شمالی کوریا امریکہ کو ایسا درد پہنچائے گا جو اس نے کبھی سہا نہیں ہو گا

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے بعد امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کو ’ایسا درد پہنچائے گا جو اس سے پہلے کبھی نہ سہا ہو گا۔‘ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر نے امریکہ پر ‘سیاسی، معاشی اور عسکری محاذ آرائی’ کا راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔ نئی پابندیوں کے ذریعے شمالی کوریا کی تیل کی درآمدات کو محدود کیا گیا ہے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات پر پابندی لگائی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ نئی پابندیاں شمالی کوریا کے چھٹے اور اب تک کے سب سے بڑے جوہری تجربے کے بعد عائد کی گئی ہیں۔ چین اور روس نے بھی شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر ہان تائے سونگ نے کہا کہ وہ ‘غیرقانونی قرارداد’ کو مسترد کرتے ہیں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘عوامی جمہوریہ کوریا کی جانب سے آئندہ اقدامات سے امریکہ کو اس قدر تکلیف پہنچے گی جتنی اس نے تاریخ میں کبھی سہی نہیں ہو گی۔’ انھوں نے کہا کہ ‘دلائل سے تجزیہ کر کے صیح فیصلہ کرنے کے بجائے واشنگٹن حکومت نے آخر کام سیاسی، معاشی اور عسکری محاذ آرائی کا انتخاب کیا ہے، جو یہ خواب دیکھ رہی ہے کہ عوامی جمہوریہ کوریا اپنا جوہری پروگرام لپیٹ دے گا، جو آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔’

چین اور روس نے بھی شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے
خیال رہے کہ شمالی کوریا پر پہلے سے ہی اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد ہیں تاکہ جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
سلامتی کونسل کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں تازہ پابندیوں کو اس وقت منظور کیا جب امریکہ نے اپنی تجویز کردہ سخت پابندیوں میں تھوڑی تخفیف کی اور بعض سخت تجاویز کو ہٹا لیا۔ ان سخت تجاویز میں تیل پر مکمل پابندی اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے اثاثے کو منجمد کرنے کے اقدامات شامل تھے۔ ان نئی پابندیوں کے ذریعے شمالی کوریا کے فنڈ اکٹھا کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کو فروغ دینے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سنہ 2006 کے بعد سے شمالی کوریا کے خلاف یہ اقوام متحدہ کی نویں قرارداد ہے جسے متفقہ طور پر منظور کیا گيا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے پہلے ہی شمالی کوریا کے تمام جوہری ہتھیاروں اور میزائل کے فروغ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

ترکی کے روس سے ایس 400 اینٹی ایئرکرافٹ میزائل خریدنے کے معاہدے پر دستخط

ترکی نے اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس سے اربوں ڈالر مالیت کا طیارہ شکن میزائل سسٹم کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔ ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ترکی نے روس کے ساتھ ایس 400 اینٹی ایئرکرافٹ میزائل کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے اور کچھ رقم پیشگی ادا بھی کی جا چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی مالیت 2.5 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ترکی اور روس کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر امریکا اور خاص طور پر یورپی ممالک کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آنے کا امکان ہے کیوں کہ ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن ہے اور نیٹو ممالک کے روس سے تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔

امریکا کے ساتھ تعلقات میں آنے والی کشیدگی کے بعد سے ترکی نے روس سے روابط بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔ تاہم اس معاہدے کے حوالے سے ترکی اور روس دونوں نے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ جمہوریہ ترکی کی آزادی کے اصولوں پر بات کرے اور اس کے دفاعی فیصلوں پر تنقید کرے۔ ترک صدر نے مزید کہا کہ ہم مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فیصلے کرتے ہیں، ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر طرح کے اقدامات کریں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ملٹری ایڈوائزر ولادی میر کوزہن نے کہا کہ ترکی کے ساتھ ایس 400 میزائلز کی فروخت کا معاہدہ روس کے اسٹریٹیجک مفادات سے مطابقت رکھتا ہے تاہم اس معاہدے پر مغربی ممالک کے ممکنہ رد عمل کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے جو ترکی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس کے مطابق اس کا ایس 400 میزائل دفاعی نظام زمین سے فضاء میں 400 کلو میٹر تک بیک وقت 80 اہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے کیوں کہ وہ ہر ہدف پر دو میزائل داغتا ہے۔ واضح رہے کہ روس نے دسمبر 2015 میں ترکی کی جانب سے طیارہ گرائے جانے کے بعد شام کے شہر لاذقیہ میں واقع روسی فوجی اڈے میں ایس 400 نصب کر دیا تھا۔

روہنگیا کے مسلمان کسی مسیحا کے منتظر

گزشتہ دنوں جب اسلامی ممالک میں عیدالاضحی جوش و خروش سے منائی جا رہی تھی اور مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کو ذبح کر رہے تھے، اِسی دوران بدھ مذہب کے پیروکار ملک میانمار (برما) میں روہنگیا مسلمانوں کو قربانی کے جانوروں کی طرح بے دردی سے ذبح کیا جا رہا تھا۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، خواتین اور بچوں کو زندہ جلانے کی یہ ویڈیوز جب سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں تو اِن ویڈیوز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور اُن پر ظلم و ستم کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے لیکن گزشتہ دنوں اس بربریت میں شدت دیکھنے میں آئی اور صرف ایک ہفتے میں برمی فوج اور بودھ انتہا پسندوں نے سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرکے زندہ جلا دیا جبکہ ہزاروں افراد کوزخمی کر دیا گیا۔ بربریت سے بچنے کیلئے دو لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں جبکہ ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش اور برما کی سرحدوں پر بے یار و مدد گار پڑے ہیں۔

5 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میانمار میں اکثریت کا تعلق بدھ مت مذہب سے ہے جبکہ 22 لاکھ سے زائد مسلمان کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں جن میں سے اکثریت روہنگیا میں مقیم ہے۔ 1982ء میں روہنگیا مسلمانوں کو یہ کہہ کر میانمار کی شہریت سے محروم کر دیا کہ وہ غیر قانونی بنگلہ دیشی ہیں اور جب 2012ء میں آنگ سانگ سوچی کی جماعت برسراقتدار آئی تو مسلمانوں اور بدھ مت کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے جس کی بڑی وجہ میانمار کے حکمرانوں اور دیگر قومیوں کا روہنگیا مسلمانوں کو کھلے دل سے تسلیم نہ کرنا تھا۔ 2013ء میں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی اُن اقوام میں شامل کیا جن کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران میانمار میں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ مسلمانوں کے سینکڑوں مکانات اور دیگر املاک بھی نذر آتش کئے جا چکے ہیں جس کے باعث دو لاکھ سے زائد مسلمان دوسرے ممالک میں جا بسے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ میانمار میں برسراقتدار جماعت کی سربراہ اور نام نہاد نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی جب قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی تھیں تو وہ اپنے ہر ٹی وی انٹرویو اور خطاب میں انسانی حقوق کی پاسداری، ظلم و ستم کے خاتمے اور مظلوموں کو اُن کا حق دلانے کی باتیں کیا کرتی تھیں مگر افسوس کہ جب سے انہوں نے ملک کا اقتدار سنبھالا ہے، روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور اُن پر انسانیت سوز مظالم کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہیں۔ سوچی کا یہ موقف ہے کہ جھوٹی معلومات کی بنیاد پر روہنگیا بحران کی غلط تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سوچی ایوان اقتدار میں پہنچ کر انسانی حقوق کی پاسداری اور انصاف کا سبق بھول چکی ہیں جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی نسل کشی کے گھنائونے منصوبے میں برابر کی شریک ہیں۔

حال ہی میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور سعودی عرب نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے میانمار حکومت سے مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے اور اُنہیں بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر حکومت پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر صحیح طرح صدائے احتجاج بلند نہیں کر پا رہی تاہم نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے سوچی سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل ایک درجن سے زائد نوبل انعام یافتہ شخصیات بھی اِسی طرح کا مطالبہ کر چکی ہیں جبکہ سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کیلئے دائر کی گئی آن لائن پٹیشن پر 3 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔

اسلامی ممالک میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے آبدیدہ ہوکر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ اُن کے بقول مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص جرم میں برابر کا شریک ہے۔ واضح رہے کہ ترکی وہ واحد اسلامی ملک ہے جو گزشتہ 5 سالوں کے دوران روہنگیا مسلمانوں کی 70 ملین ڈالر کی امداد کرچکا ہے جبکہ حال ہی میں ترک صدر نے میانمار سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کے تمام اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
میانمار میں ظالم فوج کے ہاتھوں درندگی کا شکار ہونے والے مسلمانوں بالخصوص اعضا کٹے بچوں میں ہمارے اپنے بچوں کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔

روہنگیا کی مسلمان خواتین اپنے مسمار شدہ گھروں کی دیواروں پر خون سے تحریر کر رہی ہیں کہ ’’کب کوئی عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور محمد بن قاسم اُن کی مدد کیلئے آئیں گے؟‘‘ مگر آج مسلمان اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ ایک طرف ہماری مائوں بہنوں، بھائیوں اور بچوں کو کاٹ کر درختوں پر لٹکایا جا رہا ہے، دوسری طرف ہم تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ مجھ سمیت اب کسی پاکستانی سے یہ مناظر نہیں دیکھے جاتے۔ تقریباً دو سال قبل 40 اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد جس کے سربراہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا مگر آج یہ اتحاد بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا بہیمانہ سلوک دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟

اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا فوری نوٹس لے کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر آج اسلامی ممالک نے متحد ہوکر میانمار کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے تو پھر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم و زیادتیوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور مسلمانوں کا ارزاں خون یونہی بہتا رہے گا۔ حال ہی میں عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی اور بدھ مت مذہب کے انتہا پسند مذہبی پیشوا آشن وارتھو کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو چاہئے کہ جس طرح ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل ریڈووان کرازک پر مقدمہ چلاکر سزا دی گئی تھی، اُسی طرح آنگ سوچی، آشن وارتھو، میانمار کی افواج کے سربراہ اور مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث دیگر افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

مرزا اشتیاق بیگ

 

سوا ارب افراد کو خوراک، پانی کی کمی اور افلاس کا خطرہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سوا ارب سے زیادہ افراد کو زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخیزی کے سبب خوراک، پانی کی کمی اور افلاس کا خطرہ ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے کنوینشن (یو این سی سی ڈی) نے منگل کو کہی ہے۔ یو این سی سی ڈی نے کہا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں زمین کے قدرتی ذخائر کا استعمال دگنا ہو گیا جس سے کرۂ ارض کی ایک تہائی زمین کی زرخیزی شدید طور پر متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر سال 15 ارب درخت کاٹے جا رہے ہیں جبکہ 24 ارب ٹن زرخیز زمین ختم ہوتی جا رہی ہے۔ چین کے شہر اورڈوس میں جاری ہونے والی رپورٹ میں یو این سی سی ڈی نے کہا: ‘جس زمین پر ہم رہ رہے ہیں اس پر اس قدر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بکھرنے کے قریب ہے اور اسے بچانے کے لیے اس کی حفاظت اور تجدید کاری ضروری ہے۔’ اقوام متحدہ کا ادرہ یو این سی ڈی ڈی زمین کی بہتر دیکھ بھال اور استعمال کو فروغ دیتا ہے اور یہ عالمی سطح پر زمین کے سلسلے میں واحد قانونی معاہدہ ہے۔

