اب زرداری کا بچنا محال ہے؟

حقیقت معلوم کرنا ہو تو آنگ سانگ سوچی، کمانڈر انچیف جنرل من آنگ اور صوبہ رخائن کے سکیورٹی انچارج کرنل ٹینٹ تک آپ میانمار میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ روہنگیا لاکھوں کی تعداد میں کیوں بھاگ رہے ہیں اور ان کے گھر کون جلا رہا ہے؟ سوچی کا جواب ہے ‘مجھے لگتا ہے وہاں آپس میں بہت دشمنیاں ہیں مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے’، جنرل من آنگ کہتے ہیں ‘یہ بحران خود بھاگنے والوں نے پیدا کیا ہے’۔ کرنل فون ٹینٹ کہتے ہیں ‘یہ بنگالی دہشت گرد خود اپنے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں۔’ اگر یہ سچ ہے تو پھر پرویز مشرف کا یہ کہنا بھی سچ ہے کہ بے نظیر بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کروایا۔ یہ ایک منطقی سوال ہے کہ اس قتل کا حتمی فائدہ کسے پہنچا؟ آصف زرداری کو ( یعنی پارٹی قیادت اور ملکی صدارت ان کے ہاتھ آ گئی)۔ اس مشرفی منطق سے قتل کی کئی دیگر وارداتوں کا بھی سراغ سمجھو مل گیا۔

جیسے لیاقت علی خان کو خواجہ ناظم الدین اور غلام محمد نے قتل کرایا تاکہ ناظم الدین ڈیل کے تحت گورنر جنرل کی کرسی غلام محمد کے لیے خالی کر کے خود وزیرِ اعظم بن جائیں۔ چوہدری ظہور الہی کو الذولفقار نے تھوڑی چوہدری شجاعت حسین نے مروایا۔ بطور گرگِ باراں دیدہ چوہدری صاحب کو اچھے سے معلوم تھا کہ والدِ بزرگوار کو راستے سے ہٹائے بغیر نہ مستقبلِ بعید میں مسلم لیگ ق کے صدر بن پائیں گے اور نہ ہی وزیرِ اعظم۔ ضیا الحق کےقتل کی سازش دراصل چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ نے تیار کی تا کہ علی الترتیب صدر اور فل چیف کا عہدہ قبضا سکیں۔

مشرف صاحب نے نرا الزام ہی نہیں لگایا بلکہ وڈیو میں یہ بھی بتایا کہ بے نظیر قتل کی سازش پر عمل کیسے ہوا؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ زرداری اور حامد کرزئی کی اور حامد کرزئی اور بیت اللہ محسود کی پکی دوستی تھی۔ زرداری نے حامد کرزئی سے کہا یار ذرا بیوی کو مروانا ہے کچھ مدد تو کرو۔ حامد کرزئی نے بیت اللہ محسود کو آصف کی دی ہوئی سپاری بجھوائی اور بیت اللہ نے بندے بی بی کے پیچھے لگا دیے ۔ تاہم مشرف صاحب کی جانب سے ابھی یہ وضاحت ادھار ہے کہ آیا اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو بی بی کی کراچی میں لینڈنگ کے فوراً بعد کار ساز پر خودکش حملہ بھی سپاری ڈیل میں شامل تھا یا بیت اللہ سے صرف 27 دسمبر کے حملے کا کنٹریکٹ ہوا تھا۔

اب یہ کون پوچھے کہ اگر مشرف صاحب کو پتہ چل ہی گیا تھا تو پھر انھوں نے بی بی کو ان کی مرضی کی مکمل سکیورٹی کیوں نہیں دی۔ مشرف صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سکیورٹی فراہم کرنا ان کی ذمہ داری نہیں تھی اور ساتھ ہی شکوہ بھی کر رہے ہیں کہ اس قتل سے میرا تو بہت نقصان ہوا اور زرداری کو پورا فائدہ پہنچا۔ مگر نقصان کیا ہوا ؟ ذاتی یا پھر ق لیگ کو جتوانے کے منصوبے پر پانی پھرنے اور بی بی کی دیکھا دیکھی نواز شریف کی بھی پاکستان میں لینڈنگ کی شکل میں؟ اور جب اصل حقیقت آشکار ہو ہی گئی تھی تو پھر قاتل کو اندر کرنے کے بجائے خود کیوں ایوانِ صدر سے باہر ہو گئے اور وہ بھی قاتل کی جانب سے فل گارڈ آف آنر وصولنے کے بعد۔

چلیے باہر ہو گئے لیکن جب صدر زرداری کے دور میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اور پھر اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن آیا تو مشرف صاحب کم از کم انھیں لندن میں بیٹھے بیٹھے خط لکھ کر سازش کا پردہ تو فاش کر سکتے تھے تاکہ بی بی مظلوم کا کیس مزید نو برس نہ کھینچتا ۔اور یہ کیا معمہ ہے کہ بے نظیر قتل کیس سننے والی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت پرویز مشرف کو حتمی فیصلے سے بھی پہلے اشتہاری ملزم قرار دے چکی تھی۔ پھر بھی عدالت کو ‘اصل حقائق’ مہیا کر کے اپنی جان باعزت چھڑانے کے بجائے جنابِ شیخ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ ارے ہاں! مرتضیٰ بھٹو کو بھی تو آصف زرداری نے مروایا تھا تاکہ پلان کے مطابق بی بی کی حکومت برطرف ہو جائے۔

بی بی مقدمات سے گھبرا کر بیرونِ ملک رہائش اختیار کر لیں۔ خود آصف بھی مرتضیٰ کے حامیوں کے بدلے کے ڈر سے احتیاطاً کئی برس کے لیے جیل کسٹڈی میں رہیں اور پھر بیرونِ ملک چلے جائیں اور وہاں بی بی کو پٹی پڑھائیں کہ تم آخر پاکستان کیوں نہیں جاتیں۔ ڈرتی ہو کیا؟ اور جب نو برس بعد بے نظیر بھٹو آصف زرداری کے بہکاوے میں آ کر پاکستان آئیں تو شوہر ساتھ نہ آیا کیونکہ وہ نہ صرف سپاری دے چکا تھا بلکہ ڈی آئی جی پنڈی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو بھی بھاری نوٹ لگا چکا تھا کہ جیسے ہی بی بی کا قصہ تمام ہو میرے آنے سے پہلے پہلے خون کے سب دھبے مٹا دو تاکہ میں اطمینان سے بیوی کی لاش وصول لوں۔ تو یہ تھا طویل المیعاد فائدہ مرتضیٰ بھٹو کو 1996 میں قتل کروانے کا۔

جب مرتضیٰ کا قتل ہوا تو میرے محلے کے عبداللہ پنواڑی نے سب سے پہلے کہا تھا کہ یہ آصف نے کروایا ہے مگر اس غریب کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔مگر پرویز مشرف کے پاس ہے اور وہ یقیناً اسے عدالت میں دستی پیش کریں گے۔
مشرف چاہتے تو اپنے ساڑھے آٹھ سالہ دورِ صدارت میں سیاہ و سپید کے مالک ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھلے چیف جسٹس کو بالوں سے کھینچتے مگر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی بھی کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے بھی جانے کیوں وہی کیا جو بقول ان کے پیپلز پارٹی نے بعد از مشرف پانچ سالہ دورِ اقتدار میں بی بی قتل کیس کو کسی منطقی انجام تک نہ پہنچا کر کیا۔ کیونکہ قاتل تو دراصل زرداری تھا۔ مشرف صاحب کی تازہ وڈیو دیکھ کر دلِ خوش فہم کو جانے کیوں لگتا ہے کہ اب ان کا پیمانہِ صبر لبریز ہو چکا ہے۔

‘چالاک قاتل’ آصف زرداری کی طرف سے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے پانچ ملزموں کو بری کرنے کے فیصلے اور پولیس افسر سعود عزیز، خرم شہزاد اور پرویز مشرف کو سزائے موت کے مطالبے کی پیٹیشنز لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور ہونے کے بعد ایک دن ضرور دورانِ سماعت عدالت کا دروازہ چرمراتے ہوئے کھلے گا اور بھاری بوٹوں کی ٹھک ٹھک کے ساتھ گرجیلی آواز چھت سے ٹکرائے گی ‘ٹھہریے جج صاحب میں بتاتا ہوں کہ دراصل قاتل کون ہے ۔ ڈھیں ڈھیں ڈھیں ڈھیں. عدالت ویسے بھی بہت دنوں سے آپ کی راہ تک ہے۔

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح ( جانثار اختر )

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

Advertisements

جنرل مشرف : قانون کی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی