پاکستانی تارکین وطن کے کرچی کرچی خواب

اچھے اور بہتر مستقبل کے لئے وطن چھوڑ جانے والے افراد پر بیرون ملک کیا گزرتی ہے اور انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس کی عکاسی جرمن نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے ۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم اسے ذیل میں شائع کررہے ہیں تاکہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایجنٹوں سے بچا جاسکے۔ ملاحظہ کیجئے:

بہتر مستقبل کے خواب کی تعبیر، بیت الخلا کی صفائی
جو ہزاروں پاکستانی تارکین وطن اپنے گھروں سے نکلے، ان کی منزل جرمنی و مغربی یورپی ممالک اور خواہش ایک بہتر زندگی کا حصول تھی۔ شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ خطرناک پہاڑی اور سمندری راستوں پر زندگی داؤ پر لگانے کے بعد انہیں ایتھنز میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں بیت الخلا صاف کرنا پڑیں گے۔

ایجنٹوں کے وعدے اور حقیقت
زیادہ تر پاکستانی صوبہ پنجاب سے آنے والے تارکین وطن کو اچھے مستقبل کے خواب انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایجنٹوں نے دکھائے تھے۔ جرمنی تک پہنچانے کے ابتدائی اخراجات پانچ لاکھ فی کس بتائے گئے تھے اور تقریباً ہر کسی سے یہ پوری رقم پیشگی وصول کی گئی تھی۔ جب یہ پاکستانی شہری یونان پہنچے تو مزید سفر کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ اسی وقت ایجنٹوں کے تمام وعدے جھوٹے اور محض سبز باغ ثابت ہوئے۔

پاکستانیوں سے امتیازی سلوک کی شکایت
شام اور دیگر جنگ زدہ ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو بلقان کی ریاستوں سے گزر کر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک جانے کی اجازت ہے۔ یورپی حکومتوں کے خیال میں زیادہ تر پاکستانی شہری صرف اقتصادی وجوہات کی بنا پر ترک وطن کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں یورپ میں پناہ دئیے جانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن اکثر پاکستانیوں کو شکایت ہے کہ یونان میں حکام ان سے نامناسب اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔

کیمپ میں رہنا ہے تو صفائی تم ہی کرو گے!
ایسے درجنوں پاکستانی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ یونانی حکام نے مہاجر کیمپوں میں صفائی کا کام صرف انہی کو سونپ رکھا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو بالعموم مہاجر کیمپوں میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے تاہم انہیں وہاں عارضی قیام کی اجازت صرف اس شرط پر دی گئی ہے کہ وہاں صفائی کا کام صرف وہی کریں گے۔

پردیس میں تنہائی، مایوسی اور بیماری
سینکڑوں پاکستانی تارکین وطن اپنے یونان سے آگے کے سفر کے بارے میں قطعی مایوس ہو چکے ہیں اور واپس اپنے وطن جانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے متعدد مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایک یونانی نیوز ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے دو پاکستانی پناہ گزینوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔

کم اور نامناسب خوراک کا نتیجہ
یونان میں پناہ کے متلاشی زیادہ تر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ مہاجر کیمپوں میں انہیں ملنے والی خوراک بہت کم ہوتی ہے اور اس کا معیار بھی ناقص ۔ ایسے کئی تارکین وطن نے بتایا کہ انہیں زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر ہوتا ہے۔ ان حالات میں اکثر افراد ذہنی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر لاغر اور بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

وطن واپسی کے لیے بھی طویل انتظار
بہت سے مایوس پاکستانی پناہ گزینوں کے لیے سب سے اذیت ناک مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنے پاس کوئی بھی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث اب فوراً وطن واپس بھی نہیں جا سکتے۔ ان کے بقول ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے لازمی جانچ پڑتال کے بعد انہیں عبوری سفری دستاویزات جاری کیے جانے کا عمل انتہائی طویل اور صبر آزما ہے۔

غریب الوطنی میں بچوں کی یاد
پاکستان کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والا اکتالیس سالہ سجاد شاہ بھی اب واپس وطن لوٹنا چاہتا ہے۔ تین بچوں کے والد سجاد شاہ کے مطابق اسے اپنے اہل خانہ سے جدا ہوئے کئی مہینے ہو چکے ہیں اور آج اس کے مالی مسائل پہلے سے شدید تر ہیں۔ سجاد کے بقول مہاجر کیمپوں میں کھیلتے بچے دیکھ کر اسے اپنے بچے بہت یاد آتے ہیں اور اسی لیے اب وہ جلد از جلد واپس گھر جانا چاہتا ہے۔

اجتماعی رہائش گاہ محض ایک خیمہ
دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کو یونانی حکام نے پختہ عمارات میں رہائش فراہم کی ہے جبکہ پاکستانیوں کو زیادہ تر عارضی قیام گاہوں کے طور پر زیر استعمال اجتماعی خیموں میں رکھا گیا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے اس وجہ سے بھی پریشان کن ہے کہ وہ یورپ کی سخت سردیوں کے عادی نہیں ہیں۔

جب انتظار کے علاوہ کچھ نہ کیا جا سکے
یونان میں ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سفارت خانے کو اپنے لیے سفری دستاویزات کے اجراء کی درخواستیں دے چکے ہیں اور کئی مہینے گزر جانے کے بعد بھی اب تک انتظار ہی کر رہے ہیں۔ ایسےہی ایک پاکستانی شہری کے مطابق چند افراد نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین سے بھی اپنی وطن واپسی میں مدد کی درخواست کی لیکن جواب ملا کہ واپسی کے لیے درکار سفری دستاویزات صرف پاکستانی سفارتی مراکز ہی جاری کر سکتے ہیں۔

پناہ نہیں، بس گھر جانے دو
یونان میں بہت سے پاکستانی تارکین وطن نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان افراد کا دعویٰ ہے کہ ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانہ ’بار بار کے وعدوں کے باوجود کوئی مناسب مدد نہیں کر رہا‘۔ احسان نامی ایک پاکستانی تارک وطن نے جرمن نشریاتی ادارے کو بتایا، ’’نہ ہم واپس جا سکتے ہیں اور نہ آگے، پس پچھتاوا ہے اور یہاں ٹائلٹس کی صفائی کا کام۔‘‘

علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین جیک ما ہے کون ؟

وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف اپنے حالیہ دورہ چین میں ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں شرکت کے بعد چین کے صوبے چہ جیانگ کے شہر ہانگجو پہنچے اور ایک منحنی، دھان پان اور بونے سے قد کے شخص کے ساتھ ملاقات کی۔ اس شخص کا نام جیک ما ہے جو اب عالمی میڈیا میں افسانوی کردار بن چکا ہے۔ صدر امریکہ منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلی ملاقات جیک ما سے کی اور جیک ما سے آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ میں دس لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا پلان بنانے کی درخواست کی ۔ گزشتہ سال کے اواخر میں جی 20 سمٹ ہانگجو میں منعقد ہوا تو اس میں شریک سربراہان مملکت جیک ما کو ملنے کے لیے بے تاب دکھائی دئیے۔

جیک ما کوئی حکومتی شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک کمپنی علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین ہے جسے اس نے خود قائم کیا تھا ۔ چار بار کالج کے داخلہ امتحان میں ناکام ہونے والا اور تیس بار نوکری کے لیے مسترد ہونے والا جیک ما، جو آج دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہے ستمبر 1964ء کو ہانگجو میں ایک عام سے غریب چینی گھرانے میں پیدا ہوا۔ جیک نے سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی سیکھنا شروع کی اور گھر کے قریب واقع ایک ہوٹل جہاں اکثر غیر ملکی مہمان و سیاح قیام پذیر ہوتے تھے، جانا شروع کر دیا اور روز انگریزی زبان بولنے کی مشق کرنے لگا، اسی طرح کی مشق کے دوران جیک کی ملاقات ایک امریکی بچے سے ہوئی جو اپنے والدین کے ہمراہ چین کی سیر کرنے آیا ہوا تھا اور جیک کا ہم عمر تھا۔ دونوں جلد ہی دوست بن گئے اور بعد ازاں قلمی رابطے نے اس دوستی کو مضبوط کر دیا ۔

جیک نے ہائی سکول پاس کرنے کے بعد چین کے نظام کے مطابق کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان ’’گاؤ کھاؤ‘‘ دیا لیکن شومیٔ قسمت ناکام ٹھہرا۔ یہ امتحان سال میں ایک بار ہوتا ہے اور جیک اس امتحان کو چوتھی کوشش میں پاس کر پایا۔ اس کے بعد جیک نے ہانگجو کی یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلرز ڈگری حاصل کر لی۔ اس کے بعد بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹرز کیا اور ساتھ ہی ایک اور یونیورسٹی میں انگریزی پڑھانا شروع کر دی۔ 1994 ء میں جیک کو اس کے قلمی دوست نے امریکہ بلایا جہاں جیک پہلی بار انٹرنیٹ سے متعارف ہوا ۔ اس نے وہاں رہتے ہوئے انٹرنیٹ پر چین سے متعلق ویب سائٹ بنائی کیونکہ اس وقت تک چین سے متعلق کوئی ویب سائٹ انٹرنیٹ پہ موجود نہیں تھی ۔ جیک ما کی زندگی کا ایک اہم پہلو نوکری کے حصول کی جدوجہد ہے۔

جیک نے تیس بار نوکری کے لیے درخواست دی۔ نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا اور وہ تھا نوکری ملنے میں ناکامی۔ حتیٰ کہ جب کے ایف سی نے اپنا کاروبار ہانگجو میں شروع کیا تو وہ ویٹر بننے چلا گیا اور اس کو مسترد کر دیا گیا۔ تاہم امریکہ میں انٹرنیٹ سے تعارف کے بعد جیک انٹرنیٹ کا ہو کر رہ گیا۔ اس نے ایک کمپنی رجسٹر کروائی اور پھر چینی کمپنیوں اور اداروں کے لیے ویب سائٹس بنانا شروع کر دیں۔ اس طرح اس نے کچھ سرمایہ اکٹھا کر لیا اور ایک ای کامرس کمپنی بنانے کا سوچا۔ اس وقت تک امریکی کمپنیاں ایمیزون اور ای بے اپنا کاروبار جما چکی تھیں۔ جیک نے علی بابا کے نام سے کمپنی رجسٹر کرا لی اور احتیاطا علی بابا ڈاٹ کا م کے نام کے حقوق بھی حاصل کر لیے تاکہ کوئی اس کے کاروباری آئیڈیا کو چوری نہ کر پائے ۔ یہ 1990 ء کا سال تھا، چینی معیشت 20 سال کی محنت کے بعد دنیا میں نمایاں ہو چکی تھی اور چینی قوم کے پاس پیسہ آنا شروع ہو چکا تھا اور لوگ نئے آئیڈیاز کو پذیرائی بخش رہے تھے ایسے میں علی بابا ڈاٹ کام کا کاروبار چمک اٹھا۔

جیک ما کا بزنس ماڈل بہت سادہ اور آسان ہے۔ اس کی اپنی کوئی بھی پراڈکٹ نہیں ہے، اس کی ویب سائٹ پہ کمپنیاں اپنا سٹور کھولتی ہیں اور وہ ان کی تصدیق کے بعد انہیں کاروبار کی اجازت دیتا ہے، یہ مصنوعات پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں اور جیک کو اس پہ کمیشن نما آمدنی ہوتی ہے ۔ جیک نے اس کے علاوہ ’’تاؤ باؤ‘‘ کے نام سے عام صارف کے لیے بھی ویب سائٹ بنائی اور پھر موبائل پیمنٹ کا نظام ’’علی پے‘‘ شروع کیا جس میں استعمال کنندہ کو اپنا بٹوہ، اے ٹی ایم کارڈ یا نقدی ساتھ نہیں رکھنی پڑتی اور وہ موبائل فون سے ہی اپنی تمام خرید و فروخت کر سکتا ہے، چاہے اسے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنا ہو، اخبار خریدنا ہو یا سبزی یا کسی کو پیسے منتقل کرنے ہوں۔ 2012ء میں علی بابا ڈاٹ کام کی چین میں مالی ٹرانسیکشن ایک ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں۔ 2014ء میں جیک کو ایک تاریخی کامیابی نصیب ہوئی جب اس کی کمپنی علی بابا ڈاٹ کام نے نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں 25 بلین ڈالر کی خطیر رقم بذریعہ آئی پی اواکٹھی کر لی۔ جیک ما نے اپنی ویب سائٹ پر ہر سال 11 نومبر کو سنگلز ڈے کی سیل متعارف کرائی اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ سیل اب چین کا سب سے بڑا شاپنگ ایونٹ بن گیا ہے ۔

2016ء میں اس سیل کے شروع ہونے کے محض پانچ منٹ میں علی بابا کی سیل ایک بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور 24 گھنٹوں میں جیک ما نے اس سال 17.8 بلین ڈالر کا کاروبار کر لیا ۔ جیک ما کے اعزازات پہ نظر ڈالیں تو فوربز نے جیک ما کو 2014ء میں دنیا کا تیسواں طاقتور ترین شخص قرار دیا جبکہ اس سال ’’فارچون‘‘ نے جیک ما کو دنیا کے پچاس عظیم ترین لیڈرز کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ جیک ما کی جدو جہد سے بھرپور زندگی مشعل راہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں جیک نے پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے تاہم اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہو گی کہ پاکستان سے اس طرح کے نوجوان ابھریں اور بدلتے ہوئے عالمی افق پہ چھا جائیں ۔

ون روڈ‘ ون بیلٹ…ترقی کا منصوبہ

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ان دنوں چین کے دورے پر ہیں‘ وفاقی
وزراء اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چینی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ اینڈ ون روڈ وژن کی حمایت کرتا ہے‘ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، سی پیک میں چین کی جانب سے 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے ترقی و خوشحالی آئے گی‘ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ‘ وہ بھی بات چیت سے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس دو طرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کی مزید صلاحیت موجود ہے‘ چین پاکستان کے ساتھ سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا فروغ چاہتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں سی پیک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان بھاشا ڈیم‘ گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر میں تعاون سمیت 50 کروڑ ڈالر کے 6 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

معاشی ماہرین چین میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آیندہ آنے والی چند دہائیوں میں چین دنیا کی معاشی سپر طاقت بن جائے گا۔ اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے چین عالمی سطح پر نئے تجارتی راستے تعمیر کر رہا ، اب اس  نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کا وژن پیش کیا ہے‘ اس منصوبے کے تحت چین کو ایشیا‘ افریقہ اور یورپ سے زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستوں سے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ یہ ترقی کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے چین اپنی معاشی ترقی اور تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے چین میں دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 130 ممالک سے 1500 مندوبین اور 29 سربراہان مملکت شریک ہو رہے ہیں۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو کے دو اہم حصے ہیں، ایک ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور دوسرا ’’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘‘ ہے۔

21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔ خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس تناظر میں یہاں چین اور بھارت دو بڑی معاشی قوت کی حیثیت سے ابھر رہی ہیں‘ ایک جانب چین پوری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنے کے لیے نئے نئے راستے تعمیر کر رہا تو دوسری جانب بھارت چین کو حریف تصور کرتے ہوئے اپنے الگ راستے تشکیل دے رہا ہے جن میں ایران میں چاہ بہار کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ فورم کے انعقاد پر چینی صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس منصوبے کی حمایت کر کے درست قدم اٹھایا۔ چین اس وقت پاکستان میں سی پیک منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے‘ چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہیں اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چینی توانائی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چینی حکام سے مل کر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے جو 9 سال میں مکمل ہو گا اس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ ایک اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ چین پاکستان میں تجارتی راستوں کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں جس قدر گہری دلچسپی لے رہا اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ آیندہ چند سالوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا جس سے یہاں اقتصادی اور صنعتی زونز کے قیام سے ترقی کا عمل تیز ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا اس سے اقتصادی ترقی اور خطے سے غربت کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی راہداری پر عملداری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ‘ توانائی اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس خطے میں ہونے والی ترقی سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے یہ ہمارے معاشی پالیسی سازوں کی کارکردگی کا بڑا امتحان ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

چین کا نیو انٹرنیشنل آرڈر

چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے افتتاحی خطاب میں نیو انٹرنیشنل آرڈر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت 60 ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، انھوں نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کے لیے مزید 124 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، چینی صدر نے منصوبے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اسے ’’صدی کا سب سے بڑا پراجیکٹ‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ ویژن امن و استحکام اور خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ کے ساتھ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے روابط قائم کیے جا رہے ہیں، انھوں نے کسی ملک اور دہشت گردی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ عناصر اس منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنا دیا جائے گا، ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، خطے کی ترقی کے لیے سلک روٹ فنڈ کو استعمال میں لایا جا رہا ہے، جنوبی امریکا کے ساتھ بھی تعاون کو بڑھایا جائے گا، گوادر بندرگاہ کو بھی ترقی دی جا رہی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری ترقی کی بنیاد بنے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اعلیٰ سطح کے ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے لیے کھلا ہے اور اس کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، اس منصوبے کی کوئی جغرافیائی سرحدیں نہیں ہیں، اختلافات سے بالاتر ہو کر بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کی میراث چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے، ون بیلٹ ون روڈ اقدام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ منصوبہ ہم سب کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہے۔

نیو انٹرنیشنل آرڈر اس صدی کا یقینا سب سے بڑا تحفہ ہے، اس آرڈر کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے اور ان کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات جنم لیں گے۔ گزشتہ صدی میں امریکا نے واحد سپر طاقت ہونے کے زعم میں جنگوں کا آغاز کیا بالخصوص مسلمان ممالک کو نشانہ بنایا گیا لیکن اب چین نے اکیسیویں صدی کو جنگ کے بجائے تجارت اور معیشت کی صدی بنانے کا اعلان کیا ہے جو یقینا پوری دنیا کے لیے ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا۔

امن اور خوشحالی کے اس منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے جس کا ذکر چینی صدر نے بھی کیا اور اس کا حل بھی بتایا کہ اسے اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے لہٰذا پاکستان یا کسی اور ملک کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کے بجائے پوری دنیا کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ خوش آیند بات ہے کہ سوائے چند ایک کے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کے منصوبے کی تمام دنیا نے حمایت کی ہے، اس منصوبے میں روس بھی خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اس سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے، ترکی چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے اور منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ روسی صدر کے خطاب کی سب سے زیادہ خوش آیند بات یہ ہے کہ انھوں نے یورپی یونین کے ممالک کو بھی بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں خوش آمدید کہا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ خوشحالی، امن اور ترقی کا نام ہے جس کے لیے دنیا سے غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ چین کا پیش کردہ ون بیلٹ ون روڈ فورم عالمگیریت کی ایک نئی شکل ہے جس کے تحت باہمی اور کثیرالجہتی تعاون فروغ پا رہا ہے، یہ منصوبہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو آپس میں ملا رہا ہے جس سے غربت کا خاتمہ یقینی ہو گا۔

جب یہ منصوبہ آگے بڑھے گا تو اس کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار اپنے وسائل اس میں لگانے کی دوڑ میں شریک ہو جائیں گے جس سے ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز اور تجارتی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان نیو انٹرنیشنل آرڈر سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم…

مشہور لبنانی مصنف ادیب و شاعرخلیل جبران اپنی نظم “THE PITY NATION” جس کا اردو ترجمہ عظیم شاعر اور صحافی جناب فیض احمد فیض نے کیا ہے۔ یہ مجھے میرے عزیز ترین دوست نیوٹرو فارما کے جنرل منیجر جناب سیف اللہ صاحب نے موجو دہ حالا ت کی عکاسی کرتے ہوئے بھیجا ہے جو میں قارئین سے شیئر کروں گا۔ خلیل جبران فرماتے ہیں. قابل رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں مگر دل یقین سے خالی ہیں۔ قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ایسے کپڑے پہنتی ہے جس کے لئے کپاس ان کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی۔ اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو باتیں بنانے والے کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فا تح کو اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے مگر عالم بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعا ر بنا لیتی ہے ۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے جلوس کے سوا کہیں اپنی آواز نہیں بلند کرتی اور ماضی کی یادوں کے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا وہ اس وقت تک صورت حال کے خلا ف احتجاج نہیں کرتی جب تک اس کی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آ جاتی ۔ اورقابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاستدان لومڑیوں کی طر ح مکار اور دھوکے باز ہوں اور جس کے دانشور محض شعبد ہ باز اور مداری ہوں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے نئے حکمرانوں کو ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے اور جب اقتدار سے محروم ہو ں تو ان پر آوازے کسنے لگتی ہے۔ اورقابل رحم ہے وہ قوم جس کے اہل علم و دانشور وقت کی گردش میں گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور جس کا ہر طبقہ اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو ۔

