ریاست کا انتظار کیوں کرتے ہو ؟

حالانکہ یہ مشہور جملہ ریاست کنیکٹیکٹ کے اس اسکول ہیڈ ماسٹر جارج سینٹ جان کا ہے جہاں جان ایف کینیڈی نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مگر بیس جنوری انیس سو اکسٹھ کے بعد سے یہ جملہ دنیا بھر میں ایسے مشہور ہوا اور کروڑوں بار استعمال ہوا جیسے کینیڈی کا ہی ہو۔ مزے کی بات ہے کہ کینیڈی نے بھی کبھی ریکارڈ کی درستی کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ جب کینیڈی نے یہ جملہ استعمال کیا تو اس وقت ہیڈ ماسٹر صاحب بھی زندہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں بھی عجیب سا لگا ہو کہ ان کا یہ ہونہار شاگرد بغیر حوالہ دیے کیسے دھڑلے سے کئی برس پہلے کا ان کا کہا گیا جملہ اپنا بنا کے پیش کر رہا ہے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ استاد کا دل بڑا ہوتا ہے۔ اتنا بڑا کہ اس میں ہزاروں شاگرد اور لاکھوں خطائیں سما سکتے ہیں۔

اب بچے تو غلطیاں ہی کرتے رہتے ہیں۔ ہر بھول چوک پر سرزنش تو نہیں ہو سکتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ میاں کینیڈی کوئی ننھے بچے تو تھے نہیں جب وہ امریکا کے صدر بنے اور حلف برداری کے بعد کہا ’’ یہ مت پوچھو کہ ملک تمہارے لیے کیا کر سکتا ہے۔ یہ پوچھو کہ تم ملک کے لیے کیا کر سکتے ہو‘‘۔ ( یہ پورا قصہ آپ کرس میتھیوز کی کتاب ’’جیک کینیڈی۔ الیوسیو ہیرو‘‘ میں پڑھ سکتے ہیں)۔ مذکورہ بالا قول کسی کا بھی ہو مگر ہے بہت شاندار۔ کیونکہ یہ بات طے ہے کہ ترقی یافتہ ریاست بھی اپنے تمام شہریوں کو یکساں سہولتیں فراہم نہیں کر سکتی۔ ریاستوں کی اکثریت میں تو خیر عوامی اکثریت کو بھی بنیادی سہولتیں میسر نہیں لیکن جو فلاحی ریاستیں ہونے کی دعوے دار ہیں وہاں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ یا علاقہ بنیادی سہولتوں سے باہر رہ جاتا ہے۔ مثلاً میں نے معیارِ زندگی کے عالمی جائزوں میں ہمیشہ اول یا دوم آنے والے کینیڈا میں ٹورنٹو یونیورسٹی کے باہر نیٹیو انڈینز کو فٹ پاتھ پر سوتے یا کسی ستون کے سہارے بے سہارا بیٹھے دیکھا۔

مگر اس میں ریاست کا بھی کوئی قصور نہیں۔ ریاست بھلے جتنی بھی ایماندار ، دلدار اور جذبہِ فلاح سے مالامال ہو اس کا ڈھانچہ کچھ اس طرح کا ہے کہ سو فیصد لوگوں کو آسودہ رکھنا ممکن نہیں۔ جو ریاستیں اپنے نوے فیصد تک لوگوں کو بھی آسودہ رکھ پا رہی ہیں اس کے پیچھے بھی کروڑوں لوگوں کی ایماندارانہ محنت ہے۔ ویسے بھی ریاست لوگوں کے اجتماعی فخر کے اظہار کے سمبل کے سوا اور کیا ہے۔ یہ الگ بات کہ جب کسی ریاست کو کوئی استحصالی اقلیت یا سوٹڈ بوٹڈ چور یا ڈاکو ہائی جیک کرلیں تو وہی ریاست ایک مراعات یافتہ اقلیت کی جنت کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ریاست کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی زندگی میں خود کوئی بہتری لانے کے لیے سوچنا چاہیے۔

جہاں ریاست کسی بھی خامی، غفلت یا کم مائیگی کے سبب نہ پہنچ سکے وہاں سے انفرادی ذمے داری کا سفر شروع ہوتا ہے۔ مگر یہ بات کبھی اکثریت کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اکثریت بیشتر وقت کسی معجزے ، کرامت یا نجات دھندہ کا انتظار کرنے میں مرتی کھپتی رہتی ہے۔ البتہ اسی ریوڑ میں سے کچھ لوگ ذرا الگ ہٹ کر سوچتے ہیں تو پہلے پہل پاگل ، سنکی اور پھر نجات دھندہ اور دیوتا کہلانے لگتے ہیں۔ یہ دنیا شائد ایسے ہی پاگلوں کے بل پر چل رہی ہے جنہوں نے کبھی ریاست یا غیبی مدد کا انتظار نہیں کیا اور بساط بھر کر گذرے۔ آپ پہیے ، چھاپے خانے ، سلائی مشین، دخانی انجن ، بلب ، اینٹی بائیوٹک ، ریڈیو ، ٹی وی ، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ ، موبائیل فون ، مصنوعی کھاد سمیت انسانی ارتقا و ترقی کا دھارا موڑنے والی ایک بھی ایسی ایجاد بتا دیں جو ریاستی سرپرستی میں ہوئی ہو۔ریاست ایجادات و تحقیق کو اپنے اچھے برے مقاصد کے لیے استعمال تو کر سکتی ہے مگر خود سوائے ستم و کرم کے کچھ ایجاد نہیں کر سکتی۔

اس لایعنی اور طویل تمہید کے بعد آتے ہیں فرد کی طاقت کی جانب۔ یعنی ایک فرد جس کے پاس کوئی وسیلہ یا بہت زیادہ تعلیم بھی نہ ہو وہ کیسے تبدیلی لا سکتا ہے۔ اپنے اندر چھپے ہوئے ایدھی ، مدر ٹریسا اور روتھ فاؤ کو کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ اب میں بات نہیں کروں گا ایمبولینس دادا کی کہانی سناؤں گا۔ کریم الحق عرف ایمبولینس دادا مغربی بنگال کے ضلع جلپائی گڑی کے دھالا باری گاؤں میں رہتا ہے۔علاقے کی آبادی کا گذارہ چائے کے باغات میں مزدوری یا چھوٹی موٹی کسانیت پر ہے۔ کریم بھی چائے باغ میں مزدوری کرتا ہے۔ اس کی تنخواہ پانچ ہزار روپے ہے۔ گاؤں سے بنیادی مرکزِ صحت آٹھ کلومیٹر اور جلپائی گڑی ڈسٹرکٹ اسپتال پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شہر تک رسائی کے تمام راستے یا تو کچے یا پتھریلے یا جو پختہ ہیں ان میں بھی بڑے بڑے گڑھے ہیں۔ کسی حاملہ عورت کے لیے ایمبولینس کا شہر سے آنا ایک خواب ہے۔ آ بھی جائے تو پورا ایک دن لگتا ہے۔ لہذا اس کا آنا نہ آنا برابر ہے۔

پندرہ برس پہلے کریم الحق کی ماں بیمار ہوئی اور اس سے پہلے کہ کریم اسے لے کر اسپتال پہنچ پاتا وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔اس دن کریم الحق نے عہد کیا کہ اب وہ کسی کو اس لیے نہیں مرنے دے گا کہ وہ اسپتال نہ پہنچ پایا۔ کچھ دن بعد چائے کے کھیت میں اس کا ساتھی مزدور عزیز اچانک چکرا کے گر پڑا۔ کریم نے باغ کے مینیجر سے کہا کہ اگر وہ اپنی موٹر سائیکل کی چابی دے دے تو میں عزیز کو اسپتال پہنچا سکتا ہوں۔ مینیجر نے پس و پیش کے بعد چابی دے دی اور کریم اپنے ساتھی کو بقول ڈاکٹروں کے بروقت اسپتال پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔یہاں سے کریم الحق کو خیال آیا کہ موٹرسائیکل کو بھی تو بطور ایمبولینس استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نے قرضے پر ایک موٹر سائیکل خریدی ، فیصلہ کیا کہ آدھی تنخواہ اپنے اخراجات کے لیے اور آدھی ایمبولینس کے پٹرول کے لیے وقف کرے گا۔

آج تک کریم الحق اپنی موٹرسائیکل ایمبولینس سروس کے ذریعے اپنے اور اردگرد کے بیس دیہاتوں کے لگ بھگ پانچ ہزار مریضوں اور زخمیوں کو اسپتال تک پہنچا چکا ہے۔ ضلعی حکومت نے ایک بار اسے چند ہزار روپے دیے اس کے سوا کوئی سرکاری امداد نہیں ملی۔ البتہ ریاست نے اسے بھارت کے اصلی ہیروؤں کی صف میں ضرور شامل کر لیا ہے۔ اربوں روپے کا کاروبار کرنے والے بجاج موٹرز نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کریم الحق کی موٹرسائیکل ایمبولینس پر بارش سے بچاؤ کا کور اور دائیں بائیں دو آکسیجن سلنڈرز رکھنے کے پائیدان بنوا دیے ہیں۔

کریم الحق نے اس دوران ایک ڈاکٹر سے فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ بھی لے لی تا کہ راستے میں یا کسی گھر میں ایمرجنسی کی صورت میں وہ بروقت مدد کر سکے۔اپنی سالانہ چھٹی کریم الحق اردگرد کے جنگلوں میں بسنے والے قبائلیوں کے ساتھ گذارتا ہے اور جو فرسٹ ایڈ کی تربیت لینا چاہے اسے تربیت دیتا ہے۔
کریم الحق آج بھی موٹر سائیکل کی قسطیں ادا کر رہا ہے۔ لیکن گلوکارہ نیہا نے اسے تین دن پہلے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اب نئی موٹرسائیکل لے سکے گا۔ ایک مخیر نے اسے باقاعدہ ایمبولینس عطیہ کرنے کی بھی پیش کش کی مگر کریم الحق کا کہنا ہے کہ چار پہیوں والی گاڑی کی اس علاقے کے ٹوٹے پھوٹے راستوں پر ہر جگہ رسائی نہیں ہو سکتی لہذا موٹرسائیکل ایمبولینس ہی زیادہ کارآمد ہے۔

یہ بتائیے کہ اگر کریم الحق بھی کروڑوں دیگر کی طرح ریاست کا انتظار کرتا رہتا تو پانچ ہزار میں سے کتنے مریض بروقت اسپتال پہنچ پاتے۔ آپ کا جو بھی پیشہ ہو ، آپ کی جتنی بھی آمدنی ہو ، آپ کے جتنے بھی ذاتی مسائل ہوں۔ آپ چاہیں تو اس بوجھ کے باوجود اپنی اور دوسروں کی زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بات ہے آئیڈیے کی ، بات ہے جذبے کی۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے ’’اندھیرے کو بیٹھے بیٹھے کوسنے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک شمع روشن کر دو اور اس سے بھی زیادہ اتم کام یہ ہو گا کہ اس شمع کو مسلسل روشن رکھنے کے بارے میں سوچو‘‘.

وسعت اللہ خان

بیچارا انقلاب

انقلاب پریشان ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ نے انقلاب کو پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا ہے کیونکہ اس مارچ کے دوران نواز شریف کی زبان پر بار بار انقلاب کا ذکر آتا رہا۔ جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوران تقاریر میں نواز شریف نے خود کو بڑا نظریاتی انسان قرار دیا اور لاہور پہنچ کر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئین کو بدل ڈالیں گے۔ انقلاب پہلی دفعہ پریشان نہیں ہوا۔ تین سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو یہ دونوں اصحاب بھی انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دونوں اپنے اپنے کنٹینروں پر چڑھ کر انقلاب کی باتیں کرنے لگے تو نواز شریف نے ان کے مارچ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

