کیا نواز شریف کے احتساب سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی ؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں چند دن یا چند ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر پاناما پیپرز اسکینڈل پر ہونے والی اس طویل، قانونی جنگ نے ملک میں جمہوری سیاست کے ارتقاء پر واضح نقوش چھوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایک جمہوری سیاست کی نشونما میں موجود مشکلات کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف کمرہءِ عدالت کے اندر اور باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں آپس میں اُلجھے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس دوران پارلیمنٹ بالکل غیر ضروری محسوس ہو رہی ہے۔

یقینی طور پر، اگر قائدِ ایوان نواز شریف کے گرد گھومنے والے مسائل کے حل کے لیے قانون سازوں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکمراں اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا ہوتا تو اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مقدمے میں اختلافی فیصلے کی وجہ سے ججوں کو وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہمارے ملک کی قانونی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ جس میں سپریم کورٹ ملک کے سب سے بڑے سیاستدان کے خلاف اس طرح کا ایکشن لے۔

کئی حلقوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا کہ احتساب سے بالاتر لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا، مگر حکومتی وفاداروں کے نزدیک ان کے محبوب رہنما کے خلاف ‘قوم کی بے لوث خدمت’ کرنے پر ‘عالمی سازش’ کی جا رہی ہے۔ کابینہ ارکان بار بار یہ جملہ دہراتے ہیں کہ ‘پہلے ان کی حکومت کو ایٹمی دھماکے کرنے پر ختم کر دیا گیا، اور اب انہیں سی پیک شروع کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔’ اور اب جب سپریم کورٹ اس کیس کو انجام تک پہنچانے کے قریب ہے، تو چیزیں مزید پریشان کن ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ ‘لبرل’ عذر خواہوں کی جانب سے ایک اور سازشی مفروضہ یہ پیش کیا گیا کہ عدالتی اقدامات ملکی جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جج صاحبان اور فوج کے درمیان اتحاد ہے۔ اس مفروضے کی حمایت میں ماضی سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر ایسا کرتے ہوئے یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ وہ تمام مثالیں فوجی دورِ حکومت کی ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق سیکیورٹی ادارے جج صاحبان کو ‘ڈکٹیشن’ دے رہے ہیں۔ ‘جمہوریت خطرے میں ہے’ کی گردان، چیزوں کو چلتے رہنے دینے کے لیے اکثر کام آتی ہے۔ کچھ لوگوں کو تو جلد ہی شارعِ دستور پر ٹینک چلتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل نے فوج کو اس معاملے میں گہرائی تک دھنسا دیا ہے۔ ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ارکان کی جے آئی ٹی میں موجودگی بلاشبہ سول ملٹری تعلقات میں خلیج پیدا کرے گی اور اس سے بچنا چاہیے تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو ایجنسیوں کی جے آئی ٹی میں موجودگی جے آئی ٹی کی تحقیقات کو مزید اثر و رسوخ فراہم کر رہی ہوں۔ مگر یہ کہنا کہ عدالت نے فوج کے کہنے پر ایکشن لیا ہے، اس سازشی مفروضے کو خوامخواہ بہت دور تک دھکیلنے والی بات ہے۔ یہ مفروضہ پیش کرنے والے لوگ اس سوال کو گول کر جاتے ہیں کہ پاناما لیکس پر انکوائری تک بات کیوں نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔ ملک کے اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر فائز شخص کو کسی بھی شخص سے زیادہ قابلِ احتساب ہونا چاہیے۔ نواز شریف کے پاس اس مسئلے پر پارلیمنٹ سے کلین چٹ حاصل کرنے کا موقع تھا، مگر ان کے خاندان اور ان کے بیانات میں تضادات کی وجہ سے وہ اس صورتحال تک پہنچے۔

مگر پھر بھی نواز شریف کے پاس پانچ رکنی بینچ اور پھر جے آئی ٹی میں خود کے دفاع کا موقع تھا۔ اب کیس واپس تین رکنی بینچ کے سامنے ہے اور ان کے پاس ایک اور لائف لائن موجود ہے۔ اس لیے ایک طاقتور وزیرِ اعظم کے خلاف سازش اور انہیں پھنسانے کا الزام کافی مضحکہ خیز ہے۔ مظلومیت کا کارڈ شریف خاندان کو کچھ ہمدردی دلوا سکتا ہے مگر عدالت کے سامنے یہ کارڈ نواز شریف کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں احتساب کو سیاسی مخالفین کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ فوجی حکمرانوں نے احتساب کا نعرہ لگا کر منتخب سیاسی حکومتوں کو گرایا اور سیاسی رہنماؤں کو اطاعت پر مجبور کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح نیب قوانین کو جنرل مشرف کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ جن لوگوں پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد تھے، انہیں حکومت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے پر کابینہ میں لے لیا گیا۔ چنانچہ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ احتساب ایک خراب لفظ بن گیا۔

مگر وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف جاری پاناما لیکس کی حالیہ تحقیقات کو ماضی کے ہتھکنڈوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت عدالت تو سیاسی قیادت کو احتساب کا مرحلہ مزید شفاف اور معقول بنانے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دے کر تحقیقات مضبوط کرنے کا موقع دے رہی ہے۔ جمہوری نظام قانون کی حکمرانی کے بغیر کمزور ہی رہے گا، اور قانون کی حکمرانی کو اب وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے شروع ہونا چاہیے۔

مگر عام طور پر یہ نکتہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ صرف سویلین رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ جنرل احتساب کے دائرہءِ کار میں نہیں آتے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ قانون سے بالاتر کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ سابق جرنیلوں اور دیگر طاقتور گروہوں کو حاصل استثنیٰ پر سوال جائز ہے۔ مگر اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ یا سب کا احتساب ہو یا کسی کا نا ہو۔ احتساب ایک مرحلہ ہے، اور اسے ایک دفعہ کے اقدام، یا سویلین سیاسی رہنماؤں کے خلاف مہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو مکمل طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی حال دیگر سرکاری اداروں کا بھی ہے۔

ہمارے سیاسی اور عدالتی نظام میں موجود دراڑیں پاناما کیس کی وجہ سے مزید واضح ہو گئی ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف زیادہ تر مقدمات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا تھا جہاں سے انہیں باہر نکالنے کی ہمت کوئی ادارہ نہ کرتا۔ دیگر سیاسی رہنما بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس بات کا تو یقین نہیں کہ وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے چیزیں تبدیل ہوں گی۔ مگر اس بے مثال اقدام سے نظام میں اصلاحات اور احتساب کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
جج صاحبان کے آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ اگر عدالتیں اور دیگر ادارے اپنا کام نہ کریں، تو جمہوری نظام نہیں چل سکتا۔

زاہد حسین

Advertisements

سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔ ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی بھی ہدایت کی اور تمام مواد احتساب عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا۔

عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔

آئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون ؟

سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تمام درخواستوں میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ فیصلہ کرے کہ وزیر اعظم نواز شریف آئین کی شق باسٹھ (ایک) (ف) کے تحت’صادق’ اور ‘امین’ نہیں ہیں۔ اس شق کے مطابق
(1) (62) : کوئی بھی شخص ممبرِ پارلیمان منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا جب تک کہ
(ف) وہ ذی فہم، راست باز، نیک چلن، صادق اور امین، اس کے خلاف اس ضمن میں۔۔۔۔ ;عدالتی فیصلہ نہ ہو
صادق اور امین ہونے کی شرط ملک کے سابق فوجی صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں متعارف کروائی گئی تھیں لیکن ہم ان شقوں کی کی تاریخ اور ان سے متعلق تنازعے کی بات کیے بغیر دیکھیں گے کہ آئین میں یہ کس صورت میں موجود ہیں۔

