امریکہ، روس شام میں کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں ۔ لیکن، کیا وہاں اُنہی کا کنٹرول ہے؟

گذشتہ ہفتے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام میں وسیع تر لڑائی بھڑکانے سے احتراز برتا، جب مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں اُنھوں نے بشار الاسد کے خلاف ٹھیک ٹھیک نشانے پر میزائل داغے۔ لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آگے بہت سے خطرات لاحق ہیں جن کے سبب بڑی طاقتوں کے علاوہ ہمسایہ ملک شام کی دلدل میں الجھ سکتے ہیں جس کا نتیجہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تنازع کے صورت میں سامنے آسکتا ہے، بیشک وہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اسد کو اقتدار سے ہٹانے کا معاملہ ترک کر دیا ہو اور ترکی کی سرحد کے قریب شمال اور اردن سے ملحقہ جنوب میں چند مقامات ہیں جن پر ہی باغیوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے، جب کہ شام کے تنازع کا خاتمہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔

چھوٹے چھوٹے تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ جو فریق تنازع میں ملوث ہیں اُن کے لیے یہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے، جب کہ معاملہ طاقت کی سطح کو مضبوط کرنے پر الجھن اور جستجو کا ہے۔ متعدد غیر ملکی طاقتیں لڑائی کے بعد شام کی تعمیر نو میں نہ صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ ایسا کر کے اپنے طویل مدتی مفاد کو قائم رکھنے کی خواہاں ہیں، اور ساتھ ہی جو علاقہ اس وقت اُن کے قبضے میں ہے وہ اُسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ شمال میں ترکی امریکہ کے شامی کُرد اتحادیوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا چاہتا ہے، اور اسے وسیع تر کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ سنی عرب باغی اور کُرد ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے ہیں، جس پر امریکہ متوجہ ہو سکتا ہے۔ ادھر، القاعدہ اب بھی ایک مہلک اور با اثر فورس ہے جب کہ داعش گروپ کی باقیات پر حاوی پانا ابھی باقی ہے۔

ترکی کے علاوہ، کافی علاقہ ایسا ہے جو ایرانی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے، جس میں ایران کا لبنانی ساتھی حزب اللہ شامل ہے، جس نے ملک کے کئی فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں، جس کام میں عراق اور افغانستان سے آنے والے ایرانی قیادت والے شیعہ افراد شامل رہے ہیں۔ اور، شام میں بیرونی طاقتوں کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ وہ کس طرح اپنے نام پر جاری جھگڑوں سے جان چھڑائیں اور بناوٹی ساتھیوں سے کس طرح دور رہیں، جس کثیر فریقی پیچیدہ صورت حال میں ملیشیائیں، جنگجو اور ملک آ جاتے ہیں، جن سبھی کے ایجنڈے متضاد نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کی تین سرکاری تنصیبات کا صفایا کرنے کے لیے داغے گئے 105 کروز میزائل حملوں کے بعد مغربی سیاسی اور فوجی قائدین کو ایک سکون ملا۔ صورت حال تب بدتر ہوتی اگر سزا دینے کی اِس کارروائی کے دوران جوابی روسی کارروائی سامنے آتی۔ اور داغے گئے میزائلوں کو مار کرانے کی شامی فوج کی کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، حالانکہ، پینٹاگان کے حکام کے مطابق، روس اور شام نے اس قسم کے دعوے ضرور کیے۔ تاہم، صورت حال بگڑنے کا خدشہ اب بھی باقی ہے، حالانکہ ہفتے کو ایسا نہیں تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سب سے بڑا خطرہ شام میں اسرائیل اور شام کے درمیان الجھاؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

Advertisements

شام کی لڑائی میں ترکی کہاں کھڑا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور شام دو ایسے ممالک ہیں جو روس کے ساتھ بڑی گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ دراصل ان دونوں ممالک کی یہ وابستگی ان کی بقا کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاہ ایران کے دور میں ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے اتحادی ملک تھے لیکن ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے جس کے نتیجے میں ایران امریکہ کی گود سے نکل کر روس آغوش میں جا گرا اور اس وقت سے روس ایران کے مفادات کا تحفظ کرتا چلا آرہا ہے اور دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے ہیں۔

شام کے امریکہ کے ساتھ کبھی بھی قریبی تعلقات نہیں رہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں شام ہی واحد ملک تھا جس کے سوویت یونین کےساتھ تعلقات اپنی بلندیوں کو چھو رہے تھےاور حافظ الاسد کے انتقال کے بعد بشار الاسد نے برسر اقتدار آنے پر اپنے والد سے ہٹ کر پالیسی اپنائی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لئےخصوصی توجہ دی اوراس دور میں بشار الاسد کو دنیا بھر میں مقبولیت بھی حاصل ہونا شروع ہو گئی۔ بشار الاسد نے اسی دوران ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات جو کہ بہت ہی خراب تھے کو بہتر بناتے ہوئے ترکوں کے دلوں میں بھی جگہ بنائی۔

ترکی اور شام کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی کا ایک دور ایسا بھی آیا جب
دونوں ممالک کی کابینہ کے مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہوئے اور دونوں ممالک نے تعاون کے باون مختلف سمجھوتوں پر دستخط بھی کیے۔ بشار الاسد، صدر ایردوان کو اپنا بڑا بھائی سمجھنے لگے اور دونوں رہنما شیر و شکر ہو گئے۔ ترکی کے صدرایردوان نے مشرقِ وسطیٰ میں’’ بہارِ عرب‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی نئی جمہوری تحریک کے بعد شام میں جمہوریت کو مضبوط بنانے اور ملک میں جمہوری اصلاحات کرنے کی تلقین کی اور بشار الاسد اس تلقین کو قبول کرتے ہوئے بھی دکھائی دئیے لیکن خفیہ قوتوں نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا.

حالانکہ صدر ایردوان نے اس سلسلے میں بشار الاسد سے کئی بار قریبی رابطہ قائم کیا اور جمہوری اصلاحات متعارف کروانے کے لئے ہر ممکنہ تعاون کی بھی یقین دہانی کروائی لیکن یہ بیل منڈھے چڑھنے میں ناکام رہی اور دونوں رہنما ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئےاور پھر شام میں شروع ہونے والی بہار عرب کی تحریک خانہ جنگی کا روپ اختیار کرتی چلی گئی اور اُس وقت سے اب تک شام خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ شام میں گزشتہ آٹھ سالوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران لاکھوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں ہی کی تعداد میں شامی باشندے ہمسایہ ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس دوران بشار الاسد انتظامیہ نے مخالفین سے چھٹکارا پانے کے لئے بمباری کے ساتھ ساتھ کیمیائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

شامی انتظامیہ نے سب سے پہلے 19مارچ 2013ء کو اپنے ہی زیر کنٹرول علاقے خان الاصل میں اعصاب شکن گیس استعمال کی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے سات اپریل کے شامی انتظامیہ کے حالیہ کیمیائی حملے کے بعد کہا کہ ’’ اگر امریکہ کے اتحادی 2013ء میں ہی شام کے ان کیمیائی حملوں کے خلاف کارروائی کرتے تو شام کو دوبارہ کیمیائی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ شامی انتظامیہ نے 2013 ہی میں 21 اگست کو مخالفین کے زیر کنٹرول علاقے غوطہ پر کیمیائی حملہ کیا جس میں 14 سو سے زائد افراد مارے گئے ۔27 ستمبر 2013ء کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے تلف کرنے کاحکم دیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں طاقت کے استعمال کی وارننگ بھی جاری کی جس پر شامی انتظامیہ نے اکتوبر 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کی مزاحمت کار تنظیم (OPCW) کی نگرانی میں اپنے کیمیکل ہتھیار تلف کرنا شروع کر دئیے اور 23 جون 2014ء کو OPCW نے شام میں تمام کیمیائی ہتھیار ناکارہ بنائے جانے کا اعلان کیا۔

لیکن مارچ 2017ء میں شام میں انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ادلب میں مخالفین کے زیر قبضہ ایک علاقے پر ایک مرتبہ پھر کیمیائی حملے میں 88 افراد کے ہلاک ہونے سے آگاہ کیا اور 7 اپریل 2018ء کے دوما میں حالیہ کیمیائی حملے نے امریکہ اور اس کے دو اتحادی ممالک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شامی دارالحکومت دمشق کے ضلعے برضح اور حمص کے قریب واقع دو حکومتی تنصیبات پر مجموعی طور پر 105 میزائل داغے۔ پینٹاگون کے مطابق ان حملوں میں شامی حکومت کے زیر استعمال کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے تین مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ شامی خانہ جنگی میں مغربی ممالک کی یہ سب سے بڑی عسکری مداخلت ہے۔ تاہم امریکہ، فرانس اور برطانیہ کیمطابق ان حملوں میں فقط شام کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں کا مقصد اسد حکومت کا خاتمہ یا شامی تنازعے میں مداخلت نہیں تھا۔

ترک صدر ایردوان نے دنیا کو بہت پہلے ہی شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں متنبہ کیا تھا اوراس کے خاتمے کے لئے اپنی بھرپور کوششیں صرف کی تھیں۔ انہوں نے شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دیتے ہوئے ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور اس سلسلے میں امریکہ اور روس کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کرنے کی کوشش کی تاکہ شام میں معصوم انسانوں کو مرنے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے روس اور امریکہ کے رہنمائوں سے شام کے مسئلے پراحتیاط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ اور روس کے صدر ولادِ میر پیوٹن سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی ٹیلی فونک بات چیت کی۔ دیکھا جائے تو ترکی ہی علاقے میں واحد ملک ہے جو امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ بڑے خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے اور ان سپر قوتوں سے برابری کی سطح پر اپنی باتیں منوانے کا بھی حق رکھتا ہے۔ ترکی ایک طرف نیٹو کا رکن ملک ہے تو دوسری طرف اس کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ہیں۔

اس سے ایس 400 میزائل خرید رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پہلا ایٹمی پلانٹ بھی روس ہی کے تعاون سے لگایا جا رہا ہے۔ ترکی اپنے ان تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روس اور امریکہ کے درمیان شام کے معاملے پر ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں روسی پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ، ولادیمیر شمانوف کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور روس کےفوجی سربراہان کے درمیان ترکی کے توسط سے رابطہ قائم ہوا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژاں اسٹولٹنبرگ بھی ترکی کے دورے پر پہنچے اور انہوں نے صدر ایردوان سے علاقے کی صورتِ حال پر بات چیت کی۔ گزشتہ ہفتے ہی انقرہ میں صدر ایردوان کی نگرانی میں شام کی صورتِ حال سے متعلق سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں روس کے صدر ولادِ میر پوتن اور ایران کے صدر حسن روحانی نے شرکت کی تھی اور اب یہ سہ فریقی سربراہی اجلاس ایران میں منعقد ہو گا۔ شام سے متعلق سربراہی اجلاس سے ترکی شام کے حامی اور شام کے مخالف ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ساڑھے تین ملین شامی مہاجرین کو پناہ دیتے ہوئے ایک ثالث اور انسان دوست ملک ہونے کا بھی ثبوت فراہم کر رہا ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

کیا شام کا مسئلہ ایک اقتصادی جنگ ہے؟

ہر جنگ کے کچھ اقتصادی اثرات ہوتے ہیں۔ شام کی جنگ ایک ایسی کثیر الجہتی پراکسی جنگ ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں شامل ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے اقتصادی اثرات بھی وسیع ہوں گے۔
پے در پے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ خام تیل، گیس اور ایلومینیم کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ دو ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات کسی نہ کسی طریقے سے شام میں جاری کثیر الجہتی پراکسی جنگ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امریکا ہر صورت میں شامی حکومت کے حامی روس اور ایران کی معیشت کو عالمی منڈیوں سے الگ کرتے ہوئے انہیں کمزور بنانا چاہتا ہے۔ امریکی خارجہ اور فوجی پالیسیوں میں یہ دونوں ممالک دشمن کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں۔ سن 2017 میں امریکی حکومت نے کاسٹا (سی اے اے ایس ٹی اے) نامی ایک خصوصی قانون منظور کیا تھا، جس کا مقصد روس، ایران اور شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی جنگ میں مدد حاصل کرنا تھا۔

چند روز پہلے امریکا نے اسی کاسٹا نامی قانون کو استعمال کرتے ہوئے روسی مفادات کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں کے ذریعے سات ایسی انتہائی بڑی کاروباری شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن سے درجنوں کمپنیاں جڑی ہوئی ہیں۔ اسی طرح سترہ اعلیٰ روسی سرکاری عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان میں روس کی ایلومینیم تیار کرنے والی روسل نامی کمپنی بھی شامل ہے، جس کا عالمی مارکیٹ میں نو فیصد حصہ ہے۔ ان پابندیوں کے بعد اس کمپنی کے شیئر فوراﹰ گرنا شروع ہو گئے تھے اور روسی کرنسی روبل کی قدر میں بھی کمی ہو گئی تھی۔ اسی ہفتے ایلومینیم کی قیمتوں میں دس گنا اضافہ دیکھا گیا۔

امریکا نے روس کی دو بڑی توانائی کی کمپنیوں گیس پروم اور سورگونیفٹ گیس کے سربراہان پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسی طرح روس کی اس آئل کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو روس میں گیارہ فیصد خام تیل کی پیدوار کی ذمہ دار ہے۔ گیس پروم اور سورگونیفٹ گیس کمپنیوں پر فی الحال پابندیاں عائد نہیں کی گئیں کیوں کہ ایسا کرنے سے امریکا کے اتحادی یورپی ممالک کو گیس کی ترسیل میں خلل پیدا ہوتا اور پھر یورپ نے اس کی شدید مخالفت کرنی تھی۔ دوسری جانب  مقامی منڈی میں ایرانی ریال کی قیمت باسٹھ ہزار ریال فی امریکی ڈالر تک گر گئی تھی، جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی اور جو اس سے دو دن قبل سات اپریل کے روز ریال کی قیمت کے مقابلے میں 18 فیصد کم تھی۔

بشکریہ DW اردو

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

سات سال قبل شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج نے جلد ہی کھلم کھلا خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی جس میں اب تک اس میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور اس سے متعدد شہر اور قصبے تباہ ہو گئے ہیں۔

جنگ شروع کیسے ہوئی؟
لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی بہت سے شامیوں کو صدر اسد کی حکومت سے بےروزگاری، بدعنوانی اور سیاسی پابندیوں کی شکایتیں تھیں۔ بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ 2000 میں اقتدار میں آئے تھے۔ مارچ 2011 میں جنوبی شہر دیرا میں پڑوسی عرب ملکوں کے ‘عرب سپرنگ’ سے متاثر ہو کر جمہوریت کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں تشدد پھوٹ پڑا۔ حکومت نے اسے کچلنے کے لیے مہلک طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہونے لگا جن میں صدر اسد سے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

مظاہروں اور انھیں دبانے کے لیے طاقت میں شدت آتی گئی۔ حزبِ مخالف کے حامیوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے اور انھیں پہلے اپنے دفاع اور بعد میں سکیورٹی فورسز سے لڑنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ بشار الاسد نے کہا کہ مظاہرے ‘بیرونی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی’ ہے، اور عزم کیا کہ وہ انھیں کچل کر رہیں گے۔ تشدد پھیلتا چلا گیا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔

کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں؟
برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے شام میں موجود ذرائع نے مارچ 2018 تک شام میں 353,900 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں 106,000 عام شہری ہیں۔ اس تعداد میں وہ 56,900 افراد شامل نہیں ہیں جو یا تو غائب ہیں یا پھر ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ اسی دوران خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے وی ڈی سی نے شام میں اپنے ذرائع کی مدد سے بین الاقوامی انسانی قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کی خبر دی ہے۔ اس نے فروری 2018 تک جنگ میں 185,980 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے جن میں 119,200 عام شہری شامل ہیں۔

جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے؟
بہت جلد جنگ صرف بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان محدود نہیں رہی۔ اس میں متعدد تنظیمیں اور متعدد ملک ملوث ہو گئے جن میں ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے۔ ایک طرف مذہبی جنگ ہو رہی ہے، جس میں سنی اکثریت صدر اسد کی علوی شیعہ اقلیت سے نبردآزما ہے۔ دوسری طرف ملک کے اندر بدامنی سے دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو وہاں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
شام میں رہنے والے کرد الگ ہیں جو سرکاری فوج سے تو نہیں لڑ رہے لیکن اپنے لیے الگ ملک چاہتے ہیں۔

شامی حکومت کو ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے، جب کہ امریکہ، ترکی اور سعودی عرب باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ روس نے شام میں فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور اس نے 2015 سے بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے پانسہ اسد کی حمایت میں پلٹ گیا ہے۔ روسی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف ‘دہشت گردوں’ کو نشانہ بناتی ہے، لیکن امدادی کارکنوں کے مطابق وہ حکومت مخالف تنظیموں اور شہریوں پر بھی حملے کرتی ہیں۔

دوسری طرف ایران کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے سینکڑوں فوجی شام میں سرگرمِ عمل ہیں اور وہ صدر اسد کی حمایت میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ایران ہزاروں شیعہ جنگجوؤں کو تربیت دے رہا ہے۔ زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق لبنان کی حزب اللہ سے ہے، لیکن ان میں عراق، افغانستان اور یمن کے شیعہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے باغیوں کو مختلف قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ ایک بین الاقوامی اتحادی فوج 2014 سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ ان کی وجہ سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نامی باغی دھڑے کو بعض علاقوں پر تسلط قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

ترکی ایک عرصے سے باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن اس کی توجہ کا مرکز کرد ملیشیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ اس کا تعلق ترکی کی ممنوعہ باغی تنظیم پی کے کے سے ہے۔ سعودی عرب کو فکر ہے کہ شام میں ایران اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، اس لیے وہ باغیوں کو اسلحہ اور پیسہ دے رہا ہے۔ اسرائیل کو تشویش ہے کہ حزب اللہ کو ملنے والا اسلحہ اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے وہ بھی شام میں حملے کر رہا ہے۔

شامی عوام کے مصائب
جنگ کی وجہ سے لاکھوں اموات کے علاوہ کم از کم 15 لاکھ شامی مستقل معذروی کا شکار ہوئے ہیں، جب کہ 86 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا کوئی عضو ضائع ہوا ہے۔ بےگھر ہونے والوں کی کل تعداد 61 لاکھ ہے جب کہ 56 لاکھ دوسرے ملکوں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

موجودہ زمینی صورتِ حال
حکومت نے ملک کے اکثر بڑے شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی بڑے پیمانے پر ایس ڈی ایف کے باغیوں کا کنٹرول ہے۔
باغیوں کے قبضے میں سب سے بڑا صوبہ ادلب ہے جس کی آبادی 26 لاکھ ہے۔
ادلب کو ‘غیر جنگی علاقہ’ قرار دیا گیا ہے، لیکن حکومتی فوج اس پر یہ کہہ کر حملے کرتی رہتی ہے کہ یہاں القاعدہ کے جنگجو چھپے ہیں۔ ایس ڈی ایف اب رقہ پر بھی قابض ہے جو 2017 تک دولت اسلامیہ کا نام نہاد دارالخلافہ تھا۔ اس کے علاوہ مشرقی غوطہ پر حملہ جاری ہے، جہاں چار لاکھ کے قریب افراد 2013 سے حکومتی محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جنگ کیسے ختم ہو گی؟
ماہرین کے مطابق اس تنازعے کا تصفیہ جنگ سے نہیں سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2012 کی جنیوا مراسلے کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں صلاح و مشورے سے ‘عبوری حکومت’ قائم کی جائے۔ لیکن 2014 کے بعد سے اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں جنیوا 2 کہلائے جانے والے مذاکرات کے نو دور بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ صدر اسد حزبِ مخالف سے بات کرنے سے کترا رہے ہیں، جب کہ باغیوں کا اصرار ہے کہ پہلے اسد استعفیٰ دیں۔ اسی دوران مغربی ملکوں کا الزام ہے کہ روس نے ایک متوازی سیاسی عمل شروع کر کے امن مذاکرات کھٹائی میں ڈال دیے ہیں۔ جنوری 2018 میں روسی نے ‘آستانہ عمل’ کا آغاز کیا، تاہم اس میں حزبِ اختلاف کی اکثر جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

پینٹا گون چیف دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ سے بچائیں

پینٹاگون کو جاری کئے گئے ایک پیپر میں ڈینئل ایلسبرگ نے خبردار کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع جم میٹس سے کہا ہے کہ وہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کاروائی کا آغاز کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حکم سے بچائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برس کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ صورتحال جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جانب جا رہی ہے ۔ پیپر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بااختیار شخص ہونے کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کر رہے ہیں۔

ایلسبرگ جو ایک سابق فوجی تجزیہ نگاربھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ کا منصوبہ عالمی تباہی میں تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ پینٹاگون پیپر 3 بڑی جوہری طاقتیں امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے بشارت الاسد کے خلاف اقدامات کرنے اور شام میں کیمیائی حملے کے بعد دیئے گئے ان بیانات کے بعد سامنے آئے ہیں ۔ الیسبرگ کا مزید کہنا ہے کہ یہ ایک بہت خطرناک وقت ہے ۔انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر کاروائی کرنے کے لفظی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ایک اور جوہری طاقت کو جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں ۔

جب کہ 4 جوہری طاقتیں مل کر شام پر کاروائی کر رہی ہیں اور ان پر سیاسی دبائو بھی ہے ۔ ایلسبرگ نے میٹس پر زور دیا ہے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کیلئے تیار رہنا چاہیئے ، تاہم میٹس کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے اس قسم کے حکم کو اپرول کے بغیر نہیں مانا جائے گا اور مٹس ڈونلڈ ٹرمپ کو شام اور شمالی کوریا میں ایسے کسی اقدام سے روک لیں گے ۔

دونوں سپر قوتیں محلے کے بدمعاشوں کی مانند ایک دوسرے کو دہمکیاں دے رہی ہیں

ترکی کے وزیر اعظم نے روس اور امریکہ کو شام کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب گلی کوچوں کی جنگ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس جنگ کا خمیازہ سویلین اپنے جانیں دیتے ہوئے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں یوریشیا اقتصادی سربراہی اجلاس کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مستقل نمائندئے جن کو بڑی قوت حاصل ہے پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ٹویٹ کے ذریعے متنبہ کر رہے ہیں۔ کیا دنیا ان دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے جن میں ہزاروں افرا ہلاک ہو چکے ہیں تماشا ہی دیکھتے رہیں گے؟ ایک کہتا ہے میرے میزائل زیادہ موثر ہیں جبکہ دوسرا کہتا ہے میرے میزائل زیادہ طاقتور ہیں۔

یہ ممالک محلے کی لڑائی کی طرح ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ محلے کے بد معاشوں کے مانند لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ لیکن اس کا حساب کون چکا رہا ہے۔؟ بے چارے معصوم سویلین چکا رہے ہیں۔ علاقے میں مزید خون خرابہ روکنے کے لیے شام میں برسر پیکار ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ لڑائی کا وقت نہیں ہے بلکہ علاقے میں زخمی ہونے والے افراد کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا وقت ہے۔ ان تمام ممالک کو اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے علاقے میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو آپس میں اتحاد کرتے ہوئے شام اور عراق میں امن کے قیام کے لیے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔

بشکریہ RT اردو

کیا صدر ٹرمپ شام پر میزائل حملہ کر دیں گے ؟

صدر ٹرمپ نے روس کو متنبہہ کیا ہے کہ وہ شام کے اندر کیمیائی حملے کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں اور ساتھ ہی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’’ روس تیار ہو رہو، میزائل آ رہے ہیں، بہترین، جدید اور سمارٹ‘‘. دوسری جانب روس نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔ صدر ٹرمپ کا ٹویٹ محض انتباہ ہے یا اس پر عمل درآمد بھی ہو سکتا ہے؟ ردعمل کیا ہو گا ؟ وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں اسد حسن کے ساتھ گفتگو میں ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ صورتحال بہت پیجیدہ ہے، صدر ٹرمپ کے واضح اعلان کے بعد شام پر امریکہ کے حملہ کرنے یا نہ کرنے، دونوں صورتوں میں نتائج سنگین ہیں۔

’’ اب جبکہ صدر ٹرمپ نے حملے کا اعلان کر دیا ہے تو بدقسمتی سے یہ حملہ ہو کر رہے گا۔ اگر حملہ نہیں ہوتا تو پھر (صدر ٹرمپ کی) ساکھ کو مزید دھچکہ پہنچے گا‘‘۔ زبیر اقبال کے بقول امریکہ کے صدر ٹرمپ کے بیانات تضاد ناتجربہ کاری کے عکاس ہیں یہ ناتجربہ کاری ہے۔ ان کے مشیروں کو چاہیے کہ مناسب سمت کی جانب ان کی راہنمائی کریں۔ ناتجربہ کاری بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسرے ملک اس کو اس نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو پالیسیوں میں لڑکھڑاہٹ یا تذبذب کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ملکوں کے لیے اس کے بہت خطرناک نتائج ہوا کرتے ہیں‘‘۔

پاکستان سے تجزیہ کار، سابق سفیر ظفر ہلالی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے شام پر میزائل حملے کے عندیہ پر تنقید کی اور کہا کہ امریکہ وہیں حملے کیا کرتا ہے جہاں اسے یقین ہو کہ جواب میں حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہو کہ جواب میں کاروائی ہو گی تو وہاں وہ بات چیت کیا کرتا ہے۔ اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر میزائل حملہ ان کے الفاظ میں احمقانہ فیصلہ ہو گا جس کے حق میں دلائل نہیں دیے جا سکتے۔ سال 2013 میں اوباما انتظامیہ بھی شام پر اس وقت حملے پر سوچ بچار کرتی رہی ہے جب صدر بشارالاسد نے امریکہ کی جانب سے متعین کردہ سرخ لکیر پار کی تھی اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

اسد حسن

بشکریہ وائس آف امریکہ

اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملے کا امکان

فضائی حدود کی نگرانی کے یورپی ادارے ’یوروکنٹرول‘ نے فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے گزرنے والی اپنی پروازوں کے حوالے سے احتیاط کریں کیونکہ اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد سے صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مغربی اتحادی دوما میں کیے جانے والے اس مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرتے ہوئے صدر اسد کو سزا دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ماسکو اپنے حلیف اسد کے خلاف کسی بھی طرح کی عسکری کارروائی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بارہ قراردادوں کا راستہ روک چکا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ دوما میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین ہوتے ہی اس کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ماسکو اور واشنگٹن شامی علاقے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک اس واقعے کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس تناظر میں ایک دوسرے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے لاطینی امریکی خطے کا پہلے سے طے شدہ اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ شام پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ سیریئن ریلیف گروپ کے مطابق اس واقعے میں ساٹھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ڈیڑھ سو ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔

بشکریہ DW اردو

شام میں ’کیمیائی حملے‘ کی تحقیقات کیلئے قرار داد، روس نے ویٹو کر دی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس، شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے، کسی قسم کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں ناکام ہو گئے۔ کونسل کے اجلاس میں، شام کے علاقے ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے نتیجے میں 40 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کو روس نے ویٹو کر دیا۔ 12 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، بولیویا نے مخالفت میں روس کا ساتھ دیا جب کہ چین نے ووٹنگ میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

خیال رہے کہ کسی بھی قرار داد کو منظور کرنے کے لیے کل 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں اس حوالے سے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ روس، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے مخالفت میں ووٹ نہ دیا جائے۔ روس کے ویٹو کرنے کے بعد، ایک اور قرار داد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی، جو ماسکو کی حمایت کردہ تھی، تاہم 7 ممالک کی مخالفت کے باعث اسے مسترد کر دیا گیا، چین سمیت پانچ ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دو نے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

امریکا اور روس کی باہمی کشمکش
ووٹنگ سے قبل امریکا اور روس کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ روس کے نمائندے وسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ڈوما میں مشتبہ کیمیائی حملے کو جواز بنا کر امریکا کی جانب سے کی گئی کسی بھی کارروائی کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ شامی افواج کی حمایت کر کے روس نے اپنے ہاتھ شام کے معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
واضح رہے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، شام کے مشرقی حصے غوطہ کے علاقے میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے بعد بگڑتی صورتحال کے باعث طلب کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران شدید تنقید کے تبادلے کے بعد سلامتی کونسل کے مندوبین کی جانب سے کسی ممکنہ حل کی کوشش کے لیے تین تجاویز پر بند کمرے میں مشاورت بھی کی گئی۔ نمائندوں کے مطابق امریکا کا موقف تھا کہ وہ اس بارے میں گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن دنیا کی نظریں سلامتی کونسل کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ امریکا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی قرار داد کے مسودے پر روس کے خدشات دور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے لیکن جو بھی کرنا ہے جلد کرنا ہو گا۔

امریکا کی جانب سے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد مذمتی قرار داد کے ذریعے شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا۔ قرار داد کا مسودہ ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے حوالے سے تھا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے عوام کا جانی نقصان ہوتا رہے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ اس واقعے پر سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور امریکا کے پاس بہت سے عسکری راستے موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے جلد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکا، برطانیہ اور فرانس کی شام پر حملے کی منصوبہ بندی

شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، روس نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کر دی ہے، قرارداد شام میں کیمیائی حملے سے متعلق تحقیقات سے تھی، امریکا نے بھی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد کو ویٹو کر دیا، اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ شام پر کسی بھی حملے سے قبل ہوش سے کام لیا جائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو روز کے دوران زہریلی حملے سے متعلق سخت رد عمل دیں گے، برطانوی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر مغربی اتحادیوں نے مطالبہ کیا تو وہ بھی شامی حکومت پر حملے میں شامل ہو سکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیردفاع جم میٹس نے اپنے بیرونی دورے منسوخ کر دیے ہیں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے پر ردعمل دینے کے لیے ہمارے پاس عسکری سطح پر کئی راستے موجود ہیں جس کے لیے مغربی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے، صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو بھی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی حکومت کو کیمیائی حملوں کی اجازت نہیں دے سکتے، دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شام پر حملے کا فیصلہ کیا تو وہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے اتحادیوں امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر رد عمل دیں گے، میکغوں کا کہنا تھا کہ فرانس کی معلومات کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذمہ دار شامی حکومت ہے.

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر حملے کا مطالبہ کیا تو وہ یقیناً ایسا کریں گے، ادھر ممکنہ حملے کے پیش نظر شامی فوج نے اپنی تمام فوجی پوزیشنز کو الرٹ کر دیا ہے، سیرین آبزرویٹری کے مطابق تمام فضائی، بری اور بحری اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، شامی فوج کے ایک زریعہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قطر کے امیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی اور ٹرمپ نے شام کی صورت حال اور خلیجی امور پر بات کی۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر میں مفاہمت چاہتے ہیں ۔