اداروں پر تنقید کیسے کریں ؟

سوشل میڈیا پر قومی اداروں پر تنقید اور اُن کی تضحیک کے خلاف ملک کے طول و عرض میں جاری آپریشن کا خیر مقدم۔ کاروائی کرنے والوں کے پیشہ ورانہ عزم کو سلام۔ نہ کوئی غائب ہوا، نہ کسی ان دیکھے ہاتھ نے کسی کی ٹانگیں توڑیں۔ باقاعدہ نوٹس، باقاعدہ پیشی۔ وقت پر تفتیش اور پھر اپنے اپنے گھر واپسی۔ کوئی ملک دشمن ہی ہو گا جو اِن اقدامات کی تعریف نہ کرے۔ کوئی ناعاقبت اندیش ہی ہوگا جو نہ مانے کہ یہ ماضی کے طریقوں سے بہتر ہے۔ مہذب معاشرے میں تاریک عقوبت خانوں سے اُٹھتی چیخوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ فائلوں کا پیٹ بھرا جائے، مشکوک افراد کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔ لیکن ۔ قوم واضح ہدایات کی منتظر ہے۔ گائیڈ لائن مانگتی ہے۔

اِس غبی قوم کو ابھی تک ٹھیک سے یہی پتہ نہیں کہ ہمارے اداروں، حساس اداروں اور نیم حساس اداروں کی توہین کہاں سے شروع ہوتی ہے، ہنسنا کِس بات پر منع ہے۔ احترام بجا لانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وُہ تو ابھی تک یہی تکا لگاتے پھر رہے ہیں کہ اداروں اور حساس اداروں میں فرق کیا ہے۔ تو واضح کیے دیتے ہیں کہ ادارہ فوج ہے اور اُس کا حساس حصہ وُہ ہے جو اندرون اور بیرون ملک جاسوسی یا اِس سے ملتے جلتے فرائض انجام دیتا ہے۔ نیم حساس اداروں میں جج، علما اور لٹھ بردار مذہبی لوگ شامل ہیں جو حساس اداروں کی حساسیت دیکھ کر اپنے اوپر نیم حساس ہونے کی کیفیت طاری کر لیتے ہیں۔ یہ پورا معاملہ اِنتہائی حساس ہے اِس لیے اِن تمام اداروں کی ناموس کے نئے نئے محافظ وزیر داخلہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وُہ واضح ہدایات جاری کریں اور کم از کم مندرجہ ذیل گُنجلک مسائل کے بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ محب وطن لوگ اُن کے شروع کیے کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال سکیں۔

1: سب سے بڑا کنفیوژن حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے بارے میں ہے مثلاً کوئی نہیں جانتا کہ ٹی وی پر مستقل براجمان ریٹائرڈ جنرل، ائیروائس مارشل قِسم کے لوگوں کے فرمودات پر عوام روئیں یا نہیں؟

 جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے مدبر سپہ سالار کا نام لیتے ہوئے تو سب کو ڈرنا چاہیے لیکن کیا اُن کے مفرور بھائی پر تنقید جائز ہے؟

بعض ناعاقبت اندیش یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ فوجی ہمارے بھائی ہیں، اِس مٹی کی جم پل ہیں، جو خوبیاں خرابیاں ہم میں ہیں اُن میں بھی ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جان دیتے ہیں لیکن جب نظریاتی سرحدوں کی بات کرتے ہیں تو لکیر دھندلا جاتی ہے کیا ایسے لوگوں کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے یا ایف آئی اے کا نمبر ملانا چاہیے؟

4: اگر کِسی کا بچہ فوجی کارن فلیکس کھانے سے انکار کرے تو کیا اُسے عاق کر دیا جائے یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام چلایا جائے؟

کیا ایف آئی اے پر تنقید جائز ہے؟ پہلے تو جائز تھی کیونکہ یہ ایک سویلین ادارہ تھا لیکن اب چونکہ فوج کی ناموس کی حفاظت پر مقرر ہے تو اِس کے بارے میں کوئی واضح ہدایت جاری کی جائے۔ کیا ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰان ملک کے بارے میں بنائے گئے سارے لطیفے واپس لینے پڑیں گے؟

