کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان

Advertisements

کیا کھیل ختم ہو گیا ہے؟

موجودہ حکومت کے قبل از وقت ختم ہونے کے حوالے سے اگرچہ کچھ عرصے سے افواہوں کی چکی بہت تیز چلتی آرہی ہے، یہ پلاٹ اب کافی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے اقتدار کے ایسے سویلین کھلاڑیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے جو پہلے ایسی رپورٹس پر ہنس دیا کرتے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ ہفتے کی پریس کانفرنس میں کسی غیر آئینی اقدام کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو روز قبل اس یاد دہانی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ہفتے میں تین مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں۔

وزیراعظم جیسے عہدے کے حامل شخص کی طرف سے ایسی بات ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ پردے کے پیچھے جو کھیل جاری ہے اس سے کچھ اشارے ملتے ہیں کہ معاملات کس طرح ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا جمہوریت پر لیکچر شروع ہونے سے کچھ قبل ایک ہائی پروفائل اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک بااثر رکن اور سویلین سیٹ کے ایک اہم عہدے دار کے مابین ہوا تھا۔ سویلین کو بتایا گیا تھا کہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بااثر رکن نے وضاحت کی کہ اتنی زیادہ گڑبڑ کے ساتھ حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ موجودہ سیٹ اپ کے خلاف معاشی اعداد و شمار چارج شیٹ میں سب سے اوپر ہیں۔ قومی خزانے کا خالی ہونا تشویش کی وجہ بتایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آنے والا منصوبہ ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے قادیانی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی تلخ تنقید پر ناپسندیدگی بھی پہنچائی گئی جس میں مخصوص افراد کو ہدف بنانے کی نیت کار فرما تھی۔ پارلیمنٹ کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو بھی قومی احتساب بیورو کے تحت لانے کو بھی متعلقہ حلقوں کی جانب سے تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ عدلیہ کے خلاف بے رحمانہ مہم اور اسے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوشش کہ یہ نواز شریف کو نکالنے کے لئے کی گئی تھی، اس پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح قانون میں ترمیم کے ذریعے نااہل وزیراعظم کو پارٹی سربراہ کے طور پر واپس لانے کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی ساکھ کیا ہو گی جسے عدالت سے ایک نااہل شخص ریمورٹ کنٹرول سے چلا رہا ہو۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں الیکشن بل 2017 کی منظوری کو وقت سے پہلے روکنے کی کوشش کی گئی، یہ بات الگ سے معلوم ہوئی ہے۔ سرکاری پارٹی کے ارکان کو پرائیوٹ نمبرز سے کالیں موصول ہوئیں جن میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس قانون کی منظوری کا حصہ بننے سے باز رہیں، اس کوشش کو اعلی سیاسی سطح پر رابطوں کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ اپنے والد کی سیاسی وارث کے طور پر مریم نواز کے ابھرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت اور سویلین عہدے دار کے مابین ملاقات میں سوال اٹھایا گیا۔

اتفاق کی بات ہے کہ اس منصوبے پر مسلم لیگ ن کی بھاری بھرکم شخصیات نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان کی شکایت ہے کہ خاندان سے باہر کے پارٹی ممبران کی تو بات ہی الگ ہے، نواز شریف تو پارٹی کے اندر اتفاق رائے پائے جانے کے باوجود اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ کو گھر بھیجنے کے منصوبے پر غور ہو رہا ہے، یہ کس طرح ہو گا؟ کسی کے پاس بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔ اس سازش کے محرم راز حکام سے پس پردہ تبادلہ خیال سے ظاہر ہوتا ہے کہ براہ راست مداخلت کے آپشن کو ترجیح دینے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ آرمی چیف کسی غیرآئینی قدم کے حق میں نہیں ہیں، یہ وہ نکتہ ہے جس کی توثیق ڈی جی، آئی ایس پی آر نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں کی، جب انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو گا۔

اس کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عدلیہ ثالثی کا کردار ادا کرے۔ تبدیلی کے لئے دو ممکنہ منصوبے زیر غور ہیں۔ ایک، حکمران جماعت میں فارورڈ بلا ک کی تشکیل اور دوسرا، اسلام آباد کی جانب مارچ۔ پہلا منصوبہ اسی وقت روبہ عمل آسکتا ہے کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے حکمران جماعت میں سے کافی تعداد میں انحراف کرنے والے دستیاب ہوں۔ ایک کامیاب کوشش سے آخرکار نئے انتخابات کا مطالبہ پھوٹ سکتا ہے لیکن احتساب کے بعد، جس سے پارلیمنٹ کی منظوری سے قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ کس قدر قابل عمل ہے اس کا کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔

اگرچہ سرکاری ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سربراہ کے بارے میں قانون میں ترمیم پر رائے شماری سے روکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا لیکن حکمران جماعت کے لئے جو اشارے باہر آرہے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ چار منحرفین کو مختلف محاذوں پر اپنا راستہ بنانے کا کام تفویض کیا گیا تھا اور ان کی کوششوں کے نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکور کو 50 تک لانے کا دعوی کیا ہے۔ کون اس گروپ کی قیادت کرے گا، اسے ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا منصوبہ جس پر غور کیا جا رہا ہے وہ ایک سیاسی جماعت کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کا ہے جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا یا جس طرح 2016 میں محاصرے کی کال کے ذریعے کوشش کی گئی تھی۔ کوئی بھی ایشو احتجاج کا نکتہ بن سکتا ہے۔ شریف خاندان کی جانب سے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے مبینہ تاخیری حربے، پولیس اور وکلا میں ہاتھا پائی یا اگلی سماعت پر کوئی بھی مہم جوئی بہانہ فراہم کر سکتی ہے۔
انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر عدلیہ پر تنقید بھی ایک وجہ بن سکتی ہے اور یہ مطالبہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں ہے۔

اس مطالبے کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کوئی درخواست دائر کر سکتا ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دفعہ 190 کو لاگو کیا جائے جس کے تحت تمام ایگزیکٹو اور جوڈیشل حکام سپریم کورٹ کی معاونت کریں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کس طرح ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا قومی اتفاق رائے سے بننے والی حکومت ان آپشنز کو استعمال کرکے قائم کی جائے گی۔ اس کا جواب اس منصوبے کے معمار کے پاس ہے۔ اس وقت آئین کے بجائے کنفیوژن بالاتر ہے۔ دی نیوز کو قابل بھروسہ ذرائع سے پتہ چلا ہے، مشرق وسطی کے دو ممالک نے نئے سیٹ اپ کے قیام کی صورت میں بیل آؤٹ پیکج پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آدمی یہی نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ممکنہ تبدیلی کا منصوبہ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی جہات بھی رکھتا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے یمن کے لئے فوجی دستوں کی فراہمی سے انکار کو ابھی تک بھلایا نہیں گیا ہے۔ یہ اتفاقی مطابقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچانک بہتر تعلقات سے ہوئی ہے۔ افغان صدر پاکستان آر ہے ہیں جبکہ ’’را‘‘ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کی لندن میں ملاقات اس عزم پر ختم ہوئی ہے کہ نفرت سے گریز جائے۔ کیا خطے میں تاریخی موقعے کو گرفت میں لینے کےلئے اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے؟ پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دے کر سی پیک کے صلے کا آئندہ ماہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس کا سہرا اپنے سر باندھ سکے؟ آنے والا وقت دلچسپ ہے۔

