صحت کیلئے بدترین سوشل میڈیا ایپ کونسی ہے؟

اگر آپ انسٹاگرام استعمال کرنا پسند کرتے ہیں تو بری خبر یہ ہے کہ اسے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرنے والی سب سے بدترین سوشل میڈیا ایپ قرار دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔ رائل سوسائٹی آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ فوٹو شیئرنگ ایپ نوجوانوں کی نیند سمیت مختلف منفی ذہنی اثرات مرتب کرتی ہے۔14 سے 24 سال کے لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد پر کیے گئے سروے کے مطابق سب سے بہترین سوشل میڈیا ایپ یو ٹیوب ہے جس کے بعد ٹوئٹر، فیس بک اور اسنیپ چیٹ بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ سوشل میڈیا ایپس جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ نوجوانوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں مدد دیتی ہیں، درحقیقت ذہنی صحت کے مسائل بڑھا رہی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ہر سوشل میڈیا سائٹ کو ذہنی بے چینی، ڈپریشن، تنہائی، نیند اور بدزبانی سمیت 14 صحت اور شخصی مسائل کے حوالے سے جانچا گیا۔ ریٹنگ کے لحاظ سے معلوم ہوا کہ انسٹاگرام سب سے منفی اثرات مرتب کرنے والی ایپ ہے، تاہم اسے جذبات کے اظہار اور اپنی شناخت بنانے کے حوالے سے بہتر قرار دیا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ فیس بک کا زیادہ استعمال نیند پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ بد زبانی کے حوالے سے سب سے آگے ہے تاہم یہ جذباتی معاونت اور برادری بنانے کے لیے مثبت ہے۔محققین کے مطابق سوشل میڈیا سیگریٹ سے زیادہ لت بننے والی عادت ہے جو کہ اب نوجوانوں کی زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب اس تحقیق پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انسٹاگرام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو محفوظ اور معاونت دینے والی جگہ بنانا چاہتی ہے۔

ون روڈ‘ ون بیلٹ…ترقی کا منصوبہ

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ان دنوں چین کے دورے پر ہیں‘ وفاقی
وزراء اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چینی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ اینڈ ون روڈ وژن کی حمایت کرتا ہے‘ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، سی پیک میں چین کی جانب سے 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے ترقی و خوشحالی آئے گی‘ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ‘ وہ بھی بات چیت سے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس دو طرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کی مزید صلاحیت موجود ہے‘ چین پاکستان کے ساتھ سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا فروغ چاہتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں سی پیک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان بھاشا ڈیم‘ گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر میں تعاون سمیت 50 کروڑ ڈالر کے 6 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

معاشی ماہرین چین میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آیندہ آنے والی چند دہائیوں میں چین دنیا کی معاشی سپر طاقت بن جائے گا۔ اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے چین عالمی سطح پر نئے تجارتی راستے تعمیر کر رہا ، اب اس  نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کا وژن پیش کیا ہے‘ اس منصوبے کے تحت چین کو ایشیا‘ افریقہ اور یورپ سے زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستوں سے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ یہ ترقی کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے چین اپنی معاشی ترقی اور تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے چین میں دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 130 ممالک سے 1500 مندوبین اور 29 سربراہان مملکت شریک ہو رہے ہیں۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو کے دو اہم حصے ہیں، ایک ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور دوسرا ’’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘‘ ہے۔

21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔ خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس تناظر میں یہاں چین اور بھارت دو بڑی معاشی قوت کی حیثیت سے ابھر رہی ہیں‘ ایک جانب چین پوری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنے کے لیے نئے نئے راستے تعمیر کر رہا تو دوسری جانب بھارت چین کو حریف تصور کرتے ہوئے اپنے الگ راستے تشکیل دے رہا ہے جن میں ایران میں چاہ بہار کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ فورم کے انعقاد پر چینی صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس منصوبے کی حمایت کر کے درست قدم اٹھایا۔ چین اس وقت پاکستان میں سی پیک منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے‘ چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہیں اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چینی توانائی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چینی حکام سے مل کر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے جو 9 سال میں مکمل ہو گا اس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ ایک اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ چین پاکستان میں تجارتی راستوں کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں جس قدر گہری دلچسپی لے رہا اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ آیندہ چند سالوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا جس سے یہاں اقتصادی اور صنعتی زونز کے قیام سے ترقی کا عمل تیز ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا اس سے اقتصادی ترقی اور خطے سے غربت کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی راہداری پر عملداری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ‘ توانائی اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس خطے میں ہونے والی ترقی سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے یہ ہمارے معاشی پالیسی سازوں کی کارکردگی کا بڑا امتحان ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

چین کا نیو انٹرنیشنل آرڈر

چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے افتتاحی خطاب میں نیو انٹرنیشنل آرڈر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت 60 ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، انھوں نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کے لیے مزید 124 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، چینی صدر نے منصوبے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اسے ’’صدی کا سب سے بڑا پراجیکٹ‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ ویژن امن و استحکام اور خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ کے ساتھ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے روابط قائم کیے جا رہے ہیں، انھوں نے کسی ملک اور دہشت گردی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ عناصر اس منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنا دیا جائے گا، ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، خطے کی ترقی کے لیے سلک روٹ فنڈ کو استعمال میں لایا جا رہا ہے، جنوبی امریکا کے ساتھ بھی تعاون کو بڑھایا جائے گا، گوادر بندرگاہ کو بھی ترقی دی جا رہی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری ترقی کی بنیاد بنے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اعلیٰ سطح کے ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے لیے کھلا ہے اور اس کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، اس منصوبے کی کوئی جغرافیائی سرحدیں نہیں ہیں، اختلافات سے بالاتر ہو کر بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کی میراث چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے، ون بیلٹ ون روڈ اقدام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ منصوبہ ہم سب کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہے۔

