’ایپل‘ اور ’سام سنگ‘ کے بعد تیسری بڑی کمپنی کون سی ہے ؟

ویسے تو رواں برس کے آغاز میں ہی سام سنگ نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسمارٹ موبائل فونز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔ اور اب تک اسمارٹ فونز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی بھی جنوبی کورین کمپنی سام سنگ ہی ہے۔ اسمارٹ موبائل فونز تیار کرنے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز امریکی کمپنی ’ایپل‘ کے پاس موجود ہے، جو ڈیڑھ سال قبل تک پہلی پوزیشن پر تھی۔ تاہم اسمارٹ موبائل تیار کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی کون سی ہے، اس حوالے سے تضاد پایا جاتا ہے۔

کئی اداروں نے چینی کمپنی ’ہواوے‘ کو تیسری بڑی کمپنی کا اعزاز دے رکھا ہے، کیوں کہ رواں برس اس کے اسمارٹ موبائلز کو یورپ کے بعد امریکا میں بھی فروخت کرنے کے لیے مقامی پارٹنر مل گیا تھا۔ تاہم اگر دیکھا جائے تو درحقیقت اسمارٹ موبائل کی تیسری بڑی کمپنی ’ہواوے‘ نہیں بلکہ چین کی ایک اور کمپنی’بی بی کے الیکٹرانکس‘ ہے۔ ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ مختلف کمپنیوں کا مجموعہ ہے، جو نہ صرف اسمارٹ موبائلز بلکہ ایل سی ڈی، کمپیوٹر اور دیگر اسمارٹ آلات بھی تیار کرتی ہے۔ معروف موبائل برانڈ ’اوپو‘، ’ویوو‘ اور ’ون پلس‘ بھی اس کمپنی کی ذیلی کمپنیاں ہیں۔

تاہم کئی اداروں کی جانب سے اوپو، ویوو اور ون پلس کو الگ الگ کمپنیوں کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، جس وجہ سے ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ کو تیسری بڑی کمپنی کے طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔ اگر ایک ہی برانڈ کی بات کی جائے تو ’ہواوے‘ تیسرے نمبر پر آئے گی، لیکن اگر بطور کمپنی دیکھا جائے تو ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ تیسرے نمبر پر آئے گی۔ ’ہواوے‘ اور ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ دونوں ہی چینی کمپنیاں ہیں۔ گجٹس ناؤ نے گزشتہ ماہ ستمبر میں اپنی رپورٹ میں ’ہواوے‘ کو تیسرے، اور ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ کی ’اوپو‘ کو چوتھے نمبر رکھا تھا۔

جب کہ اسی رپورٹ میں ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ کی ہی ذیلی کمپنی ’ویوو‘ کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ لیکن اگر ’بی بی کے الیکٹرانکس‘ کی ذیلی کمپنیوں ’اوپو‘، ’ویوو‘ اور ’ون پلس‘ کو ملایا جائے تو ضرور یہ کمپنی تیسرے نمبر پر ہی آئے گی۔ گجٹس ناؤ کی رپورٹ میں چھٹے نمبر پر بھی ایک چینی کمپنی تھی، جب کہ ساتویں نمبر پر جنوبی کورین کمپنی ایل جی تھی۔ یوں اسمارٹ موبائل تیار کرنے والی دنیا کی سات بڑی کمپنیوں میں سے صرف ایک امریکی، 2 جنوبی کورین اور 4 چینی کمپنیاں شامل ہیں۔