عمر چیمہ

بشکریہ روزنامہ جنگ

آصف زرداری اور نواز شریف کا مک مکا ؟

سابق صدر آصف علی زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سنی؟ زرداری صاحب نے بغیر کسی توقف کے کہا کہ اب میں نواز شریف کی کوئی بات نہیں سنتا اور موضوع بدلتے ہوئے بتانے لگے کہ قبائلی علاقے کے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات بڑی اچھی رہی۔ وہ سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میں نے دوبارہ انہیں نواز شریف کی تقریر کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ انہوں نے آپ کا ذکر خیر کیا آپ کی صدارت کی مدت ختم ہونے پر وزیراعظم ہائوس میں منعقد کئے گئے الوداعی ظہرانے کا ذکر کیا اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا ذکر کیا۔

میری باتیں سن کر آصف زرداری صاحب کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا۔ کہنے لگے تمہیں تو سب پتا ہے کچھ واقعات کے تم عینی شاہد ہو۔ میں باربار نواز شریف سے دھوکہ نہیں کھا سکتا، باربار زخم نہیں کھا سکتا اور پھر انہو ں نے پچھلے چار سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے متعلق شکوے شکایتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ آصف زرداری کہہ رہے تھے کہ ہم وفاق کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو ہم دبے لفظوں میں چوں چراں کر دیتے ہیں۔ گلا پھاڑ کر چیخ و پکار نہیں کرتے کیونکہ ہمیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہم پر صوبائی تعصب پھیلانے کا الزام نہ لگ جائے لیکن نواز شریف کو کھلی چھٹی ہے۔ وہ روز سانحہ مشرقی پاکستان کا نام لے کر قوم کو ایک نئے سانحے سے ڈراتا ہے اور میرے پاس پیغام بھیجتا ہے کہ آئو سویلین اتھارٹی کے لئے متحدہ محاذ بنائیں لیکن اس مرتبہ میں دھوکہ نہیں کھائوں گا۔

نواز شریف ہمیشہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بناتا ہے اور پھر خاموشی سے کسی اور کے ساتھ ڈیل کر لیتا ہے۔ آج نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر رینجرز کے آنے پر بڑا اعتراض ہے۔ جب ہم چیختے تھے کہ سندھ میں رینجرز ہمارے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو نواز شریف کا وزیر داخلہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتا تھا کہ میں رینجرز کے پیچھے کھڑا ہوں۔ آج اسحاق ڈار بڑا مظلوم بن رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کہتا تھا کہ ڈار صاحب سندھ کے فنڈز کم نہ کرو۔ سندھ کو اس کا حق دو تو وہ سنی ان سنی کردیتا تھا۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نواز شریف کے وزیروں نے نواز شریف کی مرضی سے کیا اس لئے نواز شریف کو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہے تو چوہدری نثار کے ساتھ کریں ہمارے ساتھ نہیں۔ آصف زرداری صاحب کی باتیں سن کر میں ان انتہائی باخبر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا جن کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف او ر آصف زرداری اندر سے ایک ہیں اور ایسے ہی دعوئوں کی بنیاد پر تحریک ِ انصاف نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ سے ہاتھ ملا لیا۔ جب سیاسی اور قومی فیصلے غلط اطلاعات اور غلط اندازوں کی بنیاد پر کئے جائیں تو نتائج بھی غلط نکلتے ہیں۔

نواز شریف اور ان کے مشیروں کا خیال ہے انہیں پیپلزپارٹی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نااہلی کے باوجود پیپلزپارٹی کو ایسے شاہانہ انداز میں ڈائیلاگ کی دعوت دے رہے ہیں جیسے پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں کے باعث پنجاب میں شدید بحران کا شکار ہے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کارکن اپنی پارٹی کی بجائے تحریک ِ انصاف کو ووٹ ڈالنے لگا ہے اور اس موقع پر پیپلزپارٹی نواز شریف سے ہاتھ ملا لے تو پنجاب میں اس کا مکمل صفایا ہو سکتا ہے۔ سویلین بالادستی کے لئے سیاسی جماعتوں کومشترکہ حکمت ِ عملی ضرو ر اختیار کرنی چاہئے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب سیاسی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے گی۔

یہ تو ممکن نہیں کہ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو تو پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوجائے دھرنا ناکام ہو جائے تو وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی گرفتاریاں شروع کر دے۔ ان کے نام ای سی ایل پر ڈال دے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلزپارٹی کو کرپشن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں بھی پھنسا دے پھر جب نواز شریف پر دوبارہ مشکل وقت آئے تو پیپلزپارٹی سے توقع کی جائے کہ وہ جمہوریت کے نام پر دوبارہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ آصف علی زرداری ابھی نہیں بھولے کہ 2015 میں ان کی ایک تقریر پر تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ایک ملاقات ہی منسوخ کر ڈالی تھی حالانکہ زرداری صاحب نے بھی سیاستدانوں پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے نا صرف آصف زرداری کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات منسوخ کرائی بلکہ زرداری پر اداروں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے بیانات بھی دیئے۔ آج کل پیپلزپارٹی کے کئی رہنما مسلم لیگ (ن) پر اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا الزام لگا رہے ہیں۔ نواز شریف پر احتساب عدالتو ں میں مقدما ت چل رہے ہیں اور وہ اپنی تقریروں میں ان مقدمات کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ان کا گرینڈ ڈائیلاگ اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک وہ اپنی حالیہ غلطیوں پر معذرت نہیں کرتے۔ تحریک ِ انصاف ابھی تک بضد ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے آپس میں کوئی خفیہ مک مکا کر رکھا ہے لیکن بہت جلد تحریک ِ انصاف کو پتا چلے گا کہ اس کی سیاسی حکمت ِ عملی غلط اندازے پر مبنی تھی اور اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔ اپوزیشن کے اختلافات کافائدہ صرف اور صرف حکومت کو ملے گا۔

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اعتماد نہیں اور نواز شریف کے خیال میں عمران خان بڑے مفاد پرست ہیں۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر گرد اڑا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ریاستی اداروں میں موجود کچھ لوگ حب الوطنی کے نام پر قانون کو مذاق بنا دیں۔ 2 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں رینجرز نے جو طرز ِ عمل اختیار کیا وہ ناقابل قبول ہے۔ رینجرز کو بتانا ہو گا کہ وہ کس کے حکم پر احتساب عدالت میں گئی؟ کچھ وفاقی وزرا اس معاملے کو دبانے کے چکر میں ہیں اور شنید ہے کہ انہیں نواز شریف کی تائید حاصل ہے۔ ان وزرا کا رویہ آصف علی زرداری کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سویلین بالادستی کا نام تو لیتی ہے لیکن کام نہیں کرتی۔ خاموشی سے ڈیل کر لیتی ہے۔ رینجرز کا معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لئے چیلنج ہے انہیں حقائق سامنے لا کر بتانا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور خفیہ ڈیل کا زمانہ گزر گیا۔