 کچھ ناہنجار قسم کے لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا ہمارے اداروں اور حساس اداروں پہ یہ وقت آ گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ٹُھلے اُن کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔ ایسے لوگوں کی سرکوبی کے لیے خاص اِنتظام کیا جائے؟

ملک کے کچھ کھاتے پیتے طبقے جو ڈی ایچ اے میں پلاٹ لے کر کروڑوں کماتے ہیں لیکن پھر ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی اِنتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں جو کہ اِتفاق سے حاضر سروس فوجی افسر ہوتے ہیں۔ اِن ناشکروں سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

 ہماری کئی نسلیں مرحوم کرنل محمد خان کی تحریریں پڑھ کے مزہ لیتی رہی ہے۔ کتاب انتہائی شستہ مزاح کا شاہکار ہے لیکن آخر میں اس میں ہیں تو فوج اور فوجیوں کے بارے میں لطیفے ہی۔ اُن کی کتابوں کے قابل اعتراض حصے یا تو حذف کیے جائیں یا پوری کتابیں ہی حذف کر دی جائیں۔

 حالیہ دنوں میں ہمارے نیم حساس اداروں کے جج، ادارے کے سابق سربراہ کے لیے وارنٹ جاری کرتے ہیں۔ جج بلاتے ہیں، جنرل صاحب فرماتے ہیں میں نہیں آتا ابھی موڈ نہیں ہے۔ یہ واضح کیا جائے کہ اِس معاملے میں تضحیک جج کی ہوئی جنرل کی، یا عوام کی؟

 چلتے چلتے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ اِس مادر پدر آزاد عوام پر تنقید اور اُن کی مسلسل تضحیک کا سدباب کیسے ہو گا ؟ کیا اِس دنیا میں کوئی اُمید رکھیں یا حضرت مولانا طارق جمیل سے آخرت میں ملنے والی برکتوں کا بیان سُن کر دِل بہلاتے رہیں؟

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

Advertisements

ہمارے اینکر، ہمارے حوالدار

 جیسے جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی ہمارے زندگی کا جزو لاینفک بنی ہے آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ صحافی کا کردار بھی نئے روپ لے رہا ہے۔ پہلے صحافی کا کام خبر دینا ہوتا تھا، اُس آدمی کو تلاش کرنا ہوتا تھا جو کتے کو کاٹتا تھا۔ کبھی کبھی عوام الناس کو سمجھانے کے لیے یہ بھی بتانا پڑتا تھا کہ آدمی کہاں سے آیا تھا، کتے کی رنگت کیسی تھی، اور کیا دونوں کے درمیان ماضی کے مراسم تو نہیں تھے۔ آج کا صحافی تجزیہ نگار بھی ہے، قصیدہ خواں بھی، خطبہ بھی دے دیتا ہے، مرثیہ بھی پڑھ لیتا ہے، اپنی بات سمجھانے کے لیے رونا پڑے تو رو لیتا ہے، گانا پڑے تو گا لیتا ہے، کبھی کبھی تو اپنی خبر اور اپنے تجزیے کو سچا ثابت کرنے کے لیے کیمرے کے سامنے ہاتھ اُٹھا کر دعا بھی مانگ لیتا ہے۔

