انتہاپسند امریکی طالبعلم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 17 کو ہلاک کر دیا

امریکہ ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک متشبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ نکولوس کروز کے نام سے ہوئی ہے جو ایک سکول کا سابق طالب ہیں اور انھیں سکول سے نکالا گیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مقامی چینل سی بی ایس کو بتایا کہ ملزم نے فائرنگ کرنے سے پہلے فائر الام بجایا جس سے افراتفری پیدا ہوئی۔ بروارڈ کاونٹی شیرف سکاٹ اسرائیل نے صحافیوں کو بتایا کہ نکلولوس کروز نے ایک رائفل استعمال کیا اور ان کے پاس ’لاتعداد میگزینز‘ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکول کے باہر سے فائرنگ کرنا شروع کی جہاں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہوئے اور مزید 12 افراد کو ہلاک کیا۔

اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔ اس سے قبل سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے سپرینٹینڈینٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص ’ممکنہ طور پر سابق طالب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ شخص اب زیر حراست ہے۔‘ مقامی سکول پبلک سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سکول کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب طالب علموں کو نکالا جا رہا ہے۔ ہمیں ممکنا طور پر زخمی ہونے والوں کے بارے میں بھی اطلاعات ملی ہیں۔‘

سکول کا کہنا تھا کہ پولیس سکول کی ایک عمارت سے طالب علموں کو نکال رہی ہے۔ کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔ بحٖفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘ جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایوری ٹاون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکہ میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

Advertisements

ایم کیوایم ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہوئی؟

سال 2013 تک ایم کیوایم ایک مضبوط اور منظم ترین جماعت تھی لیکن اب بکھر رہی ہے اورعملی طور پر4 دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، یہ شہرمیں ’سیاسی انتشار‘ کی علامت ہے کیونکہ اِن دھڑوں کی خالق جماعت نے بھی ایم کیوایم (پاکستان) کے اندر کی خراب صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور تیاری کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ایم کیوایم (پاکستان) کا تھا لیکن غلط وجوہات کیلئےافراتفری اور تقسیم کی وجہ سے اپنی ہی جماعت میں مزید پریشانی پیدا کر دی گئی اور دیگر سیاسی جماعتیں آخری دھچکے کا ’انتظار‘ کر رہی ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی، جن کا کراچی کی سیاست میں کردار ہے انھوں نے اپنی مہم اور رکنیت سازی کی مہم تیز کر دی ہے۔ کراچی کےامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے بروز سوموار اعلان کیا کہ پارٹی کراچی کیلئے ایک ’متبادل منصوبہ‘ پیش کرے گی۔ لہذا اب ہر جماعت کی نظر قومی اسمبلی کی 20 یا 21 اور صوبائی اسمبلی کی 51 سیٹوں پر ہے۔

پی پی پی سندھ سے سینٹ کی 8 سے 10 نشستوں کے اضافے کیلئے پُرامید ہے۔ انھیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کے دونوں دھڑے اپنی منظوری کیلئے اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی پوزیشن بہترہے لیکن کیا ان کے پاس اتنے ایم پی ایز ہیں کہ وہ سینٹ کی کم از کم ایک یا دو سیٹیں نکال سکیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ قانونی جنگ جو بھی جیتے، ہار صرف ایم کیوایم کی ہی گی ، اور فائدہ تیسری پارٹی کا ہو گا۔ اگر ایم کیوایم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو اپنے قائد یا بانی کے بعد رابطہ کمیٹی سب سے طاقتور آرگن ہے۔

سن 1984 سے 1992 تک ایم کیوایم کے پاس سیاسی سیٹ اپ تھا اوررابطہ کمیٹی کی بجائے اس کے پاس سینٹرل ورکنگ کمیٹی، چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگرعہدیدارتھے۔ آرمی آپریشن کے بعد اس کی سینٹرل باڈی ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ رابطہ کمیٹی بنا دی گئی۔ بائیس اگست 2016 کے بعد حادثاتی طور پرایم کیوایم (پاکستان) نےایک الگ سیاسی شناخت کے ساتھ جنم لیا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پارٹی نقصان کی بھرپائی کی کوشش کی لیکن جو دبائو اس کے کنوینئر ڈاکٹرفاروق ستار پر ڈالا گیا وہ اسے برداشت نہ کر سکے۔ جب انھوں نے اور دیگر نے ایم کیوایم (پاکستان) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے نرمی کی امید کر رہے تھے۔

انھوں نے ایم کیوایم کے بانی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی اور بغاوت کرنے پر اُن کے خلاف ٹرائل کا مطالبہ کیا لیکن وہ ایم کیوایم لندن سے مبینہ تعلقات کے ’شکوک‘ زائل نہ کر سکے۔ پھر انھیں ایم کیوایم کا نام ترک کرنے کیلئے دبائو کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر وہ نئی جماعت یا گروپ بنا لیتے تو انھیں ریلیف مل جاتا۔
ایک جانب انھیں اسٹیبلشمنٹ کے چند حلقوں کی جانب سے دبائو کا سامنا تھا اور دوسری جانب حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عملی طور پر تمام اختیارات لے لیے اور میئرکراچی اور نظام کو بے اختیار بنا دیا لہذا ایم کیوایم (پاکستان) اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کے نام مقدمات اور انکوائریوں سے نکلوا سکی اور نہ ہی اپنے بے روزگار کارکنوں کو نوکریاں دلوا سکی۔ ان کے چند دفاتر کھول دیئے گئے لیکن انھیں سیکٹر اور یونٹس کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نائن زیرو سے خورشید میموریل ہال اور جناح گراؤنڈ تک سب ایم کیوایم کیلئے ’نوگوایریا‘ رہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کو اپنی خدمتِ خلق فائونڈیشن بھی آزادانہ طور پرچلانے کی اجازت دی گئی نہ ہی ’چندہ‘ جمع کرنے دیا گیا۔ سیاسی محاذ پر مرکز میں موجود پی ایم ایل اور سندھ میں پی پی پی نے ایم کیوایم سے دوری بنائے رہی اور یقین دہانی کے باوجود انھیں حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس کے باعث ایم کیوایم (پاک) کے اندر سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہو گیا اور اس کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگرعہدیداران پریشان ہو گئے۔ بعض اوقات اُن کے رہنماوں کو اُن غیر سیاسی لوگوں کی میٹنگز میں بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا، جو ایم کیوایم کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ چند ماہ میں ایم کیوایم کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز، سیکٹرز اور یونٹس نےایم کیوایم (پاک) سے پی ایس پی کی جانب اپنی وفاداریاں تبدیلی کرنا شروع کر دی یا بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔

مظہر عباس

ترک روسی میزائل ڈیل، نیٹو پریشان

انقرہ اور ماسکو کے مابین طے پانے والے ایک دفاعی معاہدے کے تحت ترکی روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل خریدے گا۔ اس دفاعی معاہدے کے بعد ترکی اور نیٹو اتحادیوں کے تعلقات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے ۔  شامی علاقے عفرین میں امریکی حمایت یافتہ کردوں کے خلاف ترک فوج کی کارروائیوں کے باعث نیٹو اور ترکی کے مابین تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار تھے۔ ترکی اور روس کے مابین دفاعی معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ ترکی کے نہ صرف امریکا کے ساتھ تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوں گے بلکہ ترکی کے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ترکی خود بھی نیٹو کا رکن ملک ہے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں شام اور عراق کے کرد علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کرد فورسز کے خلاف ترکی کے عسکری آپریشن پر سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین میں کردوں کی اپنی ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔ نیٹو اتحاد کی طرف سے گزشتہ کئی ماہ سے ڈھکے چھپے اور کھلے عام دونوں طریقوں سے ترکی کو اس طرح کے کسی معاہدے سے متنبہ کیا جاتا رہا ہے تاہم ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس کے باوجود اپنے ملک کے ایئر ڈیفنس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے روسی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام S-400 ’’ٹرائمف‘‘ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ 2.5 بلین امریکی ڈالرز مالیت کا ہے۔

تاہم ابھی تک یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ آیا ترکی اس معاہدے کو مکمل کر چکا ہے یا ابھی اس پر عملدرآمد کیا جانا باقی ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اشٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ترکی کو اس معاہدے کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ ان کی طرف سے یہ بیان رواں ہفتے ہونے والے نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل سامنا آیا ہے۔ تاہم نیٹو کے بعض سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ابھی بھی واپس لیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ انقرہ نے 2013ء میں چین سے میزائل شکن نظام کی خرید کا ایک معاہدہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم نیٹو کے احتجاج کے بعد ترکی نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بدعنوانی کے الزامات کی زد میں

اسرائیلی پولیس نے ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف رشوت ستانی اور دھوکہ دہی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کا اشارہ دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش ان کے خلاف ایک سال سے جاری تحقیقات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے آسٹریلیوی ارب پتی جیمز پیکر اور ہالی وڈ کی شخصیت ارون میلچین کی جانب سے تقریباً تین لاکھ ڈالر مالیت کے تحائف وصول کیے ہیں۔ ان تحائف میں قیمتی سگار اور شیمپین شامل ہیں۔ ان تحائف کے بدلے میں انہوں نے ‘ملچین قانون’ کی حمایت کی جس کے مطابق جو اسرائیلی بیرون ملک سے اسرائیل میں رہنے کے لیے آئے ہیں، انہیں دس سال تک ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی حاصل ہو گا تاہم اس تجویز کو وزارت معیشت کی جانب سے روک دیا گیا۔ ان پر ایک الزام اور بھی ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی اخبار کو مثبت کوریج کی ہداہت کی تھی۔

پولیس کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف تیار کی جانے والی سفارشات اٹارنی جنرل کو بھجوائی جا رہی ہیں جو تمام ثبوتوں کا معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ چند مہینوں میں کیا جائے گا اور اس تمام عرصہ میں اسرائیلی وزیر اعظم اپنے منصب پر قائم رہیں گے۔ یاد رہے کہ اب سے ایک دہائی قبل کچھ ایسے ہی حالات اس وقت کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے سامنے بھی تھے جنہیں پولیس تحقیقات کا سامنا تھا۔ اس وقت نیتن یاہو اپوزیشن لیڈر تھے جنہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ انہیں پولیس کی جانب سے سخت تحقیقات کا سامنا ہے لہذا انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو جانا چاہئے۔

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو رشوت، فراڈ اور بدعنوانی کے الزامات میں مطلوب

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے رشوت ستانی کے معاملے میں اُن پر ممکنہ طور پر مقدمہ چلانے کے بارے میں پولیس کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان پولیس کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف اتنے شواہد ہیں کہ انہیں رشوت، فراڈ اور خیانت کے دو مختلف معاملوں میں مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اخبار ‘یوڈیوٹ اہارونوٹ کو مثبت کوریج کے لیے کہا تھا، جس کے جواب میں اُس کے مخالف اخبار پر قدغن لگانے کی بات کہی تھی۔ پولیس نے کہا کہ اخبار یوڈیوٹ اہارونوٹ کے مدیر آرنن موزس پر بھی مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ دوسرا معاملہ ہالی وڈ کے معروف فلمساز آرنن ملچین اور دوسرے حامیوں کی جانب سے اُنہیں لاکھوں شیکل (دو لاکھ 83 ہزار امریکی ڈالر) کے تحائف لینے کا الزام ہے۔

شام میں امریکی حملے میں درجنوں روسی جنگجو ہلاک

شمال مشرقی شام میں روسی جنگجو امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ بات ان روسیوں کے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتائی۔ اطلاعات کے مطابق ان جنگجوؤں کو ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا جو شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان اموات کی خِبریں امریکی میڈیا میں آئی ہیں لیکن روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ان اطلاعات کو ‘بنیادی ذرائع’ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس کے حملوں میں کم از کم ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سینکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔ جب انھوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ امریکہ نے اس کے جواب میں بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا۔ شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ اس حملے میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں اور اسے ‘وحشیانہ قتلِ عام’ قرار دیا ۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نے پینٹاگون کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے اڈے پر حملے میں شام کے حکومت نواز جنگجوؤں کے ساتھ روسی کرائے کے فوجی بھی شامل تھے۔ سی بی ایس نے کہا : ‘اگر واقعی روسی مارے گئے ہیں تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ شام میں کسی امریکی کارروائی میں روسی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔’ روسی جنگجوؤں کے دو ساتھیوں نے بی بی سی سے تصدیق کی کہ وہ سات فروری کو مارے گئے تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے نام ولادی میر لوگینوف اور کریل آنانیف بتائے۔ بعض روپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ درجنوں روسی ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ انھیں نجی روسی کمپنی واگنر نے بھرتی کیا تھا۔ اس کمپنی نے ابھی تک اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی احد تامیمی اسرائیلی عدالت میں

ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے اور دیگر الزامات میں 17 سالہ فلسطینی لڑکی احد تامیمی کے خلاف مقدمے کا آغاز ہو گیا ہے۔ احد تامیمی کی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیل فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ 17 سالہ احد تامیمی کے خلاف 12 دفعات عائد کی گئی ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے اور اشتعال انگیزی کے الزامات شامل ہیں۔ اگر ان پر الزامات ثابت ہو گئے تو انھیں ایک لمبے عرصے کے لیے قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے احد تامیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احد کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو احد تامیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔ یہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا تھا۔ بعد میں احد تامیمی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔

دو سال قبل احد تامیمی کی ہی ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی نے ان کے بھائی کو پتھر پھینکنے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔
اُس موقعے پر ترک وزیراعظم طیب رجب اردوغان نے ان کی تعریف کی تھی اور انھیں ’بہادری‘ کا ایوارڈ دیا تھا۔ احد تامیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں منظر عام پر آئی تھیں جب انھیں ایک ویڈیو میں ایک فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ فلسطینی انھیں اب ایک ایسی قومی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک مقبوضہ سرزمین پر بہادری سے فوجیوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں۔
انٹرنیٹ پر جاری ایک مہم میں 17 لاکھ افراد نے ان کی رہائی کی حمایت کی ہے۔

احد تامیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن انھوں نے ان فوجیوں کی جانب سے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کو احد تامیمی کے گھر اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ احد تامیمی کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں میں 1400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔ سول حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالتی نظام میں بنیادی تحفظات موجود نہیں ہیں اور اسرائیل کا نظام ایک منصفانہ مقدمے کی گارنٹی نہیں دیتا۔

ترکی کا شام میں فوجی آپریشن اور امریکی ناکامی

جدید جمہوریہ ترکی کے قیام سے موجودہ دور تک ترکی اور امریکہ کے تعلقات بڑے مثالی اور قریبی رہے ہیں۔ امریکہ نے یورپ اور ایشیا میں تشکیل کردہ اپنے پیکٹ یا تعاون کے سمجھوتوں میں ترکی کو لازمی طور پر شامل کیا۔ ماضی میں ترکی، پاکستان اور ایران امریکہ کے بہت بڑے حلیف رہے ہیں لیکن ایران میں خمینی انقلاب کے بعد امریکہ کا ایران کے ساتھ اتحاد تو پارہ پارہ ہو گیا لیکن پاکستان اور ترکی امریکہ کے اور بھی قریب آگئے ۔ افغانستان میں سوویت یونین کی یلغار اور اس کے بعد نائن الیون حملوں کے بعد پاکستان امریکہ کی کالونی کی حیثیت اختیار کر گیا اور امریکہ کے حکمرانوں نے پاکستان کو تگنی کا ناچ نچوانا شروع کر دیا اگرچہ اس وقت کے حکمران تو یہ ناچ ذوق و شوق سے ناچتے رہے لیکن عوام نے ہمیشہ ہی امریکہ کے اس رویے کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔

امریکہ اسی قسم کا کھیل ترکی کے ساتھ بھی کھیلتا رہا ہے لیکن موجود ترک حکمران ماضی کے حکمرانوں سے بہت مختلف واقع ہوئے ہیں۔ ایردوان امریکہ سے ماضی کے تعلقات، سمجھوتوں اور حلیف ملک ہونے کی پروا کیے بغیر قوم اور ملک کے مفاد کو سب سے مقدم سمجھتے ہوئے ان کے سامنے ڈٹ گئے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انہوں نے اب امریکی حکام کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ امریکہ نے شام پر دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے جس پر ترکی کو شدید اعتراض ہے۔ امریکہ نے ترکی کی دہشت گرد تنظیم “PKK” کی شام میں موجود ایکسٹینشن” “PYD اور “YPG, کو جس طریقے سے اسلحہ فراہم کیا اس پر ترکی نے کئی بار امریکہ کومتنبہ کیا ۔

اگرچہ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم ’’ پی کے کے‘‘ کو تو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے لیکن اس کی شام میں موجود دونوں شاخوں ’’ پی وائی ڈی‘‘ اور ’’ وائی پی جی‘‘ کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں علاقے میں برسر پیکار دیگر دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کے خلاف بڑے موثر طریقے سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان دونوں تنظیموں نے امریکہ کی سرپرستی میں کئی علاقوں کو ’’داعش‘‘ کے قبضے سے آزاد بھی کروا لیا ہے جبکہ ترکی کا موقف ہے کہ ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کا داعش کے خاتمے میں کوئی اہم کردار نہیں ہے بلکہ یہ علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے کو ترکی میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کر رہی ہیں اور ترکی نے اس سلسلے میں امریکہ کو ثبوت بھی فراہم کیے ہیں.

لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح ترکی کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی پروا کیے بغیر ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کی کسی نہ کسی شکل میں پشت پناہی جاری رکھی ہے اور دوسری طرف ترکی کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ان تنظیموں کو اسلحہ کی فراہمی روک دی گئی ہے اور جو اسلحہ فراہم کیا جا چکا ہے اسے واپس لینے کے لیے جلد ہی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ امریکہ اگرچہ ترکی کو اپنا اتحادی ملک سمجھتے ہوئے اس کے مفادات کا تحفظ کر نے کی بارہا یقین دہانی کروا چکا ہے لیکن ترکی کا اعتماد امریکہ پر سے اٹھ گیا ہے۔ ترکی نے صدر ٹرمپ اور امریکی حکام کو علاقے میں نئی فورس کی تشکیل سے باز رہنے کے لیے بارہا کہا لیکن امریکی انتظامیہ نے ترکی کے مطالبات کی ذرہ بھر پروا نہ کی اور علاقے میں دہشت گرد تنظیموں پر مشتمل نئی فورس کی تشکیل کا عمل جاری رکھا جس پر ترکی نے اس سرحدی فورس کے قیام سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ترکی کا خیال ہے یہ نئی سرحدی فورس علاقے میں ایک کرد مملکت قائم کرنے کی وجہ سے بنائی جا رہی ہے۔ ترکی کے شروع کردہ فوجی آپریشن کے دوران عفرین کے کئی ایک علاقوں کو ان دہشت گرد تنظیموں کے پنجے سے آزاد کروا لیا گیا ہے اور ترک فوجیوں کی مزید پیش قدمی جاری ہے اور ترکی منبیچ تک کے علاقے کو ان دہشت گرد تنظیموں سے آزاد کرانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو ترکی کی جانب سے فوجی آپریشن کیے جانے کی ہرگز توقع نہ تھی اور اسی وجہ سے اس نے ترکی کے کئی بار انتباہ کے باوجود اس کے مطالبے پر کوئی کان نہ دھرا۔ اب اس فوجی آپریشن کے بعد امریکہ کی آنکھیں کھلی ہیں اور اس نے ترکی پر فوجی آپریشن جلد از جلد ختم کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا ہے لیکن ترکی کے صدر ایردوان ’’فوجی آپریشن کو علاقے میں موجود تمام دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا‘‘ کا کئی بار برملا اظہار کرچکے ہیں۔

صدر ایردوان کے اس سخت اور دو ٹوک بیان کے بعد امریکی حکام کے ہاتھ پائوں پھولتے دکھائی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ نے اپنے وفود اوپر تلے ترکی بھیجنا شروع کر دئیے ہیں تاکہ ترکی کو فوجی آپریشن ختم کرنے پر راضی کیا جا سکے لیکن ترکی اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ ٹلر سن نے اپنے ترک ہم منصب چائوش اولو کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ترک فوجیوں کی علاقے سے واپسی سے متعلق شیڈول دینے کا مطالبہ کیا جسے ترکی نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کوئی تاریخ دینے سے گریز کیا جس پر امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر نے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سے ملاقات کی اور دونوں دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ کی جانب سے دئیے جانے والے اسلحے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنر شپ جاری رکھنے کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

اس وفد کے دورہ ترکی کے فوراً بعد ہی ترکی کے نائب وزیراعظم بیکر بوزداع نے امریکہ سے فوجی آپریشن روکنے کیلئے اپنے کسی نئے وفد کو ترکی بھیجنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا لیکن اس بیان کے بعد بھی امریکہ کے وزیر خارجہ ٹلر سن اور وزیر دفاع جیم میٹس کے دورہ ترکی اور اپنے اپنے ترک ہم منصبوں سے مذاکرات کرنے کے علاوہ صدر ایردوان سے شام میں ترک فوجی آپریشن کے بارے میں بات چیت کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ ترک صدر شام کے علاقے عفرین اور اس کے بعد منبیچ میں اس وقت تک فوجی آپریشن جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک وہاں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔ دراصل ایردوان کے اس فیصلے کی تمام ترک حلقوں کی جانب سے مکمل حمایت کی جا رہی ہے جو صدر ایردوان کے ہاتھوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ 2019ء کے صدارتی انتخابات میں بڑی واضح اکثریت سے کامیابی کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

نقیب قتل کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے اور سیکیورٹی فراہم کرنےکا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نقیب قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کےدوران چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ راؤ انوار کو کسی نے نقصان پہنچایا تو ثبوت ضائع ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق ونگ کو رائو انوار کی طرف سے ڈاکخانے کے ذریعے خط ملا جس میں راؤ انوار نے موقف اختیا ر کیا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ رائو انوار نے لکھا کہ موقع پر موجود نہیں تھا، ملیر کے لوگوں کی خدمت کی ہے، جو بھی کیا قانون کے مطابق کیا۔

رائو انوار نے خط میں آزاد جے آئی ٹی بنانے کی بھی درخواست کی اور کہا کہ جو فیصلہ جے آئی ٹی کریگی منظور ہو گا۔ خط کی تصدیق کے لیے چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو رائو انوار کے دستخط دکھائے جس پر آئی جی سندھ نے کہا دستخط رائو انوار سے ملتے جلتے ہیں۔ آئی جی سندھ نے بھی رائو انوار کے مطالبے کی ہدایت کر دی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں۔ عدالت نے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا اور راؤ انوار کو دالت میں طلب کر لیا۔ عدالتی حکم کےمطابق ،، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا بریگیڈیر لیول کا آفیسر شامل ہو گا جبکہ ایک قابل افسر کا تعین عدالت خود کریگی۔

 

عراق کی تعمیر نو کے لیے 100 ارب ڈالر درکار

ایسے میں جب کویت میں تعمیر نو کا بین الاقوامی اجلاس شروع ہو چکا ہے، حکومتِ عراق کی توقعات مدھم پڑ گئیں جسے امید تھی کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کے مسمار کردہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے 100 ارب ڈالر اکٹھے ہو جائیں گے۔ عراقی کابینہ کے وزرا کی کمیٹی کے سربراہ، مہدی العلیک نے کہا ہے کہ ’’حکومت نے اہم اور خطرناک چیلنجوں کا سامنا کیا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کو شکست دینے کے لیے ملک نے تین سے زیادہ برس تک طویل جدوجہد کی۔ ایک مرحلے پر داعش نے عراق کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ جما رکھا تھا۔

علیک نے توجہ دلائی کہ ’’اس کے نتیجے میں معاشی اور ترقیاتی عمل تہ و بالا ہو چکا تھا، خاص طور پر ملک کو شدید دہشت گرد حملے لاحق تھے، جس کے باعث حکومت نے اپنی ترجیحات بدلیں، تاکہ ملک کی آزادی پر توجہ دی جا سکے ۔ اُسی وقت، تیل کے عالمی نرخ تیزی سے گرے، جس کے نتیجے میں عراق کی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔ عراقی حکومت اور عالمی بینک کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق، داعش کے ہاتھوں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ 45.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

وصولی اور تعمیرات نو کی ضروریات 88 ارب ڈالر سے بھی زائد ہیں، جب کہ حکومت اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ اگلے ایک عشرے تک کام جاری رکھنے کے لیے 100 ارب ڈالر اکٹھے کیے جائیں۔ بڑے عطیات کی توقعات معدوم ہو چکی ہے، ایسے میں جب گذشتہ ہفتے اِن رپورٹوں کی تصدیق ہوئی کہ امریکہ اضافی چندہ دینے کا کوئی وعدہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح، خلیج کی دولت مند عرب ریاستوں کی جانب سے بھی کوئی خاص عطیات کی امید نہیں۔ توقع ہے کہ عراق میں سرمایہ کاری کے لیے ہونے والے اجلاسوں میں 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 2000 کمپنیاں شریک ہوں گی۔ عراق، کویت، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی بینک اجلاس میں شریک صدر کے طور پر شامل ہوں گے، جنھیں امید ہے کہ وہ رقوم جمع کر سکیں گے ۔  کانفرنس کے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ امریکہ کی 150 سے زائد کمپنیاں اجلاسوں میں شریک ہوں گی، جو کہ کسی ملک کا سب سے بڑا وفد ہو گا۔