سیاچن : دنیا کا سب سے مشکل میدان جنگ

یہ الفاظ پاکستانی فوج میں تقریباً دو دہائیوں سے کام کرنے والے اس ڈاکٹر کے ہیں جس نے سیاچن کے محاذ پر 19 ہزار فٹ کی بلندی پر آٹھ ماہ گزارے اور ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے مشکل اور ناقابل فراموش ترین دن تھے۔ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز اس ڈاکٹر نے سیاچن پر تقریباً 12 سال قبل وقت گزارا تھا اور انھیں اب بھی وہاں ِبتایا ہوا ہر پل یاد ہے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سیاچن شاید دنیا کی سب سے مایوس کن جگہ ہے۔ آپ کو اپنے چاروں جانب صرف برف کی چادر نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی قسم کی کوئی زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔’

اپنے ملک پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ لیے ہزاروں فوجی جب سیاچن پر جاتے ہیں تو وہاں ان کا مقابلہ دشمن کی گولیوں کے بجائے قدرت سے ہوتا ہے۔ سیاچن قراقرم کی برفیلی چوٹیوں پر موجود، تین کھرب مکعب فٹ برف سے بنا ہوا 45 میل لمبا اور تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی سے شروع ہونے والا برف کا وہ جہان ہے جو قطب شمالی اور قطب جنوبی کو چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔ یہاں پر ڈیوٹی ادا کرنے والے فوجیوں کے لیے روایتی تیاری ناکافی ہوتی ہے۔ اس خطے میں موسم اپنی تمام تر سختیاں اور دشواریاں ساتھ لاتا ہے اور عام طور پر یہاں کا درجہ حرارت منفی دس سے منفی بیس ڈگری رہتا ہے جبکہ اکتوبر سے مارچ تک ناقابلِ یقین منفی 50 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سردی کے موسم میں برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطاً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جو کہ وہاں پر کام کرنے والے فوجیوں کے مطابق سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک میجر جنھوں نے حال ہی میں سیاچن سیکٹر پر سات ماہ گزارے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ سانس لینا یعنی وہ چیز جو ہم سب سے آسان سمجھتے ہیں وہی سب سے مشکل کام ہے۔ ‘شہر میں تو ہم کبھی سوچتے بھی نہیں ہیں کہ اگلی سانس آئے گی یا نہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل فرق ہے۔ آپ لمبی سانس لینا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اور اتنی کم آکسیجن میں آرام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔’

سیاچن 323 بریگیڈ کے نائب کمانڈر کرنل عامر اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر ڈیوٹی دینے سے پہلے تمام فوجیوں کو مخصوص تیاری سے گزرنا پڑتا ہے جہاں انھیں آرمی کے کوہ پیمائی کے سکول میں تربیت دی جاتی ہے اور سیاچن کی آب وہوا کا عادی ہونے کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ ‘ہماری اصل کوشش ہوتی ہے کہ فوجیوں کو کم آکسیجن میں پوری صلاحیت سے کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔’ سیاچن پر ڈیوٹی کرنے والے پاکستانی فوجی اپنے کندھوں پر 25 سے 30 کلو وزنی سامان اٹھا کر ہزاروں فٹ بلندی پر سفر کرتے ہیں۔ اس سامان میں آکسیجن کنستر، برفانی کلہاڑی، خشک کھانا، رسیاں، خاص جرابیں اور دستانے شامل ہوتے ہیں۔ ان فوجیوں کے لیے برف پر چلنے والے مخصوص جوتے ہی صرف دس کلو وزنی ہوتے ہیں۔

سیاچن پر کام کرنے کے لیے فوجیوں کو رفتہ برفتہ اونچی چوکیوں پر بھیجا جاتا ہے۔ کرنل عامر اسلام نے بتایا کہ عام طور پر فوجی ایک چوکی پر 45 دن کام کرتے ہیں جس کے بعد انھیں دوسری چوکی پر بھیج دیا جاتا ہے لیکن سردی کے موسم میں ایسا کرنے کافی دشوار ہوتا ہے کیونکہ برفانی طوفان اور تیز جھکڑ سے جان جانے کا کافی خدشہ ہوتا ہے۔ سیاچن کے محاذ پر وقت گزارنے کے بعد اس بات کا واضح اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فوجی جو زندگی سیاچن پر گزارتا ہے اسے وہ تجربہ کسی اور محاذ پر نہیں مل سکتا۔

