ایک غلط بٹن دبنے سے امریکہ میں بیلسٹک میزائل حملے کی وارننگ جاری ہو گئی

امریکی ریاست ہوائی میں موبائل فونز پر بیلسٹک میزائل حملے کی وارننگ ملتے ہی ہر جانب ہلچل مچ گئی۔ وارننگ میں کہا گیا تھا کہ بیلسٹک میزائل کا حملہ ہونے والا ہے، جلد سے جلد پناہ گاہیں تلاش کی جائیں یہ کوئی مذاق نہیں ہے، مگر بعد میں اسے انسانی غلطی قرار دے دیا گیا۔ امریکی حکام نے کہا پیغام غلطی سے چلا گیا تھا، وارننگ مشق کی تھی۔ اس حوالےسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بریفنگ دی گئی جبکہ ہوائی کے گورنر نے غلط خبر پر عوام سے معذرت کر لی۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق شہریوں کے چہروں پر خوف، دلوں میں دہشت اور جان بچا کر بھاگنے کے مناظر فلموں میں تو بہت دیکھے ہوں گے مگر امریکی ریاست ہوائی میں یہ حقیقت بن گیا تھا۔

 ہوائی کے ایمرجنسی مینجمنٹ آفس کی جانب سے ٹویٹ جاری کیا گیا کہ ہوائی کو کوئی خطرہ نہیں، گورنر ہوائی کا کہنا ہے انسانی غلطی کے باعث غلط وارننگ جاری ہوئی تھی۔ صحافیوں نے ایج سے اصرار کرتے ہوئے بارہا پوچھا کہ ایسی غلطی کس طرح ہوئی تو گورنر کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ ہر وہ ممکن اقدام کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔ ہوائی میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ادارے عہدیدار ورن میاگی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ غلط پیغام جاری کرنے والے ذمہ دار شخص کو اپنی اس “خطرناک غلطی کا احساس ہے”۔

مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ انھیں میزائل حملے کا انتباہی پیغام، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ای میلز اور موبائل فونز پر بھی موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ “ہوائی کی طرف بیلسٹک میزائل آ رہا ہے، فوراً محفوظ مقام تلاش کریں، یہ کوئی مشق نہیں ہے۔” انتباہی پیغام جاری ہونے اور الارم بجنے کے بعد ہوٹلوں میں مقیم افراد کو فوراً تہہ خانوں میں منتقل کر دیا گیا اور مقامی لوگ اپنے اپنے گھروں میں محفوظ ترین جگہوں کی تلاش میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس انتباہ کے 20 منٹ کے بعد ہی یہ حکام کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ پیغام ایک اہلکار کی طرف سے غلطی سے بٹن دب جانے کے باعث جاری ہوا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

Advertisements

شدید کشیدگی کے بعد شمالی و جنوبی کوریا میں مذاکرات کا آغاز

شمالی اور جنوبی کوریا کے اعلی ترین حکام دو برس بعد پہلی ملاقات میں مشترکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بات چیت میں جنوبی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے معاملے کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جسے شمالی کوریا نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت شمالی کوریا جنوبی کوریا میں ہونے والے موسمِ سرما کے اولمپکس مقابلوں میں اپنے کھلاڑی بھیجنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔ جنوبی کوریا کی حکومت کے بیان کے مطابق دونوں ممالک فوجوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’ہاٹ لائن‘ کو بحال کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ جوہری تخفیف کے معاملے میں شمالی کوریا کے وفد کا رویہ منفی تھا۔ دو دن کے مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تعلقات میں بہتری کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری رکھنے کے علاوہ کچھ دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق کیا تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

شمالی کوریا نے جن معاملات پر اتفاق کیا ان میں اپنی قومی اولمپکس کمیٹی کے وفد کے دورے کے علاوہ کھلاڑیوں، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے والی چیئر لیڈرز، جسمانی کرتب دکھانے والے کھلاڑیوں، تماشائیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی کوریا بھیجنے پر رضامندی شامل ہے۔ جنوبی کوریا نے ان مہمانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان مذاکرات میں جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے ایسے جارحانہ اقدامات سے پرہیز کا بھی کہا ہے جن سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور شمالی کوریا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر پُرامن فضا قائم رکھنا ضروری ہے ۔  مشترکہ بیان کے علاوہ ذرائع ابلاغ نے مذاکرات کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے مطابق:

جنوبی کوریا نے تجویز پیش کی ہے کہ اگلے ماہ کے سرمائی اولپمکس کی افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی اسی طرح اکٹھے گراؤنڈ میں داخل ہوں گے جیسے وہ سنہ 2006 کے اولمپکس میں ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا نے مذاکرات میں زور دیا کہ کھیلوں کے دوران کوریائی قمری سال کی تعطیل کے دن کوریائی جنگ کے دوران ایک دوسرے سے بچھڑ جانے والے خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ملایا جائے۔ جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے کھلاڑیوں کی اولمپکس میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے شمالی کوریا پر لگی پابندیوں کو جنوبی کوریا اقوام متحدہ کے تعاون سےعارضی طور پر اٹھا لے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان امور پر شمالی کوریا کے ردعمل کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مذاکرات کے بعد بیان دیتے ہوئے شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ کے ابتدائی الفاظ بالکل غیر جانبدارانہ تھے۔ ری سون گؤان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ’شمالی کوریا کا موقف مخلصانہ اور سنجیدگی پر مبنی ہے اور انھیں توقع ہے کہ یہ مذاکرات نئے سال کے لیے ایک ’اچھا تحفہ‘ ثابت ہوں گے۔ سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وِنگفیلڈ ہیز کے تجزیے کے مطابق صرف ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا جوہری جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا، اور منگل کی صبح پیونگ یانگ سے ایک وفد چہل قدمی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کھینچی ہوئی اس لکیر کی دوسری جانب پہنچ گیا جس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کیا ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے خیال میں کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اگرچہ ایک ڈرامائی تبدیلی ہیں، لیکن جنوبی کوریا میں کم ہی لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات شمالی کوریا کے رویے میں کسی بنیادی تبدیلی کی نشاندھی کرتے ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون جائئن کو بھی ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ اگر شمالی کوریا کو کسی قسم کے بامعنی مذاکرات پر رضامند کر بھی لیتے ہیں تو خدشہ یہ ہے کہ امریکہ شاید اپنے اتحادی کی اس کوشش کو بھی شک کی نظر دیکھ سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن میری میز پر ہے، کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا بٹن ان کی میز پر ہے۔ سال نو کے آغاز پر اپنے خطاب میں کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ پورا امریکا ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا بٹن دفتر میں ہمیشہ میرے قریب ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ اٹل حقیقت ہے۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ ان کا ملک ایک ذمے دار جوہری ملک ہے جو امن سے محبت کرتا ہے اور یہ تب تک ہے جب تک اس پر کوئی جارحیت نہیں کرتا۔ کم جونگ ان نے اعلان کیا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی پیداوارمیں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو ایٹمی جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لیے ملک کو تیار رہنے کی ضرورت ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق اور راکٹ انجینئرنگ کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

عدنان تابش

کیا روس اور چین، شمالی کوریا کی مدد کر رہے ہیں ؟

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ شمالی کوریا کو چین اور روس کے بحری جہازوں کے ذریعے تیل منتقل کیا گیا ہے۔ چین نے تیل منتقلی کی تردید کی ہے۔ روس کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دو سینیئر مغربی سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کو روس کے بحری جہازوں سے کھلے سمندر میں تیل منتقل کیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ روس کی جانب سے ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے لیے تیل کا حصول حکومتی عملداری قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تیل مال بردار بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکروں پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترسیل کے عمل میں امکاناً روس کے نجی کاروباری حلقوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس مناسبت سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریائی مال بردار بحری جہاز روسی بندرگاہوں سے تواتر کے ساتھ آ جا رہے ہیں۔ ان ذرائع نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے یہ تیل کی منتقلی بحر الکاہل میں ہوئی ہے۔ روسی تیل بردار بحری جہاز مشرقی روسی بندرگاہی علاقوں سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بحری جہازوں کی آمد و رفت انٹیلیجنس سیٹلائٹ پر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تیل کی منتقلی کے حوالے سے معلومات مغربی سکیورٹی ذرائع نے نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی روئٹر کو بتائی ہیں۔ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بظاہر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تیل کی منتقلی میں روسی حکومت ملوث ہے۔ روس کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کی تردید کر دی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ چین نے شمالی کوریا کو تیل کی فراہمی میں چھوٹ دے رکھی ہے۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں۔ ایک جنوبی کوریائی اخبار Chosun Ilbo نے ایک امریکی انٹیلیجنس سیٹلائٹ سے اتاری گئی ایک تصویر شائع کی تھی اور لکھا تھا کہ ایک چینی بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکر پر تیل کی منتقلی دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام نے اس جنوبی کوریائی اخباری رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کا ایک مرتبہ پھر مذاق اڑایا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کا ایک مرتبہ پھرمذاق اڑایا ہے۔ اس مرتبہ ٹرمپ نے کمیونسٹ ملک کے لیڈر کے قد اور وزن کو نشانہ بنایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کا مذاق اڑانے میں ایک نئی حد کو چھُوا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے شمالی کوریائی رہنما کے قد اور وزن کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ قبل ازیں ٹرمپ نے اُن کو ’راکٹ مین‘ اور میڈ مین یا پاگل تک کہہ چکے ہیں۔ شمالی کوریا میڈیا پر ٹرمپ کو ’بوڑھا پاگل‘ قرار دیا تھا اور ٹرمپ کے یہ تازہ استہزائیہ کلمات اسی کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کِم جونگ اُن نے انہیں بوڑھا قرار دے کر اُن کی بے عزتی کی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے کبھی بھی شمالی کوریائی لیڈر کو موٹا اور چھوٹا نہیں کہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ وہ خاصی کوشش کے باوجود کِم جونگ اُن سے دوستانہ تعلقات استوار نہیں کر سکے اور شاید مستقبل میں ایسا ممکن ہو جائے۔ ویتنامی دارالحکومت ہنوئی میں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اُن کی شمالی کوریائی لیڈر سے دوستی ہو جائے تو یہ یقینی طور پر شمالی کوریا اور وہاں کی عوام کے لیے بہت بہتر ہو گا۔ کم جونگ اُن کو راکٹ مین اور پاگل قرار دینے کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی امریکی صدر پر شدید انداز میں جوابی وار کیے تھے۔ شمالی کوریا نے امریکی صدر کو ماؤف الذہن قرار دیا تھا۔

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا۔
سیول پہنچنے پر ایک بیان میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دیدی اور کہا کہ دعا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف کبھی طاقت کا ستعمال نہ کرنا پڑے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیاروں اور میزائل پروگرام پر امریکا سے بات کرے۔

ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفیر نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتحال ’’ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے۔‘‘ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفارت کار کِم اِن ریونگ نے اس عالمی ادارے کی تخفیف اسلحہ کمیٹی کو بتایا کہ شمالی کوریا ’’جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے اور پوری دنیا سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘‘، مگر وہ امریکی دھمکیوں کے باعث جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کر سکتا۔

کِم کا مزید کہنا تھا، ’’دنیا میں کوئی اور ملک ایسا نہیں ہے جسے اتنے طویل عرصے سے امریکا کی طرف سے اس قدر شدید اور مسلسل جوہری دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ ا ہو۔‘‘ شمالی کوریا کے اس سفارت کار نے متنبہ کیا کہ امریکا ’’شمالی کوریا کی فائرنگ رینج میں ہے اور اگر امریکا نے ہماری مقدس سر زمین کے ایک بھی انچ پر حملہ کیا تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری شدید سزا سے بچ نہیں پائے گا‘‘۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹِلرسن نے امریکی ٹیلی وژن سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بحران کو سفارتی ذریعے سے حل کرنے کی کوششیں ’’اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پہلا بم گِر نہیں جاتا‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان لفظوں کی جنگ شروع ہونے اور ایک دوسرے کو تباہ کر دینے کی دھمکیوں کے بعد جزیرہ نما کوریا میں حالیہ چند ماہ کے دوران تناؤ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
پیونگ یانگ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ برس سے اب تک مختلف بیلسٹک میزائل تجربات کے علاوہ دو جوہری تجربات بھی کر چکا ہے۔ ستمبر میں شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے چھٹے جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی تھیں۔

شمالی کوریا کے ہیکروں نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے جنگی منصوبے چوری کر لیے

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے جنوبی کوریا کے فوجی دستاویزات کی ایک بڑی تعداد چوری کر لی ہے جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک قانون ساز ری چول ہی کا کہنا ہے کہ چوری کی جانے والی معلومات وزارتِ دفاع سے متعلق ہیں۔ چوری کی جانے والی دستاویزات میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ سے متعلق تیار کیے جانے والےمنصوبے بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان دستاویزات میں جنوبی کوریا کی خصوصی افواج کے منصوبوں تک رسائی حاصل کی گئی جن میں اہم پاور پلانٹس اور فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات بھی شامل تھیں۔ ری چول کے مطابق جنوبی کوریا کے دفاعی ڈیٹا سینٹر سے 235 گیگا بائٹس فوجی دستاویزات چوری کی گئیں اور ان میں سے 80 فیصد کی ابھی تک شناخت نہیں کی گئی ہے۔ یہ دستاویزات گذشہ سال ستمبر میں ہیک کی گئیں۔ جنوبی کوریا نے مئی میں کہا تھا کہ ان کا بڑی مقدار میں ڈیٹا چرایا گیا تھا اور شاید شمالی کوریا نے اس سائیبر حملے کی ترغیب دی ہو تاہم اس نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

جنوبی کوریا کے ریاستی خبر رساں ادارے ہونہاپ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیئول حالیہ برسوں میں اپنے کیمونسٹ ہمسائے کی جانب سے سائیبر حملوں کا شکار رہا ہے جس میں سرکاری ویب سائٹس اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر ‘من گھڑت دعوے’ عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ شمالی کوریا نے حال ہی میں ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا تھا جسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو ‘راکٹ مین’ کہہ کر پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ خودکش مشن پر ہیں۔ اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ ‘سٹھیائے ہوئے دماغی مریض امریکی کو آگ سے سدھائیں گے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

ٹرمپ تیسری عالمی جنگ کی راہ پر گامزن ہیں، امریکی سینیٹر

امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کئی دیگر ممالک کے خلاف اختیار کردہ دھمکی آمیز رویہ امریکا کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ امریکا میں طاقتور سمجھی جانے والی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ اور صدر ٹرمپ ہی کی ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اہم سیاست دان بوب کورکر نے ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغامات میں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک کے خلاف اختیار کردہ دھمکی آمیز لہجہ امریکا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کورکر نے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ اپنے دفتر کے امور کو کسی ’ریئیلٹی شو‘ کی طرح چلا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے مابین سوشل میڈیا پر جاری نوک جھونک کے بعد بوب کورکر کا اپنی ہی پارٹی کے منتخب کردہ صدر کے خلاف عوامی سطح پر سامنے آنے والے ردِ عمل کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے سینیٹ سے ایران کی جوہری ڈیل اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق بل پاس کروانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ اور کورکر کے مابین سوشل میڈیا پر نوک جھونک کا آغاز ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کے بعد ہوا جس میں انہوں نے کورکر کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں دوبارہ انتخاب لڑنے کی ’ہمت‘ نہیں ہے۔

جواب میں کورکر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وائٹ ہاؤس ’بالغوں کا ڈے کیئر سینٹر‘ بن چکا ہے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر کئی پیغامات لکھے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورکر ملکی وزیر خارجہ بننے کے خواہش مند تھے تاہم صدر ٹرمپ نے ان کی درخواست رد کر دی تھی۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورکر ’ایران کے ساتھ بُری جوہری ڈیل‘ طے کرانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ بیس جنوری کو اپنی حلف برداری کے بعد ٹرمپ نے جو خطاب کیا، وہ اُن کی انتخابی مہم ہی کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ اُنہوں نے بڑے جارحانہ انداز میں ’امریکا پہلے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اُن کی نئی پالیسیاں کس سمت میں جائیں گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ملک میں برسوں سے ایک ’قتلِ عام‘ جاری ہے، جسے اب ختم ہونا ہو گا۔ دنیا انگشت بدنداں ہے کہ یہ لیڈر آخر کیا کرنے والا ہے۔

بعد ازاں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کورکر کا کہنا تھا، ’’مجھے صدر ٹرمپ کے بارے میں خدشات ہیں، صرف مجھے ہی نہیں ملک کا خیال رکھنے والے ہر شخص کو ٹرمپ کے بارے میں خدشات ہونا چاہییں۔‘‘ ریپبلکن پارٹی میں روشن خیال سمجھے جانے والے کورکر نے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی تاہم گزشتہ ہفتے انہوں نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو حکام بالا سے ویسی حمایت نہیں مل رہی جیسی کہ اس وقت انہیں ملنا چاہیے۔ ٹلرسن گزشتہ ہفتے ہی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، اس کے بعد ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’ٹلرسن مذاکرات کی کوشش کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

بشکریہ DW اردو

شمالی کوریا نے وائٹ ہاﺅس پر میزائل برسانے کی تیاری مکمل کر لی

شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پوسٹرز آویزاں کردیئے گئے ہیں جن پر امریکا سے فیصلہ کن جنگ اور امریکی ایوانِ صدر یعنی وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش برسانے کا واضح عندیہ دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پوسٹرز پر لکھا ہے کہ شمالی کوریا پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی تیاری کیجیے۔

پوسٹرز میں شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو زندہ جلاتے ہوئے اور کم عمر لوگوں کو کنویں میں پھینکتے ہوئے دکھایا ہے۔ شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ان پوسٹرز میں صاف لکھا ہوا ہے کہ امریکا سے عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے جس میں وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش کی جائے گی۔ پوسٹروں میں 1950 کی دہائی میں جنگ کے دوران امریکی جارحیت اور امریکی مظالم کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