پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے : کیا امریکا کا ارادہ بدل رہا ہے؟

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دشمنوں کے ٹھکانے پر امریکا کے حالیہ فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ ایف مِک کینزی نے یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹس پر کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ستمبر سے پاک افغان خطے میں امریکا کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے گزشتہ تین ہفتے کے دوران افغانستان میں 70 زمینی اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ دو روز کے دوران متعدد ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی عہدیداروں نے اگرچہ ڈرون حملوں پر تبصرہ نہیں کیا لیکن جنرل مک کینزی نے رواں ہفتے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران افغانستان میں امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ حملے جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر حملہ مسلح تصادم کے قانون کے مطابق ہوتا ہے، جس میں شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے کم سے کم ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جس نے اگست میں جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، اب ڈرونز کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی دیگر رپورٹس میں دیگر میڈیا اداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، ڈرون حملوں پر سابق اوبامہ انتظامیہ کی عائدہ کردہ دو اہم پابندیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ 1۔ صرف اعلیٰ سطح کے دہشت گردوں کو، جو امریکا کے لیے ’مسلسل اور قریبی‘ خطرہ ہوں، ہدف بنایا جائے گا۔ 2۔ ڈرون حملوں اور ریڈز سے قبل ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جائے گی۔ نئی پالیسی، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، امریکی فوج اور سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کم خطرناک اہداف کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائیں، جبکہ ان حملوں کے لیے انہیں اعلیٰ حکام کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدارارن کا، جو مجوزہ پالیسی سے متعلق متعدد میڈیا اداروں سے بات کر چکے ہیں، کہنا تھا کہ انتظامیہ اوباما دور کی اس شرط کو قائم رکھے گی کہ حملوں میں عام شہریوں کی کم سے کم ہلاکتوں کو ممکن بنایا جائے۔
ایک دوسرے میڈیا ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’سی آئی اے‘ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ڈرون حملوں کے اختیارات کو وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت سی آئی اے پاکستانی قبائلی علاقوں میں صرف القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وائٹ ہاؤس، سی آئی اے کی اس درخواست کے حق میں نظر آتا ہے۔

انور اقبال

بشکریہ ڈان اردو

Advertisements

کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان

حقانی نیٹ ورک کیا ہے؟

حقانی نیٹ ورک ایک افغان جنگجو گروہ ہے، جو افغانستان میں مقامی اور امریکی تحادی افواج کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ افغان حکام اور عالمی برادری اسے افغانستان میں فعال ایک انتہائی خطرناک عسکری گروہ قرار دیتے ہیں۔ عشروں پہلے سوویت یونین کے دستوں کے خلاف لڑنے والے کمانڈر جلال الدین حقانی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی تھی۔ افغان جنگ کے دوران اسّی کی دہائی میں اس گروہ کو امریکی حمایت بھی حاصل تھی۔ سن 1995 میں اس نیٹ ورک نے طالبان کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ 1996ء میں طالبان حقانی نیٹ ورک کی مدد سے ہی کابل پر قبضہ کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دے دیا تھا۔

طالبان کی حکومت میں جلال الدین حقانی کو قبائلی امور کا وزیر بنا دیا گیا تھا۔ امریکی اتحادی افواج کی کارروائی یعنی سن دو ہزار ایک تک وہ اسی منصب پر فائز رہے۔ امریکی اتحادی افواج نے سن دو ہزار ایک میں ہی طالبان کی خود ساختہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ملا عمر کے بعد جلال الدین حقانی کو طالبان کا معتبر ترین رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ سن 1939 میں افغان صوبے پکتیا میں پیدا ہونے والے جلال الدین حقانی نے پاکستان میں قائم دارالعلوم حقانیہ نامی مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی کا عنصر نمایاں ہے۔

بشکریہ DW اردو

Real face of butcher of Karachi Rao Anwar

Former senior police officer Niaz Khoso revealed SSP Malir Rao Anwar earned billions of rupees illegally. Former senior superintendent of police (SSP) Niaz Khoso filed a petition to institute an investigation in the alleged money-laundering of billions of rupees by Rao Anwar. Niaz Khoso’s petition states the SSP Malir illegally siphoned off Rs.85 billion abroad. Rao Anwar also appointed his favorite officers at Jinnah Airport, the petition said.
It should be mentioned here that Khoso earlier moved Sindh High Court (SHC) against SSP Malir for recovery of his son—a sub-inspector with the Anti-Encroachment Force (AEF). The court admitted Khoso’s constitutional petition for preliminary hearing to be heard by a two-judge bench. The petition states that Rao Anwar along with Altaf, son of Ghulam Sarwar Malik, Taimur, son of Tanveer Ahmed, SHO Nasir Afridi and 20 to 25 other armed men came in an armored personnel carrier and six police vehicles and forcibly took his son away in the APC. –SAMAA

امریکا سی پیک کے خلاف کُھل کر سامنے آ گیا

امریکا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف کھل کر سامنے آ گیا۔
بھارت کو سی پیک منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ بہانے بہانے سے اسے متنازع اور ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سی پیک کو ناکام بنانے کی اس مہم میں امریکا بھی کھل کر بھارت کا ہمنوا بن گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری متنازع علاقے سے گزر رہی ہے۔  امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور ارکان کانگریس کو پاک افغان خطے کی موجوہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ متنازع علاقے سے بھی گزرتا ہے جو بجائے خود کسی نئے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، امریکا اصولی طور پر ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ایک سے زیادہ سڑکیں اور گزر گاہیں موجود ہیں لہذا کسی بھی ملک کو صرف ’ایک گزرگاہ اور ایک سڑک‘ کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے، امریکا پاکستان میں اس منصوبے کی مخالفت اس لیے بھی کرتا ہے کیونکہ وہ متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے چین کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تاہم جہاں چین کی سمت غلط ہے وہاں ہمیں اس کی مخالفت بھی کرنی ہو گی۔ سی پیک پر امریکا کا نیا موقف دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے جب کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو زیادہ بڑا اور اہم کردار دینے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

پہلے زندگی، ایمبولینس کو راستہ دیں

‘میں جائے حادثہ پر تھوڑی دیر سے پہنچا تو لوگ مجھے گلی میں گھسیٹ کر لے گئے اور بہت مارا۔ میں نے لوگوں کو بتانے کی کوشش کی کہ میں ٹریفک میں پھنس گیا تھا لیکن انھوں نے نہیں سنی۔’ یہ کہنا ہے کراچی میں ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور محمد جنید کا۔ محمد جنید اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقریب ’پہلے زندگی، ایمبولینس کو راستہ دیں‘ کی تقریب میں موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں تلخ کلامی اور گالم گلوچ تو عام ہے لیکن ‘میرے ساتھ یہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مشتعل ہجوم نے بد زبانی کے علاوہ مار پیٹ پر آ جائیں۔’

اسلام آباد میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی جانب سے ’پہلے زندگی، ایمبولینس کو راستہ دیں‘ کی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ملک بھر میں ایمبولینس کا راستہ روکنے یا اس کو راستہ نہ دینا تشدد کی ایک قسم ہے۔
مہم کے آغاز کے لیے کی جانے والی تقریب میں ایدھی اور ریسکیو 1122 کے اہلکار شامل تھے۔ انھی ریسکیو اہلکاروں کے درمیان کراچی کے جناح ہسپتال کی نرس نسیم اختر بھی موجود تھیں جنھوں نے توجہ دلائی کہ صرف ایمبولینس ڈرائیورز ہی تشدد کا نشانہ نہیں بنتے بلکہ ہسپتالوں کے شعبہ ایمرجنسی میں کام کرنے والے طبی اہلکار بھی نشانہ بنتے ہیں۔ نسیم اختر نے کہا ‘جب آپ ایمرجنسی وارڈ میں کسی کو قتل کرنے کی کوشش کے عینی شاہد ہوتے ہیں تو آپ کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔’

انھوں نے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کو زخمی حالت میں جناح ہسپتال لایا گیا۔ وہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں زخمی ہونے والے متعدد زخمیوں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جب اس نوجوان کو ہسپتال لایا گیا تو تقریباً 20 افراد بھی ایمرجنسی روم میں داخل ہو گئے اور ہسپتال عام طور پر اتنے افراد کو ایمرجنسی میں داخل ہونے نہیں دیتا۔ ‘لیکن کیا کریں دھمکیوں اور تشدد کے باعث سکیورٹی گارڈز لوگوں کو ایمرجنسی میں آنے دیتے ہیں۔’ نسیم نے بتایا کہ ابھی اس جھگڑے میں زخمیوں کا علاج شروع ہی کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان دوسری جماعت کا ہے جس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

‘یہ افراد مسلح تھے اور انھوں نے اسلحہ نکال کر نوجوان کو مارنے کی کوشش کی۔ اسلحہ دیکھ کر ایمرجنسی روم میں بھگدڑ مچ گئی اور ہم سب اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کہ اس نوجوان کی جان ہم نے کیسے بچائی؟ کسی طرح ہم نے رینجرز کو بلایا۔ ایسا روزانہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب ہوا تو مجھ کو احساس ہوا کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہے۔’ ریسکیو اہلکاروں کا کام اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ ریسکیو 1122 کے فاروق زاہد نے بتایا کہ عام افراد کو ایسا لگتا ہو گا کہ ریسکیو کا کام ایک طرح ہی کا ہے لیکن اس میں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔

‘کچھ عرصہ پہلے ہی ایک بچہ پائپ میں پھنس گیا۔ یہ ایک نیا کیس تھا ہمارے لیے۔ ہمارے پاس اس قسم کے واقعات کے لیے آلات نہیں تھے اور اسی وجہ سے وہ بچہ پائپ سے زندہ نہ نکل سکا۔’ انھوں نے بتایا جکہ اس بچے کو نکالنے کے لیے آلات تو نہیں تھے لیکن جو کچھ پاس تھا ان اشیا کو استعمال کر کے اس بچے کو نکالنے کی کوشش کی لیکن ناکمی ہوئی۔ ‘اس واقعے کے بعد رپورٹ کی گئی اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے آلات ملے۔’ آئی سی آر سی کی جانب ایمبولینس کو راستہ دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاروق زاہد نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ لوگ راستہ نہیں دیتے۔ ‘لوگ جتنا ہو سکتا ہے راستہ دیتے ہیں لیکن ملک میں کمیونیکیشن کا نظام ایسا ہے کہ کبھی لوگ راستہ نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے ایمبولینس لین متعارف کرائی جائے تا کہ ایمبولینس سروس بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کر سکے۔ خاص طور پر ان شہروں میں جہاں ٹریفک بہت زیادہ ہوتی ہے جیسے کراچی، لاہور اور راولپنڈی۔’

رضا ہمدانی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آصف زرداری اور نواز شریف کا مک مکا ؟

سابق صدر آصف علی زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سنی؟ زرداری صاحب نے بغیر کسی توقف کے کہا کہ اب میں نواز شریف کی کوئی بات نہیں سنتا اور موضوع بدلتے ہوئے بتانے لگے کہ قبائلی علاقے کے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات بڑی اچھی رہی۔ وہ سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میں نے دوبارہ انہیں نواز شریف کی تقریر کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ انہوں نے آپ کا ذکر خیر کیا آپ کی صدارت کی مدت ختم ہونے پر وزیراعظم ہائوس میں منعقد کئے گئے الوداعی ظہرانے کا ذکر کیا اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا ذکر کیا۔

میری باتیں سن کر آصف زرداری صاحب کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا۔ کہنے لگے تمہیں تو سب پتا ہے کچھ واقعات کے تم عینی شاہد ہو۔ میں باربار نواز شریف سے دھوکہ نہیں کھا سکتا، باربار زخم نہیں کھا سکتا اور پھر انہو ں نے پچھلے چار سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے متعلق شکوے شکایتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ آصف زرداری کہہ رہے تھے کہ ہم وفاق کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو ہم دبے لفظوں میں چوں چراں کر دیتے ہیں۔ گلا پھاڑ کر چیخ و پکار نہیں کرتے کیونکہ ہمیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہم پر صوبائی تعصب پھیلانے کا الزام نہ لگ جائے لیکن نواز شریف کو کھلی چھٹی ہے۔ وہ روز سانحہ مشرقی پاکستان کا نام لے کر قوم کو ایک نئے سانحے سے ڈراتا ہے اور میرے پاس پیغام بھیجتا ہے کہ آئو سویلین اتھارٹی کے لئے متحدہ محاذ بنائیں لیکن اس مرتبہ میں دھوکہ نہیں کھائوں گا۔

نواز شریف ہمیشہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بناتا ہے اور پھر خاموشی سے کسی اور کے ساتھ ڈیل کر لیتا ہے۔ آج نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر رینجرز کے آنے پر بڑا اعتراض ہے۔ جب ہم چیختے تھے کہ سندھ میں رینجرز ہمارے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو نواز شریف کا وزیر داخلہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتا تھا کہ میں رینجرز کے پیچھے کھڑا ہوں۔ آج اسحاق ڈار بڑا مظلوم بن رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کہتا تھا کہ ڈار صاحب سندھ کے فنڈز کم نہ کرو۔ سندھ کو اس کا حق دو تو وہ سنی ان سنی کردیتا تھا۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نواز شریف کے وزیروں نے نواز شریف کی مرضی سے کیا اس لئے نواز شریف کو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہے تو چوہدری نثار کے ساتھ کریں ہمارے ساتھ نہیں۔ آصف زرداری صاحب کی باتیں سن کر میں ان انتہائی باخبر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا جن کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف او ر آصف زرداری اندر سے ایک ہیں اور ایسے ہی دعوئوں کی بنیاد پر تحریک ِ انصاف نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ سے ہاتھ ملا لیا۔ جب سیاسی اور قومی فیصلے غلط اطلاعات اور غلط اندازوں کی بنیاد پر کئے جائیں تو نتائج بھی غلط نکلتے ہیں۔

نواز شریف اور ان کے مشیروں کا خیال ہے انہیں پیپلزپارٹی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نااہلی کے باوجود پیپلزپارٹی کو ایسے شاہانہ انداز میں ڈائیلاگ کی دعوت دے رہے ہیں جیسے پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں کے باعث پنجاب میں شدید بحران کا شکار ہے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کارکن اپنی پارٹی کی بجائے تحریک ِ انصاف کو ووٹ ڈالنے لگا ہے اور اس موقع پر پیپلزپارٹی نواز شریف سے ہاتھ ملا لے تو پنجاب میں اس کا مکمل صفایا ہو سکتا ہے۔ سویلین بالادستی کے لئے سیاسی جماعتوں کومشترکہ حکمت ِ عملی ضرو ر اختیار کرنی چاہئے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب سیاسی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے گی۔

یہ تو ممکن نہیں کہ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو تو پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوجائے دھرنا ناکام ہو جائے تو وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی گرفتاریاں شروع کر دے۔ ان کے نام ای سی ایل پر ڈال دے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلزپارٹی کو کرپشن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں بھی پھنسا دے پھر جب نواز شریف پر دوبارہ مشکل وقت آئے تو پیپلزپارٹی سے توقع کی جائے کہ وہ جمہوریت کے نام پر دوبارہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ آصف علی زرداری ابھی نہیں بھولے کہ 2015 میں ان کی ایک تقریر پر تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ایک ملاقات ہی منسوخ کر ڈالی تھی حالانکہ زرداری صاحب نے بھی سیاستدانوں پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے نا صرف آصف زرداری کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات منسوخ کرائی بلکہ زرداری پر اداروں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے بیانات بھی دیئے۔ آج کل پیپلزپارٹی کے کئی رہنما مسلم لیگ (ن) پر اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا الزام لگا رہے ہیں۔ نواز شریف پر احتساب عدالتو ں میں مقدما ت چل رہے ہیں اور وہ اپنی تقریروں میں ان مقدمات کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ان کا گرینڈ ڈائیلاگ اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک وہ اپنی حالیہ غلطیوں پر معذرت نہیں کرتے۔ تحریک ِ انصاف ابھی تک بضد ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے آپس میں کوئی خفیہ مک مکا کر رکھا ہے لیکن بہت جلد تحریک ِ انصاف کو پتا چلے گا کہ اس کی سیاسی حکمت ِ عملی غلط اندازے پر مبنی تھی اور اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔ اپوزیشن کے اختلافات کافائدہ صرف اور صرف حکومت کو ملے گا۔

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اعتماد نہیں اور نواز شریف کے خیال میں عمران خان بڑے مفاد پرست ہیں۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر گرد اڑا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ریاستی اداروں میں موجود کچھ لوگ حب الوطنی کے نام پر قانون کو مذاق بنا دیں۔ 2 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں رینجرز نے جو طرز ِ عمل اختیار کیا وہ ناقابل قبول ہے۔ رینجرز کو بتانا ہو گا کہ وہ کس کے حکم پر احتساب عدالت میں گئی؟ کچھ وفاقی وزرا اس معاملے کو دبانے کے چکر میں ہیں اور شنید ہے کہ انہیں نواز شریف کی تائید حاصل ہے۔ ان وزرا کا رویہ آصف علی زرداری کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سویلین بالادستی کا نام تو لیتی ہے لیکن کام نہیں کرتی۔ خاموشی سے ڈیل کر لیتی ہے۔ رینجرز کا معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لئے چیلنج ہے انہیں حقائق سامنے لا کر بتانا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور خفیہ ڈیل کا زمانہ گزر گیا۔

حامد میر

حکومتی عدم توجہ، پاکستان اسٹیل ملز لاوارث ہو گیا

حکومت کی عدم توجہ کے سبب ماضی میں اربوں روپے کمانے والا پاکستان اسٹیل ملز لاوارث ہو گیا ۔ اسٹیل ملز میں نہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہے نہ مستقل چیف فنانشل آفیسر ہے، اسٹیل ملز کے تمام ڈائریکٹرزکی نشست بھی خالی ہیں. اور 12 ہزار ملازمین 4 ماہ کی تنخواہوں سے بھی محروم ہیں۔ پاکستان اسٹیل لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری ظفر خان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت کی عدم توجہ کے سبب ملازمین 4 ماہ سے تنخواہوں کے منتظر ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑے چار ہزار ریٹائرڈ ملازمین بھی اپنے تمام واجبات کے منتظر ہیں ۔ ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے۔ گیس کی فراہمی بند ہونے سے 27 ماہ سے اسٹیل مل کی پیداوار مکمل منجمد ہے ۔ ظفر خان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل میں ابھی کوئی بھی اہم افسر ہی تعینات نہیں ہے ۔ پاکستان اسٹیل لیبر یونین نے وزیر اعظم سے فوری طور پر تنخواہوں اوراسٹیل ملز کی بحالی کا مطالبہ کردیا ہے ۔

افغان امن کے لیے پاکستان امریکہ کی ضرورت ہے، امریکی تجزیہ کار

بھارتی وزیر دفاع نِرملا سیتا رمن نے امریکی وزیر دفاع میٹس کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت افغانستان میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا، لیکن وہ افغانستان کی امداد جاری رکھے گا۔ دورہ بھارت کے بعد، امریکی وزیر دفاع، پاکستان نہیں گئے بلکہ وہاں سے افغانستان چلے گئے، جس سے یہ سوالات پیدا ہوئے کہ کیا امریکہ نے بھارت سے افغانستان میں اپنی فوج بھیجنے کے لیے کہا تھا اور کیا اب امریکہ افغان جنگ میں پاکستان کو نظر انداز کر رہا ہے۔ جب ایک امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں قائم پاکستان سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مارون سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ نے بھارت سے اپنی افواج افغانستان بھیجنے کے لیے کہا تھا یا یہ بات مذاكرات کے دوران زیر بحث آئی تھی، تو ڈاکٹر مارون کا کہنا تھا کہ کسی کو علم نہیں کہ مذاكرات کے دوران کیا باتیں ہوئی، لیکن جو کچھ سامنے آیا ہے اس سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے بھارت سے اپنی فورسز بھیجنے کے لیے کہا ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان پالیسی کے اعلان کرتے ہوئے بھارت سے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں ایک وسیع تر کردار ادا کرے۔

ڈاکٹر مارون کا کہنا تھا کہ ایک بڑے تناظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں امکانی طور پر جو ہوا ہو گا وہ یہ ہے کہ بھارت کو مزید کچھ کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے، اور بھارت کے وزیر دفاع نے یہ کہا ہے کہ ہم زیادہ کچھ تو کریں گے، لیکن اس میں افغانستان میں بھارتی افواج بھیجنا شامل نہیں ہے۔ سو ایک طرح سے ان کی یہ بات حفظِ ماتقدم کے طور پر کہی گئی کہ کہیں فورسز کے حوالے سے کوئی براہ راست درخواست نہ کر دی جائے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ایسے اشارے سامنے نہیں آئے کہ اس دورے میں حقیقتا کوئی ایسی درخواست کی گئی تھی۔ سابق معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیائی امور، کارل اِنڈرفرتھ سے جب بھارتی وزیر دفاع کے بیان سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اُنہیں اس بیان پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ بھارت کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ افغانستان میں فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ بھارت کا درست فیصلہ ہے بلکہ میرے خیال میں پاکستان بھی اس بات سے مکمل اتفاق کرے گا کہ بھارتی فوج کو أفغان سرزمین پر موجود نہیں ہونا چاہیئے۔ میرے خیال میں یہ بھارت کی جانب سے سرکاری سطح پر اپنی پالیسی کا اعادہ تھا، اور مجھے یقین ہے کہ وزیر دفاع میٹس نے یہ واضح طور پر سمجھ لیا ہے۔ اس سوال پر کہ امریکی وزیر دفاع بھارت سے سیدھے افغانستان چلے گئے اور پاکستان نہیں گئے، تو کیا امریکہ پاکستان کو نظر انداز کر رہا ہے؟ جواب میں کارل انڈر فرتھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا، لیکن ہوا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے بڑی سخت زبان میں افغانستان میں پاکستان کے کردار اور اس کی طالبان کی حمایت کے معاملے پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔ آج کل امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ اور اس بنا پر جیمس میٹس پاکستان نہیں گئے۔

تاہم ان کا کہنا تھا انہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل قریب میں وہ اسلام آباد جائیں گے، اور جب وہ جائیں، تو اس وقت کے لیے ان کی ایک تجویز ہے اور یہی تجویز وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے لیے بھی ہے کہ وہ بھی جب اسلام آباد جائیں تو پاکستان اور بھارت کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کریں کہ دونوں ملک براہ راست، بند دروازوں کے پیچھے افغانستان کے متعلق بات چیت کریں، اور یہ کام ان دونوں کو ہی کرنا ہے کیونکہ افغانستان میں طویل مدتی قیام ِامن کے لیے یہ چیز بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا ایک اور کام جو امریکی وزیر دفاع کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر کسی نہ کسی طرح کی بات چیت کا آغاز کرے، جس میں دونوں ملک اپنے اُن باہمی شکوک اور مفادات کے بارے میں بات کریں، جو افغانستان میں ان کے لئے تصادم کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ أفغانستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکے گا، جب تک بھارت اور پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنے تنازعات کو حل نہیں کرتے۔
دورہ بھارت اور افغانستان میں پاکستان کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی پر مسلسل اپنی ناپسندیدگی کے بارے میں پیغام دیتا آ رہا ہے اور امریکی وزیر دفاع کا پاکستان نہ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے اشتراک کو کم اہمیت دے رہا ہے۔ تاہم ایسا کوئی اشارہ نظر نہیں آ رہا جس سے یہ ظاہر ہو کہ امریکہ، کم از کم اس وقت، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم کرنے کا خواہاں ہے، اور جتنی بھی بیان بازی ہم سن رہے ہیں وہ دباؤ بڑھانے کے لیے ہے نہ کہ اس کا مقصد کسی قسم کا قدم اٹھانا ہے۔

ڈاکٹر مارون کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جو کوئی بھی اقدامات اٹھائے ہیں وہ پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے کیے ہیں۔ امریکہ کو اب بھی پاکستان کی شمولیت کی ضرورت ہے۔ اور وہ اس طرح سے کہ امریکہ وہاں کسی بھی بغاوت کے کامیاب انسداد کے لیے پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

 نجم ہیرلڈ گل – واشنگٹن ڈی سی

 بشکریہ وائس آف امریکہ

کیا پاکستان اپنی سرزمین پر کسی مشترکہ فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتا ہے؟

ایسے میں جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے اندر مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعادہ کر چکے ہیں اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات بظاہر کشیدہ ہیں، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کوئی ’’آوٹ آف باکس‘‘ حکمت عملی نقشہ تبدیل کر سکتی ہے۔ اور اس وقت امریکہ کا جھکاؤ اگر بھارت اور افغانستان کی طرف ہے تو پاکستان ایک بار پھر خطے میں عسکریت پسندی کے خاتمے میں مرکزی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

سیدہ عابدہ حسین، پاکستان کی سینئر سیاستدان اور سابق سفیر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مشترکہ فوجی آپریشن کے فوائد ہیں۔ لیکن، پاکستان شاید ہی اس کی اجازت دے۔ تاہم، وہ افغانستان میں نیٹو فورسز کی کسی بڑی کامیابی کی مثال نہ ہونے پر تشکیک بھی رکھتی ہیں کہ ایسا کوئی مشترکہ آپریشن پاکستان میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے تن تنہا بہت کامیاب کارروائیاں کی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ملک پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

بریگیڈیر (ر) سعد محمد دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کبھی اپنی سرزمیں پر مشترکہ فوجی کاروائی کی اجازت نہیں دے گا اور افغانستان یا بھارت کے ساتھ تو بالکل نہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت پر اس حوالے سے اندرونی دباؤ بھی بہت ہو گا اور صورتحال کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں اٹھا سکتی ہیں۔ تاہم، وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ پاکستان کو صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایسے اقدامات ضرور کرنے چاہیں جس سے امریکہ اور اتحادی ملکوں کی تشفی ہو۔ ان کے بقول، افغان طالبان کے ایسے دھڑوں تک ضرور پہنچنا چاہیے تو مذاکرات کے حامی ہیں، اس طرح ان کو جنگ پر بضد گروپوں سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے حالیہ بیانات میں کئی بار باور کرایا ہے کہ دہشتگردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کا حل عالمی اشتراک سے ہونا چاہیے۔ تاہم، پاکستان ملک کے اندر ڈرون حملوں یا کسی طرز کے سرجیکل حملوں کے امکانات کو بھی سخت انداز میں مسترد کرتا ہے اور اسے پاکستان کی سالمیت کے منافی خیال کرتا ہے۔

اسد حسن – واشنگٹن
بشکریہ وائس آف امریکہ