 پیٹ پالنے کے لیے یہ سارے روپ بہروپ بھرتے ہوئے صحافی کو کبھی کبھی میراثی بھی بننا پڑتا ہے (کچھ دانشوروں کو شاید میراثی کہلانا پسند نہ آئے لیکن راقم کا بچپن بزرگ میراثیوں کے ساتھ گزرا ہے اور ہم نے تو یہی سیکھا ہے کہ وُہ میراث والے ہیں جو کبھی کبھی طاقتور پھنے خانوں کی ہوا نکالنے کے لیے کوئی رمز بھری بات کرتے تھے جسے آج کل جُگت کہتے ہیں)۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ صحافیوں کا میراث پن کی طرف رجحان ایک خوش آئند بات ہے۔ ہمارے گھمبیر مباحث میں کبھی کوئی ہلکی پھلکی جگت لگا کر لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا دے تو اِسے کار ثواب ہی سمجھنا چاہیے۔ لیکن ایک جہاندیدہ میراثی کی طرح صحافی بھائیوں کو بھی اپنی حدود کا بخوبی عِلم ہوتا ہے اِس لیے کچھ کرداروں، کچھ اداروں اور کچھ افکار کی بات کرتے ہوئے پر جلتے ہیں۔ لے دے کر بچتے ہیں سیاستدان تو کوئی بھی اچھا سیاستدان اپنا کارٹون دیکھ کر بھی خوش ہی ہوتا ہے کہ کِسی نے اِس قابل تو سمجھا۔

میراثی جب باقی سب کو چھوڑ کر اپنے جیسے دوسرے میراثی کو جگت کرنے لگے تو غالباً اُسے بھانڈ کہا جاتا ہے یہ ایک کم تر مقام ہے لیکن ہے یہ بھی ہمارے سماجی اور ثقافتی ماحول کی ایک جہت۔ اِسی طرح آج کل صحافی بھی دوسرے صحافیوں کو نشانے پر رکھتے ہیں اور ایک مقبول عام اصلاح یہ چلی ہے کہ جِس صحافی یا اینکر کی بات سے اختلاف ہو، جو ہماری نظر میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہو (اسٹیبلشمنٹ کو جگت لگانا تو دور کی بات ابھی تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا اُسے کِس نام سے پکاریں) اُسے حوالدار صحافی یا حوالدار اینکر کہہ دیا جاتا ہے۔ مُراد یہ ہوتی ہے کہ دیکھو ہم افسر ہیں یہ کمتر ہیں۔ یہ حکم کا غلام ہے، ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں، یہ شاہ کا وفادار ہے ہم باغی ہیں۔ یہ کم عقل ہیں ہم عقل کل ہیں۔

میں نے اینکر تو صرف ٹی وی پر ہی دیکھے ہیں لیکن زندگی میں درجنوں حوالداروں سے واسطہ پڑا ہے، اور میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ مہنگے سے مہنگا سب سے اچھے سوٹ والا اور سب سے بہترین دماغ والا اینکر بھی وہ نہیں کر سکتا جو ہمارے حوالدار کرتے ہیں اور کمزور سے کمزور حوالدار بھی کبھی وہ نہیں کرے گا جو ہمارے صحافی بھائیوں اور اینکروں کو روز کرنا پڑتا ہے۔

حوالدار کبھی سُرخی پاؤڈر نہیں لگاتا۔ جب حوالدار کو بتایا جائے کہ ملک و قوم کو خطرہ ہے تو وہ مورچہ مضبوط کرے گا یہ نہیں سوچے گا کہ اب ریٹنگ کیسے بڑھائی جائے۔ سرحد یا مورچہ دور کی بات ہے اگر کِسی اینکر کو بندوق دے کر کراچی میں ہی کِسی چیک پوسٹ پر کھڑا کر دیا جائے تو شام تک اپنے ہی پگھلتے ہوئے خضاب میں رنگا جائے گا۔

پاکستان کی فوج کی اصل طاقت ڈیفنس سوسائیٹیوں یا دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے نہیں اِس کی اصل طاقت اُن حوالداروں میں ہے جو قلیل تنخواہ میں سخت ترین ڈیوٹی کرتے ہیں کبھی اُف نہیں کرتے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد خاموشی سے گاؤں لوٹ جاتے ہیں یا شہر میں کِسی سکیورٹی گارڈ کی نوکری کر لیتے ہیں۔ ہمارے جنرل اپنے کارنامے ہمیں دِن رات سُناتے نہیں تھکتے کسی حوالدار کے منہ سے کبھی سُنا ہے کہ میرا اِس قوم پر بڑا احسان ہے؟ پاکستان میں کِسی ایسے افسر سے پوچھ لیں جو کِسی طرح کی بھی جنگ کا حصہ رہا ہو وہ آپ کو بتائے گا کہ ہماری پوری ملٹری سٹریٹیجی کو آسان نام دینا ہو تو وُہ حوالدار ہی ہو گا۔ دوران جنگ اگر حوالدار کا ساتھی یا افسر یا جوان زخمی ہو جائے تو وُہ پیٹھ پر لاد کر پیدل چلے گا تا کہ اُس کی جان بچائی جا سکے۔ میرے صحافی بھائی ایسے ہیں کہ اگر ہمارے کِسی ساتھی پر برا وقت آیا ہو تو ہم اُس کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں گے اور پھر کیمرے میں دیکھ کر کہیں گے ‘کیسا دیا؟’

محمد حنیف

صحافی و تجزیہ کار

کیا ریاست ہمیشہ میڈیا کی آزادی کی حد کا تعین کیا کرے گی؟

دنیا آج ایک مرتبہ پھر میڈیا کی آزادی کا دن جوش و جذبے سے منا رہی ہے لیکن
پاکستان جیسے ممالک میں 70 سال گزرنے کے باوجود بظاہر یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ ریاست اور میڈیا کے درمیان تعلقات کیسے ہونے چاہیئں۔ کیا مادر پدر آزاد میڈیا دونوں کے فائدے میں ہے یا پھر ریاست ہمیشہ قومی مفاد کے تناظر میں اس آزادی کی حد کا تعین کیا کرے گی؟ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافت ہی مسلسل خطرے میں قرار دی جاتی رہی ہے۔ کبھی فوجی آمر، کبھی جمہوری رہنما اور کبھی دہشت گردی کی وبا صحافت کی جان کو دیمک کی طرح چاٹتے رہے ہیں۔ آج میڈیا کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات میں صحافی اسی وجہ سے سیلف سینسر شپ پر مجبور ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں صحافیوں نے سب سے زیادہ یعنی 40 جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان انوار الحق نے گذشتہ دنوں کوئٹہ میں ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نجی شعبے کو منافع کی خاطر معلومات کی عوام تک رسائی کی مراعات دی ہیں حق نہیں۔ انوار الحق شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا براہمداغ بگٹی اور ہیربیار مری کو پرائم ٹائم میں جگہ دیتا ہے جہاں وہ پاکستان توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اس سب میں عام آدمی کا جاننے کا حق کہاں گیا؟ اس کو معلومات کیوں نہیں ملنی چاہیے؟

تاہم انوار الحق مزید کہتے ہیں کہ 1973 کے آئین کا آرٹیکل 5 عوام سے ریاست سے غیر مشروط بیعت کا تقاضہ نہیں کرتا ہے۔ ’یہ نہیں ہوسکتا کہ بیٹا کہے کہ والد مجھے ناشتہ دے گا تو میں اسے والد کہوں گا۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ رشتہ غیرمشروط ہے۔‘ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ جاوید اقبال کہتے ہیں کہ میڈیا مالکان سے شکایت یہی ہے کہ وہ پیسے کی فکر تو کر رہے ہیں لیکن عوام کو مسائل کی حد تک ابہام کا شکار کیا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اکثر صحافی بتاتے ہیں کہ ان کے مالک ان سے شکایت کرتے ہیں کہ فلاں وزیر یا بیوروکریٹ نے انھیں سلام نہیں کیا اس کے پاس میرا یہ کام رکا ہوا تھا اور یہ سب آپ کی نالائقی ہے۔‘

پاکستان میں جس طرح سے الیکٹرانک میڈیا نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے گذشتہ 16 برسوں میں ترقی کی ہے، کچھ سینیئر صحافیوں کے نزدیک اصل مسئلے کی جڑ شاید یہی ہے۔ سینیئر صحافی ناصر ملک کہتے ہیں کہ جب ٹی وی آیا تو مالکان نے 20، 20 سال تجربہ رکھنے والے پرنٹ کے سینیئر صحافیوں کو یہ کہہ کر ٹی وی میں جگہ نہیں دی کہ بقول ان کے انھیں ٹی وی نہیں آتا تھا۔

’اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو ٹی وی میں رکھ لیا گیا جن کا اگر شادی کی ویڈیو بنانے کا تجربہ تھا تو اسے کیمرہ مین رکھ لیا۔ کسی کو تکنیکی سدھ بدھ تھی تو ایسے کو پروڈیوسر رکھ لیا گیا۔‘ حکومت نے اب تک قدرے آزاد سوشل میڈیا کی باگیں بھی کھچنا شروع کر دی ہیں۔ بلاگرز اور توہین مذہب کی بحث انہیں کوششوں کا حصہ بتائی جاتی ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق پاکستان میں ریاست کا ہر کسی سے خوفزدہ ہونا شاید بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے۔

ہارون رشید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ویڈیو گیمز کتنی مفید ہیں ؟

اس ملک میں ویڈیو اعترافات کی اشاعتِ عام کا کام غالباً قومی ٹیلی ویژن پر ڈاکٹر
عبدالقدیر کے اعترافی بیان سے شروع ہوا۔ جس میں انھوں نے ایٹمی اسمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک چلانے کی پوری ذمے داری اپنے کندھوں پر لے لی اور یہ تاثر دیا کہ انھوں نے یہ کام تنِ تنہا اپنے کارندوں کی مدد سے کیا۔ اس اعترافی بیان کے بعد وہ دو ڈھائی برس گھر میں نظر بند رہے۔ اس دوران کسی صحافی کو ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ رفتہ رفتہ ان پر پابندیاں غیر اعلانیہ انداز میں ڈھیلی ہوتی چلی گئیں۔ اس کے بعد اخباری کالموں کے ذریعے انھوں نے ’’اصل حقائق‘‘  سے پردہ اٹھانا شروع کیا اور یہ بھی بتایا کہ انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے دراصل خود کو قومی سلامتی پر قربان کردیا اور پھر ایٹمی پروگرام کے ’’اصل دشمنوں اور سازشیوں‘‘ کی جانب بات کا رخ موڑ دیا۔ انھوں نے اپنی ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ صدارتی امیدوار بننے کی بھی کوشش کی۔

آج کل وہ صرف کالموں کے ذریعے مکالمہ کرتے ہیں۔ انھیں اب بھی بہت سے لوگ محسن ِ پاکستان کہتے ہیں مگر تعداد پہلے سے کہیں کم ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب اپنی تمام تر قربانیوں کی یادوں کے سائے میں بنا سرکاری پروٹوکول ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے بظاہر ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک لیک ویڈیو کی روائیت ہے تو غالباً پہلا اعترافی ویڈیو ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر اجمل پہاڑی کا لیک ہو کر مارکیٹ میں آیا اور کئی برس تک سوشل میڈیا پر پھولی ہوئی لاش کی طرح غائب اور نمودار ہوتا رہا۔ اب بہت عرصے سے نظر نہیں آ رہا۔یہ ویڈیو دراصل تفتیشی نوعیت کا تھا جس میں کوئی نامعلوم آواز سوال پوچھ رہی ہے اور اجمل پہاڑی اطمینان سے بتا رہا ہے کہ اس نے الطاف حسین کے کہنے پر کیا کیا وارداتیں کیں۔

