شریف خاندان اقتدار گھر میں ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

ایک قانون کا حکمنامہ ہوتا ہے اور ایک اچھی سیاست ہوتی ہے۔ ایک قانونی دھچکے سے نکلنے کی راہ ہوتی ہے اور ایک غلطیوں کو دہرانا ہوتا ہے۔ ایک شریف خاندان ہے، اور ایک سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نواز شریف کی عدالتی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ تا حد نگاہ بلکہ اس سے بھی آگے تک بس شریف خاندان کی ہی حکمرانی رائج ہو۔ یا جس طرح سعد رفیق نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایک شریف کو ہٹاؤ گے تو ہم دوسرا لائیں گے، دوسرے کو ہٹاؤ گے تو ہم تیسرا پھر چوتھا شریف لائیں گے۔

ایک سیاسی پارٹی اپنا رہنما چننے کا جواز رکھتی ہے اور نواز شریف کی برطرفی سے پیدا ہونے والے متنازع حالات میں یہ بات تو ناگزیر تھی کہ دوسرے نام کے لیے سبکدوش وزیر اعظم کی ترجیحات ہی زیادہ باوزن ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان کی شدید تنگ نظری خطرناک ہے اور سیاسی طور پر پریشان کن بھی۔
نواز شریف کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن کو تین فیصلے کرنے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی فیصلہ اہم یا معقول ثابت نہیں ہوا ہے۔ پہلا تو شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بنانا۔ عبوری کیوں؟ عباسی اور سابق کابینہ میں شامل ان کے کئی دیگر ساتھی اگلے سال منعقد ہونے والے عام انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے ہر طرح سے باصلاحیت ہیں۔

ویسے تو مسلم لیگ ن اپنے دور کے کارناموں اور تجربہ کار ٹیم کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ لیکن خاقان عباسی اور ان کے دیگر ساتھی ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ وزیرِ اعظم رہنے کے لیے نااہل اس لیے ہیں کیوں کہ ان کے ناموں کے آگے شریف نہیں لگا۔ ملک کی تشکیل کے 70 ویں سال میں ایک پارٹی جو محمد علی جناح کی پارٹی کے نام پر قابض ہو وہ شرمناک حد تک اقرباء پرور ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو بلا تاخیر پنجاب سے نکال کر مرکز میں لانے کا فیصلہ بھی سیاسی طور پر مسائل سے بھرپور ہے۔

شہباز شریف کی وفاقی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش سے تو سیاسی حلقے کئی برسوں سے آشنا ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی نصیب ہوئی — اور انہیں وفاقی انتظامی تجربہ دینے بھی انکار کر دیا جو کہ آج مفید ثابت ہوتا— کیونکہ ان کے بھائی ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہتے تھے اور وفاقی دارالحکومت کے اندر اپنی ہم پلہ طاقتور شخصیت کی موجودگی سے متاثر ہونا نہیں چاہتے تھے۔ 1990 میں وہ رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں لیکن اب سے دو ماہ بعد ایک بار پھر حلف اٹھائیں گے تو اس وقت ایک بڑی حد تک مختلف پارلیمنٹ ہو گی اور اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی مختلف ہو گا۔ درحقیقت، شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ایک سیاسی تجربہ ہے جس کا نتیجہ کافی بدتر نکل سکتا ہے۔

بالآخر، اب حمزہ شریف کے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر پنجاب اسمبلی میں اپنے والد کی جگہ لینے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔ ٹھیک آلِ سعود کی طرح آلِ شریف بھی طاقت کو صرف اپنی نسل تک محدود رکھنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید واحد عارضی اچھائی یہ ہوئی ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں، ورنہ منظر نامہ مختلف ہوتا۔ سچ ہے کہ شریف خاندان نے موروثی سیاست میں کسی حد تک بھٹو خاندان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ اداریہ یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار شائع ہوا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s