گریجویشن کی جعلی ڈگری پر آپ کس ملک میں سینیٹر بن سکتے ہیں ؟

پاکستان الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی گریجویشن بی اے  کی ڈگری جعلی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے جعلی ڈگری کو جواز بنا کر سینیٹر یاسمین شاہ کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسمین شاہ اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق غلط بیانی کر کے 2003 میں سینیٹر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے یاسمین شاہ کی 2003 میں بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔

Advertisements

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے بڑھتا مرض

ذیابیطس ( شوگر) کی پیچیدگیوں، علامات، علاج اور پرہیز سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرض کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کیلئے دنیا کو متوجہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض سے تقریبا 80 فیصد اموات کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو2030ء تک ذیا بیطس دنیا کی ساتویں بڑی جان لیوا بیماری بن جائے گی۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے اسباب میں موٹاپا، تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنا اہم وجوہات ہیں، چند احتیاطی تدابیرپر عمل کر کے اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے جبکہ مرض لاحق ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن اقوام متحدہ کی سفارش پر ہر برس 14نومبر کو منایا جاتا ہے، جس کی ابتدا 2007 سے ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا : اپنی اداؤں پر غور کرے

شرمین عبید چنائے کا ٹویٹ ایک نان ایشو ہے جسے مسلسل کھینچنا وقت گنوانا ہے۔ نواز شریف، عمران خان یا ڈی جی آئی ایس پی آر وغیرہ کی تقاریر یا لمبی لمبی پریس کانفرنسیں محض ایک خبر کے طور پر نشر کرنے کے بجائے براہِ راست اور پورا پورا دکھانا ناظرین اور صحافتی اقدار سے زیادتی ہے۔ یہی نشریاتی وقت حقیقی مسائل اجاگر کرنے میں بھی کھپایا جا سکتا ہے۔ ہر ٹی وی ٹاک شو میں پاناما لیکس یا لیگی حکومت کب جا رہی ہے جیسی خرافات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

حالانکہ سینکڑوں مسائل ہیں جو پاناما یا حکومتی استحکام پر جاری قیاس آرائیانہ مباحث سے کہیں اہم ہیں۔ میرے کان پک چکے یہ اعتراضات و فرمائشیں سن سن کر۔ جب ان معترضین سے پوچھا جائے کہ بھائی کون سے مسائل یا خبریں ہیں جن پر آپ کے خیال میں ترجیحاً بات ہونی چاہیے تو آدھے لوگوں کا جواب ہوتا ہے ہم کیا بتائیں، آپ صحافی ہیں آپ بتائیں، آپ سے کیا پوشیدہ ہے۔ باقی آدھوں کے نزدیک اہم مسائل، گورنینس، تعلیم اور صحت وغیرہ ہیں جن پر سب سے کم بات ہوتی ہے۔

قبلہ آپ کی بات سر آنکھوں پر مگر دو ہزار سترہ میں انیس سو سترہ کی صحافت نہیں چل سکتی۔ سو سال پہلے اخبار کسی سے قرض یا چندہ لے کر بھی شائع ہو جاتا تھا اور وہ اشتہارات پر نہیں سرکولیشن یا قارئین کی ماہانہ و سالانہ ممبر شپ پر چلتا تھا۔ آج اخبار یا چینل زندہ رکھنا کروڑوں روپے کا گیم ہے۔ یہ کروڑوں روپے محض تعلیم، صحت، گورنینس جیسے خشک موضوعات پر مسلسل گفتگو سے وصول نہیں ہو سکتے۔ پیسہ صرف نان ایشوز میں ہے۔ ریٹنگ حقیقی موضوعات کی ریں ریں سے نہیں، تیز مصالحے دار چٹ پٹے چھچھورے پروگراموں سے حاصل ہوتی ہے۔

کسی بھی سنجیدہ مسئلے پر ہونے والے کسی بھی پروگرام کی کوئی ایک مثال دے دیجیے جس کی ریٹنگ کسی بھی مارننگ شو کے مقابلے میں بس ایک بار زیادہ آئی ہو۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر گیم شوز بھی کافی مقبول ہیں. چلیے مان لیا کہ دراصل لاکھوں خاموش ناظرین اور قاری ہیں جو صرف سنجیدہ مسائل پر ہی گفتگو دیکھنا سننا چاہتے ہیں۔ مگر میڈیا مالکان اور نئی پود کے نابلد صحافی ناسمجھی، عدم تربیت، اندھی کمرشل دوڑ یا کسی ناگہانی آفت سے بچنے کے لیے غیر اہم مسائل کو زیادہ چمک دمک کے ساتھ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

اس کا توڑ یہ ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لاکھوں ناظرین و قارئین روایتی، مفاد پرست اور مقابلے کی گھٹیا ترین سطح پر اتر آنے والے میڈیا پر لعنت بھیجیں اور سوشل میڈیا کو حقیقی مسائل پر حرفی، صوتی و بصری گفتگو سے بھر دیں۔ لیکن جس سوشل میڈیا پر آپ کا اختیار روایتی میڈیا پر آپ کے زور سے کئی گنا بڑھ کے ہے وہی سوشل میڈیا نفرت، تعصب، جہالت، جھوٹ، آدھے سچ، فحش گوئی، ننگی دھمکیوں اور جعلی و مشکوک تصاویر کا کچرا گھر کیسے بن گیا ؟ سوشل میڈیا کو تو سنجیدگی کا آئینہ ہونا چاہیے تھا جس میں روایتی میڈیا اپنے چہرے کی نحوست دیکھ کے شرما سکتا۔ کیا کسی نے آج تک سوشل میڈیا پر چار پانچ ویب سائٹس کے سوا اس ریاست اور معاشرے کے حقیقی مسائل پر کوئی شائستہ، پڑھی لکھی تحمل دار بحث دیکھی؟

آپ سوشل میڈیا جیسے ہتھیار کا صحت مند استعمال کر کے گھٹیا چینلز، جاہل اینکرز اور پھٹیچر اخبارات کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل گھیراؤ کر کے حقیقی مسائل کی پروگرام سازی پر انہیں مجبور کیا جا سکتا ہے۔ مگر آپ صرف ایک مڈل کلاسی ڈرائنگ روم میں چائے سڑکتے قوم کے غم میں دبلے ہوتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم بدنیت اور تاریک قوتوں کے الیکٹرونک جنھوں نے برین واشنگ کے لیے ہائی جیک کر لیے یا پھر بندر کے ہاتھ میں استرا ہو گئے۔

یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر کسی بھی قابلِ ذکر سیاسی و مذہبی و فرقہ و نسل پرست رہنما، عسکری خرچوں، متنازعہ عدالتی فیصلوں، مذہب کے نام پر جاری انتقامی سیاست، بلوچستان، اقلیتوں، ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بنیادی حقوق کی کھلم کھلا پامالیوں کے بارے میں ایک جملہ بھی لکھیے۔ ردِعمل کے ناگ آپ کو نیلا نہ کر دیں تو مجھے بھی بتایے گا۔ خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے دوسروں کو حقیقت پسندی اور راست گوئی پر اکسانے والے دراصل اس راہ چلتے کی طرح ہیں جس نے ختنہ کرنے والے جراح کی دکان کے باہر بہت سے پرانے گھڑیال لٹکے دیکھے تو پوچھا بھائی صاحب آپ تو جراح ہیں۔ یہ وال کلاک پھر کیوں لٹکاءِے ہیں؟ جراح نے پوچھا ’آپ ہی بتائیے کیا لٹکائیں پھر؟‘

وسعت اللہ خان

مذہبی جماعتوں کا نیا اتحاد بن سکے گا ؟

پاکستان میں آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کا وقت قریب آتے ہی ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔ لاہور میں جماعتِ اسلامی کے ہیڈ کوراٹر منصورہ میں ماضی کے مذہبی سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل میں شامل چھ بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ایک اجلاس کے بعد اس سیاسی اتحاد کو دوبارہ بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جس کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ کراچی میں کیا جائے گا۔ سنہ 2002 کے عام انتخابات سے پہلے وجود میں آنے والی متحدہ مجلسِ عمل نے ان انتخابات میں نہ صرف قومی اسمبلی میں 40 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔

چھ جماعتی اتحاد کی اس کامیابی میں زیادہ تر حصہ جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) کا تھا جن کے طرزِسیاست کے لیے اس وقت کے ملکی حالات انتہائی موزوں تھے۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اقتدار سنبھالے تین برس ہو چکے تھے اور ملک کی دو بڑی جماعتوں کی قیادت ملک بدر کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکہ افغانستان پر حملہ کر چکا تھا۔ ایسی فضا میں مذہبی جماعتوں کے اسلامی اتحاد کے پیغام کو خاصی حمایت ملی۔ تاہم موجودہ حالات اس سے کہیں مختلف ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی سود مند ثابت ہو گی؟ خصوصاٌ اس وقت جب اس میں شامل دو بڑی جماعتیں جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) گذشتہ تقریباً پانچ سالوں سے ملک کی دو بڑی حریف جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کیے ہوئے ہیں۔ جماعتِ اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں پاکستان تحریکِ انصاف جبکہ جے یو آئی ایف مرکز میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایتی ہے۔ کیا اب وہ پانچ سالہ پرانے ان سیاسی اتحاد کو خیرباد کہہ دیں گے؟ دونوں جماعتوں کے رہنما اس حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی ایف کے رہنما اور سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ان دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد ختم ہو جائیں گے۔

‘جب متحدہ مجلسِ عمل کے اتحاد کا باضابطہ اعلان ہو گا تو اس کے بعد ہم اپنے (موجودہ) اتحادیوں سے یہ کہہ سکیں گے کہ چونکہ اب ہمارا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل پا چکا ہے تو اب ہمارے فیصلے اس پلیٹ فارم سے ہوں گے۔ اب یہ ممکن نہیں ہو گا کہ ہم آپ کے ساتھ رہیں اور آپ کے فیصلوں کو بھی مانیں اور اپنے (نئے) اتحادیوں کے فیصلوں پر بھی عمل کریں۔ دو کشتیوں میں پاؤں نہیں رکھے جا سکتے۔’ مولانا عبدالغفور حیدری گذشتہ کچھ عرصے سے ذاتی طور پر متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے لیے کوشاں تھے اور حالیہ اعلان سے قبل ان کی جماعتِ اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان سے متعدد ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی اتحادی سے بلا جواز یا لڑ جھگڑ کر علیحدٰہ ہونا بھی مناسب نہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے موجودہ اتحادی ان کے نئے اتحاد کی تشکیل کے بعد ان کی مجبوری کو سمجھ پائیں گے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد چھوڑنے، اس کے وقت اور طریقۂ کار کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب جے یو آئی ایف کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے  وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف سمیت چند دینی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے شہباز شریف کے اس موقف کی تائید کی کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔ بنیادی طور پر چھ جماعتوں کے سیاسی اتحاد کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ نئے اتحاد میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو دینی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینا چاہیں ان کو مسلک کی تفریق کیے بغیر شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔

جماعت الدعوۃ کے ایک عہدیدار کے مطابق متحدہ مجلسِ عمل کے بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اوائل میں ان کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دینے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ اتحاد کا باضابطہ اعلان ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تاحال باضابطہ طور پر ملی مسلم لیگ کا سیاسی جماعت کے طور پر اندارج نہیں کیا ہے۔ ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کو تاحال اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ ‘وہ تو ابھی تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ جب رجسٹرڈ ہو جائے گی تو اس کو دعوت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مشترکہ فورم ہی سے کیا جائے گا۔’

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

بشکریہ بی بی سی اردو

پاکستانی سیاست میں’ اسٹیبلشمنٹ’ کی مداخلت کا پردہ چاک

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان سیاسی اتحاد کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا۔ پاکستان ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کروائی، 8 ماہ سے فاروق ستار اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے پی ایس پی کو ایم کیو ایم میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں بنی، 5 مقدمات میں نامزد ملزم گرفتاری کے 5 گھنٹے بعد ایم کیو ایم کا سربراہ بن کر باہر نکلتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جس دن سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی اس کے 4 گھنٹے بعد سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے اتحاد پر مجبور کیا حتیٰ کہ گورنر سندھ نے بھی یہی کہا جب کہ ہر گھنٹے بعد قلابازیاں اور کامیڈی شو ہو رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم اور فاروق ستار فرمائشی پروگرام کر کے اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے ہمیں بلاتے ہیں، بتائیں پاکستان کا کون سا سیاست دان اور صحافی ہے جو اسٹیبشلمنٹ سے بات نہیں کرتا، ہمارے کارکن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا منشور گھر گھر پہنچا رہے ہیں جبکہ میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ہوں، تاہم میں پاکستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملتا ضرور ہوں کیونکہ سارے کام تو وہ کر رہے ہیں، اپنی اسٹیبشلمنٹ سے نہیں ملوں گا تو کیا ہندوستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملوں گا۔

چیرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے یہ تاثر پورے پاکستانی عوام کے دماغ میں بٹھا دیا کہ پی ایس پی اسٹیبشلمنٹ کی آلہ کار ہے تو ہاں ہمیں اسٹیبشلمنٹ نے بلا کر فاروق ستار سے ملایا اور وہ پہلے سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم کو جب حکومت میں شامل ہونا ہوتا تھا تو نئے صوبےکی بات کرتے تھے، فاروق ستار نے بانی ایم کیوایم کے تمام آئٹمز کر کے نئے صوبے کا بھی اعلان کر دیا، یہ لوگ کچرہ اٹھا نہیں سکتے، لالو کھیت صاف کر نہیں سکتے، نیا صوبہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں زندہ نہیں، اگر وہ ہوتیں توان کو سیاست کیلیےاستعمال نہیں کرتا، عشرت العباد سرٹیفکیٹ بنوانے کے پچاس ہزارروپے لیتا تھا، رؤف صدیقی وزیر صنعت تھا وہ لندن پیسے بھجواتا رہا، 12 لاکھ پینشن دلوانے کیلیے میئر کراچی نے6 لاکھ روپے رشوت لی تھی، جبکہ ہمارے آنے کے بعد ایم کیو ایم کا لاشوں کا کاروبار نہیں چل رہا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں سیاسی اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ‘ایک عرصے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں مشاورتی عمل جاری تھا، لیکن اب فیصلہ کیا ہے کہ مل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کی جائے اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ سیاسی اتحاد عارضی اور جزوی عمل نہیں، آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کو لے کر جائیں گے، آئندہ ملاقاتوں میں فریم ورک کو تشکیل دیں گے، اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے کیونکہ سندھ اور کراچی کی خدمت کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہو گا، جبکہ امید ہے اب ہمارے سیل دفاتر واپس مل جائیں گے۔’

پیراڈائز پیپرز کیا ہیں ؟

  گزشتہ برس جاری ہونے والے پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فونسیکا کی دستاویزات پر مبنی تھے لیکن اب جاری ہونے والے پیراڈائز پیپرز کمپنی ’’ایپل بائی‘‘ کی دستاویز پر مشتمل ہیں۔ پاناما پیپرز میں 50 ممالک کے 140 نمایاں افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ پاناما لیکس میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات سامنے آئیں تھیں اور اس کام کے لیے 376 صحافیوں نے کام کیا تھا۔پیراڈائز پیپرز میں 47 ممالک کے 127 نمایاں افراد کے نام شامل ہیں۔ پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34 لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کے لیے 67 ممالک کے 381 صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں 1950 سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120 شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔

پاناما کے بعد پیراڈائز لیکس، اہم پاکستانی شخصیات کے نام شامل

پیراڈائز لیکس میں مشرف دور کے وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام سامنے آ گیا، شوکت عزیز نے انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا جبکہ ان کی اہلیہ اور بچے بینی فشری تھے ۔ وزیر خزانہ بننے سے کچھ پہلے شوکت عزیز نے ڈیلاویئر(امریکا) میں ٹرسٹ قائم کیا جسے برمودا سے چلایا جا رہا تھا، بطور وزیر خزانہ اور بطور وزیراعظم شوکت عزیز نے کبھی یہ اثاثے ظاہر نہیں کئے، شوکت عزیز کے وکیل کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کو اپنے ٹرسٹ پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ان کے وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ شوکت عزیز کی اہلیہ اور بچے بھی بینی فشری تھے، بینیفشل مالک نہیں۔

شوکت عزیز پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ رہے، 1999 میں شوکت عزیز وزیر خزانہ مقرر ہوئے، 28 اگست 2004 کو وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا، 15 نومبر 2007 کو بطور وزیراعظم سبکدوش ہو گئے جس کے بعد سے شوکت عزیز بیرون ملک مقیم ہیں۔ ساتھ ہی نیشنل انشورنس کمپنی کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کا نام بھی سامنے آ یا ہے، ایاز خان نیازی کے برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شور اثاثے سامنے آئے ہیں، یہ سب کمپنیاں 2010 میں قائم کی گئیں جب ایاز نیازی این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

ایاز نیازی کے دو بھائی حسین خان نیازی اور محمد علی خان نیازی بینی فشل اونر تھے، ایاز نیازی، ان کے والد عبدالرزاق خان اور والدہ کے نام بطور ڈائرکٹر ہیں ۔
ایاز نیازی کو فروری 2009 میں نیشنل انشورنس کمپنی کا چیئرمین بنایا گیا، بینکنگ یا انشورنس کی تعلیم یا تجربہ نہ ہو نے کے باوجود تقرر ہوا۔ ایاز نیازی کا نام این آئی سی ایل کرپشن کیس میں سامنے آیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے این آئی سی ایل کرپشن کا نوٹس لیا، انہیں اکتوبر 2010 میں جبری رخصت پر بھیجا گیا، نومبر 2010 میں ایاز نیازی نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا انہیں دسمبر 2011 میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ۔

پیراڈائز پیپرز میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ  اردن کی سابق ملکہ نور گلوکارہ میڈونا اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ملکہ الزبتھ نے آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اس کے علاوہ امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے بھی روسی بااثر شخصیات کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی سے مالی فائدے حاصل کئے۔ پیراڈائز پیپرز میں امریکی صدرٹرمپ کے 13 قریبی ساتھیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کینیڈین وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور مشیر کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں شامل ہے۔

اردن کی سابق ملکہ نور دو ٹرسٹوں کی بینی فشری رہی ہیں، یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آف شور کمپنی کے ڈائرکٹر نکلے۔ مائیکرو سوفٹ اور ’’ای بے‘‘کے بانیوں کے نام بھی سامنے آ گئے، گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔فیس بک اور ‘ایپل کے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر ٹیکس بچانے کا انکشاف بھی پیراڈائز لیکس میں ہوا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

نامعلوم افراد نامعلوم ہی رہیں گے ؟

لوگ پوچھتے ہیں کہ احمد نورانی کو کس نے اس درندگی سے مارا۔ لیکن میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ میں کیا بتائوں کس نے مارا۔ پوچھا جاتا ہے کہ نورانی پر حملہ کرنے والے کون تھے۔ اس کا بھی میں کیا جواب دوں۔ سوال ہوتا ہے کہ کوئی ملزم پکڑا گیا، کسی کی شناخت ہوئی، سی سی ٹی وی سے کچھ پتا چلا۔ اس پر میں کہتا ہوں پولیس کوشش کر رہی ہے لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا۔ اس یقین کی وجہ ہمارا وہ ماضی ہے جس میں صحافیوں پر کئے گئے حملوں کے ملزمان اور ماسٹر مائنڈز کی کبھی نہ شناخت ہوئی اور نہ کسی مجرم کو سزا ملی۔

نامعلوم حملہ آور ہمیشہ نامعلوم ہی رہے۔ تشدد کے شکار صحافیوں کے نصیب میں تو بس تسلیاں، پھول، اظہار ہمدردیاں اور کھوکھلی یقین دہانیاں ہوتی ہیں کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے گا اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔ یہاں تو کئی صحافیوں کی جان بھی لے لی گئی لیکن قاتل نہیں پکڑے گئے۔ جو کچھ آج احمد نورانی کے ساتھ ہوا کچھ ایسا ہی عمر چیمہ کے ساتھ چند سال قبل ہوا۔ چیمہ کو اغوا کر کے اُس کے ساتھ تشدد کرنے والوں نے اُسے کسی سڑک کنارے پھینکا تو وہاں سے وہ سیدھا میرے گھر پہنچا اور مجھے اپنی روداد سنائی کہ کس طرح اُس کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ احمد نورانی نے بھی حملہ کے بعد ہسپتال جاتے ہوئے سب سے پہلے مجھ سے ہی رابطہ کیا۔ چیمہ جب پھٹے کپڑوں اور تشدد سے نیلوں بھرے جسم کے ساتھ میرے پاس پہنچا تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور کیسے اُسے دلاسہ دوں۔ یہی حال نورانی کی باری میں ہوا۔

جب ہسپتال پہنچا، اُسے دیکھا تو الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ کیسے اُس کو تسلی دوں ۔ چیمہ کی باری کچھ ذمہ داروں نے مجھے بتایا کہ معاملہ لڑکی کا ہے۔ میں نے درخواست کی معاملہ جو بھی ہے تشدد کرنے والوں کو پکڑیں۔ اب کی بار کسی ذمہ دار نے کوئی ایسی بات ہم سے تو نہیں کی لیکن ایک مقامی اردو اخبار نے نورانی پر تشدد کو بھی لڑکی سے جوڑ دیا۔ میڈیا آزاد ہے جو مرضی لکھے اور کہے اُسے کون روک سکتا ہے۔ پہلے تو پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نورانی پر حملہ آئی بی نے کروایا بعد میں لڑکی آ گئی۔ چلیں اگر لڑکی کا بھی مسئلہ ہے تو اُن نامعلوموں کو تو پکڑیں جنہوں نے پہلے اور کئی دوسروں کے علاوہ چیمہ اور اب کی بار نورانی، مطیع اللہ جان وغیرہ پر حملے کیے ۔

کم از کم اُس لڑکی کو تو سامنے لائیں جس کا معاملہ تھا۔ ایک چینل نے تو یہ تک کہہ دیا کہ احمد نورانی کو جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بھیجے گئے پھول پیش کیے تو اُس نے اُن پھولوں کو پھینک دیا۔ نورانی کے بھائی سے بات ہوئی تو وہ حیران ہوا کہ ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں۔ نورانی کے بھائی نے بتایا کہ وہ گلدستہ جسے ایک میڈیا چینل کے مطابق پھینک دیا گیا تھا وہ اب بھی اُن کے گھر موجود ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایک میجر صاحب جو وہ گلدستہ نورانی کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے پیش کرنے آئے تھے اُن کا نورانی نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ آج شام کو ہی جیو ٹی وی کے ذریعے پتا چلا کہ احمد نورانی کی میجر جنرل آصف غفور سے ٹیلیفون پر بات بھی ہوئی۔

احمد نورانی نے نہ صرف جنرل غفور کا شکریہ ادا کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اُس کی طرف سے کسی پر نہ تو الزام لگایا گیا نہ ہی اُس نے گلدستہ کے حوالہ سے وہ بات کی جس کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ نورانی نے اچھا عمل کیا کیوں کہ ایک ایسے ماحول میں جہاں کئی کردار حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور اُن اختلافات پر تیل چھڑکنے کی مسلسل کوشش میں لگے ہیں وہیں ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت جنگ گروپ کا بھی فوج سے ٹکرائو پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کوشش میں چند ریٹائرڈ فوجی افسران کے ساتھ ساتھ میڈیا میں موجود ایک طبقہ بھی پیش پیش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے احمد نورانی پر حملہ کیا یا کروایا وہ بھی جنگ گروپ اور فوج کے درمیان اختلاف پیدا کر کے اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہوں۔

وہ جو بھی تھے انہیں ہر حال میں گرفتار ہونا چاہیے ۔ پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے نورانی کوگلدستہ بجھوانہ اور پھر احمد نورانی کی طرف سے جواب میں جنرل آصف غفور کو فون کر کے اُن کا شکریہ ادا کرنا جہاں ایک مثبت عمل ہے وہیں اس سے سازشی عناصر کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اگر کوئی صحافی یا میڈیا گروپ ، تجزیہ کار یا کوئی سیاستدان سویلین بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی اور فوج کے سیاسی کردار کے خلاف بات کرتا ہے تو یہ وہ باتیں ہیں جو پاکستان اور فوج دونوں کے بہترین مفاد میں ہیں لیکن سازشی طبقہ ایسی باتوں کو بھی فوج کے خلاف سازش بنا کر پیش کرتا ہے۔

انصار عباسی

دینا، جناح ملاقات : خواہش سے خواب تک

سچ تو یہ ہے کہ انسان خواہش اور خواب کے درمیان زندگی گزار دیتا ہے۔ نہ خواہش اس کے بس میں ہوتی ہے اور نہ ہی خواب۔ یہ عجیب و غریب، نہایت دلفریب اور انتہائی خوبصورت منظر تھا۔ میں نے کبھی خواہش اور خواب میں بھی اتنی خوبصورت جگہ کا تصور نہیں کیا تھا۔ ہر طرف سبزہ، رنگ برنگ پھولوں سے لدے پودے، موسمی و بے موسمی پھلوں سے جھکی ہوئی شاخیں، صاف شفاف پانی کی بہتی ندیاں۔ میں چلتا جا رہا تھا تو دور ایک شخص نظر آیا۔ میں اس کی طرف کھینچتا چلا گیا۔ قریب گیا تو احساس ہوا کہ جب قدرت مہربان ہو تو انسان کو ظاہری و باطنی دونوں حسن عطا کر دیتی ہے ورنہ ایسا کم کم ہوتا ہے۔ ذرا آگے بڑھا تو غیر متوقع شخصیت کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور احتراماً میرے پائوں رک گئے۔

میرے سامنے ایک آرام دہ صوفے پر بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ تشریف فرما تھے۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی مسکرائے اور اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میرے ہوش حواس تقریباً گم تھے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کس مقام پر اور کہاں ہوں، جھجکتے ہوئے بیٹھا تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے ’’میں آج بہت خوش ہوں۔ ایک طویل عرصے کے بعد آج میری اکلوتی بیٹی دینا سے ملاقات ہو گی۔ وہ آرہی ہے اور تھوڑی دیر میں فاطی (مادر ملت مس فاطمہ جناح) بھی اس کے استقبال کے لئے آرہی ہیں۔ تم اس حسین مقام کی خوبصورتی میں کھوئے ہوئے ہو۔ تمہیں یاد ہو گا کہ عظیم روحانی، عبادت گزار اور مذہبی شخصیت پیر جماعت علی شاہ مجھے جلسوں میں ولی اللہ کہتے تھے تو مجھے اپنی کم مائیگی کے سبب اچھا نہیں لگتا تھا۔

مولانا اشرف علی تھانوی جیسی صاحب باطن، نیک اور عظیم روحانی شخصیت نے بھی خواب میں مجھے علماء اور مسیحا کی صف میں بیٹھے دیکھا تھا۔ میں ایک گناہ گار انسان ہوں۔ اللہ پاک رحیم و کریم ہیں۔ ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو ہندو کی غلامی سے نجات دلانے اور قیام پاکستان کے صلے میں مجھے یہ مقام ملا ہے۔ یہ سب میرے رب اور میرے آقا نبی کریم ﷺ کی عطا اور کرم ہے۔ میں نے کمزوری کے باوجود زندگی بھر ایمان کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور دینی تعلیمات کے تقدس کے لئے قربانی کرتا رہا لیکن میں نمائش اور ظاہر داری ناپسند کرتا تھا۔ ایمان کا رشتہ خالق و مخلوق کے درمیان ہے اور وہی نیتوں کا حال جانتا ہے۔

رتی میری پہلی محبت تھی لیکن میں نے دینی اصولوں کے مطابق اسے اپنانے کے لئے مسلمان ہونے کی شرط رکھی۔ الحمدللہ اس نے ممبئی کے امام مسجد مولانا نذیر صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جس کی خبر اخبارات میں جلی حروف سے چھپی۔ تب میں نے اسے اپنےعقد میں لیا۔ 1918ء میں شادی کے ایک سال بعد ہماری اکلوتی بیٹی دینا پیدا ہوئی تو ہمارے گلستان میں بہار آگئی۔ حکمت ربی پر غور کرو کہ میری اکلوتی بیٹی چودہ اور پندرہ اگست 1919ء کی نصف شب دنیا میں آئی اور پورے 28 برس بعد 14 اور 15 اگست 1947ء کی نصف قیام پاکستان کی صورت میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے میری سب سے بڑی خواہش پوری کی اور میرا علیٰ ترین خواب شرمندہ تعبیر کیا۔

پاکستان اللہ پاک کا مسلمانوں کے لئے عظیم ترین تحفہ اور قیمتی ترین انعام ہے جس کے حصول کے لئے میں نے گھریلو زندگی کی قیمتی محبتیں، صحت، بیٹی اور تمام مادی ومالی وسائل قربان کر دیئے۔ قیام پاکستان کا معجزہ ستائیسویں رمضان کی شب لیلۃ القدر کی رات رونما ہوا۔ زندگی کے بندھن سے آزاد ہو کر میں آج دینا (DINA) کا انتظار کر رہا ہوں تو بہت خوش ہوں کیونکہ دینا میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ اس کی ماں دینا کی پیدائش کے تقریباً ساڑھے نو برس بعد چل بسی۔ ہم نے دینا کی پرورش اور تربیت پر بے حد توجہ دی اور اسے اتنا لاڈ پیار دیا جس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ شادی اور دینا کی پیدائش سے لے کر اگلی دہائی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاست کا عرصہ تھا جس نے مجھے گھریلو زندگی کے لئے کم وقت دیا۔ ماسواء ان چار برسوں کے،جب 1930ء میں میں رائونڈ ٹیبل کانفرنس کیلئے لندن گیا اور پھر وہیں گھر خرید کر پریوی کونسل میں پریکٹس کرنے لگا۔

اس عرصے میں دینا کی پرورش اس کی پھوپھی فاطمہ کے حوالے تھی اور میں دینا کو خوب وقت دیتا تھا اور اس کی فرمائشیں پوری کر کے لطف اندوز ہوتا تھا۔ حالات نے پلٹا کھایا اور میں قوم کی خدمت کے جذبے سے ذاتی راحت، آرام اور عیش کی زندگی ترک کر کے 1934ء میں ہندوستان واپس لوٹ آیا کیونکہ مسلمان محرومیوں اور مایوسیوں کے ریگستان میں بھٹک رہے تھے اور انہیں ایک ایسے راہنما کی ضرورت تھی جو سب کچھ قربان کر کے اپنے آپ کو ان کے لئے وقف کر دے۔ دینا مجھے نہایت عزیز تھی لیکن مسلمانوں کا مستقبل اس سے بھی عزیز تر تھا۔ دینا زیادہ وقت اپنی پھوپھی کے پاس رہتی تھی۔ اسے زندگی کی تمام سہولتیں میسر تھیں اور اس کی ہر خواہش پوری کی جاتی تھی لیکن وہ اکثر شب و روز میری راہ تکتے تکتے سو جاتی کیونکہ میں مسلم لیگ کو منظم کرنے، عوام میں شعور بیدار کرنے اور ان کے لئے دن رات جہاد میں مصروف تھا اور سفر میں رہتا تھا اس دوران دینا اکثر اپنی نانی لیڈی پٹیٹ کے پاس چلی جایا کرتی تھی۔

نانی کا نواسی پر گہرا اثر بھی ہوتا ہے اور نانی یہ بھی نہ بھولی تھیں کہ ان کی بیٹی رتی نے ان کی مرضی کے خلاف جناح سے شادی کی تھی۔ چنانچہ نانی کی سوشل لائف میں دینا نوئل وادیا کی محبت میں گرفتار ہو گئی جو ایک پیدائشی رئیس پارسی تھا۔ بعدازاں اس نے عیسائیت قبول کر لی۔ جب مجھے علم ہوا کہ دینا ایک غیر مسلم سے شادی کرنا چاہتی ہے تو یہ میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ میں نے اسےاس سے باز رکھنے کی پوری کوششیں کی اور سمجھایا کہ اسلام میں رشتے خون سے نہیں بلکہ مذہب سے بنتے ہیں۔ تم ایک غیر مسلمان سے شادی کر کے مرتد ہو جائو گی اور میرا تمہارا رشتہ ختم ہو جائے گا۔

میں نے دینا کو سمجھانے کے لئے مولانا شوکت علی کی ڈیوٹی بھی لگائی لیکن دینا اپنی ضد پہ قائم رہی۔ مجھے وہ رات نہیں بھولتی جب میں آخری دفعہ سمجھانے دینا کے بیڈروم میں گیا اور اسے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں مسلمان نوجوان تم سے شادی کو اعزاز سمجھیں گے تم کسی مسلمان نوجوان سے شادی کر لو ورنہ میرا تمہارا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ مجھے دین رشتوں پر مقدم ہے۔ اس کا جواب تھا پاپا آپ نے بھی توایک پارسی لڑکی سے شادی کی تھی۔ میرا جواب تھا کہ میں نے اسے مسلمان کر کے شادی کی تھی۔

تم وادیا کو مسلمان کر لو۔ میں بخوشی اجازت دے دوں گا۔ میں دینا کو کمرے میں روتا ہوا چھوڑ آیا۔ 1938ء کے اوائل کی وہ رات میرے لئے حد درجہ کربناک تھی جس رات دینا نے وادیا سے چرچ میں شادی کی۔ میں اس رات بیمار پڑا تھا۔ پھر میرے اور میری بیٹی کے درمیان طویل دوریاں پیدا ہو گئیں۔ یہ صحیح نہیں کہ میں نے بالکل قطع تعلق کر لیا لیکن دلوں کے رشتے ٹوٹ گئے۔ طویل عرصے بعد ملاقات بھی ہو جاتی تھی، کبھی کبھار خط کے ذریعے بھی رابطہ ہو جاتا تھا۔ ایک دو بار دینا اپنے بچوں کو بھی ملانے لائی۔ پاکستان کے قیام کی منزل قریب آرہی تھی تو وہ بہت خوش تھی اور مجھے فخر سے خطوط لکھا کرتی تھی۔

پاکستان بننے کے بعد میری علالت کے دوران دینا نے پاکستان آنا چاہا تو میں نے انکار کر دیا۔ پھر وہ میرے جنازے پر ہی پہنچی اور میرے انتقال کے بعد اپنے انٹرویو میں بالکل درست کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے ملاقاتوں اور تعلقات کے دعوے کر کے من گھڑت واقعات لکھ رہے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہیں۔ کچھ حضرات صدارتی نظام حکومت کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔ میں نے یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی پر چھوڑا تھا۔ اگر میں اس کے حق میں ہوتا تو اسمبلی کی کسی تقریر، انٹرویو یا جلسہ عام میں ضرور تجویز کرتا۔ میں نے پاکستان غریب مسلمانوں عوام کے لئے بنایا تھا نہ کہ جاگیرداروں، صنعت کاروں، گدی نشینوں اور عوام کا خون چوسنے والے کرپٹ سیاستدانوں کے لئے۔ میرے اسلامی جمہوری اور فلاحی پاکستان کے ستون قانون کی حکمرانی، معاشی و سماجی عدل، انصاف، کرپشن سفارش، نمود و نمائش اور وسائل کے ضیاع کا خاتمہ تھے۔ پاکستانی قوم کو علاقائی، مذہبی، لسانی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک متحد و مضبوط قوم بننا تھا اور دنیا میں نام پیدا کرنا تھا۔ ایسا نہیں ہوا لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ ضرور ہو گا۔ یہی پاکستان کا مقدر ہے۔

میں نے جہاں گھریلو زندگی کی محبتیں، صحت اور عیش و عشرت کی زندگی قوم کے لئے قربان کی وہاں اپنی زندگی بھر کی جمع کردہ پونجی بھی قوم کو دے دی۔ میری 1939ء والی وصیت دیکھو میں نے بہنوں، بھائی، بیٹی کو تھوڑا حصہ دینے کے بعد ساری پونجی کا زیادہ حصہ انجمن اسلام اسکول بمبئی، عربیک کالج دہلی، علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور، سندھ مدرسۃ اسلام کراچی وغیرہ کو دے دیا اور خود کو اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ بات کرتے کرتے قائداعظم رک گئے اور کہنے لگے دیکھو وہ دینا آرہی ہے۔ اللہ حافظ کہہ کر انہوں نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا تو میری آنکھ کھل گئی۔ بیدار ہوا تو ہوش و حواس ٹھکانے لگانے میں لمحے گزر گئے۔ اخبارات کی طرف لپکا تو پہلے صفحے پر یہ خبر پڑھ کر حیران ہو گیا کہ رات دینا قائداعظم کی اکلوتی اولاد وفات پا گئیں۔ سچ پوچھیں تو میں ابھی تک خواہش اور خواب کے نشے میں ڈوبا ہوا ہوں اور قائداعظمؒ کے قرب کا لمس محسوس کر رہا ہوں۔

ڈاکٹر صفدر محمود

امریکا نے انسداد دہشت گردی آپریشن کے لیے دیے گئے ہیلی کاپٹرز واپس مانگ لیے

امریکا نے پاکستانی وزارت داخلہ کو انسداد دہشت گردی آپریشن کے لیے دیے گئے ہیلی کاپٹرز واپس مانگ لیے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکا نے پاکستان کو بارڈر پیٹرولنگ کے لیے دیے گئے ہیلی کاپٹرز واپس مانگ لیے ہیں، امریکی ساخت کے یہ ہیلی کاپٹرز وزارت داخلہ کے پاس تھے اور یہ انسداد دہشت گردی آپریشن میں بھی استعمال ہوتے تھے جب کہ ان ہیلی کاپٹرز کو مظاہروں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جا تا تھا اور ان کی پرواز سے قبل امریکی سفارت خانہ سے اجازت لی جاتی تھی۔

امریکا کی جانب سے ہیلی کاپٹرز کی واپسی کے مطالبے کے بعد ان کو واپس لے جانے کے لیے کارگو طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ واضح رہے امریکا نے 2002 میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کو 9 ہیلی کاپٹرز پاک افغان سرحد کی مانیٹرنگ کے لیے دیے تھے جن میں سے 4 ہیلی کاپٹر امریکا کو پہلے ہی واپس کر دیے گئے تھے۔