Advertisements

تاج محل کے بعد ٹیپو سلطان بھی بھارتی حکومت کے نشانے پر

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے وزیر اسکل ڈیولپمنٹ اننت کمار نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ریاست میسور کے مسلمان حکمران ٹیپو سلطان کو ظالم اور قاتل قرار دے دیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی جہاں ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے وہیں اپنی ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے ہے۔ گزشتہ چند روز سے بی جے پی کے وزرا اور رہنماؤں نے دنیا کے ساتویں عجوبے اور بھارت کے منفرد تفریحی مقام تاج محل کو اپنی سیاحت کے کتابچے سے نکال باہر کیا جب کہ ایک وزیر نے تو تاج محل کو بھارتی تاریخ پر بدنما داغ قرار دے دیا۔ بی جے پی کے رہنما بھارت کی تاریخ کو تبدیل کرنے کے لئے ہرطرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اور اب 18 ویں صدی میں ریاست میسور کے بادشاہ اور انگریزوں کے خلاف 4 جنگیں لڑنے والے ٹیپوسلطان بھی ہندو انتہا پسندی کے نشانے پر آگئے ہیں۔

ریاست کرٹانک میں بی جے پی کی حزب مخالف جماعت کانگریس نے 2015 میں ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو ریاستی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم 2015 سے اب تک یہ فیصلہ متنازعہ بنا ہوا ہے۔ کانگریس نے ایک بار پھر رواں برس 10 نومبر کو ریاست میں ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے ریاست سمیت مرکز کے تمام رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاہم بی جے پی کے مرکزی رہنما نے نا صرف تقریب میں شرکت سے معذرت کر دی بلکہ زہر اگلتے ہوئے ٹیپوسلطان کو ظالم، قاتل قرار دے دیا۔

بی جے پی رہنما نے ریاستی حکومت کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ مجھے اس طرح کی شرمناک تقاریب میں مدعو نہ کیا جائے اور آئندہ بھی اس بات کا خیال رکھا جائے، حکومت کو خط لکھنے سے بھی جی نہ بھرنے پر اننت کمار نے ٹویٹر پر دعوت نامے کو پوسٹ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ میں نے ایک ظالم، قاتل کو عزت دینے والی تقریب میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے کرناٹک حکومت کو مطلع کر دیا ہے۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نے بھی ان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیپوسلطان ایک ہندومخالف رہنما تھے جن کے یوم پیدائش کا انعقاد ریاست کا غلط اقدام ہے۔ دوسری جانب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کسی وزیر کو حکومت میں رہتے ہوئے اس قسم کا خط نہیں لکھنا چاہیے۔ ٹیپو سلطان کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے تمام مرکزی اور ریاستی وزرا کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں اس تقریب میں شرکت کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی مرضی پر ہے۔

جنگوں اور بیماریوں سے زیادہ ’آلودگی‘ سے ہلاکتیں

ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں قبل از وقت ہونے والی اموات کے لیے آلودگی‘ جنگوں، تشدد اور بیماریوں سے بھی بڑا سبب ہے۔ آلودگی کے باعث صرف سال 2015 میں ہی 90 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر اموات پسماندہ اور کم متوسط ممالک میں ہوئیں۔ ’آلودگی‘ سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر جنگوں، تشدد، تپ دق، ملیریا اور ایڈز کے باعث ہونے والی تمام ہلاکتوں کو بھی ملایا جائے تو بھی وہ کم ہوں گی۔ آلودگی سے ہونے والی ہلاکتیں جنگوں سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔ طبی و سائنسی جریدے لینسٹ کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں آلودگی سے ہونے والی 90 لاکھ ہلاکتیں دنیا میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا 16 واں حصہ بنتی ہیں۔

رپورٹ میں آلودگی کو ماحولیات کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کہ آلودگی سے متاثرہ ممالک میں ہونے والی ہر 4 میں سے ایک موت آلودگی کے باعث ہوئی۔ ایہ اعداد و شمار لینسٹ کی آلودگی سے متعلق کمیشن کی جانب سے دنیا بھر کے متعدد ممالک کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد سامنے آئے۔
ڈیٹا سے پتہ چلا کہ دنیا بھر میں پانی، فضا اور مٹی میں پائی جانے والی آلودگی خطرناک حد تک وقت سے پہلے اموات کا باعث بن رہی ہے۔ مٹی، فضا، اور پانی میں موجود آلودگی کے باعث لوگ فالج، دل کے دوروں اور پھیپھڑوں کے کینسر جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس وجہ سے وہ وقت سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فضائی آلودگی سب سے زیادہ خطرناک ہے، جو زیادہ ہلاکتوں کا باعث بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی سے متاثرہ ممالک میں ہر تین میں سے 2 ہلاکتیں فضائی آلودگی سے ہوئیں۔ متاثرہ ممالک میں پانی میں موجود آلودگی دوسرا بڑا خطرہ ہے، جس کے باعث ان ممالک میں 18 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں۔ آلودگی سے متاثر دنیا کے 10 بڑے ممالک میں بنگلہ دیش پہلے، صومالیہ دوسرے، چاڈ تیسرے، نائیجیریا چوتھے، بھارت پانچویں، نیپال چھٹے، جنوبی سوڈان ساتویں، ارتریا آٹھویں، مڈغاسکر نویں اور پاکستان دسویں نمبر پر رہا۔ آلودگی کے باعث کم ہلاکتوں والے 10 ممالک میں برونائی پہلے، سویڈن دوسرے، فن لینڈ تیسرے، بارباڈوس چوتھے، نیوزی لینڈ پانچویں، ٹرینیڈاڈ اور ٹبیگو چھٹے، کینیڈا ساتویں، آئس لینڈ آٹھویں، بہاماس نویں اور ناروے دسویں نمبر پر رہا۔

بشکریہ ڈان اردو

پاناما پیپرز کے انکشافات کرنے والی صحافی بم دھماکے میں ہلاک

پاناما پیپرز میں غیر ملکی اثاثے رکھنے والی شخصیات کا انکشاف کرنے والی صحافیوں کی بین الاقوامی ٹیم میں شامل ایک معروف خاتون صحافی ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی ہیں۔ 53 سالہ ڈافینی کاروآنا گالیسیا جنوبی یورپی ملک مالٹا کے دارالحکومت موسٹا کے نواح میں واقعے اپنے گھر سے جیسے ہی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر نکلیں تو گاڑی ایک زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔ مالٹا کے وزیراعظم جوزف مسکت نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ہوئے اسے ایک “وحشیانہ حملہ” اور آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دھماکے سے گالیسیا کی گاڑی سڑک سے کئی میٹر دور کھیتوں میں جا گری اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گالیسیا ان کے لیے سیاسی اور ذاتی سطح پر سخت ترین ناقد تھیں لیکن ان کے بقول یہ حملہ ناقابل قبول تشدد ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
سیاسی امور کے ایک نامور امریکی ادارے “پولیٹیکو” کے مطابق گالیسیا کا شمار ان 28 یورپیئنز میں ہوتا تھا جو یورپ کو “ہلانے اور ترتیب دینے” والی شخصیات ہیں۔ گالیسیا نے وزیراعظم مسکت کی اہلیہ میشیل کے علاوہ مالٹا کے وزیر توانائی اور حکومت کے چیف آف اسٹاف کی جائیدادوں کے بارے میں پاناما دستاویزات میں انکشاف کیا تھا۔ تاہم مسکت اور ان کی اہلیہ ایسی کمپنیوں کی ملکیت کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ مالٹا میں حزب مخالف کے راہنما اڈریان ڈیلیا نے اس صحافی کی ہلاکت کو “سیاسی قتل” قرار دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دو ہفتے قبل ہی گالیسیا نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی تھی کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

انسانی اسمگلروں نے یورپ کے لیے نیا راستہ ڈھونڈ لیا

لیبیا میں کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد انسانوں کے اسمگلروں نے تارکین وطن کو غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچانے کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لیبیا میں انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں تیونس میں متحرک اسمگلروں نے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر یورپ پہنچانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ لیبیا سے انسانوں کے اسمگلر اطالوی جزیرے لامپے ڈوسا کا رخ کیا کرتے تھے، تاہم یہ تین سو کلومیٹر طویل سمندری راستہ انتہائی خطرناک ہے اور رواں برس سینکڑوں افراد اسی راستے میں بحیرہ روم کی موجوں کی نذر ہوئے ہیں۔

لییبا میں اگست سے کوسٹ گارڈز نے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے تارکین وطن اور اسمگلر دونوں متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں خلیج تیونس کے قریب بسنے والوں کو رقوم دے کر یہ اسمگلر جگہیں حاصل کر رہے ہیں اور یہاں سے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر اطالوی علاقے سسلی لے جایا جاتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق تیونس سے سسلی کا یہ راستہ فقط ایک سو پچاس کلومیٹر طویل ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ماہ ایک جانب تو لیبیا سے بحیرہء روم کے راستے اٹلی کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ دوسری جانب تیونس سے اٹلی جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

روئٹرز کے مطابق تیونس سے بھی نوجوان تارکین وطن مالی مجبوریوں کی بنا پر ان اسمگلروں کے ذریعے اٹلی کا رخ کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ افریقی تارکین وطن بھی اب لامپے ڈوسا کے سمندری راستے پر بحری گشت کے تناظر میں سسلی کا رخ کرنے میں زیادہ دلچیسپی لے رہے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کی طرف حالیہ ہجرت سے قبل میانمار (برما) کے مغربی صوبے راكھین میں روہنگیا مسلمانوں کی آبادی تقریباﹰ دس لاکھ تھی۔ میانمار میں انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر مانا جاتا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ تیونس میں غیرقانونی طور پر ملک چھوڑنے والے تارکین وطن اور اسمگلر پکڑے بھی جائیں، تو ان کے لیے سزائیں خاصی نرم ہیں۔ تیونس کے کوسٹ گارڈز سے تعلق رکھنے والے ایک کپتان حسین ربہی کے مطابق، ’’سسلی جانے والے راستے کی لامپے ڈوسا جانے والے راستے کے مقابلے میں بہت کم نگرانی کی جاتی ہے۔‘‘ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق لیبیا اب بھی یورپ جانے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے ایک اہم مقام ہے، جہاں سے رواں برس اٹلی پہنچنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم تیونس سے اٹلی کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں برس کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران اس راستے سے فقط ساڑھے تیرہ سو افراد نے سسلی کا رخ کیا تھا، تاہم ستمبر کے مہینے میں یہ تعداد 14 سو ہو گئی تھی۔

بشکریہ DW اردو

پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے : کیا امریکا کا ارادہ بدل رہا ہے؟

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دشمنوں کے ٹھکانے پر امریکا کے حالیہ فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ ایف مِک کینزی نے یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹس پر کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ستمبر سے پاک افغان خطے میں امریکا کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے گزشتہ تین ہفتے کے دوران افغانستان میں 70 زمینی اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ دو روز کے دوران متعدد ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی عہدیداروں نے اگرچہ ڈرون حملوں پر تبصرہ نہیں کیا لیکن جنرل مک کینزی نے رواں ہفتے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران افغانستان میں امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ حملے جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر حملہ مسلح تصادم کے قانون کے مطابق ہوتا ہے، جس میں شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے کم سے کم ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جس نے اگست میں جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، اب ڈرونز کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی دیگر رپورٹس میں دیگر میڈیا اداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، ڈرون حملوں پر سابق اوبامہ انتظامیہ کی عائدہ کردہ دو اہم پابندیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ 1۔ صرف اعلیٰ سطح کے دہشت گردوں کو، جو امریکا کے لیے ’مسلسل اور قریبی‘ خطرہ ہوں، ہدف بنایا جائے گا۔ 2۔ ڈرون حملوں اور ریڈز سے قبل ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جائے گی۔ نئی پالیسی، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، امریکی فوج اور سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کم خطرناک اہداف کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائیں، جبکہ ان حملوں کے لیے انہیں اعلیٰ حکام کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدارارن کا، جو مجوزہ پالیسی سے متعلق متعدد میڈیا اداروں سے بات کر چکے ہیں، کہنا تھا کہ انتظامیہ اوباما دور کی اس شرط کو قائم رکھے گی کہ حملوں میں عام شہریوں کی کم سے کم ہلاکتوں کو ممکن بنایا جائے۔
ایک دوسرے میڈیا ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’سی آئی اے‘ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ڈرون حملوں کے اختیارات کو وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت سی آئی اے پاکستانی قبائلی علاقوں میں صرف القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وائٹ ہاؤس، سی آئی اے کی اس درخواست کے حق میں نظر آتا ہے۔