معمولی کام جیسے دانت برش کرنا، باتھ روم جانا، شیو کرنا، یہ تمام چیزیں 18000 فیٹ کی بلندی پر کرنا جان جوکھوں سے کم نہیں ہے۔ منفی 20 ڈگری کی سردی میں جلد پر ٹھنڈے پانی لگنے کا مطلب ہے فراسٹ بائیٹ اور اس کا علاج صرف اس عضو کو کاٹ کر پھینکنا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں پر ایک اور چیلنج کھانے کا ہوتا ہے۔ ‘ہمیں بس راشن ایک دفعہ ملتا ہے سال میں جسے ہم برف میں سٹور کر لیتے ہیں۔ اور وہ کھانے اگر نہ ہی کھائیں تو بہتر ہے۔’ دوسری جانب کھانا بنانا ایک الگ امتحان ہوتا ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر صرف دال گلانے میں اکثر چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے نیچے آئے تو ان کا وزن 18 کلو گرام کم ہو چکا تھا۔

لیفٹینٹ کرنل نے بی بی سی کو بتایا : ‘آپ سیاچن پر دشواری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تربیت میں بولا جاتا ہے کہ کم ہلو اور آکسیجن بچاؤ۔ لیکن دوسری جانب 19000، 20000 فیٹ کی بلندی پر آپ ساکت نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ اس قدر شدید سردی میں خون جمنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کریں تو کیا کریں؟’ جسمانی بیماریوں کے علاوہ ایک اور مسئلہ ذہنی حالت بھی ہے جس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں چھ ماہ بعد سیاچن سے واپس آنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہاں سب سے زیادہ تکلیف تنہائی سے ہوئی تھی۔ ‘میں نے وہاں 21 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود چوکی پر تین ماہ گزارے تھے اور وہاں پر میرے ساتھ آٹھ اور ساتھی تھے۔ آپ ان آٹھ لوگوں کے ساتھ 24 گھنٹے اٹھنا بیٹھنا ایک ایسے خیمہ میں کرتے ہیں جہاں بمشکل چار لوگوں کی جگہ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس باتیں ختم ہو جاتی ہیں کرنے کو۔’

ملتان کے قریب گاؤں سے تعلق رکھنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر جانے کے دو ہفتے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا لیکن وہ نیچے نہیں آسکتے تھے۔ ‘ایک دفعہ آپ اوپر چلے گئے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ بس افسوس کر سکتے ہیں، اور کیا کریں گے۔’ تنہائی کے اس ماحول میں فوجی آخر وقت کیسے صرف کرتے ہیں؟ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بتایا: ‘یہی ہمارے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے کہ دن کیسے کاٹیں؟ ہمارے پاس لوڈو ہوتی ہے، تاش کے پتے ہوتے ہیں، کبھی ہم ایک دوسرے کو گانے سناتے ہیں تو کبھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں یا موبائل سے سیلفیاں لیتے ہیں۔ سیاچن کی چوکی پر کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ہم اپنے تمام راز اور خفیہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ اور کچھ ہوتا نہیں ہے کرنے کو۔’

البتہ کبھی کبھار ان فوجیوں کو خوشیاں منانے کے مواقع ملتے ہیں جس سے وہ پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سپاہی محمد شفیق نے بتایا کہ حال ہی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی جس میں پاکستان نے انڈیا کو فائنل میں شکست دی تھی، تو اس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھی فوجیوں کے ساتھ مل کر اس جیت کا جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ لیفٹینٹ کرنل نے کہا کہ بس یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں جن کے آسرے پر وہ اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ‘ہمارے پاس صرف یہی ہے ورنہ اگر ایسا نہ کریں تو ہم سب ادھر رہ کر مایوسی کے مریض بن جائیں گے۔ سارا سارا دن اتھاہ تنہائی کے عالم میں، خون جمانے والی سردی میں چاروں طرف برف کی چادر کو دیکھنا اور ایک ان دیکھے دشمن سے لڑنا.

عابد حسین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سیاچن سیکٹر

Advertisements

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

جنرل مشرف : قانون کی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی

اداروں پر تنقید کیسے کریں ؟

سوشل میڈیا پر قومی اداروں پر تنقید اور اُن کی تضحیک کے خلاف ملک کے طول و عرض میں جاری آپریشن کا خیر مقدم۔ کاروائی کرنے والوں کے پیشہ ورانہ عزم کو سلام۔ نہ کوئی غائب ہوا، نہ کسی ان دیکھے ہاتھ نے کسی کی ٹانگیں توڑیں۔ باقاعدہ نوٹس، باقاعدہ پیشی۔ وقت پر تفتیش اور پھر اپنے اپنے گھر واپسی۔ کوئی ملک دشمن ہی ہو گا جو اِن اقدامات کی تعریف نہ کرے۔ کوئی ناعاقبت اندیش ہی ہوگا جو نہ مانے کہ یہ ماضی کے طریقوں سے بہتر ہے۔ مہذب معاشرے میں تاریک عقوبت خانوں سے اُٹھتی چیخوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ فائلوں کا پیٹ بھرا جائے، مشکوک افراد کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔ لیکن ۔ قوم واضح ہدایات کی منتظر ہے۔ گائیڈ لائن مانگتی ہے۔

اِس غبی قوم کو ابھی تک ٹھیک سے یہی پتہ نہیں کہ ہمارے اداروں، حساس اداروں اور نیم حساس اداروں کی توہین کہاں سے شروع ہوتی ہے، ہنسنا کِس بات پر منع ہے۔ احترام بجا لانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وُہ تو ابھی تک یہی تکا لگاتے پھر رہے ہیں کہ اداروں اور حساس اداروں میں فرق کیا ہے۔ تو واضح کیے دیتے ہیں کہ ادارہ فوج ہے اور اُس کا حساس حصہ وُہ ہے جو اندرون اور بیرون ملک جاسوسی یا اِس سے ملتے جلتے فرائض انجام دیتا ہے۔ نیم حساس اداروں میں جج، علما اور لٹھ بردار مذہبی لوگ شامل ہیں جو حساس اداروں کی حساسیت دیکھ کر اپنے اوپر نیم حساس ہونے کی کیفیت طاری کر لیتے ہیں۔ یہ پورا معاملہ اِنتہائی حساس ہے اِس لیے اِن تمام اداروں کی ناموس کے نئے نئے محافظ وزیر داخلہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وُہ واضح ہدایات جاری کریں اور کم از کم مندرجہ ذیل گُنجلک مسائل کے بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ محب وطن لوگ اُن کے شروع کیے کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال سکیں۔

1: سب سے بڑا کنفیوژن حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے بارے میں ہے مثلاً کوئی نہیں جانتا کہ ٹی وی پر مستقل براجمان ریٹائرڈ جنرل، ائیروائس مارشل قِسم کے لوگوں کے فرمودات پر عوام روئیں یا نہیں؟

 جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے مدبر سپہ سالار کا نام لیتے ہوئے تو سب کو ڈرنا چاہیے لیکن کیا اُن کے مفرور بھائی پر تنقید جائز ہے؟

بعض ناعاقبت اندیش یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ فوجی ہمارے بھائی ہیں، اِس مٹی کی جم پل ہیں، جو خوبیاں خرابیاں ہم میں ہیں اُن میں بھی ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جان دیتے ہیں لیکن جب نظریاتی سرحدوں کی بات کرتے ہیں تو لکیر دھندلا جاتی ہے کیا ایسے لوگوں کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے یا ایف آئی اے کا نمبر ملانا چاہیے؟

4: اگر کِسی کا بچہ فوجی کارن فلیکس کھانے سے انکار کرے تو کیا اُسے عاق کر دیا جائے یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام چلایا جائے؟

کیا ایف آئی اے پر تنقید جائز ہے؟ پہلے تو جائز تھی کیونکہ یہ ایک سویلین ادارہ تھا لیکن اب چونکہ فوج کی ناموس کی حفاظت پر مقرر ہے تو اِس کے بارے میں کوئی واضح ہدایت جاری کی جائے۔ کیا ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰان ملک کے بارے میں بنائے گئے سارے لطیفے واپس لینے پڑیں گے؟

 کچھ ناہنجار قسم کے لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا ہمارے اداروں اور حساس اداروں پہ یہ وقت آ گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ٹُھلے اُن کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔ ایسے لوگوں کی سرکوبی کے لیے خاص اِنتظام کیا جائے؟

ملک کے کچھ کھاتے پیتے طبقے جو ڈی ایچ اے میں پلاٹ لے کر کروڑوں کماتے ہیں لیکن پھر ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی اِنتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں جو کہ اِتفاق سے حاضر سروس فوجی افسر ہوتے ہیں۔ اِن ناشکروں سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

 ہماری کئی نسلیں مرحوم کرنل محمد خان کی تحریریں پڑھ کے مزہ لیتی رہی ہے۔ کتاب انتہائی شستہ مزاح کا شاہکار ہے لیکن آخر میں اس میں ہیں تو فوج اور فوجیوں کے بارے میں لطیفے ہی۔ اُن کی کتابوں کے قابل اعتراض حصے یا تو حذف کیے جائیں یا پوری کتابیں ہی حذف کر دی جائیں۔

 حالیہ دنوں میں ہمارے نیم حساس اداروں کے جج، ادارے کے سابق سربراہ کے لیے وارنٹ جاری کرتے ہیں۔ جج بلاتے ہیں، جنرل صاحب فرماتے ہیں میں نہیں آتا ابھی موڈ نہیں ہے۔ یہ واضح کیا جائے کہ اِس معاملے میں تضحیک جج کی ہوئی جنرل کی، یا عوام کی؟

 چلتے چلتے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ اِس مادر پدر آزاد عوام پر تنقید اور اُن کی مسلسل تضحیک کا سدباب کیسے ہو گا ؟ کیا اِس دنیا میں کوئی اُمید رکھیں یا حضرت مولانا طارق جمیل سے آخرت میں ملنے والی برکتوں کا بیان سُن کر دِل بہلاتے رہیں؟

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

ویڈیو گیمز کتنی مفید ہیں ؟

اس ملک میں ویڈیو اعترافات کی اشاعتِ عام کا کام غالباً قومی ٹیلی ویژن پر ڈاکٹر
عبدالقدیر کے اعترافی بیان سے شروع ہوا۔ جس میں انھوں نے ایٹمی اسمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک چلانے کی پوری ذمے داری اپنے کندھوں پر لے لی اور یہ تاثر دیا کہ انھوں نے یہ کام تنِ تنہا اپنے کارندوں کی مدد سے کیا۔ اس اعترافی بیان کے بعد وہ دو ڈھائی برس گھر میں نظر بند رہے۔ اس دوران کسی صحافی کو ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ رفتہ رفتہ ان پر پابندیاں غیر اعلانیہ انداز میں ڈھیلی ہوتی چلی گئیں۔ اس کے بعد اخباری کالموں کے ذریعے انھوں نے ’’اصل حقائق‘‘  سے پردہ اٹھانا شروع کیا اور یہ بھی بتایا کہ انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے دراصل خود کو قومی سلامتی پر قربان کردیا اور پھر ایٹمی پروگرام کے ’’اصل دشمنوں اور سازشیوں‘‘ کی جانب بات کا رخ موڑ دیا۔ انھوں نے اپنی ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ صدارتی امیدوار بننے کی بھی کوشش کی۔

آج کل وہ صرف کالموں کے ذریعے مکالمہ کرتے ہیں۔ انھیں اب بھی بہت سے لوگ محسن ِ پاکستان کہتے ہیں مگر تعداد پہلے سے کہیں کم ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب اپنی تمام تر قربانیوں کی یادوں کے سائے میں بنا سرکاری پروٹوکول ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے بظاہر ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک لیک ویڈیو کی روائیت ہے تو غالباً پہلا اعترافی ویڈیو ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر اجمل پہاڑی کا لیک ہو کر مارکیٹ میں آیا اور کئی برس تک سوشل میڈیا پر پھولی ہوئی لاش کی طرح غائب اور نمودار ہوتا رہا۔ اب بہت عرصے سے نظر نہیں آ رہا۔یہ ویڈیو دراصل تفتیشی نوعیت کا تھا جس میں کوئی نامعلوم آواز سوال پوچھ رہی ہے اور اجمل پہاڑی اطمینان سے بتا رہا ہے کہ اس نے الطاف حسین کے کہنے پر کیا کیا وارداتیں کیں۔

اسی نوعیت کا ایک اسمگلڈ ویڈیو مارچ 1915 میں سامنے آیا جب ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر صولت مرزا کو سزائے موت سنائے جانے کے سولہ برس بعد پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن 19مارچ کو پھانسی سے محض چند گھنٹے پہلے کال کوٹھڑی میں بنائی جانے والی صولت مرزا  کی اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی ٹی وی چینلز تک پہنچی اور اسے باقاعدہ نشر کیا گیا۔ اس ویڈیو میں بھی الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کی قیادت کو صولت مرزا نے اپنی وارداتوں کے لیے براہِ راست احکامات صادر کرنے کا ذمے دار قرار دیا۔ اس کے بعد صدرِ مملکت نے صولت مرزا کی پھانسی روک دی تا کہ نئے انکشافات کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تازہ تحقیق کر سکے۔ یہ الگ بات کہ صولت مرزا سولہ برس سے جیل میں اسی لیے تھا کہ اس نے کے ای ایس سی کے چیرمین شاہد حامد کے قتل سمیت کئی خونی وارداتوں کا اعتراف کر کے اپنے لیے سزائے موت کا سامان پیدا کیا۔ مگر ایم کیو ایم کی قیادت کا کھل کے نام لینے میں اسے سولہ برس لگ گئے۔ بہرحال دو بار سزائے موت ملتوی ہونے کے بعد بارہ مئی 2015 کو اسے مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جیل حکام نے ویڈیو کال کوٹھڑی سے باہر آنے اور چینلز پر چلنے کے واقعہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا۔ب لوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی اس واقعہ کے ذمے داروں کو سامنے لانے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عہد کیا اور یہ عہد آج تک قائم ہے۔ شائد ویڈیو بنانے والوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی۔

گزشتہ برس 16 جون کو سابق وفاقی وزیرِ پٹرولیم اور آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی نیوز چینل کے ہاتھ لگ گئی۔ اس میں ڈاکٹر عاصم کھل کے آصف زرداری اور ان کے ایک دستِ راست اویس مظفر ٹپی کی بد اعمالیوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے یہ ویڈیو ٹھیک اس وقت لیک ہوئی جب عدالت ڈاکٹر عاصم کو ضمانت پر رہائی دینے یا نہ دینے کے سوال پر کسی نتیجے پر پہنچنے والی تھی۔ ویڈیو لیک ہونے کے وقت ڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں تھے۔ مگر رینجرز نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ ویڈیو لیک کرنے کی ذمے داری ان پر آتی ہے۔ تو پھر یہ ویڈیو تفتیش کاروں کی تحویل سے کس نے حاصل کی اور دھڑلے سے اسے ایک چینل پر کس نے چلوایا ؟ اس کا جواب نہ رینجرز ڈھونڈھ پائے نہ ہی سندھ گورنمنٹ اور نہ ہی چینل سے پوچھ گچھ ہوئی کہ بھیا تمہیں یہ سوغات کس نے دان کی؟

بہرحال ویڈیو لیک کرنے کا جو بھی مقصد تھا پورا نہ ہو پایا اور اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ڈاکٹر عاصم حسین ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔ ان پر دہشتگردوں کے علاج معالجے سے لے کر اربوں روپے کے گھپلوں تک کئی مقدمات قائم ہوئے۔ مگر عدالت نے ان شواہد اور دعووں کو شائد بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ گزشتہ برس ہی مارچ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعترافی ویڈیو ہر ٹی وی چینل نے نشر کی۔ کچھ عرصے اس پر گفتگو ہوتی رہی پھر کلبھوشن کا تذکرہ میڈیا کے ریڈار سے غائب ہو گیا۔ اب سے کچھ دن پہلے دس اپریل کو جب آئی ایس پی آر نے اچانک یہ اعلان کیا کہ کلبھوشن کو اپنے جرائم کے اعتراف میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے تو اعترافی ویڈیو ایک بار پھر ٹی وی اسکرینز کی زینت بن گئی۔

غالباً اس ویڈیو کو سرکاری طور پر ریلیز کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بھارتی حرکتوں کے بارے میں کسی کو کوئی شک و شبہہ نہ رہے۔ چونکہ یہ حساس معاملہ تھا اسی لیے کسی صحافی نے اس خواہش کا اظہار بھی نہ کیا کہ وہ کلبھوشن سے خصوصی انٹرویو  کے لیے رسائی چاہتا ہے۔ شائد اس کی اجازت بھی نہ ملتی۔

