ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات کے بعد صحافت کے کردار پر بحث

پاکستان کے ٹی وی چینلز پر اہم اور حساس واقعات کی کوریج سمیت “سب سے پہلے خبر” دینے کی دوڑ میں بعض اوقات غلط یا “کچے پکے حقائق” پر مبنی خبریں نشر کرنے کی وجہ سے اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ لیکن ضلع قصور میں رواں ماہ جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کم سن بچی زینب کے معاملے پر ایک سینئر اینکر پرسن کی طرف سے ایسے الزامات کے بعد جنہیں وہ تاحال ثابت نہیں کر سکے، ایک بار پھر ذمہ دارانہ صحافت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ زینب کے مبینہ قاتل عمران علی کی گرفتاری کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملزم ایک ایسے بین الاقوامی گروہ کا حصہ ہے جو بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کرنے میں ملوث ہے اور اس شخص کے غیر ملکی کرنسی کے کم از کم 37 بینک اکاؤنٹس ہیں۔

اینکر پرسن نے اپنے اسی پروگرام میں چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا اس مقدمے میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا معاملہ بھی پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن جب عدالتِ عظمیٰ نے شاہد مسعود کو طلب کیا تو وہ اپنے الزامات سے متعلق کوئی واضح ثبوت فراہم نہ کر سکے۔ پاکستان کا مرکزی بینک یہ واضح کر چکا ہے کہ تحقیق سے یہ پتا چلا کہ ملزم عمران علی کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ تاہم مذکورہ اینکر پرسن اب بھی اپنے الزامات پر قائم ہیں۔

شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے انھیں اس میں اپنے دعوے کے شواہد پیش کرنے کا کہا ہے۔ شاہد مسعود کی طرف سے تاحال ٹھوس شواہد فراہم نہ کیے جانے پر نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی خبر کی صداقت اور معیار پر زور و شور سے بحث جاری ہے اور سینئر صحافیوں سمیت غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اب ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس بارے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ٹی وی چینلز آئے ہیں ایک ایسا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ “یہ صرف ایک کیس کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک رجحان ہے۔ یہ ایک پیٹرن رہا ہے۔ جب سے ٹیلی ویژن چینل آئے ہیں اور یہ پیٹرن بڑھتا گیا اور اس کو چیک نہیں کیا گیا اور روکا نہیں گیا اور اسی وجہ سے پروگرام بھی اور خبریں بھی بغیر تصدیق کیے چلا دی جاتی ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ضابطۂ اخلاق موجود ہے لیکن بدقسمتی سے اس کی پاسداری نہیں کی جاتی اور جب بھی اس طرح کے سوالات اٹھتے ہیں تو کچھ وقت کے لیے ہی عمل ہوتا ہے لیکن ان کے بقول شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات سے میڈیا کے اپنے اندر تبدیلی لانے کی امید کی جا سکتی ہے۔

“امید ہے کہ اگر اب ادراک کیا گیا تو کیونکہ یہ معاملہ اب آگے بڑھے گا. جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی بات سامنے آئے گی چاہے وہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے حق میں آتی ہے یا ان کے خلاف، ہر دو صورتوں میں میڈیا کے لیے ایک گائیڈ لائن ضرور ہوگی. اگر انھوں نے ثبوت فراہم کیے تو یہ گائیڈ لائن ہو گی کہ کوئی بھی صحافی تحقیقات کرنے کے بعد کوئی چیز دیتا ہے اور اگر وہ ثبوت نہیں دیتے تو یہ ہو گا کہ آپ کتنے ہی بڑے اینکر ہوں، کتنے ہی بڑے صحافی ہوں، لیکن اگر آپ کے پاس مکمل حقائق نہیں ہیں تو بہتر یہ ہوتا ہے کہ آپ وہ خبر نہ دیں۔ ” مؤقر غیر سرکاری تنظیم ‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے چیئرمین اور ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ وہ ایک عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ نیوز چینلز میں ادارتی جانچ پڑتال کا مؤثر نظام وضع کیا جانا ضروری ہے لیکن ان کے بقول اس طرف توجہ نہ دیے جانے سے ایسی شکایات اور معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔

“میں بہت عرصے سے کہے جا رہا ہوں کہ میڈیا میں گیٹ کیپنگ کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی سینئر آدمی جو چینل میں ہو وہ خبروں کو دیکھے. بعض لوگوں کو ناموری کا شوق ہوتا ہے اور اس میں وہ ایسی حرکتیں بھی کر جاتے ہیں جو میرا خیال ہے صحافتی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں بھی میں سمجھتا ہوں کہ انھوں (شاہد مسعود) نے جو رویہ اپنایا وہ صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔” مظہر عباس بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اخبارات کی طرح ٹی وی چینلز کو بھی چاہیے کہ اگر کوئی خبر یا تبصرہ غلط ہو تو اس کی تردید یا معذرت ضروری کی جانی چاہیے۔

ناصر محمود

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو

Advertisements

ڈاکٹر شاہد مسعود کا کیا قصور ہے؟

اگر یہ بات ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہہ بھی دی تو کونسا ظلم کیا ہے۔ اس سے کونسی قیامت آ گئی ہے۔ اس کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ عام طور پر پاکستان میں ہر جرم کے پیچھے بااثر لوگ ہوتے ہیں وہ عام اور غریب لوگوں کو پہلے پھنسواتے ہیں۔ پھر ان کو چھڑواتے ہیں اور اپنے ووٹ پکے کرتے ہیں۔ ہمارے جمہوری نظام میں یہ لوگ تھانہ کچہری میں مجبور لوگوں کے معاملات کو نبٹانے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ وہ قانون سازی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے اور اس میں وہ سٹیٹس بناتے ہیں بلکہ ٹور بناتے ہیں اور اپنا رعب داب باقی رکھتے ہیں۔ وہ مصنوعی طور پر بڑے آدمی بن جاتے ہیں۔