انور اقبال

بشکریہ ڈان اردو

روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ میانمار میں ظلم کے شکار روہنگیا مسلمانوں کی کی نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے اور 10 ہزار سے 15 ہزار افراد بنگلہ دیشی سرحد پر موجود ہیں جبکہ پناہ گزینوں کی تعداد 5 لاکھ 82 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران میانمارمیں ہونے والے تشدد سے بھاگنے والے 10 ہزار سے 15 ہزار کےدرمیان نئے پناہ گزین سرحد میں پہنچ گئے ہیں جو روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں کو نذر آتش کیے جانے اور دیگر مظالم کے بعد علاقہ چھوڑ کر بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) کےایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئے آنے والوں کو ایسے علاقے میں رکھا جا رہا ہے جہاں کوئی موجود نہیں ہے تاہم ابتدائی طور پر اس کی وجوہات معلوم نہ ہو سکیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان آندریج ماہیسس کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر اس حوالے سے بنگلہ دیشی حکام سے بات کر رہا ہے تاکہ ‘جو لوگ اپنے آبائی علاقوں میں ظلم اور سخت صورت حال کا شکار ہونے کے بعد سرحد کی طرف آئے ہیں انھیں فوری طور پر داخلے کی اجازت دی جائے’۔

ترجمان نے کہا کہ رکھائن ریاست میں ظلم وستم اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود کئی خاندانوں نے وہی پر رہنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ‘وہ اس وقت وہاں سے نکل چکے ہیں جب ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی’۔ خیال رہے کہ نئے آنے والے پناہ گزینوں کا تعلق رکھائن کے ان اضلاع سے ہے جو بنگلہ دیش کی سرحد سے قدرے دور ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی فہرست میں 45 ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد پناہ گزینوں کی تعداد 5 لاکھ 82 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس فہرست میں حالیہ آنے والے ہزاروں مہاجرین کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انھیں روہنگیا مسلمانوں کی 10 لاشیں ملی ہیں جن کی کشتی دریائے نیف میں ڈوب گئی تھی۔

 

 

 

 

ترک امریکہ سفارتی تعلقات میں کشیدگی

ترکی اور امریکہ دو ایسے اتحادی ممالک ہیں جن کی دوستی اور اتحاد کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں اور یہ دوستی اور اتحاد آج تک تمام امتحانوں میں پورا اترا ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ اگرچہ امریکہ کے سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم تھے لیکن جدید جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد ترکی اور امریکہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے اورترکی نے امریکہ کی زیر قیادت قائم ہونے والے تمام اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ دونوں ممالک کے درمیان اتحاد کا عملی سلسلہ سعد آباد پیکٹ جو کہ بعد میں ’’سینٹو‘‘ کا نام اختیار کر گیا سے شروع ہوا اور نیٹو کی رکنیت اختیار کرتے ہوئے ترکی نے امریکہ کے ساتھ اپنی گہری وابستگی اور اتحاد کا ثبوت فراہم کیا۔