نیو انٹرنیشنل آرڈر اس صدی کا یقینا سب سے بڑا تحفہ ہے، اس آرڈر کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے اور ان کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات جنم لیں گے۔ گزشتہ صدی میں امریکا نے واحد سپر طاقت ہونے کے زعم میں جنگوں کا آغاز کیا بالخصوص مسلمان ممالک کو نشانہ بنایا گیا لیکن اب چین نے اکیسیویں صدی کو جنگ کے بجائے تجارت اور معیشت کی صدی بنانے کا اعلان کیا ہے جو یقینا پوری دنیا کے لیے ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا۔

امن اور خوشحالی کے اس منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے جس کا ذکر چینی صدر نے بھی کیا اور اس کا حل بھی بتایا کہ اسے اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے لہٰذا پاکستان یا کسی اور ملک کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کے بجائے پوری دنیا کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ خوش آیند بات ہے کہ سوائے چند ایک کے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کے منصوبے کی تمام دنیا نے حمایت کی ہے، اس منصوبے میں روس بھی خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اس سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے، ترکی چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے اور منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ روسی صدر کے خطاب کی سب سے زیادہ خوش آیند بات یہ ہے کہ انھوں نے یورپی یونین کے ممالک کو بھی بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں خوش آمدید کہا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ خوشحالی، امن اور ترقی کا نام ہے جس کے لیے دنیا سے غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ چین کا پیش کردہ ون بیلٹ ون روڈ فورم عالمگیریت کی ایک نئی شکل ہے جس کے تحت باہمی اور کثیرالجہتی تعاون فروغ پا رہا ہے، یہ منصوبہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو آپس میں ملا رہا ہے جس سے غربت کا خاتمہ یقینی ہو گا۔

جب یہ منصوبہ آگے بڑھے گا تو اس کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار اپنے وسائل اس میں لگانے کی دوڑ میں شریک ہو جائیں گے جس سے ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز اور تجارتی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان نیو انٹرنیشنل آرڈر سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

یہاں انصاف مانگنے سے ڈر لگتا ہے

ہمارے جاننے والے ایک صاحب ظہور احمد نے 1986 میں سینئر سول جج راولپنڈی کی عدالت میں وزارت دفاع وغیرہ کے خلاف ایک سول مقدمہ قائم کیا۔ یہ مقدمہ مدعی کی زمین کے قبضہ سے متعلق تھا۔ برسوں عدالت کے چکر لگا کر اُن کی ملکیت ثابت ہوئی جبکہ قبضہ وزارت دفاع کے پاس ہی رہا۔ اس قبضہ کے خلاف مدعی ایڈیشنل سیشن کورٹ گئے جہاں سینئر سول جج کا فیصلہ برقراررکھا گیا۔ 1999 میں ظہور صاحب نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی کہ اُن کی زمین یا انہیں واپس کی جائے یا محکمہ اُسے باقاعدہ ایکوئر کر لے۔ کبھی ایک بہانہ تو کبھی دوسرا، مقدمہ لٹکتا رہا اور پھر آخر کار 2002 میں ہائی کورٹ نے ظہور احمد صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

محکمہ کو حکم ملا کہ یا تو مارکیٹ کے مطابق مدعی کو پیسہ دو یا زمین واپس کر دو۔ لیکن محکمہ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ 2004 میں سپریم کورٹ نے محکمہ کی پہلے اپیل خارج کی پھر جب ریویو پٹیشن فائل کی گئی اُسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ تقریباً اٹھارہ سال عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر کار ظہور احمد کو انصاف ملا لیکن محکمہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد سے لیت و لعل شروع کر دی۔ وکیلوں نے کہا کوئی بات نہیں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ہائی کورٹ چلتے ہیں۔ بچارے ظہور احمد کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا اور پھر اُسی سال (یعنی 2004) میں ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے درخواست دے دی۔

پھر وہی وکیل، وہی، عدالتیں اور روز روز کچہری کے چکر۔ آخر کار 2012 میں ہائی کورٹ نے مدعی کے حق میں فیصلہ دے دیا جس کے نتیجہ میں متعلقہ محکمہ نے مدعی کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق پیسہ دینے کے لیے دفتری کارروائی شروع کر دی۔ مدعی کو اب یقین تھا کہ اب تو کوئی رکاوٹ نہیں رہی، سپریم کورٹ کا اُن کے حق میں فیصلہ آ چکا اور اب تو ہائی کورٹ نے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے حکم بھی صادر کر دیا۔ عمل درآمد کے انتظار میں دو سال اور گزر گئے اور پھر اچانک 2014 میں مدعی کو سیشن کورٹ کا نوٹس ملا اور اس بار متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے کیس دائر کیا کہ مدعی زمین سے ملکیت کے بارے میں ثبوت دے کہ وہی زمین کا مالک ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہی محکمہ مال مدعی کی ملکیت کے حق میں گواہی دیتا رہا لیکن اب پھر کسی کو خیال آیا کیوں نہ یہ قانونی گُر چلا جائے اس سے مقدمہ کم از کم بیس تیس سال کے لیے اور لٹک جائے گا۔

2014 کی اس قانونی چال کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے مدعی نے ایک بار پھر 2014 میں ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا۔ تین سال گزر گئے اور معاملہ ابھی ہائیکورٹ کے سامنے ہی ہے۔ ان تین برسوں میں اب تک ہائی کورٹ نے اس معاملہ پر مقدمہ کو ایک ہی بار سنا۔ اس مقدمہ کا ایک اہم پہلو ہے کہ ظہور احمد اس مقدمہ کو عدالتوں میں لڑتے لڑتے 2013 میں فوت ہو چکے جس کے بعد اُن کا 45 سالہ بیٹا اس مقدمہ کی پیروی کر رہا ہے۔ ایک نسل گزر گئی اور نہیں معلوم کہ دوسری نسل کے نصیب میں بھی انصاف دیکھنا ممکن ہو گا بھی یا نہیں۔ ہمارے ایک اور جاننے والے عبدالقیوم صاحب گزشتہ 15-20 سال سے سی ڈی اے کے ساتھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ بازی میں مشغول ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُ ن سے سی ڈی اے نے زمین ایکوائر کی جس پر وہ ایگرو پلاٹ لینے کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کے گزشتہ دو دہائیوں سے چکر لگا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کے اُن کے حق میں سب سے پہلے وفاقی محتسب نے فیصلہ دیا پھر بار بار ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں انہوں نے محکمہ کے ساتھ مقدمہ لڑا اور جیتا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کل سات مقدمات کا اُن کے حق میں فیصلہ ہو چکا لیکن اس کے باوجود وہ پھر عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ عمل درآمد کے لیے سی ڈی اے کو کہہ چکی لیکن عمل درآمد ہو نہیں رہا۔ کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم ہاوس کا ایک ڈرائیور میرےگھر ملنے آیا۔ وہ بچارا روتے روتے مجھے بتا رہا تھا وہ چار بیٹیوں کا باپ ہے۔ اُس نے اپنی زندگی کی کمائی سے کوئی دس بارہ سال پہلے ایک پلاٹ خریدا اور سی ڈی اے میں متعلقہ پلاٹ کے مالک نے اپنے حق میں بیان بھی دلوا دیا۔ لیکن بعد میں اُسے عدالت سے نوٹس آ گیا کہ اُس پلاٹ کو کسی اور کو بھی بیچا گیا۔ اُس ڈرائیور کے مطابق اس مقدمہ میں اُس کا مد مقابل کوئی ایک وکیل ہے جس کا کہنا ہے کہ اُس نے یہ پلاٹ میرے ایک مرحوم قریبی عزیز سے لیا تھا جس کی وجہ سے اُس ڈرائیور نے مجھ سے مدد کی درخواست کی۔

ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کو درخواست دے دے کر تھک چکا کہ اس کے مد مقابل پارٹی کی درخواست جھوٹی ہے ، حتیٰ کہ دستخط بھی جعلی ہیں لیکن مقدمہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ڈرائیور بچارے نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اپنے عزیز سے درخواست کروں کہ وہ عدالت کو کم از کم یہ بتا دے کہ اس کیس سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ بات جب میں نے اپنے عزیز کو کہی تو اُس نے کہا ڈرائیور کا کیس جائز لگتا ہے لیکن وہ بلا وجہ عدالت کے چکروں میں پھنس کر اپنی زندگی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ نجانے کتنا عرصہ غریب ڈرائیور عدالتوں کے چکر لگاتا رہے گا۔ افسوس کہ اتنے سادہ سے مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ہماری عدالتوں کو برسوں اوردہائیوں لگ جاتے ہیں۔ ان چند مثالوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد پاکستان کے عدالتی نظام کی اُس ناکامی کو اجاگرکرنا ہے جس کے باعث عدالتوں کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن نہیں رہا۔

اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ عدالت کا نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ عدالتیں نہ صرف انصاف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں بلکہ یہ عدالتی نظام مظلوم کی بجائے ظالم کے ظلم کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ کسی بھی مقدمہ میں اگر کوئی عدالت میں چلا گیا تواس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ لٹک گیا۔ حال ہی میں پیمرا کے چئیرمین ابصار عالم نے کہا کہ کس طرح اس ادارہ کی رٹ کو ٹی وی چینلز نے سینکڑوں عدالتی اسٹے آرڈرز کے ذریعے بے بس کر دیا۔ نوے کے عشرے میں اسلام آباد میں ہمارے ایک ہمسایہ نے نیا گھر بنایا اور کرائے پر دیا۔ کرائے دار نے گھر میں گھستے ہی اعلان کر دیا کہ وہ کرایہ دار نہیں بلکہ گھر کا مالک ہے۔ اس پر اصل مالک سٹ پٹا اٹھا اور نقلی مالک مکان کو کہنے لگا کہ تم کس طرح یہ بات کر سکتے ہو جس پر اصل مالک کو جواب ملا کہ جو بات ثابت کرنی ہے عدالت میں کرو۔ اور یوں معاملہ کچھ سال عدالت میں چلتا رہا اور جب نقلی مالک مکان کا وہاں جی بھر گیا تو بغیر کرایہ دیے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔

2011 میں سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پارک اینکلیو نام کا ایک سیکٹر کھولا اور اس کے پلاٹ مارکیٹ ریٹ سے بیچے۔ وعدہ کیا گیا کہ 2013 میں خریداروں کو پلاٹوں کا قبضہ مل جائے گا لیکن آج 2017 میں بھی پچاس ساٹھ الاٹیوں کو ادائیگیوں کے باوجود پلاٹ مہیا نہیں کیے گے۔ ان متاثرین کی جب سی ڈی اے سے بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کیا کریں عدالتوں نے اسٹے آرڈر دیے ہوئے ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں زمینوں، کاروباری لین دین، جائیداد وغیرہ کے معاملات جب عدالتوں میں چلے جاتے ہیں تو پھر معاملہ برسوں ، دہائیوں کے لیے لٹک جاتا ہے۔ اس صورتحال میں دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ مظلوم عدالت چلے جائیں کیوںکہ قانونی جنگ لمبی چلے گی اور اب تو انصاف کے حصول کے لیے وکیل پیسہ بھی بہت مانگتے ہیں۔ یہ صورتحال غریب، متوسط اور مظلوم طبقہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے اور اسی لیے عمومی طور پر لوگ عدالت جانے سے ڈرتے ہیں۔ چند روز قبل محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے انصاف کی جلد فراہمی اور موجودہ عدالتی نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اللہ کرے وہ اس میں کامیاب ہوں ورنہ پاکستان میں عدالتوں اور انصاف کا حال بہت ہی بُرا ہے۔

انصار عباسی

عالمی رینسم ویئر حملہ، سو ممالک میں ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا یرغمال

سائبر سیکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نامعلوم ہیکروں کی جانب سے گزشتہ روز انٹرنیٹ کی تاریخ میں ’’رینسم ویئر‘‘ کی سب سے بڑی کارروائی کی گئی جس میں برطانیہ، روس، یوکرین، تائیوان، بھارت، چین، اٹلی، مصر، اسپین اور امریکا سمیت اب تک 100 ملکوں میں کمپیوٹروں پر 45000 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہزاروں افراد اور چھوٹے بڑے اداروں کے کمپیوٹروں پر موجود ڈیٹا لاک ہو چکا ہے جس تک رسائی کا پاس ورڈ فراہم کرنے کے لیے نامعلوم ہیکروں نے متاثرہ افراد/ اداروں سے فی کس اوسطاً 300 ڈالر کا تاوان ڈیجیٹل کرنسی ’’بِٹ کوائن‘‘ (Bitcoin) کی شکل میں طلب کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان سائبر حملوں میں امریکا کی ’’نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی‘‘ (این ایس اے) میں تیار کیے گئے خفیہ ’’سائبر ہتھیار‘‘ تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ’’سائبر ہتھیار‘‘ یا دشمن کے انفرادی کمپیوٹر اور کمپیوٹر نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والے سافٹ ویئر پچھلے سال ہیکروں نے این ایس اے کی آن لائن ہارڈ ڈسک اسٹوریج سے چوری کیے تھے۔

تب سائبر سیکیوریٹی کے غیر جانبدار ماہرین نے شدید تشویش ظاہر کی تھی لیکن امریکی حکومت نے یہ معاملہ دبا دیا تھا اور ان سائبر ہتھیاروں کی تفصیلات جاری کرنے سے بھی گریز کیا تھا۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ رینسم ویئر کے تازہ ترین حملوں میں ہیکروں کا کونسا گروپ ملوث ہے اور اس کا تعلق کس ملک (یا کن ممالک) سے ہے لیکن اس سے روس، یوکرین اور تائیوان شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد برطانوی ہسپتالوں میں مریضوں کا ڈیٹا بھی نامعلوم ہیکروں کے رحم و کرم پر ہے۔ امریکا کی نیشنل ہیلتھ سروس بھی اس رینسم ویئر حملے کی زد میں آچکی ہے جبکہ اسپین میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کے کمپیوٹرز اس حملے کی زیادہ زد میں آئے ہیں۔ روسی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ روس میں ان حملوں سے لگ بھگ 1000 کمپیوٹرز متاثر ہو چکے ہیں۔

سائبر سیکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرمعمولی طور پر بڑے پیمانے کے ان حملوں کا مقصد کسی خاص ملک یا کسی خاص ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ رینسم ویئر کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹروں تک پھیلانے پر کام کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تاوان کی اوسط رقم بہت کم یعنی صرف 300 ڈالر طلب کی گئی ہے جبکہ تاوان کے مطالبے کا پیغام 28 مختلف زبانوں میں ہے۔ تاہم اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں ہیکرز اسی رینسم ویئر کو مزید تبدیلیوں کے بعد مخصوص اور بڑے اداروں پر سائبر حملوں کے قابل بنا لیں۔ اسی بناء پر سائبر سیکیوریٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسی نوعیت کے رینسم ویئر کا زیادہ بڑا اور زیادہ شدید حملہ مستقبل میں کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ سائبر حملوں میں WanaCryptor 2.0 یا WannaCry کہلانے والا رینسم ویئر استعمال کیا گیا ہے جو ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں سیکیوریٹی کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کارروائی کرتا ہے جبکہ یہ خاص طور پر ونڈوز ایکس پی والے کمپیوٹروں کےلیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ مائیکروسافٹ نے اس آپریٹنگ سسٹم کےلیے سپورٹ اپریل 2014 میں بند کر دی تھی لیکن یہ آج بھی دنیا بھر کے کروڑوں کمپیوٹروں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بحریہ ٹاؤن حادثہ : ‘زندگی ہمیشہ کیلیے بدل گئی، کہتے ہیں معاوضہ لے لیں’

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بحریہ انکلیو میں نجی ٹی وی چینل
اے آر وائی کے عید شو کے دوران سٹیج گرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس معاملے پر چیف جسٹس نے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس سے 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دوسری جانب سات متاثرین خاندانوں نے ایک پریس کانفرنس میں اے آر وائی کے سلمان اقبال اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف دیوانی اور فوجداری مقدمات چلانے کا اعلان کیا ہے۔ آج تھانہ نیلور میں ایف آئی آر بھی درج کرائی جا رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سماجی کارکن جبران ناصر نے متاثرہ خاندان کی طرف سے اس معاملے پر اے آر وائی کی بدانتظامی اور سوشل میڈیا پر بدنامی کے بعد متاثرین کو معاوضہ دینے کی پیشکش اور پولیس، بحریہ ٹاون اور میڈیا کی خاموشی پر 13 سوالات اٹھائے۔

اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر سرگرم کارکن احتشام منظور نے بتایا: ‘میں نے اس واقعے سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کو بھی آٹھ مئی کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا۔ متاثرین کا ڈیٹا بھی بھیجا۔ جوابی ای میل میں یقین دلایا گیا کہ چھان بین ہو گی مگر ایسا نہیں ہوا۔’ 28 اپریل کو بحریہ انکلیو میں اے آر وائی عید کے لیے ایک شو ریکارڈ کر رہا تھا جب ریکارڈنگ کے دوران تقریباً 20 فٹ اونچا سٹیج گر گیا۔ اس تقریب کے لیے تین سے چار ہزار کے قریب لوگ موجود تھے۔ اس واقعے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہیں۔ جن میں بیشتر شدید زخمی ہیں۔ کسی کی کمر کی ہڈی ٹوٹی ہے تو کسی کا بازو زخمی ہے۔

ٹی وی شو کی ریکارڈنگ میں شرکت کرنے والے ذوالقرنین حمید اپنی بیوی کے ہمراہ شو کے لیے بحریہ گئے تھے۔ حادثہ میں ان کی بیوی کی ریڑھ کی ہڈی اتنی زخمی ہو گئی ہے کہ اب ان کا پیشاب پر کنٹرول نہیں۔ واقعہ کے تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘آپ ان کا ظلم دیکھیے کہ حادثے کے بعد اے آر وائی کے منتظمین نے لائٹ بند کر دی۔ جب ہم سٹیج سے گرے تو میں اپنی بیوی کی مدد نہیں کر سکا کیونکہ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ چار ہزار لوگوں کو جمع کیا ہوا تھا اور ایمبولینس صرف ایک۔ اگر لائٹ نہ بند ہوتی تو کتنے لوگوں کی ٹانگیں یا بازو بچ سکتے تھے؟’

لیکن ان کی پریشانی یہاں ختم نہیں ہوئی ۔ انھوں نے بتایا: ‘پمز نے تمام ایکسرے کرنے کے بعد کہا معمولی چوٹیں ہیں بیوی کو گھر لے جاؤ مگر گھر آنے کے بعد بھی تکلیف ختم نہیں ہوئی۔ ایک ہفتے بعد جب دوبارہ دوسرے ہسپتال میں ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے بتایا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اتنا اثررسوخ کہ پمز نے داخل نہیں کیا۔ اب کہتے ہیں کہ معاوضہ لے لیں۔ میری بیوی اپنے بچوں کو اب گود نہیں لے سکے گی، وہ حکومتی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ان کی زندگی تو ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے اب کہتے ہیں معاوضہ لے لیں؟’

احتشام منظور کی جانب سے انٹرنیٹ پر ڈالی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائٹ بند ہونے کے بعد اندھیرے میں متاثرین چلا رہے ہیں کہ لائٹ کھولو۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تقریباً دو ہفتے تک اے آر وائی اور بحریہ ٹاؤن نے معاملات دبانے کی کوشش کی۔ مقامی ٹی وی چینلوں نے خبر کو تب تک جگہ نہیں دی جب تک انٹرنیٹ پر سماجی کارکنان نے اس زیادتی کی طرف عوام کی توجہ نہیں دلائی اور میڈیا پر الزام نہیں لگایا کہ وہ بحریہ ٹاؤن اور اے آر وائی کے دباؤ کی وجہ سے ان بڑے مالکان کے خلاف خبر نہیں دے رہا۔

کانفرنس کے دوران جبران ناصر نے کہا: ‘ہم الزام نہیں لگا سکتے، اس لیے پاکستانی شہری ہونے کے ناطے سے سوالات پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان شہریوں کی جان کی کوئی اہمیت نہیں؟’ انھوں نے بتایا: ‘آدھے لوگ ڈھائی ہزار کا ٹکٹ لے کر شو میں گئے تھے تو آدھے اے آر وائی کے سہولت کارڈ کی وجہ سے مدعو کیے گئے تھے۔ ساتھ میں شرکا کو رجسٹر کرنے کو بھی کیا گیا۔’ انھوں نے سوال اٹھائے کہ ‘کیا یہ خاندان جائز پاس پر نہیں گئے تھے ؟ کیا ٹی وی چینل کے ساتھ پہلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا جو اس حادثے کے بعد متاثرین سے رابطہ نہ ہو سکا؟’

انھوں نے مزید کہا: ‘جن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہے یا جو اب کبھی نہیں چل پائیں گے ان کی ذمہ داری کون لے گا؟ بحریہ اور اے آر وائی نے سوشل میڈیا پر شور مچنے سے پہلے متاثرین سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ کیا لوگوں کو شو پیس کے طور پر بلایا گیا؟ کیا شہری انتظامیہ کے پاس کوئی پالیسی ہے جب اتنے لوگوں کو جمع کرنے کی اجازت دی جاتی ہے؟ ایمرجنسی پلان کیا تھا ڈاکٹرز ، ایمبولینس کتنی تھیں؟ لائٹ کیوں بند کی گئی؟ انھی میڈیا رپورٹوں کے ردِعمل میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔

ارم عباسی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کلبھوشن جادھو کب مرے گا ؟

منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ ، واہگہ پہ ٹانگیں پھیلا کر مر گیا ، ایک ٹانگ، ہندوستان میں اور ایک پاکستان میں ، انیکس دی آف دی بے دھیاناں دی آف دی انڈیا اینڈ پاکستان گورنمنٹ دی در فٹے منہ ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ، تھا ، نہیں تھا، کہاں تھا، دونوں ملک وسائل سمیٹنے اور اپنے اندر کے غوری اور پرتھوی کو شاد کرنے میں ایسے گم ہوئے کہ کسی کو یاد بھی نہ رہا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ صاحبو! یہ ہندوستان ، پاکستان کی کہانی ، اتنی عجیب ہے، اتنی تکلیف دہ اور جذباتی کہ اس کو بیان کرتے کرتے اچھا بھلا انسان ، بشن سنگھ بن جاتا ہے۔ پچھلے ستر سال پہ نظر ڈالیں تو آگ اور خون، سازشوں، خباثتوں سے لکھی ایک طویل داستان ہے، جس میں ہر قدم پہ انسان خسارے میں نظر آئے گا۔ دونوں ملک اپنی اپنی، خود ساختہ کامیابیوں پہ خوش اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسرے ملک کو ٹھہرا کے نفرت کی اس بھٹی میں مزید انسانوں کا ایندھن جھونکے جا رہے ہیں۔

کلبھوشن جادھو کو سال بھر سے زیادہ عرصہ ہوا، بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ اس نے ہندوستان کے لئے جا سوسی کرنے کا الزام بھی قبول کیا۔ کلبھوشن کو سزائے موت سنا دی گئی۔ ان ہی دنوں پاکستان کے وہ آفیسر جن کی کو ششوں سے کلبھوشن پکڑا گیا تھا، نیپال گئے اور مبینہ طور پہ ہندوستان نے ان کو اغواء کر لیا۔ شطرنج کی بساط پہ ، شتر کے بدلے شتر اٹھا لیا گیا۔ چال کے بدلے چال چلی جارہی ہے۔ کافوری سروں والے بڈھے، چشمے چمکاتے، بلغمی آوازوں میں کھنکھارتے، تجزیے کرتے ہیں، کان کھجاتے ہیں ، ناک کی پھننگ پہ نظر جما کے دنیا کے نقشے کو ٹٹولتے ہیں اور آنے والے وقت میں نظریں گاڑ کے پیش گوئیاں کرتے ہیں ۔

دونوں طرف کے عوام، پاپ کارن کے تھیلے لئے، پھانسی ہو گی، پھانسی نہیں ہو گی کہ منتظر ہیں۔ عالمی عدالت، قیصرکی طرح اپنا انگوٹھا دبائے بیٹھی ہے، آر یا پار۔ گلیڈی ایٹرز کے خیال سے نکلیے۔ پاکستان اور ہندوستان، دو سیاسی جماعتوں کے نظریات تھے۔ مسلم لیگ، مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کہتی تھی، جب کہ کانگریس، مسلمانوں کو صرف ہندوستانی کہتی تھی۔ یعنی، اختلاف ایک نظریاتی اور سیاسی سوچ کا ، بہت تکنیکی سا مسئلہ تھا۔ جو کہ آزادیء ہند کا ایک ذیلی معاملہ تھا۔ اصل مسئلہ، ہندوستان کی آزادی تھی۔ آزادی کا پروانہ ملنے کے بعد ، اگلا مرحلہ تھا تقسیم کا۔ آزادی انگریز نے دینی تھی، دے دی، تقسیم بھی کچھ کہہ سن کر کرا دی گئی تھی۔

یعنی سب کچھ عوام کے منتخب نمائندوں کی مرضی سے ہوا۔ اس ایجنڈے میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ مسلم، یا ہندو اقلیتیں اپنے گھر بار چھوڑ کے اکثریتی علاقوں کی طرف چلی جائیں گی۔ فسادات کیوں ہوئے ، اس کے بارے میں ہزار روایات ہیں اور کوئی بھی روایت ، نہ سچی ہے نہ جھوٹی۔ مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جتنا خون ان فسادات میں بہا ، اتنا خون، دونوں ملکوں کے درمیان بپا ہونے والی، تینوں جنگوں میں بھی نہیں بہا۔ فسادات میں ڈنڈے، درانتیاں، کسیاں، کرپانیں ،تلواریں اور چھریاں استعمال کی گئیں۔ نہ ایٹم بم چلایا گیا اور نہ ہی ،توپیں چڑھیں ۔ نہ طبلِ جنگ بجا۔ ہاں دونوں ملک، آزاد ہو گئے اور عوام نے اپنی اپنی آزادی کا ثبوت ایسے دیا کہ حیوان بھی شرما گیا۔

وہ دن جاتا ہے آج کا دن آتا ہے، کشمیر کا مسئلہ، ہو، بنگال ہو، خا لصتان کی تحریک ہو، یا بلوچستان میں پھیلائی گئی بد امنی، دونوں ملکوں کے درمیان معاملات الجھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔غریب عوام اپنے اپنے پیٹ کاٹ کر افواج کے سفید ہاتھی پال رہے ہیں۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ دونوں ملکوں میں دائیں بازو کی جماعتیں حکومت بنائے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے حالات دیکھ کر لگتا ہے، پاکستان ناگزیر تھا اور پاکستان کے حالات دیکھ کر لگتا ہے، ہم ہیں خوامخواہ اس میں۔

