سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

کیا شریفوں کی خاندانی سیاست کا تسلسل انجام کو پہنچا ؟

نواز شریف کی بے وقار رخصتی سے شاید ملک کی سب سے طاقتور سیاسی خاندانی سلسلے کے لیے کسی سنگین دھچکے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اپنے غیر معمولی حکم نامے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے، اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے، ملک کے سیاسی منظر نامے پر غالب تقریباً تمام شریفوں کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس فیصلے کے بعد شریف خاندان کی سیاسی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا یا نہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ قیادت کی چھڑی اب شہباز شریف کے ہاتھوں میں تھما دی جائے گئی، تا کہ کم از کم موجودہ حالات میں اقتدار پر خاندانی سلسلے کو قائم و دائم رکھا جا سکے۔

بلاشبہ، موجودہ وزیر اعظم کے خلاف بے مثال عدالتی کارروائی ملک کی جمہوری ارتقاء کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی کے قیام کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ فیصلے پر اٹھائے جانے والے شکوک شبہات کو خلاف دستور عمل کہا گیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ تمام کارروائی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی گئی اور کچھ بھی آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہوا۔ یہ بات ملک میں انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ کے بجائے ایک آزاد عدلیہ کی تشکیل کی جانب بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا فیصلے کے بعد محسوس ہو رہی تکلیف سے اختلاف رائے رکھی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ، ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ایک ہنگامے اور سیاسی غیر یقینی کے دور کو جنم دیا ہے— جب کسی مضبوط خاندانی سیاسی سلسلہ کو ہلا کر رکھ دیا جائے تو ایسا ہونا لازم ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ملک میں سیاسی انتشار کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مگر بلاشبہ اس سے جمہوری سیاسی عمل کو کوئی ایسا خطرہ نہیں جس کے خدشات نواز شریف کے حامی ظاہر کر رہے ہیں۔

بلکہ اس سے تو خاندانی سیاست کو ٹھیس پہنچی ہے جو کہ ملک میں جمہوری اداروں اور اقدار کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے نے اس سوچ کا بھی خاتمہ کیا کہ چونکہ نواز شریف پنجابی ہیں اس لیے ان کا کوئی بال بھی بیگا نہیں کر سکتا جبکہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں سے بڑی آسانی سے ہٹا جا سکتا ہے۔ اس لیے شریف کی سبکدوشی پر واویلا کرنا اور مقدمے کے معاملات کو جمہوریت کے لیے دھچکا تصور کرنا، سمجھ سے بالا تر ہے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ ایک پورے قانونی عمل سے گزرا اور اسے سازش کا ایک حصہ یا ایک عدالتی بغاوت بالکل نہیں کہا جا سکتا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ، جس میں نواز شریف اور ان کے خاندان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، کے آنے کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ وزیر اعظم بڑے مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شریف خاندان لندن جائیداد کی منی ٹریل فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ان پر جھوٹا بیان دینے اور چند غیر ملکی اثاثے چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ لیکن ایک پورے خاندان کے خلاف اتنی سخت کارروائی اور اتفاقی فیصلے نے نہ صرف حکومت بلکہ حکومت سے باہر بیٹھے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بلاشبہ، خاندان کے دیگر افراد پر الزامات اور ان کے خلاف مقدمات نیب کو بھیجنے سے خاندانی تسلسل کا منصوبہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔ جہاں جعلی کاغذات کے الزام کے بعد، عدالتی فیصلہ مریم نواز کے خلاف آنے کی تو توقع تھی وہاں اس فہرست میں شہباز شریف کا نام شامل ہونا خلاف توقع ہے۔ جس نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بد سے بدتر حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر پارٹی میں موجود کئی لوگ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ جونیئر شریف نیب میں الزامات کا سامنا کرتے ہوئے بھی پارٹی کو قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ ہاں مسلم لیگ ن کے پاس اب بھی مظلومیت کا کارڈ اور سبکدوش وزیر اعظم کو ’سیاسی شہید’ کے طور پر پیش کرنی کی چال باقی ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات میں یہ چال کام آئے گی بھی یا نہیں۔ نواز شریف کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کمزور پڑنے سے ان کا پارٹی پر اثر رسوخ بھی محدود ہو چکا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے جنم لینے والے نواز شریف کو 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبے کے تحت ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں سیاست میں اتارا گیا تا کہ بے نظیر بھٹو کو چیلنچ دینے کے لیے سیاسی میدان میں کوئی دوسرا لیڈر موجود ہو۔ 1990 کی دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک کے سفر میں انہیں فوج اور پنجاب کی طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی رہی۔ اسی سیاسی طاقت کی بدولت شریف خاندان کو کاروبار میں بھی زبردست ترقی نصیب ہوئی۔ اس مالی اسکینڈل نے نواز شریف کے پورے سیاسی کریئر میں، خاص طور پر ملک کی سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد، پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر پاناما پیپرز میں ان کے خاندان کا نام آنے کے بعد اسکینڈل کھل کر سامنے آیا اور ان کے زوال کی وجہ بھی بنا۔ سیاسی طاقت کے عروج تک پہنچنے کے بعد نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو توڑنے کی بھی کوشش کی، جس کے باعث وہ اپنی گزشتہ حکومتوں کی میعاد پوری نہیں کر پائے تھے۔ کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سرپرست رہنے والا شخص اب خود ان کے لیے زہر قاتل بن گیا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ان کا تیسرا دور بھی فوجی قیادت کے ساتھ مسلسل تنازع کی زد میں رہا۔

اگرچہ مسلم لیگ ن کی ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی قربت رہی ہے مگر نواز شریف نے اسے ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی، لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ مگر پھر بھی نواز شریف برسا برس، حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جس کی بنا پر وہ تیسری بار منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے۔ پنجاب پر ان کے خاندان کی گرفت مضبوط بنانے کی خاطر طاقتور پنجابی سول اسٹیبلشمنٹ، بشمول بیوروکریسی اور عدلیہ کے کچھ حلقوں کو مدد کرتے دیکھا گیا ہے۔

ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ آیا رسوا نواز شریف پارٹی کو متحد رکھ پائیں گے یا نہیں۔ سب سے زیادہ ضروری یہ کہ، کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان پر الزامات عائد ہونے کے بعد چھوٹے میاں کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حمایت جاری رکھے گی؟ کیونکہ اس سے قبل ہمیں برے حالات میں میں ٹوٹ پھوٹ کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مشرف کی بغاوت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کے قیام کی صورت میں موجود ہے۔ جب حیران کن طور پر، وفاداریاں بدلنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نہ صرف حکومتی بینچوں بلکہ کابینہ میں بھی واپس شامل ہو گئی تھی۔

شریف خاندان کے لیے ایسی صورتحال سے بچنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پارٹی اتحاد کا انحصار پی پی پی اور پی ٹی آئی کی مسلم لیگ ن کے گڑھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت پر بھی ہے، جو کہ مرکزی سیاسی میدان بھی رہا ہے۔ جبکہ نواز شریف کے زوال سے دیگر صوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اقتدار میں ان کی واپسی کی تو زیادہ امید نظر نہیں آتی، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آیا یہ خاندانی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی ہے یا نہیں۔

زاہد حسین

شریف خاندان اقتدار گھر میں ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

ایک قانون کا حکمنامہ ہوتا ہے اور ایک اچھی سیاست ہوتی ہے۔ ایک قانونی دھچکے سے نکلنے کی راہ ہوتی ہے اور ایک غلطیوں کو دہرانا ہوتا ہے۔ ایک شریف خاندان ہے، اور ایک سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نواز شریف کی عدالتی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ تا حد نگاہ بلکہ اس سے بھی آگے تک بس شریف خاندان کی ہی حکمرانی رائج ہو۔ یا جس طرح سعد رفیق نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایک شریف کو ہٹاؤ گے تو ہم دوسرا لائیں گے، دوسرے کو ہٹاؤ گے تو ہم تیسرا پھر چوتھا شریف لائیں گے۔

ایک سیاسی پارٹی اپنا رہنما چننے کا جواز رکھتی ہے اور نواز شریف کی برطرفی سے پیدا ہونے والے متنازع حالات میں یہ بات تو ناگزیر تھی کہ دوسرے نام کے لیے سبکدوش وزیر اعظم کی ترجیحات ہی زیادہ باوزن ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان کی شدید تنگ نظری خطرناک ہے اور سیاسی طور پر پریشان کن بھی۔
نواز شریف کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن کو تین فیصلے کرنے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی فیصلہ اہم یا معقول ثابت نہیں ہوا ہے۔ پہلا تو شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بنانا۔ عبوری کیوں؟ عباسی اور سابق کابینہ میں شامل ان کے کئی دیگر ساتھی اگلے سال منعقد ہونے والے عام انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے ہر طرح سے باصلاحیت ہیں۔

ویسے تو مسلم لیگ ن اپنے دور کے کارناموں اور تجربہ کار ٹیم کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ لیکن خاقان عباسی اور ان کے دیگر ساتھی ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ وزیرِ اعظم رہنے کے لیے نااہل اس لیے ہیں کیوں کہ ان کے ناموں کے آگے شریف نہیں لگا۔ ملک کی تشکیل کے 70 ویں سال میں ایک پارٹی جو محمد علی جناح کی پارٹی کے نام پر قابض ہو وہ شرمناک حد تک اقرباء پرور ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو بلا تاخیر پنجاب سے نکال کر مرکز میں لانے کا فیصلہ بھی سیاسی طور پر مسائل سے بھرپور ہے۔

شہباز شریف کی وفاقی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش سے تو سیاسی حلقے کئی برسوں سے آشنا ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی نصیب ہوئی — اور انہیں وفاقی انتظامی تجربہ دینے بھی انکار کر دیا جو کہ آج مفید ثابت ہوتا— کیونکہ ان کے بھائی ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہتے تھے اور وفاقی دارالحکومت کے اندر اپنی ہم پلہ طاقتور شخصیت کی موجودگی سے متاثر ہونا نہیں چاہتے تھے۔ 1990 میں وہ رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں لیکن اب سے دو ماہ بعد ایک بار پھر حلف اٹھائیں گے تو اس وقت ایک بڑی حد تک مختلف پارلیمنٹ ہو گی اور اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی مختلف ہو گا۔ درحقیقت، شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ایک سیاسی تجربہ ہے جس کا نتیجہ کافی بدتر نکل سکتا ہے۔

بالآخر، اب حمزہ شریف کے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر پنجاب اسمبلی میں اپنے والد کی جگہ لینے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔ ٹھیک آلِ سعود کی طرح آلِ شریف بھی طاقت کو صرف اپنی نسل تک محدود رکھنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید واحد عارضی اچھائی یہ ہوئی ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں، ورنہ منظر نامہ مختلف ہوتا۔ سچ ہے کہ شریف خاندان نے موروثی سیاست میں کسی حد تک بھٹو خاندان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ اداریہ یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار شائع ہوا۔

کیا نواز شریف کے احتساب سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی ؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں چند دن یا چند ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر پاناما پیپرز اسکینڈل پر ہونے والی اس طویل، قانونی جنگ نے ملک میں جمہوری سیاست کے ارتقاء پر واضح نقوش چھوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایک جمہوری سیاست کی نشونما میں موجود مشکلات کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف کمرہءِ عدالت کے اندر اور باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں آپس میں اُلجھے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس دوران پارلیمنٹ بالکل غیر ضروری محسوس ہو رہی ہے۔

یقینی طور پر، اگر قائدِ ایوان نواز شریف کے گرد گھومنے والے مسائل کے حل کے لیے قانون سازوں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکمراں اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا ہوتا تو اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مقدمے میں اختلافی فیصلے کی وجہ سے ججوں کو وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہمارے ملک کی قانونی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ جس میں سپریم کورٹ ملک کے سب سے بڑے سیاستدان کے خلاف اس طرح کا ایکشن لے۔

کئی حلقوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا کہ احتساب سے بالاتر لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا، مگر حکومتی وفاداروں کے نزدیک ان کے محبوب رہنما کے خلاف ‘قوم کی بے لوث خدمت’ کرنے پر ‘عالمی سازش’ کی جا رہی ہے۔ کابینہ ارکان بار بار یہ جملہ دہراتے ہیں کہ ‘پہلے ان کی حکومت کو ایٹمی دھماکے کرنے پر ختم کر دیا گیا، اور اب انہیں سی پیک شروع کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔’ اور اب جب سپریم کورٹ اس کیس کو انجام تک پہنچانے کے قریب ہے، تو چیزیں مزید پریشان کن ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ ‘لبرل’ عذر خواہوں کی جانب سے ایک اور سازشی مفروضہ یہ پیش کیا گیا کہ عدالتی اقدامات ملکی جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جج صاحبان اور فوج کے درمیان اتحاد ہے۔ اس مفروضے کی حمایت میں ماضی سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر ایسا کرتے ہوئے یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ وہ تمام مثالیں فوجی دورِ حکومت کی ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق سیکیورٹی ادارے جج صاحبان کو ‘ڈکٹیشن’ دے رہے ہیں۔ ‘جمہوریت خطرے میں ہے’ کی گردان، چیزوں کو چلتے رہنے دینے کے لیے اکثر کام آتی ہے۔ کچھ لوگوں کو تو جلد ہی شارعِ دستور پر ٹینک چلتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل نے فوج کو اس معاملے میں گہرائی تک دھنسا دیا ہے۔ ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ارکان کی جے آئی ٹی میں موجودگی بلاشبہ سول ملٹری تعلقات میں خلیج پیدا کرے گی اور اس سے بچنا چاہیے تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو ایجنسیوں کی جے آئی ٹی میں موجودگی جے آئی ٹی کی تحقیقات کو مزید اثر و رسوخ فراہم کر رہی ہوں۔ مگر یہ کہنا کہ عدالت نے فوج کے کہنے پر ایکشن لیا ہے، اس سازشی مفروضے کو خوامخواہ بہت دور تک دھکیلنے والی بات ہے۔ یہ مفروضہ پیش کرنے والے لوگ اس سوال کو گول کر جاتے ہیں کہ پاناما لیکس پر انکوائری تک بات کیوں نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔ ملک کے اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر فائز شخص کو کسی بھی شخص سے زیادہ قابلِ احتساب ہونا چاہیے۔ نواز شریف کے پاس اس مسئلے پر پارلیمنٹ سے کلین چٹ حاصل کرنے کا موقع تھا، مگر ان کے خاندان اور ان کے بیانات میں تضادات کی وجہ سے وہ اس صورتحال تک پہنچے۔

مگر پھر بھی نواز شریف کے پاس پانچ رکنی بینچ اور پھر جے آئی ٹی میں خود کے دفاع کا موقع تھا۔ اب کیس واپس تین رکنی بینچ کے سامنے ہے اور ان کے پاس ایک اور لائف لائن موجود ہے۔ اس لیے ایک طاقتور وزیرِ اعظم کے خلاف سازش اور انہیں پھنسانے کا الزام کافی مضحکہ خیز ہے۔ مظلومیت کا کارڈ شریف خاندان کو کچھ ہمدردی دلوا سکتا ہے مگر عدالت کے سامنے یہ کارڈ نواز شریف کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں احتساب کو سیاسی مخالفین کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ فوجی حکمرانوں نے احتساب کا نعرہ لگا کر منتخب سیاسی حکومتوں کو گرایا اور سیاسی رہنماؤں کو اطاعت پر مجبور کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح نیب قوانین کو جنرل مشرف کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ جن لوگوں پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد تھے، انہیں حکومت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے پر کابینہ میں لے لیا گیا۔ چنانچہ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ احتساب ایک خراب لفظ بن گیا۔

مگر وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف جاری پاناما لیکس کی حالیہ تحقیقات کو ماضی کے ہتھکنڈوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت عدالت تو سیاسی قیادت کو احتساب کا مرحلہ مزید شفاف اور معقول بنانے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دے کر تحقیقات مضبوط کرنے کا موقع دے رہی ہے۔ جمہوری نظام قانون کی حکمرانی کے بغیر کمزور ہی رہے گا، اور قانون کی حکمرانی کو اب وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے شروع ہونا چاہیے۔

مگر عام طور پر یہ نکتہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ صرف سویلین رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ جنرل احتساب کے دائرہءِ کار میں نہیں آتے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ قانون سے بالاتر کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ سابق جرنیلوں اور دیگر طاقتور گروہوں کو حاصل استثنیٰ پر سوال جائز ہے۔ مگر اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ یا سب کا احتساب ہو یا کسی کا نا ہو۔ احتساب ایک مرحلہ ہے، اور اسے ایک دفعہ کے اقدام، یا سویلین سیاسی رہنماؤں کے خلاف مہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو مکمل طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی حال دیگر سرکاری اداروں کا بھی ہے۔

ہمارے سیاسی اور عدالتی نظام میں موجود دراڑیں پاناما کیس کی وجہ سے مزید واضح ہو گئی ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف زیادہ تر مقدمات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا تھا جہاں سے انہیں باہر نکالنے کی ہمت کوئی ادارہ نہ کرتا۔ دیگر سیاسی رہنما بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس بات کا تو یقین نہیں کہ وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے چیزیں تبدیل ہوں گی۔ مگر اس بے مثال اقدام سے نظام میں اصلاحات اور احتساب کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
جج صاحبان کے آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ اگر عدالتیں اور دیگر ادارے اپنا کام نہ کریں، تو جمہوری نظام نہیں چل سکتا۔

زاہد حسین

سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔ ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی بھی ہدایت کی اور تمام مواد احتساب عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا۔

عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔

کیا نواز شریف کی رخصتی کا فیصلہ ہو چکا ؟

گاڈ فادر کے بعد اب وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی حکومت کے لیے سپریم کورٹ نے سسلین مافیا کا بھی حوالہ دے دیا۔ اس کے باوجود اگر میاں صاحب کی حکومت اب بچ جاتی ہے تو تعجب ہو گا۔ ایک بحث پہلے ہی چل رہی ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں مشتمل پانچ ممبر سپریم کورٹ بنچ جس نے پاناما کیس میں 20 اپریل کو فیصلہ سنایا تھا وہ اب بھی قائم ہے اور اگر جسٹس اعجاز افضل خان کی قیادت میں مشتمل موجودہ اسپیشل بنچ میں شامل ایک جج صاحب نے بھی وزیر اعظم کی رخصتی کا فیصلہ کر لیا تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ نواز شریف کا کھیل ختم۔ ویسے بھی جب کسی ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی حکومت یا حکمران کو پہلے گاڈ فادر اور پھر سسلین مافیا کے حوالے دے کر یاد کرے تو پھر ایسی حکومت اور ایسے حکمرانوں کو وہی عدالت کیسے کلین چٹ دے کر چھوڑ سکتی ہے۔

عدالت سے باہر کے معاملات دیکھیں تو بھی میاں صاحب کے اردگرد گھیرا تنگ ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اشارے مل رہے ہیں کہ کوئی اور بھی اس کھیل میں شامل ہے۔ ابھی وٹس ایپ کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا تو حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ویڈیو تصویر سامنے آ گئی۔ یہ تصویر کس نے لیک کی اور اس کا کیا مقصد تھا ان سوالوں کے جواب ملنا ضروری ہیں۔ جوڈیشیل اکیڈمی کے ایک کمرہ میں جہاں جے آئی ٹی کے ممبران ایک قطار میں بیٹھ کر سامنے رکھی کرسی پر براجماں بیٹھے شخص سے سوال جواب کرتے ہیں، اگر اُس کمرے سے کوئی مواد میڈیا، سوشل میڈیا یا کسی اور کو لیک ہوتا ہے تو اُس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کچھ دن پہلے جے آئی ٹی کی طرف سے حسین نواز کو جاری کیا گیا سمن میڈیا کو لیک کیا گیا لیکن اُس وقت ذمہ داری کا تعین کرنا اس لیے مشکل تھا کیوں کہ یہ سمن جے آئی ٹی کے ہاتھ سے نکل کر وزیر اعظم ہائوس تک پہنچ چکا تھا۔

اگرچہ کچھ ن لیگی رہنمائوں کی طرف اس کی ذمہ داری جے آئی ٹی پر ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن شک حسین نواز اور ن لیگ پر بھی کیا جا سکتا تھا۔ جہاں تک حسین نواز کی تصویر کی تازہ جے آئی ٹی لیک پر ذمہ داری عائد کرنے کا سوال ہے یہ شاید اتنا مشکل نہ ہو۔ جوڈیشیل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے اجلاسوں کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا تھا۔ جے آئی ٹی سے متعلقہ انتظامی امور کس کے ہاتھ میں ہیں اور کیا ان امور میں حکومت کا کوئی عمل دخل ہے یا نہیں؟؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ضروری ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں کوئی جے آئی ٹی کے secret مواد کو شریف فیملی کے حق میں یا ان کے خلاف پروپیگنڈہ کے لیے تو استعمال نہیں کر رہا۔ کل ہو سکتا ہے جے آئی ٹی وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بلا لیں تو پھر کیا اُن کی بھی جے آئی ٹی کے سامنے حاضری کی تصویریں اور ویڈیو میڈیا کو لیک کی جائیں گی۔

ہو سکتا ہے کہ جے آئی ٹی کی اس لیک کے پیچھے کوئی اور ہی ہو۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کی انکوائری کروانا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ ویسے جیسا کہ اعتزاز احسن کا کہنا ہے سپریم کورٹ کو تو وٹس ایپ کے معاملہ پر بھی انکوائری کروانی چاہیے۔ اعتزاز احسن کے مطابق اگر وٹس ایپ کا معاملہ جسے میں سامنے لے کر آیا جھوٹ ہے تو بھی اس کی انکوائری ہونی چاہیے اور اگر سچ ہے پھر تو اس معاملہ کا کھوج لگانا تو اور بھی ضروری ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے خود سے جے آئی ٹی کے لیے کچھ نام ڈلوانے کے لیے وٹس ایپ کال کیں، انہیں کسی جج صاحب نے کہا یا کہ وٹس ایپ کال کرنے والا کوئی اور ہی شخص تھا۔

ویسے تو سپریم کورٹ کےا سپیشل بنچ کے ایک جج صاحب کی طرف سے عدالت میں یہ کہا گیا کہ جو کچھ رجسٹرار صاحب نے کیا وہ جج حضرات کے کہنے پر کیا گیا۔ لیکن یہ معاملہ ابھی کلیئر نہیں کہ کیا رجسٹرار صاحب نے ایس ای سی پی کے چیئرمین سے پہلے سرکاری فون لائن پر بات کی اور پھر انہیں کہا کہ وہ وٹس ایپ پر کال کریں گے جس کے ذریعے مبینہ طور پر انہوں نے ایک مخصوص نام جے آئی ٹی کے لیے مانگا۔ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایسا کرنے کی ہدایات کسی جج صاحب نے دی اور اگر ایسا ہی ہوا تو کیا یہ ہدایات سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے اُس فیصلہ سے مطابقت رکھتی ہیں جس میں متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جے آئی ٹی کے لیے افسروں کے ناموں پر پینل تجویز کریں گے اور ان ناموں میں سے سپریم کورٹ کسی بھی نام کی جے آئی ٹی کے لیے منظوری دے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے دستاویزات کے مطابق ڈپٹی گورنر کو بھی مبینہ وٹس ایپ کے ذریعے کال کر کے ایک خاص نام پینل میں ڈالنے کا حکم دیا گیا لیکن سپریم کورٹ سے فیکس کے ذریعے جو حکم ملا اُس میں کسی مخصوص نا م کو جے آئی ٹی میں ڈالنے کی کوئی بات ہی نہیں کی گئی تھی۔ کسی ایسے مشکوک معاملہ میں اگر عدالت عظمیٰ کو یا اس کے رجسٹرار کو ملوث کیا جاتا ہے تو ایسے معاملہ کو بغیر انکوائری کے چھوڑنا کوئی اچھی نظیر نہ ہو گی۔

 انصار عباسی

پانامہ کیس : جے آئی ٹی کو متنازع نہ ہونے دیا جائے

وزیرِ اعظم نواز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) پر بڑھتا ہوا تنازع سپریم کورٹ کی فوری توجہ چاہتا ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل اور کارکردگی کے بارے میں اب تک کم از کم تین ایسے مسائل ہیں جنہوں نے اس پورے مرحلے پر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
سب سے پہلے اور سب سے حالیہ معاملہ وزیرِ اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی اس کمرے سے لیک ہونے والی ایک سی سی ٹی وی فوٹو ہے، جہاں جے آئی ٹی اپنی انکوائری کر رہی ہے۔ اس تصویر نے سیاسی اور ابلاغی منظر نامے پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

اب تک اس حوالے سے کوئی تاویل سامنے نہیں آئی ہے کہ یہ تصویر منظرِ عام پر کیسے آئی، جے آئی ٹی کی کارروائی خفیہ انداز میں کیوں ریکارڈ کی جا رہی ہے، اور یہ کہ اس کی ریکارڈنگ کہاں محفوظ ہیں اور کون کون ان تک رسائی رکھتا ہے۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے تحقیقاتی بازو کے طور پر کام رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات ہو سکتے ہیں چنانچہ عدالتی کارروائی کا تقدس ایک میڈیا سرکس کے ہاتھوں پامال ہوتے ہوئے دیکھنا افسوسناک ہے۔ دوسری بات، سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جے آئی ٹی کے لیے ارکان فراہم کرنے والے اداروں سے رابطے کا معاملہ اب بھی وضاحت طلب ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ عدالت کی جانب سے ریاستی اداروں سے کیے جانے والے تمام روابط کی باقاعدہ دستاویزات مرتب کی جائیں گی، جبکہ اس طرح کے رابطوں کے روایتی طریقہءِ کار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔ پر بظاہر رجسٹرار کی جانب سے غیر رسمی کالز میں اس طریقہءِ کار پر عمل نہیں کیا گیا، جس سے انٹرنیٹ پر فون کالز کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ شاید یہ صرف رجسٹرار کی عدم توجہی یا غفلت ہو، مگر سپریم کورٹ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا، اور ریاستی اداروں پر بلاجواز اثر کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا بھی جواب دینا چاہیے۔

تیسرا اور سب سے اہم مسئلہ مالیاتی معاملات، جس کی تحقیقات یہ جے آئی ٹی کر رہی ہے، کی تحقیقات میں فوج کے انٹیلیجنس اداروں کے دو ارکان کی شمولیت ہے۔ جے آئی ٹی کے دیگر نامزد کردہ ارکان کے برعکس انٹیلیجنس نمائندوں کا اس حوالے سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے کہ آیا وہ مالیاتی معاملات کی تحقیقات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس معاملے میں فوج کے انٹیلیجنس نمائندوں کو کسی صورت بھی شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا، اور جب کیا گیا تب بھی غیر ضروری مروت برتی گئی۔ یہاں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ داؤ پر کیا لگا ہے۔

سپریم کورٹ میں تاریخی سماعتوں کے دوران پہلی بار ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کی دولت اور کمائی کے ذرائع کی تحقیقات ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے سیاسی مستقبل کے علاوہ جمہوری نظام کی ساکھ بھی اس وقت زیرِ آزمائش ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ ان سب باریکیوں کا فیصلہ کرنے کے لیے درست فورم ہے۔ اس بات کا اعادہ کرنا چاہیے کہ تمام ضوابط اور قوانین کی سختی سے پاسداری کی جائے گی۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 6 جون 2017 کو شائع ہوا۔

پاناما کیس : کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے، پاناما کیس کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں
سماعت اور اس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد مدعی علیہان کچھ سائنس دانوں، کچھ ماہرین، اور الیکٹرانک میڈیا نے جو حکمت عملی تسلسل سے اپنائی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ تو ملکی قوانین کے تحت ملک سے ناجائز دولت کے باہر جانے کا سلسلہ رکا ہے اور نہ ہی آنے والے برسوں میں لوٹی ہوئی دولت کا قومی خزانے میں واپس آنے کا کوئی امکان ہے۔ اس مقدمے اور حکومت مخالف احتجاجی جلسوں کا مقصد صرف سیاسی مفادات کا حصول نظر آتا ہے جبکہ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور قابل احترام اداروں کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔

تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں جو مقدمہ دائر کیا تھا اگر اس کا مقصد موثر احتساب، لوٹی ہوئی دولت کی قومی خزانے میں واپسی اور بدعنوانی پر قابو پانا ہوتا تو اسے پہلے اپنے انتخابی منشور پر عملدرآمد کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں غیر منقولہ جائیدادوں کے ’’ڈی سی ریٹ‘‘ بڑھا کر انہیں مارکیٹ کے نرخوں کے برابر کر دینا چاہئے تھا کیونکہ یہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔ واضح رہے کہ جائیداد سیکٹر ٹیکس چوری اور لوٹی ہوئی دولت کو محفوظ جنت فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کو اس اصول پر عمل کرنا چاہئے کہ جس جائیداد کی مالیت کم ظاہر کی جائے اسے قومی ملکیت میں لے لیا جائے۔ ہم عمران خان صاحب سے گزارش کریں گے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے اپنے آخری بجٹ میں مندرجہ ذیل تجاویز کا اعلان کیا جائے یہ ایک بڑی قومی خدمت ہو گی اور ساتھ ہی ملک میں حقیقی مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بھی۔

(1) یکم جولائی2017 سے صوبے میں جائیداد کا ’’ڈسی ریٹ‘‘ مارکیٹ کے نرخ کے برابر کیا جا رہا ہے اس سے وفاق اور صوبے دونوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور وفاق کے پاس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم برائے جائیداد جاری رکھنے کا جواز ختم ہو جائے گا۔

(2) اپنے منشور کے مطابق زراعت پر ٹیکس موثر طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

(3) اپنے منشور میں کئے گئے وعدے کے مطابق صوبے کی مجموعی داخلی پیداوار کے تناسب سے تعلیم کی مد میں 5 فیصد اور صحت کی مد میں 2.6 فیصد مختص کیا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کو پاناما کیس کے اپنے مقدمے میں سپریم کورٹ سے یہ درخواست بھی کرنا چاہئے تھی کہ اصل مقدمے کی شنوائی سے پہلے قانون اور انصاف کی خاطر مندرجہ ذیل احکامات فوری طور پر جاری کئے جائیں کیونکہ ان کے ضمن میں ملک میں عملاً اختلاف رائے موجود نہیں ہے۔

(1) انکم ٹیکس کی شق 111 (4) کی فوری منسوخی کیونکہ یہ ایک مالیاتی این آر او ہے اس شق کی وجہ سے قومی خزانے میں ایک پیسہ جمع کرائے بغیر ٹیکس چوری اور لوٹی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ مل رہا ہے۔

(2) ملک میں غیر منقولہ جائیدادوں، گاڑیوں، بینکوں کے ڈپازٹس، قومی بچت اسکیموں، اسٹاک ایکسچینج اور حکومتی تمسکات میں لگائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے ’’ملکی پاناماز‘‘ کی مستند دستاویزات ریکارڈ میں موجود ہیں۔ ان سب کو قانون کے دائرے میں لا کر حکومتی واجبات اور ٹیکسوں کی وصولی کی جائے جو کہ چند ماہ میں یقیناً ممکن ہے، واضح رہے کہ یہ اثاثے ناجائز دولت سے بنائے گئے ہیں اور انہیں ٹیکس حکام سے خفیہ رکھا گیا ہے۔

(3) مارکیٹ سے بیرونی کرنسی پر خرید کر اگر کوئی شخص بینک میں اپنے بیرونی کرنسی کے کھاتے میں رقوم جمع کراتا ہے تو عام حالات میں اس رقم کو باہر بھیجنے کی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔

اگر سپریم کورٹ ہی ازخود نوٹس لے کر مندرجہ بالا پہلے دونوں امور کے ضمن میں فیصلہ صادر فرماتی توچند ماہ کے اندر ناجائز دولت کا بڑا حصہ قومی خزانے میں واپس آجاتا، ناجائز دولت کی ملک سے باہر منتقلی کا سلسلہ سست ہو جاتا کہ ناجائز دولت کو قانونی تحفظ ملنا بھی آسان نہ رہتا اور بہت سے بدعنوان عناصر کی نشاندہی بھی ہو جاتی۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد بھی وکلا برادری اور مختلف بار کونسلوں نے قومی مفادات سے متصادم ان معاملات کے ضمن میں رسمی مطالبہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا کیونکہ ان سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت 2005 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحران پیدا کیا گیا تھا۔

 

اس بحران کے ذمہ داراوں کا تعین کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کر کے ایک مشہور امریکی فرانسک کمپنی کو پاکستان بلوا کر اس بحران کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کمپنی کی رپورٹ بے نتیجہ اور بے معنی رہی حالانکہ دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ اب سے ایک برس قبل ’’پاناما لیکس، کیا کچھ نکلے گا؟‘‘ کے عنوان سے ہم نے لکھا تھا کہ متعدد پیچیدگیوں کی وجہ سے تحقیقاتی کمیشن کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے امکانات روشن نہیں ہیں (جنگ21 اپریل 2016) ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت تشکیل دی جانے والی نیم فوجی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ عملاً بے نتیجہ رہے گی۔ اگر اس نے ذمہ داری کے ضمن میں کوئی بھی حتمی رائے دی تو وہ متنازع رہے گی کیونکہ اس رائے کے مستند ثبوت شاید پیش نہ کئے جا سکیں گے۔

اب سے 10برس قبل سپریم کورٹ نے بینکوں کے قرضوں کی معافی کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور اپنے ہی ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں 2011 میں ایک کمیشن بنایا تھا۔ اس کمیشن نے جنوری 2013میں اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی تھی لیکن 4 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی یہ رپورٹ سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے ہم نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو 14 دسمبر 2009 کو ایک تفصیلی خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک کا اکتوبر 2002 میں جاری کردہ قرضوں کی معافی کا سرکلر نمبر 29 غیر قانونی غیر منصفانہ اور پارٹنر شپ ایکٹ سے متصادم ہے اور اس سے بدعنوان عناصر نے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ ہم نے اس خط میں استدعا کی تھی کہ قرضوں کی معافی کے کیس میں ہمارے اس خط کو بھی ریکارڈ میں رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے 24 دسمبر 2009 کو کہا تھا کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ سرکلر قانون سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا

(1) قرضوں کی معافی کے اس سرکلر سے بڑے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔

(2) قرضے معاف کروا کر دولت بنائی اور دولت ملک سے باہر پہنچائی گئی ہے (3) قومی دولت کو واپس لانے کے لئے عدالت کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ پاناما کیس میں بھی قومی دولت کو ناجائز طریقے سے باہر لے جانے کے الزام کی باتیں ہو رہی تھیں مگر قرضوں کی معافی کا مقدمہ 10 برس سے زیر التوا ہے جبکہ قرضوں کی معافی کے سرکلر کے غیر قانونی ہونے کا فیصلہ دو سماعتوں میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس ضمن میں دو مزید باتیں عرض کریں گے۔ اول اگر ملک سے غیر قانونی طور پر باہر بھیجی ہوئی رقوم کے لئے ایمنسٹی اسکیم کا اجرا کیا جاتا ہے تو یہ ایک قومی المیہ ہو گا اور دوم: اگر عدالت عظمیٰ نے قرضوں کی معافی کے مقدمے کا جلد فیصلہ نہ کیا تو ان قرضوں کی وصولی کا امکان ختم ہو جائے گا اور آنے والے برسوں میں بنک 500 ارب روپے کے مزید قرضے معاف کر سکتے ہیں۔ جو انہوں نے پہلے ہی ’’نقصان‘‘ کی مد میں دکھلائے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

ڈان کی خبر کا معاملہ : ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے

جس چیز کو سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے ایک دور کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا، وہ
خاتمے کے بجائے ایک تازہ اور غیر ضروری بحران میں بدل گئی ہے۔ سیاست کی دھندلی دنیا میں اداروں کے درمیان تعلقات کے بارے میں حقائق جاننا ویسے تو بہت مشکل ہے، لیکن پھر بھی آگے بڑھنے کا راستہ تقریباً تلاش کر لیا گیا تھا۔ اس اخبار میں ایک خبر کی اشاعت کے تقریباً آٹھ ماہ بعد ایک انکوائری کمیٹی، جس میں فوج اور سویلین دونوں ہی کے نمائندے شامل تھے، نے ایک متفقہ رپورٹ اور سفارشات تیار کیں جنہیں وزیرِ اعظم نواز شریف کو پیش کیا گیا۔ حکومت نے عوامی سطح پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات قبول بھی کرے گی اور نافذ بھی کرے گی۔ معلوم ہونے لگا تھا کہ معاملہ اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔

مگر پریشان کن طور پر حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کے اعلان کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ فوج نے اس معاملے پر حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف اور نئے آرمی چیف جنرل باجوہ پانچ ماہ قبل قیادت سنبھالنے سے اب تک اس قومی سطح کے مسئلے میں مرکزی کردار کے طور پر تھے۔ یہاں سے آگے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے، اور اس کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو عوام میں لانے سے اس پر چھائے شکوک اور بدگمانی کے بادل ہٹ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک دوسرے سے متصادم پیغامات مزید عدم استحکام یا اس سے بھی خطرناک صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ جب بحران پیدا ہوا تو وزیرِ داخلہ نثار علی خان کی پریس کانفرنس نے صرف شش و پنج میں اضافہ کیا۔ ایک موقع پر تو یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید وزیرِ داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت انتظامی طور پر وزیرِ اعظم کے دفتر سے بالاتر ہے۔

 تکنیکی باتیں جو کچھ بھی ہوں، لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ معاملے کو سلجھایا جائے، نہ کہ مزید الجھن پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی سفارشات ہینڈل کرنے میں جو بھی خامیاں رہی ہوں، مگر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی ٹوئیٹ وہ لکیر تھی جسے نظام کی خاطر پار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا آرمی چیف خود وزیرِ اعظم سے ذاتی طور پر بات کر کے فوج کے تحفظات دور کرنے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے؟ یہ بھی ممکن نہیں کہ فوجی قیادت کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹوئیٹ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر جمہوریت سے بالاتر قدم قرار دیا جائے گا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں باہمی اختلافات کی وجہ سے اس وقت جمہوریت کے برخلاف جا رہی ہیں. تمام جماعتوں کو فوری طور پر اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 1 مئی 2017 کو شائع ہوا۔