اس دوران سوویت یونین کی جانب سے پورے علاقے میں وسعت کی پالیسی اپنائی جانے سے ترکی نے اپنی عافیت امریکہ کے مزید قریب ہونے ہی میں سمجھی اور امریکہ کو فوجی ہوائی اڈہ فراہم کر تے ہوئے سوویت یونین کے خلاف قائم بلاک میں مرکزی کردارا ادا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا جس سے سوویت یونین نے ترکی کو دشمن ملک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ترکی اور امریکہ کی قربت صرف دفاعی شعبے تک محدود نہ رہی بلکہ تمام شعبوں میں امریکہ نے ترکی کو ہر ممکنہ تعاون فراہم کیا اور ترکی اپنی جغرافیائی حیثیت کی بنا پر اور سوویت یونین کے ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے براہ راست اس کے حملے کا نشانہ بننے کے خدشات کی وجہ سے امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک پر سبقت لے گیا اور امریکہ نے بھی کھل کر ترکی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا۔

ترکی نے نیٹو میں بھی اپنی حیثیت کا لوہا منوا لیا اور امریکہ کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سرد مہری کا مظاہرہ 1974ء میں قبرص جنگ کے دوران دیکھا گیا امریکہ نے ترکی کے قبرص کے ایک حصے پر قبضہ کیے جانے کے بعد ترکی کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی جو طویل عرصہ جاری رہی۔ تاہم اس کے سفارتی اور سیاسی تعلقات پر کوئی زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہوئے اور ترک اور امریکی باشندوں کا بلا روک ٹوک ایک دوسرے کے ملک آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن آج ترکی اور امریکہ کے درمیان تاریخ میں پہلی بار ویزا سروس کو معطل کیا گیا ہے یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازعے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔ امریکہ نے پہلی بار ترک باشندوں کو ویزے کے اجرا پر پابندی عائد کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی مشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس نے ترکی میں واقع تمام سفارتی مراکز میں نان امیگرنٹ ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔

اس کے بعد ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی باشندوں پر ویزے کی پابندی عائد کر دی۔ ترکی میں امریکی قونصل خانے کی جانب سے ترک باشندوں کو ویزا نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ استنبول میں امریکی قونصل خانے میں ملازم ترک باشندے متین توپوز کو گزشتہ برس ترکی میں ناکام بغاوت کے مبینہ سرغنہ فتح اللہ گولن کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لیا جانا ہے۔ امریکی حکومت نے حکومتِ ترکی کے اس اقدام کو بے بنیاد اور دو طرفہ تعلقات کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا اور ساتھ ہی ترک باشندوں کو ویزا فراہم کرنے کی سروس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی تھا.

جبکہ ایک بیان میں واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا کہ امریکی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی باشندوں کواس وقت تک ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک حکومتِ امریکہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتی۔ حکومتِ ترکی نے ناکام بغاوت کے بعد اس بغاوت کے ذمہ داروں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف جو کریک ڈائون شروع کر رکھا ہے، اس کے نتیجے میں امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ترکی میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ اس ناکام بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

ترکی کے حوالے سے اب تک اہم امریکی عہدیداروں کے بیانات جو ذرائع ابلاغ تک پہنچے ہیں، وہ امریکہ ترکی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے قبل حکومتِ ترکی کئی بار امریکہ کو وارننگ دے چکی ہے کہ اگر اس نے فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے نہیں کیا تو اس سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ ترکی کے بار بار کے مطالبوں کے جواب میں امریکی عہدیداروں نے ترکی سے ثبوت اور شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترکی نے اس سلسلے میں امریکہ کو فتح اللہ گولن اور ان کی دہشت گرد تنظیم فیتو کے بارے میں بے شمار ثبوت فراہم کیے ہیں لیکن امریکہ ابھی تک ان دلائل اور ثبوتوں سے قائل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور ترکی سے مسلسل مزید ثبوت اور دلائل فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان فتح اللہ گولن اور ان کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ وجہ تنازع بنی ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ویزہ سروس کی معطلی کے پیچھے اسی مسئلے کا ہاتھ کار فرما ہے۔

فتح اللہ گولن گزشتہ کئی برسوں سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں اور امریکی ریاست پینسلوانیا میں مقیم ہیں۔ فتح اللہ گولن کے ایشو کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی ڈی‘‘ کی حمایت کیے جانے اور ان دونوں تنظیموں کو داعش کے خلاف استعمال کرنے کے بہانے سے اسلحہ فراہم کیے جانے کی وجہ سے ترکی کو امریکہ سے شدید گلہ ہے اور ترکی کئی بار اس بات کا برملا اظہار کر چکا ہے کہ امریکہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ شام میں کرد ملیشیا کے مضبوط ہونے سے ترکی میں کردوں کی علیحدگی پسند تحریک مضبوط ہو سکتی ہے۔

ترکی جو کہ نیٹو کا رکن ملک ہے اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود واحد ملک ہے جس نے روس کے ساتھ اپنے دفاع کے لئے روس سے ایس 400 قسم کے میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور روس کو اس سلسلے میں ایڈوانس بھی دیا جا چکا ہے حالانکہ نیٹو کے رکن ملک ہونے کے ناتے آج تک نیٹو کے کسی بھی ملک نے روس سے کسی قسم کا اسلحہ خریدنے کا سوچا تک نہیں ہے لیکن ترکی نے شام کی صورت حال کی وجہ سے اور علاقے میں اپنا کنٹرول قائم رکھنے اور امریکہ کی جانب سے دفاع کے لئے ترکی کے مطالبات کے باوجود میزائل اور بھاری اسلحہ فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ راستہ اختیار کیا ہے جس سے امریکہ کو اپنے اتحادی ملک کے سامنے شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

امریکہ کی جانب سے ترک باشندوں کے لئے ویزا سروس معطل کیے جانے اور پھر ترکی کی جانب سے جوابی کارروائی کیے جانے کے بعد سے ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے اس سلسلے میں تمام تر ذمہ داری امریکی سفیر جان باس پر عائد کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی وجہ انہیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومتِ ترکی کا کوئی ملازم ایسا کام کرتا تو وہ ایک دن بھی انہیں کام نہ کرنے دیتے اور فوری طور پر ان کو عہدے سے سبکدوش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ کرتے۔ سوموار کو ترکی کی کابینہ کے اجلاس اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ترکی اور امریکہ کے درمیان ویزہ سروس کی معطلی کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے شروع کردہ ویزہ سروس کی معطلی کے بعد جلد ہی ایک امریکی سفارتی وفد کے ترکی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاکہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفیر نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتحال ’’ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے۔‘‘ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفارت کار کِم اِن ریونگ نے اس عالمی ادارے کی تخفیف اسلحہ کمیٹی کو بتایا کہ شمالی کوریا ’’جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے اور پوری دنیا سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘‘، مگر وہ امریکی دھمکیوں کے باعث جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کر سکتا۔

کِم کا مزید کہنا تھا، ’’دنیا میں کوئی اور ملک ایسا نہیں ہے جسے اتنے طویل عرصے سے امریکا کی طرف سے اس قدر شدید اور مسلسل جوہری دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ ا ہو۔‘‘ شمالی کوریا کے اس سفارت کار نے متنبہ کیا کہ امریکا ’’شمالی کوریا کی فائرنگ رینج میں ہے اور اگر امریکا نے ہماری مقدس سر زمین کے ایک بھی انچ پر حملہ کیا تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری شدید سزا سے بچ نہیں پائے گا‘‘۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹِلرسن نے امریکی ٹیلی وژن سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بحران کو سفارتی ذریعے سے حل کرنے کی کوششیں ’’اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پہلا بم گِر نہیں جاتا‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان لفظوں کی جنگ شروع ہونے اور ایک دوسرے کو تباہ کر دینے کی دھمکیوں کے بعد جزیرہ نما کوریا میں حالیہ چند ماہ کے دوران تناؤ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
پیونگ یانگ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ برس سے اب تک مختلف بیلسٹک میزائل تجربات کے علاوہ دو جوہری تجربات بھی کر چکا ہے۔ ستمبر میں شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے چھٹے جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی تھیں۔

کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان