ریاست کا انتظار کیوں کرتے ہو ؟

حالانکہ یہ مشہور جملہ ریاست کنیکٹیکٹ کے اس اسکول ہیڈ ماسٹر جارج سینٹ جان کا ہے جہاں جان ایف کینیڈی نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مگر بیس جنوری انیس سو اکسٹھ کے بعد سے یہ جملہ دنیا بھر میں ایسے مشہور ہوا اور کروڑوں بار استعمال ہوا جیسے کینیڈی کا ہی ہو۔ مزے کی بات ہے کہ کینیڈی نے بھی کبھی ریکارڈ کی درستی کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ جب کینیڈی نے یہ جملہ استعمال کیا تو اس وقت ہیڈ ماسٹر صاحب بھی زندہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں بھی عجیب سا لگا ہو کہ ان کا یہ ہونہار شاگرد بغیر حوالہ دیے کیسے دھڑلے سے کئی برس پہلے کا ان کا کہا گیا جملہ اپنا بنا کے پیش کر رہا ہے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ استاد کا دل بڑا ہوتا ہے۔ اتنا بڑا کہ اس میں ہزاروں شاگرد اور لاکھوں خطائیں سما سکتے ہیں۔

اب بچے تو غلطیاں ہی کرتے رہتے ہیں۔ ہر بھول چوک پر سرزنش تو نہیں ہو سکتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ میاں کینیڈی کوئی ننھے بچے تو تھے نہیں جب وہ امریکا کے صدر بنے اور حلف برداری کے بعد کہا ’’ یہ مت پوچھو کہ ملک تمہارے لیے کیا کر سکتا ہے۔ یہ پوچھو کہ تم ملک کے لیے کیا کر سکتے ہو‘‘۔ ( یہ پورا قصہ آپ کرس میتھیوز کی کتاب ’’جیک کینیڈی۔ الیوسیو ہیرو‘‘ میں پڑھ سکتے ہیں)۔ مذکورہ بالا قول کسی کا بھی ہو مگر ہے بہت شاندار۔ کیونکہ یہ بات طے ہے کہ ترقی یافتہ ریاست بھی اپنے تمام شہریوں کو یکساں سہولتیں فراہم نہیں کر سکتی۔ ریاستوں کی اکثریت میں تو خیر عوامی اکثریت کو بھی بنیادی سہولتیں میسر نہیں لیکن جو فلاحی ریاستیں ہونے کی دعوے دار ہیں وہاں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ یا علاقہ بنیادی سہولتوں سے باہر رہ جاتا ہے۔ مثلاً میں نے معیارِ زندگی کے عالمی جائزوں میں ہمیشہ اول یا دوم آنے والے کینیڈا میں ٹورنٹو یونیورسٹی کے باہر نیٹیو انڈینز کو فٹ پاتھ پر سوتے یا کسی ستون کے سہارے بے سہارا بیٹھے دیکھا۔

مگر اس میں ریاست کا بھی کوئی قصور نہیں۔ ریاست بھلے جتنی بھی ایماندار ، دلدار اور جذبہِ فلاح سے مالامال ہو اس کا ڈھانچہ کچھ اس طرح کا ہے کہ سو فیصد لوگوں کو آسودہ رکھنا ممکن نہیں۔ جو ریاستیں اپنے نوے فیصد تک لوگوں کو بھی آسودہ رکھ پا رہی ہیں اس کے پیچھے بھی کروڑوں لوگوں کی ایماندارانہ محنت ہے۔ ویسے بھی ریاست لوگوں کے اجتماعی فخر کے اظہار کے سمبل کے سوا اور کیا ہے۔ یہ الگ بات کہ جب کسی ریاست کو کوئی استحصالی اقلیت یا سوٹڈ بوٹڈ چور یا ڈاکو ہائی جیک کرلیں تو وہی ریاست ایک مراعات یافتہ اقلیت کی جنت کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ریاست کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی زندگی میں خود کوئی بہتری لانے کے لیے سوچنا چاہیے۔

جہاں ریاست کسی بھی خامی، غفلت یا کم مائیگی کے سبب نہ پہنچ سکے وہاں سے انفرادی ذمے داری کا سفر شروع ہوتا ہے۔ مگر یہ بات کبھی اکثریت کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اکثریت بیشتر وقت کسی معجزے ، کرامت یا نجات دھندہ کا انتظار کرنے میں مرتی کھپتی رہتی ہے۔ البتہ اسی ریوڑ میں سے کچھ لوگ ذرا الگ ہٹ کر سوچتے ہیں تو پہلے پہل پاگل ، سنکی اور پھر نجات دھندہ اور دیوتا کہلانے لگتے ہیں۔ یہ دنیا شائد ایسے ہی پاگلوں کے بل پر چل رہی ہے جنہوں نے کبھی ریاست یا غیبی مدد کا انتظار نہیں کیا اور بساط بھر کر گذرے۔ آپ پہیے ، چھاپے خانے ، سلائی مشین، دخانی انجن ، بلب ، اینٹی بائیوٹک ، ریڈیو ، ٹی وی ، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ ، موبائیل فون ، مصنوعی کھاد سمیت انسانی ارتقا و ترقی کا دھارا موڑنے والی ایک بھی ایسی ایجاد بتا دیں جو ریاستی سرپرستی میں ہوئی ہو۔ریاست ایجادات و تحقیق کو اپنے اچھے برے مقاصد کے لیے استعمال تو کر سکتی ہے مگر خود سوائے ستم و کرم کے کچھ ایجاد نہیں کر سکتی۔

اس لایعنی اور طویل تمہید کے بعد آتے ہیں فرد کی طاقت کی جانب۔ یعنی ایک فرد جس کے پاس کوئی وسیلہ یا بہت زیادہ تعلیم بھی نہ ہو وہ کیسے تبدیلی لا سکتا ہے۔ اپنے اندر چھپے ہوئے ایدھی ، مدر ٹریسا اور روتھ فاؤ کو کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ اب میں بات نہیں کروں گا ایمبولینس دادا کی کہانی سناؤں گا۔ کریم الحق عرف ایمبولینس دادا مغربی بنگال کے ضلع جلپائی گڑی کے دھالا باری گاؤں میں رہتا ہے۔علاقے کی آبادی کا گذارہ چائے کے باغات میں مزدوری یا چھوٹی موٹی کسانیت پر ہے۔ کریم بھی چائے باغ میں مزدوری کرتا ہے۔ اس کی تنخواہ پانچ ہزار روپے ہے۔ گاؤں سے بنیادی مرکزِ صحت آٹھ کلومیٹر اور جلپائی گڑی ڈسٹرکٹ اسپتال پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شہر تک رسائی کے تمام راستے یا تو کچے یا پتھریلے یا جو پختہ ہیں ان میں بھی بڑے بڑے گڑھے ہیں۔ کسی حاملہ عورت کے لیے ایمبولینس کا شہر سے آنا ایک خواب ہے۔ آ بھی جائے تو پورا ایک دن لگتا ہے۔ لہذا اس کا آنا نہ آنا برابر ہے۔

پندرہ برس پہلے کریم الحق کی ماں بیمار ہوئی اور اس سے پہلے کہ کریم اسے لے کر اسپتال پہنچ پاتا وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔اس دن کریم الحق نے عہد کیا کہ اب وہ کسی کو اس لیے نہیں مرنے دے گا کہ وہ اسپتال نہ پہنچ پایا۔ کچھ دن بعد چائے کے کھیت میں اس کا ساتھی مزدور عزیز اچانک چکرا کے گر پڑا۔ کریم نے باغ کے مینیجر سے کہا کہ اگر وہ اپنی موٹر سائیکل کی چابی دے دے تو میں عزیز کو اسپتال پہنچا سکتا ہوں۔ مینیجر نے پس و پیش کے بعد چابی دے دی اور کریم اپنے ساتھی کو بقول ڈاکٹروں کے بروقت اسپتال پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔یہاں سے کریم الحق کو خیال آیا کہ موٹرسائیکل کو بھی تو بطور ایمبولینس استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نے قرضے پر ایک موٹر سائیکل خریدی ، فیصلہ کیا کہ آدھی تنخواہ اپنے اخراجات کے لیے اور آدھی ایمبولینس کے پٹرول کے لیے وقف کرے گا۔

آج تک کریم الحق اپنی موٹرسائیکل ایمبولینس سروس کے ذریعے اپنے اور اردگرد کے بیس دیہاتوں کے لگ بھگ پانچ ہزار مریضوں اور زخمیوں کو اسپتال تک پہنچا چکا ہے۔ ضلعی حکومت نے ایک بار اسے چند ہزار روپے دیے اس کے سوا کوئی سرکاری امداد نہیں ملی۔ البتہ ریاست نے اسے بھارت کے اصلی ہیروؤں کی صف میں ضرور شامل کر لیا ہے۔ اربوں روپے کا کاروبار کرنے والے بجاج موٹرز نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کریم الحق کی موٹرسائیکل ایمبولینس پر بارش سے بچاؤ کا کور اور دائیں بائیں دو آکسیجن سلنڈرز رکھنے کے پائیدان بنوا دیے ہیں۔

کریم الحق نے اس دوران ایک ڈاکٹر سے فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ بھی لے لی تا کہ راستے میں یا کسی گھر میں ایمرجنسی کی صورت میں وہ بروقت مدد کر سکے۔اپنی سالانہ چھٹی کریم الحق اردگرد کے جنگلوں میں بسنے والے قبائلیوں کے ساتھ گذارتا ہے اور جو فرسٹ ایڈ کی تربیت لینا چاہے اسے تربیت دیتا ہے۔
کریم الحق آج بھی موٹر سائیکل کی قسطیں ادا کر رہا ہے۔ لیکن گلوکارہ نیہا نے اسے تین دن پہلے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اب نئی موٹرسائیکل لے سکے گا۔ ایک مخیر نے اسے باقاعدہ ایمبولینس عطیہ کرنے کی بھی پیش کش کی مگر کریم الحق کا کہنا ہے کہ چار پہیوں والی گاڑی کی اس علاقے کے ٹوٹے پھوٹے راستوں پر ہر جگہ رسائی نہیں ہو سکتی لہذا موٹرسائیکل ایمبولینس ہی زیادہ کارآمد ہے۔

یہ بتائیے کہ اگر کریم الحق بھی کروڑوں دیگر کی طرح ریاست کا انتظار کرتا رہتا تو پانچ ہزار میں سے کتنے مریض بروقت اسپتال پہنچ پاتے۔ آپ کا جو بھی پیشہ ہو ، آپ کی جتنی بھی آمدنی ہو ، آپ کے جتنے بھی ذاتی مسائل ہوں۔ آپ چاہیں تو اس بوجھ کے باوجود اپنی اور دوسروں کی زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بات ہے آئیڈیے کی ، بات ہے جذبے کی۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے ’’اندھیرے کو بیٹھے بیٹھے کوسنے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک شمع روشن کر دو اور اس سے بھی زیادہ اتم کام یہ ہو گا کہ اس شمع کو مسلسل روشن رکھنے کے بارے میں سوچو‘‘.

وسعت اللہ خان

بیچارا انقلاب

انقلاب پریشان ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ نے انقلاب کو پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا ہے کیونکہ اس مارچ کے دوران نواز شریف کی زبان پر بار بار انقلاب کا ذکر آتا رہا۔ جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوران تقاریر میں نواز شریف نے خود کو بڑا نظریاتی انسان قرار دیا اور لاہور پہنچ کر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئین کو بدل ڈالیں گے۔ انقلاب پہلی دفعہ پریشان نہیں ہوا۔ تین سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو یہ دونوں اصحاب بھی انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دونوں اپنے اپنے کنٹینروں پر چڑھ کر انقلاب کی باتیں کرنے لگے تو نواز شریف نے ان کے مارچ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

پھر یہ مارچ دھرنے میں بدل گیا۔ دھرنا کامیاب نہ ہو سکا اور انقلاب کا ذکر ختم ہو گیا۔ تین سال کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ شروع کیا تو یارانِ نکتہ داں نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مارچ کا مقصد بڑا واضح تھا وہ نواز شریف کی حکومت گرانے اسلام آباد آئے تھے لیکن نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور کی طرف مارچ کا کیا مقصد ہے؟ وفاق میں بھی اُن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی اُن کی حکومت اُن کا مارچ کس کے خلاف ہے؟ نواز شریف کی تقاریر سے واضح ہو گیا کہ اُن کا مارچ سپریم کورٹ کے خلاف تھا اور لاہور میں اُن کی تقریر سے یہ اشارہ ملا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین میں کچھ تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کا تعلق آئین کی دفعہ 62، 63 اور 184 سے ہو گا تا کہ آئندہ سپریم کورٹ کسی رکن پارلیمنٹ کو بے ایمان یا جھوٹا قرار دے کر نااہل قرار نہ دے سکے۔ نواز شریف نے لاہور کی تقریر میں کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کی تجاویز سے متفق ہیں اور اُن کی جماعت ان تجاویز پر عملدرآمد کی حمایت کرے گی۔ نواز شریف بھول گئے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے نااہل قرار دلوایا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے کوئی غلط بات نہیں کی لیکن جب اسی چیئرمین سینیٹ نے چند ماہ قبل یہ شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم اور اُن کے وزراء ایوان بالا کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تو نواز شریف کیوں خاموش رہے؟ چیئرمین سینیٹ نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ یہ باتیں پچھلے تین سال سے کر رہے ہیں لیکن نواز شریف نے پہلی دفعہ اُن کی تائید کی ہے کیونکہ اب نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف بھول گئے کہ جس شام اُنہوں نے چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اُسی شام پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی چنیوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 2007ء میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ اعتراف کر لیا تھا کہ مشرف کے ساتھ این آر او اُن کی غلطی تھی۔ وہ عالمی سطح کی لیڈر تھیں لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ اُنہوں نے آخری ملاقات میں مجھ ناچیز کو یہ کہہ دیا کہ این آر او کے متعلق آپ کی رائے درست تھی یہ این آر او محض ایک دھوکہ تھا میری رائے غلط نکلی۔

ایک غلطی کے اعتراف نے میری نظروں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قد بہت بلند کر دیا لیکن نواز شریف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں اُنہوں نے خفیہ اداروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے جو کردار ادا کیا وہ غلط تھا۔ نواز شریف یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ محض انقلاب کا لفظ اپنی زبان پر لا کر پیپلز پارٹی کو اپنے دام الفت میں پھنسا لیں گے۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب کی نہیں بلکہ ردِّ انقلاب کی علامت ہے۔ اس پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف میں گھسنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں پہلے ہی ردِّ انقلاب کی بہت سی علامتیں اکٹھی ہو چکی ہیں لہٰذا وہاں نئے آنے والوں کے خلاف ایک بڑی مزاحمت سر اُٹھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون پیپلز پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دے گا اس لئے فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر انقلاب لانے کا خیال کسی سراب سے کم نہیں۔

انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان، آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظریے پر عملدرآمد اوپر سے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ انقلابی نظریہ اوپر والے لے کر نہیں چلتے بلکہ نیچے والے اوپر لے کر جاتے ہیں۔ انقلابی نظریے کی علامت چے گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ لگا دے تو اُس کی بات پر کون یقین کرے گا؟ فرانس، روس، چین اور ایران کے انقلابات کی تاریخ اٹھا لیں۔ یہ انقلابات نچلے اور متوسط طبقے نے امیر طبقے کے خلاف برپا کئے۔ انقلابی نظریہ پرولتاری طبقے میں پیدا ہوا سرمایہ داروں میں پیدا نہیں ہوا۔ ذرا غور تو فرمایئے! آج کل کون کون انقلاب کی بات کر رہا ہے؟ چشم تصور سے سوچئے کہ انقلاب کتنا پریشان ہو گا۔ فرانس، روس، چین اور ایران کا انقلاب تاریخ کی کتابوں میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا نام اُن لوگوں کی زبان پر کیوں آنے لگا جو ہمیشہ میرا راستہ روکتے رہے؟ انقلاب یہ سوچ رہا ہو گا کہ آج میں اُن کا محبوب کیسے بن گیا جو ہمیشہ ضد انقلاب تھے؟

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے ذریعے یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ نااہل ضرور ہوئے لیکن اُن کی سیاست ختم نہیں ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ میں پنجاب پولیس کھلم کھلا اُن کے جلسوں کے انتظامات کر رہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن اُن کی عدلیہ مخالف تقاریر بھی نشر کر رہا تھا لیکن سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب پولیس نہیں ہو گی۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی زبان سے انقلاب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ تینوں میں سے کسی کا کردار انقلابی نہیں ہے۔ انقلاب آئین میں تبدیلی سے نہیں پورے سیاسی نظام کی تبدیلی سے آتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی بقاء وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الحال اس نظام کو چلنے دیں اور قوم کو انقلاب کا فریب نہ دیں کہیں انقلاب مزید پریشان ہو کر قوم کے دماغ میں نہ گھس جائے پھر کسی کی خیر نہ ہو گی۔

حامد میر

چين بھارت کی جنگ میں پاکستان کا ردِعمل کیا ہو گا ؟

حال ہی میں انڈیا کے فوجی سربراہ جنرل بیپن راوت نے کہا تھا کہ انڈین فوج ڈھائی محاذوں پر جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ بیپن راوت کے اس بیان پر انڈیا سمیت ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کی میڈیا میں بھی کافی توجہ دی گئی تھی۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا تھا کہ بیپن راوت نے چین، پاکستان اور انڈیا میں فعال باغی گروہوں سے جنگ جیتنے کی بات کہی تھی۔ پاکستانی میڈیا میں بھی بیپن راوت کا یہ بیان شہ سرخیوں میں آیا تھا۔ خیال رہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ دو ماہ سے ڈوكلام سرحد پر کشیدگی ہے۔ چینی میڈیا میں جنگ کی دھمکیاں مسلسل جاری ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ڈوكلام سرحد کی خلاف ورزی کی ہے۔

چین یہ بھی کہہ چکا ہے کہ انڈیا اپنے فوجیوں کو واپس بلا لے جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ چین وہاں سڑک کی تعمیر کا کام بند کرے۔ چینی میڈیا میں ہندوستان کو 1962 کی جنگ کی یاد دلائی جا رہی ہے جس میں انڈیا کو بری طرح سے شکست ہوئی تھی۔ کیا ہندوستان کو لگتا ہے کہ اگر چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو اسے پاکستان سے بھی لڑنا پڑے گا؟ ذرا غور کریں کہ سنہ 1962 کی انڈیا چین جنگ میں پاکستان کا کردار کیا تھا؟ کیا تب بھی پاکستان نے چین کا ہی ساتھ دیا تھا؟ اگر اب انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟

آزادی کے بعد انڈیا کی تمام جنگوں کے گواہ سینیئر صحافی کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘میں اس وقت لال بہادر شاستری (جو نہرو کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم بنے) کے ساتھ کام کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر چین کے ساتھ 1962 کی جنگ میں پاکستان ہمارے ساتھ آ جاتا تو ہم جنگ جیت جاتے۔ ایسے میں وہ ہم کشمیر بھی مانگتے تو ان سے نہیں کہنا مشکل ہو جاتا۔ انڈیا نے پاکستان سے مدد نہیں مانگی تھی، لیکن مدد کی توقع ضرور رکھتے تھے۔’ انھوں نے مزید بتایا کہ لال بہادر جی نے ان سے کہا تھا کہ ‘اس صورت حال میں میں نے ایوب خان سے پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی مدد کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اور اس جنگ میں پاکستان انڈیا کے ساتھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے میں نے جناح سے پوچھا تھا کہ اگر انڈیا پر کوئی تیسری طاقت حملہ کرتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم انڈیا کے ساتھ ہوں گے۔ ہم ساتھ مل کر ڈریگن کو بھگا دیں گے۔ اس معاملے میں ان کا موقف بالکل واضح تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم دونوں بہترین دوست ہوں گے۔ جناح کہتے تھے کہ جرمنی اور فرانس میں اتنی لڑائی ہوئی تو کیا وہ دوست نہیں ہوئے۔’