حامد میر

جماعت اسلامی کی سیاسی ناکامی

ملکی سیاست کرپشن کے ایشو کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ نہ نوازشریف اور زرداری کی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور نہ عمران خان طرح وہ سینکڑوں کنال رقبے پر محیط گھر میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سراج الحق نے نتھیا گلی کے وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک دن بھی نہیں گزارا لیکن عمران خان صاحب نے اسے جتنا استعمال کیا، اتنا شاید گزشتہ بیس سالوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح جماعت اسلامی خاندانی جماعت ہے اور نہ پی ٹی آئی کی طرح شخصی۔ اس کے اندر جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کراچی کے اردو بولنے والے درویش سید منور حسن امیر منتخب ہوجاتے ہیں تو کبھی افغان سرحد پر مسکینی گائوں کے دیہات میں ایک مولوی کے گھر جنم لینے والے پختون سراج الحق قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ سیاسی قائدین کی صف میں اگر کوئی رہنما سب سے زیادہ محنت کررہے ہیں تو وہ بلاشبہ سراج الحق ہی ہیں۔ صبح کراچی میں، دوپہر لاہور میں تو شام کو کہیں ملاکنڈ میں نظرآتے ہیں۔ تاہم ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں کمی آرہی ہے بلکہ وہ دن بدن قومی سیاست سے غیرمتعلق ہوتی جا رہی ہے۔

وہ کراچی جہاں کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتا تھا اور مئیر تک جماعت اسلامی سے منتخب ہوا کرتا تھا، وہاں آج انتخابی میدان میں جماعت اسلامی مقابلے کے بھی قابل نہیں رہی۔ لاہور جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سے جماعت اسلامی کے امیدوار منتخب نہ بھی ہوتے تو دوسرے نمبر پر ضرور آتے لیکن وہاں بد حالی کا یہ عالم ہے کہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں جماعت کا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکا۔ بلوچستان میں توجماعت اسلامی پہلے عوامی سطح پرمقبول جماعت تھی اور نہ اب بن سکتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے تو وہاں پر بھی عملاً جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اب تو یہ لطیفہ نما فقرہ زبان زدعام ہو گیا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی ہے جو صرف ملاکنڈ ڈویژن میں چل سکتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کی قیادت خواب تو کچھ اور دیکھ اور دکھا بھی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اگلے انتخابات میں عوامی میدان میں جماعت اسلامی مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔

جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کر رہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجائو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنا لیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اور نہ مکمل سیاسی۔

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جا رہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیر محسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کر لیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہو گیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کر سکی۔

تیسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کر لیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروں میں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان بیٹھے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکار لیتے ہیں۔

قاضی حسین احمد مرحوم کے دور میں جماعت اسلامی کی سوچ کو جس طرح بین الاقوامی بنا دیا گیا، اس کی وجہ سے بھی جماعت اسلامی کو شدید نقصان پہنچا۔ جماعت اسلامی نے افغانستان اور کشمیر کو اپنی سیاست کا محور بنا لیا تھا اور وہاں بری طرح مار پڑ گئی لیکن جماعت اسلامی اب بھی ان ایشوز سے جان نہیں چھڑا سکی۔ آپ جماعت اسلامی کے احتجاجی جلوسوں کا ریکارڈ نکالیں تو پتہ چلے گا کہ پچاس فی صد سے زیادہ بنگلہ دیش، ترکی، امریکہ اور میانمار وغیرہ کے ایشوز پر نکالے گئے لیکن پاکستان کے داخلی اور عوام سے متعلقہ ایشوز پر بہت کم سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس حد سے زیادہ بین الاقوامیت نے بھی جماعت اسلامی کے وابستگان کو عوام سے بڑی حد تک لا تعلق کر دیا ہے۔

عوامل اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ماضی قریب میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف نے پہنچایا ہے۔ یہ جماعت اپنی ساخت میں اور مقصد کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سے کوسوں دور ہے لیکن چونکہ اس کی نوک پلک امپائروں نے درست کی، اس لئے اس کی قیادت کو زیادہ تر جماعت اسلامی کے نعرے تھما دئیے گئے۔ اس نے جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف نعرے کو بھی اپنا لیا۔ چونکہ عمران خان ایک سیلیبرٹی تھے اور ان کے ساتھ وابستگی کی صورت میں انہیں جماعت اسلامی کی طرح پابندیوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا (جماعت اسلامی کی صفوں میں کئی سال تک اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ تصویر حلال ہے یا حرام ہے جبکہ موسیقی کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے جبکہ تحریک انصاف میں ہر طرح کے حدودو قیود سے آزاد رہ کر بھی انسان انقلاب کا نعرہ لگا سکتا ہے) اس لئے اس نے میدان میں آتے ہی نوجوان نسل میں انقلابی سوچ رکھنے والے جماعت اسلامی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی کے اندر خالص سیاسی ذہن رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھی پی ٹی آئی میں چلی گئی۔

تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل خیبرپختونخوا میں چند وزارتوں کی خاطر پی ٹی آئی سے اتحاد کر کے خود ہی ٹھونک دی۔ اس اتحاد کی خاطر جماعت اسلامی کی قیادت نے جن مصلحتوں سے کام لیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وہ احتساب کا نعرہ لگاتی رہی لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کے ساتھ بد ترین مذاق پر خاموش رہی۔ آفتاب شیرپائو کے نکالے جانے، پھر منتیں کر کے منانے اور پھر نکالے جانے پر خاموشی کے لئے کسی جماعت کے لئے بڑا بے ضمیر ہونا پڑتا ہے جس کی توقع جماعت اسلامی سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ قانون کی بالا دستی کے نعرے لگاتی رہی لیکن اس اتحاد کی خاطر سول نافرمانی کے اعلان کی مذمت بھی نہ کر سکی۔ بینک آف خیبر کے معاملے نے تو جماعت اسلامی کو عوام کی نظروں میں رسوا کرکے رکھ دیا۔

دوسری طرف قومی سطح پر سیاست کا مہار یا تو نوازشریف کے ہاتھ آگیا ہے یا پھر عمران خان کے ہاتھ میں۔ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کا دم چھلا تصور کیا جانے لگا۔ اس کی تازہ مثال پانامہ کیس ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہلے سراج الحق گئے اور جب لاک ڈائون ناکام ہوا تو امپائروں نے خان صاحب کو سراج الحق کی اقتدا میں سپریم کورٹ بھجوا دیا لیکن کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں بھی اگر کریڈٹ ہو تو وہ پی ٹی آئی لے جا رہی ہے جبکہ ڈس کریڈٹ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کر رہی ہے۔ مثلاً بلدیاتی اداروں کے قانون کا کریڈٹ ملکی سطح پر تحریک انصاف نے لیا حالانکہ یہ وزارت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔

اسی طرح پشاور کی سڑکوں کا کسی حد تک حلیہ درست کرنے کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیات کے وزیر عنایت اللہ کو جاتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ ملک بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک انصاف لے گئی۔ دوسری طرف اگر احتساب کا مذاق اڑایا گیا یا پھر اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر ایک من پسند پولیس افسر کو لگا دیا گیا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا براہ راست کوئی کردار نہیں لیکن بدنامی جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آ رہی ہے کیونکہ وہ ان معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کے متحرک امیر سراج الحق اگر جماعت اسلامی کی طرف عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تووہ یہ منزل صرف ذاتی طور پر بے پناہ محنت کر کے ہر گز حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے انہیں مذکورہ عوامل کی طرف توجہ دے کر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو اگلے انتخابات میں حشر حلقہ این اے 120 سے بدتر ہو گا اور اگر ایم ایم اے بنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا دم چھلا بنایا گیا تو رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاست میں بدنامی بھی ہے اور ناکامی بھی مقدر ہے۔

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

سلیم صافی

اب زرداری کا بچنا محال ہے؟

حقیقت معلوم کرنا ہو تو آنگ سانگ سوچی، کمانڈر انچیف جنرل من آنگ اور صوبہ رخائن کے سکیورٹی انچارج کرنل ٹینٹ تک آپ میانمار میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ روہنگیا لاکھوں کی تعداد میں کیوں بھاگ رہے ہیں اور ان کے گھر کون جلا رہا ہے؟ سوچی کا جواب ہے ‘مجھے لگتا ہے وہاں آپس میں بہت دشمنیاں ہیں مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے’، جنرل من آنگ کہتے ہیں ‘یہ بحران خود بھاگنے والوں نے پیدا کیا ہے’۔ کرنل فون ٹینٹ کہتے ہیں ‘یہ بنگالی دہشت گرد خود اپنے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں۔’ اگر یہ سچ ہے تو پھر پرویز مشرف کا یہ کہنا بھی سچ ہے کہ بے نظیر بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کروایا۔ یہ ایک منطقی سوال ہے کہ اس قتل کا حتمی فائدہ کسے پہنچا؟ آصف زرداری کو ( یعنی پارٹی قیادت اور ملکی صدارت ان کے ہاتھ آ گئی)۔ اس مشرفی منطق سے قتل کی کئی دیگر وارداتوں کا بھی سراغ سمجھو مل گیا۔

جیسے لیاقت علی خان کو خواجہ ناظم الدین اور غلام محمد نے قتل کرایا تاکہ ناظم الدین ڈیل کے تحت گورنر جنرل کی کرسی غلام محمد کے لیے خالی کر کے خود وزیرِ اعظم بن جائیں۔ چوہدری ظہور الہی کو الذولفقار نے تھوڑی چوہدری شجاعت حسین نے مروایا۔ بطور گرگِ باراں دیدہ چوہدری صاحب کو اچھے سے معلوم تھا کہ والدِ بزرگوار کو راستے سے ہٹائے بغیر نہ مستقبلِ بعید میں مسلم لیگ ق کے صدر بن پائیں گے اور نہ ہی وزیرِ اعظم۔ ضیا الحق کےقتل کی سازش دراصل چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ نے تیار کی تا کہ علی الترتیب صدر اور فل چیف کا عہدہ قبضا سکیں۔

مشرف صاحب نے نرا الزام ہی نہیں لگایا بلکہ وڈیو میں یہ بھی بتایا کہ بے نظیر قتل کی سازش پر عمل کیسے ہوا؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ زرداری اور حامد کرزئی کی اور حامد کرزئی اور بیت اللہ محسود کی پکی دوستی تھی۔ زرداری نے حامد کرزئی سے کہا یار ذرا بیوی کو مروانا ہے کچھ مدد تو کرو۔ حامد کرزئی نے بیت اللہ محسود کو آصف کی دی ہوئی سپاری بجھوائی اور بیت اللہ نے بندے بی بی کے پیچھے لگا دیے ۔ تاہم مشرف صاحب کی جانب سے ابھی یہ وضاحت ادھار ہے کہ آیا اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو بی بی کی کراچی میں لینڈنگ کے فوراً بعد کار ساز پر خودکش حملہ بھی سپاری ڈیل میں شامل تھا یا بیت اللہ سے صرف 27 دسمبر کے حملے کا کنٹریکٹ ہوا تھا۔

اب یہ کون پوچھے کہ اگر مشرف صاحب کو پتہ چل ہی گیا تھا تو پھر انھوں نے بی بی کو ان کی مرضی کی مکمل سکیورٹی کیوں نہیں دی۔ مشرف صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سکیورٹی فراہم کرنا ان کی ذمہ داری نہیں تھی اور ساتھ ہی شکوہ بھی کر رہے ہیں کہ اس قتل سے میرا تو بہت نقصان ہوا اور زرداری کو پورا فائدہ پہنچا۔ مگر نقصان کیا ہوا ؟ ذاتی یا پھر ق لیگ کو جتوانے کے منصوبے پر پانی پھرنے اور بی بی کی دیکھا دیکھی نواز شریف کی بھی پاکستان میں لینڈنگ کی شکل میں؟ اور جب اصل حقیقت آشکار ہو ہی گئی تھی تو پھر قاتل کو اندر کرنے کے بجائے خود کیوں ایوانِ صدر سے باہر ہو گئے اور وہ بھی قاتل کی جانب سے فل گارڈ آف آنر وصولنے کے بعد۔

چلیے باہر ہو گئے لیکن جب صدر زرداری کے دور میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اور پھر اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن آیا تو مشرف صاحب کم از کم انھیں لندن میں بیٹھے بیٹھے خط لکھ کر سازش کا پردہ تو فاش کر سکتے تھے تاکہ بی بی مظلوم کا کیس مزید نو برس نہ کھینچتا ۔اور یہ کیا معمہ ہے کہ بے نظیر قتل کیس سننے والی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت پرویز مشرف کو حتمی فیصلے سے بھی پہلے اشتہاری ملزم قرار دے چکی تھی۔ پھر بھی عدالت کو ‘اصل حقائق’ مہیا کر کے اپنی جان باعزت چھڑانے کے بجائے جنابِ شیخ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ ارے ہاں! مرتضیٰ بھٹو کو بھی تو آصف زرداری نے مروایا تھا تاکہ پلان کے مطابق بی بی کی حکومت برطرف ہو جائے۔

بی بی مقدمات سے گھبرا کر بیرونِ ملک رہائش اختیار کر لیں۔ خود آصف بھی مرتضیٰ کے حامیوں کے بدلے کے ڈر سے احتیاطاً کئی برس کے لیے جیل کسٹڈی میں رہیں اور پھر بیرونِ ملک چلے جائیں اور وہاں بی بی کو پٹی پڑھائیں کہ تم آخر پاکستان کیوں نہیں جاتیں۔ ڈرتی ہو کیا؟ اور جب نو برس بعد بے نظیر بھٹو آصف زرداری کے بہکاوے میں آ کر پاکستان آئیں تو شوہر ساتھ نہ آیا کیونکہ وہ نہ صرف سپاری دے چکا تھا بلکہ ڈی آئی جی پنڈی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو بھی بھاری نوٹ لگا چکا تھا کہ جیسے ہی بی بی کا قصہ تمام ہو میرے آنے سے پہلے پہلے خون کے سب دھبے مٹا دو تاکہ میں اطمینان سے بیوی کی لاش وصول لوں۔ تو یہ تھا طویل المیعاد فائدہ مرتضیٰ بھٹو کو 1996 میں قتل کروانے کا۔

