پاکستان ایک دوراہے پر

پاکستان ایک اہم تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ کچھ معاملات میں اگر پاکستان پیشرفت کر رہا ہے تو دوسری طرف بہت سے معاملات میں تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے اور بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2001ء میں جب میں سائنس اورٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر تھا اس وقت پاکستان نے آئی ٹی اور موبائل ٹیلی کام سیکٹرمیں شاندارپیشرفت ہوئی جس کہ وجہ وہ اقدامات تھے جو متعارف کرائے گئےتھے۔ آج ہماری آئی ٹی کی صنعت میں2001ء کے مقابلے میں سو گنا یعنی 30 لاکھ ڈالر سالانہ سے 3 ارب ڈالر سالانہ تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہماری طرف سے IT کی صنعت کو 15 سال کے لئے دی گئی ٹیکس کی چھوٹ تھی۔

اسی طرح موبائل ٹیلیفون کے شعبے میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ 2001 ء میں ملک بھر میں موبائل فون کی کل تعداد صرف تین لاکھ تھی جو آج بڑھ کرتقریبا 15 کروڑ (450 گنا ) ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ بھی 2001ء میں ہماری جانب سے کیا گیا ایک سمجھدار فیصلہ تھا کہ کالز وصول کرنے والے افراد سے معاوضہ نہ لیا جائے اور کالنگ پارٹی ادائیگی کاآغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک نئی موبائل کمپنی کو کم نرخوں پر مارکیٹ میں مقابلے کی فضاء قائم کرنے کیلئے متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات سے موبائل فون میں اتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ سب سے اہم تبدیلی ہم نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ذریعے جامعات میں تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کرنے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں 2008 تک ہماری کئی جامعات کا شمار دنیا کی چوٹی کی 250، 300، 400 اور 500 جامعات میں ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کی طرف سے ایک اہم قدم آسٹریا اور اٹلی کے تعاون سے بالترتیب ہری پور اور لاہور میں غیر ملکی انجینئرنگ جامعات قائم کرنا ہے۔ ان دونوں انجینئر نگ جامعات کے لئے معروف آسٹریا اور اٹلی کی جامعات کےکنسورشیم قائم کئے گئے ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے پہلے اور انوکھے ” کئی جامعاتی ڈگری” فراہم کرنے والے ادارے ہونگے جس میں کئی غیر ملکی جامعات کی طرف سے ڈگریاں دی جائیں گی۔ یہ اس طرح ممکن ہو گا کہ ہر شعبے کی نگرانی ایک مختلف غیر ملکی جامعہ کرے گی اور اس شعبے کے طالب علموں کو اسی غیر ملکی جا معہ سے ڈگری جاری کی جائیگی۔ اس قسم کی جامعات کے قیام، کا انوکھا خیال 2004 ءمیں میرے ذہن میں آیا تھا جس پر 2006/2007 ء ح کے دوران عمل پیرا ہونے کی مکمل کوشش ہوئی تھی لیکن سابقہ حکومت نےجامعات کے عین افتتاح کےوقت اس پروگرام کو روک دیا تھا جس کی وجہ سے ہمیں غیر ملکی شراکت دار ممالک سے شدید ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب ہری پور اور لاہور میں قائم کی جانے والی یہ دونوں جامعات انشاءاللہ اگلے سال سے کام شروع کر دیں گی اور پاکستان میں اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہماری برآمدات میں گزشتہ 2 سالوں میں تقریبا 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن پہلو قرضوں کابڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں نے گزشتہ آٹھ سال میں بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں سے بڑے پیمانے پر قرضے لئے ہیں لیکن ان فنڈز کی سرمایہ کاری زیادہ تر ایسےمنصوبوں میں کی گئی ہے جس سے ہم قرض ادا نہیں کر سکتے۔ قومی قرضوں کا بوجھ گزشتہ 8 سالوں میں تقریباً دگنا ہو گیا ہے۔ بشمول بیرونی قرضے اور واجبات میں تقریبا 33 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے، اور رواں سال کے 4 ارب ڈالر ملا کر کل 81 ارب ڈالر قرضوں کے بوجھ تلے ہم دبے ہونگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا تو ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہیں ہو گی اور مجبور ہو کر ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے۔

ہماری معیشت کا اہم ترین شعبہ زراعت ہے۔ لیکن گزشتہ 3 سالوں کے دوران زرعی پیداوار میں صرف تقریبا ً 1.6 فیصد کی اوسط سےاضافہ ہوا ہے جو کہ ہماری بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے ناکافی ہے۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو ہزاروں چھوٹے بند تعمیر کر کے پورا کیا جا سکتا تھا تا کہ آب پاشی کے لئے استعمال کیا جا سکے لیکن اس اہم میدان میں بھی افسوس ہم سو رہے ہیں۔ یہاں ہم بھارت سے سیکھ سکتے ہیں۔ بھارت بھر میں چھوٹے بڑے سینکڑوں ہزاروں بندوں کی تعمیر مسلسل بھارتی حکومتوں کی طویل مدتی نقطہ نظر اور دور اندیشی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان بندوں کی تعمیر کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافےکے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک فراہم کرنا ہے۔ کرہ ارض میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کی وجہ سے ہماری بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کو آئین کی اٹھارویں ترمیم کی دفعات منسوخ کرنے پر غور کرنا چاہئے جس کے تحت کافی اضافی فنڈز صوبوں کو منتقل ہو گئے تھے، ان فنڈز کا استعمال کر کے ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے ہزاروں بند تعمیر کئے جانے چاہئیں تا کہ ہم مؤثر طریقے سے غربت اور بھوک سے نمٹ سکیں۔ آج پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ پانی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اس منظر نامے میں ایک امید کی کرن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے بشرطیکہ ہم مؤثر طریقے سے ان منصوبوں پر عمل کریں۔ ضروری ہے کہ پیشہ ور ماہرین کی ٹیمیں بنائی جائیں. جو کہ CPEC پروگرام کے مختلف پہلوؤں پرسمجھداری کے ساتھ عمل درآمد کر سکیں۔ اس کے لئے ہمیں کئی ہزار ہونہار نوجوانوں کو چینی حکومت کی مشاورت سے چینی اداروں اور جامعات میں منتخب شعبوں میں 6 ماہ کی تربیت کے لئے بھیجنےکی فوری ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ CPEC کو محض چین سے سامان لانے یا لے جانے کے لئے ایک سڑک کےطور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اعلیٰ ٹیکنالوجی سامان کی تیاری کے لئے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرنا چاہئے۔ جیسے کہ انجینئرنگ مصنوعات، دواسازی، بایو ٹیکنالوجی مصنوعات  برقیات، زراعت، گاڑیوں کی صنعت وغیرہ۔ چینی اور دیگر نجی صنعت کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے 15 سال کے ٹیکس کی چھوٹ دی جانی چاہئے۔

ہر ایک صنعتی حلقے میں(1) ایک مخصوص میدان میں اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی برآمد اور پیداوار کے لئے اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں ہونی چاہئیں (2) ہر مخصوص صنعتی حلقےمیں اعلی تعلیم یافتہ تکنیکی ماہرین کی تکنیکی تربیتی مراکز کا قیام (3) ہر ایک صنعتی حلقے کی ترقی اور اسی شعبے سے متعلق جامعاتی تحقیقی مراکز قائم کئے جائیں (4) نئی کمپنیوں کی حاصلہ افزائی کیلئے ٹیکنالوجی پارکس قائم کئے جائیں جہاں نئی مصنوعات اور انکے نئے نمونے تیار کئے جائیں۔ 1970ء میں کوریا کی حکومت کی جانب سے جہازوں کی صنعتوں کے قیام، صنعتی مشینری، انجینئرنگ مصنوعات، برقیات، لوہے کے علاوہ دھاتیں، پیٹرو کیمیکلز اور کیمیکلز کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے قیام پر بھرپور توجہ دی گئی، آج جنوبی کوریا کی ترقی سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انتہائی ہنر مند تکنیکی افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے، کورین سائنس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی، کورین ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ برائےسائنس اور ٹیکنالوجی، اور سیول نیشنل جامعہ قائم کی گئی۔

بارہ خصوصی تحقیقی ادارے بھی قائم کئے گئے تھے جو کہ نجی کمپنیوں کی شراکت سے صنعتی ٹیکنالوجی تیار کر سکیں۔ کوریا میں نئے اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے قیام میں مدد کرنے کیلئے 1997 میں ایک خاص قانون منظور کیا گیا تھا۔ اس طرح کوریا جدت اورترقی کی جانب رواں دواں ہو گیا۔ اس اعلیٰ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور قیمتی برآمدات کی ترقی پر خصوصی توجہ کے ساتھ وسیع تر معاشی، تجارتی اور صنعتی پالیسی اصلاحات نے 25 سال کے مختصر عرصے میں کوریا کو صنعتی دیو بنا دیا.

یہ ایک فوجی جنرل ( جنرل پارک) کی بصیرت انگیز قیادت کی بدولت ہوا۔ سنگاپور کی بھی اسی طرح کی ترقی کی کہانی ہے جیسے ملائیشیا اور چین کرتے ہیں۔ 2016 کے دوران چین نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے چھ لاکھ طلبا کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا اور اسی سال تقریبا پانچ لاکھ طلبا غیر ملکی تربیت مکمل کرنے کے بعد چین واپس لوٹے۔ ہمارے رہنماؤں کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کاحقیقی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ تعلیم کے میدان میں ہماری سرمایہ کاری ہماری جی ڈی پی کا مایوس کن 2 فیصد حصہ ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کا صرف 0.3 فیصد حصہ ہے. جب تک ہم اعلیٰ معیار کی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں میں سب سے زیادہ ترجیح نہیں دیں گے تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایک صاحب بصیرت حکومت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

 

Advertisements