’تباہ کن حالات‘ کے شکار تیرہ ملین شامیوں کو مدد کی اشد ضرورت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اس وقت ’تباہ کن حالات‘ کا سامنا کرنے پر مجبور تیرہ ملین یا سوا کروڑ سے زائد انسانوں کو فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی شہر نیو یارک سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے امدادی کارروائیوں کے رابطہ کار مارک لوکاک نے اردن سے ایک ویڈیو رابطے کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ شام میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے باوجود 13 ملین شامی باشندوں کو ابھی تک فوری مدد کی ضرورت ہے۔

مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتایا، ’’ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں، وہ کسی بھی شک و شبے سے بالا تر ہے اور وہ یہ کہ شام کے خونریز بحران کے عام شہریوں پر ابھی تک شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘
اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ اہلکار نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ شام کے صرف ایک شمالی شہر الرقہ سے، جسے داعش نے اپنا دارالخلافہ قرار دے رکھا تھا، چار لاکھ چھتیس ہزار افراد فرار ہو کر ساٹھ سے زائد مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

اسی طرح شام کے مشرقی شہر دیرالزور سے ساڑھے تین لاکھ شامی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں سے ڈھائی لاکھ یا ایک چوتھائی ملین تو ایسے شامی باشندے تھے، جن کے پاس صرف اس سال اگست سے لے کر اب تک دیر الزور میں اپنے گھروں سے رخصتی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔  مارک لوکاک کے مطابق جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ اور انتہائی پریشان کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ان سوا کروڑ سے زائد شامی باشندوں میں سے قریب تین ملین تو وہ ہیں، جو ایسے علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں امدادی کارکنوں کی ان تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا گیا کہ ان حالات کی وجہ سے شام میں اقوام متحدہ اور اس کے پارٹنر اداروں کی طرف سے جن امدادی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، وہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے بڑی امدادی کارروائیاں ہیں۔ اس بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر میتھیو رائکروفٹ نے سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک برطانیہ، امریکا، فرانس، روس اور چین کو شام میں قیام امن کے لیے اگلے ماہ جنیوا میں ہونے والے نئے مذاکراتی دور کی کامیابی کے لیے بھرپور کاوشیں کرنا چاہییں۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اشٹیفان ڈے مستورا کے مطابق اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں شامی امن بات چیت کا اگلا اور مجموعی طور پر آٹھواں دور اٹھائیس نومبر کو ہو گا۔ اس سے قبل انہی مذاکرات کا ساتواں دور بھی جنیوا ہی میں جولائی میں ہوا تھا.

بشکریہ DW اردو

Advertisements

ترک فوج شامی صوبے ادلب ميں داخل

پچھلے دنوں ترکی، روس اور ايران کی ثالثی ميں شام ميں ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام کے سلسلے ميں طے پانے والے سمجھوتے کے تحت ترک افواج شام کے شمال مغربی صوبے ادلب ميں داخل ہو گئی ہيں۔ ترک افواج کا ايک قافلہ جہاديوں کے زير کنٹرول شامی صوبے ادلب ميں داخل ہو گيا ہے۔ اس پيش رفت کی تصديق شامی امور پر نگاہ رکھنے والے مبصر ادارے سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس نے کر دی ہے۔ يہ فوجی قافلہ اب حلب کے مغربی حصے کی جانب گامزن ہے۔ تاحال يہ واضح نہيں کہ یہ قافلہ کتنا بڑا ہے اور اس بارے ميں ابھی تک انقرہ نے بھی باقاعدہ کوئی بيان جاری نہيں کيا ہے۔ قبل ازيں اسی ہفتے کے آغاز پر ترک فوج نے اپنے ايک بيان کے ذريعے مطلع کيا تھا کہ ادلب ميں آپريشن کے ليے چيک پوسٹيں تعمير کی جائيں گی۔

پچھلے ہفتے ترک صدر رجب طيب ايردوآن نے بھی کہا تھا کہ ترک افواج کی حمايت سے شام ميں سرگرم ترکی نواز باغی ’حيات تحرير الشام‘ نامی جہادی اتحاد کے خلاف عسکری مہم کی قيادت کريں گے۔ يہ آپريشن در اصل ايران، روس اور ترکی کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد آستانہ مذاکراتی امن عمل کے تحت شام ميں ’تشدد ميں کمی‘ کے ليے مخصوص علاقوں کا قيام ہے۔ امن عمل کا طويل المدتی مقصد شام ميں قيام امن ہے تاہم ابتدائی طور پر اس جنگ زدہ ملک ميں چار ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سلسلے ميں تين ’ڈی اسکليشن زونز‘ پہلے ہی مقرر کيے جا چکے ہيں، جن ميں سے ايک دارالحکومت دمشق کے پاس، دوسرا وسطی حمص ميں اور تيسرا جنوبی شام ميں واقع ہے۔ ان زونز کی نگرانی روسی ملٹری پوليس کے سپرد ہے۔ ادلب صوبے ميں اکثريتی علاقوں پر ’حيات تحرير الشام‘ کا کنٹرول ہے۔

اقوام متحدہ کا جنگی جرائم کی تحقیقات کا کمیشن شام میں کچھ نہیں کر سکتا

ماضی میں جنگی جرائم کے مقدمات میں وکیلِ استغاثہ کے فرائص انجام دینے والی کارلہ دل پونٹے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے کمیشن سے استعفیٰ دے رہی ہیں کیونکہ یہ کمیشن ’کچھ بھی نہیں کرتا‘۔ کارلہ دل پونٹے اقوام متحدہ کے شام کے حوالے سے کمیشن کا تقریباً پانچ سال تک حصہ رہی ہیں۔ شامی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کارلہ دل پونٹے سوئس حکومت میں وکیلِ استغاثہ کے عہدے پر فائض رہ چکی ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویا کی جنگوں میں جرائم کی تفتیشات کی تھیں۔

ایک سوئس اخبار ’بلک‘ سے بات کرتے ہوئے کارلہ دل پونٹے نے کہا کہ ’میں تنگ آ چکی ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے۔ میں نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے اور آئندہ چند روز میں اسے جمع کروا دوں گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’شام میں ہر کوئی بری سائڈ پر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے انسانیت کے خلاف انتہائی گھنونے جرائم سرزد کیے ہیں اور جزب مخالف میں بھی شدت پسند اور دہشتگرد ہیں۔‘
بعد میں انھوں نے لوکارنو فلم فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کمیشن چھوڑ رہی ہوں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیکیورٹی کونسل کچھ نہیں کرتی، میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ شام کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے۔‘

اس کمیشن کی ذمہ داریوں میں شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیشن نے ایک درجن کے قریب رپورٹیں جاری کیں ہیں تاہم ان کی تحقیقاتی ٹیم کبھی بھی خود شام نہیں جا سکی ہے۔ ان رپورٹوں کے لیے ان کا انحصار انٹرویوز، تصاویر، میڈیکل ریکارڈز اور دیگر دستاویزات پر رہا ہے۔ کارلہ دل پونٹے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جرائم پہلے کبھی نہیں دیکھے، نہ سابق یوگوسلاویا میں اور نہ ہی روانڈا میں۔ کارلہ دل پونٹے اور کمیشن کے دیگر اراکین نے کئی بار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے شام کی صورتحال کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

عراق، شام اور یمن میں انسانی المیہ

عصر حاضرمیں یمن بدترین انسانی المیے سے دو چار ہے۔ اس بدنصیب ملک میں جاری جنگ میں 10 ہزار لوگ مار ے جا چکے ہیں ،11 فیصد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ شہر کے شہر اجڑ چکے ہیں ،اس انسانی المیے پر قابو پانے والا کوئی نہیں۔ 21 اضلاع میں ہیضہ کی وبا ہزاروں جانیں لے چکی ہے، اس مرض میں مبتلا مزید ڈھائی لاکھ افراد زندگی کے لئے موت سے لڑ رہے ہیں۔ اس وبا کی روک تھام کے لئے ویکسین، اور علاج کے لئے دوا دستیاب نہیں۔ گندہ پانی اور ناقص خوراک کی وجہ سے یہ مرض پھیلتا جا رہا ہے، روزانہ 5 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

شام بھی عالمی رسہ کشی کا شکار ہے۔ وہاں شہر کے شہر کھنڈر بن چکے ہیں اورجنگ میں 6 لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے ہیں، 30 لاکھ افراد نے ترکی میں، 6 لاکھ 60 ہزار افراد نے اردن میں اور 10 لاکھ مہاجرین نے لبنان میں پناہ لی ہے۔ مصر نے 1.15 لاکھ اور شمالی افریقہ نے 30 ہزار مہاجرین کو پناہ دی ہے، پہلے سے ہی جنگ و جدل کے شکار عراق میں شامی پناہ گزینوں نے رہائش اختیار کی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ لوگ اپنے ہی ملک میں در بدر ہیں۔ ان کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتیں عراق کے بٹوارے میں مصروف ہیں۔ مئی میں ترکی ، روس اور ایران کے مابین مہاجرین کی آباد کاری پر مذاکرات ہوئے تھے۔ بشار الاسد شام میں ان مہاجرین کے لئے چار فری زونز کے قیام پر آمادہ ہو گئے تھے۔

انہوں نے ان محفوظ زونوں میں جنگی طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کرنے اور فضائی امداد کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن حالات اس کے بالکل الٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے شام اسٹیفام ڈی مستورا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کی شدت میں کمی کی وجہ سے کچھ شہروں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ابھی حالات اتنے پر امن نہیں ہوئے کہ تمام مہاجرین واپس چلے جائیں کیونکہ جنگ میں 3 لاکھ 20 ہزار جانیں ضائع ہو گئی ہیں جو بہت زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 2015ء سے اب تک 2 لاکھ 60 ہزار مہاجرین اپنے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں لیکن 50 لاکھ مہاجرین کے مقابلے میں یہ تعداد کچھ بھی نہیں۔

سید آصف عثمان گیلانی

امریکا اور روس کا شام پر کیا موقف ہے ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان ملاقات کے تناظر میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ’’ امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچنا قبل ازوقت ہو گا‘‘۔ ٹرمپ اور روس کے درمیان شام کے حوالے سے تعلق داری کوئی غیر مستحکم نہیں ہے۔اگرچہ کہ واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کو چلتا کرنے کے بعد سے ایک سیاسی طوفان برپا ہے۔ ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن شام کے سوال پر امریکا کی خارجہ پالیسی کو بالکل درست سمت میں چلا رہے ہیں۔

ٹیلرسن جب گذشتہ ماہ ماسکو گئے اور صدر پوتین سے بند کمرے کی ملاقات کے بعد باہر نکلے تھے تو انھوں نے دو بڑی طاقتوں کے درمیان ’’کم ترین سطح کے اعتماد‘‘ پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا:’’ دنیا کی سب سے اہم دو جوہری طاقتیں اس طرح کے تعلقات نہیں رکھ سکتی ہیں‘‘۔ روسی پریس نے تو ٹرمپ، لاروف کی ہنستے مسکراتے تصاویر شائع کی ہیں لیکن اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو سے یہ بھی اپیل کی تھی کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے رجیم اور اپنے قریبی اتحادی ایران کو بھی قابو کرے۔ صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں سرگئی لاروف کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’’ بہت بہت اچھی‘‘ قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی انھوں نے شام میں خوف ناک ہلاکتوں کا سلسلہ روکنے پر بھی زور دیا تھا۔

انھوں نے شام میں جاری بحران کے خاتمے میں پیش رفت کا بھی دعویٰ کیا تھا۔انھوں نے ملاقات کے فوری بعد کہا تھا:’’ ہم نے بہت بہت اچھی ملاقات کی ہے اور ہم شام میں ہلاکتوں اور اموات کو روکنے جا رہے ہیں‘‘۔ غوغا آرائی کا یہ تمام کھیل شام میں جاری خانہ جنگی کے فوجی اور سیاسی حل کی تلاش کی غرض سے پس پردہ چلنے والے عمل کا حصہ ہے مگر اس کا مقصد اس تمام عمل کی ایک طرح سے پردہ پوشی کرنا بھی ہے۔ امریکا کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھی عین اس وقت صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی ،جب لاروف نے یہ ملاقات کی تھی۔

امریکا اور روس شام کو واضح طور پر اپنے اپنے اثرورسوخ کے مطابق محفوظ پناہ گاہوں کی کارروائیوں کے لیے تقسیم کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس شام کے مشرق میں ان محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کے لیے پینٹاگان کے ایک منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اس مقصد کے لیے مقامی فورسز کی مدد کی جا رہی ہے۔ اس کا ایک اضافی مقصد شام اور عراق کے درمیان سرحدی سکیورٹی کا بندوبست بھی ہو گا۔ روس ، ایران اور ترکی شام کے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں میں چار محفوظ زونز قائم کر رہے ہیں۔ امریکی اور روسی حکام اسرائیل کو یہ ضمانت دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روسی فوجی اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کے نزدیک تعینات ہوں گے ، حزب اللہ کے جنگجو نہیں۔

امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ روسی چیف آف اسٹاف جنرل ولیری گیراسیموف اور اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گیڈی آئزنکاٹ سے اس سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں اور ان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ وہ نہ صرف سیف زونز پر گفتگو کر رہے ہیں بلکہ وہ ہر وقت مواصلاتی روابط استوار رکھنے کے لیے بھی بات چیت کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکی اور روسی فورسز کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غیر ارادی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان سیاست اور سیاسی طوفان کے باوجود رابطہ ناگزیر ہو گا۔

امریکا اور روس کے اس منصوبے میں اردن کا ایک اہم کردار ہے۔ صدر ٹرمپ اور ولادی میر پوتین کے شاہ عبداللہ کے ساتھ شاندار تعلقات استوار ہیں۔ یہ تینوں لیڈر اور ان کے نائبین ِاوّل اردن کی شام کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں کیونکہ اس سرحد کو مختلف جنگجو گروپوں کی جانب سے خطرہ لاحق ہے ۔ اردن کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کے بہ قول عمان کے سینیر سفارت کار واشنگٹن اور ماسکو کے سفارت کاروں کے ساتھ اردن کی سرحد سے شمال کی جا نب ایک محفوظ زون کے قیام کے لیے بات چیت کر رہے ہیں ۔ اس کا مقصد ہاشمی بادشاہت کو شام کے وسطی شمالی علاقے کی جانب سے آنے والے مہاجرین کے سیلاب کو روکنا ہے کیونکہ وہاں الرقہ اور دیر الزور کی جانب پیش قدمی کے لیے مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اردن مزید شامی مہاجرین کے بوجھ کو نہیں سہار سکتا۔اس تمام عمل یا کہانی کے کئی ایک کردار ہیں۔

ان میں سب سے پہلے کرد ملیشیا وائی پی جی کی قیادت میں شامی جمہوری فورسز ہیں۔ یہ عرب اور کرد فورسز ترکی کی مخالف ہیں اور ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ دمشق بھی وائی پی جی کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اس کرد ملیشیا کو اسلحے کی شکل میں مزید امداد مہیا کررہی ہے۔ دمشق اور وائی پی جی کے تعلقات بھی پیچیدگی کا شکار ہیں اور ان کے مفادات بھی باہم متصادم ہیں۔ البتہ سلفی جہادیوں کے خلاف لڑائی میں دونوں کا نصب العین مشترکہ ہے۔ روس بھی وائی پی جی کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے مقاصد اور مفادات امریکا سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس تحریک کا ایک مقصد ترکی اور روس کے درمیان ایران فائل کے معاملے پر میدان جنگ میں رعایتیں حاصل کرنا ہے۔ اگرچہ انقرہ ، ماسکو اور تہران نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام میں محفوظ زونز کے قیام اور بحران کے سیاسی حل کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں مگر سیف زونز کے قیام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ، روس اور بعض متعلقہ عرب ممالک اردن اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان کام کی وجہ سے ترکی متاثر نظر آتا ہے۔

حتمی حل؟
شام میں جاری بحران کے حتمی حل کا ابھی فیصلہ ہونا ہے۔ ٹرمپ اور روس شام کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان فرق فطری طور پر ایران ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک سخت طرز عمل اختیار کیا ہے اور وائٹ ہاؤس یہ بھی چاہتا ہے کہ پوتین ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کریں۔ ان تمام امور کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات نے مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور وہاں اصولیوں اور پاسداران انقلاب ایران کے درمیان ممکنہ دنگل سے شام کے بارے میں ٹرمپ ، پوتین کا حل مزید پیچیدگی کا شکار ہو جائے گا۔

ہمیں ٹرمپ اور پوتین کے درمیان جولائی میں جرمنی میں متوقع ملاقات کا انتظار کرنا ہو گا لیکن بین الاقوامی واقعات جس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں، اس کے پیش نظر تو ان دونوں لیڈروں کے درمیان اس سے پہلے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔ آیندہ ہفتے سعودی عرب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تین تاریخی سربراہ ملاقاتوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان تینوں میں شامی تنازعے کے حل پر بات ہو گی۔ ایران کے خلاف تنقید کی سطح بہت بلند ہو گی اور سعودی مملکت اور اس کے اتحادی امریکا کو ایران کو شام سے نکال باہر کرنے کے لیے ہر ممکن امداد مہیا کرنے کی پیش کش کریں گے۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان نئے گرم جوش تعلقات کے بعد تو الریاض بھی شام کے تنازعے میں ایک اضافی کردار بن گیا ہے اور وہ ٹرمپ کے ذریعے صدر پوتین کو شام کے معاملے میں چیلنج کرنے جا رہا ہے۔ امریکی صدر ممکنہ طور پر پوتین کا ہاتھ اپنے سعودی شراکت داروں سے ملوا سکتے ہیں اور آیندہ ہفتوں کے دوران میں ٹرمپ ، الریاض اور ماسکو کی تکون منظرعام پر آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک