وزیرِ خزانہ بمقابلہ آرمی چیف : کون کتنا صحیح؟

حال ہی میں آرمی چیف اور وزیرِ خزانہ کے درمیان الفاظ کا ایک غیر معمولی تبادلہ ہوا ہے۔ اِن دونوں کے الفاظ کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے تا کہ سمجھا جا سکے کہ کس نے کیا کہا ہے، کیوں کہ اِس مسئلے پر زیادہ تر تبصروں میں بنیادی نکتے پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ 11 اکتوبر کو جنرل نے کراچی میں اپنے خطاب میں کیا کہا۔ انہوں نے تمہید باندھتے ہوئے کہا کہ ہمارے وقتوں میں، جب علاقائی خطرے بڑھ رہے ہیں اور تنازعات نئے چہرے اختیار کرتے جا رہے ہیں، تو “سلامتی ایک بار پھر ریاست کا اولین کام اور ذمہ داری بن چکی ہے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان اِس وقت “روٹی یا بندوق” کی بحث میں نہیں پڑ سکتا کیوں کہ “ہم دنیا کے سب سے زیادہ عدم استحکام والے خطے میں رہتے ہیں اور ملک کی تشکیل سے لے کر اب تک کئی بحرانوں کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر گزشتہ 40 سالوں سے۔”

بھلے ہی اِن کے الفاظ میں “معیشت اور سلامتی کے درمیان توازن” کی بات کہی گئی تھی، مگر اِن کے خطاب کا بنیادی مقصد معیشت پر سلامتی کو حاصل ترجیح پر زور دینا تھا۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو، جب ریاست کے محدود مادی وسائل یعنی محصولات اور زرِ مبادلہ مختص کرنے کی بات آئی تو “توازن” تمام دیگر ترجیحات سے پہلے سلامتی کی طرف ہونا چاہیے۔ وزیرِ خزانہ نے 16 اکتوبر کی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج نے پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر تب سے جب جون 2014 میں آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرِستان تک پھیلایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے زور دیا کہ تمام مشکلات بشمول کولیشن سپورٹ فنڈ میں تیزی سے کمی کے باوجود “آپریشنز کے اخراجات ہیں اور ہم یہ اخراجات ادا کر رہے ہیں۔”

مگر انہوں نے ایک اور زاویے کا بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد حملوں میں کمی تو آئی ہے، مگر ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی آئی ہے۔ اِس سے اُن کی مراد اِس حقیقت پر روشنی ڈالنی تھی کہ سلامتی اور ترقی مشترکہ ترجیحات ہیں اور اِس طرح دونوں کا ہی ریاست کے وسائل پر یکساں حق ہے۔ چوں کہ خزانہ اور زرِمبادلہ پر مشتمل یہ مادی وسائل محدود ہیں اِس لیے دونوں ترجیحات والے فریقوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اُن کی ضروریات 100 فیصد پوری نہیں کی جا سکتیں۔ جب ’ریاست کے سب سے اہم کام اور ذمہ داری‘ کے تعین کی بات آئے گی تو سخت فیصلے لینے ہوں گے اور ہر کسی کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہوئے مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہو گی۔

جنرل نے اپنے خطاب میں اِس دلیل کو سمجھنے کا تھوڑا اشارہ دیا، اور کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ الفاظ کا یہ تبادلہ 11 اکتوبر سے نہیں شروع ہوا بلکہ خفیہ میٹنگز میں سالوں سے جاری ہے۔ جب سے ملک کے اندر طرح طرح کے فوجی آپریشن، فوجی ساز و سامان کی اپ گریڈیشن اور سی پیک سیکیورٹی فورس کی تشکیل کا کام شروع ہوا ہے، تب سے فوج کو اپنے وسائل میں اضافے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، خاص طور پر سی پیک فورس اِس سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہے جتنا کہ ابتداء میں تخمینہ لگایا گیا تھا۔ 11 اکتوبر کو جو چیز نئی ہوئی، وہ یہ کہ یہ بحث پہلی بار عوام میں آئی۔ مثال کے طور پر، یاد کریں کہ وزیرِ خزانہ ایک “غیر معمولی دفاعی خرچے” کی بات کر رہے تھے جسے پورا کرنا ضروری تھا، اور جس کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام میں متعین بجٹ خسارے کی حد میں نرمی کی ضرورت تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اِس “ایک دفعہ کے خرچے” کا سائز 140 ارب روپے بتایا۔