مظفرآباد میں پاکستانی عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کے خلاف حکم امتناعی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے عوام، کلبھوشن کے لئے شدید جذباتی ہوئے ناخن چبا رہے ہیں، مرے گا، بچے گا، مرے گا ، بچے گا۔ ممکن ہے سٹہ بھی کھیلا جا رہا ہو۔ مگر یہ صرف مجھے معلوم ہے کہ کلبھوشن کب مرے گا۔ جی ہاں، کلبھوشن کو پھانسی بھی دے دی جائے گی تو وہ نہیں مرے گا، کیونکہ وہ ایک انسان نہیں سوچ ہے۔ ہمسائے کے گھر میں آگ لگانے کی سوچ۔ جھوٹے قومی وقار کی سوچ، سرحدوں اور انسانی معاہدوں کے احترام نہ کرنے کی سوچ۔

سوچ کو پھانسی پہ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ کلبھوشن یادو، صرف اس وقت مریں گے جب ہم عوام، گلیڈی ایٹرز کا یہ کھیل دیکھنے سے تائب ہو جائیں گے، ورنہ بشن سنگھ وہیں پڑا رہے گا اور زبانِ حال سے پکار پکار کے کہتا رہے گا،’ انیکس دی آف دی بے دھیانا دی، مونگ دی دال دی، پاکستان اینڈ انڈیا دی در فٹے منہ۔’

آمنہ مفتی
مصنفہ و کالم نگار

سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ؟

یوروپول کے سربراہ روب وین رائٹ کے مطابق جمعے کے دن سے ہونے والے سائبر حملوں نے 150 ممالک میں دو لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔ یوروپول یورپی یونین میں قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ انہوں کے مطابق سائبر حملوں کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں وائرس کی مدد سے استعمال کنندگان کی فائلوں پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ادائیگیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان سائبر حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ برطانیہ اور روس بنے ہیں۔ حملہ رینسم ویئر کمپیوٹر وائرس کا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین انہیں مشترکہ حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بہت بڑا حملہ ہے۔ معروف اینٹی وائرس سافٹ ویئر ’’ایواسٹ‘‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا بھی یہی خیال ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کا تعلق ایک ہیکر گروپ سے ہے جس کا نام ’’دی شیڈو بروکرز‘‘ بتایا جاتا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ معروف کمپنی مائیکروسافٹ کمپنی نے کچھ عرصہ قبل میں اسی طرح کے حملے سے بچنے کے لیے پیکیج اور اپ ڈیٹ جاری کی تھی لیکن بہت سے کمپیوٹروں میں یہ انسٹال نہیں ہوئی۔ دنیا میں سائبر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اسے راز معلوم کرنے، رقم بٹورنے اور دشمن ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف ممالک ایک دوسرے پر ان حملوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان میں روس، چین، امریکا اور ایران قابل ذکر ہیں۔ تاہم متعدد بار یہ کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔

عبدالحفیظ ظفر

کیا آپ کا کمپیوٹر بھی خطرے میں ہے ؟

دنیا بھر میں ہونے والے سائبر حملے کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے رینسم ویئر کے مزید کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور تنظیم، ادارے، کمپنیوں اور عام لوگ کس طرح ان حملوں سے اپنے كمپيوٹروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

یہ حملہ کس پیمانے پر کیا گیا؟

رینسم ویئر ایک ایسا پروگرام ہے جو کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دیتا ہے اور پھر بغیر تاوان ادا کیے صارف کی مشکل دور نہیں ہوتی۔ یورپی یونین کی پولیس يوروپول کے مطابق رینسم ویئر کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن ‘وانا كرائی’ وائرس کا یہ حملہ اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اتوار کو یہ بتایا گیا کہ اس وائرس نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا ہے تاہم خدشہ یہی ہے کہ پیر کو جب لوگ دفاتر میں اپنے کمپیوٹرز کھولیں گے تو یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

رینسم ویئر وائرس کی کئی اقسام ہیں اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انھیں بھی نئی زندگی ملتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کو یہ حملہ جھیلنا پڑا تھا لیکن اختتام ہفتہ پر برطانیہ میں صحت کے شعبے سے منسلک ٹرسٹ کی مشینیں دوبارہ کام کرنے لگیں تاہم این ایچ ایس نے اب تک یہ معلومات نہیں دی ہیں کہ انھیں کیسے دوبارہ کارآمد بنایا گیا۔ تاوان طلب کرنے والا یہ وائرس بنانے والے افراد کے لیے بہت زیادہ منافع بخش ثابت نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے ہر متاثرہ مشین تک رسائی دینے کے لیے 300 بِٹ کوائنز کا مطالبہ کیا تھا اور جب بی بی سی نے ان کے ورچوئل بٹوے پر نظر ڈالی تو اس میں 30 ہزار بٹ کوائنز ہی جمع کروائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تر متاثرین نے ہیکرز کو رقم ادا نہیں کی۔

کیا آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟

‘وانا كرائی’ وائرس صرف ان كمپيوٹرز کو اپنا شکار بناتا ہے جو ونڈوز آپریٹنگ نظام استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی ونڈوز اپ ڈیٹ نہیں کرتے، ای میل کھولتے یا پڑھتے وقت احتیاط نہیں برتتے تو آپ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ گھریلو صارفین کے كمپيوٹرز کے اس حملے کا شکار ہونے کے امکانات نسبتاً کم بتائے جاتے ہیں۔ آپ اپنا آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ کر کے، فائر والز اور اینٹی وائرس کا استعمال کر کے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آپ اپنے ڈیٹا کو باقاعدگی سے بیک اپ کریں تا کہ متاثر ہونے کی صورت میں آپ بغیر تاوان ادا کیے اپنے سسٹم کو اس کی مدد سے بحال کر سکیں۔ رینسم ویئر کا شکار ہونے والے افراد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تاوان کی رقم دینے پر بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آپ کی فائلز ان لاک ہو جائیں گی۔

سائبر حملہ اتنی تیزی سے کس طرح پھیلا؟

اس رینسم ویئر کا نام ‘وانا كرائی’ ہے۔ بظاہر اسے ’وارم‘ نامی ایک کمپیوٹر وائرس کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے۔ دوسرے کمپیوٹر وائرسز کے برعکس ‘وانا كرائی’ خود بخود ایک نیٹ ورک میں پھیل جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دیگر وائرس پھیلاؤ کے معاملے میں انسانوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ان میں کسی ای میل کے ذریعے لوگوں کو ایک لنک پر کلک کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔ ایک بار ‘وانا كرائی’ آپ کے نیٹ ورک میں داخل ہو گیا تو وہ ایسی مشینوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے جنھیں شکار بنایا جا سکتا ہے۔

اس رینسم ویئر سے بچا کیوں نہ جا سکا؟

مارچ میں مائیکروسافٹ نے اپنے ونڈوز آپریٹنگ نظام کی وہ کمزوریاں دور کرنے کے لیے ایک مفت ‘پیچ’ جاری کیا تھا جن سے رینسم ویئر فائدہ اٹھا سکتا تھا۔

‘وانا کرائی’ ایسی ہی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کمزوری کی نشاندہی امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی نے کی تھی۔ جب اس کمزوری کی تفصیلات افشا ہوئیں تو بہت سے سائبر ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اس کا نتیجہ ایک نئے رینسم ویئر کی تیاری کی شکل میں نکل سکتا ہے اور ان کی یہ پیشنگوئی دو ماہ میں ہی درست ثابت ہو گئی۔

ابتدا میں خیال تھا کہ اس کا نشانہ بننے والے ونڈوز ایکس پی استعمال کر رہے تھے جو کہ ونڈوز کا پرانا آپریٹنگ نظام ہے تاہم سرے یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی کے ماہر ایل وڈورڈ کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ایسے صارفین کی تعداد بہت کم ہے۔ بڑی تنظیمیں اپنے آپریٹنگ نظام میں کوئی بھی سکیورٹی ‘پیچ’ انسٹال کرنے سے قبل اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ وہ ان کے موجودہ نیٹ ورک سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں اور یہی ان کے انسٹال کیے جانے میں تاخیر کی وجہ بنتی ہے۔

حملے کے پیچھے کون لوگ ہیں؟

فی الحال اس بارے میں مصدقہ معلومات موجود نہیں لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی انتہائی پیچیدہ سافٹ ویئر نہیں ہے۔ وہ ‘کِل سوئچ’ جس سے اس کا پھیلاؤ روکا گیا، اسے سائبر سکیورٹی کے ایک محقق نے اچانک ہی دریافت کیا اور ممکنہ طور پر اس کا مقصد پکڑے جانے پر وائرس کا کام بند کر دینا تھا۔

سائبر مجرموں کے لیے رینسم ویئر ایک پسندیدہ ہتھیار ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ تیزی سے رقم کما سکتے ہیں اور بٹ کوائن جیسی ورچوئل کرنسی کی وجہ سے سکیورٹی ایجنسیوں کا ان تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے. اگرچہ یہ بات تھوڑی غیر معمولی ضرور لگتی ہے کہ مجرموں کا ایک گینگ تاوان جمع کرنے کے لیے بٹ كوائن کے بٹوے استعمال کر رہا ہے تاہم جتنے زیادہ بٹوے استعمال کیے جائیں گے اتنا ہی اس گروپ کو ڈھونڈنا مشکل ہوتا جائے گا۔

بشکریہ

زوئے کلائنمین

ٹیکنالوجی رپورٹی، بی بی سی نیوز

ملالہ ڈرامہ پھر بے نقاب ؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا کہ ‘ ملالہ پر حملہ اسکرپٹڈ تھا’۔ واضح رہے کہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سوات میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے بعدازاں اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا، ‘ملالہ کو سر میں گولی ماری گئی، لیکن سوات میں ہونے والے سی ٹی اسکین کے دوران کوئی گولی نہیں پائی گئی، لیکن بعد میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پشاور میں ان کے سر میں ایک گولی پائی گئی’.

مسرت احمد زیب نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ملالہ کی کہانی ‘گھڑنے’ والے طبی عملے کو بھی سہولیات فراہم کیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے ساتھ ملالہ کا سی ٹی اسکین کرنے والے طبی عملے کو بھی حکومت کی جانب سے پلاٹس فراہم کیے گئے۔ بعدازاں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ایک اور پیغام میں الزام عائد کیا کہ جب ملالہ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) اردو کے لیے ‘گل مکئی’ کے نام سے ڈائری تحریر کی تو اُس وقت وہ لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