بجائے اس کے کہ زینب کیس کی طرف پوری توجہ رکھی جاتی۔ الٹا اس شخص کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع ہو گئی ہے جس نے ایک بہت اہم اور معمول کے مطابق ظلم و ستم میں شریک بڑے لوگوں کے خلاف بات کی ہے۔ اب زینب کیس پیچھے رہ گیا ہے اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف کیس پوری طاقت سے شروع ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی دس گیارہ ایسے واقعات قصور میں ہوئے ہیں۔ پولیس حکومت اور عدالت کہاں تھی؟ یہ صرف میڈیا کا کمال ہے کہ مجرم سامنے آیا اور مجرموں کے پیچھے بااثر افراد کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ سانحہ کوئی معمولی نہیں ہے جس شخص کی تصویر سامنے آئی ہے وہ اکیلا اس قابل نہیں کہ کئی بچوں بچیوں کے ساتھ ظالمانہ کارروائی کر سکے پہلے ہونے والے واقعات کے لیے تو ڈاکٹر شاہد مسعود نے کوئی بات نہ کی تھی مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ میری گزارش عدالت اور حکومت سے ہے کہ اس معاملے کو الجھانے اور پھیلانے کی بجائے اصل شرمناک واقعے کی طرف توجہ رکھی جائے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اس حوالے سے جو بھی لوگ ملوث ہیں اور فائدے اٹھاتے ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مجرم کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

میں اس حوالے سے چوتھا کالم لکھ رہا ہوں۔ میرا قلم روتا ہے۔ جیسے انسانیت کا سر قلم کر دیا گیا ہو۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی باتیں اہم ہیں۔ انہیں اگنور نہ کیا جائے۔ اگر کوئی اس سانحے کے پیچھے ہے اور ضرور ہو گا تو اس کے لیے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ کارروائی کی جائے۔ قصور کے SHO سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ یہ کیوں ہوا۔ کیوں ہو رہا ہے اور تم نے اس کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ وہ ابھی تک ڈٹ کر تھانے بیٹھا ہے۔ اس کے پیچھے بقول ڈاکٹر شاہد مسعود کوئی بین الاقوامی گروپ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں کہاں کہاں کئی بین الاقوامی گروپ بڑے دھڑلے سے کام کر رہے ہیں۔

یہاں جو این جی اوز اور دوسرے ادارے ہیں ان کے عالمی سطح پر روابط ہیں انہیں بڑی بڑی گرانٹس ملتی ہیں۔ وہ ”کام“ اپنے وطن میں کرتے ہیں اور فنڈز باہر سے لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں ناروے گیا تھا وہاں لوگوں کے پاس ایسی فلمیں تھیں تو یہ کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے۔ اس حوالے سے کسی وزیر کا نام بھی آ رہا ہے۔ قصور کے ممبران اسمبلی اور بڑے لوگوں سے تفتیش کی جائے۔ انہیں باقاعدہ شامل تفتیش کیا جائے۔ جس شہر کا نام ہی قصور ہے وہاں شہر کے وارث لوگوں کو کیسے بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ان کا اپنا شہر ہے اور یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ یورے ملک اور پوری دنیا میں ایک بدنامی رسوائی اور ظالمانہ صورتحال کی خبریں عام ہوئی ہیں۔

ایک بڑی اینکر پرسن نسیم زہرا کہتی ہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کیس مثالی ہو سکتا ہے۔ کیا زینب کیس مثالی نہ ہو گا ؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے چونکہ بڑے لوگوں کا نام لیا ہے تو صحافی بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود بھی صحافی ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ وہ صحافی نہیں ہیں؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملے میں صحافیوں کو کیوں ملوث کیا گیا ہے۔ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود معافی مانگ لیں۔ وہ کس بات کی معافی مانگیں۔ ایک ایسی بات جو زینب سانحے سے متعلق ہے کہہ دینے میں کونسی توہین عدالت ہوئی ہے یا توہین صحافت ہوئی ہے تو توہین صحافت کرنے والے لوگ ہمارے یہاں کئی ہیں۔ انہیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔

ہمارے صحافی صحیح خبریں دیتے ہیں۔ کبھی کبھی غلط خبریں بھی چلی جاتی ہیں۔ غلط خبر کے لیے پرویز رشید کو سزا دی گئی اور خواجہ آصف کو جزا ملی۔ ایک ہی غلطی کے لیے دو مختلف معیار مقرر کیے گئے۔ میرے خیال میں زینب کیس کے حوالے سے جو ظلم ہوا ہے اس پر توجہ رکھی جائے۔ ان لوگوں کے لیے بھی تحقیقات کر لی جائیں جن کی طرف ڈاکٹر شاہد مسعود نے اشارہ کیا ہے۔ اسے صرف ایک اطلاع کے طور پر لیا جائے۔ باقی قوم حکومت اور تفتیشی ٹیم کا ہے۔ جب کوئی مقدمہ ہو تو اس کے لیے سارے معاملات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ ممکن ہے اس میں کوئی بڑی تلخ حقیقت موجود ہو۔

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

زینب قتل کیس : ڈاکٹر شاہد مسعود کو ثبوت پیش کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ غیر متعلقہ باتیں نہ کریں بینک اکاونٹس کے ثبوت دیں، اگر آپ کی خبر سچی نکلی تو آپ کو نمبر ایک صحافی ہونے کا اعزاز دیا جائے گا لیکن اگر یہ خبر غلط نکلی تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال سکتے ہیں. یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زینب قتل کیس میں پکڑا گیا ملزم عمران کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس گروہ میں مبینہ طور پر پنجاب کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر ان شخصیات کا نام لکھ کر دیئے تھے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کے دعوے کے بعد تحقیقات کی گئی لیکن مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ملا۔ جس کے بعد ترجمان پنجاب حکومت  نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹرشاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی تھی۔

ساحر لودھی کے مارننگ شو پر پابندی کے لیے دراخواست دائر

ہائی کورٹ میں ساحر لودھی کے مارننگ شو کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ساحر لودھی کے مارننگ شو پر پابندی کے لیے دائر دراخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر لیا گیا ہے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، پیمرا، ساحر لودھی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزارکا کہنا ہے کہ ساحر لودھی کے پروگرام میں کم عمر بچیوں کے ناچ گانے کے مقابلے دکھائے جاتے ہیں، کم عمر بچیوں کا رقص نشر کرنے سے معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے جس سے قصور جیسے واقعات جنم لے رہے ہیں۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا ایسے پروگراموں کی نشریات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہا، عدالت پیمرا کو ساحر لودھی کے پروگرام میں کم عمر لڑکیوں کے ناچ گانے نشر کرنے پر پابندی کا حکم دے۔
واضح رہے کہ نامور میزبان و اداکار ساحر لودھی گزشتہ کچھ عرصے سے مارننگ شو میں کم عمر بچیوں سے ناچ گانا کروانے کے حوالے سے شدید تنقید کا شکار ہیں، سوشل میڈیا صارفین نے ساحر لودھی اور ان کے شو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا شو معاشرے میں بے راہ روی پھیلانے کا باعث بن رہا ہے، لہٰذا ان کے شو کو بند کیا جانا چاہیے۔

چھوٹی بچیوں پر تو رحم کرو ؟

قصور سانحہ کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک وڈیو سامنے آئی جس میں چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں سے بڑے بے ہودہ انداز میں ایک ٹی وی چینل کے شو میں ڈانس کروایا گیا۔ یہ بے ہودگی اور چھوٹی بچیوں کی معصومیت سے کھیلنا اس قدر گری ہوئی حرکت تھی کہ اس پر مغربی میڈیا تک نے بھی اعتراض کیا لیکن نہ تو اس پر پیمرا نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی اس پر میڈیا کی طرف سے کوئی خاص اعتراض اٹھایا گیا۔ میں نے جب اس وڈیو کو دیکھا تو دکھ ہوا کہ اپنی ریٹنگز کے لیے کوئی اس حد تک بھی گر سکتا ہے۔ ریٹنگ اور پیسے کے لیے پہلے ہی عورت کو استعمال کیا جا رہا ہے اب معاملہ چھوٹی بچیوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ایسے پروگرامز پر تو متعلقہ ٹی وی چینل کے ساتھ ساتھ اینکر کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور کم از کم ایسے پروگرامز اور اینکرز پر پابندی تو ضرور عائد کرنی چاہیے لیکن یہاں ایسی کوئی روایت ہم قائم ہی نہیں ہونے دینا چاہتے کیوں کہ میڈیا کی ایسی گھٹیا حرکتوں کو بھی آزادی رائے کی آڑ میں بچا لیا جاتا ہے ۔ اگر میڈیا کے علاوہ ایسی حرکت کسی اسکول میں ہوئی ہوتی تو اس پر بریکنگ نیوز چل چکی ہوتیں، بڑے بڑے اینکرز پروگرامز کر چکے ہوتے۔ مجھے امید نہیں کہ اس حرکت پر پیمرا بھی کوئی ایکشن لے گا۔ ویسے مجھے تو اس بات پر بھی سخت اعتراض ہے کہ ٹی وی چینلز نے کس طرح کراچی میں انتظار نامی نوجوان کے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد اُس لڑکی کے متعلق خبریں نشر کیں جو وقوعہ کے وقت گاڑی میں موجود تھی۔

یہ بات پہلے ہی تسلیم کی جا چکی تھی کہ انتظار کو پولیس نے بے قصور مارا جس کی تحقیقات کا بھی اعلان ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود اُس لڑکی کے بارے میں بار بار خبریں چلائی گئیں اور پھر پہلے اُس کا نام اور پھر اُس کی تصویریں ٹی وی اسکرینز پر چلائی گئیں۔ بعد میں اُس لڑکی کے ٹیلی فون انٹرویوز تک چلائے گئے۔ اگرچہ میں لڑکی لڑکے کی دوستی کا قائل نہیں اور نہ ہی پسند کرتا ہوں کہ کوئی اس طرح نامحرم نوجوان لڑکی لڑکا اکیلے گھومیں پھریں۔ لیکن اگر کوئی لڑکا لڑکی اس طرح گھوم رہے تھے اور اس دوران حادثہ ہو گیا تو کیا یہ مناسب تھا کہ اُس لڑکی کا نام لے لے کر اس مسئلہ کو بلاوجہ اسکینڈیلائز کیا جائے جبکہ یہ سب کو معلوم تھا کہ قتل پولیس نے کیا نہ کہ لڑکی نے۔

کاش ٹی وی چینلز ایسے نازک معاملات میں دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں۔ ویسے عمومی طور پر تو ہمارے چینلز کا رواج ہے کہ اگر کوئی لڑکی لڑکا گھر سے بھاگ نکلیں تو اُنہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ والدین کو ولن کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ڈراموں میں، اشتہاروں کے ذریعے اور دوسرے طریقوں سے لڑکوں لڑکیوں کو دوستی کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے اور اسے ترقی اور روشن خیالی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ لیکن انتظار قتل کیس میں چینلز کے لیے سب سے بڑی attraction وہ لڑکی بن گئی جو وقوعہ کے وقت گاڑی میں مقتول کے ساتھ بیٹھی تھی کیوں کہ اس سے ریٹنگ مل رہی تھی۔

اگر وہ لڑکی اس قتل میں شریک جرم ہوتی تو اُس کا نام ضرور لیا جانا چاہیے تھا لیکن اگر وہ میڈیا کے اس کلچر کے مطابق جسے وہ خوب پروموٹ کر رہا ہے ایک نامحرم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تو اس غلطی پر اُس کی اور اُس کے خاندان کی عزت کا چینلز کو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ ایسے نجی و اخلاقی معاملات میں ہمیں پردہ رکھنے کی اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے میڈیا مالکان، نیوز ڈائیرکٹرز، رپورٹرز، اینکرز اور مجھ سمیت ہر صحافی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے اخلاقی و نجی معاملات میں اگر ہم دوسروں کی غلطیوں اور گناہوں کی پردہ داری کریں گے تو آخرت میں ہمارے گناہوں پر بھی پردہ پڑا رہے گا۔ میڈیا ایسے معاملات کو اچھالنے کی بجائے اپنی روش بدلے اور مغربی ثقافت کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرہ میں ماحول فراہم کرنے میں مدد دے جس کے مجھے کوئی اثار نہیں نظر آتے۔

انصار عباسی

سوشل میڈیا : اپنی اداؤں پر غور کرے

شرمین عبید چنائے کا ٹویٹ ایک نان ایشو ہے جسے مسلسل کھینچنا وقت گنوانا ہے۔ نواز شریف، عمران خان یا ڈی جی آئی ایس پی آر وغیرہ کی تقاریر یا لمبی لمبی پریس کانفرنسیں محض ایک خبر کے طور پر نشر کرنے کے بجائے براہِ راست اور پورا پورا دکھانا ناظرین اور صحافتی اقدار سے زیادتی ہے۔ یہی نشریاتی وقت حقیقی مسائل اجاگر کرنے میں بھی کھپایا جا سکتا ہے۔ ہر ٹی وی ٹاک شو میں پاناما لیکس یا لیگی حکومت کب جا رہی ہے جیسی خرافات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

حالانکہ سینکڑوں مسائل ہیں جو پاناما یا حکومتی استحکام پر جاری قیاس آرائیانہ مباحث سے کہیں اہم ہیں۔ میرے کان پک چکے یہ اعتراضات و فرمائشیں سن سن کر۔ جب ان معترضین سے پوچھا جائے کہ بھائی کون سے مسائل یا خبریں ہیں جن پر آپ کے خیال میں ترجیحاً بات ہونی چاہیے تو آدھے لوگوں کا جواب ہوتا ہے ہم کیا بتائیں، آپ صحافی ہیں آپ بتائیں، آپ سے کیا پوشیدہ ہے۔ باقی آدھوں کے نزدیک اہم مسائل، گورنینس، تعلیم اور صحت وغیرہ ہیں جن پر سب سے کم بات ہوتی ہے۔

قبلہ آپ کی بات سر آنکھوں پر مگر دو ہزار سترہ میں انیس سو سترہ کی صحافت نہیں چل سکتی۔ سو سال پہلے اخبار کسی سے قرض یا چندہ لے کر بھی شائع ہو جاتا تھا اور وہ اشتہارات پر نہیں سرکولیشن یا قارئین کی ماہانہ و سالانہ ممبر شپ پر چلتا تھا۔ آج اخبار یا چینل زندہ رکھنا کروڑوں روپے کا گیم ہے۔ یہ کروڑوں روپے محض تعلیم، صحت، گورنینس جیسے خشک موضوعات پر مسلسل گفتگو سے وصول نہیں ہو سکتے۔ پیسہ صرف نان ایشوز میں ہے۔ ریٹنگ حقیقی موضوعات کی ریں ریں سے نہیں، تیز مصالحے دار چٹ پٹے چھچھورے پروگراموں سے حاصل ہوتی ہے۔

کسی بھی سنجیدہ مسئلے پر ہونے والے کسی بھی پروگرام کی کوئی ایک مثال دے دیجیے جس کی ریٹنگ کسی بھی مارننگ شو کے مقابلے میں بس ایک بار زیادہ آئی ہو۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر گیم شوز بھی کافی مقبول ہیں. چلیے مان لیا کہ دراصل لاکھوں خاموش ناظرین اور قاری ہیں جو صرف سنجیدہ مسائل پر ہی گفتگو دیکھنا سننا چاہتے ہیں۔ مگر میڈیا مالکان اور نئی پود کے نابلد صحافی ناسمجھی، عدم تربیت، اندھی کمرشل دوڑ یا کسی ناگہانی آفت سے بچنے کے لیے غیر اہم مسائل کو زیادہ چمک دمک کے ساتھ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

اس کا توڑ یہ ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لاکھوں ناظرین و قارئین روایتی، مفاد پرست اور مقابلے کی گھٹیا ترین سطح پر اتر آنے والے میڈیا پر لعنت بھیجیں اور سوشل میڈیا کو حقیقی مسائل پر حرفی، صوتی و بصری گفتگو سے بھر دیں۔ لیکن جس سوشل میڈیا پر آپ کا اختیار روایتی میڈیا پر آپ کے زور سے کئی گنا بڑھ کے ہے وہی سوشل میڈیا نفرت، تعصب، جہالت، جھوٹ، آدھے سچ، فحش گوئی، ننگی دھمکیوں اور جعلی و مشکوک تصاویر کا کچرا گھر کیسے بن گیا ؟ سوشل میڈیا کو تو سنجیدگی کا آئینہ ہونا چاہیے تھا جس میں روایتی میڈیا اپنے چہرے کی نحوست دیکھ کے شرما سکتا۔ کیا کسی نے آج تک سوشل میڈیا پر چار پانچ ویب سائٹس کے سوا اس ریاست اور معاشرے کے حقیقی مسائل پر کوئی شائستہ، پڑھی لکھی تحمل دار بحث دیکھی؟

آپ سوشل میڈیا جیسے ہتھیار کا صحت مند استعمال کر کے گھٹیا چینلز، جاہل اینکرز اور پھٹیچر اخبارات کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل گھیراؤ کر کے حقیقی مسائل کی پروگرام سازی پر انہیں مجبور کیا جا سکتا ہے۔ مگر آپ صرف ایک مڈل کلاسی ڈرائنگ روم میں چائے سڑکتے قوم کے غم میں دبلے ہوتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم بدنیت اور تاریک قوتوں کے الیکٹرونک جنھوں نے برین واشنگ کے لیے ہائی جیک کر لیے یا پھر بندر کے ہاتھ میں استرا ہو گئے۔

یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر کسی بھی قابلِ ذکر سیاسی و مذہبی و فرقہ و نسل پرست رہنما، عسکری خرچوں، متنازعہ عدالتی فیصلوں، مذہب کے نام پر جاری انتقامی سیاست، بلوچستان، اقلیتوں، ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بنیادی حقوق کی کھلم کھلا پامالیوں کے بارے میں ایک جملہ بھی لکھیے۔ ردِعمل کے ناگ آپ کو نیلا نہ کر دیں تو مجھے بھی بتایے گا۔ خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے دوسروں کو حقیقت پسندی اور راست گوئی پر اکسانے والے دراصل اس راہ چلتے کی طرح ہیں جس نے ختنہ کرنے والے جراح کی دکان کے باہر بہت سے پرانے گھڑیال لٹکے دیکھے تو پوچھا بھائی صاحب آپ تو جراح ہیں۔ یہ وال کلاک پھر کیوں لٹکاءِے ہیں؟ جراح نے پوچھا ’آپ ہی بتائیے کیا لٹکائیں پھر؟‘

وسعت اللہ خان

اداروں پر تنقید کیسے کریں ؟

سوشل میڈیا پر قومی اداروں پر تنقید اور اُن کی تضحیک کے خلاف ملک کے طول و عرض میں جاری آپریشن کا خیر مقدم۔ کاروائی کرنے والوں کے پیشہ ورانہ عزم کو سلام۔ نہ کوئی غائب ہوا، نہ کسی ان دیکھے ہاتھ نے کسی کی ٹانگیں توڑیں۔ باقاعدہ نوٹس، باقاعدہ پیشی۔ وقت پر تفتیش اور پھر اپنے اپنے گھر واپسی۔ کوئی ملک دشمن ہی ہو گا جو اِن اقدامات کی تعریف نہ کرے۔ کوئی ناعاقبت اندیش ہی ہوگا جو نہ مانے کہ یہ ماضی کے طریقوں سے بہتر ہے۔ مہذب معاشرے میں تاریک عقوبت خانوں سے اُٹھتی چیخوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ فائلوں کا پیٹ بھرا جائے، مشکوک افراد کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔ لیکن ۔ قوم واضح ہدایات کی منتظر ہے۔ گائیڈ لائن مانگتی ہے۔