مگر یہ خرچہ ایک بار کا نہیں بلکہ معمول کا خرچہ تھا۔ یہ دفاعی بجٹ میں شامل نہی ہے اِس لیے جو تجزیہ کار دفاعی بجٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ دفاعی بجٹ تو سالوں میں تبدیل نہیں ہوا، وہ ہم سب کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اِس طرح کے کئی خرچے ضمنی گرانٹس اور دیگر بجٹ آپریشنز کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے ظاہر کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کے وسائل محدود ہیں۔ “اگر میں سیاستدان یا ماہرِ اقتصادیات ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وقت ہے کہ ہمیں اپنی اقتصادی ترقی اور نشونما کو سب سے بلند ترجیح پر رکھنا چاہیے” جس کے بعد انہوں نے کہا کہ معیشت قومی سلامتی کونسل کی تمام بحثوں کے ایجنڈوں میں سب سے پہلا نکتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے ٹیکس بیس بڑھانے اور “معیشت میں نظم و ضبط” لانے کو اہم اقتصادی ترجیحات قرار دیا۔ “پاکستان ٹیکس اصلاحات، معیشت کا ریکارڈ رکھنے، برآمدات میں اضافے اور بچت کے ذریعے خزانے کو اتنا مضبوط بنا سکتا ہے کہ آبادی میں اضافے سے زیادہ ترقی حاصل کر سکے۔ ” ترجمہ: اگر ریاست کے وسائل محدود ہیں تو وسائل بڑھانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ وہ چیز ہے جو انہیں ضرور کرنی ہو گی۔ خاص طور پر اِس لیے کیوں کہ جیسا کہ جنرل باجوہ نے کہا، “آج کے دور میں سلامتی و دفاع سستا نہیں ہے۔” بار بار انہوں نے سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا مستقبل “صرف ایک لفظ پر ٹکا ہوا ہے، ‘سلامتی'” اور “اگر ہمیں پائیدار ترقی چاہیے تو ہمیں ملک میں امن و امان کو یقینی بنانا ہو گا۔”

وزیرِ خزانہ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وسائل میں اضافے کے لیے بہت کچھ کیا گیا ہے۔ انہوں نے 2013 سے اب تک محصولات کے اعداد و شمار دیے، تب سے اب کے معاشی شرحِ نمو کا موازنہ پیش کیا اور توانائی کے شعبے اور ہائی ویز کے لیے شروع کیے گئے کئی منصوبوں کو اپنی حکومت کی وسائل بڑھانے کی کوششوں کے طور پر پیش کیا۔ ڈار اِس وقت سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مزید مالیاتی اور زرِمبادلہ کے وسائل مختص کرنے کے مطالبات کے شدید دباؤ میں ہیں اور اُنہیں اِن مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اِس وقت وہ بیک فُٹ پر ہیں کیوں کہ اُن کے استعفے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ رائے عامہ اُن کے خلاف ہے۔

مگر وہ اب بھی اپنے نکتے پر قائم ہیں کہ ریاست کے محدود وسائل کو سلامتی اور ترقی، دونوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ جو لوگ انہیں اُن کی مشکلات کے لیے طعنے دے رہے ہیں، اور جو کابینہ اراکین اُن کی شخصیت کی وجہ سے خود کو اُن سے دور کرنے کے لیے بے تاب ہیں، اُنہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگلے وزیرِ خزانہ کو بھی اِسی بحث میں پڑنا ہو گا جو کہ دہائیوں پرانی ہے اور ہماری سول ملٹری فالٹ لائن کا مرکزی حصہ ہے۔

خرم حسین
یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 اکتوبر 2017 کو شائع ہوا۔

Advertisements

اقتدار یا ملک ، کس کو بچانا ضروری ہے ؟

پاکستان کو سپورٹ کرنے والے کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے آئندہ کے لئے کسی بھی نئے قرضہ کی فراہمی کے لئے امریکی اشارے پر اپنے دانت تیز کرنے شروع کر دیئے ہیں تاکہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں اگر پاکستان کو ایک بار پھر IMF کے پاس کسی نئے قرضہ ( جس کی مالیت 5ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے ) کے لئے جانا پڑے تو وہ اپنی پرانی مگر کچھ سختی کے ساتھ نئی شرائط منوانے پر زور دے سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جیسے سیاسی ایشوز پر سیاسی قائدین اور جماعتیں آپس میں تقسیم ہیں اور ہر جماعت اپنی اپنی بولی بول رہی ہے کسی کو جمہوریت سے پیار ہے اور کوئی الیکشن جلد کرانے کی جدوجہد میں ہے یہی صورتحال احتساب کے عمل کی ہے اس پر بھی ہر کوئی جماعت اپنی ہی پالیسی کا اظہار کر رہی ہے عین اس طرح ہمارے اقتصادی ماہرین کی اکثریت بھی IMF سے کسی نئے قرضہ کے حق اور مخالفت میں رائے دے رہے ہیں.

یہ بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ ہمارا ملک قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اپنی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پس منظر میں ختم نہیں کر سکتا بلکہ بعض ماہرین تو اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ جو اب تک 75 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے خدانخواستہ 80 ارب یا 90 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا تو پھر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ہمارے قومی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کئی نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اللہ نہ کرے ایسے حالات پیدا ہوں لیکن اگر ملک میں زراعت اور صنعت کا شعبہ حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے ریڈار پر نہیں آئے گا اور FBR اپنے ٹیکسوں کے نظام کو وسیع کرنے کے لئے جامع اصلاحات کر کے ٹیکس نیٹ کو ممبران پارلیمنٹ سے لیکر جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے بڑے کاروباری اداروں اور شخصیات سے ان کی پوری آمدنی پر پورا ٹیکس وصول نہیں کرے گا اس وقت تک بجلی چوری کی طرح ٹیکس چوری بھی بڑھتی رہے گی اور دونوں طرف صنعت و زراعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہماری برآمدات میں اضافے کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔

اس وقت صرف پاور سیکٹر میں اصلاحات کے بڑے حکومتی دعوے سامنے آ رہے ہیں مگر بجلی کی قیمت سے جو صنعتی و تجارتی شعبہ کی لاگت بڑھتی جا رہی ہے اس پر حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی فوری طور پر صنعت ، تجارت، ٹیکسیشن اور دیگر ماہرین کی ایک خود مختار ٹاسک فورس بنائیں جو ہر ماہ میں کم از کم ایک بار پاکستان کے حقیقی اقتصادی مسائل سے آگاہ کرے اور اس کی روشنی میں وزیراعظم ہر سہ ماہی میں مالی سال کے بجٹ کو ریویو کریں اس سلسلہ میں فیڈریشن کے نمائندوں کی مشاورت سے بڑی اچھی ٹاسک فورس بن سکتی ہے جس کے لئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے کرتا دھرتا افتخار علی ملک اور موجودہ صدر زبیر طفیل سمیت مختلف شخصیات سے مشاورت کر کے پاکستان کو بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران سے نکالنے کا کام شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔

ورنہ پاکستان میں روایتی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے ایڈہاک ازم کے ذریعے سیاسی نعرے لگائے جاتے رہیں گے۔ ابھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ نعرے لگا رہی ہے کل اور پارٹی و بنی گالہ یا بلاول ہائوس والے یہی کام کر سکتے ہیں اب تو کچھ اشارے ایسے بھی ملنے شروع ہو گئے ہیں کہ کسی ایک حد پر خاص جگہ پر پیپلز پارٹی کے لئے بھی ’’سافٹ کارنر‘‘ بنایا جا رہا ہے۔  بہرحال اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ سیاست سے ہٹ کر معیشت پر فوکس بڑھایا جائے۔ معیشت اگر ٹھیک ہو گی تو سیاست اور سیاسی کاروبار سب کچھ چلے گا اس سلسلہ میں وزیراعظم عباسی اگر چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں انہیں معاشی فرنٹ پر قومی مقاصد کی زیادہ سمجھ بوجھ ہے لیکن اگر وہ کسی سے ”HONEST” ایڈوائس لیں گے تو پھر ہی بات بن سکتی ہے ورنہ خطرات اور خدشات کا سلسلہ بڑھتا رہے گا پھر اقتدار بچانے سے زیادہ ملک بچانے کی فکر لاحق ہو سکتی ہے۔

سکندر حمید لودھی

امریکا سی پیک کے خلاف کُھل کر سامنے آ گیا

امریکا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف کھل کر سامنے آ گیا۔
بھارت کو سی پیک منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ بہانے بہانے سے اسے متنازع اور ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سی پیک کو ناکام بنانے کی اس مہم میں امریکا بھی کھل کر بھارت کا ہمنوا بن گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری متنازع علاقے سے گزر رہی ہے۔  امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور ارکان کانگریس کو پاک افغان خطے کی موجوہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ متنازع علاقے سے بھی گزرتا ہے جو بجائے خود کسی نئے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، امریکا اصولی طور پر ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ایک سے زیادہ سڑکیں اور گزر گاہیں موجود ہیں لہذا کسی بھی ملک کو صرف ’ایک گزرگاہ اور ایک سڑک‘ کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے، امریکا پاکستان میں اس منصوبے کی مخالفت اس لیے بھی کرتا ہے کیونکہ وہ متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے چین کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تاہم جہاں چین کی سمت غلط ہے وہاں ہمیں اس کی مخالفت بھی کرنی ہو گی۔ سی پیک پر امریکا کا نیا موقف دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے جب کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو زیادہ بڑا اور اہم کردار دینے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

حکومتی عدم توجہ، پاکستان اسٹیل ملز لاوارث ہو گیا

حکومت کی عدم توجہ کے سبب ماضی میں اربوں روپے کمانے والا پاکستان اسٹیل ملز لاوارث ہو گیا ۔ اسٹیل ملز میں نہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہے نہ مستقل چیف فنانشل آفیسر ہے، اسٹیل ملز کے تمام ڈائریکٹرزکی نشست بھی خالی ہیں. اور 12 ہزار ملازمین 4 ماہ کی تنخواہوں سے بھی محروم ہیں۔ پاکستان اسٹیل لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری ظفر خان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت کی عدم توجہ کے سبب ملازمین 4 ماہ سے تنخواہوں کے منتظر ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑے چار ہزار ریٹائرڈ ملازمین بھی اپنے تمام واجبات کے منتظر ہیں ۔ ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے۔ گیس کی فراہمی بند ہونے سے 27 ماہ سے اسٹیل مل کی پیداوار مکمل منجمد ہے ۔ ظفر خان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل میں ابھی کوئی بھی اہم افسر ہی تعینات نہیں ہے ۔ پاکستان اسٹیل لیبر یونین نے وزیر اعظم سے فوری طور پر تنخواہوں اوراسٹیل ملز کی بحالی کا مطالبہ کردیا ہے ۔

پاکستان میں ٹیکسٹائل کا بحران ، 5 سال میں چھ سو سے زائد کمپنیاں بند

حکومت ملکی معیشت میں اہم کر دار ادا کرنے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ نہ دے سکی۔ پاکستان بھر میں گزشتہ 5 سال کے دوران 601 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔ اگر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ گزشتہ چند سال سے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی بر آمدات میں بتدریج کمی ہوئی ہے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجوہات پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی برآمدات کا 57 فیصد ٹیکسٹائل پر مبنی ہے لیکن گزشتہ 7 سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں11 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی بڑی وجوہات پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل ہیں.

 ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو جس ریٹ پر بجلی اور گیس ملتی ہے دیگر ممالک میں اس سے کئی گنا کم قیمت پر بجلی اور گیس ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہم کی جاتی ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے مختلف ٹیکسز کی مد میں ری فنڈ ز کی عدم ادائیگی یا ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جا تے ہیں۔ ایکسپریس کو موصول ایک دستاویز کے مطابق ٹیکسٹائل کی برآمدات پر انحصار کرنے کے باوجود گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں 601 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔

کمپنیوں کے بند ہونے کو اگر سال وار دیکھا جائے تو مالی سال 2012-13 کے دوران 181 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔ 2013-14 کے دوران 189 کمپنیاں بند ہوئیں۔ 2014-15 کے دوران 105 کمپنیاں، 2015-16 کے دوران 84 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئیں اور اسی طرح مالی سال 2016-17کے دوران 42 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔ اس طرح گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 601 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔ دوسری جانب نئی کھلنے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی تعداد 690 کے لگ بھگ ہے تاہم پرانی اور مستحکم کمپنیوں کا بند ہونا ایک قابل غور بات ہے۔

اس سلسلے میں ایکسپریس نے ٹیکسٹائل ڈویژن کے ترجمان کنور عثمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جو کمپنیاں بند ہوئی ہیں اس میں ساری مینو فیکچرنگ نہیں تھیں جیسے جیسے کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس کم ہو رہی ہے ویسے ویسے نئی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کمپنیاں کھلتی بھی ہیں اور بند بھی ہو تی ہیں حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کو برآمدی پیکج کے ذریعے مراعات دے رہی ہے جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں کافی مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کنو ر عثمان نے کہاکہ اگر ٹیکسٹائل سیکٹر کوایسے مسائل درپیش ہیں جو کمپنیوں کے بند ہونے کی وجہ بن رہے ہیں تو انہیں ٹیکسٹائل ڈویژن سے رابطہ کرکے وجوہات بتانی چاہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی تنظیموں میں سے کوئی بھی آج تک ہمارے پاس کمپنیاں بند ہونے کی شکایت لے کر نہیں آیا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

پاکستانی تارکین وطن کے کرچی کرچی خواب

اچھے اور بہتر مستقبل کے لئے وطن چھوڑ جانے والے افراد پر بیرون ملک کیا گزرتی ہے اور انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس کی عکاسی جرمن نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے ۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم اسے ذیل میں شائع کررہے ہیں تاکہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایجنٹوں سے بچا جاسکے۔ ملاحظہ کیجئے:

بہتر مستقبل کے خواب کی تعبیر، بیت الخلا کی صفائی
جو ہزاروں پاکستانی تارکین وطن اپنے گھروں سے نکلے، ان کی منزل جرمنی و مغربی یورپی ممالک اور خواہش ایک بہتر زندگی کا حصول تھی۔ شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ خطرناک پہاڑی اور سمندری راستوں پر زندگی داؤ پر لگانے کے بعد انہیں ایتھنز میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں بیت الخلا صاف کرنا پڑیں گے۔

ایجنٹوں کے وعدے اور حقیقت
زیادہ تر پاکستانی صوبہ پنجاب سے آنے والے تارکین وطن کو اچھے مستقبل کے خواب انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایجنٹوں نے دکھائے تھے۔ جرمنی تک پہنچانے کے ابتدائی اخراجات پانچ لاکھ فی کس بتائے گئے تھے اور تقریباً ہر کسی سے یہ پوری رقم پیشگی وصول کی گئی تھی۔ جب یہ پاکستانی شہری یونان پہنچے تو مزید سفر کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ اسی وقت ایجنٹوں کے تمام وعدے جھوٹے اور محض سبز باغ ثابت ہوئے۔

پاکستانیوں سے امتیازی سلوک کی شکایت
شام اور دیگر جنگ زدہ ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو بلقان کی ریاستوں سے گزر کر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک جانے کی اجازت ہے۔ یورپی حکومتوں کے خیال میں زیادہ تر پاکستانی شہری صرف اقتصادی وجوہات کی بنا پر ترک وطن کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں یورپ میں پناہ دئیے جانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن اکثر پاکستانیوں کو شکایت ہے کہ یونان میں حکام ان سے نامناسب اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔

کیمپ میں رہنا ہے تو صفائی تم ہی کرو گے!
ایسے درجنوں پاکستانی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ یونانی حکام نے مہاجر کیمپوں میں صفائی کا کام صرف انہی کو سونپ رکھا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو بالعموم مہاجر کیمپوں میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے تاہم انہیں وہاں عارضی قیام کی اجازت صرف اس شرط پر دی گئی ہے کہ وہاں صفائی کا کام صرف وہی کریں گے۔

پردیس میں تنہائی، مایوسی اور بیماری
سینکڑوں پاکستانی تارکین وطن اپنے یونان سے آگے کے سفر کے بارے میں قطعی مایوس ہو چکے ہیں اور واپس اپنے وطن جانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے متعدد مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایک یونانی نیوز ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے دو پاکستانی پناہ گزینوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔

کم اور نامناسب خوراک کا نتیجہ
یونان میں پناہ کے متلاشی زیادہ تر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ مہاجر کیمپوں میں انہیں ملنے والی خوراک بہت کم ہوتی ہے اور اس کا معیار بھی ناقص ۔ ایسے کئی تارکین وطن نے بتایا کہ انہیں زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر ہوتا ہے۔ ان حالات میں اکثر افراد ذہنی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر لاغر اور بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

وطن واپسی کے لیے بھی طویل انتظار
بہت سے مایوس پاکستانی پناہ گزینوں کے لیے سب سے اذیت ناک مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنے پاس کوئی بھی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث اب فوراً وطن واپس بھی نہیں جا سکتے۔ ان کے بقول ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے لازمی جانچ پڑتال کے بعد انہیں عبوری سفری دستاویزات جاری کیے جانے کا عمل انتہائی طویل اور صبر آزما ہے۔

غریب الوطنی میں بچوں کی یاد
پاکستان کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والا اکتالیس سالہ سجاد شاہ بھی اب واپس وطن لوٹنا چاہتا ہے۔ تین بچوں کے والد سجاد شاہ کے مطابق اسے اپنے اہل خانہ سے جدا ہوئے کئی مہینے ہو چکے ہیں اور آج اس کے مالی مسائل پہلے سے شدید تر ہیں۔ سجاد کے بقول مہاجر کیمپوں میں کھیلتے بچے دیکھ کر اسے اپنے بچے بہت یاد آتے ہیں اور اسی لیے اب وہ جلد از جلد واپس گھر جانا چاہتا ہے۔

اجتماعی رہائش گاہ محض ایک خیمہ
دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کو یونانی حکام نے پختہ عمارات میں رہائش فراہم کی ہے جبکہ پاکستانیوں کو زیادہ تر عارضی قیام گاہوں کے طور پر زیر استعمال اجتماعی خیموں میں رکھا گیا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے اس وجہ سے بھی پریشان کن ہے کہ وہ یورپ کی سخت سردیوں کے عادی نہیں ہیں۔

جب انتظار کے علاوہ کچھ نہ کیا جا سکے
یونان میں ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سفارت خانے کو اپنے لیے سفری دستاویزات کے اجراء کی درخواستیں دے چکے ہیں اور کئی مہینے گزر جانے کے بعد بھی اب تک انتظار ہی کر رہے ہیں۔ ایسےہی ایک پاکستانی شہری کے مطابق چند افراد نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین سے بھی اپنی وطن واپسی میں مدد کی درخواست کی لیکن جواب ملا کہ واپسی کے لیے درکار سفری دستاویزات صرف پاکستانی سفارتی مراکز ہی جاری کر سکتے ہیں۔

پناہ نہیں، بس گھر جانے دو
یونان میں بہت سے پاکستانی تارکین وطن نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان افراد کا دعویٰ ہے کہ ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانہ ’بار بار کے وعدوں کے باوجود کوئی مناسب مدد نہیں کر رہا‘۔ احسان نامی ایک پاکستانی تارک وطن نے جرمن نشریاتی ادارے کو بتایا، ’’نہ ہم واپس جا سکتے ہیں اور نہ آگے، پس پچھتاوا ہے اور یہاں ٹائلٹس کی صفائی کا کام۔‘‘

علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین جیک ما ہے کون ؟

وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف اپنے حالیہ دورہ چین میں ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں شرکت کے بعد چین کے صوبے چہ جیانگ کے شہر ہانگجو پہنچے اور ایک منحنی، دھان پان اور بونے سے قد کے شخص کے ساتھ ملاقات کی۔ اس شخص کا نام جیک ما ہے جو اب عالمی میڈیا میں افسانوی کردار بن چکا ہے۔ صدر امریکہ منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلی ملاقات جیک ما سے کی اور جیک ما سے آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ میں دس لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا پلان بنانے کی درخواست کی ۔ گزشتہ سال کے اواخر میں جی 20 سمٹ ہانگجو میں منعقد ہوا تو اس میں شریک سربراہان مملکت جیک ما کو ملنے کے لیے بے تاب دکھائی دئیے۔

جیک ما کوئی حکومتی شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک کمپنی علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین ہے جسے اس نے خود قائم کیا تھا ۔ چار بار کالج کے داخلہ امتحان میں ناکام ہونے والا اور تیس بار نوکری کے لیے مسترد ہونے والا جیک ما، جو آج دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہے ستمبر 1964ء کو ہانگجو میں ایک عام سے غریب چینی گھرانے میں پیدا ہوا۔ جیک نے سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی سیکھنا شروع کی اور گھر کے قریب واقع ایک ہوٹل جہاں اکثر غیر ملکی مہمان و سیاح قیام پذیر ہوتے تھے، جانا شروع کر دیا اور روز انگریزی زبان بولنے کی مشق کرنے لگا، اسی طرح کی مشق کے دوران جیک کی ملاقات ایک امریکی بچے سے ہوئی جو اپنے والدین کے ہمراہ چین کی سیر کرنے آیا ہوا تھا اور جیک کا ہم عمر تھا۔ دونوں جلد ہی دوست بن گئے اور بعد ازاں قلمی رابطے نے اس دوستی کو مضبوط کر دیا ۔

جیک نے ہائی سکول پاس کرنے کے بعد چین کے نظام کے مطابق کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان ’’گاؤ کھاؤ‘‘ دیا لیکن شومیٔ قسمت ناکام ٹھہرا۔ یہ امتحان سال میں ایک بار ہوتا ہے اور جیک اس امتحان کو چوتھی کوشش میں پاس کر پایا۔ اس کے بعد جیک نے ہانگجو کی یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلرز ڈگری حاصل کر لی۔ اس کے بعد بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹرز کیا اور ساتھ ہی ایک اور یونیورسٹی میں انگریزی پڑھانا شروع کر دی۔ 1994 ء میں جیک کو اس کے قلمی دوست نے امریکہ بلایا جہاں جیک پہلی بار انٹرنیٹ سے متعارف ہوا ۔ اس نے وہاں رہتے ہوئے انٹرنیٹ پر چین سے متعلق ویب سائٹ بنائی کیونکہ اس وقت تک چین سے متعلق کوئی ویب سائٹ انٹرنیٹ پہ موجود نہیں تھی ۔ جیک ما کی زندگی کا ایک اہم پہلو نوکری کے حصول کی جدوجہد ہے۔

جیک نے تیس بار نوکری کے لیے درخواست دی۔ نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا اور وہ تھا نوکری ملنے میں ناکامی۔ حتیٰ کہ جب کے ایف سی نے اپنا کاروبار ہانگجو میں شروع کیا تو وہ ویٹر بننے چلا گیا اور اس کو مسترد کر دیا گیا۔ تاہم امریکہ میں انٹرنیٹ سے تعارف کے بعد جیک انٹرنیٹ کا ہو کر رہ گیا۔ اس نے ایک کمپنی رجسٹر کروائی اور پھر چینی کمپنیوں اور اداروں کے لیے ویب سائٹس بنانا شروع کر دیں۔ اس طرح اس نے کچھ سرمایہ اکٹھا کر لیا اور ایک ای کامرس کمپنی بنانے کا سوچا۔ اس وقت تک امریکی کمپنیاں ایمیزون اور ای بے اپنا کاروبار جما چکی تھیں۔ جیک نے علی بابا کے نام سے کمپنی رجسٹر کرا لی اور احتیاطا علی بابا ڈاٹ کا م کے نام کے حقوق بھی حاصل کر لیے تاکہ کوئی اس کے کاروباری آئیڈیا کو چوری نہ کر پائے ۔ یہ 1990 ء کا سال تھا، چینی معیشت 20 سال کی محنت کے بعد دنیا میں نمایاں ہو چکی تھی اور چینی قوم کے پاس پیسہ آنا شروع ہو چکا تھا اور لوگ نئے آئیڈیاز کو پذیرائی بخش رہے تھے ایسے میں علی بابا ڈاٹ کام کا کاروبار چمک اٹھا۔

جیک ما کا بزنس ماڈل بہت سادہ اور آسان ہے۔ اس کی اپنی کوئی بھی پراڈکٹ نہیں ہے، اس کی ویب سائٹ پہ کمپنیاں اپنا سٹور کھولتی ہیں اور وہ ان کی تصدیق کے بعد انہیں کاروبار کی اجازت دیتا ہے، یہ مصنوعات پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں اور جیک کو اس پہ کمیشن نما آمدنی ہوتی ہے ۔ جیک نے اس کے علاوہ ’’تاؤ باؤ‘‘ کے نام سے عام صارف کے لیے بھی ویب سائٹ بنائی اور پھر موبائل پیمنٹ کا نظام ’’علی پے‘‘ شروع کیا جس میں استعمال کنندہ کو اپنا بٹوہ، اے ٹی ایم کارڈ یا نقدی ساتھ نہیں رکھنی پڑتی اور وہ موبائل فون سے ہی اپنی تمام خرید و فروخت کر سکتا ہے، چاہے اسے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنا ہو، اخبار خریدنا ہو یا سبزی یا کسی کو پیسے منتقل کرنے ہوں۔ 2012ء میں علی بابا ڈاٹ کام کی چین میں مالی ٹرانسیکشن ایک ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں۔ 2014ء میں جیک کو ایک تاریخی کامیابی نصیب ہوئی جب اس کی کمپنی علی بابا ڈاٹ کام نے نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں 25 بلین ڈالر کی خطیر رقم بذریعہ آئی پی اواکٹھی کر لی۔ جیک ما نے اپنی ویب سائٹ پر ہر سال 11 نومبر کو سنگلز ڈے کی سیل متعارف کرائی اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ سیل اب چین کا سب سے بڑا شاپنگ ایونٹ بن گیا ہے ۔

2016ء میں اس سیل کے شروع ہونے کے محض پانچ منٹ میں علی بابا کی سیل ایک بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور 24 گھنٹوں میں جیک ما نے اس سال 17.8 بلین ڈالر کا کاروبار کر لیا ۔ جیک ما کے اعزازات پہ نظر ڈالیں تو فوربز نے جیک ما کو 2014ء میں دنیا کا تیسواں طاقتور ترین شخص قرار دیا جبکہ اس سال ’’فارچون‘‘ نے جیک ما کو دنیا کے پچاس عظیم ترین لیڈرز کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ جیک ما کی جدو جہد سے بھرپور زندگی مشعل راہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں جیک نے پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے تاہم اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہو گی کہ پاکستان سے اس طرح کے نوجوان ابھریں اور بدلتے ہوئے عالمی افق پہ چھا جائیں ۔

ون روڈ‘ ون بیلٹ…ترقی کا منصوبہ

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ان دنوں چین کے دورے پر ہیں‘ وفاقی
وزراء اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چینی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ اینڈ ون روڈ وژن کی حمایت کرتا ہے‘ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، سی پیک میں چین کی جانب سے 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے ترقی و خوشحالی آئے گی‘ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ‘ وہ بھی بات چیت سے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس دو طرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کی مزید صلاحیت موجود ہے‘ چین پاکستان کے ساتھ سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا فروغ چاہتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں سی پیک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان بھاشا ڈیم‘ گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر میں تعاون سمیت 50 کروڑ ڈالر کے 6 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

معاشی ماہرین چین میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آیندہ آنے والی چند دہائیوں میں چین دنیا کی معاشی سپر طاقت بن جائے گا۔ اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے چین عالمی سطح پر نئے تجارتی راستے تعمیر کر رہا ، اب اس  نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کا وژن پیش کیا ہے‘ اس منصوبے کے تحت چین کو ایشیا‘ افریقہ اور یورپ سے زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستوں سے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ یہ ترقی کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے چین اپنی معاشی ترقی اور تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے چین میں دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 130 ممالک سے 1500 مندوبین اور 29 سربراہان مملکت شریک ہو رہے ہیں۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو کے دو اہم حصے ہیں، ایک ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور دوسرا ’’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘‘ ہے۔

21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔ خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس تناظر میں یہاں چین اور بھارت دو بڑی معاشی قوت کی حیثیت سے ابھر رہی ہیں‘ ایک جانب چین پوری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنے کے لیے نئے نئے راستے تعمیر کر رہا تو دوسری جانب بھارت چین کو حریف تصور کرتے ہوئے اپنے الگ راستے تشکیل دے رہا ہے جن میں ایران میں چاہ بہار کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ فورم کے انعقاد پر چینی صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس منصوبے کی حمایت کر کے درست قدم اٹھایا۔ چین اس وقت پاکستان میں سی پیک منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے‘ چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہیں اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چینی توانائی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چینی حکام سے مل کر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے جو 9 سال میں مکمل ہو گا اس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ ایک اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ چین پاکستان میں تجارتی راستوں کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں جس قدر گہری دلچسپی لے رہا اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ آیندہ چند سالوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا جس سے یہاں اقتصادی اور صنعتی زونز کے قیام سے ترقی کا عمل تیز ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا اس سے اقتصادی ترقی اور خطے سے غربت کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی راہداری پر عملداری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ‘ توانائی اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس خطے میں ہونے والی ترقی سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے یہ ہمارے معاشی پالیسی سازوں کی کارکردگی کا بڑا امتحان ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

چین کا نیو انٹرنیشنل آرڈر

چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے افتتاحی خطاب میں نیو انٹرنیشنل آرڈر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت 60 ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، انھوں نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کے لیے مزید 124 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، چینی صدر نے منصوبے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اسے ’’صدی کا سب سے بڑا پراجیکٹ‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ ویژن امن و استحکام اور خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ کے ساتھ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے روابط قائم کیے جا رہے ہیں، انھوں نے کسی ملک اور دہشت گردی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ عناصر اس منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنا دیا جائے گا، ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، خطے کی ترقی کے لیے سلک روٹ فنڈ کو استعمال میں لایا جا رہا ہے، جنوبی امریکا کے ساتھ بھی تعاون کو بڑھایا جائے گا، گوادر بندرگاہ کو بھی ترقی دی جا رہی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری ترقی کی بنیاد بنے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اعلیٰ سطح کے ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے لیے کھلا ہے اور اس کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، اس منصوبے کی کوئی جغرافیائی سرحدیں نہیں ہیں، اختلافات سے بالاتر ہو کر بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کی میراث چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے، ون بیلٹ ون روڈ اقدام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ منصوبہ ہم سب کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہے۔

نیو انٹرنیشنل آرڈر اس صدی کا یقینا سب سے بڑا تحفہ ہے، اس آرڈر کے تحت ایشیا، افریقہ اور یورپ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریلوے کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے اور ان کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات جنم لیں گے۔ گزشتہ صدی میں امریکا نے واحد سپر طاقت ہونے کے زعم میں جنگوں کا آغاز کیا بالخصوص مسلمان ممالک کو نشانہ بنایا گیا لیکن اب چین نے اکیسیویں صدی کو جنگ کے بجائے تجارت اور معیشت کی صدی بنانے کا اعلان کیا ہے جو یقینا پوری دنیا کے لیے ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا۔

امن اور خوشحالی کے اس منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے جس کا ذکر چینی صدر نے بھی کیا اور اس کا حل بھی بتایا کہ اسے اجتماعی کوششوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے لہٰذا پاکستان یا کسی اور ملک کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کے بجائے پوری دنیا کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ خوش آیند بات ہے کہ سوائے چند ایک کے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کے منصوبے کی تمام دنیا نے حمایت کی ہے، اس منصوبے میں روس بھی خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اس سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے، ترکی چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے اور منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ روسی صدر کے خطاب کی سب سے زیادہ خوش آیند بات یہ ہے کہ انھوں نے یورپی یونین کے ممالک کو بھی بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں خوش آمدید کہا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ خوشحالی، امن اور ترقی کا نام ہے جس کے لیے دنیا سے غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ چین کا پیش کردہ ون بیلٹ ون روڈ فورم عالمگیریت کی ایک نئی شکل ہے جس کے تحت باہمی اور کثیرالجہتی تعاون فروغ پا رہا ہے، یہ منصوبہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو آپس میں ملا رہا ہے جس سے غربت کا خاتمہ یقینی ہو گا۔

جب یہ منصوبہ آگے بڑھے گا تو اس کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار اپنے وسائل اس میں لگانے کی دوڑ میں شریک ہو جائیں گے جس سے ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز اور تجارتی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان نیو انٹرنیشنل آرڈر سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم…

مشہور لبنانی مصنف ادیب و شاعرخلیل جبران اپنی نظم “THE PITY NATION” جس کا اردو ترجمہ عظیم شاعر اور صحافی جناب فیض احمد فیض نے کیا ہے۔ یہ مجھے میرے عزیز ترین دوست نیوٹرو فارما کے جنرل منیجر جناب سیف اللہ صاحب نے موجو دہ حالا ت کی عکاسی کرتے ہوئے بھیجا ہے جو میں قارئین سے شیئر کروں گا۔ خلیل جبران فرماتے ہیں. قابل رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں مگر دل یقین سے خالی ہیں۔ قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ایسے کپڑے پہنتی ہے جس کے لئے کپاس ان کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی۔ اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو باتیں بنانے والے کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فا تح کو اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے مگر عالم بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعا ر بنا لیتی ہے ۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے جلوس کے سوا کہیں اپنی آواز نہیں بلند کرتی اور ماضی کی یادوں کے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا وہ اس وقت تک صورت حال کے خلا ف احتجاج نہیں کرتی جب تک اس کی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آ جاتی ۔ اورقابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاستدان لومڑیوں کی طر ح مکار اور دھوکے باز ہوں اور جس کے دانشور محض شعبد ہ باز اور مداری ہوں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے نئے حکمرانوں کو ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے اور جب اقتدار سے محروم ہو ں تو ان پر آوازے کسنے لگتی ہے۔ اورقابل رحم ہے وہ قوم جس کے اہل علم و دانشور وقت کی گردش میں گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور جس کا ہر طبقہ اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو ۔

میرے ایک اور دوست نے ہمارے ملک کے تازہ ترین حالات کے مطابق اس نظم میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قابل رحم ہے وہ قوم جو سگریٹ کی ڈبیا پر منہ کے کینسر زدہ بندے کی تصویر دیکھ کر بھی سگریٹ نوشی کر تی نظر آتی ہے، اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنے سیاستدانوں کی کرپشن دیکھ کر بھی انہیں کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہے اور انہیں ووٹ دینے کے لئے بے قرار ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو کئی سالوں سے شہید سیاستدانوں کو ابھی تک زندہ سمجھتی ہے اور ان کی برسیاں بھی مناتی ہے، اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران اربوں ڈالر سے بھی زائد قرضے آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے لیکر موج مستیوں میں مصروف ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جہاں پچاس فیصد سے زائد   آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

اور قابل رحم ہے وہ قوم جس ملک کے ٹیلی ویژن کا چیئر مین یا چیف ایگزیکٹو پندرہ لاکھ روپے اور پیمرا کا چیئرمین پچیس لاکھ روپے ماہوار تنحواہ وصول کر رہے ہیں مگر بے چارے مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ پندرہ ہزار روپے مقرر ہے اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے منتخب اراکین پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں ازخود ہر سال اضافہ کر لیتے ہیں، رکن پارلیمنٹ ، پارلیمنٹ میں آ ئے یا نہ آئے ماہوار تنخواہ اور الاؤنس ضرور وصول کرتا ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنی زندگی کا پرائم ٹائم پرائیویٹ سیکٹر میں ملا زمت میں گزار دیتی ہے اور جب ریٹائر ہوتی ہے تو اسے صرف اولڈ ایج بیننی فٹس (ای او بی آئی) پنشن باون سو روپے دیئے جاتے ہیں ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے سرکاری افسران جی اور آر میں بیس کنال اور دس دس کنال کی کوٹھیوں میں رہتے ہیں ، ملک مقروض ہو چکا ہے، مگر یہ ا شرافیہ اپنی مو ج مستیوں میں مگن ہے۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے تاجراور دکاندار مذہبی تہواروں خصوصاً رمضان شریف میں قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت خوف خدا سے عاری نظر آتے ہیں۔

اور قابل رحم ہے وہ قوم جو جھوٹے وعدوں کے باوجود ان پر اعتبار کر لیتی ہے اور پھر انہیں ووٹ بھی دیتی ہے ۔ اور قابل رحم ہے وہ قوم جس کے لیڈران کی دولت، جائیدادیں، کاروبار اوربال بچے بیرون ملک رہتے ہیں، مگر وہ حکمرانی پاکستان میں کرتے ہیں ۔ ہماری قوم واقعی قابل رحم ہے جو ہر انتخاب میں ایسے لوگوں کو منتخب کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے، جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ عوام کی حالا ت بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ جو ایک ایک حلقہ انتخاب میں کروڑوں روپے پارٹی فنڈ دے کر پارٹی ٹکٹ لیتے ہیں اور کروڑوں روپے لگا کر انتخاب جیتتے ہیں وہ صرف اپنی حالت بدلنا جانتے ہیں بے چاری قابل رحم قوم پانچ سال اسی اْمید پر گزاردیتی ہے کہ شاید ہماری حالت بدل جائے مگر ستر سال سے قوم کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ واقعی قابل رحم ہے ہماری پاکستانی قوم۔

شہریار اصغر مرزا