میرے ایک اور دوست نے ہمارے ملک کے تازہ ترین حالات کے مطابق اس نظم میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قابل رحم ہے وہ قوم جو سگریٹ کی ڈبیا پر منہ کے کینسر زدہ بندے کی تصویر دیکھ کر بھی سگریٹ نوشی کر تی نظر آتی ہے، اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنے سیاستدانوں کی کرپشن دیکھ کر بھی انہیں کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہے اور انہیں ووٹ دینے کے لئے بے قرار ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو کئی سالوں سے شہید سیاستدانوں کو ابھی تک زندہ سمجھتی ہے اور ان کی برسیاں بھی مناتی ہے، اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران اربوں ڈالر سے بھی زائد قرضے آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے لیکر موج مستیوں میں مصروف ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جہاں پچاس فیصد سے زائد   آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

اور قابل رحم ہے وہ قوم جس ملک کے ٹیلی ویژن کا چیئر مین یا چیف ایگزیکٹو پندرہ لاکھ روپے اور پیمرا کا چیئرمین پچیس لاکھ روپے ماہوار تنحواہ وصول کر رہے ہیں مگر بے چارے مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ پندرہ ہزار روپے مقرر ہے اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے منتخب اراکین پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں ازخود ہر سال اضافہ کر لیتے ہیں، رکن پارلیمنٹ ، پارلیمنٹ میں آ ئے یا نہ آئے ماہوار تنخواہ اور الاؤنس ضرور وصول کرتا ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنی زندگی کا پرائم ٹائم پرائیویٹ سیکٹر میں ملا زمت میں گزار دیتی ہے اور جب ریٹائر ہوتی ہے تو اسے صرف اولڈ ایج بیننی فٹس (ای او بی آئی) پنشن باون سو روپے دیئے جاتے ہیں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے سرکاری افسران جی اور آر میں بیس کنال اور دس دس کنال کی کوٹھیوں میں رہتے ہیں ، ملک مقروض ہو چکا ہے، مگر یہ ا شرافیہ اپنی مو ج مستیوں میں مگن ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے تاجراور دکاندار مذہبی تہواروں خصوصاً رمضان شریف میں قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت خوف خدا سے عاری نظر آتے ہیں۔

اور قابل رحم ہے وہ قوم جو جھوٹے وعدوں کے باوجود ان پر اعتبار کر لیتی ہے اور پھر انہیں ووٹ بھی دیتی ہے ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے لیڈران کی دولت، جائیدادیں، کاروبار اوربال بچے بیرون ملک رہتے ہیں، مگر وہ حکمرانی پاکستان میں کرتے ہیں ۔ ہماری قوم واقعی قابل رحم ہے جو ہر انتخاب میں ایسے لوگوں کو منتخب کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے، جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ عوام کی حالا ت بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ جو ایک ایک حلقہ انتخاب میں کروڑوں روپے پارٹی فنڈ دے کر پارٹی ٹکٹ لیتے ہیں اور کروڑوں روپے لگا کر انتخاب جیتتے ہیں وہ صرف اپنی حالت بدلنا جانتے ہیں بے چاری قابل رحم قوم پانچ سال اسی اْمید پر گزاردیتی ہے کہ شاید ہماری حالت بدل جائے مگر ستر سال سے قوم کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ واقعی قابل رحم ہے ہماری پاکستانی قوم۔

شہریار اصغر مرزا

پاکستان ایک دوراہے پر

پاکستان ایک اہم تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ کچھ معاملات میں اگر پاکستان پیشرفت کر رہا ہے تو دوسری طرف بہت سے معاملات میں تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے اور بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2001ء میں جب میں سائنس اورٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر تھا اس وقت پاکستان نے آئی ٹی اور موبائل ٹیلی کام سیکٹرمیں شاندارپیشرفت ہوئی جس کہ وجہ وہ اقدامات تھے جو متعارف کرائے گئےتھے۔ آج ہماری آئی ٹی کی صنعت میں2001ء کے مقابلے میں سو گنا یعنی 30 لاکھ ڈالر سالانہ سے 3 ارب ڈالر سالانہ تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہماری طرف سے IT کی صنعت کو 15 سال کے لئے دی گئی ٹیکس کی چھوٹ تھی۔

اسی طرح موبائل ٹیلیفون کے شعبے میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ 2001 ء میں ملک بھر میں موبائل فون کی کل تعداد صرف تین لاکھ تھی جو آج بڑھ کرتقریبا 15 کروڑ (450 گنا ) ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ بھی 2001ء میں ہماری جانب سے کیا گیا ایک سمجھدار فیصلہ تھا کہ کالز وصول کرنے والے افراد سے معاوضہ نہ لیا جائے اور کالنگ پارٹی ادائیگی کاآغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک نئی موبائل کمپنی کو کم نرخوں پر مارکیٹ میں مقابلے کی فضاء قائم کرنے کیلئے متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات سے موبائل فون میں اتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ سب سے اہم تبدیلی ہم نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ذریعے جامعات میں تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کرنے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں 2008 تک ہماری کئی جامعات کا شمار دنیا کی چوٹی کی 250، 300، 400 اور 500 جامعات میں ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کی طرف سے ایک اہم قدم آسٹریا اور اٹلی کے تعاون سے بالترتیب ہری پور اور لاہور میں غیر ملکی انجینئرنگ جامعات قائم کرنا ہے۔ ان دونوں انجینئر نگ جامعات کے لئے معروف آسٹریا اور اٹلی کی جامعات کےکنسورشیم قائم کئے گئے ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے پہلے اور انوکھے ” کئی جامعاتی ڈگری” فراہم کرنے والے ادارے ہونگے جس میں کئی غیر ملکی جامعات کی طرف سے ڈگریاں دی جائیں گی۔ یہ اس طرح ممکن ہو گا کہ ہر شعبے کی نگرانی ایک مختلف غیر ملکی جامعہ کرے گی اور اس شعبے کے طالب علموں کو اسی غیر ملکی جا معہ سے ڈگری جاری کی جائیگی۔ اس قسم کی جامعات کے قیام، کا انوکھا خیال 2004 ءمیں میرے ذہن میں آیا تھا جس پر 2006/2007 ء ح کے دوران عمل پیرا ہونے کی مکمل کوشش ہوئی تھی لیکن سابقہ حکومت نےجامعات کے عین افتتاح کےوقت اس پروگرام کو روک دیا تھا جس کی وجہ سے ہمیں غیر ملکی شراکت دار ممالک سے شدید ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب ہری پور اور لاہور میں قائم کی جانے والی یہ دونوں جامعات انشاءاللہ اگلے سال سے کام شروع کر دیں گی اور پاکستان میں اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہماری برآمدات میں گزشتہ 2 سالوں میں تقریبا 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن پہلو قرضوں کابڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں نے گزشتہ آٹھ سال میں بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں سے بڑے پیمانے پر قرضے لئے ہیں لیکن ان فنڈز کی سرمایہ کاری زیادہ تر ایسےمنصوبوں میں کی گئی ہے جس سے ہم قرض ادا نہیں کر سکتے۔ قومی قرضوں کا بوجھ گزشتہ 8 سالوں میں تقریباً دگنا ہو گیا ہے۔ بشمول بیرونی قرضے اور واجبات میں تقریبا 33 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے، اور رواں سال کے 4 ارب ڈالر ملا کر کل 81 ارب ڈالر قرضوں کے بوجھ تلے ہم دبے ہونگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا تو ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہیں ہو گی اور مجبور ہو کر ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے۔

ہماری معیشت کا اہم ترین شعبہ زراعت ہے۔ لیکن گزشتہ 3 سالوں کے دوران زرعی پیداوار میں صرف تقریبا ً 1.6 فیصد کی اوسط سےاضافہ ہوا ہے جو کہ ہماری بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے ناکافی ہے۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو ہزاروں چھوٹے بند تعمیر کر کے پورا کیا جا سکتا تھا تا کہ آب پاشی کے لئے استعمال کیا جا سکے لیکن اس اہم میدان میں بھی افسوس ہم سو رہے ہیں۔ یہاں ہم بھارت سے سیکھ سکتے ہیں۔ بھارت بھر میں چھوٹے بڑے سینکڑوں ہزاروں بندوں کی تعمیر مسلسل بھارتی حکومتوں کی طویل مدتی نقطہ نظر اور دور اندیشی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان بندوں کی تعمیر کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافےکے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک فراہم کرنا ہے۔ کرہ ارض میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کی وجہ سے ہماری بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کو آئین کی اٹھارویں ترمیم کی دفعات منسوخ کرنے پر غور کرنا چاہئے جس کے تحت کافی اضافی فنڈز صوبوں کو منتقل ہو گئے تھے، ان فنڈز کا استعمال کر کے ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے ہزاروں بند تعمیر کئے جانے چاہئیں تا کہ ہم مؤثر طریقے سے غربت اور بھوک سے نمٹ سکیں۔ آج پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ پانی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اس منظر نامے میں ایک امید کی کرن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے بشرطیکہ ہم مؤثر طریقے سے ان منصوبوں پر عمل کریں۔ ضروری ہے کہ پیشہ ور ماہرین کی ٹیمیں بنائی جائیں. جو کہ CPEC پروگرام کے مختلف پہلوؤں پرسمجھداری کے ساتھ عمل درآمد کر سکیں۔ اس کے لئے ہمیں کئی ہزار ہونہار نوجوانوں کو چینی حکومت کی مشاورت سے چینی اداروں اور جامعات میں منتخب شعبوں میں 6 ماہ کی تربیت کے لئے بھیجنےکی فوری ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ CPEC کو محض چین سے سامان لانے یا لے جانے کے لئے ایک سڑک کےطور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اعلیٰ ٹیکنالوجی سامان کی تیاری کے لئے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرنا چاہئے۔ جیسے کہ انجینئرنگ مصنوعات، دواسازی، بایو ٹیکنالوجی مصنوعات  برقیات، زراعت، گاڑیوں کی صنعت وغیرہ۔ چینی اور دیگر نجی صنعت کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے 15 سال کے ٹیکس کی چھوٹ دی جانی چاہئے۔

ہر ایک صنعتی حلقے میں(1) ایک مخصوص میدان میں اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی برآمد اور پیداوار کے لئے اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں ہونی چاہئیں (2) ہر مخصوص صنعتی حلقےمیں اعلی تعلیم یافتہ تکنیکی ماہرین کی تکنیکی تربیتی مراکز کا قیام (3) ہر ایک صنعتی حلقے کی ترقی اور اسی شعبے سے متعلق جامعاتی تحقیقی مراکز قائم کئے جائیں (4) نئی کمپنیوں کی حاصلہ افزائی کیلئے ٹیکنالوجی پارکس قائم کئے جائیں جہاں نئی مصنوعات اور انکے نئے نمونے تیار کئے جائیں۔ 1970ء میں کوریا کی حکومت کی جانب سے جہازوں کی صنعتوں کے قیام، صنعتی مشینری، انجینئرنگ مصنوعات، برقیات، لوہے کے علاوہ دھاتیں، پیٹرو کیمیکلز اور کیمیکلز کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے قیام پر بھرپور توجہ دی گئی، آج جنوبی کوریا کی ترقی سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انتہائی ہنر مند تکنیکی افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے، کورین سائنس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی، کورین ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ برائےسائنس اور ٹیکنالوجی، اور سیول نیشنل جامعہ قائم کی گئی۔

بارہ خصوصی تحقیقی ادارے بھی قائم کئے گئے تھے جو کہ نجی کمپنیوں کی شراکت سے صنعتی ٹیکنالوجی تیار کر سکیں۔ کوریا میں نئے اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے قیام میں مدد کرنے کیلئے 1997 میں ایک خاص قانون منظور کیا گیا تھا۔ اس طرح کوریا جدت اورترقی کی جانب رواں دواں ہو گیا۔ اس اعلیٰ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور قیمتی برآمدات کی ترقی پر خصوصی توجہ کے ساتھ وسیع تر معاشی، تجارتی اور صنعتی پالیسی اصلاحات نے 25 سال کے مختصر عرصے میں کوریا کو صنعتی دیو بنا دیا.

یہ ایک فوجی جنرل ( جنرل پارک) کی بصیرت انگیز قیادت کی بدولت ہوا۔ سنگاپور کی بھی اسی طرح کی ترقی کی کہانی ہے جیسے ملائیشیا اور چین کرتے ہیں۔ 2016 کے دوران چین نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے چھ لاکھ طلبا کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا اور اسی سال تقریبا پانچ لاکھ طلبا غیر ملکی تربیت مکمل کرنے کے بعد چین واپس لوٹے۔ ہمارے رہنماؤں کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کاحقیقی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ تعلیم کے میدان میں ہماری سرمایہ کاری ہماری جی ڈی پی کا مایوس کن 2 فیصد حصہ ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کا صرف 0.3 فیصد حصہ ہے. جب تک ہم اعلیٰ معیار کی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں میں سب سے زیادہ ترجیح نہیں دیں گے تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایک صاحب بصیرت حکومت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن