سے آزادی ثابت کرنا پڑ جائے سمجھ لو آزادی نہیں آزادی کا دھوکہ ہے۔ آزادی کو گلے میں اتارا نہیں جا سکتا ، گلہ آزاد ہو تو آزادی خود بخود گنگنانے لگتی ہے ، آزادی کوئی سجا نہیں سکتا کیونکہ آزادی خود ایک زیور ہے ۔ آزادی کو کوئی بےگھر نہیں کر سکتا۔ باہر تنگ ہو جائے تو وہ دل و دماغ میں گھر بسا لیتی ہے۔

مگر آزادی کے غصے سے ڈرنا چاہیے۔ وہ اپنی بے توقیری اور توہین کا انتقام غلامی کا شکنجہ کس کے لیتی ہے۔ کون سا شکنجہ ؟ جسمانی کہ ذہنی ؟ یہ بھی آزادی طے کرتی ہے ۔ آزادی کا گلہ گھونٹنا دراصل اپنا گلا گھونٹنا ہے۔ آزادی زود رنج ہے، اس کے نخرے، خرچے ، پسند نا پسند نظرانداز کرنے والوں کو آزادی بنجر تنہائی کی وادی میں دھکیل دیتی ہے اور پھر گاہے ماہے اپنی جھلک اور چھب دکھلانے کا عذاب نازل کرتی رہتی ہے۔ ہاں آزادی کو بس ایک بار منایا جا سکتا ہے بارِ دگر نہیں۔

کسی بھی ریاست اور سماج میں آزادی کی مقدار ماپنے کے کئی طریقے ہیں۔ گھٹن کے خاتمے اور کھلی فضا میں سانس لینا آزادی ہے۔ بد عقلی، اندھی منطق اور مریضانہ خود اذیتی کا پا بجولاں ہونا آزادی ہے ۔ انسانی تخیل کے پر شعوری طور پر نہ کاٹنا آزادی ہے۔ سچ بولنے پر تحفظ اور جھوٹ کا کڑا محاسبہ اور سچ کے نام پر جھوٹ تھوپنے کی حوصلہ شکنی آزادی ہے۔ بلا خوف و خطر کہنا، سننا ، اختلاف کرنا ، اختلاف کا احترام کرنا اور اختلاف کر کے بھی زندہ رہنا اور رہنے دینا ہی آزادی ہے ۔ اگر کسی باغ پر آزادی کا بورڈ لگا ہو اور وہاں صرف گلاب کو پھلنے پھولنے کی اجازت ہو تو یہ باغ نہیں گلابوں کا جنگل ہے۔

جب آزادی کے چھوٹے دائروں کو اجتماعی فلاح کے نام پر ایک بڑے دائرے میں مدغم کر کے چھوٹے دائروں کی شناخت مٹا دی جائے تو پھر بڑے دائرے میں صرف فسطائیت ہی آزاد گھوم سکتی ہے بھلے اس نے کوئی بھی چولا پہن رکھا ہو۔ بھلے اس کے تھیلے میں بہلانے والے کتنے ہی شاندار کھلونے کیوں نہ ہوں ۔بھلے اس کی ڈگڈگی سے کیسے ہی خواب بندھے ہوں۔ فسطائیت کی آزادی باقیوں کے لیے زنجیرِ غلامی کے سوا کچھ نہیں؟ جس طرح ایک ریاست میں دو بادشاہ ممکن نہیں اسی طرح ایک سماج میں یا تو آزادی راج کر سکتی ہے یا غلامی۔ دونوں میں پرامن بقائے باہمی تب ہی ممکن ہے اگر آگ اور پانی میں سمجھوتہ ہو سکے۔ اس اصول کے علاوہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ دلیلِ دلال کے سوا کچھ نہیں۔

چلیے چھوڑیے اس خشک آزادی نامے کو۔ کچھ اشعار سنیے۔

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا
یعنی میرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا

میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں، اور جواب میں
مجھ کو ہنسا دیا گیا ، مجھ کو رلا دیا گیا

میرے جنوں کو تھی بہت خواہشِ سیر و جستجو
مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا

میں نے کہا کہ زندگی ؟ درد دیا گیا مجھے
میں نے کہا کہ آگہی ؟ زہر پلا دیا گیا

خواب تھا میرا عشق بھی، خواب تھا تیرا حسن بھی
خواب میں یعنی ایک اور خواب دکھا دیا گیا

( احمد نوید )

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار