ایم کیوایم ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہوئی؟

سال 2013 تک ایم کیوایم ایک مضبوط اور منظم ترین جماعت تھی لیکن اب بکھر رہی ہے اورعملی طور پر4 دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، یہ شہرمیں ’سیاسی انتشار‘ کی علامت ہے کیونکہ اِن دھڑوں کی خالق جماعت نے بھی ایم کیوایم (پاکستان) کے اندر کی خراب صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور تیاری کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ایم کیوایم (پاکستان) کا تھا لیکن غلط وجوہات کیلئےافراتفری اور تقسیم کی وجہ سے اپنی ہی جماعت میں مزید پریشانی پیدا کر دی گئی اور دیگر سیاسی جماعتیں آخری دھچکے کا ’انتظار‘ کر رہی ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی، جن کا کراچی کی سیاست میں کردار ہے انھوں نے اپنی مہم اور رکنیت سازی کی مہم تیز کر دی ہے۔ کراچی کےامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے بروز سوموار اعلان کیا کہ پارٹی کراچی کیلئے ایک ’متبادل منصوبہ‘ پیش کرے گی۔ لہذا اب ہر جماعت کی نظر قومی اسمبلی کی 20 یا 21 اور صوبائی اسمبلی کی 51 سیٹوں پر ہے۔

پی پی پی سندھ سے سینٹ کی 8 سے 10 نشستوں کے اضافے کیلئے پُرامید ہے۔ انھیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کے دونوں دھڑے اپنی منظوری کیلئے اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی پوزیشن بہترہے لیکن کیا ان کے پاس اتنے ایم پی ایز ہیں کہ وہ سینٹ کی کم از کم ایک یا دو سیٹیں نکال سکیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ قانونی جنگ جو بھی جیتے، ہار صرف ایم کیوایم کی ہی گی ، اور فائدہ تیسری پارٹی کا ہو گا۔ اگر ایم کیوایم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو اپنے قائد یا بانی کے بعد رابطہ کمیٹی سب سے طاقتور آرگن ہے۔

سن 1984 سے 1992 تک ایم کیوایم کے پاس سیاسی سیٹ اپ تھا اوررابطہ کمیٹی کی بجائے اس کے پاس سینٹرل ورکنگ کمیٹی، چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگرعہدیدارتھے۔ آرمی آپریشن کے بعد اس کی سینٹرل باڈی ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ رابطہ کمیٹی بنا دی گئی۔ بائیس اگست 2016 کے بعد حادثاتی طور پرایم کیوایم (پاکستان) نےایک الگ سیاسی شناخت کے ساتھ جنم لیا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پارٹی نقصان کی بھرپائی کی کوشش کی لیکن جو دبائو اس کے کنوینئر ڈاکٹرفاروق ستار پر ڈالا گیا وہ اسے برداشت نہ کر سکے۔ جب انھوں نے اور دیگر نے ایم کیوایم (پاکستان) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے نرمی کی امید کر رہے تھے۔

انھوں نے ایم کیوایم کے بانی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی اور بغاوت کرنے پر اُن کے خلاف ٹرائل کا مطالبہ کیا لیکن وہ ایم کیوایم لندن سے مبینہ تعلقات کے ’شکوک‘ زائل نہ کر سکے۔ پھر انھیں ایم کیوایم کا نام ترک کرنے کیلئے دبائو کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر وہ نئی جماعت یا گروپ بنا لیتے تو انھیں ریلیف مل جاتا۔
ایک جانب انھیں اسٹیبلشمنٹ کے چند حلقوں کی جانب سے دبائو کا سامنا تھا اور دوسری جانب حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عملی طور پر تمام اختیارات لے لیے اور میئرکراچی اور نظام کو بے اختیار بنا دیا لہذا ایم کیوایم (پاکستان) اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کے نام مقدمات اور انکوائریوں سے نکلوا سکی اور نہ ہی اپنے بے روزگار کارکنوں کو نوکریاں دلوا سکی۔ ان کے چند دفاتر کھول دیئے گئے لیکن انھیں سیکٹر اور یونٹس کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نائن زیرو سے خورشید میموریل ہال اور جناح گراؤنڈ تک سب ایم کیوایم کیلئے ’نوگوایریا‘ رہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کو اپنی خدمتِ خلق فائونڈیشن بھی آزادانہ طور پرچلانے کی اجازت دی گئی نہ ہی ’چندہ‘ جمع کرنے دیا گیا۔ سیاسی محاذ پر مرکز میں موجود پی ایم ایل اور سندھ میں پی پی پی نے ایم کیوایم سے دوری بنائے رہی اور یقین دہانی کے باوجود انھیں حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس کے باعث ایم کیوایم (پاک) کے اندر سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہو گیا اور اس کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگرعہدیداران پریشان ہو گئے۔ بعض اوقات اُن کے رہنماوں کو اُن غیر سیاسی لوگوں کی میٹنگز میں بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا، جو ایم کیوایم کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ چند ماہ میں ایم کیوایم کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز، سیکٹرز اور یونٹس نےایم کیوایم (پاک) سے پی ایس پی کی جانب اپنی وفاداریاں تبدیلی کرنا شروع کر دی یا بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔

مظہر عباس

Advertisements

راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

نقیب قتل کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے اور سیکیورٹی فراہم کرنےکا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نقیب قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کےدوران چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ راؤ انوار کو کسی نے نقصان پہنچایا تو ثبوت ضائع ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق ونگ کو رائو انوار کی طرف سے ڈاکخانے کے ذریعے خط ملا جس میں راؤ انوار نے موقف اختیا ر کیا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ رائو انوار نے لکھا کہ موقع پر موجود نہیں تھا، ملیر کے لوگوں کی خدمت کی ہے، جو بھی کیا قانون کے مطابق کیا۔

رائو انوار نے خط میں آزاد جے آئی ٹی بنانے کی بھی درخواست کی اور کہا کہ جو فیصلہ جے آئی ٹی کریگی منظور ہو گا۔ خط کی تصدیق کے لیے چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو رائو انوار کے دستخط دکھائے جس پر آئی جی سندھ نے کہا دستخط رائو انوار سے ملتے جلتے ہیں۔ آئی جی سندھ نے بھی رائو انوار کے مطالبے کی ہدایت کر دی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں۔ عدالت نے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا اور راؤ انوار کو دالت میں طلب کر لیا۔ عدالتی حکم کےمطابق ،، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا بریگیڈیر لیول کا آفیسر شامل ہو گا جبکہ ایک قابل افسر کا تعین عدالت خود کریگی۔

 

فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی نے ایک دوسرے کو فارغ کر دیا

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں ایک ہفتے سے جاری اندورنی خلفشار کا آخر کار ڈراپ سین ہو گیا۔ رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار نے ایک دوسرے کو مائنس کرتے ہوئے الزامات کی بارش کر دی۔ پہلے رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کر کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو کنوینر نامزد کیا اور تھوڑی دیر بعد فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ روز بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے بہادر آباد میں عامر خان، خالد مقبول صدیقی اور نسرین جلیل سمیت دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے دھوکے بازی کی۔

فاروق ستار پر کئی چارجز ہیں ، رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار کی کوتاہی سے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) ایک فلاحی ادارہ ہے، فارو ق ستار اس کے چیف ٹرسٹی ہیں، لیکن کے کے ایف تباہ ہو گئی، رابطہ کمیٹی کہتی رہ گئی لیکن کچھ نہ کیا گیا، پورا کراچی سمجھا جا رہا تھا لیکن فاروق ستار سمجھنے کو تیار نہ ہوئے۔

بعدازاں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی اور تمام شعبہ جات کا نمائندہ اجلاس ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا نام بحیثیت کنوینر نامزد کیا جس کے بعد کنور نوید جمیل نے اس تجویز پر اجلاس کے شرکاء سے رائے لی تو متفقہ طور پر اجلاس نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو بحیثیت کنوینر منتخب کیا۔ بعد ازاں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے اپنی سبکدوشی کے اعلان کے بعد پی آئی بی کے ایم سی گراؤنڈ میں کارکنوں کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے جوابی وار کرتے ہوئے بطور سر براہ رابطہ کمیٹی سمیت تمام تنظیمی ڈھانچے کو فارغ کر کے ان کے تمام اختیارات کو ختم کر دیا ہے اور انٹر پارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کیا۔

ایم کیو ایم میں ہونے والی توڑ پھوڑ جہاں سیاسی حلقوں میں دل چسپی کا باعث ہے وہی ایم کیو ایم کے کار کنوں، ووٹرز اور مہاجر عوام میں مایوسی اور بدلی کا باعث ہے۔ اہم سیاسی حلقوں نے ایم کیو ایم پاکستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ کراچی میں کسی بھی قیمت پر امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

فاروق ستار مشکل میں

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار واپس لینے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے بھی سبک دوش کرنے کا اعلان کر دیا. کنور نوید جمیل نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ فاروق ستار پر کئی الزامات ہیں اور ان کی غفلت کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پوری رابطہ کمیٹی نے مل کر فاروق ستار کو پارٹی رہنما بنایا تھا اور وہ 22 اگست سے پہلے بھی پارٹی کے رہنما تھے لیکن انھوں نے رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی آئین میں تبدیلی کی۔

فاروق ستار کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستارنے دھوکے سے پارٹی آئین تبدیل کر کے خود کو سربراہ بنایا اور اب فاروق ستار ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر نہیں رہے کیونکہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کےاعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے کہا کہ فاروق ستار اب ہماری پارٹی کے کارکن ہیں، اور اگر فاروق ستار اپنی اصلاح کرتے ہیں تو وہ دوبارہ کنوینر بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صورت حال کی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہے، ہماری کوشش تھی گھر کی بات گھر میں رہے۔

کنورنوید جمیل نے کہا کہ فاروق ستار پر بہت سارے الزامات ہیں، ان کی غفلت کی وجہ سے ایم کیو ایم کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن منسوخ ہوئی، بار بار توجہ دلانے کے باوجود فاروق ستار نے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ ان کی تمام تر توجہ این جی او بنانے پر رہی ہے۔ کنورنوید نے کہا کہ کامران ٹیسوری کی رابطہ کمیٹی میں شمولیت پرتمام اراکین نےاعتراض کیا تھا۔ ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بڑی مشکل سے کیا گیا ہے اور اگر اس وقت یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو پھر اگلے انتخابات کے بعد ایوان ٹیسوریوں سے بھرا ہوتا۔

Asma Jahangir, Human rights activist

Asma Jahangir was born in Lahore in January 1952. She received a Bachelors’ degree from Kinnaird College and an LLB from Punjab University. She was called to the Lahore High Court in 1980 and to the Supreme Court in 1982. She later went on to become the first woman to serve as president of the Supreme Court Bar Association. She became a democracy activist and was jailed in 1983 for participating in the Movement for the Restoration of Democracy, which agitated against military dictator Ziaul Haq’s regime. She was also active in the 2007 Lawyers’ Movement, for which she was put under house arrest. She co-founded the Human Rights Commission of Pakistan, and the Women’s Action Forum.  She received several awards, including a Hilal-i-Imtiaz in 2010 and a Sitara-i-Imtiaz. She was also awarded a UNESCO/Bilbao Prize for the Promotion of a Culture of Human Rights and an Officier de la Légion d’honneur by France. She received the 2014 Right Livelihood Award and the 2010 Freedom Award.

معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر کی عمر 66 برس تھیں، وہ 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، وہ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر بھی رہیں۔ انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو پیش ہو کر عدالت کے روبرو دلائل دیے تھے۔  ان کی ایک بیٹی لندن میں مقیم ہیں. معروف قانون دان، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر لاہور میں انتقال کر گئیں، انہیں طبیعت کی خرابی کے باعث نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔

سلطنتِ متحدہ کے زوال کے اسباب

اورنگ زیب عالمگیر کے بعد مغل سلطنت کو بکھرنے میں بارہ بادشاہ اور ڈیڑھ سو برس لگے۔ مگر سلطنتِ متحدہ تو ایک بادشاہ کے بعد ہی بہادرشاہ ظفر کی از دلی تا پالم بادشاہت ہو گئی۔ سلطنتِ متحدہ کے مطلق العنان دور میں تین مشہور بغاوتوں کے تذکرے ملتے ہیں۔ پہلی مسلح ’’حقیقی‘‘ بغاوت کو جزوی طور پر کچلا جا سکا۔ اس کے فوراً بعد دربار کے اندر ایک بغاوت پکڑی گئی جسے ولی عہد ( شہزادہ عظیم احمد طارق ) سمیت ترنت کچل دیا گیا۔ تیسری بغاوت بہت برس بعد شہزادہ عمران فاروق نے کی مگر بیل منڈہے چڑھنے سے پہلے ہی منڈی مروڑ دی گئی۔ جیسا کہ دستور ہے سلطنت ِ متحدہ کو درپیش اندرونی چیلنجوں اور محلاتی اکھاڑ پچھاڑ کے سبب سلطنت کا نظم و نسق اتنا زیر و زبر ہو گیا کہ رعایا بھی بلبلا اٹھی۔

معاملات گرفت سے مکمل طور پر نکلنے کا پہلا ثبوت مارچ دو ہزار سولہ میں سامنے آیا جب ایک بیرون ملک میں پناہ گزین شہزادہ مقامی امرا کی مدد کے سہارے پیراشوٹ کے ذریعے اترا اور اس نے مرکزی سلطنت سے مکمل ناطہ توڑتے ہوئے اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے ریاستِ کمالستان کی بنیاد رکھ دی۔
پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بائیس اگست دو ہزار سولہ کو سلطنت متحدہ کے ظلِ الہی کے جی میں جانے کیا آیا کہ اچانک سیاسی ہارا کاری کر لی۔ یوں سلطنتِ متحدہ کا پگھلاؤ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ سلطنتِ متحدہ عملاً پانچ جاگیروں میں بٹ چکی ہے۔ معزول بادشاہ لندن میں اپنی ہی تصویر تلے تصویر بنا بیٹھا ہے۔

کل تک چار دانگِ عالم میں جس کا طوطی بولتا آج اس کا طوطا بھی نہیں بولتا۔ اللہ اللہ چرخِ نیلا فام کو یہ دن بھی دکھانا تھا۔ تازہ حال قاصد یوں بیان کرتا ہے کہ سلطنتِ کا پہلا ’’حقیقی باغی شہزادہ‘‘ اپنے ہی آفاق میں گم ہے۔ معزول شاہ کی وراثت کے دعوے داروں میں سال بھر سے تخت نشینی کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ جنگ کیا ہے گویا تخت پر دال بٹ رہی ہے۔ پالم ( پی آئی بی کالونی ) میں ولی عہد ( فاروق ستار) دربار کر رہا ہے تو ڈھائی کوس پر واقع چاندنی چوک (بہادر آباد ) میں چھوٹا شہزادہ ’’ عامر ‘‘بنا ہوا ہے اور لال قلعے (نائن زیرو) پر روہیلوں ( رینجرز ) کا پہرہ ہے۔

جیسا کہ ایسے حالات میں ہوتا ہے، فوری دعوے داروں کو چھوڑ کر وہ تمام شہزادے ، شہزادیاں ، بیگمات ، امرا ، پنج ہزاری ، محافظ ، داروغہ ، خدام ، کرتب باز ، پٹے دار ، دفعدار ، توپچی ، گھڑ سوار ، بگلچی ، مشالچی ، باورچی ، ایلچی ، قاصد ، کن سوئے ، مامائیں ، اصیلائیں ، مغلانیاں ، اتالیق ، چوبدار ، آبدار ، سائس مہاوت ، گل فروش ، خواجہ سرا ، کرخندار یہاں سے وہاں بورائے بورائے پھر رہے ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں ، کوئی دیکھ نہ لے یہ سوچ کر ہر کسی کی آنکھیں گول گول گھوم رہی ہیں۔ کون کس کا ہے ، کس کی تار اندر ہی اندر کس سے جڑی ہے ، کون مخبر تو کون جانثار ، کس پے اندھا اعتماد کریں ، کس بات کا کیا مطلب لیں، ایسی دیوار کہاں کہ جس کے کان اور آنکھیں نہ ہوں۔

سیاست گئی بھاڑ میں ، یاں تو اپنے لالے پڑے ہیں، کہیں چوکھٹ سے باہر قدم رکھوں اور پیچھے کھڑا معتمد گھر کا ہی سودا کر لے ، باہر والے کے لیے شمشیر کھینچوں تو پشت میں خنجر ہی نہ اتر جائے۔ کاش دو کے بجائے تین آنکھیں ہوں تو عقب بھی سلامت رہے، یعنی وہ تمام کیفیات اس وقت ہر اس گروہ میں پائی جاتی ہیں جو سلطنتِ متحدہ کے پارچے در پارچے سمیٹنے میں غلطاں ہے۔ جب بس خواب ہی دکھائے جاتے رہیں تو تعبیر ایسی ہی نکلتی ہے۔ سلطنتِ متحدہ انیس سو چوراسی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بطن سے پیدا ہوئی تھی۔ چونتیس برس کم نہیں ہوتے، تین نسلیں لڑکپن سے ادھیڑ عمری میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ان چونتیس برسوں میں ایک قومیت پاتال سے آسمان تک پہنچائی جا سکتی ہے اور قیادت محض خواب فروش ہو تو آسمان سے پاتال تک پہنچا دیتی ہے۔ یقین نہ آئے تو چوراسی سے پہلے کی اردو قوم کا تعلیمی ، کاروباری و ملازمتی احوال دیکھ لیں اور آج تیسری نسل کی قابلیت اور اس قابلیت کی کھڑکی سے اس نسل کے مستقبل میں جھانک لیں، لگ پتہ جائے گا۔

نیوٹن کا قانونِ کشش ِ ثقل محض طبیعاتی نہیں سیاسی بھی ہے۔ نفرت جتنی تیزی سے اوپر جاتی ہے اس سے دوگنی رفتار سے ٹکڑا ٹکڑا جلتے شہابِ ثاقب کی طرح واپس آتی ہے۔ محبت آہستہ آہستہ ابھرتی ہے مگر پھر اپنے زور پر پرواز کرتی چلی جاتی ہے، نیوٹن کا یہ قانون مذہبی ، قومی ، علاقائی ، نسلی، گروہی سیاست پر برابر لاگو ہوتا ہے گر دیکھنے والی آنکھ ، محسوس کرنے والا دل اور سوچنے والا دماغ ہو تو۔ چونتیس سال کم نہیں ہوتے مگر اختیار اور کامیابی اگر باپ کی کمائی کی طرح چاروں ہاتھوں پیروں سے لٹانے کی لت پڑ جائے تو چونتیس برس بھی چونتیس ساعت کے برابر ہیں۔

ان چونتیس برسوں میں سودے بازی کی بے مثال طاقت کے سبب سندھ کی شہری آبادی کے لیے کیا کیا نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام سیاسی راستے نائن زیرو تک جاتے تھے۔ جس قیادت کے اشارے پر ایک لاکھ کا مجمع سکوت بن جاتا تھا ، جس کے ایک اعلان پر دو کروڑ کا شہر آدھے گھنٹے کے اندر جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر تھم جاتا وہ قیادت ایسی تابع فرمان رعایا سے مسائل کا کون سا ہمالیہ سر نہ کروا سکتی تھی۔ مگر چونتیس سال گویا لیاری و ملیر ندی میں بہا کر سمندر برد کر دیے گئے۔ سب سے بڑا شہر سب سے بڑا ماڈل بن سکتا تھا مگر اسے سالگرہ کا کیک سمجھ کے برت لیا گیا۔ خود کو ہی لوٹ لیا گیا، مرثیہ خانی سلطنتِ متحدہ کے قیام سے پہلے بھی تھی، سلطنت کے عروج میں کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی اور آج بھی جاری ہے۔

صورت یوں ہے کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں، کہاں جسے ٹکٹ ملتا تھا اس کی انتخابی لاٹری نکل آتی تھی، کہاں یہ عالم کہ دیکھتے ہی دیکھتے لاٹری لفنٹری اور پھر لوٹری میں بدلتی چلی گئی۔ وہ تخت جو لاکھوں لوگوں کی قسمت کے فیصلے مورچھل کے اشارے پر کرتا تھا آج اس کی قسمت کے فیصلے بچولیے سنار ، فکسر ، لقے ، سیاسی کباڑی اور کوتوالی کے سراغرساں کر رہے ہیں ۔  انیسویں صدی کے ہندوستان میں کیسی آپا دھاپی، چھیچھا لیدر اور طوائف الملوکی مچی پڑی تھی۔ وہ نظارہ کرنے کے لیے کسی ٹائم مشین میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں، کوئی بھی کن میلیا دو ہزار سترہ کے کراچی میں کہیں سے بھی دیکھ سکتا ہے کہ ہر دھڑے میں کتنے دعویدار و تعلقہ دار ہیں۔ نام پرنس لطافت علی خان کا اور فیصلے کمپنی بہادر کے مقرر کردہ ریذیڈنٹ جنرل کے۔ آج کی زبان میں ریذیڈنٹ جنرل کو پولٹیکل انجینیر کہوے ہیں۔

اب کے اس زلف میں وہ پیچ پڑا ہے کہ اسے
دستِ قدرت ہی سنوارے تو سنوارے میری جاں

وسعت اللہ خان

ایگزیکٹ ڈگری سکینڈل : انگلش اور قانون کی ڈگری صرف ایک گھنٹے میں مل جاتی ہے

سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری سکینڈل سے متعلق از خود نوٹس میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو حکم دیا ہے کہ وہ ایگزیکٹ کمپنی کے مالکان کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کا فیصلہ دو سے تین ہفتوں میں کریں۔ عدالت عظمیٰ نے ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ سمیت سات ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیا تاہم ملزم شعیب شیخ سمیت دیگر ملزمان نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس وقت تک ملک سے باہر نہیں جائیں گے جب تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
اس پر سپریم کورٹ نے ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم واپس لے لیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں اب تک کی ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈگریاں ملتی ہیں جبکہ یہاں پر صرف ایک فون کال کرنے پر ڈگری دے دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے (چیف جسٹس) نے قانون میں عبور حاصل کر رکھا ہے کیا اُنھیں اس میں بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟

اس پر ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اُنھیں تجربے کی بنیاد پر انگلش اور قانون کی ڈگری مل سکتی ہے اور یہ ڈگری بھی صرف ایک گھنٹے کے دوران مل جاتی ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ایگزیٹ کمپنی کا کسی یونیورسٹی سے الحاق ہے؟ جس پر بشیر میمن کا کہنا تھا کہ الحاق تو نہیں ہے صرف ویب پیجز ہیں۔ چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ایگزیکٹ کا کسی یونیورسٹی سے الحاق نہیں ہے تو پھر کلاس رومز بھی نہیں ہوں گے۔ ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار ڈالر میں ڈگری مل جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بھی ورچوئل یونیورسٹی ہے کیا اس کی بھی کلاسیں ہوتی ہیں؟ اس کے بارے میں عدالت کو خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایگزیکٹ کمپنی 2006 سے سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن میں رجسٹرڈ ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ اتنے عرصے سے لوگوں کے ساتھ فراڈ ہوا ہے تو پھر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر اے میمن نے عدالت کو بتایا کہ شعیب شیخ سمیت دیگر ملزمان اسلام آباد کی مقامی عدالت سے بری ہو چکے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنا ہے جس جج نے ان ملزمان کی ضمانت لی ہے وہ آپ کی برادری کے ہیں؟

اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عبدالقادر میمن ان کے رشتہ دار ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے شخص کا رشتہ دار ہونے پر اُنھیں شرمندگی ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الزام ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے اس لیے ایف آئی اے شواہد عدالت میں پیش کرے۔ جعلی ڈگریوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئیں۔ بینچ کے سربراہ نے اُن سے استفسار کیا کہ اس معاملے سے ان کا کیا تعلق ہے؟ عاصمہ جہانگیر نے جواب دیا کہ ایگزیٹ کمپنٹی کے دو نجی ٹی وی چینل ہیں جن میں سے ایک ’بول‘ اور دوسرا ’پاک نیوز‘ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ چینل جعلی ڈگریوں سے کمائی ہوئی دولت سے چلائے جا رہے ہیں، اس لیے ان کے موکل چاہتے ہیں کہ ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت سے نجی ٹی وی چینل نہیں چلائے جانے چاہییں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے کا بل امریکی ایوان نمائندگان میں پیش

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ایک بل متعارف کرایا گیا۔ اس سے قبل ایک ایسا ہی بل سینیٹ کے فلور پر بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایوان میں لائے جانے والے بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی غیر فوجی امداد بھی روکی جانی چاہیے اور اس اقدام سے بچنے والے فنڈز امریکہ کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان دہشت گردوں کو فوجی امداد اور خفیہ معلومات فراہم کرتا ہے۔

پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس کا الزام پاکستان پر ڈال رہا ہے جہاں وہ بڑھتی ہوئی شورش کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ یہ بل ساؤتھ کیرولائنا کے کانگریس مین مارک سین فورڈ اور کنٹکی کے تھامس مارسی نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ، اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ کو امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم پاکستان بھیجنے سے روکا جائے۔ اس کی بجائے یہ فنڈز امریکہ میں سٹرکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ہائی وے ٹرسٹ فنڈ کو دے دیے جائیں۔ پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق ایک ایسا ہی بل سینیٹ میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ بل پچھلے مہینے سینیٹر رینڈ پال نے متعارف کر ایا تھا۔

رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار میں اختلافات بڑھ گئے

رابطہ کمیٹی اراکین اور فاروق ستار میں اختلافات ختم نہیں ہو سکے بلکہ مزید بڑھ گئے۔ سینیٹ کی نشستوں کے لیئے رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار اپنے اپنے امیدواروں کے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ ترجمان فاروق ستار کہتے ہیں اب کاغذات جمع کرانے کے بعد مشاورت ہو گی۔ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ آپ بھی فارم جمع کرا دیں ہم بھی کرا دیتے ہیں جبکہ آپ سربراہ کو آئین دکھا رہے ہیں تو کیا دو تہائی اکثریت سے آپ سربراہ کو فارغ کرنا چاہتے ہیں؟ اور اگر دو تہائی اکثریت آپ کے پاس ہے تو جو چاہے فیصلہ آپ کر لیں۔

فاروق ستار جو اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے گھر سے نکل کر بہادر آباد جانے والا تھا ، سیڑھیاں اترتے ہوئے جیسے ہی پریس کانفرنس کا معلوم ہوا میں نے انہیں روکنے کا کہا، میں آنے کے لیے تیار تھا، منع نہیں کیا تھا، مگر پریس کانفرنس کر دی گئی، اتنی جلدی کیا تھی۔ صحافی کے سوال کے جواب میں فاروق کا کہنا تھا کہ میں نے بھی پریس کانفرنس روکنے کی پرچیاں بھجوائیں مگر نہیں روکی گئی، عامر خان کی دعوت پر بہادر آباد جانے کا فیصلہ ساتھیوں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریس کانفرنس کر کے ناموں کا اعلان کر دیا تو میرے پاس گنجائش نہیں بچی، میرا انتظار نہیں کیا گیا، سینیٹ کی سیٹوں کے لیئے ناموں کا اعلان کر کے غلطی کی گئی، جوابی پریس کانفرنس کر کے تسلیم کریں کہ جو کہا غلط کہا اور بدتمیزی کرنے والے کا نام بتائیں، جس پر نظم و ضبط کے مطابق کارروائی ہو گی۔

فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو کے دوران کینیڈا سے حیدر عباس رضوی کا فاروق ستار سے فون پر رابطہ، فون پر گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے حیدر عباس کو جھڑ ک دیا کہا کہ آپ نے بھی بہادر آباد کو سپورٹ کرنے کا کہا ہے اور کینیڈا میں بیٹھ کر پارٹی بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے بہت سارے ایسے اراکین ہیں جو سرکاری ملازم ہیں جبکہ انتخابی قوانین میں وہ کسی پارٹی کے عہدیدار نہیں ہو سکتے اور اگر رابطہ کمیٹی کے ان دس ناموں کو نکال دیا جائے تو کیا بچے گا ؟ انہوں نے کہا کہ بار بار آئین دکھا رہے ہیں، اجلاس غیر آئینی تھا کیونکہ میری اجازت نہیں تھی، پریس کانفرنس میں پہلے دن کی پوزیشن مستحکم کی گئی، تقسیم کی جانب کون لے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا فیصل سبزواری بھائی نے بہت سی کڑوی کسیلی باتیں کیں ہیں، فیصل سبزواری کی باتوں سے دل آزری ہوئی جس سے صدمہ ہوا، فیصل سبزواری کی پریس کانفرنس میں شدید غصہ، میری پریس کانفرنس میں صدمہ نظر آئے گا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میرے ذہن میں بھی آٹھ دس نام تھے، مگر آپ نے تو اعلان کر دیا کہ فارم جمع کرانے جا رہے ہیں، ہم ابھی فیصلہ کرتے ناموں کا، آپ نے تو اعلان کر دیا۔ سربراہ ایم کیوایم پاکستان نے مزید کہا کہ کنور نوید کہہ رہے تھے کہ فاروق بھائی آرہے ہیں آپ پریس کانفرنس نہ کریں، میرے ساتھی نادانی میں غیر آئینی اجلاس میں ہونے والے غیر آئینی فیصلوں کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر میں کسی ساتھی نے رابطہ کمیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی تومیں معافی مانگتا ہوں،مجھے نام بتائیں جس نے گالیاں دیں، میں خود معافی منگواوں گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ کراچی