نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

Advertisements

کیا شریفوں کی خاندانی سیاست کا تسلسل انجام کو پہنچا ؟

نواز شریف کی بے وقار رخصتی سے شاید ملک کی سب سے طاقتور سیاسی خاندانی سلسلے کے لیے کسی سنگین دھچکے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اپنے غیر معمولی حکم نامے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے، اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے، ملک کے سیاسی منظر نامے پر غالب تقریباً تمام شریفوں کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس فیصلے کے بعد شریف خاندان کی سیاسی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا یا نہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ قیادت کی چھڑی اب شہباز شریف کے ہاتھوں میں تھما دی جائے گئی، تا کہ کم از کم موجودہ حالات میں اقتدار پر خاندانی سلسلے کو قائم و دائم رکھا جا سکے۔

بلاشبہ، موجودہ وزیر اعظم کے خلاف بے مثال عدالتی کارروائی ملک کی جمہوری ارتقاء کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی کے قیام کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ فیصلے پر اٹھائے جانے والے شکوک شبہات کو خلاف دستور عمل کہا گیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ تمام کارروائی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی گئی اور کچھ بھی آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہوا۔ یہ بات ملک میں انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ کے بجائے ایک آزاد عدلیہ کی تشکیل کی جانب بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا فیصلے کے بعد محسوس ہو رہی تکلیف سے اختلاف رائے رکھی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ، ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ایک ہنگامے اور سیاسی غیر یقینی کے دور کو جنم دیا ہے— جب کسی مضبوط خاندانی سیاسی سلسلہ کو ہلا کر رکھ دیا جائے تو ایسا ہونا لازم ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ملک میں سیاسی انتشار کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مگر بلاشبہ اس سے جمہوری سیاسی عمل کو کوئی ایسا خطرہ نہیں جس کے خدشات نواز شریف کے حامی ظاہر کر رہے ہیں۔

بلکہ اس سے تو خاندانی سیاست کو ٹھیس پہنچی ہے جو کہ ملک میں جمہوری اداروں اور اقدار کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے نے اس سوچ کا بھی خاتمہ کیا کہ چونکہ نواز شریف پنجابی ہیں اس لیے ان کا کوئی بال بھی بیگا نہیں کر سکتا جبکہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں سے بڑی آسانی سے ہٹا جا سکتا ہے۔ اس لیے شریف کی سبکدوشی پر واویلا کرنا اور مقدمے کے معاملات کو جمہوریت کے لیے دھچکا تصور کرنا، سمجھ سے بالا تر ہے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ ایک پورے قانونی عمل سے گزرا اور اسے سازش کا ایک حصہ یا ایک عدالتی بغاوت بالکل نہیں کہا جا سکتا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ، جس میں نواز شریف اور ان کے خاندان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، کے آنے کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ وزیر اعظم بڑے مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شریف خاندان لندن جائیداد کی منی ٹریل فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ان پر جھوٹا بیان دینے اور چند غیر ملکی اثاثے چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ لیکن ایک پورے خاندان کے خلاف اتنی سخت کارروائی اور اتفاقی فیصلے نے نہ صرف حکومت بلکہ حکومت سے باہر بیٹھے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بلاشبہ، خاندان کے دیگر افراد پر الزامات اور ان کے خلاف مقدمات نیب کو بھیجنے سے خاندانی تسلسل کا منصوبہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔ جہاں جعلی کاغذات کے الزام کے بعد، عدالتی فیصلہ مریم نواز کے خلاف آنے کی تو توقع تھی وہاں اس فہرست میں شہباز شریف کا نام شامل ہونا خلاف توقع ہے۔ جس نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بد سے بدتر حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر پارٹی میں موجود کئی لوگ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ جونیئر شریف نیب میں الزامات کا سامنا کرتے ہوئے بھی پارٹی کو قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ ہاں مسلم لیگ ن کے پاس اب بھی مظلومیت کا کارڈ اور سبکدوش وزیر اعظم کو ’سیاسی شہید’ کے طور پر پیش کرنی کی چال باقی ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات میں یہ چال کام آئے گی بھی یا نہیں۔ نواز شریف کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کمزور پڑنے سے ان کا پارٹی پر اثر رسوخ بھی محدود ہو چکا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے جنم لینے والے نواز شریف کو 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبے کے تحت ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں سیاست میں اتارا گیا تا کہ بے نظیر بھٹو کو چیلنچ دینے کے لیے سیاسی میدان میں کوئی دوسرا لیڈر موجود ہو۔ 1990 کی دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک کے سفر میں انہیں فوج اور پنجاب کی طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی رہی۔ اسی سیاسی طاقت کی بدولت شریف خاندان کو کاروبار میں بھی زبردست ترقی نصیب ہوئی۔ اس مالی اسکینڈل نے نواز شریف کے پورے سیاسی کریئر میں، خاص طور پر ملک کی سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد، پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر پاناما پیپرز میں ان کے خاندان کا نام آنے کے بعد اسکینڈل کھل کر سامنے آیا اور ان کے زوال کی وجہ بھی بنا۔ سیاسی طاقت کے عروج تک پہنچنے کے بعد نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو توڑنے کی بھی کوشش کی، جس کے باعث وہ اپنی گزشتہ حکومتوں کی میعاد پوری نہیں کر پائے تھے۔ کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سرپرست رہنے والا شخص اب خود ان کے لیے زہر قاتل بن گیا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ان کا تیسرا دور بھی فوجی قیادت کے ساتھ مسلسل تنازع کی زد میں رہا۔

اگرچہ مسلم لیگ ن کی ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی قربت رہی ہے مگر نواز شریف نے اسے ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی، لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ مگر پھر بھی نواز شریف برسا برس، حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جس کی بنا پر وہ تیسری بار منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے۔ پنجاب پر ان کے خاندان کی گرفت مضبوط بنانے کی خاطر طاقتور پنجابی سول اسٹیبلشمنٹ، بشمول بیوروکریسی اور عدلیہ کے کچھ حلقوں کو مدد کرتے دیکھا گیا ہے۔

ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ آیا رسوا نواز شریف پارٹی کو متحد رکھ پائیں گے یا نہیں۔ سب سے زیادہ ضروری یہ کہ، کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان پر الزامات عائد ہونے کے بعد چھوٹے میاں کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حمایت جاری رکھے گی؟ کیونکہ اس سے قبل ہمیں برے حالات میں میں ٹوٹ پھوٹ کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مشرف کی بغاوت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کے قیام کی صورت میں موجود ہے۔ جب حیران کن طور پر، وفاداریاں بدلنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نہ صرف حکومتی بینچوں بلکہ کابینہ میں بھی واپس شامل ہو گئی تھی۔

شریف خاندان کے لیے ایسی صورتحال سے بچنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پارٹی اتحاد کا انحصار پی پی پی اور پی ٹی آئی کی مسلم لیگ ن کے گڑھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت پر بھی ہے، جو کہ مرکزی سیاسی میدان بھی رہا ہے۔ جبکہ نواز شریف کے زوال سے دیگر صوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اقتدار میں ان کی واپسی کی تو زیادہ امید نظر نہیں آتی، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آیا یہ خاندانی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی ہے یا نہیں۔

زاہد حسین

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔

شریف خاندان اقتدار گھر میں ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

ایک قانون کا حکمنامہ ہوتا ہے اور ایک اچھی سیاست ہوتی ہے۔ ایک قانونی دھچکے سے نکلنے کی راہ ہوتی ہے اور ایک غلطیوں کو دہرانا ہوتا ہے۔ ایک شریف خاندان ہے، اور ایک سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نواز شریف کی عدالتی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ تا حد نگاہ بلکہ اس سے بھی آگے تک بس شریف خاندان کی ہی حکمرانی رائج ہو۔ یا جس طرح سعد رفیق نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایک شریف کو ہٹاؤ گے تو ہم دوسرا لائیں گے، دوسرے کو ہٹاؤ گے تو ہم تیسرا پھر چوتھا شریف لائیں گے۔

ایک سیاسی پارٹی اپنا رہنما چننے کا جواز رکھتی ہے اور نواز شریف کی برطرفی سے پیدا ہونے والے متنازع حالات میں یہ بات تو ناگزیر تھی کہ دوسرے نام کے لیے سبکدوش وزیر اعظم کی ترجیحات ہی زیادہ باوزن ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان کی شدید تنگ نظری خطرناک ہے اور سیاسی طور پر پریشان کن بھی۔
نواز شریف کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن کو تین فیصلے کرنے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی فیصلہ اہم یا معقول ثابت نہیں ہوا ہے۔ پہلا تو شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بنانا۔ عبوری کیوں؟ عباسی اور سابق کابینہ میں شامل ان کے کئی دیگر ساتھی اگلے سال منعقد ہونے والے عام انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے ہر طرح سے باصلاحیت ہیں۔

ویسے تو مسلم لیگ ن اپنے دور کے کارناموں اور تجربہ کار ٹیم کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ لیکن خاقان عباسی اور ان کے دیگر ساتھی ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ وزیرِ اعظم رہنے کے لیے نااہل اس لیے ہیں کیوں کہ ان کے ناموں کے آگے شریف نہیں لگا۔ ملک کی تشکیل کے 70 ویں سال میں ایک پارٹی جو محمد علی جناح کی پارٹی کے نام پر قابض ہو وہ شرمناک حد تک اقرباء پرور ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو بلا تاخیر پنجاب سے نکال کر مرکز میں لانے کا فیصلہ بھی سیاسی طور پر مسائل سے بھرپور ہے۔

شہباز شریف کی وفاقی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش سے تو سیاسی حلقے کئی برسوں سے آشنا ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی نصیب ہوئی — اور انہیں وفاقی انتظامی تجربہ دینے بھی انکار کر دیا جو کہ آج مفید ثابت ہوتا— کیونکہ ان کے بھائی ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہتے تھے اور وفاقی دارالحکومت کے اندر اپنی ہم پلہ طاقتور شخصیت کی موجودگی سے متاثر ہونا نہیں چاہتے تھے۔ 1990 میں وہ رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں لیکن اب سے دو ماہ بعد ایک بار پھر حلف اٹھائیں گے تو اس وقت ایک بڑی حد تک مختلف پارلیمنٹ ہو گی اور اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی مختلف ہو گا۔ درحقیقت، شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ایک سیاسی تجربہ ہے جس کا نتیجہ کافی بدتر نکل سکتا ہے۔

بالآخر، اب حمزہ شریف کے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر پنجاب اسمبلی میں اپنے والد کی جگہ لینے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔ ٹھیک آلِ سعود کی طرح آلِ شریف بھی طاقت کو صرف اپنی نسل تک محدود رکھنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید واحد عارضی اچھائی یہ ہوئی ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں، ورنہ منظر نامہ مختلف ہوتا۔ سچ ہے کہ شریف خاندان نے موروثی سیاست میں کسی حد تک بھٹو خاندان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ اداریہ یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار شائع ہوا۔

شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلا ہوں

لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی
نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کرکے بھارتی فوج کے ایک میجر اور ایک سپاہی کو ہلاک اور ایک ساتھی کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔

عہدیداروں کے مطابق، فوج مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں موجود عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے وہاں صبح چار بجے پہنچی۔ لیکن، گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے اُن پر بیک وقت کئی اطراف سے اندھا دھند گولیاں چلا دیں۔ یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ حفاظتی دستوں کو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور فائرنگ میں بھارتی فوج کا ایک افسر میجر کملیش پانڈے اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور سپاہی شدید طور پر زخمی ہو گیا۔

حملہ آور اندھیرے کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے علاقے سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پانچ فوجیوں کو ہلاک اور کئی ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر، ابو دُجانہ اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں شہادت سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی۔ ابو دُجانہ عرف حافظ کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا اور ان کی شہادت کو بھارتی حکام نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف چلائی جانے والی فوجی مُہم کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا تھا۔

ابو دُجانہ کا نام بھارتی فوج کی طرف سے اس سال جون میں جاری کی گئی اُن بارہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا جنہیں “سب سے خطرناک‘‘ قرار دیدیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں زندہ یا مُردہ پکڑنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔ لیکن، جیسا کہ آڈیو سے پتہ چلتا ہے ابو دُجانہ کو ہھتیار ڈال کر خود کو حفاظتی دستوں کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی اور کہا کہ وہ شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلے ہیں اور ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

جنرل مشرف : قانون کی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی

اقوام متحدہ کا جنگی جرائم کی تحقیقات کا کمیشن شام میں کچھ نہیں کر سکتا

ماضی میں جنگی جرائم کے مقدمات میں وکیلِ استغاثہ کے فرائص انجام دینے والی کارلہ دل پونٹے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے کمیشن سے استعفیٰ دے رہی ہیں کیونکہ یہ کمیشن ’کچھ بھی نہیں کرتا‘۔ کارلہ دل پونٹے اقوام متحدہ کے شام کے حوالے سے کمیشن کا تقریباً پانچ سال تک حصہ رہی ہیں۔ شامی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کارلہ دل پونٹے سوئس حکومت میں وکیلِ استغاثہ کے عہدے پر فائض رہ چکی ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویا کی جنگوں میں جرائم کی تفتیشات کی تھیں۔

ایک سوئس اخبار ’بلک‘ سے بات کرتے ہوئے کارلہ دل پونٹے نے کہا کہ ’میں تنگ آ چکی ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے۔ میں نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے اور آئندہ چند روز میں اسے جمع کروا دوں گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’شام میں ہر کوئی بری سائڈ پر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے انسانیت کے خلاف انتہائی گھنونے جرائم سرزد کیے ہیں اور جزب مخالف میں بھی شدت پسند اور دہشتگرد ہیں۔‘
بعد میں انھوں نے لوکارنو فلم فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کمیشن چھوڑ رہی ہوں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیکیورٹی کونسل کچھ نہیں کرتی، میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ شام کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے۔‘

اس کمیشن کی ذمہ داریوں میں شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیشن نے ایک درجن کے قریب رپورٹیں جاری کیں ہیں تاہم ان کی تحقیقاتی ٹیم کبھی بھی خود شام نہیں جا سکی ہے۔ ان رپورٹوں کے لیے ان کا انحصار انٹرویوز، تصاویر، میڈیکل ریکارڈز اور دیگر دستاویزات پر رہا ہے۔ کارلہ دل پونٹے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جرائم پہلے کبھی نہیں دیکھے، نہ سابق یوگوسلاویا میں اور نہ ہی روانڈا میں۔ کارلہ دل پونٹے اور کمیشن کے دیگر اراکین نے کئی بار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے شام کی صورتحال کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

جاپان پر ایٹم بم حملے کے 72 سال

ونی چی وا کہہ کر میرے سامنے موجود جاپانی بزرگ آدھے سے زیادہ جھک چکے تھے یہ جاپان کے روزمرہ آداب کا حصہ ہے جس میں صبح ہونے والی ملاقات میں او ہائی او گزائی مس OhaiOGuzaimasu مطلب صبح کا سلام کہہ کر رکوع کی حالت تک جھک کر سامنے والے کو خوش آمدید کیا جاتا ہے جبکہ اسی طرح دوپہر میں ہونے والی ملاقات میں کونی چی وا کہہ کر رکوع کی حالت تک جھک کر خوش آمدید کہا جاتا ہے جبکہ شام میں ہونے والی ملاقات میں کمباوا Kumbawa کہہ کر جھک کر خوش آمدید کہا جاتا ہے، جاپانی قوم اپنی ثقافت میں انتہائی تہذیب کا مظاہرہ کرتی ہے۔

میں اس وقت اپنے پاکستانی دوست کے جاپانی سسر سے ملاقات کے لئے جاپان کے صنعتی شہر اوساکا میں موجود تھا، اوساکا جاپان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جبکہ ٹوکیو سے تقریباً چار سو کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، ٹوکیو سے براستہ ہوائی جہاز اور بلٹ ٹرین یہاں بآسانی پہنچا جا سکتا ہے، میرے سامنے موجود بزرگ کی عمر پچاسی برس کے لگ بھگ ہو گی لیکن وہ کافی چاق و چوبند دکھائی دے رہے تھے، جاپانی بزرگ کا نام یاس اوزاوا Yas Ozawa تھا انہوں نے جاپان پر ہونے والے تاریخ کے بدترین ایٹمی حملے کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ ان خو ش نصیب لوگوں میں سے بھی تھے جو ہیروشیما میں ہوتے ہوئے بھی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے، اوساکا شہر کے مغرب میں واقع جاپان کے پرانے انداز میں تعمیر ہونے والا یہ مکان انتہائی بہترین حالت میں موجود تھا، ہمیں جس کمرے میں بٹھایا گیا تھا وہ تاتامی Tatamiسے مزین تھا.

تاتامی کو پاکستان میں موجود چٹائی سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جاپان میں تاتامی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے جو انھیں ان کے ماضی اور کلچر کی یاد دلاتی ہے ہر گھر میں ایک کمرہ تاتامی سے ضرور مزین کیا جاتا ہے جہاں گھر کے افراد بیٹھ کر چائے یا قہوہ نوش کرتے ہیں۔ ہم بھی اس کمرے میں بیٹھ چکے تھے،ابتدائی تعارف کے بعد میں نے جاپانی بزرگ یاس اوزاوا کی شخصیت کا جائزہ لیا،تازہ تازہ شیو،انتہائی سلیقے سے بنے ہوئے بال، چہرے پر جھریاں موجود تھیں تاہم ان کی شخصیت بارعب اور رکھ رکھائو والی تھی، ہمارے سامنے جاپانی گرین ٹی جسے أوچا بھی کہا جاتا ہے رکھ دیا گیا، کچھ دیر خاموشی کے بعد میں نے جاپانی بزرگ سے دوسری جنگ عظیم کے دوران تاریخ انسانیت پر ہونے والے بدترین امریکی ایٹمی حملے کے حوالے سے ان کی یادداشتوں کے بارے میں دریافت کیا، ایک لمحے کے لئے ان کی آنکھوں میں ایک نمی سی بھی نظر آئی،ایسا محسوس ہوا کہ بزرگ اب سے بہتر برس قبل ہیروشیما میں موجود تھے.

چند لمحے توقف کے بعد گویا ہوئے، وہ پیر چھ اگست 1945 کا دن تھا، میری عمر اس وقت تیرہ برس ہو گی، مجھ سمیت ہیروشیما کے عوام کو یہ تو معلوم تھا کہ دوسری جنگ عظیم ہو رہی ہے اور جاپان بھی اس جنگ میں شریک ہے لیکن جاپانی عوام کے روزمرہ کے معمولات پوری طرح جاری تھے، بچے اسکول جا رہے تھے تو بڑے اپنے کاروبار اور ملازمتوں میں مصروف تھے تو خواتین گھر کے کاموں میں، کہیں بھی یہ احساس نہیں تھا کہ کچھ ایسا ہونے والا ہے جو دنیا کی تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا، بزرگ ایک لمحے کے توقف کے بعد ایک بار پھر گویا ہوئے وہ بولے کہ ہمارے ہاں چھ بجے صبح ہو جایا کرتی تھی جبکہ والدہ شاید اس سے بھی قبل اٹھا کرتی تھیں.

اس روز بھی سب اپنے معمول کے مطابق اٹھے والد صاحب تیار ہوکر ساڑھے سات بجے دفتر کے لئے روانہ ہو گئے، میں اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ اسکول کے لئے چلا گیا جو گھر سے دس پندرہ منٹ کی مسافت پر تھا،اس دن گھر سے اسکول جاتے وقت وہ پندرہ منٹ بہت ہی اچھے گزرے تھے میں اپنے دوستوں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ اسکول کے راستے میں تھا ہمارا معمول تھا کہ راستے میں کوئی کچرا نظر آ جائے تو تمام دوست کچرے کو اٹھا کر کوڑے دان میں پھینکنا اپنا فرض سمجھتے تھے، راستے میں لگی کیاریوں سے کچھ خوشبو دار پھول جمع کر کے اپنے اساتذہ کو بطور تحفہ بھی دیا کرتے، ہم تمام دوست اپنے شہر ہیروشیما کی خوبصورتی دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے، اس روز بھی آٹھ بجے سے قبل ہم اسکول پہنچ کر اپنی اپنی کلاسوں میں بیٹھ گئے تھے کسی کوکچھ نہیں معلوم تھا کہ اب سے پندرہ منٹ بعد ہیروشیما پر کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے.

جنگ کے حوالے سے صبح صبح اساتذہ کرام کلاسوں میں آکر جنگ میں جاپانی افواج کی بہادری کے کارناموں اور فتح کی خبریں سنایا کرتے تھے اور تمام بچے اپنی افواج کی کامیابی پر دل ہی دل میں خوش بھی ہوا کرتے تھے، اس روز بھی ہماری کلاس میں استاد جنگ کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے بچوں کو آگاہ کر رہے تھے اور اسی دوران اتنا شدید دھماکہ ہو گیا کہ اس دھماکے کی گونج کو الفاظ میں بیان کرنا کسی کے لئے بھی شاید ممکن نہ ہو،اسکول کی کھڑکیوں کے شیشے کرچی کرچی ہو چکے تھے دھماکے سے اسکول کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا بچے زخمی حالت میں زمین پر گرے ہوئے تھے استاد جو سامنے کھڑے ہو کر پڑھا رہے تھے ان کے سر پر بھی کچھ ایسا لگا تھا کہ وہ خون میں لت پت تھے، اسکول کے باہر کالے بادلوں کا شدید دھواں موجود تھا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ انتہائی شدید گرم ہوائیں ہمیں جھلسا رہی تھیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ کالا دھواں بڑھتا جا رہا تھا،کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو گیا ہے شاید ہمارا اسکول دھماکے کی جگہ سے کچھ دور واقع تھا اس لئے ہم میں سے کچھ بچوں کی زندگی بچالی گئی تھی.

کئی گھنٹے بے ہوشی میں گزارنے کے بعد جب آنکھ کھلی تو خود کو تاحال اسی کلاس میں زخمی و ہلاک ہونے والے بچوں کے درمیان ہی پایا، کوئی امدادی ٹیم ہم تک نہیں پہنچ پائی تھی، میں بھی ہلنے جلنے سے قاصر تھا مجھے اپنا بھائی، اپنی والدہ اور والد کی بہت یاد ستا رہی تھی نہ جانے ان پر کیا گزری ہو گی، مزید کئی گھنٹوں بعد امدادی ٹیم ہم تک پہنچی، زخمی بچوں کو طبی امداد کے لئے شہر سے دور اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا، شہر کی تباہی دیکھی نہیں جا رہی تھی،عمارتیں کھنڈر بن چکی تھیں، پورا شہر جل رہا تھا، درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہو چکا تھا ایسا لگ رہا تھا کسی نے جلتے چولہے پر ڈال دیا ہو، لاشیں جل چکی تھیں، گاڑیاں اورعمارتیں جل چکی تھیں.

کچھ بھی بچا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، گلستان قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا، کئی دن اسپتال میں گزارے چھوٹا بھائی اور والد ایٹمی حملے میں دنیا سے رخصت ہو چکے تھے والدہ سے زخمی حالت میں ملاقات ہوئی، بزرگ انتہائی صدمے میں اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے لیکن میں نے محسوس کیا کہ مزید تفصیلات ان کے لئے کسی گہری تکلیف کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا میں نے وہیں پر بات ختم کی اور ان کا شکریہ ادا کیا سبق یہ ہے کہ ایٹم بم پر فخر کرنے والوں کو ایٹم بم کے نقصانات کا بھی خیال ہونا چاہیے جس کے ثمرات انسانی نسلوں کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔

محمد عرفان صدیقی
x

تہذیب و شائستگی کا جنازہ

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا ہے۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جب انسان تہذیب و شائستگی کا دامن چھوڑ دے تو وہ بہت نیچے گر جاتا ہے۔ وطن عزیز میں آج کل عجیب ماحول پیدا کر دیا گیا ہے، جو تباہ کن اور بھیانک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان کے اخلاق و کردار کو گھن لگ جائے تو اس کا علاج بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ زبان کا غلط استعمال ایسے زخم لگاتا ہے، جو کبھی مندمل نہیں ہوتے۔ ہمارا دشمن ہر جانب سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور ہم پاکستانی ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مگن ہیں۔

آج کل کا دور میڈیا کا دور ہے۔ وقتِ حاضر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہیں وسیع تر سوشل میڈیا کا میدان ہے۔ سیاسی شخصیات کے آپس میں اختلافات فطری طور پر ہوتے ہیں۔ ان کے اظہار کے لئے مہذب طریقے پوری دنیا میں رائج ہیں۔ سیاسی میدان میں مہذب قومیں شفاف طریقے سے انتخابات کا اہتمام کرتی ہیں اور عوام الناس کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے جسے چاہیں ووٹ کے ذریعے منتخب کر لیں۔ منتخب ہونے والا اور شکست کھانے والا دونوں امیدوار اور دونوں پارٹیاں نتیجہ سننے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر کسی بے ضابطگی کا خدشہ اور امکان نظر آئے تو اس کے لئے متاثرہ فریق ادارتی نظام سے رجوع کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ عوام اپنی آزادانہ رائے کا استعمال نہیں کر سکتے۔ اسی عامل نے ہمارے ہر شعبۂ زندگی کو اپاہج کر دیا ہے۔

تمام سیاسی قوتوں کو اس جانب مثبت انداز میں سوچ بچار کر کے پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کسی شخصیت سے اختلاف رکھتے ہیں تو بھی اس کے انسانی حقوق اور معاشرتی احترام کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی اخبار کو اٹھا کر طائرانہ نگاہ سے دیکھ لیں یا کسی چینل کے سامنے چند لمحے بیٹھ جائیں، آپ پریشان ہو جائیں گے کہ سارا تالاب ہی گندا نظر آتا ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں تو ہر لمحے آپ کے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور موبائل پر ایسی چیزیں کثرت اور تسلسل کے ساتھ آتی ہیں کہ آپ سوچتے ہیں کہ اس ذہنی عذاب سے نجات کیسے ممکن ہے؟ مرد و خواتین کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حدود متعین کی ہیں۔

عصمت و عفت اور شرم و حیا اسلام کی پہچان ہے۔ سیاسی سکینڈل کے ساتھ ساتھ اخلاقی سکینڈلز کی میدانِ زندگی میں ایک دوڑ لگ گئی ہے۔ ’’ایسے کو تیسا‘‘اور ’’اینٹ کا جواب پتھر‘‘ کا اصول اپنا کر آستینیں چڑھائے سیاسی قائدین و کارکنان نے وہ ہا ہا کار مچا رکھی ہے کہ خدا کی پناہ! الزام لگتے ہیں، پھر انہیں بہت برے انداز میں پورے معاشرے میں اچھالا جاتا ہے۔ ان کی حقیقت کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ سیاسی اور سماجی رہنماؤں ، دینی و مذہبی قائدین، ذرائع ابلاغ میں مصروفِ عمل شخصیات، سبھی کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اگر ان کے اخلاق و کردار اور زبان و بیان سے شائستگی رخصت ہو جائے گی تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔

جو بھی کسی پر الزام لگائے، اُسے ثابت کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جس پر الزام لگے، اسے دفاع کا حق دیئے بغیر مجرم قرار دینا اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ دیگر سیاسی دھڑوں کے قائدین بھی عدالتوں سے نکل کر چوکوں، چوراہوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ ’’نہلے پر دھلا‘‘ کی یہ جنگ انتہائی بدبودار اور گھناؤنی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ راتوں رات یہ سارے کیس بازار میں آ گئے ہیں۔ ہمارا دشمن ہر طرح ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے اور ہم باہمی اتحاد و اتفاق کی بجائے مخالفانہ بیان بازی، کردار کشی اور گالم گلوچ کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

مال و دولت کی تباہی اور کرپشن بھی انتہائی نقصان دہ ہے، مگر اخلاق و شائستگی کا جنازہ نکل جانا تو بہت بڑا المیہ ہے۔ جب لیڈر اس سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو ان کے کارکنان کیوں پیچھے رہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں ہر بڑی سیاسی قوت کے چاہنے والے اینکرز بھی موجود ہیں اور مالکان بھی۔ وہ اس جنگ میں ایک دوسرے کو چت کرنے کے لئے جو طریقے اپناتے ہیں، وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ صحافت میں دیانت نہ ہو اور تحریر و تقریر میں اخلاقی اقدار اور انسانی شائستگی غائب ہو جائے تو انسان جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے۔ ہمارا دشمن ہمیں ہر جانب سے گھیرے میں لے رہا ہے۔

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے میاں نواز شریف کے استعفے سے قبل پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ ملک و قوم کو تباہ کرنے کے لئے کئی عالمگیر سازشیں سرگرم عمل ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک باخبر سیاستدان کی وارننگ تھی، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملکی سیاست و معاملات کے اس نازک موڑ پر تمام ابنائے اسلام اور دخترانِ ملت سے درخواست ہے کہ وہ یہ طرزِ عمل ترک کر دیں۔ جن لوگوں نے واقعتا زیادتیاں کی ہیں، وہ متاثرہ فریق سے معافی بھی مانگیں اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کا معاوضہ بھی دیں۔ اگر جرم ایسا ہے جو قابل تعزیر ہے تو اس پر بھی قانون و انصاف کے تقاضوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

اس کے ساتھ لازمی ہے کہ غلط الزام لگانے والوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ آج کے بچے اور نوخیز نسل کل کے حکمران اور ارباب حل و عقد ہوں گے۔ اس پُر تعفن ماحول میں پروان چڑھنے اور میڈیا کے زہرناک شوروغل میں سانس لینے والی یہ نسل کیا اخلاق و کردار لے کر میدان میں آئے گی؟۔ خدا کے لئے اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی کے سمندر میں دھکیلنے سے اجتناب کیجیے۔ حضور پاکؐ جن کا ہم سب کلمہ پڑھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ مومن جھوٹا اور فحش گو نہیں ہوتا۔ اہلِ ایمان! ذرا سنجیدگی کے ساتھ اس عاجزانہ استدعا پر توجہ فرمائیے۔

حافظ محمد ادریس

 

نوازشریف کا قافلہ (جی ٹی) روڈ پر رواں دواں

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف پارٹی کے کارکنوں کے ہمراہ ایک قافلے کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور کی جانب رواں دواں ہیں۔ نواز شریف کی ریلی کے پیش نظر راولپنڈی کے متعدد روٹس کو سیل کردیا گیا۔

سابق وزیراعظم کی ریلی کے پیش نظر گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ان کے لیے بلٹ پروف کنٹینر بھی تیار کیا گیا، ریلی کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات رہی۔ ہنگامی صورتحال میں ریلی کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت پنجاب کا موبائل ہیلتھ یونٹ بھی خصوصی طور پر قائم کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم موجود رہے گی۔