چنانچہ جب سترہ اپریل کو آئی ایس پی آر نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ’’رضاکارانہ حوالگی‘‘ کی خبر بریک کی اور پھر اس کا بصری اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تو اسے بھی ایک معمول کی ویڈیو سمجھ کر تمام چینلوں نے نشر کی۔ اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جو بھی جرائم ہوئے ان کی ذمے دار کالعدم ٹی ٹی پی یا جماعت الاحرار ہے۔

احسان اللہ تو محض ان تنظیموں میں لگ بھگ دس برس تک بطور ترجمان پھنسا رہا۔ اور جیسے ہی تائب ہونے کا موقع ملا وہ پہلی فرصت میں اپنے پیارے وطن کی آغوش میں آ گیا اور اب اس کا مشن یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو گمراہی اور شدت پسندی کی راہ پر جانے سے روکے جس میں پر چلنے والوں کا مقدر صرف تباہی و بربادی ہے۔

چلیے کوئی بات نہیں۔ انسان جب بھی راہِ راست پر آجائے اچھی بات ہے۔ ویڈیو سرکاری طور پر جاری کرنے کی حد تک توٹھیک تھا یا اب تک تفتیشی ویڈیوز پراسرار انداز میں لیک ہونا بھی میڈیا کی حد تک ایک روزمرہ حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کی اعترافی ویڈیوز کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ایسا دہشتگرد جس کے سر پر انعام تھا اس تک سرکاری ٹی وی چینل کے بجائے نجی ٹی وی چینل کو خصوصی رسائی دی گئی اور اس چینل نے اس خصوصی انٹرویو کا بڑا سا اشتہار ایسے شایع کیا گویا عزت مآب احسان اللہ احسان صاحب عدم تشدد، انسانیت نوازی اور حب الوطنی کی اہمیت پر سوال و جواب کی محفل سجائیں گے (سرکاری ٹی وی چینل سے ایک دفعہ یہی کام لیا جا چکا ہے جب لال مسجد آپریشن کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی برقعاتی گرفتاری کے بعد پی ٹی وی نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا)۔

احسان اللہ احسان تک رسائی آئی ایس پی آر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اگریہ قدم درست تھا تو  سوال یہ ہے کہ پیمرا کو یہ بات یاد دلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت کسی بھی ڈکلئیرڈ دہشتگرد کا انٹرویو یا بات چیت نشر نہیں ہو سکتی۔ اس سے پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف مہم کو نقصان پہنچ سکتا ہے کہ جس نے اب تک بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

علاوہ ازیں جو شہری دہشتگردی کا لقمہ بنے ان کے عزیزوں اور احباب کو انتہائی دکھ اور صدمے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ توقع تو یہ تھی کہ جو بیان آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونا چاہیے تھا وہ پیمرا کو جاری کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ چینل کا بھی شکریہ کہ اس نے خرد مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نایاب انٹرویو مقررہ تاریخ اور وقت پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجازت کے تناظر میں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ آیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک متفقہ بیانئے کی بابت کیا واقعی سول اور فوجی ادارے ایک صفحے پر ہیں؟ ویسے ڈاکٹر قدیر سے لے کر آج تک جتنے بھی اعترافی ویڈیو جاری یا لیک ہوئے ان سے رائے عامہ تبدیل کرنے میں کتنی مدد ملی۔ کتنے ویڈیوز اس لیے سامنے لائے گئے کہ ان کے ذریعے مخاطب ہونے والے کی غلطیوں یا جرائم سے عوام سبق حاصل کریں اور کتنے ویڈیوز اس نئیت سے جاری کیے گئے کہ جاری کرنے والوں کا خیال تھا کہ اس سے ان کو طویل و صغیر المیعاد ایجنڈائی فائدہ پہنچے گا؟ کہاں تفتیشی ویڈیو کا سامنے آنا جرم ہے اور کہاں قومی خدمت؟ کون سا ویڈیو رضاکارانہ ہے اور کون سا دباؤ کے تحت بیان پر مشتمل ہے؟ کیا ان سوالات کا جواب دینا اور تلاش کرنا قومی ذمے داری کے دائرے میں نہیں آتا؟

 وسعت اللہ خان