جسٹس آصف سعید کھوسہ : چیف جسٹس چیف جسٹس آف پاکستان

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کو چیف جسٹس آف پاکستان بنانے کی منظوری دے دی۔ وزارت قانون نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار 17 جنوری کو عہدے سے ریٹائر ہوں گے اور جسٹس آصف سعید کھوسہ 18 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ واضح رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں، جو 20 دسمبر 2019 تک چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے۔ آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ روانہ ہوئے جہاں کیمبرج یونیورسٹی سے انہوں نے ‘ایل ایل ایم’ کیا۔ آصف سعید کھوسہ نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ مئی 1998 میں آصف سعید کھوسہ لاہور ہائی کورٹ میں جج مقرر ہوئے اور جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 7 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین معطل کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے ‘پی سی او’ کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ اگست 2008 میں وکلا کی تحریک کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے بحال ہوئے۔ انہیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے شہرت ملی، جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔

Advertisements

Who is Justice Asif Saeed Khosa ?

Asif Saeed Khan Khosa‬‎, born 21 December 1954) is the Senior Justice of the Supreme Court of Pakistan serving since 31 December 2016. He was appointed as the next Chief Justice of Pakistan and will be taking office upon the retirement of Chief Justice Mian Saqib Nisar. He has served as Justice of the Supreme Court since 18 February 2010 and also served as judge of the Lahore High Court prior to that. Before becoming a judge, he was an advocate of the Supreme Court Bar Association and Lahore High Court Bar Association. He was called to bar at the Honourable Society of Lincoln’s Inn, London, Great Britain on 26 July 1979, one of the world’s most prestigious body of lawyers and judges .

Early life
Khosa was born in Dera Ghazi Khan, Punjab, Pakistan. Khosa passed his matriculation in 1969 from the Multan Board, securing fifth position. He was admitted to Government College University (Lahore) for intermediate and secured first position in the Lahore Board. Then in 1973 he appeared for the B.A exams from Government College Lahore at Punjab University and secured first position.[4] He secured a National Scholarship Award. He did his masters in English Language and Literature at the University of the Punjab in 1975. He was then admitted to Queens’ College, Cambridge and did his Master of Laws with specialization in Public International Law. Later he was called to the Bar on 26 July 1979 at the Lincoln’s Inn, London.

 

Judicial career
Barrister Khosa was elevated to the Bench and appointed as Lahore High Court Judge in May 1998. When General Pervez Musharraf declared a state of emergency in November 2007, suspending the constitution and demanded the judges of the superior judiciary retake their oath under the Provisional Constitutional Order (PCO), Justice Khosa like then-Chief Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry, and many other senior judges, refused to retake the oath. They were suspended from their duties. On 18 August 2008, he was restored to his prior position as High Court Justice as a result of a lawyer’s movement to restore the “deposed judges”. He was among the larger bench of seven Supreme Court justices that was hearing Prime Minister Yousaf Raza Gillani’s contempt of court case. In that case Supreme Court gave its judgement that had an additional attachment of Justice Khosa’s extraordinary six-page note that became the subject of headlines in May, 2012. Justice Khosa quoting Kahlil Gibran wrote about the “Pity of the Nation” that became subject of media coverage all over the country.  He also headed the larger bench of the Supreme Court that was hearing the “Panama Case” related to the alleged money laundering and off-shore illegal investment by fomer Prime Minister Nawaz Sharif and his family. Remarking on article 62 and 63 of the constitution in the “Panama Case” hearing he said:
This case is the first of its kind… we know the gravity of a declaration by the court and its affect for both the parties, saying that someone was not honest. But we have to lay down parameters, otherwise, except for the Jamaat-i-Islami chief Sirajul Haq, no one will survive. As article 62 and 63 are related to truthfulness and honesty of parliamentarians, it became a matter of controversy in the media, because Justice Khosa was pointing out that there is no truthful and honest parliamentarian except Siraj-ul-Haq. Justice Khosa had to withdraw his remarks, after he reconsidered them. He said he was sorry for his such remarks. Justice Khosa is being considered the most relentless judge in larger bench of the “Panama Case”. The final verdict issued by the larger bench on the “Panama Case” against Prime Minister Nawaz Sharif and his family has proposed a JIT within 60 days. In the final verdict Justice Khosa and Justice Gulzar in their remarks disqualified Prime Minister Nawaz Sharif from running for office. Their statement says: The Election Commission of Pakistan is directed to issue a notification of disqualification of respondent No. 1 namely Mian Muhammad Nawaz Sharif from being a member of the Majlis-e-Shoora (Parliament) with effect from the date of announcement of the present judgment . On 2 January 2019, President Arif Alvi approved the Khosa’s appointment as the Chief Justice of Pakistan.He will take oath on 18th JANUARY 2019.

ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات کے بعد صحافت کے کردار پر بحث

پاکستان کے ٹی وی چینلز پر اہم اور حساس واقعات کی کوریج سمیت “سب سے پہلے خبر” دینے کی دوڑ میں بعض اوقات غلط یا “کچے پکے حقائق” پر مبنی خبریں نشر کرنے کی وجہ سے اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ لیکن ضلع قصور میں رواں ماہ جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کم سن بچی زینب کے معاملے پر ایک سینئر اینکر پرسن کی طرف سے ایسے الزامات کے بعد جنہیں وہ تاحال ثابت نہیں کر سکے، ایک بار پھر ذمہ دارانہ صحافت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ زینب کے مبینہ قاتل عمران علی کی گرفتاری کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملزم ایک ایسے بین الاقوامی گروہ کا حصہ ہے جو بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کرنے میں ملوث ہے اور اس شخص کے غیر ملکی کرنسی کے کم از کم 37 بینک اکاؤنٹس ہیں۔

اینکر پرسن نے اپنے اسی پروگرام میں چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا اس مقدمے میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا معاملہ بھی پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن جب عدالتِ عظمیٰ نے شاہد مسعود کو طلب کیا تو وہ اپنے الزامات سے متعلق کوئی واضح ثبوت فراہم نہ کر سکے۔ پاکستان کا مرکزی بینک یہ واضح کر چکا ہے کہ تحقیق سے یہ پتا چلا کہ ملزم عمران علی کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ تاہم مذکورہ اینکر پرسن اب بھی اپنے الزامات پر قائم ہیں۔

شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے انھیں اس میں اپنے دعوے کے شواہد پیش کرنے کا کہا ہے۔ شاہد مسعود کی طرف سے تاحال ٹھوس شواہد فراہم نہ کیے جانے پر نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی خبر کی صداقت اور معیار پر زور و شور سے بحث جاری ہے اور سینئر صحافیوں سمیت غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اب ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس بارے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ٹی وی چینلز آئے ہیں ایک ایسا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ “یہ صرف ایک کیس کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک رجحان ہے۔ یہ ایک پیٹرن رہا ہے۔ جب سے ٹیلی ویژن چینل آئے ہیں اور یہ پیٹرن بڑھتا گیا اور اس کو چیک نہیں کیا گیا اور روکا نہیں گیا اور اسی وجہ سے پروگرام بھی اور خبریں بھی بغیر تصدیق کیے چلا دی جاتی ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ضابطۂ اخلاق موجود ہے لیکن بدقسمتی سے اس کی پاسداری نہیں کی جاتی اور جب بھی اس طرح کے سوالات اٹھتے ہیں تو کچھ وقت کے لیے ہی عمل ہوتا ہے لیکن ان کے بقول شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات سے میڈیا کے اپنے اندر تبدیلی لانے کی امید کی جا سکتی ہے۔

“امید ہے کہ اگر اب ادراک کیا گیا تو کیونکہ یہ معاملہ اب آگے بڑھے گا. جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی بات سامنے آئے گی چاہے وہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے حق میں آتی ہے یا ان کے خلاف، ہر دو صورتوں میں میڈیا کے لیے ایک گائیڈ لائن ضرور ہوگی. اگر انھوں نے ثبوت فراہم کیے تو یہ گائیڈ لائن ہو گی کہ کوئی بھی صحافی تحقیقات کرنے کے بعد کوئی چیز دیتا ہے اور اگر وہ ثبوت نہیں دیتے تو یہ ہو گا کہ آپ کتنے ہی بڑے اینکر ہوں، کتنے ہی بڑے صحافی ہوں، لیکن اگر آپ کے پاس مکمل حقائق نہیں ہیں تو بہتر یہ ہوتا ہے کہ آپ وہ خبر نہ دیں۔ ” مؤقر غیر سرکاری تنظیم ‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے چیئرمین اور ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ وہ ایک عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ نیوز چینلز میں ادارتی جانچ پڑتال کا مؤثر نظام وضع کیا جانا ضروری ہے لیکن ان کے بقول اس طرف توجہ نہ دیے جانے سے ایسی شکایات اور معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔

“میں بہت عرصے سے کہے جا رہا ہوں کہ میڈیا میں گیٹ کیپنگ کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی سینئر آدمی جو چینل میں ہو وہ خبروں کو دیکھے. بعض لوگوں کو ناموری کا شوق ہوتا ہے اور اس میں وہ ایسی حرکتیں بھی کر جاتے ہیں جو میرا خیال ہے صحافتی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں بھی میں سمجھتا ہوں کہ انھوں (شاہد مسعود) نے جو رویہ اپنایا وہ صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔” مظہر عباس بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اخبارات کی طرح ٹی وی چینلز کو بھی چاہیے کہ اگر کوئی خبر یا تبصرہ غلط ہو تو اس کی تردید یا معذرت ضروری کی جانی چاہیے۔

ناصر محمود

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو

ڈاکٹر شاہد مسعود کا کیا قصور ہے؟

اگر یہ بات ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہہ بھی دی تو کونسا ظلم کیا ہے۔ اس سے کونسی قیامت آ گئی ہے۔ اس کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ عام طور پر پاکستان میں ہر جرم کے پیچھے بااثر لوگ ہوتے ہیں وہ عام اور غریب لوگوں کو پہلے پھنسواتے ہیں۔ پھر ان کو چھڑواتے ہیں اور اپنے ووٹ پکے کرتے ہیں۔ ہمارے جمہوری نظام میں یہ لوگ تھانہ کچہری میں مجبور لوگوں کے معاملات کو نبٹانے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ وہ قانون سازی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے اور اس میں وہ سٹیٹس بناتے ہیں بلکہ ٹور بناتے ہیں اور اپنا رعب داب باقی رکھتے ہیں۔ وہ مصنوعی طور پر بڑے آدمی بن جاتے ہیں۔

بجائے اس کے کہ زینب کیس کی طرف پوری توجہ رکھی جاتی۔ الٹا اس شخص کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع ہو گئی ہے جس نے ایک بہت اہم اور معمول کے مطابق ظلم و ستم میں شریک بڑے لوگوں کے خلاف بات کی ہے۔ اب زینب کیس پیچھے رہ گیا ہے اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف کیس پوری طاقت سے شروع ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی دس گیارہ ایسے واقعات قصور میں ہوئے ہیں۔ پولیس حکومت اور عدالت کہاں تھی؟ یہ صرف میڈیا کا کمال ہے کہ مجرم سامنے آیا اور مجرموں کے پیچھے بااثر افراد کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ سانحہ کوئی معمولی نہیں ہے جس شخص کی تصویر سامنے آئی ہے وہ اکیلا اس قابل نہیں کہ کئی بچوں بچیوں کے ساتھ ظالمانہ کارروائی کر سکے پہلے ہونے والے واقعات کے لیے تو ڈاکٹر شاہد مسعود نے کوئی بات نہ کی تھی مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ میری گزارش عدالت اور حکومت سے ہے کہ اس معاملے کو الجھانے اور پھیلانے کی بجائے اصل شرمناک واقعے کی طرف توجہ رکھی جائے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اس حوالے سے جو بھی لوگ ملوث ہیں اور فائدے اٹھاتے ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مجرم کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

میں اس حوالے سے چوتھا کالم لکھ رہا ہوں۔ میرا قلم روتا ہے۔ جیسے انسانیت کا سر قلم کر دیا گیا ہو۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی باتیں اہم ہیں۔ انہیں اگنور نہ کیا جائے۔ اگر کوئی اس سانحے کے پیچھے ہے اور ضرور ہو گا تو اس کے لیے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ کارروائی کی جائے۔ قصور کے SHO سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ یہ کیوں ہوا۔ کیوں ہو رہا ہے اور تم نے اس کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ وہ ابھی تک ڈٹ کر تھانے بیٹھا ہے۔ اس کے پیچھے بقول ڈاکٹر شاہد مسعود کوئی بین الاقوامی گروپ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں کہاں کہاں کئی بین الاقوامی گروپ بڑے دھڑلے سے کام کر رہے ہیں۔

یہاں جو این جی اوز اور دوسرے ادارے ہیں ان کے عالمی سطح پر روابط ہیں انہیں بڑی بڑی گرانٹس ملتی ہیں۔ وہ ”کام“ اپنے وطن میں کرتے ہیں اور فنڈز باہر سے لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں ناروے گیا تھا وہاں لوگوں کے پاس ایسی فلمیں تھیں تو یہ کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے۔ اس حوالے سے کسی وزیر کا نام بھی آ رہا ہے۔ قصور کے ممبران اسمبلی اور بڑے لوگوں سے تفتیش کی جائے۔ انہیں باقاعدہ شامل تفتیش کیا جائے۔ جس شہر کا نام ہی قصور ہے وہاں شہر کے وارث لوگوں کو کیسے بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ان کا اپنا شہر ہے اور یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ یورے ملک اور پوری دنیا میں ایک بدنامی رسوائی اور ظالمانہ صورتحال کی خبریں عام ہوئی ہیں۔

ایک بڑی اینکر پرسن نسیم زہرا کہتی ہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کیس مثالی ہو سکتا ہے۔ کیا زینب کیس مثالی نہ ہو گا ؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے چونکہ بڑے لوگوں کا نام لیا ہے تو صحافی بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود بھی صحافی ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ وہ صحافی نہیں ہیں؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملے میں صحافیوں کو کیوں ملوث کیا گیا ہے۔ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود معافی مانگ لیں۔ وہ کس بات کی معافی مانگیں۔ ایک ایسی بات جو زینب سانحے سے متعلق ہے کہہ دینے میں کونسی توہین عدالت ہوئی ہے یا توہین صحافت ہوئی ہے تو توہین صحافت کرنے والے لوگ ہمارے یہاں کئی ہیں۔ انہیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔

ہمارے صحافی صحیح خبریں دیتے ہیں۔ کبھی کبھی غلط خبریں بھی چلی جاتی ہیں۔ غلط خبر کے لیے پرویز رشید کو سزا دی گئی اور خواجہ آصف کو جزا ملی۔ ایک ہی غلطی کے لیے دو مختلف معیار مقرر کیے گئے۔ میرے خیال میں زینب کیس کے حوالے سے جو ظلم ہوا ہے اس پر توجہ رکھی جائے۔ ان لوگوں کے لیے بھی تحقیقات کر لی جائیں جن کی طرف ڈاکٹر شاہد مسعود نے اشارہ کیا ہے۔ اسے صرف ایک اطلاع کے طور پر لیا جائے۔ باقی قوم حکومت اور تفتیشی ٹیم کا ہے۔ جب کوئی مقدمہ ہو تو اس کے لیے سارے معاملات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ ممکن ہے اس میں کوئی بڑی تلخ حقیقت موجود ہو۔

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

زینب قتل کیس : ڈاکٹر شاہد مسعود کو ثبوت پیش کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ غیر متعلقہ باتیں نہ کریں بینک اکاونٹس کے ثبوت دیں، اگر آپ کی خبر سچی نکلی تو آپ کو نمبر ایک صحافی ہونے کا اعزاز دیا جائے گا لیکن اگر یہ خبر غلط نکلی تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال سکتے ہیں. یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زینب قتل کیس میں پکڑا گیا ملزم عمران کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس گروہ میں مبینہ طور پر پنجاب کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر ان شخصیات کا نام لکھ کر دیئے تھے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کے دعوے کے بعد تحقیقات کی گئی لیکن مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ملا۔ جس کے بعد ترجمان پنجاب حکومت  نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹرشاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی تھی۔

نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم نااہلی کے لئے بنیاد مختلف ہو سکتی ہے. جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانج رکنی بینچ پاناما کیس کے فیصلے پر شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس میں حتمی فیصلہ جاری کرنے والا پانچ رکنی بینچ درست نہیں تھا۔ دو معززجج پہلے فیصلہ دے چکے تھے، فیصلہ دینے والے دو ججز پاناما عملدرآمد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی موقع دیا گیا کہ وہ وضاحت کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2 ممبران کے فیصلےکو چیلنج نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہےآپ نے فیصلہ قبول کیا۔ خواجہ حارث نے کہا وہ اقلیتی فیصلہ تھا، اس لیے چیلنج نہیں کیا کیونکہ اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، 20 اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔ خواجہ حارث نے کہا سوال یہ ہے کہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی؟ تحقیقات اور ٹرائل کے لیے مانیٹرنگ جج کی کوئی نظیر نہیں ملتی، نواز شریف کو ایف زیڈ ای کے معاملے پر نااہل قراردیا گیا، نااہلی کے لیے صفائی کا حق دینا بھی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نگراں جج کے ہوتے ہوئے شفاف ٹرائل کیسے ہو گا ؟ نگراں جج نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والےبینچ کا بھی حصہ تھے، نگراں جج کی تعیناتی سے نواز شریف کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، عدالت خود شکایت کنندہ، پراسیکیوٹر اور جج بن گئی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا تحقیقات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کی تعریف ضرور کی تھی مگر ٹرائل کورٹ میں اسکی سکروٹنی ہو گی، آپ کے پاس موقع ہو گا کہ آپ گواہان اور جے آئی ٹی ممبران سے جرح کر سکیں گے، ٹرائل کورٹ کو آزادی ہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ خواجہ حارث نے کہا 2 ججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، انہی دو ججز نے 28 جولائی کو مختلف فیصلے پر دستخط کیے، 20 اپریل کا اکثریتی فیصلہ منظور ہے، جس بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اس پر ان کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا، نواز شریف کی نااہلیت نہیں بنتی تھی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عملدرآمد بنچ ختم ہو گیا تھا، فیصلہ لکھنے والوں کو پتہ ہے کہ انہوں نے کیا لکھا۔

خواجہ حارث نے کہا بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کا چنائو کیا، انہوں نے ہی رپورٹ پر فیصلہ دیا، عملدرآمد بنچ کو آزاد ہونا چاہیے تھا۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا امید ہے آپ یہ نہیں کہیں گے کہ ججز سپریم کورٹ کا کام نہیں کر سکتے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کے مطابق 2 ججز نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ دیا، آپ نے 2 ججز کے فیصلے کو اقلیتی قرار دیا، 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر سب کے دستخط موجود تھے، عدالتی فیصلے میں اختلاف صرف جے آئی ٹی کے معاملے پر تھا، تین میں سے کسی جج نے نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو 5 ججز نے اپنا حتمی فیصلہ دے دیا، 20 اپریل کو نااہل کرنے والوں نے 28جولائی کو کچھ نہیں کہا، وجوہات مختلف لیکن نتیجہ ایک ہی اخذ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کی نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