پاکستان امریکہ کے دباؤ میں تھا؟
تو کیا چین انڈیا جنگ میں پاکستان غیر جانبدار تھا ؟ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں پروفیسر سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘اس وقت پاکستان پر محمد ایوب خان کی حکومت تھی۔ پاکستان امریکہ کے کافی دباؤ میں تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر کافی دباؤ ڈالا تھا کہ وہ انڈیا چین کے فرنٹ پر کچھ نہ کرے ۔ ‘ پروفیسر پانڈے بتاتی ہیں کہ اس وقت پاکستان نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ اس پر امریکہ کا دباؤ تھا۔ سنہ 1962 میں سرد جنگ کی آہٹ جنوبی ایشیا میں محسوس کی جا رہی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘پاکستان اور امریکہ میں دفاعی معاہدہ ہو چکا تھا اور وہ ویسٹرن الائنس نظام کا بھی حصہ بن گیا تھا۔ امریکہ نے 1962 کی جنگ میں انڈیا کی مدد کی تھی لہٰذا یہ بہت ممکن ہے کہ اس نے پاکستان کو روکا تھا۔’

1962 کی جنگ کو 55 سال ہو گئے ہیں۔ کیا اتنے سال بعد بھی انڈیا اور چین کی کشیدگي میں پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘اس وقت بھی پاکستان میں یہی احساس تھا کہ چلو انڈیا کو چین اچھی طرح سے شکست دے رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں فرائیڈے ٹائمز کے مالک بی آر شیٹی انڈیا کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں انڈیا اور پاکستان دوستی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔’ نیر مزید کہتے ہیں: ‘اب انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کی صورت بنتی ہے تو پاکستان کھل کر انڈیا کے خلاف ہو گا۔ وہ جو بھی کر سکتا ہے کرے گا۔ پاکستان دوسرا مورچہ کھول کر سامنے آئے اس پر تو مجھے شبہ ہے، لیکن وہ چین کی مدد کرے گا۔

انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ چین کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو پاکستان اس کی طرف نہیں ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان پر اتنا دباؤ برقرار رکھے کہ وہ غیر جانبدار رہے۔’ جبکہ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ’55 سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ پوری دنیا کی سیاست بدل گئی ہے۔ پہلے جو طاقت کا توازن تھا وہ آج نہیں ہے۔ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مختلف مسئلہ ہے اور چین کے ساتھ انڈیا کا مختلف مسئلہ ہے۔’

پاکستان چین دوستی انڈیا کے لیے باعث تشویش؟
پروفیسر پانڈے نے کہا: ‘پوری دنیا اس بات کو سمجھتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی انڈیا کے تعلق سے ہی ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے دو سرحدوں پر جنگ لڑنا کافی مشکل کام ہے۔ پاکستان کے رشتے تین محاذوں پر خراب ہیں۔ وہ انڈیا کے علاوہ ایران اور افغانستان سے بھی دوچار ہے۔ فوج کے سربراہ نے خواہ کوئی بیان دیا ہے، لیکن دو محاذوں پر جنگ لڑنا آسان نہیں ہے۔’
اب پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان اور چین کے رشتے بھی کافی گہرے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات مبینہ طور پر خراب ہیں۔ ایسے میں کیا 1962 کی طرح 2017 میں بھی پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ سوتا پانڈے کہتی ہیں: ‘ہم جب بھی جنگ یا کشیدگی کی بات کرتے ہیں تو بیرونی طاقت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ بیرونی طاقت کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان امریکہ کے دباؤ میں آ کر کچھ نہیں کرے گا۔ پھر بھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان پر امریکہ کا اثر ہے۔’

دو محاذوں پر جنگ کس قدر مشکل؟

انڈیا نے 1962 کے بعد 1965 کی جنگ لڑی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں کہ ‘پاکستان نے یہ سوچا تھا کہ ہندوستانی فوج کا حوصلہ پست ہے اور ایسے وقت میں حملہ کیا تو انڈیا کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ پاکستان کا یہ اندازہ بالکل غلط تھا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔’ پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ 1965 کی جنگ پاکستان کے لیے عبرت تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب پاکستان براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار کو ترجیح دیتا ہے۔ تو کیا 1962 کی جنگ سے ہی پاکستان کو تحریک ملی تھی کہ وہ انڈیا کو ہرا سکتا ہے؟

اس کے جواب میں پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ اس دلیل میں دم ہے اور پاکستان نے ایسا سوچا تھا۔ انھوں نے کہا: ‘پاکستان کو لگا تھا کہ یہ اچھا موقع ہے اور وہ کشمیر میں اتھل پتھل کرا سکتا ہے۔ 1962 میں پاکستان اور چین کے تعلقات ویسے نہیں تھے جیسے آج ہیں۔ 1962 کی لڑائی کے بعد ہی پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ 1963 میں پاکستان نے انڈیا کے علاقے چین کے حوالے کر دیے تھے۔ 1962 کی جنگ کے بعد ہی پاکستان اور چین کے درمیان دوستی بڑھی تھی۔’
پاکستان میں چین کی جس طرح موجودگی ہے ایسی صورت میں کیا دونوں ممالک حالت جنگ میں ساتھ نہیں آئیں گے؟ جے این یو کے جنوبی ایشیائی سٹڈیز کے پروفیسر پی لاما کہتے ہیں: ‘پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک اور قراقرم ہائی وے کا جو تعلق ہے اس کا انڈیا مخالف ہے۔ انڈیا کی مخالفت اس لیے ہے کہ چین نے بغیر انڈیا کی اجازت کے کے او پی سے راستہ بنا لیا تھا۔’

رجنیش کمار
بی بی سی ہندی، دہلی

سانحہ 17 اگست : جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی حادثہ یا سازش ؟

17 اگست 1988ء کو اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور میں ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے طیارے C-130 میں سابق جنرل اختر عبدالرحمن اور امریکی سفیر رافیل سمیت 30 افراد سوار تھے جو سب کے سب راہی اجل ہوئے۔ اس وقت کے امریکی ترجمان فلس اوکلے کے مطابق طیارہ بہاولپور میں تقریباََ 4:30ََ منٹ پر یعنی پرواز کے دس منٹ بعد تباہ ہو گیا۔ سب لوگ بہاولپور میں ایم ون ٹینک کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد واپس راولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے تو حادثہ پیش آگیا۔

پاکستانی سرکاری بیان کے مطابق طیارہ فضا میں 4 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی کریش کر گیا۔ ایک چشم دید گواہ کے مطابق اس سہ پہر فضا میں طیارے میں سے دھواں بلند ہوا اور پھر وہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حادثے کے بعد دس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور جائے حادثہ سے ملنے والی ضیاء الحق کی باقیات کو فیصل مسجد اسلام آباد میں دفنایا گیا۔ اس وقت کے امریکی نائب صدر بش نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ صدر ضیا ہمارے دوست تھے اور ان کی موت ایک المیہ سے کم نہیں ہے‘‘۔ جائے حادثہ پر امریکی فرانزک ماہرین نے تحقیقات بھی کیں۔ اس دور میں بعض افراد نے کہا کہ طیارے کو ایک سازش کے تحت فضا میں تباہ کیا گیا ، کچھ نے کہا کہ اس میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔

طیارے میں سوار بعض افراد پر بھی شک کیا گیا کہ وہ بھی خود طیارے کی تباہی کی سازش میں ملوث تھے لیکن ان کے بھی کریش میں جاں بحق ہونے کے بعد مزید تحقیقات ممکن نہ رہیں اور فائل بند کردی گئی ۔ کچھ عرصے بعد ایکسپلوڈنگ مینگوز کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی لیکن مصنف کسی واضح سازش کی طرف نہ پہنچ سکا ۔ یہ ضرور تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہوا تھا کیوں کہ ہائی پروفائل طیارے کا حادثہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اسے صرف تکنیکی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ایجنسی موساعد کا نام بھی لیا گیا۔ ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ پاکستان نے افغان جنگ میں روسی مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا اس لئے روس بھی ضیاالحق کیخلاف سازش کر سکتا ہے ۔

مذہبی جماعتیں افغان جنگ کی وجہ سے ان کے قریب ہوئیں اور پاکستان امریکی مدد کے ساتھ روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اسی افغان جنگ سے پھر طالبان نکلے اور انہوں نے کچھ عرصہ بعد افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ’’ ان کے والد کا طیارہ کریش ہونا بہت بڑی سازش تھی‘‘ ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضیاالحق کے کئی اقدامات سے ان کے بہت سے عالمی اور مقامی دشمن پیدا ہو چکے تھے۔ ضیا الحق 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کوختم کر کے برسر اقتدار آئے تھے، انہوں نے90 دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ ایفا نہ ہو سکا۔احتساب کا نعرہ لگا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔

نظریہ ضرورت بھی اسی دور میں سامنے آیا جس کے تحت عدالت عظمیٰ نے ان کی حکومت کو جائز قرار دے دیا تھا ۔ بھٹو کو پھانسی دے کر انہوں نے اپنے ممکنہ سیاسی حریف سے چھٹکار تو پا لیا لیکن اس سے خود ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔ مارشل لا ء کے نفاذ کے بعد جسٹس یعقوب علی کو ہٹا کر ان کی جگہ پر جسٹس (ر) انوارلحق کو چیف جسٹس بنانے کیلئے (سابق) صدر فضل الہٰی پر پریشر ڈالا گیا۔ آئین میں کچھ اسلامی شقیں شامل کیں جن میں 62,63 ( صادق امین) کی شقیں آج بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے اقتدار منتخب نمائندوں کو سپرد کرنے سے پہلے19 دسمبر 1984 ء کو ایک صدارتی ریفرنڈم کرایا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعے سابق صدر کو بے پنا ہ اختیارات مل گئے۔ جن میں 58 ٹو بی بھی شامل تھی جس کے تحت صدر اسمبلی اور وزیراعظم کو برطرف کر سکتا تھا۔

ان کے دور میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے اور جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ ان کی حکومت کو 58 ٹو بی کے ذریعے ختم کیا گیا۔ سب سے اہم بات کہ اس دور میں ایٹم بم بنانے کا پروگرام جاری رکھا گیا جسے غیر ملکی طاقتوں نے اسلامی بم کا نام دیا۔ معاشی میدان میں انہوں نے بھٹو کے نیشنلائزیشن پروگرام کے برعکس کارپوریٹ پروگرام متعارف کروایا اور کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طرف توجہ دی گئی۔ان کے دور میں تحریک آزادی کشمیر کو تیز تر ہو گئی جس پر بھارت سیخ پا ہوا۔ اسی دور میں پاک بھارت تعلقات کو نارمل کرنے کیلئے کرکٹ ڈپلومیسی کا بھی آغاز ہوا ۔

حدود آرڈیننس کا اجرا بھی اسی دور میں ہوا، اور مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کیلئے بنائی جانے والی پالیسی نے معتدل طبقوں کو ناراض کیا ۔ان کے ان اقدامات سے معاشرہ میں انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ۔ اپنے دس سالہ دورا قتدار میں ضیاء الحق نے ملکی اقتدار پر بھرپور طریقے سے گرفت مضبوط کرلی تھی۔ انہوں نے ملک میں اپنے طور پر اسلامائزیشن کے لئے اقدامات اٹھائے جن کو مختلف طبقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا جھکائو عرب ممالک کی طرف زیادہ رہا اسی لئے انہوں نے نصاب میں عربی زبان کو شامل کیا۔ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انہوں نے مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کو آگے لانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ان طبقات کے ذریعے سے اپنی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔

سیاست کو دبایا گیا جس سے مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا۔ نئے مدارس بنے اور شریعہ قانون کو نافذ کیا گیا۔ کلچرل پالیسی بنائی گئی جس میں ڈراموں میں خواتین کیلئے اورخاتون نیوز کاسٹر کیلئے دوپٹہ پہننا لازمی قرار دیا گیا ۔ افغان جنگ بھی ان ہی کے دور میں ایک بڑا اہم موڑ تھا جب پاکستان ایک ایسی جنگ میں کود پڑا جس کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح پاکستان واضح طور پر روس کے خلاف امریکی کیمپ میں چلا گیا جس کے بدلے میں امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔

 طیب رضا عابدی

ہر چوتھا پاکستانی شوگر ( ذیا بیطس ) کے مرض کا شکار ہے

پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے کیے جانے والے قومی سروے 16-2017 کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔ اِس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔ قومی ذیابیطس سروے کے یہ نتائج آج صحت سے متعلق ایک کانفرنس میں منظرِ عام پر لائے گئے۔ یہ نتائج اُن اندازوں اور توقعات سے کہیں زیادہ ہیں جو پالیسی سازوں اور صحت سے متعلق افراد نے اِس بیماری کے تناظر میں لگائے تھے۔

قومی ذیابیطس سروے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان یا کسی بھی ترقی پزیر ملک میں کرایا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے جو بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ اینڈو کرائینولوجی یا بائڈ نے پاکستان کی وزارتِ صحت، پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چلنے والی ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر کرایا ہے۔ بائڈ کے پروفیسر عبدالباسط نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی کا سات سے آٹھ فیصد یعنی 70 سے 80 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہو سکتے تھے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ سنہ 2040 تک یہ تعداد 15 سے 20 فیصد تک پہنچ سکتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں آبادی کے 26 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے جو کہ پوری قوم کے لیے خطرناک ہے۔‘

قومی ذیابیطس سروے ملک کے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں اور وفاقی دارالحکومت میں کرایا گیا ہے۔ اِس سروے میں ماہر تحقیقکاروں کی سترہ ٹیموں نے حصہ لیا۔ اِس سروے میں گذشتہ سال اگست کے مہینے سے رواں سال کے دوران عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق تقریباً گیارہ ہزار افراد کے ذیابیطس کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے14.7 فیصد ذیابیطس کے نئے مریض سامنے آئے یعنی جنھیں خود نہیں معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں۔پروفیسر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ’19 فیصد سے زیادہ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں جبکہ سات فیصد سے زیادہ ایسے تھے جن میں سروے کے دوران کرائے جانے والے ٹیسٹ کے ذریعے اِس مرض کی تشخیص ہوئی۔’

قومی ذیابیطس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مزید 14 فیصد پاکستانیوں کو آگے چل کر اپنی زندگیوں میں ذیابیطس کا شکار ہوجانے کا خطرہ ہے۔ سروے کے دوران حاصل کیے جانے والے نمونوں کے مزید تجزیات کیے جائیں گے تاکہ معلوم ہو سکے اِس مرض کے تیزی سے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں اور اِس کام میں مزید چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ پروفیسر عبدالباسط کے مطابق ’اِس طرح کا آخری سروے پاکستان میں بیس سال قبل ہوا تھا جو چار سال تک چلتا رہا۔ حالیہ سروے سے یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوگی کہ پاکستان میں ذیابیطس کی وجوہات میں پیدائش کے وقت بچے کا وزن، ماں کی غذا، ڈبے کا دودھ، فکرِ معاش یا معاشرتی مسائل ہیں یا اِس کے علاوہ کون سے عوامل کار فرما ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج سامنے آنے کے بعد ملک کی صحت سے متعلق پالیسی میں تبدیلیاں کر کے سکول کی سطح پر اِس کی روک تھام کے پروگرامز چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو اِس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔

عبداللہ فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

State funeral of Dr Ruth Pfau with full national honours held in Karachi

Pakistani Army personnel and members of the Marie Adelaide Leprosy Centre transport the coffin of Ruth Pfau to an ambulance during her funeral ceremony in Karachi.

 

 

 

افغانستان ، جنگ کے بدلتے ہوئے انداز : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

افغانستان کی جنگ آزادی میں تین دہائیوں کے قلیل عرصے میں جنگ کے طریقوں میں دو مرتبہ اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔1987ء میں افغان مجاہدین نے‘ سٹنگر میزائیلوں’ کے ذریعے روسیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور اب خود کش بمباروں کے ذریعے امریکیوں کو افغانستان سے متعلق منصوبے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سٹنگرز میزائیل: 1986ءمیں روسیوں نے افغانستان میں ہیلی بورن کمانڈو بریگیڈ شامل کیا جس سے مجاہدین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس وقت امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل کرسٹ (General Crist) نے پشاور میں میرے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ وہ مجاہدین کی پسپائی اختیار کرنے پر حیران تھے۔

اس کے ایک ہفتہ کے اندر امریکی فوج کے کمانڈر جنرل وکم (Wikam General ) نے مجاہدین کے پسپا ہونے کی تصدیق کرنے کیلئے پشاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے حالات کا زمینی جائزہ لیا اور مجاہدین کو ہاتھ سے چلنے والے سٹنگر میزائیلوں کی ضرورت کے معاملے پر مطمئن ہو کر واپس چلے گئے اورجلد ہی مجاہدین کو سٹنگر میزائیل دے دیئے گئے جنہیں مجاہدین نے استعمال کیا اور روسی ہیلی کاپٹروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کے سبب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور روسیوں کو پسپا ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہ ہر لحاظ سے مناسب اور بر وقت فیصلہ تھا۔

خودکش بمبار: یہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے۔ طالبان کمانڈر ہیبت اللہ کے بیٹے عبدالرحمن خالد کی قیادت میں خود کش بمباروں کے دستے نے بارود بھری امریکی (Humvy) پر بیٹھ کر خود کش حملہ کر کے مدافعت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اس کارروائی نے نوجوان حریت پسندوں کو نیا ولولہ عطا کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کریں گے۔ ذرا سوچئے کہ اگر خود کش بمباروں سے بھری ہوئی نصف درجن ایسی گاڑیاں کسی ٹھکانے پر حملہ کر دیں تو دفاعی فوجوں کی ہمت اور حوصلے کو توڑ کر رکھ دیں گی اور جب وہ بھاگیں گے تو ان کے پیچھے درجنوں خودکش بمبار ان کا تعاقب کر رہے ہوں گے اور اس طرح ایک کے بعد دوسرے حصار ٹوٹتے جائیں گے۔ اب ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں نے ان خطرات کو بھانپ لیا ہے اور افغانستان سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

دراصل امریکہ اور اس کے اتحادی 2010ءمیں مکمل طور پر شکست کھا چکے تھے لیکن ان میں روسیوں کی طرح شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنا نمائندہ رچرڈ آرمیٹیج جو کہ افغانستان کے سینٹ کی کمیٹی کے سربراہ تھے’ انہیں میری طرف بھیجا تا کہ افغان مجاہدین کے ساتھ بات چیت کی راہ نکالی جائے۔ (رچرڈ آرمیٹیج وہی شخص ہیں جنہوں نے 9/11 کے بعد جنرل مشرف کوسخت دھمکیاں دیں اور انہیں افغانستان کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کیلئے امریکہ کے سات مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا)۔ ہم نے ملا عمر سے رابطہ کیا اور ان کی جانب سے اشارہ مل چکا تھا اور انہوں نے امریکیوں سے بات چیت کیلئے ایک پانچ رکنی وفد بھی تیار کر لیا تھا لیکن اسی دوران واشنگٹن میں کچھ ایسی سازش بنی کہ پینٹاگون نے رچرڈ آرمیٹیج کو روک دیا ’جنہوں نے کرنل امام اور خالد خواجہ کے اغوا اور قتل کے بعد ہمارے ساتھ رابطے ختم کر دیئے۔ 2010ء سے امریکہ اور اس کے اتحادی ”سامنے نظر آتی ہوئی شکست کو فتح میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں“ لیکن ملا عمر کے پرعزم مطالبے کی وجہ سے اس سلسلے میں انہیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی۔

ملا عمر نے کہا تھا کہ: ”افغانستان سے نکل جاو اور ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دو۔“ ایسا بہر صورت ہونا ہی تھا جیسا کہ میں نے بھری محفل میں جنرل مشرف کی جانب سے افغانستان کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ”طالبان پھر سے منظم ہو کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنے ملک کی مکمل آزادی تک جنگ لڑیں گے’ وہ جیتیں گے اور امریکہ اوراتحادی ہار جائیں گے۔“ میری اس بات پر سب حاضرین طنزاً ہنس پڑے تھے مگر آج وہ خود اپنے آپ پر ہنس رہے ہوں گے۔ لہٰذا اب امریکہ کے ممتاز تجزیہ کار اور پالیسی ساز حلقوں کی جانب سے ”افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی تبدیل کرنے“ کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔

•افسوسناک بات یہ ہے کہ 16 سالوں تک خزانے لٹانے اور اتنا بیش بہا خون بہانے کے باوجود محفوظ اور پرامن افغانستان کے خواب کی تکمیل کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

•”ہم افغانستان میں اس وقت تک ہرگزکامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہمیں پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل نہ ہو۔“ (جنرل ڈیون فورڈ’ امریکی جوائنت چیف آف سٹاف۔)

• ”وائیٹ ہاوس کواب اس امر کا ادراک کرلینا چاہیئے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج سالانہ 23 بلین ڈالر سے زائد اخراجات کر رہی ہے لیکن اس کے مقابلے میں امریکی مفادات کا تحفظ بہت کم ہے۔ ایک ناکام جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو بڑھانا کسی طور سودمند فعل نہیں ہے۔ امریکی فوج ماضی کی کارروائی ہی دہرا رہی ہے لیکن توقع مختلف نتائج کی ہے۔“

•”امریکی پالیسی سازحلقوں نے بالآخر افغانستان کے بارے منصوبے تبدیل کرنے کی ضرورت کا ادراک کر لیا ہے جو پچیس سالوں سے ایک ہی پالیسی پر گامزن ہیں اور توقعات مختلف نتائج کی رکھتے ہیں۔“ یہ عقلمندی کی علامت ہرگز نہیں ہے کہ آپ بار بار ایک ہی جیسی کاروائیاں کرتے رہیں اور توقع مختلف نتائج کی رکھیں۔“

•”اگر امریکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ کر کے انہیں آزاد کرانا چاہتا ہے تو قبل اس کے کہ دہشت گردوں کا صفایا ہو ’اسے اپنی فوجوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے“ اور افغانستان کی سرزمین افغانیوں کےلئے تنگ نہ ہو گی۔

• ”پاکستان کیلئے تزویراتی گہرائی کا مطالبہ طالبان کے‘ غیر ملکی فوجوں کے انخلاء اور افغان (پاکستان) پختونوں کوغیر ملکی دباو سے آزاد باعزت زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے’ برحق ہے۔ اگرچہ یہ بہت ہی مشکل فیصلہ ہے لیکن بدترین اقدامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔“

امریکہ کو اب ہمارے تزویراتی گہرائی کے نظریے کی حقیقت کا ادراک ہوا ہے کیونکہ افغانستان میں تحریک آزادی اب عروج پر ہے اور اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان 1988ء کی طرح باہمی اتحاد سے خطے میں مسلم ممالک کا تزویراتی محور بنا سکتے ہیں اور تمام زاویوں سے تزویراتی سلامتی کے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ 25 اگست 1988ء کو نیا چیف آف آرمی سٹاف بننے پر میں نے اپنے سینئر افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”ہم اسلام کے غلبے اور جمہوری اقدار کی ترویج کا سورج طلوع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان، ایران اور افغانستان تینوں ممالک باہم متحد ہو کر آزاد، مستحکم اور پرعزم انداز سے مشترکہ منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک باہمی اتحاد سے طاقت کے ایک مرکز کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہی اتحاد عالم اسلام کی تزویراتی گہرائی کا نظریہ ہے۔“

یہ ایسا نظریہ ہے جسے بہرصورت حقیقت کا روپ دھارنا لازم ہے۔ ”اس نظریے کے خلاف ہمارے دشمنوں سے زیادہ ہمارے اپنے آستین کے سانپوں نے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ یہ ہے وہ خواب جسے شرمندہ تعبیر ہونا ہے تاکہ ”افغانستان سے غیر ملکی فوجو ں کے انخلاء کا ہمارا مطالبہ پورا ہو سکے اور ہم غیروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے آزاد باعز ت زندگی گزار سکیں۔ ہمیں توقع رکھنی چاہیئے کہ ہماری حکومت اس اہم مسئلہ کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین ہدف سمجھتے ہوئے، شرمندہ تعبیر کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرے گی۔ اس خواب کی تعبیر ملکی دفاع کی سب سے اہم حقیقت ہو گی۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

آزادی کو کیا سمجھتے ہو ؟

ہوا ، بادل ، بارش ، روشنی ، خوشبو ، خوشی ، محبت آپ محسوس کر سکتے ہیں چھو بھی سکتے ہیں مگر قید نہیں کر سکتے۔ آزادی کا بھی ایسا ہی قصہ ہے ۔ یہ کوئی برتن یا دس بائی آٹھ کا پانا یا فیتہ بند تحفہ نہیں بلکہ احساس کا نام ہے۔ ایک جانور ، ایک سال کا بچہ اور ایک نابینا بھی بتا سکتا ہے کہ آزادی فضا میں گھلی ہوئی ہے کہ نہیں۔ جہاں دلیل سے آزادی ثابت کرنا پڑ جائے سمجھ لو آزادی نہیں آزادی کا دھوکہ ہے۔ آزادی کو گلے میں اتارا نہیں جا سکتا ، گلہ آزاد ہو تو آزادی خود بخود گنگنانے لگتی ہے ، آزادی کوئی سجا نہیں سکتا کیونکہ آزادی خود ایک زیور ہے ۔ آزادی کو کوئی بےگھر نہیں کر سکتا۔ باہر تنگ ہو جائے تو وہ دل و دماغ میں گھر بسا لیتی ہے۔

مگر آزادی کے غصے سے ڈرنا چاہیے۔ وہ اپنی بے توقیری اور توہین کا انتقام غلامی کا شکنجہ کس کے لیتی ہے۔ کون سا شکنجہ ؟ جسمانی کہ ذہنی ؟ یہ بھی آزادی طے کرتی ہے ۔ آزادی کا گلہ گھونٹنا دراصل اپنا گلا گھونٹنا ہے۔ آزادی زود رنج ہے، اس کے نخرے، خرچے ، پسند نا پسند نظرانداز کرنے والوں کو آزادی بنجر تنہائی کی وادی میں دھکیل دیتی ہے اور پھر گاہے ماہے اپنی جھلک اور چھب دکھلانے کا عذاب نازل کرتی رہتی ہے۔ ہاں آزادی کو بس ایک بار منایا جا سکتا ہے بارِ دگر نہیں۔

کسی بھی ریاست اور سماج میں آزادی کی مقدار ماپنے کے کئی طریقے ہیں۔ گھٹن کے خاتمے اور کھلی فضا میں سانس لینا آزادی ہے۔ بد عقلی، اندھی منطق اور مریضانہ خود اذیتی کا پا بجولاں ہونا آزادی ہے ۔ انسانی تخیل کے پر شعوری طور پر نہ کاٹنا آزادی ہے۔ سچ بولنے پر تحفظ اور جھوٹ کا کڑا محاسبہ اور سچ کے نام پر جھوٹ تھوپنے کی حوصلہ شکنی آزادی ہے۔ بلا خوف و خطر کہنا، سننا ، اختلاف کرنا ، اختلاف کا احترام کرنا اور اختلاف کر کے بھی زندہ رہنا اور رہنے دینا ہی آزادی ہے ۔ اگر کسی باغ پر آزادی کا بورڈ لگا ہو اور وہاں صرف گلاب کو پھلنے پھولنے کی اجازت ہو تو یہ باغ نہیں گلابوں کا جنگل ہے۔

جب آزادی کے چھوٹے دائروں کو اجتماعی فلاح کے نام پر ایک بڑے دائرے میں مدغم کر کے چھوٹے دائروں کی شناخت مٹا دی جائے تو پھر بڑے دائرے میں صرف فسطائیت ہی آزاد گھوم سکتی ہے بھلے اس نے کوئی بھی چولا پہن رکھا ہو۔ بھلے اس کے تھیلے میں بہلانے والے کتنے ہی شاندار کھلونے کیوں نہ ہوں ۔بھلے اس کی ڈگڈگی سے کیسے ہی خواب بندھے ہوں۔ فسطائیت کی آزادی باقیوں کے لیے زنجیرِ غلامی کے سوا کچھ نہیں؟ جس طرح ایک ریاست میں دو بادشاہ ممکن نہیں اسی طرح ایک سماج میں یا تو آزادی راج کر سکتی ہے یا غلامی۔ دونوں میں پرامن بقائے باہمی تب ہی ممکن ہے اگر آگ اور پانی میں سمجھوتہ ہو سکے۔ اس اصول کے علاوہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ دلیلِ دلال کے سوا کچھ نہیں۔

چلیے چھوڑیے اس خشک آزادی نامے کو۔ کچھ اشعار سنیے۔

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا
یعنی میرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا

میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں، اور جواب میں
مجھ کو ہنسا دیا گیا ، مجھ کو رلا دیا گیا

میرے جنوں کو تھی بہت خواہشِ سیر و جستجو
مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا

میں نے کہا کہ زندگی ؟ درد دیا گیا مجھے
میں نے کہا کہ آگہی ؟ زہر پلا دیا گیا

خواب تھا میرا عشق بھی، خواب تھا تیرا حسن بھی
خواب میں یعنی ایک اور خواب دکھا دیا گیا

( احمد نوید )

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

آزادی کے ستّر سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان الحمد للہ آج اپنی زندگی کے اکہترویں سال کا آغاز کر رہا ہے۔ جن انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود اس ملک کے قیام کیلئے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی جدوجہد اس بنیاد پر کامیابی سے ہمکنارہوئی کہ انہیں اپنے نظریہ حیات کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے علیحدہ خطہ زمین چاہیے اور اس کے بعد سات دہائیوں کے دوران ملک کے اندر ریاستی اداروں کی باہمی کشمکش ، مقتدر طبقوں کی خود غرضیوں، بھارت کی مسلسل پاکستان مخالف پالیسیوں، کشمیر کے تنازع، ہتھیاروں کی دوڑ، تین پاک بھارت جنگوں، سقوط مشرقی پاکستان اورخطے میں امریکی پالیسیوں کے باعث ابھرنے والے دہشت گردی کے فتنے کی شکل میں جن سنگین اندرونی اور بیرونی چیلنجوں سے پاکستانی قوم نبرد آزما رہی ان کے پیش نظر پاکستان کو انسانی تاریخ کا ایک زندہ معجزہ کہنا غلط نہیں۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اپنی سحر انگیز قیادت میں بننے والے اس ملک کا ایک سال بعد ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ قائد ملت لیاقت علی خان کو طالع آزما عناصر نے پاکستان کی عمر کے چوتھے برس کی تکمیل سے پہلے ایک سفاک قاتل کی بندوق کی گولی کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا۔ انکے قتل کے اصل منصوبہ سازوں کا سراغ لگانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ۔ اسکے بعد ریاستی طاقت کے اصل مراکز پر غیرجمہوری قوتوں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی ۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں خواجہ ناظم الدین کی حکومت اور دستور ساز اسمبلی برطرف ہوئی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین نے گورنر جنرل غلام محمد کے ان اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت سے دستور ساز اسمبلی کی بحالی کا حکم ملا۔

گورنر جنرل نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی اور اس وقت کے چیف جسٹس نے گورنر کے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکم کو نظریہ ضرورت ایجاد کر کے جائز قرار دے دیا۔ نظریہ ضرورت کا آسیب اسکے بعد ہمارے نظام انصاف پر مسلسل مسلط رہا اور آئینی و جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے والی طاقتوں کو اسی بنیاد پر سند ِ جواز ملتی رہی۔ یہ صورت حال ملک میں جمہوری اور آئینی نظام کے استحکام میں رکاوٹ بنی رہی ۔ منتخب حکومتوں اور آئین مملکت کا غیر جمہوری عناصر کے ہاتھوں بار بار خاتمہ یا تعطل بنیادی قومی پالیسیوں کی مستقل بنیادوں پر تشکیل میں حائل رہا ۔ یہ کشمکش سات دہائیوں سے جاری ہے جبکہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ریاستی اداروں میں تعاون اور مفاہمت ناگزیر ہے ۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے حالیہ خطابات میں اس کشمکش کی خاصی تفصیلات موجود ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام اب تک عملاً ایڈھاک ازم یا ہنگامی بنیادوں پر چل رہا ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کیلئے مستقل قومی پالیسیاں تشکیل دینے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال پر قابو پا کر آئینی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانا اور منتخب جمہوری حکومتوں کو اپنی میعاد پوری کر نے کا موقع دیا جانا ملک کی بقا اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔منتخب حکمرانوں کو بھی من مانے اقدامات کے بجائے جمہوری معیارات کی پابندی کرتے ہوئے پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کو قرار واقعی اہمیت دینی چاہئے ۔

اس کیساتھ ساتھ ایک ایسا ہمہ گیر، بے لاگ اور خودمختار نظام احتساب تشکیل دیا جانا بھی لازمی ہے جو سیاسی حکومتوں اور قیادتوں ہی کے محاسبہ تک محدود نہ ہو بلکہ عدلیہ، انتظامیہ، فوج اور میڈیا سمیت تمام ریاستی اداروں اور زندگی کے تمام شعبوں کے وابستگان تک وسیع ہو۔ مستحکم آئینی نظام کا تسلسل ہی عوام کے بنیادی مسائل کے حل، قومی ضروریات کے مطابق مستقل اقتصادی حکمت عملی کی تشکیل، ملک کی نظریاتی بنیادوں اور عملی ضروریات کے تقاضوں پر پورا اترنے والے تعلیمی نظام کی ترویج، قومی مفادات کی محافظ خارجہ پالیسی کی تیاری اور پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کیساتھ تعلقات کے پائیدار اصولوں کے تعین کی راہ ہموار کر کے قوم کو حقیقی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