پھر یہ مارچ دھرنے میں بدل گیا۔ دھرنا کامیاب نہ ہو سکا اور انقلاب کا ذکر ختم ہو گیا۔ تین سال کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ شروع کیا تو یارانِ نکتہ داں نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مارچ کا مقصد بڑا واضح تھا وہ نواز شریف کی حکومت گرانے اسلام آباد آئے تھے لیکن نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور کی طرف مارچ کا کیا مقصد ہے؟ وفاق میں بھی اُن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی اُن کی حکومت اُن کا مارچ کس کے خلاف ہے؟ نواز شریف کی تقاریر سے واضح ہو گیا کہ اُن کا مارچ سپریم کورٹ کے خلاف تھا اور لاہور میں اُن کی تقریر سے یہ اشارہ ملا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین میں کچھ تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کا تعلق آئین کی دفعہ 62، 63 اور 184 سے ہو گا تا کہ آئندہ سپریم کورٹ کسی رکن پارلیمنٹ کو بے ایمان یا جھوٹا قرار دے کر نااہل قرار نہ دے سکے۔ نواز شریف نے لاہور کی تقریر میں کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کی تجاویز سے متفق ہیں اور اُن کی جماعت ان تجاویز پر عملدرآمد کی حمایت کرے گی۔ نواز شریف بھول گئے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے نااہل قرار دلوایا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے کوئی غلط بات نہیں کی لیکن جب اسی چیئرمین سینیٹ نے چند ماہ قبل یہ شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم اور اُن کے وزراء ایوان بالا کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تو نواز شریف کیوں خاموش رہے؟ چیئرمین سینیٹ نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ یہ باتیں پچھلے تین سال سے کر رہے ہیں لیکن نواز شریف نے پہلی دفعہ اُن کی تائید کی ہے کیونکہ اب نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف بھول گئے کہ جس شام اُنہوں نے چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اُسی شام پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی چنیوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 2007ء میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ اعتراف کر لیا تھا کہ مشرف کے ساتھ این آر او اُن کی غلطی تھی۔ وہ عالمی سطح کی لیڈر تھیں لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ اُنہوں نے آخری ملاقات میں مجھ ناچیز کو یہ کہہ دیا کہ این آر او کے متعلق آپ کی رائے درست تھی یہ این آر او محض ایک دھوکہ تھا میری رائے غلط نکلی۔

ایک غلطی کے اعتراف نے میری نظروں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قد بہت بلند کر دیا لیکن نواز شریف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں اُنہوں نے خفیہ اداروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے جو کردار ادا کیا وہ غلط تھا۔ نواز شریف یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ محض انقلاب کا لفظ اپنی زبان پر لا کر پیپلز پارٹی کو اپنے دام الفت میں پھنسا لیں گے۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب کی نہیں بلکہ ردِّ انقلاب کی علامت ہے۔ اس پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف میں گھسنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں پہلے ہی ردِّ انقلاب کی بہت سی علامتیں اکٹھی ہو چکی ہیں لہٰذا وہاں نئے آنے والوں کے خلاف ایک بڑی مزاحمت سر اُٹھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون پیپلز پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دے گا اس لئے فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر انقلاب لانے کا خیال کسی سراب سے کم نہیں۔

انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان، آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظریے پر عملدرآمد اوپر سے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ انقلابی نظریہ اوپر والے لے کر نہیں چلتے بلکہ نیچے والے اوپر لے کر جاتے ہیں۔ انقلابی نظریے کی علامت چے گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ لگا دے تو اُس کی بات پر کون یقین کرے گا؟ فرانس، روس، چین اور ایران کے انقلابات کی تاریخ اٹھا لیں۔ یہ انقلابات نچلے اور متوسط طبقے نے امیر طبقے کے خلاف برپا کئے۔ انقلابی نظریہ پرولتاری طبقے میں پیدا ہوا سرمایہ داروں میں پیدا نہیں ہوا۔ ذرا غور تو فرمایئے! آج کل کون کون انقلاب کی بات کر رہا ہے؟ چشم تصور سے سوچئے کہ انقلاب کتنا پریشان ہو گا۔ فرانس، روس، چین اور ایران کا انقلاب تاریخ کی کتابوں میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا نام اُن لوگوں کی زبان پر کیوں آنے لگا جو ہمیشہ میرا راستہ روکتے رہے؟ انقلاب یہ سوچ رہا ہو گا کہ آج میں اُن کا محبوب کیسے بن گیا جو ہمیشہ ضد انقلاب تھے؟

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے ذریعے یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ نااہل ضرور ہوئے لیکن اُن کی سیاست ختم نہیں ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ میں پنجاب پولیس کھلم کھلا اُن کے جلسوں کے انتظامات کر رہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن اُن کی عدلیہ مخالف تقاریر بھی نشر کر رہا تھا لیکن سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب پولیس نہیں ہو گی۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی زبان سے انقلاب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ تینوں میں سے کسی کا کردار انقلابی نہیں ہے۔ انقلاب آئین میں تبدیلی سے نہیں پورے سیاسی نظام کی تبدیلی سے آتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی بقاء وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الحال اس نظام کو چلنے دیں اور قوم کو انقلاب کا فریب نہ دیں کہیں انقلاب مزید پریشان ہو کر قوم کے دماغ میں نہ گھس جائے پھر کسی کی خیر نہ ہو گی۔

حامد میر

امریکہ : کیا سفید فام نسل پرستی بڑھ رہی ہے ؟

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں جان لیوا تشدد ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتہائی دائیں بازو کی تنظیمیں امریکہ میں کافی نمایاں طور پر اُبھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسےگروہوں کی سرگرمیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی سے تقویت ملی ہے۔ یہ گروہ بائیں بازو کی سوچ اور اعتدال پسند خیالات کو رد کرتے ہیں۔ خیال ہے کہ سوشل میڈیا بھی ایسے گروہوں کو بڑھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے سدرن پاورٹی لا کے مطابق وہ ایسے 1600 شدت پسند گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مگر ایسے گروہ کتنے مقبول ہیں اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مندرجہ ذیل سفید فام نسل پرست گروہ امریکہ میں کافی متحرک ہیں۔
آلٹرنٹیو رائٹ (آلٹ رائٹ)
دی آلٹرنٹیو رائٹ یا آلٹ رائٹ کے نام سے مقبول اشتعال انگیزی پھیلانے والے یہ افراد ایک گروہ کی شکل میں سامنے آئے ہیں جنہیں سیاسی لحاظ سے درست زبان کے استعمال سے نفرت ہے اور صدر ٹرمپ انہیں محبوب ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ متعصب سفید فام قوم پرست ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس گروہ کی حالیہ مقبولیت میں اضافے کی وجہ 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعصبانہ جذبات کا اظہار ہے۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے انہوں نے 2016 میں اس گروہ کے خیالات سے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔

آلٹ رائٹ کو میڈیا میں اُس وقت مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی 2016 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کی حیثیت سے حریف ہلیری کلنٹن کی تصویر داؤدی ستارے سے مشابہ ایک چھ کونے والے ستارے کے ہمراہ ٹویٹ کی اور ساتھ یہ لکھا کہ ‘اب تک کی سب سے زیادہ کرپٹ امیدوار!’
رچرڈ برٹرنڈ سپینسر جنہوں نے آلٹرنیٹو رائٹ اصطلاح کا استعمال شروع کیا تھا کہتے ہیں کہ اس گروہ کا مقصد ‘سفید فام افراد کی پہچان’ اور ‘روایتی مغربی معاشرے کی بقا’ ہے۔ آزادی، آزادیِ اظہار اور دوسروں کی دل آزاری کرنے کا حق حاصل ہونا ان کا نصب العین ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد نسل پرست ہیں، عورتوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور یہودیت مخالف ہیں۔ یہ مومنٹ زیادہ تر تو آن لائن ہے اور اس کے ممبر باقاعدہ کسی ادارے کا حصہ نہیں اس لیے تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