‘صادق’ اور ‘امین’ عدلیہ کی نظرمیں
اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہم سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی مدد لیں گے جو پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور دیگر سیاستدانوں کی وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دلوانے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر دیا تھا۔ ہم فریقین کے دلائل اور ان پر سپریم کورٹ کی ان دلائل پر رائے میں جائے بغیر صرف یہ دیکھیں گے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار نے اپنے موقف کے حق میں آئین کی شق باسٹھ (ایک) (ف) کا سہارا لیا تھا۔ مذکورہ مقدمے کے لیے سپریم کورٹ کا بنچ ججوں پر مشتمل تھا اور سبھی نے آئین کی اس شق پر بات کی۔

جسٹس عظمت سعید کا شمار پانچ میں سے ان تین ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جے آئی ٹی کے ذریعے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف شکایات کی تفتیش کا حکم دیا تھا اور جو اب اس بنچ میں شامل ہیں جو جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فیصلہ محفوظ کر چکا ہے۔ انھوں نے فیصلے میں شق باسٹھ کے بارے میں لکھا کہ اس شق کی بنیاد پر کسی کو پرکھنے سے پہلے اس ضمن میں کوئی عدالتی فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ اسی تین رکنی بنچ کے ایک اور رکن جسٹس اعجاز افضل خان نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ شق کی موجودہ صورت میں ہر شخص کو اس وقت تک ذی فہم، پارسا، نیک، صادق اور امین سمجھا جائے گا جب تک اس ضمن میں اس کے خلاف کوئی عدالت فیصلہ نہیں دے دیتی۔

پانچ رکنی بنچ کے ایک رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ جنہوں نے جسٹس گلزار احمد کے ساتھ مل کر اقلیتی فیصلہ لکھا تھا اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی آئین کی شق باسٹھ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ درست ہے کہ کسی امیدوار کی صداقت کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی عدالت کی طرف سے اس ضمن میں فیصلہ موجود ہونا چاہیے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں اب رجحان پیدا ہو چکا ہے کہ عدالت پہلے اس کے سامنے پیش کئے گئے شواہد کی روشنی میں امیدوار کے ایماندار ہونے کا فیصلہ کرتی ہے اور پھر اسی دوران اس کے اہل یا نااہل ہونے کا بھی فیصلہ کر دیتی ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس نااہلی کے معاملے میں حقائق کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے پاناما لیکس کی مقدمے میں لکھا کہ 18 ویں ترمیم سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کے خلاف شکایت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد کسی کے خلاف عدالتی فیصلہ ہونے کی شرط شامل ہو گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خِانہ کے خلاف مقدمے میں یہ بھی معاملہ زیر بحث آیا ہے کہ آیا سپریم کورٹ خود بھی ان کے خلاف الزامات پر فیصلہ دے سکتی ہے یا اس کے لیے معاملہ ٹرائل کورٹ میں بھیجا جائے گا۔

اخلاقی اور قانونی تقاضوں میں فرق اور عدالتی مشکلات
جسٹس عظمت سعید نے واضح کیا کہ عدالتیں قانون کی بنیاد پر کام کرتی ہیں اور اخلاقی سوالات ان کے دائرے سے باہر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شق باسٹھ میں جب لفظ ‘صادق’ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد قانونی لحاظ سے سچا ہونا ہے۔ یہ اخلاقیات کا سوال نہیں بلکہ اس صداقت کی قانونی حیثیت ہے۔ یہ ایک ‘آبجیکٹو’ تقاضا ہے نہ کہ ‘سبجیکٹو’۔ انھوں نے کہا کہ عدالتوں نے اس معاملے میں کبھی اخلاقی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وکلا کی طرف سے سپریم کورٹ کے کسی ایک بھی ایسے فیصلہ کا حوالہ نہیں دیا گیا جس میں جسی کو صرف اس بنیاد پر شق باسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو کہ وہ بے ایمان تھا اور یہ مبینہ بے ایمانی کسی قانون کی خلاف ورزی یا قانونی ذمہ داری کی عدم ادائیگی نہیں تھی۔

تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شق باسٹھ تریسٹھ کے بارے میں اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین میں دی گئی اصطلاحات میں ‘صادق’ اور ‘امین’ کی تشریح واضح نہیں ہے اور یہ بھی کہ کسی ایک مقدمے کے شواہد اور واقعات پر ان کا کس طرح اطلاق ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ابہام عدالتوں کو ان شقوں کی تشریح اور نفاذ کے معاملے میں کافی گنجائش اور لچک فراہم کرتا ہے اور عدالت کے پاس نتیجے تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کرنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

آئین کے تقاضے
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ شق باسٹھ کی حقیقت یہی ہے اور جو کہ ملک کی سپریم کورٹ نے بار بار واضح کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ باسٹھ ایک ف کو ‘سیاسی انجنیئرنگ ‘ کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایسے اختیارات اپنے آپ کو تفویض کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کہ وہ امیدواروں کی اخلاقی بنیادوں پر چھانٹی کر سکیں جیسا کہ ایک ‘ہمسایہ ملک میں بزرگوں کی مجلس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔’ ‘ہمارے آئینی نظام میں پاکستان میں حکومت کا حق عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو ہے نہ کہ چند افراد یا کسی ادارے کے منتخب کردہ افراد کو۔’

‘صادق’ اور ‘امین’ اور اسلامی حوالے
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلہ میں آئین کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ اور امیدواروں کے لیے قرآن سے حوالے دیتے ہوئے ‘صادق’ اور ‘امین’ ہونے کے تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ ان شقوں کو آئین کا حصہ بناتے ہوئے قرآن سے رہنمائی لی گئی ہے، جہاں انھوں نے لکھا کہ گھریلوں ملازم کے لیے ‘قوی الامین’ اور وسائل کی حفاظت پر معمور کئے جانے والے افراد کے لیے ‘حفیظ الامین’ کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ غالباً ‘صادق’ اور ‘امین’ کے بارے میں شقوں کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا اور نافذ کرنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے ہی ایک پرانے فیصلہ (اسحاق خان خاکوانی اور دیگر بنام میاں محمد نواز شریف اور دیگر) کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ آئین میں اتنی سخت شرائط کیوں رکھی گئی اور ان پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے پرانے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی کہ ذی فہم اور نیک اور پارسا ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اس شخص کی پوری زندگی کا احاطہ کرنا اور اس کی ذہنی کیفیت سمجھنا ضروری ہے۔ جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ ‘صادق’ اور ‘آمین’ کی شرط تو ظاہر ہے پیغمبر اسلام کی صفات تھیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں ان شرائط کا مطلب یہ یقینی بنانا تھا کہ بہترین صرف اچھے اور نیک مسلمان ہی اسمبلیوں تک پہنچیں اور وہ لوگ ریاست پاکستان میں اللہ کی حاکمیت ایک امانت کے طور پر نافذ کر سکیں۔ ‘لیکن ملک کے آئین کو مثالی ہونے کی بجائے عملی ہونا چاہیے’، انھوں نے مزید لکھا۔ انھوں نے کہا کہ پیغمبر آنا بند ہو گئے ہیں اور اب ہمارے سامنے صرف گناہ گار انسان ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ اللہ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تفریق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حقوق اللہ میں عبادات شامل ہیں جیسے کہ روزہ اور حج اور ان کا معاملہ خالق اور مخلوق کے درمیان ہے۔ جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ ان کے مطابق شق باسٹھ کا اطلاق کسی شخص کے ذاتی کردار کے مقابلے میں عوامی کردار تک محدود رکھنا جس سے دوسرے لوگ متاثر ہوتے ہوں فائدہ مند اور قابل عمل ہے۔

اسد چوہدری
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن