وسطی ایشیا کے خانہ بدوش منگول آخر کون تھے ؟

وسطی ایشیا کے خانہ بدوش منگول آخر کون تھے جنہوں نے چنگیز خان اور دیگر کی سربراہی میں مغربی یورپ اور اسلامی دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان کا رہن سہن کیسا تھا ؟ لین پول کی تحقیق کے مطابق منگول باقی قبیلوں کی طرح کا ایک قبیلہ تھا لیکن وہ ان قبیلوں میں اپنی منفرد عزت ضرور رکھتا تھا۔ ان آبادیوں کے جنوب میں صحرائے گوبی تھا جہاں دیگر قبائل سارا سال پانی اور اپنے جانوروں کے لیے چارہ تلاش کرنے میں سرگرداں رہتے تھے۔ ان کی تمام عمر شکار کرتے گزر جاتی تھی۔ جانوروں کا شکار ان کا پیشہ تھا۔ انہی جانوروں سے وہ گوشت دودھ، اون اور چمڑا حاصل کرتے تھے۔

ان کا گزر بسر جانوروں کی کھالوں کے لین دین پر ہوتا تھا۔ ان قبائل کا لین دین ترکوں اور ہمسایہ طاقت چین سے تھا۔ قبائل بیرونی حملوں اور ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہنے کے لیے چین کو خراج یا ٹیکس ادا کرتے تھے۔ اس دورافتادہ علاقے کے بارے میں معلومات تیرہویں صدی میں دستیاب ہوئیں جب دو یورپی انگریزوں فریز جان اور فریر ولیم نے علاقے میں پہنچ کر باقی دنیا کو ان قبائل کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ مارکو پولو کے سفر نے دنیا کو منگول اور چین کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

منگول لکڑی کے فریم کے اوپر بنائے جانے والے گول سے خیموں میں رہتے تھے۔ انہیں یورٹ کہا جاتا ہے۔ اس کی چھت پر تیل سے بھیگا ہوا نمدا ہوتا تھا جس پر سفید چونا پھیر دیا جاتا۔ یہ ڈھانچہ برف یا بارش کے پانی اور تند و تیز ہواؤں سے خیمے کو محفوظ رکھتا تھا۔ خیموں کا دروازہ شمال کی جانب رکھا جاتا تھا۔ دور سے یہ خیمے مشروم کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ ان خیموں کو چھکڑوں کے اوپر بھی رکھا جاتا تھا۔ ہجرت کرتے وقت یہ خانہ بدوش اپنے خیمے یا تمبو اٹھا کر ساتھ لے جاتے تھے۔ کیمپوں کی جگہ کا انتخاب کرتے وقت گرمی اور سردی کے موسموں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ سامان بیل گاڑیوں کے ذریعے لایا جاتا تھا۔ خیموں کے دروازے رنگ دار ہوتے تھے۔ ان دروازوں پر خوبصورتی کے لیے پودے، بیلیں اور درخت بھی لگائے جاتے تھے۔ خیمہ نما یہ گھر آج بھی خانہ بدوش منگول استعمال میں لاتے ہیں۔

منگول جنگلی جانور اور پرندے بھی پالنے کے شوقین تھے۔ خیموں کے اندر فرش پر سوکھی گھاس ڈالی جاتی تھی جس کو جانوروں کی کھالوں اور ہاتھ سے بنی دریوں سے ڈھانپا جاتا تھا۔ خیموں کے اندر عورتوں کے بیٹھنے کی جگہ مردوں سے ہٹ کر بنائی جاتی تھی۔ خیموں کے اندر موجود آتش دانوں سے ذرا ہٹ کر گھر کا مالک کاوچ پر بیٹھتا تھا۔ خیمے کے وسط میں دھوئیں کے اخراج کے لیے ایک سوراخ رکھا جاتا تھا۔ خیموں کے اندر بیٹھنے کا ایک مخصوص انتظام ہوتا تھا۔ گھر کے مالک کے کاوچ سے آگے اس کا بھائی پھر اس کے آگے اس کی بیوی کا بھائی اور اسی طرح رتبے کے لحاظ سے نشستیں لگائی جاتی تھیں۔

مقصود شیخ

Advertisements

کیا مسٹر صدام کو ملازمت مل گئی ؟

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا عراقی سیاست اور امریکیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کیے جانے کے بعد موت کے گھاٹ اتارے جانے تک کے واقعات تو منظر عام پر آتے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے میں آیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدام حسین کی زندگی میں ان کے طالب علمی دور کا واقعہ ہے۔ مصلوب صدر خود بھی اپنے ساتھیوں کو یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔ سنہ 1960ء کو صدام حسین اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مصر آئے جہاں انہوں نے پہلے مرحلے میں قصر انٹرمیڈیٹ اسکول میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا اور جامعہ کے قریب واقع الدقی کالونی میں رہائش اختیار کی۔ یہ کالونی دوسرے عرب ملکوں کے تارکین کے لیے مشہور تھی۔

صدم حسین اکثر کالونی کے ایک کباب ہوٹل میں جاتے۔ مصری مورخ وسیم عفیفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہوٹل میں صدام حسین کی پسندیدہ غذاؤں میں سینڈوچ اور ’اسکالوپ روز بیف‘ ان کی پسندہ ڈشز تھیں مگر وہ سبزیاں اور چاول بہت کم کھاتے۔ صدام حسین کے پاس اکثر سینڈوچ خریدنے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے ہوٹل جانے کے بجائے ایک کیفے میں چلے جاتے۔ کیفے میں کام کرنے والے اپنے ایک دوست کو کباب ہوٹل کے مالک کے نام سینڈوچ کا پیغام بھجواتے اور ساتھ ہی کہتے کہ گھر سے پیسے آنے کے بعد انہیں رقم ادا کر دی جائے گی۔ اس طرح صدام حسین اور ہوٹل مالک کے درمیان ادھار چلتا رہتا۔ صدام حسین بہت تاخیر سے قرض ادا کرتے تاہم ریستوران کے مالک صدام کے آرڈر پر سینڈوچ تیار کرا کے فوری روانہ کر دیتے۔

جب صدام حسین تعلیم مکمل کر کے واپس عراق لوٹے وہ اس وقت بھی مصری ریستوران کے مالک کے مقروض تھے۔ کچھ عرصہ بعد صدام حسین سابق صدر احمد حسن البکر کے نائب صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے محسن مصری ہوٹل کے مالک کو اپنے ایلچی کے ذریعے 10 ہزار ڈالر کے مساوی رقم بھجوائی۔ اس رقم کا بیشتر حصہ ماضی میں کھائے گئے سینڈوچ، برگر اور دیگر کھانوں کی مدت میں کاٹا جانا تھا۔ جب عراقی ایلچی یہ رقم لے کر ہوٹل کے مالک کے پاس آیا تو اس نے ایلچی سے پوچھا کہ’ تو کیا استاد صدام کو ملازمت مل گئی‘۔ بعد ازاں یہ بات ایلچی نے صدام حسین کو بتائی اور محفل میں سب لوگ اس لطیفے پرخوب ہنسے۔ وہ عراق میں تعینات امریکی سفیروں اور دیگر اقارب کو بھی یہ لطیفہ سناتے، خود بھی ہنستے اور دوسروں کو بھی ہنساتے تھے۔

قاہرہ اشرف عبدالحمید

بولیویا میں چے گویرا کی مشکلات

کیوبا میں کامیابی کے بعد چے نے لاطینی امریکا کے ملک بولیویا کا رخ کیا تاکہ وہاں بھی گوریلا کارروائیوں کی مدد سے انقلاب لایا جا سکے۔ اس دوران وہ ڈائریاں لکھتا رہا، جو شائع ہو چکی ہیں۔ اس میں 7 نومبر1967 سے 7ا کتوبر 1967 تک کے واقعات درج ہیں جب یارو کی گھاٹی میں معرکہ ہوا اور چے پکڑا گیا۔ چے کے ساتھی آنجہانی فیڈل کاسترو نے ڈائریوں کی اشاعت کے موقع پر چے کی زندگی کے اس مشکل دور پر لکھا ہے جو قارئین کی نذر ہے.

بولیویا کی جنگ میں چے نے انتہا لگن، جرأت، پامردی اور مثالی کردار کا مظاہرہ کیا۔ یوں سمجھئے کہ اس مشن کی اہمیت کے احساس سے جو اس نے اپنے ذمہ لیا تھا وہ ہر وقت احساس ذمہ داری سے سرشار رہا۔ جب بھی گوریلا جانبازوں کو اس نے بے پروا پایا۔ اس نے ان کا محاسبہ کیا اور اس واقعہ کو ڈائری میں درج کیا۔ اسے ناقابل یقین حد تک دشواریوں کا سامنا رہا۔ گوریلوں کا ایک گروہ جس میں بہت کام کے آدمی تھے۔ دشوار راستوں میں رسل و رسائل کا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ سے دستے سے بچھڑ گیا۔ اس گروہ میں زخمی بھی تھے، بیمار بھی۔ چے کوان کی تلاش میں کئی مہینے لگے۔ اس دوران میں اس کا دمہ جسے ایک معمولی دوائی سے آرام آجایا کرتا بہت شدید صورت اختیار کر گیا۔

گوریلوں کی دوائیوں کا ذخیرہ دشمن کے ہاتھ لگا اس لئے یہ بیماری چے کے لئے ایک مستقل عذاب بن گئی۔ اگست میں دستے سے بچھڑے ہوئے گروہ کا دشمن نے صفایا کر دیا۔ ان حادثات نے حالات کوبہت حد تک اثر پذیر کیا۔ لیکن اس نے اپنی آہنی قوت ارادی سے اپنے جسمانی عارضے پر قابو پایا اور اس کی ہمت میں کوئی کمی آئی نہ عمل میں! کسانوں کے ساتھ چے نے رابطہ رکھا۔ ان کے کردار میں بے اعتمادی اور شبہ کے عناصر سے اسے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ ان کی افتاد طبع سے واقف تھا۔ کئی موقعوں پر ان سے میل جول نے اس پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ مستقل مزاجی صبر اور لگاتا ر محنت سے ان کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ اسے انجام کار اپنی کامیابی میں کبھی شبہ نہیں ہوا۔

اگر واقعات کے تسلسل کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اپنی موت سے چند ہفتے قبل ستمبر میں اس کے اعتماد والے ساتھیوں کی تعداد بہت ہی کم رہ گئی تھی۔ اس وقت بھی گوریلا دستے کی نشوونما میں کسی طرح کی کمی نہیں آئی اور بولیویا کے گوریلے مثلاً انٹی اور کوکو پیرؔیڈو قیادت کے شاندار جوہر دکھانے لگے تھے۔ ہیگورا کے مقام پر دشمن کے شب خون نے ان کے لئے انتہائی مشکلات پیدا کیں۔ چے کے گوریلا دستے کے خلاف دشمن کی یہ پہلی اور آخری کامیابی تھی۔ چے کا دستہ دن میں کسانوں کے ایک ایسے علاقے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں سیاسی بیداری مقابلتاً زیادہ تھی (یہ مقصد ڈائری میں تحریر نہیں لیکن پسماند گان کو اس کا علم تھا) دشمن نے ہراول گوریلا دستے کا صفایا کر دیا اور بہت سے دوسرے سپاہی بھی زخمی ہوئے۔

دن کی روشنی میں اسی راستے پر گامزن رہتا جس پر وہ کئی روز سے چل رہے تھے اور لامحالہ اس علاقے کے لوگوں سے واسطہ رکھنا پڑتا تھا۔ بلاشبہ خطرے کی بات تھی۔ یہ امریقینی تھا کہ سرکاری فوج کسی وقت بھی ان کاراستہ روک لے گی۔ اس احساس کے باوجود چے نے یہ خطرہ مول لیا کیونکہ وہ اس ڈاکٹر کی مدد کرنا چاہتا تھا جس کی حالت غیر تھی۔ جھڑپ سے ایک دن پہلے وہ لکھتا ہے۔ ’’ہم پوجو پہنچے۔ وہاں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے ہمیں ایک دن پہلے نشیب میں دیکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے بارے میں ’’ریڈیو بمبا‘‘ (کیوبا میں زبانی خبریں پہنچانے کو ریڈیو بمبا کہا جاتا ہے) کے ذریعے اطلاعات پہلے ہی پہنچ چکی تھیں۔ خچروں کے ساتھ یہ سفر خطر ناک ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اچھے سے راستے سفر کرے کیونکہ وہ بہت کمزور ہو چکا ہے۔‘‘ اگلے روز کی ڈائری میں لکھا ہے۔ ’’13 ہراول دستے نے جاگوئی پہنچنے کی کوشش کی تا کہ وہاں پہنچ کر ڈاکٹر اور خچروں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔‘‘

اس سے ظاہر ہے کہ چے بیمار ڈاکٹر کے تحفظ کے بعد ہی اس خطر ناک راستے کو چھوڑنے اور ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اسی دو پہر ہراول دستے کے جاگوئی پہنچنے سے پیشتر ہی دشمن نے گھات سے حملہ کیا جس نے گوریلا دستے کو ناقابل برداشت مشکلات میں ڈال دیا۔ چند دن بعد کیوبر اڈاڈبل بورو کے مقام پر گھرے ہوئے اس نے آخری جنگ لڑی۔ ان مٹھی بھر انقلابیوں کی ہمت اور قوت برداشت حیرت انگیز ہے۔ اکیلے دشمنوں میں گھرے ہوئے لڑنا شجاعت کی لاثانی مثال ہے۔

تاریخ میں اس سے قبل اتنے کم لوگوں نے اتنا بڑا کارنامہ سرانجا م نہیں دیا۔ یہ اٹل یقین کہ لا طینی امریکہ کے عوام کی عظیم انقلابی اہلیت اور قوت کو بیدار کیا جا سکتا ہے اور وہ خود اعتمادی اور عزم جس سے وہ اس مشن میں مگن رہے۔ ان انسانوں کی عظمت کے صحیح پیمانے ہیں! ایک روز چے نے بولیویا کے گوریلا جانبازوں سے کہا ’’اس قسم کی جنگ ہمیں انقلابی بننے کے مواقع بہم پہنچاتی ہے جو انسانیت کااعلیٰ ترین مقام ہے۔ یہ ہمیں مردانگی کی سند عطا کرتی ہے جو لوگ ان دو مقامات میں سے کسی ایک پر پہنچنے کے اہل نہیں انہیں چاہیے کہ اعتراف کرتے ہوئے ہم سے علیحدہ ہو جائیں۔

فیڈل کاسترو

سلطنت عثمانیہ کی یادگار، ترکی کا تاریخی گرینڈ بازار

ترکی کے شہر استنبول میں واقع تاریخی گرینڈ بازار کا شمار دنیا کے قدیم ترین بازاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد سن چودہ سو پچپن میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں رکھی گئی۔ گرینڈ بازار میں اکسٹھ گلیاں اورسینکڑوں دکانیں ہیں-

 

 

 

 

 

 

 

 

چنگیز خاں , نپولین اور سکندراعظم کون بڑا فاتح تھا ؟

سات سو سال پہلے ایک آدمی نے دنیا کو قریب قریب بالکل ہی فتح کر لیا تھا۔ اس زمانے کے ربع مسکون کے نصف حصہ پر اس نے اپنا تصرف قائم کیا اور نوع انسان پر ایسی دھاک بٹھائی جس کا اثر کئی نسلوں تک باقی رہا۔ اپنی زندگی میں اس نے کئی نام پائے قتال اعظم، قہر خدا، جنگجوئے کامل، باج گیر تاج و تخت۔ عام طورپر وہ چنگیز خان کے نام سے معروف ہے۔ بہت سے صاحبان اپنے خطابوں کے اہل نہیں ہوئے، مگر وہ ان سب خطابوں کا اہل تھا۔ ہم امریکی، جن کی تعلیم یورپی روایات کے مطابق ہوتی ہے، بڑے شہنشاہوں کی فہرست مقدونیہ کے سکندر اعظم سے شروع کرتے ہیں اورروم کے محلوں کو شمار کرتے ہوئے، اس فہرست کو نپولین پر ختم کرتے ہیں، لیکن اس یورپی بازی گاہ کے کھلاڑیوں کے مقابلے میں چنگیز خان بہت ہی بڑے پیمانے کا فاتح تھا۔

معمولی معیاروں سے اس کا جانچنا مشکل ہے۔ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کرتا تو اس کا سفرمیلوں نہیں، عرض البلد اور طول البلد کے پیمانوں پر ہوتا۔ اس کے راستے میں جو شہر آتے، اکثر حرف غلط کی طرح مٹ جاتے۔ انسانی جانوں کی ایسی تباہی، آج کل کے انسان کے تخیل کو ششدر کر دیتی ہے۔ ایک خانہ بدوش سردار چنگیز خاں نے صحرائے گوبی سے خروج کیا۔ دنیا کی متمدن قوتوں سے جنگ کی اور اس جنگ میں کامران ہوا۔ یہ سب اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہمیں تیرہویں صدی عیسوی کی طرف واپس لوٹنا پڑے گا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کا خیال تھا کہ اس عالم اسباب و اشیا میں یہ غیر معمولی انقلاب محض کسی مافوق الفطرت قوت کے ظہورسے ہی آ سکتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ قیامت کے آثار ہیں۔ ایک مؤرخ لکھتا ہے۔ ’’کبھی اس سے پہلے مغلوں اور نصرانیوں کے حملوں کے نرغے میں دارالسلام کی یہ حالت نہیں ہوئی‘‘۔

عیسائی دنیا بھی چنگیز خاں کی موت کے بعد مغلوں کی اگلی پشت کے مقابلے میں اتنی ہی سراسیمہ و حیران تھی جب کہ خونخوار مغل شہسوار مغربی یورپ کو روندتے پھرتے تھے۔ پولینڈ کا شاہ بولسلاس اورہنگری کا بادشاہ بیلا شکست کھا کے جنگ کے میدانوں سے بھاگے تھے اورسائی لیسیا کا ڈیوک ہنری اپنے تیوتائی شہسواروں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔ یہی حشر روس کے گرینڈ ڈیوک جارج کا ہوا تھا۔ اور قشتالیہ کی خوبرو ملکہ بلانش نے فرانس کے بادشاہ سینٹ لوئی کو یاد کر کے پکارا تھا، ’’میرے بیٹے تو کہاں ہے!‘‘ جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک ثانی نے، جو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کا عادی تھا، انگلستان کے شاہ ہنری ثالث کو لکھ بھیجا کہ یہ ’’تاتاری‘‘ عذاب الٰہی سے کم نہیں، جو نصرانی دنیا پر عیسائیوں کے گناہوں کی پاداش میں نازل ہوئے ہیں۔

ہاں تک کہ روجر بیکن جیسے فلسفی نے یہ رائے ظاہر کی کہ مغل دراصل دجال کے سپاہی ہیں اوراب اپنی آخری دہشت ناک فصل کاٹنے آئے ہیں۔ چنگیز خاں ایک خانہ بدوش تھا، شکاری تھا، چرواہا تھا، لیکن تین بڑی سلطنتوں کے سپہ سالاروں کواس نے شکست دی۔ وہ وحشی تھا، جس نے کوئی شہر نہیں دیکھا تھا اورلکھنا پڑھنا نہ جانتا تھا لیکن اس نے پچاس قوموں کے لیے قانون بنایا اور نافذ کیا۔ جہاں تک خداداد فوجی قابلیت کا تعلق ہے، بادی النظر میں نپولین یورپ کا سب سے درخشاں سپہ سالار تھا، لیکن ہم یہ فراموش نہیں کر سکتے کہ نپولین نے ایک فوج کو مصر میں تقدیر کے حوالے کر کے چھوڑ دیا اور دوسری فوج کا بچا کھچا حصہ روس کے برف زاروں کے حوالے کر دیا اور بالآخر واٹرلو کی شکست پراس کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ اس کے جیتے جی اس کی سلطنت مٹ گئی، اس کا قانون پارہ پارہ کر دیا گیا اوراس کی موت سے پہلے اس کے بیٹے کو محروم الارث قرار دیا گیا۔ یہ پورا واقعہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تھیٹر میں کوئی ڈراما ہو رہا ہو اور جس میں نپولین خود بھی محض ایک ایکٹر ہو۔

فتح مندی میں چنگیز خاں سے موازنہ کرنے کے لیے مقدونیہ کے سکندر اعظم کا ذکر ضروری ہے۔ سکندر ایک بے پروا اورفتح مند نوجوان تھا۔ دیوتائوں جیسا، جو اپنی صف بہ صف فوج کے ساتھ مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اس کے ہمرکاب یونان کے تمدن کی برکتیں تھیں۔ سکندر اور چنگیز خاں دونوں کی موت کے وقت ان کے اقبال کا ستارہ انتہائی عروج پر تھا اور ان کے نام ایشیا کی حکایتوں میں محفوظ ہیں۔ دونوں کی موت کے بعد کے واقعات سے دونوں کی حقیقی کامرانیوں کے حاصل کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ فرق بے اندازہ ہے۔ سکندر کے مرتے ہی اس کے سپہ سالار آپس میں لڑنے لگے اور اس کے بیٹے کو سلطنت چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ لیکن چنگیز خاں نے اس قدر کامل طورپر اپنے آپ کو آرمینیا سے کوریا تک اورتبت سے دریائے نیل تک کے علاقے کا مالک بنا لیا تھا کہ بلا کسی ردوکد کے اس کے بیٹے کو اس کی جانشینی نصیب ہوئی اور اس کا پوتا قبلائی خان بھی نصف دنیا پر حکمران تھا۔

ہیرالڈ لیم