جب مرتضیٰ کا قتل ہوا تو میرے محلے کے عبداللہ پنواڑی نے سب سے پہلے کہا تھا کہ یہ آصف نے کروایا ہے مگر اس غریب کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔مگر پرویز مشرف کے پاس ہے اور وہ یقیناً اسے عدالت میں دستی پیش کریں گے۔
مشرف چاہتے تو اپنے ساڑھے آٹھ سالہ دورِ صدارت میں سیاہ و سپید کے مالک ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھلے چیف جسٹس کو بالوں سے کھینچتے مگر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی بھی کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے بھی جانے کیوں وہی کیا جو بقول ان کے پیپلز پارٹی نے بعد از مشرف پانچ سالہ دورِ اقتدار میں بی بی قتل کیس کو کسی منطقی انجام تک نہ پہنچا کر کیا۔ کیونکہ قاتل تو دراصل زرداری تھا۔ مشرف صاحب کی تازہ وڈیو دیکھ کر دلِ خوش فہم کو جانے کیوں لگتا ہے کہ اب ان کا پیمانہِ صبر لبریز ہو چکا ہے۔

‘چالاک قاتل’ آصف زرداری کی طرف سے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے پانچ ملزموں کو بری کرنے کے فیصلے اور پولیس افسر سعود عزیز، خرم شہزاد اور پرویز مشرف کو سزائے موت کے مطالبے کی پیٹیشنز لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور ہونے کے بعد ایک دن ضرور دورانِ سماعت عدالت کا دروازہ چرمراتے ہوئے کھلے گا اور بھاری بوٹوں کی ٹھک ٹھک کے ساتھ گرجیلی آواز چھت سے ٹکرائے گی ‘ٹھہریے جج صاحب میں بتاتا ہوں کہ دراصل قاتل کون ہے ۔ ڈھیں ڈھیں ڈھیں ڈھیں. عدالت ویسے بھی بہت دنوں سے آپ کی راہ تک ہے۔

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح ( جانثار اختر )

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

طالبانائزیشن

یہ کہانی ذوالفقار علی بھٹو اور علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال سے شروع ہوتی ہے لیکن ہم کہانی کی طرف جانے سے پہلے دنیا کی ایک بڑی حقیقت بیان کریں گے‘ہم انسان اگر مستقبل کی اچھی پلاننگ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں پہلے ماضی کا تجزیہ کرنا چاہیے‘ انسان کبھی ماضی کے تجزیے کے بغیر مستقبل کی اچھی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا اور یہ دنیا کی دس بڑی حقیقتوں میں سے ایک بڑی حقیقت ہے اور ہم جب تک این اے 120 کے ماضی کا تجزیہ نہیں کریں گے ہم اس وقت تک ملکی سیاست کا مستقبل طے نہیں کر سکیں گے‘ ہم اب واپس ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی طرف آتے ہیں‘ بھٹو صاحب نے 30 نومبر1967ء کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور چند ماہ میں تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

پیپلز پارٹی 1970ء تک مغربی پاکستان کی مقبول ترین جماعت بن چکی تھی‘ جنرل یحییٰ خان نے 7 دسمبر 1970ء کو ملکی تاریخ کے پہلے غیر جانبدار الیکشن کرائے‘ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیٹ کے لیے لاہور سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا‘ علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال نے بھٹو صاحب کے خلاف میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا‘ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے بھٹو صاحب نے پنجاب کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کی وجہ تاریخ میں دفن ہے‘ موجودہ پاکستان کی ہزار سالہ تاریخ میں یہ پورا علاقہ اس شخص کے ہاتھ میں رہتا تھا جس کے پاس لاہور ہوتا تھا‘ بھٹو صاحب تاریخ فہم تھے‘ وہ اس حقیقت سے واقف تھے چنانچہ انھوں نے سندھی وڈیرا ہونے کے باوجود پنجاب بالخصوص لاہور کو اپنا مرکز بنا لیا‘ پارٹی کی ساری اٹھان لاہور سے ہوئی‘ بھٹو صاحب کا حلقہ موجودہ این اے 120 تک وسیع تھا‘ یہ حلقہ اصلی لاہوریوں کا گڑھ تھا۔

بھٹو صاحب کا خیال تھا یہ لوگ اگر میرے ساتھ کھڑے ہو گئے تو پورا لاہور میرے ساتھ ہو جائے گا اور اگر لاہور میرے پاس آ گیا تو پورا پنجاب میرا ہو جائے گا اور میں نے اگر پنجاب کو اپنی مٹھی میں لے لیا تو پھر پورا مغربی پاکستان اپنی پوری اشرافیہ اور پوری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ میرا ہو جائے گا اور یوں میں بڑی آسانی سے شیخ مجیب الرحمن کو مار بھگاؤں گا چنانچہ یہ گوالمنڈی کی گلیوں میں گھس گئے‘ ہم اب آتے ہیں ڈاکٹر جاوید اقبال کی طرف‘ یہ بھٹو صاحب کے خلاف کیوں میدان میں اترے اور انھوں نے بھی اس حلقے کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ کشمیری کارڈ تھا‘ گوالمنڈی اور اندرون لاہور کے اس علاقے میں کشمیریوں کی اکثریت تھی اور جاوید اقبال کشمیری تھے‘ دوسرا بھٹو صاحب کے مخالفین کو مقابلے کے لیے بھٹو جتنا بڑا امیدوار چاہیے تھا اور ڈاکٹر جاوید اقبال میں یہ خوبی موجود تھی چنانچہ یہ میدان میں اتر آئے‘ ڈاکٹر جاوید اقبال معاشی لحاظ سے کمزور تھے۔

الیکشن کے دوران لاہور کے دو بڑے تاجروں میاں محمد شریف اور سی ایم لطیف نے کھل کران کی مدد کی‘ میاں شریف اتفاق گروپ کے نام سے بڑا صنعتی گروپ چلا رہے تھے جب کہ سی ایم لطیف بیکو کے مالک تھے‘ میاں شریف نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے ووٹرز کو ٹرانسپورٹ اور کھانا فراہم کیا تھا‘ الیکشن کے دن ڈاکٹر صاحب کے ہر ووٹر کو قیمے والے نان اور بریانی پیش کی گئی‘ ووٹروں کو گھر سے لانے اور ووٹ کے بعد گھر ڈراپ کرنا بھی ان کی ذمے داری تھی جب کہ الیکشن کے دوران پبلسٹی کے تمام اخراجات سی ایم لطیف نے ادا کیے‘ نتیجہ آیا تو بھٹو صاحب یہ الیکشن جیت گئے اور ڈاکٹر صاحب ہار گئے‘ بھٹو صاحب نے 78132 ووٹ حاصل کیے جب کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کو 33 ہزار 921 ووٹ ملے یوں یہ حلقہ بھٹو صاحب کا ہو گیا‘ بھٹو کی حکومت بنی تو بھٹو نے جاوید اقبال کی سپورٹ کے جرم میں سی ایم لطیف اور میاں شریف کی فیکٹریاں قومیا لیں اور یوں یہ دونوں ایک ہی رات میں فٹ پاتھ پر آگئے۔

یہ حلقہ بعد ازاں بڑی مدت تک پاکستان پیپلز پارٹی کا قلعہ رہا‘ پارٹی نے 1977ء میں ملک محمد اختر کو ٹکٹ دیا‘ ملک اختر 58773 ووٹ لے کر جیت گئے‘ پارٹی نے 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا‘ میاں شریف اپنے بڑے صاحبزادے میاں محمد نواز شریف کومیدان میں لے آئے‘ یہ جیت گئے اور پھر جیتتے ہی چلے گئے‘ پیپلز پارٹی نے ہر الیکشن میں ان کا مقابلہ کیا‘ یہ ہر الیکشن ہاری مگر یہ ہمیشہ اچھے مارجن کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہاں البتہ پارٹی کے ووٹرز 2013ء کے الیکشن میں ہمت ہار گئے‘ یہ پارٹی سے ٹوٹے اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہو گئے یوں تحریک انصاف دوسرے نمبر پر آگئی‘ 17 ستمبر 2017ء آیا ‘ الیکشن ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کشمیری امیدوار فیصل میر کے بیلٹ باکسز سے صرف 2520 ووٹ برآمد ہوئے‘ فیصل میر پروفیسر وارث میر کے صاحبزادے اور حامد میر کے بھائی ہیں‘ یہ پڑھے لکھے خاندان کے پڑھے لکھے نوجوان ہیں‘ یہ پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن بھی ہیں لیکن الیکشن کے دن ان کا پڑھا لکھا ہونا کام آیا‘ کشمیری ہونا کام آیا اور نہ ہی انھیں پیپلزپارٹی کے پرانے کارکن ہونے کا فائدہ ہوا اور یہ زوال اس حلقے سے جس کی کشمیری عوام نے1970ء میں علامہ اقبال کے کشمیری صاحبزادے کو مسترد کر کے ایک ایسے شخص کو ووٹ دیا تھا جو وڈیرا تھا اور جو پنجابی زبان تک نہیں جانتا تھاایک خوفناک لمحہ فکریہ ہے۔

یہ لمحہ فکریہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی تک محدود نہیں‘ یہ صورتحال پاکستان مسلم لیگ ن‘ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی تینوں کے لیے بھی یکساں الارمنگ ہے‘ لاہور جماعت اسلامی کا ویٹی کن سٹی ہوتا تھا‘ بانی جماعت مولانا مودودیؒ آخری سانس تک لاہوری رہے‘ وہ وقت ابھی زیادہ دور نہیں گیا جب لاہور کا ہر تیسرا شخص ’’جماعتیا‘‘ ہوتا تھا اور لاہورمیں اس وقت تک کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکتا تھا جب تک وہ منصورہ سے پروانہ حمایت حاصل نہیں کر لیتا تھا لیکن آج بھرپور مہم کے بعد جماعت اسلامی کے ایماندار‘ دین دار اور باکردار امیدوار ضیاء الدین انصاری کو صرف 592 ووٹ ملے‘ ضیاء الدین انصاری پرانے لاہوری ہیں‘ یہ وسیع خاندان کے مالک بھی ہیں لیکن نتائج سے ثابت ہوتا ہے انصاری صاحب کے اپنے خاندان نے بھی انھیں ووٹ نہیں دیے‘ جماعت اسلامی کا یہ زوال بھی لمحہ فکریہ ہے‘ عمران خان نے یہ الیکشن عدلیہ کے سہارے لڑا ‘ یہ بار بار فرما رہے تھے عوام 17 ستمبر کو ثابت کر دیں گے یہ عدلیہ کے ساتھ ہیں یا ڈاکوؤں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

عمران خان اپنے سر پر پاناما کیس کی جیت کا تاج رکھ کر این اے 120 میں اترے‘ ڈاکٹر یاسمین راشد بھی باکردار اور پڑھی لکھی لاہورن ہیں‘ یہ محنتی بھی ہیں اور یہ نیک شہرت کی حامل بھی ہیں لیکن یہ خاتون نیک شہرت‘ تعلیم اور عدلیہ کے ڈھول کے باوجود جیت نہیں سکیں‘ انھوں نے 2013ء میں 52321 ووٹ لیے تھے‘ یہ پاناما کے فیصلے کے بعد حلقے میں آئیں تو ان کے ووٹ 47099 ہو گئے گویا 5222 ووٹروں نے عدلیہ کے فیصلے کے باوجود ان سے منہ موڑ لیا‘ یہ بھی الارمنگ ہے اور میاں نواز شریف 1985ء سے اس حلقے کے دولہا میاں ہیں‘ میاں نواز شریف نے 2002ء میں جدہ بیٹھ کر پرویز ملک کو ٹکٹ دیا اور عوام نے جنرل پرویز مشرف کے جبر کے باوجود شیر پر مہریں لگا دیں۔

میاں صاحب نے 2008ء میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بلال یاسین بٹ کو ٹکٹ دیا‘ عوام نے بین بے نظیربھٹو کا کیا لیکن ووٹ میاں نواز شریف کو دیے‘ عوام نے 2013ء میں بھی نواز شریف کو 91666 ووٹ دے کر وزیراعظم بنوایا لیکن جب 17 ستمبر کو وفاداری اور محبت کے ٹیسٹ کا وقت آیا‘ جب میاں نواز شریف نے اپنی بیگم کو الیکشن کے لیے کھڑا کیا اور میاں صاحب کی صاحبزادی نے حلقے کے عوام سے ماں کے نام پر ووٹ مانگنا شروع کیے تو میاں صاحب کے ووٹ 91666 سے 61745 ہو گئے گویا 2017ء میں 2013ء کے مقابلے میں 12 فیصد ووٹر باہر نہیں آئے یا پھر انھوں نے بیگم کلثوم نواز کو ووٹ نہیں دیے‘ یہ نقطہ بھی الارمنگ ہے‘ یہ بھی لمحہ فکریہ ہے اور آخری لمحہ فکریہ ان تمام حقائق سے زیادہ قابل غور ہے۔

میاں نواز شریف کے حلقے میں دو نئی مذہبی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کیے‘ لبیک یارسول اللہ کے امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی تھے اور ملی مسلم لیگ نے شیخ محمد یعقوب کو الیکشن لڑایا‘ لبیک یارسول اللہ ممتاز قادری کے واقعے کے بعد معرض وجود میں آئی جب کہ ملی مسلم لیگ کے بانی حافظ سعید صاحب ہیں‘ یہ ان دونوں جماعتوں کا پہلا الیکشن تھا‘ لبیک یا رسول اللہ کے امیدوارشیخ اظہر حسین رضوی نے 7130 ووٹ حاصل کیے جب کہ ملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب کو 5822 ووٹ ملے‘ یہ دونوں جماعتیں بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر آئیں‘یہ ملک کے کسی بڑے شہر سے اس نوعیت کی جماعتوں کی پہلی بڑی فتح ہے اور یہ فتح صرف تین ہفتوں کی مہم کا نتیجہ ہے اور یہ نتیجہ ثابت کر رہا ہے۔

مستقبل میں پاکستان مسلم لیگ ن‘ پاکستان تحریک انصاف‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی غیر مقبولیت کا فائدہ ملی مسلم لیگ اور لبیک یا رسول اللہ جیسی تنظیمیں اٹھائیں گی اور یہ اس الیکشن کا سب سے بڑا لمحہ فکریہ ہے‘ یہ لمحہ فکریہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے عوام سیاسی جماعتوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں دونوں سے مایوس ہو چکے ہیں‘ یہ اب برائی کو طاقت سے ختم کرنے والوں کے گرد جمع ہو رہے ہیں‘ یہ اب طالبانائزیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ ٹرینڈ اگر مستقبل میں جڑیں پکڑ گیا تو پھر ہم کہاں ہوں گے‘ آپ خود ہی سمجھ دار ہیں چنانچہ میرا مشورہ ہے آپ ملک کو اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیں‘ آپ لوگ سب سے پہلے اپنے اپنے ہاؤس ان آرڈر کر لیں اس سے قبل کہ جن پوری طرح بوتل سے باہر آجائے اور آپ کے لیے ائیر پورٹ پہنچنا بھی مشکل ہو جائے۔

جاوید چوہدری

این اے 120 کا انتخابی معرکہ : فیصلے کی گھڑی قریب تر

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دلچسپ ترین انتخابی معرکے کے لیے میدان سج گیا ہے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ اس سلسلے میں این اے 120 کے لیے انتخابی مہم ختم ہونے کے ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن بھی شروع ہو گیا ہے۔

میدان میں ہے کون کون؟
قومی اسمبلی کے اس انتخابی حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 44 امیدوار میدان میں اترے تھے۔ لیکن اصل مقابلہ صرف کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد ہی کے مابین ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سابق خاتون اول اور برصغیر کے معروف پہلوان گاما پہلوان کی نواسی 67 سالہ بیگم کلثوم نواز اس حلقے سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی فارغ التحصیل بیگم کلثوم نواز نے عملی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینا انیس سو ننانوے میں شروع کیا تھا، جب جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ان کے شوہر نواز شریف کی حکومت برطرف ہو گئی تھی۔ کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی عبوری صدر بھی رہی ہیں، وہ آج کل اپنی علالت کی وجہ سے لندن میں ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم کی سربراہی کی ہے۔

اس انتخابی حلقے سے پی ٹی آئی کی امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے ایک وفاقی وزیر ملک غلام نبی کی بہو ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور میں گائناکالوجی کی پروفیسر بھی رہی ہیں۔ وہ تھیلیسیمیا کی بیماری کے شکار بچوں کی مدد کے لیے ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ بھی چلاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے نواز شریف کے اکانوے ہزار ووٹوں کے مقابلے میں باون ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک سابق رہنما اور معروف صحافی وارث میر مرحوم کے صاحبزادے امیدوار ہیں تو جماعت اسلامی کی طرف سے اسلامی جمیعت طلبہ کے سابق رہنما اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سینئیر نائب صدر ڈاکٹر ضیاا لدین انصاری بھی اس انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ جماعت الدعوہ کی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے اس انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہ مل سکی تھی لیکن اس کے امیدوار قاری یعقوب شیخ، حافظ محمد سعید اور قائد اعظم کی تصاویر کے ساتھ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ضابطہ اخلاق پر عمل نہ ہو سکا
اس انتخابی مہم میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آتی رہی۔ سیاسی رہنما اور وزراء غیر قانونی طور پر انتخابی مہم چلاتے رہے۔ انتخابی اخراجات کی قانونی حد بھی پیش نظر نہ رہی۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ووٹروں کو تحائف، مفت کھانے اور مفت پٹرول کی فراہمی کی اطلاعات بھی ملتی رہیں۔اس کے علاوہ ووٹوں کی خرید و فروخت اور زیادہ ووٹوں کے حامل خاندانوں کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی کی باتیں بھی سنی جاتی رہیں۔ اپنے علاقے میں انتخابی دفاتر کھولنے کے نام پر بھی ووٹروں کو نوازا گیا۔ الیکشن کمیشن 29 ہزار کے قریب غیر مصدقہ ووٹروں کی لسٹوں کا مسئلہ بھی حل نہ کر سکا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے  ان فہرستوں کو پبلک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

کون کتنے پانی میں؟
اگرچہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ممکنہ جیت کے دعوے کر رہی ہیں تاہم رائے عامہ کے جائزے بتا رہے ہیں کہ اس حلقے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے مابین ہی ہو گا۔ 1985 کے بعد سے اب تک اس انتخابی حلقے کو نواز شریف کی سیاسی طاقت کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ 1985 سے لے کر اب تک ہمیشہ اس حلقے میں شریف فیملی کا کوئی نہ کوئی امیدوار ہی بھاری اکثریت سے جیتتا رہا ہے۔

بشکریہ DW اردو

نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم نااہلی کے لئے بنیاد مختلف ہو سکتی ہے. جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانج رکنی بینچ پاناما کیس کے فیصلے پر شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس میں حتمی فیصلہ جاری کرنے والا پانچ رکنی بینچ درست نہیں تھا۔ دو معززجج پہلے فیصلہ دے چکے تھے، فیصلہ دینے والے دو ججز پاناما عملدرآمد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی موقع دیا گیا کہ وہ وضاحت کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2 ممبران کے فیصلےکو چیلنج نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہےآپ نے فیصلہ قبول کیا۔ خواجہ حارث نے کہا وہ اقلیتی فیصلہ تھا، اس لیے چیلنج نہیں کیا کیونکہ اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، 20 اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔ خواجہ حارث نے کہا سوال یہ ہے کہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی؟ تحقیقات اور ٹرائل کے لیے مانیٹرنگ جج کی کوئی نظیر نہیں ملتی، نواز شریف کو ایف زیڈ ای کے معاملے پر نااہل قراردیا گیا، نااہلی کے لیے صفائی کا حق دینا بھی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نگراں جج کے ہوتے ہوئے شفاف ٹرائل کیسے ہو گا ؟ نگراں جج نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والےبینچ کا بھی حصہ تھے، نگراں جج کی تعیناتی سے نواز شریف کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، عدالت خود شکایت کنندہ، پراسیکیوٹر اور جج بن گئی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا تحقیقات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کی تعریف ضرور کی تھی مگر ٹرائل کورٹ میں اسکی سکروٹنی ہو گی، آپ کے پاس موقع ہو گا کہ آپ گواہان اور جے آئی ٹی ممبران سے جرح کر سکیں گے، ٹرائل کورٹ کو آزادی ہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ خواجہ حارث نے کہا 2 ججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، انہی دو ججز نے 28 جولائی کو مختلف فیصلے پر دستخط کیے، 20 اپریل کا اکثریتی فیصلہ منظور ہے، جس بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اس پر ان کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا، نواز شریف کی نااہلیت نہیں بنتی تھی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عملدرآمد بنچ ختم ہو گیا تھا، فیصلہ لکھنے والوں کو پتہ ہے کہ انہوں نے کیا لکھا۔

خواجہ حارث نے کہا بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کا چنائو کیا، انہوں نے ہی رپورٹ پر فیصلہ دیا، عملدرآمد بنچ کو آزاد ہونا چاہیے تھا۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا امید ہے آپ یہ نہیں کہیں گے کہ ججز سپریم کورٹ کا کام نہیں کر سکتے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کے مطابق 2 ججز نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ دیا، آپ نے 2 ججز کے فیصلے کو اقلیتی قرار دیا، 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر سب کے دستخط موجود تھے، عدالتی فیصلے میں اختلاف صرف جے آئی ٹی کے معاملے پر تھا، تین میں سے کسی جج نے نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو 5 ججز نے اپنا حتمی فیصلہ دے دیا، 20 اپریل کو نااہل کرنے والوں نے 28جولائی کو کچھ نہیں کہا، وجوہات مختلف لیکن نتیجہ ایک ہی اخذ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کی نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچوں کو اس معاملے میں طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ حکمراں جماعت کا دعویٰ ہے جب تک نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک نواز شریف اور ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد نیب کے سامنے پیش نہیں ہو گا۔ نیب حکام نے سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس کی تیاری کے لیے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے چھ ارکان کے بیان ریکارڈ کرنے کے بارے میں بھی رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان افراد کی جانب سے کوئی درعمل نہیں دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے متفقہ فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو چھ ہفتوں میں سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف چار ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیب حکام نے نیشنل بینک کے صدر کے علاوہ ان کے قریبی ساتھی جاوید کیانی کو بھی طلب کیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق وہ بھی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ دوسری جانب نیب حکام نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی 22 اگست کو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

بیچارا انقلاب

انقلاب پریشان ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ نے انقلاب کو پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا ہے کیونکہ اس مارچ کے دوران نواز شریف کی زبان پر بار بار انقلاب کا ذکر آتا رہا۔ جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوران تقاریر میں نواز شریف نے خود کو بڑا نظریاتی انسان قرار دیا اور لاہور پہنچ کر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئین کو بدل ڈالیں گے۔ انقلاب پہلی دفعہ پریشان نہیں ہوا۔ تین سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو یہ دونوں اصحاب بھی انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دونوں اپنے اپنے کنٹینروں پر چڑھ کر انقلاب کی باتیں کرنے لگے تو نواز شریف نے ان کے مارچ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

پھر یہ مارچ دھرنے میں بدل گیا۔ دھرنا کامیاب نہ ہو سکا اور انقلاب کا ذکر ختم ہو گیا۔ تین سال کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ شروع کیا تو یارانِ نکتہ داں نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مارچ کا مقصد بڑا واضح تھا وہ نواز شریف کی حکومت گرانے اسلام آباد آئے تھے لیکن نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور کی طرف مارچ کا کیا مقصد ہے؟ وفاق میں بھی اُن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی اُن کی حکومت اُن کا مارچ کس کے خلاف ہے؟ نواز شریف کی تقاریر سے واضح ہو گیا کہ اُن کا مارچ سپریم کورٹ کے خلاف تھا اور لاہور میں اُن کی تقریر سے یہ اشارہ ملا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین میں کچھ تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کا تعلق آئین کی دفعہ 62، 63 اور 184 سے ہو گا تا کہ آئندہ سپریم کورٹ کسی رکن پارلیمنٹ کو بے ایمان یا جھوٹا قرار دے کر نااہل قرار نہ دے سکے۔ نواز شریف نے لاہور کی تقریر میں کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کی تجاویز سے متفق ہیں اور اُن کی جماعت ان تجاویز پر عملدرآمد کی حمایت کرے گی۔ نواز شریف بھول گئے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے نااہل قرار دلوایا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے کوئی غلط بات نہیں کی لیکن جب اسی چیئرمین سینیٹ نے چند ماہ قبل یہ شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم اور اُن کے وزراء ایوان بالا کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تو نواز شریف کیوں خاموش رہے؟ چیئرمین سینیٹ نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ یہ باتیں پچھلے تین سال سے کر رہے ہیں لیکن نواز شریف نے پہلی دفعہ اُن کی تائید کی ہے کیونکہ اب نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف بھول گئے کہ جس شام اُنہوں نے چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اُسی شام پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی چنیوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 2007ء میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ اعتراف کر لیا تھا کہ مشرف کے ساتھ این آر او اُن کی غلطی تھی۔ وہ عالمی سطح کی لیڈر تھیں لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ اُنہوں نے آخری ملاقات میں مجھ ناچیز کو یہ کہہ دیا کہ این آر او کے متعلق آپ کی رائے درست تھی یہ این آر او محض ایک دھوکہ تھا میری رائے غلط نکلی۔

ایک غلطی کے اعتراف نے میری نظروں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قد بہت بلند کر دیا لیکن نواز شریف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں اُنہوں نے خفیہ اداروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے جو کردار ادا کیا وہ غلط تھا۔ نواز شریف یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ محض انقلاب کا لفظ اپنی زبان پر لا کر پیپلز پارٹی کو اپنے دام الفت میں پھنسا لیں گے۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب کی نہیں بلکہ ردِّ انقلاب کی علامت ہے۔ اس پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف میں گھسنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں پہلے ہی ردِّ انقلاب کی بہت سی علامتیں اکٹھی ہو چکی ہیں لہٰذا وہاں نئے آنے والوں کے خلاف ایک بڑی مزاحمت سر اُٹھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون پیپلز پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دے گا اس لئے فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر انقلاب لانے کا خیال کسی سراب سے کم نہیں۔

انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان، آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظریے پر عملدرآمد اوپر سے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ انقلابی نظریہ اوپر والے لے کر نہیں چلتے بلکہ نیچے والے اوپر لے کر جاتے ہیں۔ انقلابی نظریے کی علامت چے گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ لگا دے تو اُس کی بات پر کون یقین کرے گا؟ فرانس، روس، چین اور ایران کے انقلابات کی تاریخ اٹھا لیں۔ یہ انقلابات نچلے اور متوسط طبقے نے امیر طبقے کے خلاف برپا کئے۔ انقلابی نظریہ پرولتاری طبقے میں پیدا ہوا سرمایہ داروں میں پیدا نہیں ہوا۔ ذرا غور تو فرمایئے! آج کل کون کون انقلاب کی بات کر رہا ہے؟ چشم تصور سے سوچئے کہ انقلاب کتنا پریشان ہو گا۔ فرانس، روس، چین اور ایران کا انقلاب تاریخ کی کتابوں میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا نام اُن لوگوں کی زبان پر کیوں آنے لگا جو ہمیشہ میرا راستہ روکتے رہے؟ انقلاب یہ سوچ رہا ہو گا کہ آج میں اُن کا محبوب کیسے بن گیا جو ہمیشہ ضد انقلاب تھے؟

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے ذریعے یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ نااہل ضرور ہوئے لیکن اُن کی سیاست ختم نہیں ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ میں پنجاب پولیس کھلم کھلا اُن کے جلسوں کے انتظامات کر رہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن اُن کی عدلیہ مخالف تقاریر بھی نشر کر رہا تھا لیکن سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب پولیس نہیں ہو گی۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی زبان سے انقلاب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ تینوں میں سے کسی کا کردار انقلابی نہیں ہے۔ انقلاب آئین میں تبدیلی سے نہیں پورے سیاسی نظام کی تبدیلی سے آتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی بقاء وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الحال اس نظام کو چلنے دیں اور قوم کو انقلاب کا فریب نہ دیں کہیں انقلاب مزید پریشان ہو کر قوم کے دماغ میں نہ گھس جائے پھر کسی کی خیر نہ ہو گی۔

حامد میر