اسی نوعیت کا ایک اسمگلڈ ویڈیو مارچ 1915 میں سامنے آیا جب ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر صولت مرزا کو سزائے موت سنائے جانے کے سولہ برس بعد پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن 19مارچ کو پھانسی سے محض چند گھنٹے پہلے کال کوٹھڑی میں بنائی جانے والی صولت مرزا  کی اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی ٹی وی چینلز تک پہنچی اور اسے باقاعدہ نشر کیا گیا۔ اس ویڈیو میں بھی الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کی قیادت کو صولت مرزا نے اپنی وارداتوں کے لیے براہِ راست احکامات صادر کرنے کا ذمے دار قرار دیا۔ اس کے بعد صدرِ مملکت نے صولت مرزا کی پھانسی روک دی تا کہ نئے انکشافات کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تازہ تحقیق کر سکے۔ یہ الگ بات کہ صولت مرزا سولہ برس سے جیل میں اسی لیے تھا کہ اس نے کے ای ایس سی کے چیرمین شاہد حامد کے قتل سمیت کئی خونی وارداتوں کا اعتراف کر کے اپنے لیے سزائے موت کا سامان پیدا کیا۔ مگر ایم کیو ایم کی قیادت کا کھل کے نام لینے میں اسے سولہ برس لگ گئے۔ بہرحال دو بار سزائے موت ملتوی ہونے کے بعد بارہ مئی 2015 کو اسے مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جیل حکام نے ویڈیو کال کوٹھڑی سے باہر آنے اور چینلز پر چلنے کے واقعہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا۔ب لوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی اس واقعہ کے ذمے داروں کو سامنے لانے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عہد کیا اور یہ عہد آج تک قائم ہے۔ شائد ویڈیو بنانے والوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی۔

گزشتہ برس 16 جون کو سابق وفاقی وزیرِ پٹرولیم اور آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی نیوز چینل کے ہاتھ لگ گئی۔ اس میں ڈاکٹر عاصم کھل کے آصف زرداری اور ان کے ایک دستِ راست اویس مظفر ٹپی کی بد اعمالیوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے یہ ویڈیو ٹھیک اس وقت لیک ہوئی جب عدالت ڈاکٹر عاصم کو ضمانت پر رہائی دینے یا نہ دینے کے سوال پر کسی نتیجے پر پہنچنے والی تھی۔ ویڈیو لیک ہونے کے وقت ڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں تھے۔ مگر رینجرز نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ ویڈیو لیک کرنے کی ذمے داری ان پر آتی ہے۔ تو پھر یہ ویڈیو تفتیش کاروں کی تحویل سے کس نے حاصل کی اور دھڑلے سے اسے ایک چینل پر کس نے چلوایا ؟ اس کا جواب نہ رینجرز ڈھونڈھ پائے نہ ہی سندھ گورنمنٹ اور نہ ہی چینل سے پوچھ گچھ ہوئی کہ بھیا تمہیں یہ سوغات کس نے دان کی؟

بہرحال ویڈیو لیک کرنے کا جو بھی مقصد تھا پورا نہ ہو پایا اور اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ڈاکٹر عاصم حسین ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔ ان پر دہشتگردوں کے علاج معالجے سے لے کر اربوں روپے کے گھپلوں تک کئی مقدمات قائم ہوئے۔ مگر عدالت نے ان شواہد اور دعووں کو شائد بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ گزشتہ برس ہی مارچ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعترافی ویڈیو ہر ٹی وی چینل نے نشر کی۔ کچھ عرصے اس پر گفتگو ہوتی رہی پھر کلبھوشن کا تذکرہ میڈیا کے ریڈار سے غائب ہو گیا۔ اب سے کچھ دن پہلے دس اپریل کو جب آئی ایس پی آر نے اچانک یہ اعلان کیا کہ کلبھوشن کو اپنے جرائم کے اعتراف میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے تو اعترافی ویڈیو ایک بار پھر ٹی وی اسکرینز کی زینت بن گئی۔

غالباً اس ویڈیو کو سرکاری طور پر ریلیز کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بھارتی حرکتوں کے بارے میں کسی کو کوئی شک و شبہہ نہ رہے۔ چونکہ یہ حساس معاملہ تھا اسی لیے کسی صحافی نے اس خواہش کا اظہار بھی نہ کیا کہ وہ کلبھوشن سے خصوصی انٹرویو  کے لیے رسائی چاہتا ہے۔ شائد اس کی اجازت بھی نہ ملتی۔