یو این سی ڈی ڈی کے نائب ايگزیکٹو سیکریٹری پردیپ مونگا نے کہا کہ جنگل کاٹنے، حد سے زیادہ چراہ گاہوں کا استعمال کرنے، سیلاب کے بار بار آنے اور خشک سالی کے سبب جب زمین کم زرخیز ہو جاتی ہے تو لوگ شہروں اور دوسرے ممالک کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وسائل کی کمی کے سبب تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان سب سے معیشت متاثر ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا: ‘اگر آپ زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخیزی کو نہیں روکیں گے تو ہم ایک ایسے چکر میں پھنس جائیں گے جہاں لوگوں کو اپنے روزگار، گھربار اور کھیت کھلیان کو کھونا پڑ سکتا ہے۔’ انھوں نے مزید کہا کہ اگر زمین کی زرخیزی کم ہوتی ہے تو دنیا کو لوگوں کے کھانے کے لیے کم چیزیں دستیاب ہوں گی۔

ایک اندازے کے مطابق ابھی دنیا کی آبادی سات ارب ہے جو کہ سنہ 2050 میں نو ارب ہو جائے گی اور اس کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پردیپ مونگا نے بتایا ‘اگر ہم زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخيزی کو روک سکیں، اپنے ریگستانوں کو سبزہ زار بنا سکیں تو ہم بہ آسانی اپنی خوراک کو محفوظ کر سکتے ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ جیسے ‘کھانا ضائع نہ ہونے دیں، زمین کی مینجمنٹ میں بہتری لائیں، کاشتکاری کے سمارٹ طریقے اپنائے جائیں اور زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخیزی کو روکنے کے لیے قومی پالیسی وضع کریں تو اس بہت زیادہ فرق پڑے گا۔‘

انھوں نے کہا ‘ہم خشک سالی یا قحط سالی کو روک نہیں سکتے لیکن ہم ایسے منصوبے بنا سکتے ہیں تاکہ اس کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہیں۔’ انھوں نے کہا کہ چین نے سنہ 2002 میں زمین کے ریگستان میں بدلنے کے خلاف پہلا قانون بنایا تھا اور تب سے اس نے ہزاروں ہیکٹر زمین کو منگولیا کے اندرونی حصے میں سبزہ زار بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں مزید غذا اور نوکریاں پیدا ہوئی ہیں اور مقامی لوگوں کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔

نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم نااہلی کے لئے بنیاد مختلف ہو سکتی ہے. جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانج رکنی بینچ پاناما کیس کے فیصلے پر شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس میں حتمی فیصلہ جاری کرنے والا پانچ رکنی بینچ درست نہیں تھا۔ دو معززجج پہلے فیصلہ دے چکے تھے، فیصلہ دینے والے دو ججز پاناما عملدرآمد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی موقع دیا گیا کہ وہ وضاحت کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2 ممبران کے فیصلےکو چیلنج نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہےآپ نے فیصلہ قبول کیا۔ خواجہ حارث نے کہا وہ اقلیتی فیصلہ تھا، اس لیے چیلنج نہیں کیا کیونکہ اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، 20 اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔ خواجہ حارث نے کہا سوال یہ ہے کہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی؟ تحقیقات اور ٹرائل کے لیے مانیٹرنگ جج کی کوئی نظیر نہیں ملتی، نواز شریف کو ایف زیڈ ای کے معاملے پر نااہل قراردیا گیا، نااہلی کے لیے صفائی کا حق دینا بھی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نگراں جج کے ہوتے ہوئے شفاف ٹرائل کیسے ہو گا ؟ نگراں جج نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والےبینچ کا بھی حصہ تھے، نگراں جج کی تعیناتی سے نواز شریف کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، عدالت خود شکایت کنندہ، پراسیکیوٹر اور جج بن گئی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا تحقیقات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کی تعریف ضرور کی تھی مگر ٹرائل کورٹ میں اسکی سکروٹنی ہو گی، آپ کے پاس موقع ہو گا کہ آپ گواہان اور جے آئی ٹی ممبران سے جرح کر سکیں گے، ٹرائل کورٹ کو آزادی ہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ خواجہ حارث نے کہا 2 ججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، انہی دو ججز نے 28 جولائی کو مختلف فیصلے پر دستخط کیے، 20 اپریل کا اکثریتی فیصلہ منظور ہے، جس بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اس پر ان کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا، نواز شریف کی نااہلیت نہیں بنتی تھی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عملدرآمد بنچ ختم ہو گیا تھا، فیصلہ لکھنے والوں کو پتہ ہے کہ انہوں نے کیا لکھا۔

خواجہ حارث نے کہا بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کا چنائو کیا، انہوں نے ہی رپورٹ پر فیصلہ دیا، عملدرآمد بنچ کو آزاد ہونا چاہیے تھا۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا امید ہے آپ یہ نہیں کہیں گے کہ ججز سپریم کورٹ کا کام نہیں کر سکتے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کے مطابق 2 ججز نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ دیا، آپ نے 2 ججز کے فیصلے کو اقلیتی قرار دیا، 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر سب کے دستخط موجود تھے، عدالتی فیصلے میں اختلاف صرف جے آئی ٹی کے معاملے پر تھا، تین میں سے کسی جج نے نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو 5 ججز نے اپنا حتمی فیصلہ دے دیا، 20 اپریل کو نااہل کرنے والوں نے 28جولائی کو کچھ نہیں کہا، وجوہات مختلف لیکن نتیجہ ایک ہی اخذ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کی نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

نہ دہشت گرد نہ پناہ گزین بلکہ صرف بچّے

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں عین اسی دوران دنیا بھر میں پناہ گزین بچوں کی تعداد 5 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو اپنے گھروں ، خاندانوں اور ماحول سے محروم ہو چکے ہیں۔ دنیا میں 5 کروڑ بچے ٹھکانہ کھو دینے یا ہجرت کرنے یا پھر نقل مکانی کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں نے پانی میں ڈوب کر موت کا سفر بھی کر لیا ! ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی پناہ گزین بچے کی آنکھوں میں جھانکیں اور ہمیں ان میں “خوف” یا “وبائی بیماری” یا “اندیشہ” نظر نہ آئے. یہ وہ پیغام ہے جو بچوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف نے دو روز قبل ایک “مختصر فلم” کے ذریعے جاری کیا۔ اس فلم کا مقصد رواداری کی سوچ کو پروان چڑھانا اور ان ناتواں پھولوں کے واسطے اس سوچ کو قبول کرنا ہے۔

پناہ گزینوں بالخصوص بچوں کا یہ سفر کبھی بھی “پھولوں کی سیج” نہ ثابت ہوا ہے اور نہ کبھی ہو گا۔ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے ، ان میں بعض کو اس کی ماں یا باپ کے سینے سے الگ کیا گیا اور بعض سرحدوں کے درمیان تنہا بے گھر ہوئے۔ موت سے فرار اختیار کرنے والے یہ بچے مکمل زندگی کے مستحق ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ جس کرب سے گزرے ہیں ، جس خوف سے دوچار ہوئے ہیں اور ہر لمحہ جس محرومی کا شکار ہوئے ہیں اس کا تصوّر بھی ممکن نہیں ہے۔

بڑوں کے تنازعات میں بچوں کے دُکھ
اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ہر 5 میں سے 1 بچے کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے. اور ان میں 90% سے زیادہ بچے تنازعات اور جنگوں سے متاثرہ ممالک میں رہتے ہیں۔ اس طرح ابھی تک تنازعات بڑی آسانی کے ساتھ کروڑوں بچے اور بچیوں سے ان کا بچپن چھین رہے ہیں۔ بالخصوص مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں “تنازعات کا شکار” ان بچوں نے ایسے پُرتشدد حالات دیکھے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی ! ایک اندازے کے مطابق صرف شام میں محصور علاقوں یا ان علاقوں میں جہاں پہنچنا دشوار ہے رہنے والے بچوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ان تک محدود امداد ہی پہنچ سکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