اِس غبی قوم کو ابھی تک ٹھیک سے یہی پتہ نہیں کہ ہمارے اداروں، حساس اداروں اور نیم حساس اداروں کی توہین کہاں سے شروع ہوتی ہے، ہنسنا کِس بات پر منع ہے۔ احترام بجا لانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وُہ تو ابھی تک یہی تکا لگاتے پھر رہے ہیں کہ اداروں اور حساس اداروں میں فرق کیا ہے۔ تو واضح کیے دیتے ہیں کہ ادارہ فوج ہے اور اُس کا حساس حصہ وُہ ہے جو اندرون اور بیرون ملک جاسوسی یا اِس سے ملتے جلتے فرائض انجام دیتا ہے۔ نیم حساس اداروں میں جج، علما اور لٹھ بردار مذہبی لوگ شامل ہیں جو حساس اداروں کی حساسیت دیکھ کر اپنے اوپر نیم حساس ہونے کی کیفیت طاری کر لیتے ہیں۔ یہ پورا معاملہ اِنتہائی حساس ہے اِس لیے اِن تمام اداروں کی ناموس کے نئے نئے محافظ وزیر داخلہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وُہ واضح ہدایات جاری کریں اور کم از کم مندرجہ ذیل گُنجلک مسائل کے بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ محب وطن لوگ اُن کے شروع کیے کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال سکیں۔

1: سب سے بڑا کنفیوژن حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے بارے میں ہے مثلاً کوئی نہیں جانتا کہ ٹی وی پر مستقل براجمان ریٹائرڈ جنرل، ائیروائس مارشل قِسم کے لوگوں کے فرمودات پر عوام روئیں یا نہیں؟

 جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے مدبر سپہ سالار کا نام لیتے ہوئے تو سب کو ڈرنا چاہیے لیکن کیا اُن کے مفرور بھائی پر تنقید جائز ہے؟

بعض ناعاقبت اندیش یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ فوجی ہمارے بھائی ہیں، اِس مٹی کی جم پل ہیں، جو خوبیاں خرابیاں ہم میں ہیں اُن میں بھی ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جان دیتے ہیں لیکن جب نظریاتی سرحدوں کی بات کرتے ہیں تو لکیر دھندلا جاتی ہے کیا ایسے لوگوں کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے یا ایف آئی اے کا نمبر ملانا چاہیے؟

4: اگر کِسی کا بچہ فوجی کارن فلیکس کھانے سے انکار کرے تو کیا اُسے عاق کر دیا جائے یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام چلایا جائے؟

کیا ایف آئی اے پر تنقید جائز ہے؟ پہلے تو جائز تھی کیونکہ یہ ایک سویلین ادارہ تھا لیکن اب چونکہ فوج کی ناموس کی حفاظت پر مقرر ہے تو اِس کے بارے میں کوئی واضح ہدایت جاری کی جائے۔ کیا ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰان ملک کے بارے میں بنائے گئے سارے لطیفے واپس لینے پڑیں گے؟

 کچھ ناہنجار قسم کے لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا ہمارے اداروں اور حساس اداروں پہ یہ وقت آ گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ٹُھلے اُن کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔ ایسے لوگوں کی سرکوبی کے لیے خاص اِنتظام کیا جائے؟

ملک کے کچھ کھاتے پیتے طبقے جو ڈی ایچ اے میں پلاٹ لے کر کروڑوں کماتے ہیں لیکن پھر ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی اِنتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں جو کہ اِتفاق سے حاضر سروس فوجی افسر ہوتے ہیں۔ اِن ناشکروں سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

 ہماری کئی نسلیں مرحوم کرنل محمد خان کی تحریریں پڑھ کے مزہ لیتی رہی ہے۔ کتاب انتہائی شستہ مزاح کا شاہکار ہے لیکن آخر میں اس میں ہیں تو فوج اور فوجیوں کے بارے میں لطیفے ہی۔ اُن کی کتابوں کے قابل اعتراض حصے یا تو حذف کیے جائیں یا پوری کتابیں ہی حذف کر دی جائیں۔

 حالیہ دنوں میں ہمارے نیم حساس اداروں کے جج، ادارے کے سابق سربراہ کے لیے وارنٹ جاری کرتے ہیں۔ جج بلاتے ہیں، جنرل صاحب فرماتے ہیں میں نہیں آتا ابھی موڈ نہیں ہے۔ یہ واضح کیا جائے کہ اِس معاملے میں تضحیک جج کی ہوئی جنرل کی، یا عوام کی؟

 چلتے چلتے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ اِس مادر پدر آزاد عوام پر تنقید اور اُن کی مسلسل تضحیک کا سدباب کیسے ہو گا ؟ کیا اِس دنیا میں کوئی اُمید رکھیں یا حضرت مولانا طارق جمیل سے آخرت میں ملنے والی برکتوں کا بیان سُن کر دِل بہلاتے رہیں؟

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

ہمارے اینکر، ہمارے حوالدار

 جیسے جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی ہمارے زندگی کا جزو لاینفک بنی ہے آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ صحافی کا کردار بھی نئے روپ لے رہا ہے۔ پہلے صحافی کا کام خبر دینا ہوتا تھا، اُس آدمی کو تلاش کرنا ہوتا تھا جو کتے کو کاٹتا تھا۔ کبھی کبھی عوام الناس کو سمجھانے کے لیے یہ بھی بتانا پڑتا تھا کہ آدمی کہاں سے آیا تھا، کتے کی رنگت کیسی تھی، اور کیا دونوں کے درمیان ماضی کے مراسم تو نہیں تھے۔ آج کا صحافی تجزیہ نگار بھی ہے، قصیدہ خواں بھی، خطبہ بھی دے دیتا ہے، مرثیہ بھی پڑھ لیتا ہے، اپنی بات سمجھانے کے لیے رونا پڑے تو رو لیتا ہے، گانا پڑے تو گا لیتا ہے، کبھی کبھی تو اپنی خبر اور اپنے تجزیے کو سچا ثابت کرنے کے لیے کیمرے کے سامنے ہاتھ اُٹھا کر دعا بھی مانگ لیتا ہے۔

 پیٹ پالنے کے لیے یہ سارے روپ بہروپ بھرتے ہوئے صحافی کو کبھی کبھی میراثی بھی بننا پڑتا ہے (کچھ دانشوروں کو شاید میراثی کہلانا پسند نہ آئے لیکن راقم کا بچپن بزرگ میراثیوں کے ساتھ گزرا ہے اور ہم نے تو یہی سیکھا ہے کہ وُہ میراث والے ہیں جو کبھی کبھی طاقتور پھنے خانوں کی ہوا نکالنے کے لیے کوئی رمز بھری بات کرتے تھے جسے آج کل جُگت کہتے ہیں)۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ صحافیوں کا میراث پن کی طرف رجحان ایک خوش آئند بات ہے۔ ہمارے گھمبیر مباحث میں کبھی کوئی ہلکی پھلکی جگت لگا کر لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا دے تو اِسے کار ثواب ہی سمجھنا چاہیے۔ لیکن ایک جہاندیدہ میراثی کی طرح صحافی بھائیوں کو بھی اپنی حدود کا بخوبی عِلم ہوتا ہے اِس لیے کچھ کرداروں، کچھ اداروں اور کچھ افکار کی بات کرتے ہوئے پر جلتے ہیں۔ لے دے کر بچتے ہیں سیاستدان تو کوئی بھی اچھا سیاستدان اپنا کارٹون دیکھ کر بھی خوش ہی ہوتا ہے کہ کِسی نے اِس قابل تو سمجھا۔

میراثی جب باقی سب کو چھوڑ کر اپنے جیسے دوسرے میراثی کو جگت کرنے لگے تو غالباً اُسے بھانڈ کہا جاتا ہے یہ ایک کم تر مقام ہے لیکن ہے یہ بھی ہمارے سماجی اور ثقافتی ماحول کی ایک جہت۔ اِسی طرح آج کل صحافی بھی دوسرے صحافیوں کو نشانے پر رکھتے ہیں اور ایک مقبول عام اصلاح یہ چلی ہے کہ جِس صحافی یا اینکر کی بات سے اختلاف ہو، جو ہماری نظر میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہو (اسٹیبلشمنٹ کو جگت لگانا تو دور کی بات ابھی تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا اُسے کِس نام سے پکاریں) اُسے حوالدار صحافی یا حوالدار اینکر کہہ دیا جاتا ہے۔ مُراد یہ ہوتی ہے کہ دیکھو ہم افسر ہیں یہ کمتر ہیں۔ یہ حکم کا غلام ہے، ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں، یہ شاہ کا وفادار ہے ہم باغی ہیں۔ یہ کم عقل ہیں ہم عقل کل ہیں۔

میں نے اینکر تو صرف ٹی وی پر ہی دیکھے ہیں لیکن زندگی میں درجنوں حوالداروں سے واسطہ پڑا ہے، اور میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ مہنگے سے مہنگا سب سے اچھے سوٹ والا اور سب سے بہترین دماغ والا اینکر بھی وہ نہیں کر سکتا جو ہمارے حوالدار کرتے ہیں اور کمزور سے کمزور حوالدار بھی کبھی وہ نہیں کرے گا جو ہمارے صحافی بھائیوں اور اینکروں کو روز کرنا پڑتا ہے۔

حوالدار کبھی سُرخی پاؤڈر نہیں لگاتا۔ جب حوالدار کو بتایا جائے کہ ملک و قوم کو خطرہ ہے تو وہ مورچہ مضبوط کرے گا یہ نہیں سوچے گا کہ اب ریٹنگ کیسے بڑھائی جائے۔ سرحد یا مورچہ دور کی بات ہے اگر کِسی اینکر کو بندوق دے کر کراچی میں ہی کِسی چیک پوسٹ پر کھڑا کر دیا جائے تو شام تک اپنے ہی پگھلتے ہوئے خضاب میں رنگا جائے گا۔

پاکستان کی فوج کی اصل طاقت ڈیفنس سوسائیٹیوں یا دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے نہیں اِس کی اصل طاقت اُن حوالداروں میں ہے جو قلیل تنخواہ میں سخت ترین ڈیوٹی کرتے ہیں کبھی اُف نہیں کرتے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد خاموشی سے گاؤں لوٹ جاتے ہیں یا شہر میں کِسی سکیورٹی گارڈ کی نوکری کر لیتے ہیں۔ ہمارے جنرل اپنے کارنامے ہمیں دِن رات سُناتے نہیں تھکتے کسی حوالدار کے منہ سے کبھی سُنا ہے کہ میرا اِس قوم پر بڑا احسان ہے؟ پاکستان میں کِسی ایسے افسر سے پوچھ لیں جو کِسی طرح کی بھی جنگ کا حصہ رہا ہو وہ آپ کو بتائے گا کہ ہماری پوری ملٹری سٹریٹیجی کو آسان نام دینا ہو تو وُہ حوالدار ہی ہو گا۔ دوران جنگ اگر حوالدار کا ساتھی یا افسر یا جوان زخمی ہو جائے تو وُہ پیٹھ پر لاد کر پیدل چلے گا تا کہ اُس کی جان بچائی جا سکے۔ میرے صحافی بھائی ایسے ہیں کہ اگر ہمارے کِسی ساتھی پر برا وقت آیا ہو تو ہم اُس کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں گے اور پھر کیمرے میں دیکھ کر کہیں گے ‘کیسا دیا؟’

محمد حنیف

صحافی و تجزیہ کار

کیا ریاست ہمیشہ میڈیا کی آزادی کی حد کا تعین کیا کرے گی؟

دنیا آج ایک مرتبہ پھر میڈیا کی آزادی کا دن جوش و جذبے سے منا رہی ہے لیکن
پاکستان جیسے ممالک میں 70 سال گزرنے کے باوجود بظاہر یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ ریاست اور میڈیا کے درمیان تعلقات کیسے ہونے چاہیئں۔ کیا مادر پدر آزاد میڈیا دونوں کے فائدے میں ہے یا پھر ریاست ہمیشہ قومی مفاد کے تناظر میں اس آزادی کی حد کا تعین کیا کرے گی؟ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافت ہی مسلسل خطرے میں قرار دی جاتی رہی ہے۔ کبھی فوجی آمر، کبھی جمہوری رہنما اور کبھی دہشت گردی کی وبا صحافت کی جان کو دیمک کی طرح چاٹتے رہے ہیں۔ آج میڈیا کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات میں صحافی اسی وجہ سے سیلف سینسر شپ پر مجبور ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں صحافیوں نے سب سے زیادہ یعنی 40 جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان انوار الحق نے گذشتہ دنوں کوئٹہ میں ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نجی شعبے کو منافع کی خاطر معلومات کی عوام تک رسائی کی مراعات دی ہیں حق نہیں۔ انوار الحق شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا براہمداغ بگٹی اور ہیربیار مری کو پرائم ٹائم میں جگہ دیتا ہے جہاں وہ پاکستان توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اس سب میں عام آدمی کا جاننے کا حق کہاں گیا؟ اس کو معلومات کیوں نہیں ملنی چاہیے؟

تاہم انوار الحق مزید کہتے ہیں کہ 1973 کے آئین کا آرٹیکل 5 عوام سے ریاست سے غیر مشروط بیعت کا تقاضہ نہیں کرتا ہے۔ ’یہ نہیں ہوسکتا کہ بیٹا کہے کہ والد مجھے ناشتہ دے گا تو میں اسے والد کہوں گا۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ رشتہ غیرمشروط ہے۔‘ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ جاوید اقبال کہتے ہیں کہ میڈیا مالکان سے شکایت یہی ہے کہ وہ پیسے کی فکر تو کر رہے ہیں لیکن عوام کو مسائل کی حد تک ابہام کا شکار کیا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اکثر صحافی بتاتے ہیں کہ ان کے مالک ان سے شکایت کرتے ہیں کہ فلاں وزیر یا بیوروکریٹ نے انھیں سلام نہیں کیا اس کے پاس میرا یہ کام رکا ہوا تھا اور یہ سب آپ کی نالائقی ہے۔‘

پاکستان میں جس طرح سے الیکٹرانک میڈیا نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے گذشتہ 16 برسوں میں ترقی کی ہے، کچھ سینیئر صحافیوں کے نزدیک اصل مسئلے کی جڑ شاید یہی ہے۔ سینیئر صحافی ناصر ملک کہتے ہیں کہ جب ٹی وی آیا تو مالکان نے 20، 20 سال تجربہ رکھنے والے پرنٹ کے سینیئر صحافیوں کو یہ کہہ کر ٹی وی میں جگہ نہیں دی کہ بقول ان کے انھیں ٹی وی نہیں آتا تھا۔

’اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو ٹی وی میں رکھ لیا گیا جن کا اگر شادی کی ویڈیو بنانے کا تجربہ تھا تو اسے کیمرہ مین رکھ لیا۔ کسی کو تکنیکی سدھ بدھ تھی تو ایسے کو پروڈیوسر رکھ لیا گیا۔‘ حکومت نے اب تک قدرے آزاد سوشل میڈیا کی باگیں بھی کھچنا شروع کر دی ہیں۔ بلاگرز اور توہین مذہب کی بحث انہیں کوششوں کا حصہ بتائی جاتی ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق پاکستان میں ریاست کا ہر کسی سے خوفزدہ ہونا شاید بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے۔

ہارون رشید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ویڈیو گیمز کتنی مفید ہیں ؟

اس ملک میں ویڈیو اعترافات کی اشاعتِ عام کا کام غالباً قومی ٹیلی ویژن پر ڈاکٹر
عبدالقدیر کے اعترافی بیان سے شروع ہوا۔ جس میں انھوں نے ایٹمی اسمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک چلانے کی پوری ذمے داری اپنے کندھوں پر لے لی اور یہ تاثر دیا کہ انھوں نے یہ کام تنِ تنہا اپنے کارندوں کی مدد سے کیا۔ اس اعترافی بیان کے بعد وہ دو ڈھائی برس گھر میں نظر بند رہے۔ اس دوران کسی صحافی کو ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ رفتہ رفتہ ان پر پابندیاں غیر اعلانیہ انداز میں ڈھیلی ہوتی چلی گئیں۔ اس کے بعد اخباری کالموں کے ذریعے انھوں نے ’’اصل حقائق‘‘  سے پردہ اٹھانا شروع کیا اور یہ بھی بتایا کہ انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے دراصل خود کو قومی سلامتی پر قربان کردیا اور پھر ایٹمی پروگرام کے ’’اصل دشمنوں اور سازشیوں‘‘ کی جانب بات کا رخ موڑ دیا۔ انھوں نے اپنی ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ صدارتی امیدوار بننے کی بھی کوشش کی۔

آج کل وہ صرف کالموں کے ذریعے مکالمہ کرتے ہیں۔ انھیں اب بھی بہت سے لوگ محسن ِ پاکستان کہتے ہیں مگر تعداد پہلے سے کہیں کم ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب اپنی تمام تر قربانیوں کی یادوں کے سائے میں بنا سرکاری پروٹوکول ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے بظاہر ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک لیک ویڈیو کی روائیت ہے تو غالباً پہلا اعترافی ویڈیو ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر اجمل پہاڑی کا لیک ہو کر مارکیٹ میں آیا اور کئی برس تک سوشل میڈیا پر پھولی ہوئی لاش کی طرح غائب اور نمودار ہوتا رہا۔ اب بہت عرصے سے نظر نہیں آ رہا۔یہ ویڈیو دراصل تفتیشی نوعیت کا تھا جس میں کوئی نامعلوم آواز سوال پوچھ رہی ہے اور اجمل پہاڑی اطمینان سے بتا رہا ہے کہ اس نے الطاف حسین کے کہنے پر کیا کیا وارداتیں کیں۔

اسی نوعیت کا ایک اسمگلڈ ویڈیو مارچ 1915 میں سامنے آیا جب ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر صولت مرزا کو سزائے موت سنائے جانے کے سولہ برس بعد پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن 19مارچ کو پھانسی سے محض چند گھنٹے پہلے کال کوٹھڑی میں بنائی جانے والی صولت مرزا  کی اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی ٹی وی چینلز تک پہنچی اور اسے باقاعدہ نشر کیا گیا۔ اس ویڈیو میں بھی الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کی قیادت کو صولت مرزا نے اپنی وارداتوں کے لیے براہِ راست احکامات صادر کرنے کا ذمے دار قرار دیا۔ اس کے بعد صدرِ مملکت نے صولت مرزا کی پھانسی روک دی تا کہ نئے انکشافات کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تازہ تحقیق کر سکے۔ یہ الگ بات کہ صولت مرزا سولہ برس سے جیل میں اسی لیے تھا کہ اس نے کے ای ایس سی کے چیرمین شاہد حامد کے قتل سمیت کئی خونی وارداتوں کا اعتراف کر کے اپنے لیے سزائے موت کا سامان پیدا کیا۔ مگر ایم کیو ایم کی قیادت کا کھل کے نام لینے میں اسے سولہ برس لگ گئے۔ بہرحال دو بار سزائے موت ملتوی ہونے کے بعد بارہ مئی 2015 کو اسے مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جیل حکام نے ویڈیو کال کوٹھڑی سے باہر آنے اور چینلز پر چلنے کے واقعہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا۔ب لوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی اس واقعہ کے ذمے داروں کو سامنے لانے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عہد کیا اور یہ عہد آج تک قائم ہے۔ شائد ویڈیو بنانے والوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی۔

گزشتہ برس 16 جون کو سابق وفاقی وزیرِ پٹرولیم اور آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک اعترافی ویڈیو جانے کیسے ایک نجی نیوز چینل کے ہاتھ لگ گئی۔ اس میں ڈاکٹر عاصم کھل کے آصف زرداری اور ان کے ایک دستِ راست اویس مظفر ٹپی کی بد اعمالیوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے یہ ویڈیو ٹھیک اس وقت لیک ہوئی جب عدالت ڈاکٹر عاصم کو ضمانت پر رہائی دینے یا نہ دینے کے سوال پر کسی نتیجے پر پہنچنے والی تھی۔ ویڈیو لیک ہونے کے وقت ڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں تھے۔ مگر رینجرز نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ ویڈیو لیک کرنے کی ذمے داری ان پر آتی ہے۔ تو پھر یہ ویڈیو تفتیش کاروں کی تحویل سے کس نے حاصل کی اور دھڑلے سے اسے ایک چینل پر کس نے چلوایا ؟ اس کا جواب نہ رینجرز ڈھونڈھ پائے نہ ہی سندھ گورنمنٹ اور نہ ہی چینل سے پوچھ گچھ ہوئی کہ بھیا تمہیں یہ سوغات کس نے دان کی؟

بہرحال ویڈیو لیک کرنے کا جو بھی مقصد تھا پورا نہ ہو پایا اور اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ڈاکٹر عاصم حسین ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔ ان پر دہشتگردوں کے علاج معالجے سے لے کر اربوں روپے کے گھپلوں تک کئی مقدمات قائم ہوئے۔ مگر عدالت نے ان شواہد اور دعووں کو شائد بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ گزشتہ برس ہی مارچ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعترافی ویڈیو ہر ٹی وی چینل نے نشر کی۔ کچھ عرصے اس پر گفتگو ہوتی رہی پھر کلبھوشن کا تذکرہ میڈیا کے ریڈار سے غائب ہو گیا۔ اب سے کچھ دن پہلے دس اپریل کو جب آئی ایس پی آر نے اچانک یہ اعلان کیا کہ کلبھوشن کو اپنے جرائم کے اعتراف میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے تو اعترافی ویڈیو ایک بار پھر ٹی وی اسکرینز کی زینت بن گئی۔

غالباً اس ویڈیو کو سرکاری طور پر ریلیز کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بھارتی حرکتوں کے بارے میں کسی کو کوئی شک و شبہہ نہ رہے۔ چونکہ یہ حساس معاملہ تھا اسی لیے کسی صحافی نے اس خواہش کا اظہار بھی نہ کیا کہ وہ کلبھوشن سے خصوصی انٹرویو  کے لیے رسائی چاہتا ہے۔ شائد اس کی اجازت بھی نہ ملتی۔

چنانچہ جب سترہ اپریل کو آئی ایس پی آر نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ’’رضاکارانہ حوالگی‘‘ کی خبر بریک کی اور پھر اس کا بصری اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تو اسے بھی ایک معمول کی ویڈیو سمجھ کر تمام چینلوں نے نشر کی۔ اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جو بھی جرائم ہوئے ان کی ذمے دار کالعدم ٹی ٹی پی یا جماعت الاحرار ہے۔

احسان اللہ تو محض ان تنظیموں میں لگ بھگ دس برس تک بطور ترجمان پھنسا رہا۔ اور جیسے ہی تائب ہونے کا موقع ملا وہ پہلی فرصت میں اپنے پیارے وطن کی آغوش میں آ گیا اور اب اس کا مشن یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو گمراہی اور شدت پسندی کی راہ پر جانے سے روکے جس میں پر چلنے والوں کا مقدر صرف تباہی و بربادی ہے۔

چلیے کوئی بات نہیں۔ انسان جب بھی راہِ راست پر آجائے اچھی بات ہے۔ ویڈیو سرکاری طور پر جاری کرنے کی حد تک توٹھیک تھا یا اب تک تفتیشی ویڈیوز پراسرار انداز میں لیک ہونا بھی میڈیا کی حد تک ایک روزمرہ حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کی اعترافی ویڈیوز کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ایسا دہشتگرد جس کے سر پر انعام تھا اس تک سرکاری ٹی وی چینل کے بجائے نجی ٹی وی چینل کو خصوصی رسائی دی گئی اور اس چینل نے اس خصوصی انٹرویو کا بڑا سا اشتہار ایسے شایع کیا گویا عزت مآب احسان اللہ احسان صاحب عدم تشدد، انسانیت نوازی اور حب الوطنی کی اہمیت پر سوال و جواب کی محفل سجائیں گے (سرکاری ٹی وی چینل سے ایک دفعہ یہی کام لیا جا چکا ہے جب لال مسجد آپریشن کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی برقعاتی گرفتاری کے بعد پی ٹی وی نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا)۔

احسان اللہ احسان تک رسائی آئی ایس پی آر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اگریہ قدم درست تھا تو  سوال یہ ہے کہ پیمرا کو یہ بات یاد دلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت کسی بھی ڈکلئیرڈ دہشتگرد کا انٹرویو یا بات چیت نشر نہیں ہو سکتی۔ اس سے پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف مہم کو نقصان پہنچ سکتا ہے کہ جس نے اب تک بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

علاوہ ازیں جو شہری دہشتگردی کا لقمہ بنے ان کے عزیزوں اور احباب کو انتہائی دکھ اور صدمے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ توقع تو یہ تھی کہ جو بیان آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونا چاہیے تھا وہ پیمرا کو جاری کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ چینل کا بھی شکریہ کہ اس نے خرد مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نایاب انٹرویو مقررہ تاریخ اور وقت پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجازت کے تناظر میں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ آیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک متفقہ بیانئے کی بابت کیا واقعی سول اور فوجی ادارے ایک صفحے پر ہیں؟ ویسے ڈاکٹر قدیر سے لے کر آج تک جتنے بھی اعترافی ویڈیو جاری یا لیک ہوئے ان سے رائے عامہ تبدیل کرنے میں کتنی مدد ملی۔ کتنے ویڈیوز اس لیے سامنے لائے گئے کہ ان کے ذریعے مخاطب ہونے والے کی غلطیوں یا جرائم سے عوام سبق حاصل کریں اور کتنے ویڈیوز اس نئیت سے جاری کیے گئے کہ جاری کرنے والوں کا خیال تھا کہ اس سے ان کو طویل و صغیر المیعاد ایجنڈائی فائدہ پہنچے گا؟ کہاں تفتیشی ویڈیو کا سامنے آنا جرم ہے اور کہاں قومی خدمت؟ کون سا ویڈیو رضاکارانہ ہے اور کون سا دباؤ کے تحت بیان پر مشتمل ہے؟ کیا ان سوالات کا جواب دینا اور تلاش کرنا قومی ذمے داری کے دائرے میں نہیں آتا؟

 وسعت اللہ خان