چنانچہ جب سترہ اپریل کو آئی ایس پی آر نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ’’رضاکارانہ حوالگی‘‘ کی خبر بریک کی اور پھر اس کا بصری اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تو اسے بھی ایک معمول کی ویڈیو سمجھ کر تمام چینلوں نے نشر کی۔ اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جو بھی جرائم ہوئے ان کی ذمے دار کالعدم ٹی ٹی پی یا جماعت الاحرار ہے۔

احسان اللہ تو محض ان تنظیموں میں لگ بھگ دس برس تک بطور ترجمان پھنسا رہا۔ اور جیسے ہی تائب ہونے کا موقع ملا وہ پہلی فرصت میں اپنے پیارے وطن کی آغوش میں آ گیا اور اب اس کا مشن یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو گمراہی اور شدت پسندی کی راہ پر جانے سے روکے جس میں پر چلنے والوں کا مقدر صرف تباہی و بربادی ہے۔

چلیے کوئی بات نہیں۔ انسان جب بھی راہِ راست پر آجائے اچھی بات ہے۔ ویڈیو سرکاری طور پر جاری کرنے کی حد تک توٹھیک تھا یا اب تک تفتیشی ویڈیوز پراسرار انداز میں لیک ہونا بھی میڈیا کی حد تک ایک روزمرہ حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کی اعترافی ویڈیوز کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ایسا دہشتگرد جس کے سر پر انعام تھا اس تک سرکاری ٹی وی چینل کے بجائے نجی ٹی وی چینل کو خصوصی رسائی دی گئی اور اس چینل نے اس خصوصی انٹرویو کا بڑا سا اشتہار ایسے شایع کیا گویا عزت مآب احسان اللہ احسان صاحب عدم تشدد، انسانیت نوازی اور حب الوطنی کی اہمیت پر سوال و جواب کی محفل سجائیں گے (سرکاری ٹی وی چینل سے ایک دفعہ یہی کام لیا جا چکا ہے جب لال مسجد آپریشن کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی برقعاتی گرفتاری کے بعد پی ٹی وی نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا)۔

احسان اللہ احسان تک رسائی آئی ایس پی آر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اگریہ قدم درست تھا تو  سوال یہ ہے کہ پیمرا کو یہ بات یاد دلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت کسی بھی ڈکلئیرڈ دہشتگرد کا انٹرویو یا بات چیت نشر نہیں ہو سکتی۔ اس سے پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف مہم کو نقصان پہنچ سکتا ہے کہ جس نے اب تک بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

علاوہ ازیں جو شہری دہشتگردی کا لقمہ بنے ان کے عزیزوں اور احباب کو انتہائی دکھ اور صدمے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ توقع تو یہ تھی کہ جو بیان آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونا چاہیے تھا وہ پیمرا کو جاری کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ چینل کا بھی شکریہ کہ اس نے خرد مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نایاب انٹرویو مقررہ تاریخ اور وقت پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجازت کے تناظر میں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ آیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک متفقہ بیانئے کی بابت کیا واقعی سول اور فوجی ادارے ایک صفحے پر ہیں؟ ویسے ڈاکٹر قدیر سے لے کر آج تک جتنے بھی اعترافی ویڈیو جاری یا لیک ہوئے ان سے رائے عامہ تبدیل کرنے میں کتنی مدد ملی۔ کتنے ویڈیوز اس لیے سامنے لائے گئے کہ ان کے ذریعے مخاطب ہونے والے کی غلطیوں یا جرائم سے عوام سبق حاصل کریں اور کتنے ویڈیوز اس نئیت سے جاری کیے گئے کہ جاری کرنے والوں کا خیال تھا کہ اس سے ان کو طویل و صغیر المیعاد ایجنڈائی فائدہ پہنچے گا؟ کہاں تفتیشی ویڈیو کا سامنے آنا جرم ہے اور کہاں قومی خدمت؟ کون سا ویڈیو رضاکارانہ ہے اور کون سا دباؤ کے تحت بیان پر مشتمل ہے؟ کیا ان سوالات کا جواب دینا اور تلاش کرنا قومی ذمے داری کے دائرے میں نہیں آتا؟

 وسعت اللہ خان