کو کلکس کلین (کے کے کے)
امریکہ کا سب سے معروف سفید فام نسل پرست گروہ کے کے کے جنوبی ریاستوں کے سابق فوجیوں نے 1865 میں امریکی خانہ جنگی کے بعد قائم کیا تھا۔ اس گروہ نے پہلے جنوبی حصوں میں زور پکڑا مگر انیس سو کے اوائل میں ملک بھر میں پھیل گیا۔ اس گروہ کے مختلف حصے سیاہ فام امریکیوں، یہودیوں اور مہاجرین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے سے ہم جنس پسند افراد بھی اس گروہ کا نشانہ بن گئے ہیں۔ اس گروہ کا مقصد ہے کہ ایسے سب لوگوں کو جن کے خلاف یہ تعصب رکھتے ہیں انہیں مساوی حقوق حاصل نہ ہوں۔ تاریخی طور پر اس گروہ کے ممبران ایسے لباس پہنا کرتے تھے جن سے اِن کے چہرے چھپ جاتے تھے اور وہ ان کپڑوں میں وہ ایسے لوگوں کی جانیں لے لیتے تھے جو جنوبی ریاستوں میں سفید فام قوم پرستی پر اعتراض کرتے تھے۔

اس گروہ کے کچھ دھڑے اپنے آپ کو ‘سفید فام محب وطن عیسائی’ ادارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ گروہ ہر امریکی ریاست میں موجود ہے اور کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد پانچ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ کو کلکس کلین سے منسلک درجنوں گروہ ہیں جن میں کانفیڈرٹ وائٹ نائٹس اور ٹریڈشنل امیرکن نائٹس شامل ہیں۔ امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں 12 اگست 2017 کو ہونے والی مارچ میں ایک عورت ہلاک ہوئی۔

نیو نازی گروپ
نیو نازی کی اصطلاح ایسے گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو یہودیت مخالف خیالات رکھتے ہیں اور انہیں ایڈولف ہٹلر اور نازی جرمنی سے محبت ہے۔ ایسے گروہوں کے خیالات امریکہ میں پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہیں۔ ایک مشہور کیس میں امریکی سپریم کورٹ نے پہلی ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیو نازی گروہ کو سکوکی اور الانوئے کے ایسے علاقوں سے سواسٹیکا یا نازی نشان اُٹھائے مارچ کرنے کی اجازت دی جہاں زیادہ تر یہودی بستے تھے۔ امریکہ میں متعدد نیو نازی ادارے ہیں جن میں امیرکن نازی پارٹی اور نیشنل سوشلسٹ مومنٹ شامل ہے۔ ان سب میں نمایاں نیشنل الائینس ہے جس کا ایک دھڑ ‘یونائیٹ دا رائٹ’ ہے اور اسی گروہ نے 12 اگست 2017 کو مارچ کا انعقاد کیا جس میں ایک عورت ہلاک جب کے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل داغنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ گوام پر حملہ کرنے کے فیصلے سے قبل کم جونگ ان امریکی اقدامات پر نظر رکھیں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریانے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے ‘میزائل داغنے کے منصوبے کا کافی دیر تک جائزہ لیا’ اور سینیئر فوجی افسران سے اس بارے میں گفتگو کی۔ ‘ رپورٹ کے مطابق ‘شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔’ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ ‘امریکہ جوہری ہتھیار ہمارے ملک کے قریب لایا ہے اور یہ اس کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے تو وہ درست فیصلہ لے تا کہ عسکری تصادم نہ ہو۔’

شمالی کوریا کے سربراہ نے فوج کو حکم دیا کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی حملہ جنگ میں بدل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ‘کسی بھی وقت، کسی کی جانب سے کیے گئے حملے’ سے نمٹنے اور ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے پڑوسی جنوبی کوریا نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ سے ملاقات میں اعادہ کیا کہ ‘جنوبی کوریا کی سب سے اہم ترجیح امن ہے۔’ ساتھ ساتھ انھوں نے شمالی کوریا سے بھی اشتعال انگیزی ختم کرنے کو کہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ شمالی کوریا پر ‘آگ اور قہر’ کی بارش کر دی جائے گی۔ تاہم شمالی کوریا کے روایتی ساتھی چین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ضبط سے کام لیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے الفاظ اور افعال کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔’ اس سے قبل اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔

چين بھارت کی جنگ میں پاکستان کا ردِعمل کیا ہو گا ؟

حال ہی میں انڈیا کے فوجی سربراہ جنرل بیپن راوت نے کہا تھا کہ انڈین فوج ڈھائی محاذوں پر جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ بیپن راوت کے اس بیان پر انڈیا سمیت ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کی میڈیا میں بھی کافی توجہ دی گئی تھی۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا تھا کہ بیپن راوت نے چین، پاکستان اور انڈیا میں فعال باغی گروہوں سے جنگ جیتنے کی بات کہی تھی۔ پاکستانی میڈیا میں بھی بیپن راوت کا یہ بیان شہ سرخیوں میں آیا تھا۔ خیال رہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ دو ماہ سے ڈوكلام سرحد پر کشیدگی ہے۔ چینی میڈیا میں جنگ کی دھمکیاں مسلسل جاری ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ڈوكلام سرحد کی خلاف ورزی کی ہے۔

چین یہ بھی کہہ چکا ہے کہ انڈیا اپنے فوجیوں کو واپس بلا لے جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ چین وہاں سڑک کی تعمیر کا کام بند کرے۔ چینی میڈیا میں ہندوستان کو 1962 کی جنگ کی یاد دلائی جا رہی ہے جس میں انڈیا کو بری طرح سے شکست ہوئی تھی۔ کیا ہندوستان کو لگتا ہے کہ اگر چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو اسے پاکستان سے بھی لڑنا پڑے گا؟ ذرا غور کریں کہ سنہ 1962 کی انڈیا چین جنگ میں پاکستان کا کردار کیا تھا؟ کیا تب بھی پاکستان نے چین کا ہی ساتھ دیا تھا؟ اگر اب انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟

آزادی کے بعد انڈیا کی تمام جنگوں کے گواہ سینیئر صحافی کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘میں اس وقت لال بہادر شاستری (جو نہرو کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم بنے) کے ساتھ کام کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر چین کے ساتھ 1962 کی جنگ میں پاکستان ہمارے ساتھ آ جاتا تو ہم جنگ جیت جاتے۔ ایسے میں وہ ہم کشمیر بھی مانگتے تو ان سے نہیں کہنا مشکل ہو جاتا۔ انڈیا نے پاکستان سے مدد نہیں مانگی تھی، لیکن مدد کی توقع ضرور رکھتے تھے۔’ انھوں نے مزید بتایا کہ لال بہادر جی نے ان سے کہا تھا کہ ‘اس صورت حال میں میں نے ایوب خان سے پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی مدد کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اور اس جنگ میں پاکستان انڈیا کے ساتھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے میں نے جناح سے پوچھا تھا کہ اگر انڈیا پر کوئی تیسری طاقت حملہ کرتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم انڈیا کے ساتھ ہوں گے۔ ہم ساتھ مل کر ڈریگن کو بھگا دیں گے۔ اس معاملے میں ان کا موقف بالکل واضح تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم دونوں بہترین دوست ہوں گے۔ جناح کہتے تھے کہ جرمنی اور فرانس میں اتنی لڑائی ہوئی تو کیا وہ دوست نہیں ہوئے۔’

پاکستان امریکہ کے دباؤ میں تھا؟
تو کیا چین انڈیا جنگ میں پاکستان غیر جانبدار تھا ؟ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں پروفیسر سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘اس وقت پاکستان پر محمد ایوب خان کی حکومت تھی۔ پاکستان امریکہ کے کافی دباؤ میں تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر کافی دباؤ ڈالا تھا کہ وہ انڈیا چین کے فرنٹ پر کچھ نہ کرے ۔ ‘ پروفیسر پانڈے بتاتی ہیں کہ اس وقت پاکستان نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ اس پر امریکہ کا دباؤ تھا۔ سنہ 1962 میں سرد جنگ کی آہٹ جنوبی ایشیا میں محسوس کی جا رہی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘پاکستان اور امریکہ میں دفاعی معاہدہ ہو چکا تھا اور وہ ویسٹرن الائنس نظام کا بھی حصہ بن گیا تھا۔ امریکہ نے 1962 کی جنگ میں انڈیا کی مدد کی تھی لہٰذا یہ بہت ممکن ہے کہ اس نے پاکستان کو روکا تھا۔’

1962 کی جنگ کو 55 سال ہو گئے ہیں۔ کیا اتنے سال بعد بھی انڈیا اور چین کی کشیدگي میں پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘اس وقت بھی پاکستان میں یہی احساس تھا کہ چلو انڈیا کو چین اچھی طرح سے شکست دے رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں فرائیڈے ٹائمز کے مالک بی آر شیٹی انڈیا کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں انڈیا اور پاکستان دوستی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔’ نیر مزید کہتے ہیں: ‘اب انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کی صورت بنتی ہے تو پاکستان کھل کر انڈیا کے خلاف ہو گا۔ وہ جو بھی کر سکتا ہے کرے گا۔ پاکستان دوسرا مورچہ کھول کر سامنے آئے اس پر تو مجھے شبہ ہے، لیکن وہ چین کی مدد کرے گا۔

انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ چین کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو پاکستان اس کی طرف نہیں ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان پر اتنا دباؤ برقرار رکھے کہ وہ غیر جانبدار رہے۔’ جبکہ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ’55 سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ پوری دنیا کی سیاست بدل گئی ہے۔ پہلے جو طاقت کا توازن تھا وہ آج نہیں ہے۔ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مختلف مسئلہ ہے اور چین کے ساتھ انڈیا کا مختلف مسئلہ ہے۔’

پاکستان چین دوستی انڈیا کے لیے باعث تشویش؟
پروفیسر پانڈے نے کہا: ‘پوری دنیا اس بات کو سمجھتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی انڈیا کے تعلق سے ہی ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے دو سرحدوں پر جنگ لڑنا کافی مشکل کام ہے۔ پاکستان کے رشتے تین محاذوں پر خراب ہیں۔ وہ انڈیا کے علاوہ ایران اور افغانستان سے بھی دوچار ہے۔ فوج کے سربراہ نے خواہ کوئی بیان دیا ہے، لیکن دو محاذوں پر جنگ لڑنا آسان نہیں ہے۔’
اب پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان اور چین کے رشتے بھی کافی گہرے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات مبینہ طور پر خراب ہیں۔ ایسے میں کیا 1962 کی طرح 2017 میں بھی پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ سوتا پانڈے کہتی ہیں: ‘ہم جب بھی جنگ یا کشیدگی کی بات کرتے ہیں تو بیرونی طاقت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ بیرونی طاقت کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان امریکہ کے دباؤ میں آ کر کچھ نہیں کرے گا۔ پھر بھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان پر امریکہ کا اثر ہے۔’

دو محاذوں پر جنگ کس قدر مشکل؟

انڈیا نے 1962 کے بعد 1965 کی جنگ لڑی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں کہ ‘پاکستان نے یہ سوچا تھا کہ ہندوستانی فوج کا حوصلہ پست ہے اور ایسے وقت میں حملہ کیا تو انڈیا کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ پاکستان کا یہ اندازہ بالکل غلط تھا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔’ پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ 1965 کی جنگ پاکستان کے لیے عبرت تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب پاکستان براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار کو ترجیح دیتا ہے۔ تو کیا 1962 کی جنگ سے ہی پاکستان کو تحریک ملی تھی کہ وہ انڈیا کو ہرا سکتا ہے؟

اس کے جواب میں پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ اس دلیل میں دم ہے اور پاکستان نے ایسا سوچا تھا۔ انھوں نے کہا: ‘پاکستان کو لگا تھا کہ یہ اچھا موقع ہے اور وہ کشمیر میں اتھل پتھل کرا سکتا ہے۔ 1962 میں پاکستان اور چین کے تعلقات ویسے نہیں تھے جیسے آج ہیں۔ 1962 کی لڑائی کے بعد ہی پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ 1963 میں پاکستان نے انڈیا کے علاقے چین کے حوالے کر دیے تھے۔ 1962 کی جنگ کے بعد ہی پاکستان اور چین کے درمیان دوستی بڑھی تھی۔’
پاکستان میں چین کی جس طرح موجودگی ہے ایسی صورت میں کیا دونوں ممالک حالت جنگ میں ساتھ نہیں آئیں گے؟ جے این یو کے جنوبی ایشیائی سٹڈیز کے پروفیسر پی لاما کہتے ہیں: ‘پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک اور قراقرم ہائی وے کا جو تعلق ہے اس کا انڈیا مخالف ہے۔ انڈیا کی مخالفت اس لیے ہے کہ چین نے بغیر انڈیا کی اجازت کے کے او پی سے راستہ بنا لیا تھا۔’

رجنیش کمار
بی بی سی ہندی، دہلی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام طالبان کا ‘کھلا خط’، افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ

افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے ‘کھلے خط’ میں 16 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ دہرا دیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صحافیوں کو بھیجے گئے اپنے خط میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا، ‘ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیش روؤں کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کے لیے نئی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں’۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ٹرمپ کو افغانستان سے متعلق فوجی پالیسی نہیں اپنانی چاہیے بلکہ امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کر دینا چاہیے، نہ کہ فوجی دستوں میں اضافہ کر دیا جائے جس کی ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

1600 الفاظ پر مشتمل اپنے نوٹ میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ انخلاء سے ‘امریکی فوجی دستوں کو نقصان سے نجات’ ملے گی اور ‘وراثتی جنگ کا بھی خاتمہ’ ہو گا۔ واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے رواں برس جولائی میں کہا تھا کہ افغانستان کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی پورے خطے کے حوالے سے ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبریں، جن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 5 ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجے گا، درست ثابت ہونے والی ہیں۔
ساتھ ہی جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی افغانستان میں امریکی فوج کے کام کی نوعیت کو تبدیل کر سکتی ہے۔ تاہم کچھ امریکی عہدیداران نے مزید فوجی دستے افغانستان بھیجنے پر اعتراض کیا تھا۔

چین اور انڈیا کشیدگی : چینی ٹیلی کام کمپنی نے بھارتی ملازمین کو فارغ کر دیا

چین کی ایک ٹیلی کام کمپنی نےتہران اوردوحہ میں بھارتی شہریوں کوملازمت سے فارغ کر دیا ہے ۔ بھارتی ملازمین کی برطرفی کی وجہ چینی ٹیکنالوجی کی چوری اور چین بھارت سرحدی کشیدگی بتائی جا رہی ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ذرائع کے مطا بق تہران میں چینی ٹیلی کام کمپنی کے بھارتی ملازمین کو گذشتہ روز فوری نکالے جانے کے احکامات موصول ہوئے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی بھارتی شہریوں کو چینی ٹیلی کام کمپنی سےفوری طورپر فارغ کر دیا گیا ہے۔

دیگرخلیجی ممالک سے بھی بھارتی ملازمین کو چینی ٹیلی کام کمپنی سے نکالنے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھارتی ملازمین نے چینی کمپنی سے اپنی برطرفی کا رونا پیٹنا شروع کر دیا ہے مگر وجہ نہیں بتائی۔

سانحہ 17 اگست : جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی حادثہ یا سازش ؟

17 اگست 1988ء کو اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور میں ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے طیارے C-130 میں سابق جنرل اختر عبدالرحمن اور امریکی سفیر رافیل سمیت 30 افراد سوار تھے جو سب کے سب راہی اجل ہوئے۔ اس وقت کے امریکی ترجمان فلس اوکلے کے مطابق طیارہ بہاولپور میں تقریباََ 4:30ََ منٹ پر یعنی پرواز کے دس منٹ بعد تباہ ہو گیا۔ سب لوگ بہاولپور میں ایم ون ٹینک کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد واپس راولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے تو حادثہ پیش آگیا۔

پاکستانی سرکاری بیان کے مطابق طیارہ فضا میں 4 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی کریش کر گیا۔ ایک چشم دید گواہ کے مطابق اس سہ پہر فضا میں طیارے میں سے دھواں بلند ہوا اور پھر وہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حادثے کے بعد دس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور جائے حادثہ سے ملنے والی ضیاء الحق کی باقیات کو فیصل مسجد اسلام آباد میں دفنایا گیا۔ اس وقت کے امریکی نائب صدر بش نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ صدر ضیا ہمارے دوست تھے اور ان کی موت ایک المیہ سے کم نہیں ہے‘‘۔ جائے حادثہ پر امریکی فرانزک ماہرین نے تحقیقات بھی کیں۔ اس دور میں بعض افراد نے کہا کہ طیارے کو ایک سازش کے تحت فضا میں تباہ کیا گیا ، کچھ نے کہا کہ اس میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔

طیارے میں سوار بعض افراد پر بھی شک کیا گیا کہ وہ بھی خود طیارے کی تباہی کی سازش میں ملوث تھے لیکن ان کے بھی کریش میں جاں بحق ہونے کے بعد مزید تحقیقات ممکن نہ رہیں اور فائل بند کردی گئی ۔ کچھ عرصے بعد ایکسپلوڈنگ مینگوز کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی لیکن مصنف کسی واضح سازش کی طرف نہ پہنچ سکا ۔ یہ ضرور تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہوا تھا کیوں کہ ہائی پروفائل طیارے کا حادثہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اسے صرف تکنیکی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ایجنسی موساعد کا نام بھی لیا گیا۔ ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ پاکستان نے افغان جنگ میں روسی مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا اس لئے روس بھی ضیاالحق کیخلاف سازش کر سکتا ہے ۔

مذہبی جماعتیں افغان جنگ کی وجہ سے ان کے قریب ہوئیں اور پاکستان امریکی مدد کے ساتھ روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اسی افغان جنگ سے پھر طالبان نکلے اور انہوں نے کچھ عرصہ بعد افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ’’ ان کے والد کا طیارہ کریش ہونا بہت بڑی سازش تھی‘‘ ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضیاالحق کے کئی اقدامات سے ان کے بہت سے عالمی اور مقامی دشمن پیدا ہو چکے تھے۔ ضیا الحق 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کوختم کر کے برسر اقتدار آئے تھے، انہوں نے90 دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ ایفا نہ ہو سکا۔احتساب کا نعرہ لگا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔

نظریہ ضرورت بھی اسی دور میں سامنے آیا جس کے تحت عدالت عظمیٰ نے ان کی حکومت کو جائز قرار دے دیا تھا ۔ بھٹو کو پھانسی دے کر انہوں نے اپنے ممکنہ سیاسی حریف سے چھٹکار تو پا لیا لیکن اس سے خود ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔ مارشل لا ء کے نفاذ کے بعد جسٹس یعقوب علی کو ہٹا کر ان کی جگہ پر جسٹس (ر) انوارلحق کو چیف جسٹس بنانے کیلئے (سابق) صدر فضل الہٰی پر پریشر ڈالا گیا۔ آئین میں کچھ اسلامی شقیں شامل کیں جن میں 62,63 ( صادق امین) کی شقیں آج بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے اقتدار منتخب نمائندوں کو سپرد کرنے سے پہلے19 دسمبر 1984 ء کو ایک صدارتی ریفرنڈم کرایا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعے سابق صدر کو بے پنا ہ اختیارات مل گئے۔ جن میں 58 ٹو بی بھی شامل تھی جس کے تحت صدر اسمبلی اور وزیراعظم کو برطرف کر سکتا تھا۔

ان کے دور میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے اور جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ ان کی حکومت کو 58 ٹو بی کے ذریعے ختم کیا گیا۔ سب سے اہم بات کہ اس دور میں ایٹم بم بنانے کا پروگرام جاری رکھا گیا جسے غیر ملکی طاقتوں نے اسلامی بم کا نام دیا۔ معاشی میدان میں انہوں نے بھٹو کے نیشنلائزیشن پروگرام کے برعکس کارپوریٹ پروگرام متعارف کروایا اور کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طرف توجہ دی گئی۔ان کے دور میں تحریک آزادی کشمیر کو تیز تر ہو گئی جس پر بھارت سیخ پا ہوا۔ اسی دور میں پاک بھارت تعلقات کو نارمل کرنے کیلئے کرکٹ ڈپلومیسی کا بھی آغاز ہوا ۔

حدود آرڈیننس کا اجرا بھی اسی دور میں ہوا، اور مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کیلئے بنائی جانے والی پالیسی نے معتدل طبقوں کو ناراض کیا ۔ان کے ان اقدامات سے معاشرہ میں انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ۔ اپنے دس سالہ دورا قتدار میں ضیاء الحق نے ملکی اقتدار پر بھرپور طریقے سے گرفت مضبوط کرلی تھی۔ انہوں نے ملک میں اپنے طور پر اسلامائزیشن کے لئے اقدامات اٹھائے جن کو مختلف طبقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا جھکائو عرب ممالک کی طرف زیادہ رہا اسی لئے انہوں نے نصاب میں عربی زبان کو شامل کیا۔ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انہوں نے مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کو آگے لانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ان طبقات کے ذریعے سے اپنی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔

سیاست کو دبایا گیا جس سے مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا۔ نئے مدارس بنے اور شریعہ قانون کو نافذ کیا گیا۔ کلچرل پالیسی بنائی گئی جس میں ڈراموں میں خواتین کیلئے اورخاتون نیوز کاسٹر کیلئے دوپٹہ پہننا لازمی قرار دیا گیا ۔ افغان جنگ بھی ان ہی کے دور میں ایک بڑا اہم موڑ تھا جب پاکستان ایک ایسی جنگ میں کود پڑا جس کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح پاکستان واضح طور پر روس کے خلاف امریکی کیمپ میں چلا گیا جس کے بدلے میں امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔

 طیب رضا عابدی

چین انڈیا سرحد پر کشیدگی کیوں ہے ؟

انڈیا، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انڈیا کی حکومت کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر ‘ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور موجودہ صورت میں اہم تبدیلی کا باعث’ ہے۔ دونوں ملک سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے منصوبوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چین میں ڈوگلام اور انڈیا میں ڈوكلام کہا جانے والا علاقہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کا اہم سب ہے۔

اپنے فوجی ہارڈویئر کی تجدید کے ساتھ ہی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سڑکوں، پلوں، ریل لنک اور فضائیہ کی بہتری کے لیے تعمیرات کے منصوبوں میں دونوں ہی نے کافی پیسہ لگایا ہے اور بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کو بھی جھونک رکھا ہے۔ بھارت کے ساتھ ملحق سرحد پر چین نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اپنی معروف صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس نے سرحد پر 15 بڑے ہوائی اڈوں اور 27 چھوٹی ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی ہے۔ ان میں سے سب سے خاص ہر موسم میں استعمال کیا جانے والا تبت کا ہوائی اڈہ ہے، جہاں اعلیٰ درجے کے جنگی طیاروں کو تعینات کیا گيا ہے۔

فضائی شعبے کے علاوہ، کچھ لوگوں کے مطابق چین کے تبت اور یونان صوبے میں وسیع سڑک اور ریل نیٹ ورک بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی فوج کے پاس اب صرف 48 گھنٹوں میں بھارت سے متصل چينی سرحد پر پہنچنے کی صلاحیت ہے۔ بعض خبروں کے مطابق، چین نے حقیقی کنٹرول لائن کے پاس 31 راستوں پر سڑکیں بنائی ہیں۔ اگرچہ چین نے اس شعبے میں ابتدائی برتری ضرور حاصل کر لی ہے تاہم انڈیا کی ایک ویب سائٹ ‘فرسٹ پوسٹ’ کے مطابق انڈیا بھی ‘گذشتہ چند سالوں میں نیند سے جاگ گیا ہے۔’

برسوں کی غفلت کے بعد، انڈیا بہت تیزی سے اپنی سرحدوں پر بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ چین کی برتری کے اثر کو کم کیا جا سکے۔ جولائی میں ایک بھارتی وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ انڈیا نے چین سے متصل سرحد پر 73 سڑکوں کو بنانے کی منظوری دی ہے لیکن ان میں سے اب تک صرف 30 ہی مکمل کی جا سکی ہیں۔ چین کا دعویٰ ہے کہ چین اور پاکستان کی سرحد پر وہ ’14 سٹریٹجک طور پر اہم ریلوے لائنیں’ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے مد نظر انڈیا اروناچل پردیش کے توانگ میں ریل لنک تعمیر کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔ مئی میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرقی ریاست آسام میں ملک کے سب سے طویل پل کا افتتاح کیا تھا تاکہ فوجیوں اور ساز و سامان کی فوری طور پر آمد و رفت میں آسانی ہو سکے۔

فضائی نقطۂ نظر سے انڈیا اروناچل کے توانگ اور دراگ میں دو ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ (اے ایل جی) بنانے کے ساتھ ہی شمال مشرقی علاقے میں پہلے سے تعمیر شدہ چھ اے ایل جی کو اپ گریڈ بھی کر رہا ہے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق انڈیا کے پاس چین کی سرحد کے مغربی اور مشرقی حصے سے ملحق 31 فضائی علاقے ہیں جن میں آسام کے چابا اور تتیج پور کا ائرپورٹ سب سے خاص ہے۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فضائی معاملے میں انڈیا کو چین پر برتری حاصل ہے، کیونکہ چین کے فضائی اڈے اونچائی پر ہیں جہاں فوجی رسد اور ایندھن کو پہنچانا آسان نہیں ہوتا۔ لڑائی کی صورت میں تیزی سے جواب دینے کے لیے اعلیٰ درجے کے بنیادی ڈھانچے کافی مدد گار ہو تے ہیں۔ اسی لیے انڈیا اور چین متنازع سرحدی علاقوں میں سٹریٹجک ایڈوانٹیج حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے تعمیراتی کام پر نظر رکھتے ہیں اور جب بھی ایسے بڑے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے تو اکثر کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔

پی ایل اے اکیڈمی آف ملٹری سائنس میں رسرچر چاو شيازو چین کی سڑک کی تعمیر پر انڈيا کے خدشات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ انڈيا کی جانب سے منظور کردہ حالیہ منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بات آتی ہے تب انڈيا دہرے معیار اپناتا ہے۔ انڈین فوج کے ایک سابق افسر کہتے ہیں: ‘شاید 20 سال لگیں گے، لیکن ایک بار جب ہم چینی سرحد کے نزدیک اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کر لیں گے تب ہم بہتر مواصلاتی رابطوں سے لیس ہوں گے اور تنازعات پر بے فكر رہیں گے۔ لیکن ابھی نہیں۔’ انڈیا کا اپنے دفاعی بنیادی ڈھانچے میں توسیع کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا سٹریٹجک تبدیلی پر کتنا زور ہے۔

اس نئی منطق کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی امور کے ماہر کے وی کبیر کہتے ہیں کہ نیا بنیادی ڈھانچہ انڈيا کو چین کی جانب سے ہونے والی کسی بھی جرات آزمائی کا جواب دینے میں مدد ملے گی۔ لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے برابر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں انڈیا کو ابھی ایک دہائی کا وقت لگے گا۔ چین اس علاقے میں اپنے موثر نقل و حمل کے نیٹ ورک کو زور شور سے دکھاتا رہا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق چین کی تیز رفتار اور لاجسٹکس صلاحیت کا انڈیا سے کوئی میل نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ تبت میں لائیو فائرنگ ڈرل انڈیا کو دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاکہ چین کے بہتر بنیادی ڈھانچے کا پیغام دیا جا سکے۔

شنگھائی انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایک ماہر وانگ ڈیہو کا کہنا ہے کہ فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت اس بات کی مظہر ہے کہ چین کی مغربی حدود کی حفاظت کرنا کتنا آسان ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی فوج کے ماہر سری کانت كوڈاپلّی کا کہنا ہے کہ فوج کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی صورت میں انڈيا کو برتری حاصل ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور رسد کی فراہمی کے معاملے میں چین بہت مضبوط ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کیا کشمیر فلسطین بن جائے گا ؟

جب 1950 میں انڈیا کی پارلیمنٹ نے ملک کا آئین منظور کیا تو اس میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا۔ اس دفعہ کے تحت انڈیا کی کسی بھی ریاست کا شہری کشمیر میں زمین یا دوسری جائیداد کا قانونی مالک نہیں بن سکتا۔ کشمیر میں سرکاری ملازمت کے لیے عرضی نہیں دے سکتا اور مقامی حکومت کی سکالرشپ کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ لیکن شہری حقوق کی مزید وضاحت چار سال بعد انڈین آئین میں دفعہ 35-A کے تحت کی گئی۔ اس میں واضح کیا گیا کہ کشمیریوں کو پورے انڈیا میں شہری حقوق حاصل ہونگے لیکن دیگر ریاستوں کے انڈین باشندوں کو کشمیر میں یہ حقوق نہیں ہوں گے۔ دفعہ 370 کے تحت کشمیر کے حکمران کو وزیراعظم کہلایا جانا تھا اور ریاست کے سربراہ کو صدر کا عہدہ ملنا تھا۔

لیکن 1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد یہ عہدے باقی ریاستوں کی طرح وزیراعلیٰ اور گورنر کہلائے۔ تاہم شہریت کے خصوصی حقوق کو دفعہ 35-A کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ تین سال قبل جب انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی اور کشمیر میں بھی بی جے پی اقتدار کا حصہ بنی تو پورے ملک میں یہ بحث چھڑی کہ کشمیر کو انڈین وفاق میں مکمل طور پر ضم کرنے میں ہر بار 35-A ہی رکاوٹ ہے۔ آر ایس ایس کے قریب سمجھی جانے والی ایک رضاکار تنظیم ’وی دی سٹیزنز‘ نے سپریم کورٹ میں اسی دفعہ کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس پر سپریم کورٹ نے حمایتی ریمارکس کے بعد پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی بینچ قائم کیا ہے۔ انڈین حکومت اور بھاجپا کی قیادت کی طرف سے بھی یہ اشارے مل رہے ہیں کہ پورا سسٹم اس منفرد نظام کا خاتمہ چاہتا ہے۔

اسی وجہ سے کشمیر کے ہندنواز حلقے، سماجی اور تجارتی انجمنیں اور علیحدگی پسند قیادت آج کل مشترکہ مزاحمت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیر میں بھارتی ترنگا تھامنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ حزب مخالف کے رہنما فاروق عبداللہ نے بھی خطرناک نتائج سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ سماجی سطح پر اس اقدام کی مزاحمت کرنے والے معروف وکیل ظفرشاہ کہتے ہیں ’اگر یہ دفعہ سپریم کورٹ نے خارج کر دی تو کشمیر کو فلسطین بننے سے کون روکے گا۔ بڑی بڑی صنعتی کمپنیاں یہاں مہنگے داموں زمینیں خریدیں گے، لوگ یہاں آباد ہو جائیں گے، اور کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار اقلیت میں بدل دیا جائے گا۔‘

حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ طور گذشتہ ہفتے دفعہ 35-A کے حق میں ہڑتال کی کال دی تو جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی بھر میں عام زندگی معطل ہو گئی ۔ وزیراعلی بار بار یہ کہتی ہیں کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی نے یقین دلایا ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں ہوئی۔ سینیئر صحافی مزمل جلیل کہتے ہیں: “یہ ایک پیچیدہ آئینی مسئلہ ہے۔ لیکن سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہیں، ظاہر ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سیاسی ہی ہو گا۔‘

ریاض مسرور

بی بی سی اردو سروس سری نگر