شام میں امریکی حملے میں درجنوں روسی جنگجو ہلاک

شمال مشرقی شام میں روسی جنگجو امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ بات ان روسیوں کے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتائی۔ اطلاعات کے مطابق ان جنگجوؤں کو ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا جو شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان اموات کی خِبریں امریکی میڈیا میں آئی ہیں لیکن روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ان اطلاعات کو ‘بنیادی ذرائع’ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس کے حملوں میں کم از کم ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سینکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔ جب انھوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ امریکہ نے اس کے جواب میں بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا۔ شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ اس حملے میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں اور اسے ‘وحشیانہ قتلِ عام’ قرار دیا ۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نے پینٹاگون کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے اڈے پر حملے میں شام کے حکومت نواز جنگجوؤں کے ساتھ روسی کرائے کے فوجی بھی شامل تھے۔ سی بی ایس نے کہا : ‘اگر واقعی روسی مارے گئے ہیں تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ شام میں کسی امریکی کارروائی میں روسی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔’ روسی جنگجوؤں کے دو ساتھیوں نے بی بی سی سے تصدیق کی کہ وہ سات فروری کو مارے گئے تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے نام ولادی میر لوگینوف اور کریل آنانیف بتائے۔ بعض روپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ درجنوں روسی ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ انھیں نجی روسی کمپنی واگنر نے بھرتی کیا تھا۔ اس کمپنی نے ابھی تک اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

ترکی کا شام میں فوجی آپریشن اور امریکی ناکامی

جدید جمہوریہ ترکی کے قیام سے موجودہ دور تک ترکی اور امریکہ کے تعلقات بڑے مثالی اور قریبی رہے ہیں۔ امریکہ نے یورپ اور ایشیا میں تشکیل کردہ اپنے پیکٹ یا تعاون کے سمجھوتوں میں ترکی کو لازمی طور پر شامل کیا۔ ماضی میں ترکی، پاکستان اور ایران امریکہ کے بہت بڑے حلیف رہے ہیں لیکن ایران میں خمینی انقلاب کے بعد امریکہ کا ایران کے ساتھ اتحاد تو پارہ پارہ ہو گیا لیکن پاکستان اور ترکی امریکہ کے اور بھی قریب آگئے ۔ افغانستان میں سوویت یونین کی یلغار اور اس کے بعد نائن الیون حملوں کے بعد پاکستان امریکہ کی کالونی کی حیثیت اختیار کر گیا اور امریکہ کے حکمرانوں نے پاکستان کو تگنی کا ناچ نچوانا شروع کر دیا اگرچہ اس وقت کے حکمران تو یہ ناچ ذوق و شوق سے ناچتے رہے لیکن عوام نے ہمیشہ ہی امریکہ کے اس رویے کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔

امریکہ اسی قسم کا کھیل ترکی کے ساتھ بھی کھیلتا رہا ہے لیکن موجود ترک حکمران ماضی کے حکمرانوں سے بہت مختلف واقع ہوئے ہیں۔ ایردوان امریکہ سے ماضی کے تعلقات، سمجھوتوں اور حلیف ملک ہونے کی پروا کیے بغیر قوم اور ملک کے مفاد کو سب سے مقدم سمجھتے ہوئے ان کے سامنے ڈٹ گئے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انہوں نے اب امریکی حکام کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ امریکہ نے شام پر دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے جس پر ترکی کو شدید اعتراض ہے۔ امریکہ نے ترکی کی دہشت گرد تنظیم “PKK” کی شام میں موجود ایکسٹینشن” “PYD اور “YPG, کو جس طریقے سے اسلحہ فراہم کیا اس پر ترکی نے کئی بار امریکہ کومتنبہ کیا ۔

اگرچہ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم ’’ پی کے کے‘‘ کو تو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے لیکن اس کی شام میں موجود دونوں شاخوں ’’ پی وائی ڈی‘‘ اور ’’ وائی پی جی‘‘ کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں علاقے میں برسر پیکار دیگر دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کے خلاف بڑے موثر طریقے سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان دونوں تنظیموں نے امریکہ کی سرپرستی میں کئی علاقوں کو ’’داعش‘‘ کے قبضے سے آزاد بھی کروا لیا ہے جبکہ ترکی کا موقف ہے کہ ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کا داعش کے خاتمے میں کوئی اہم کردار نہیں ہے بلکہ یہ علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے کو ترکی میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کر رہی ہیں اور ترکی نے اس سلسلے میں امریکہ کو ثبوت بھی فراہم کیے ہیں.

لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح ترکی کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی پروا کیے بغیر ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کی کسی نہ کسی شکل میں پشت پناہی جاری رکھی ہے اور دوسری طرف ترکی کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ان تنظیموں کو اسلحہ کی فراہمی روک دی گئی ہے اور جو اسلحہ فراہم کیا جا چکا ہے اسے واپس لینے کے لیے جلد ہی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ امریکہ اگرچہ ترکی کو اپنا اتحادی ملک سمجھتے ہوئے اس کے مفادات کا تحفظ کر نے کی بارہا یقین دہانی کروا چکا ہے لیکن ترکی کا اعتماد امریکہ پر سے اٹھ گیا ہے۔ ترکی نے صدر ٹرمپ اور امریکی حکام کو علاقے میں نئی فورس کی تشکیل سے باز رہنے کے لیے بارہا کہا لیکن امریکی انتظامیہ نے ترکی کے مطالبات کی ذرہ بھر پروا نہ کی اور علاقے میں دہشت گرد تنظیموں پر مشتمل نئی فورس کی تشکیل کا عمل جاری رکھا جس پر ترکی نے اس سرحدی فورس کے قیام سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ترکی کا خیال ہے یہ نئی سرحدی فورس علاقے میں ایک کرد مملکت قائم کرنے کی وجہ سے بنائی جا رہی ہے۔ ترکی کے شروع کردہ فوجی آپریشن کے دوران عفرین کے کئی ایک علاقوں کو ان دہشت گرد تنظیموں کے پنجے سے آزاد کروا لیا گیا ہے اور ترک فوجیوں کی مزید پیش قدمی جاری ہے اور ترکی منبیچ تک کے علاقے کو ان دہشت گرد تنظیموں سے آزاد کرانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو ترکی کی جانب سے فوجی آپریشن کیے جانے کی ہرگز توقع نہ تھی اور اسی وجہ سے اس نے ترکی کے کئی بار انتباہ کے باوجود اس کے مطالبے پر کوئی کان نہ دھرا۔ اب اس فوجی آپریشن کے بعد امریکہ کی آنکھیں کھلی ہیں اور اس نے ترکی پر فوجی آپریشن جلد از جلد ختم کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا ہے لیکن ترکی کے صدر ایردوان ’’فوجی آپریشن کو علاقے میں موجود تمام دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا‘‘ کا کئی بار برملا اظہار کرچکے ہیں۔

صدر ایردوان کے اس سخت اور دو ٹوک بیان کے بعد امریکی حکام کے ہاتھ پائوں پھولتے دکھائی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ نے اپنے وفود اوپر تلے ترکی بھیجنا شروع کر دئیے ہیں تاکہ ترکی کو فوجی آپریشن ختم کرنے پر راضی کیا جا سکے لیکن ترکی اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ ٹلر سن نے اپنے ترک ہم منصب چائوش اولو کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ترک فوجیوں کی علاقے سے واپسی سے متعلق شیڈول دینے کا مطالبہ کیا جسے ترکی نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کوئی تاریخ دینے سے گریز کیا جس پر امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر نے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سے ملاقات کی اور دونوں دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ کی جانب سے دئیے جانے والے اسلحے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنر شپ جاری رکھنے کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

اس وفد کے دورہ ترکی کے فوراً بعد ہی ترکی کے نائب وزیراعظم بیکر بوزداع نے امریکہ سے فوجی آپریشن روکنے کیلئے اپنے کسی نئے وفد کو ترکی بھیجنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا لیکن اس بیان کے بعد بھی امریکہ کے وزیر خارجہ ٹلر سن اور وزیر دفاع جیم میٹس کے دورہ ترکی اور اپنے اپنے ترک ہم منصبوں سے مذاکرات کرنے کے علاوہ صدر ایردوان سے شام میں ترک فوجی آپریشن کے بارے میں بات چیت کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ ترک صدر شام کے علاقے عفرین اور اس کے بعد منبیچ میں اس وقت تک فوجی آپریشن جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک وہاں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔ دراصل ایردوان کے اس فیصلے کی تمام ترک حلقوں کی جانب سے مکمل حمایت کی جا رہی ہے جو صدر ایردوان کے ہاتھوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ 2019ء کے صدارتی انتخابات میں بڑی واضح اکثریت سے کامیابی کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

شام میں روسی جنگی جہاز کو مار گرایا گیا

شام کے شمال مغربی صوبے ادلیب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں روس کا ایک جنگی جہاز مار گرایا گیا ہے۔ روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سخوئی 25 جنگی جہاز کا پائلٹ جہاز تباہ ہونے سے پہلے اس سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ پائلٹ جہادی گروہوں کے اتحاد حیات تحریر الشام کے زیر کنٹرول علاقے میں اترا جہاں اسے فائرنگ کے تبادلے میں مار دیا گیا۔ خیال رہے کہ روس شام میں حکومت کا اتحادی ہے اور یہ ادلیب میں شامی سکیورٹی فورسز کی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے جہاں دسمبر میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

سخوئی 25 جنگی جہاز ادلیب کے علاقے مسران میں جاری سکیورٹی فورسز کی زمینی کارروائیوں میں فضائی مدد فراہم کر رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی جہازوں نے درجنوں حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور زمین پر گرنے سے پہلے اسے آگ لگ چکی تھی۔ روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ’ جہاز کے پائلٹ کے پاس واقعے کی رپورٹ دینے کے لیے کافی وقت تھا کہ وہ اس علاقے میں اترا ہے جو شدت پسندوں کے قبضے میں ہے ۔ روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی لاش کو واپس لینے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اطلاع دی گئی ہے کہ بحیرہ روم میں تعینات روسی بحری جہازوں سے ادلیب میں ایک ساتھ کئی کروز میزائل ادلیب میں داغے گئے ہیں۔ روس کی وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ علاقے میں اپنے ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ روس نے 2015 میں شامی حکومت کی مدد کے لیے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور اس دوران 2016 میں باغیوں نے اس کے ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا تاہم یہ پہلی بار ہے کہ اس کے جنگی جہاز کو گرایا گیا ہو۔ روس کی شام میں کارروائیوں کے دوران 45 کے قریب فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے کنٹریکٹرز کی تعداد کا اندازہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے نومبر 2015 میں ترکی نے روس کے ایک جنگی جہاز کو مار گرایا تھا جس میں ایک پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا اور ایک کو ریسکیو کیا گیا تھا۔

ایردوان کی ثابت قدمی

یہ 16 ستمبر 1998 کی بات ہے ترک بری فوج کے سربراہ جنرل اتیلا آتش نے ترکی اور شام سے ملحقہ سرحدی علاقے حطائے کا دورہ کرتے ہوئے اس وقت شام میں مقیم دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے سرغنہ عبداللہ اوجالان، جو ترکی کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے تھا، کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور شام کے اندر اس دہشت گرد کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچا ہے۔ ترک بری فوج کے کمانڈر انچیف کی دھمکی نے فوراً اپنا اثر دکھایا اور شام نے چند روز کے اندر اندر اوجالان کو مجبوری کے تحت ملک سے نکال باہر کیا اور ترکی نے شام پر چڑھائی کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس کو ملتوی کر دیا، تاہم شام پر اس کی دھاک بیٹھ گئی۔

اس دوران امریکہ نے ترکی کے راستے اپنے فوجی دستے عراق بھجوانے اور ترکی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس دہشت گرد کو کینیا سے گرفتار کرواتے ہوئے ترکی کے حوالے کر دیا۔ اس وقت کی ایجوت حکومت نے دہشت گردوں کے سرغنہ کی گرفتاری کو کیش کرواتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کروایا اور اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کا اقتدار ایک بار پھر حاصل کر لیا۔ شام کے اس وقت کے صدر حافظ الاسد کی وفات کے بعد بشار الاسد نے عنانِ اقتدار حاصل کیا اور پہلی بار ترکی اور شام کے تعلقات میں بڑی گرمجوشی دیکھی گئی جس کا سلسلہ تین چار سال تک جاری رہا لیکن سن 2011ء میں مشرقِ وسطیٰ میں ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک نے شام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اگرچہ اس وقت کے ترکی کے وزیراعظم اور موجودہ صدر ایردوان نے بشار الاسد سے اپنی دوستی اور برادرانہ تعلقات ہونے کی وجہ سے شام میں بھی جمہوری اصلاحات متعارف کروانے اور عوام میں اپنی مقبولیت کے ذریعے اقتدار جاری رکھنے کا مشورہ دیا لیکن شام کے اس ڈکٹیٹر، جس کی جڑیں ڈکٹیٹر شپ ہی سے سینچی گئی تھیں، کسی بھی صورت ملک میں ڈیمو کریسی اور جمہوری اقدار کو متعارف کروانے پر راضی نہ ہوئے جس پر ملک کے اندر ان کے خلاف نفرت پھیلتی چلی گئی اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا اور اس وقت سے اب تک اس ملک میں امن قائم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

اس کی وجہ ایران اور روس کا اس ملک میں قدم جمانا ہے۔ ایران اس طریقے سے سعودی عرب پر اپنا دبائو رکھتے ہوئے مستقل بنیادوں پر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے جبکہ روس جس کا مشرقِ وسطیٰ میں کبھی اثرو رسوخ نہیں رہا، اب پہلی بار شام کے ذریعے نہ صرف اپنا فوجی اڈہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ شام کے صدر بشار الاسد کے اقتدار کو بچاتے ہوئے اور انہیں نئی زندگی بخشتے ہوئے اس ملک پر اپنی گرفت قائم کر چکا ہے۔ ترکی اور امریکہ جو ہمیشہ ہی ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور اب بھی اگرچہ اتحادی ہیں لیکن 15 جولائی 2016ء کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ کی ناکام بغاوت کے بعد اس اتحاد میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف سرد مہری کا شکار ہیں بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اب شک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ترکی جو کہ کچھ عرصہ قبل تک امریکہ کے تیار کردہ ’’عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ پلان کی مکمل حمایت کرتا چلا آیا ہے اب اس پلان سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔

امریکہ کو جب ترکی سے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اپنی باتیں منوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ اور اس کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی اور وائی پی جی‘‘ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور شام میں ان کی ٹریننگ کا بندوبست کرتے ہوئے تیس ہزار کرد فوجیوں پر مشتمل ’’ایس ڈی ایف‘‘ فورس تشکیل دینے کا بیڑا اٹھایا جس پر ترکی نے کئی بار امریکہ کو اس قسم کی فورس تشکیل دینے سے باز رہنے سے متعلق متنبہ بھی کیا لیکن امریکہ نے ترکی کی ایک نہ سنی اور اپنے پلان پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا۔

ترک صدر ایردوان نے امریکہ کی اس ہٹ دھرمی کی پروا کیے بغیر شام کے علاقے عفرین میں موجود دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا جس کے چند ہی روز بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ترک صدر کو ٹیلی فون کرتے ہوئے فوجی آپریشن جلدازجلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ترک صدر ایردوان جو ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے پارٹی کے مرکزی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنے اہداف حاصل کیے بغیر اور علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیے بغیر فوجی آپریشن ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

ابھی فوجی کارروائی شروع ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ میں صدر ٹرمپ سے پوچھتا ہوں، انہوں نے کتنی جلد افغانستان میں فوجی آپریشن مکمل کیا؟ وہ افغانستان میں بیس سال سے اور عراق میں اٹھارہ سال سے فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور جب ترکی اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے فوجی کارروائی کر رہا ہے تو اس کو جلد از جلد ختم کرنے کو کہا جا رہا ہے۔‘‘ ترکی اپنے اس موقف پر سختی سے کاربند ہے اور اس نے عفرین کے قریب اسٹرٹیجک لحاظ سے بڑی اہمیت کے علاقے ’’جبلِ برصایا‘‘ پر قبضہ کرتے ہوئے اپنی پیش قدمی تیز تر کر دی ہے۔

امریکہ نے ترکی کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ترک حکام کو شام میں موجود دہشت گرد تنظیم ’’وائی پی جی اور پی وائی ڈی‘‘ کو مزید اسلحہ فراہم نہ کر نے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں برسر پیکار کرد دہشت گرد تنظیموں کو مزید اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا لیکن ترکی نے ایک بار پھر امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اس وقت تک فوجی کارروائی جاری رکھے گا جب تک علاقے میں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔

ترک فوجی دستوں نے 557 دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔ ترکی نے ’’شاخِ زیتون‘‘ فوجی آپریشن کے ذریعے اب تک کئی ایک مقاصد حاصل کیے ہیں۔ ترکی نے شام اور عراق سے ملنے والی اپنی سرحدوں کو مستقبل کے لیے بھی محفوظ بنا لیا ہے۔ دوسرا مقصد بین الاقوامی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حاصل حقوق اور سلامتی کونسل کی 2005ء کی قرارداد نمبر 1624 اور 2014ء کی قرارداد نمبر 2170 اور2178 کے تحت، جس میں تمام ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ممکنہ اقدامات کرنے کے حقوق عطا کیے گئے ہیں، کے تحت فوجی آپریشن کرتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ کی بھی ہمدردیاں حاصل کر لی ہیں اور بین الاقوامی قوانین ہی کے تحت اس فوجی آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے اور اسے اب تک علاقے میں پیش قدمی کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

ترکی کا شام میں فوجی آپریشن

امریکہ نے شام میں دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور اس مقصد کے لئے ترکی میں برسر پیکار دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی اور وائی پی جی‘‘ کو کچھ عرصے سے جدید اسلحے سے لیس کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ترکی نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ امریکہ جلد ہی اپنی اس غلطی کا ازالہ کرے گا اور اپنے ستر سالہ اتحادی سے منہ نہیں موڑے گا۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق ’’وائی پی جی‘‘ کو مہیا کیا جانے والا ہر ایک ہتھیار ترکی کے لئے خطرہ ہے۔ ترکی کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہو گیا جب شام میں امریکی دستوں کے کمانڈر کی جانب سے ترکی اور شام کی سرحدوں کے قریبی علاقے میں تیس ہزار کرد جنگجوئوں پر مشتمل ایک نئی سرحدی فورسSDF کی تشکیل دینےاورانہیں جلد ہی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا جو جلتی پر تیل کا کام دے گئی.

ترک وزیر خارجہ مولو چاوش اولو نے فوری طور پر اپنے امریکی ہم منصب ٹِلرسن کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ایسا نہ کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو مسلح کرنے سے باز رہنے سے متنبہ کیا اور واضح طور پر علاقے میں ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے تنہا ہی ہر ممکنہ کارروائی کرنے سے بھی آگاہ کر دیا جس پر ٹِلرسن نے چاوش اولو کو اخبارات کی خبروں پر یقین نہ کرنےاور کسی نئی سرحدی فوج کو تشکیل دینے کا کوئی ارادہ موجود نہ ہونے سے آگاہ کیا لیکن ترک وزیر خارجہ نے شام میں امریکی کمانڈر کا بیان ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس صورتِ حال پر امریکی وزیر خارجہ نےحالات کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی یقین دہانی کروائی۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ نے اپنے پرانے اتحادی ترکی کی پروا کیے بغیر شام میں اپنی پالیسی جاری رکھی اور کئے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کی۔

ترکی نے اس صورتِ حال پر کہا کہ ترکی شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے حوالے سے امریکی یقین دہانی سے مطمئن نہیں اور اس نے تنگ آ کر 19 جنوری 2018 کو مقامی وقت کے مطابق رات سات بجے، شام کے ساتھ ملنے والے سرحدی شہر عفرین میں فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اس فوجی آپریشن سے قبل ترک صدر ایردوان گزشتہ پندرہ دنوں سے اس بات کا برملا اظہار کرتے چلے آ رہے تھے کہ ’’ترک دستے اچانک شام میں داخل ہو سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے اس دوران روس اور ایران کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کر رکھا تھا ۔ روس نے شام کی سرحدوں پر ترک طیاروں کی آمد روکنے کیلئےجدید ایس 400 اور ایس 500 قسم کے میزائل نصب کر رکھے ہیں اس لئے ترکی کو شام کے علاقے میں فضائی کارروائی کے لئے روس کی اجازت اور حمایت کی ضرورت تھی۔

اس مقصد کے لئے ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل حلوصی اقار اور خفیہ سروس MIT کے سربراہ حقان فدان نے ماسکو کا دورہ کیا اور روس کی مسلح افواج کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات کرتے ہوئے ترک طیاروں کو شام کی فضائی حدود میں داخل ہونے اور عفرین پر بمباری کرنے کی اجازت حاصل کی۔ اسی طرح ترکی نے شام میں شامی انتظامیہ کا مکمل ساتھ دینے والے ملک ایران سے بھی قریب رابطہ قائم کیا اور عفرین میں فضائی اور بری کارروائی سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے فوجی آپریشن سے متعلق اجازت حاصل کی۔ ایران نے اگرچہ ترکی کو شام میں فوجی آپریشن کرنے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ عفرین کے فوجی آپریشن سے قبل ترک وزارت خارجہ میں روس، ایران ، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ شام کے ہمسایہ ممالک کے سفیروں کو مدعو کرتے ہوئے عفرین میں شروع کئے جانے والے فوجی آپریشن سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔

شام کے شہر عفرین جس پر کرد دہشت گرد تنظیموں ’’پی وائی ڈی اور وائی پی جی‘‘ نے امریکہ کی مدد سے 2012 سے سے قبضہ کر رکھا ہے علاقے میں مزید پیش قدمی کو روکنے کے لئے ترکی کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ آپریشن کرے۔ اس لئے ترک مسلح افواج نے کرد دہشت گردف تنظیموں کے تین گروپوں کو نشانہ بنایا۔ صدر ایردوان نے اس فوجی آپریشن کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ’’عفرین میں ’’شاخِ زیتون‘‘ فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اگلی باری منبج کی ہو گی۔‘‘ منبج شام کا ترکی کے ساتھ سرحد کے قریب ایک دوسرا شہر ہے، جو دہشت گرد تنظیموں کے کنٹرول میں ہے اور عفرین سے مشرق کی جانب واقع ہے۔

ترک صدر ایردوان نے مزید کہا ہے کہ ’’عفرین میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرتے ہوئے آپریشن کو جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا ۔ ہم تنہا نہیں ہیں بلکہ ہمیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی دعائیں حاصل ہیں اور ہم اس علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرتے ہوئے اس کے باسیوں کے حوالے کر دیں گے۔ دہشت گرد تنظیمیں اس زعم میں نہ رہیں کہ انہیں امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے اور ترکی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے عفرین میں شروع کردہ فوجی آپریشن کے بارے میں کہا کہ کرد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاری ملکی فوج کی کارروائی کے دوران ترک دستے شام میں داخل ہو گئے۔ ترک فورسز نے  پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) کے خلاف شام کے وقت فضائی کارروائی شروع کی تھی۔ ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی افواج عالمی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجکر پانچ منٹ پر عفرین ریجن میں داخل ہوئیں اور اس کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کو ترک سرحد سے تیس کلو میٹر دور دھکیلنا ہے تاکہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر ایک سیکورٹی زون قیام کیا جا سکے۔

ترک فضائیہ نے علاقے میں تا دمِ تحریر 153 ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ فضائی آپریشن کے آغاز کے موقع پر ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل حلوصی اقار نے مسلح ہیڈکوارٹر میں بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان کے ہمراہ آپریشن سے متعلق معلومات فراہم کیں اور بری فوج کے آپریشن شروع ہونے کے موقع پر سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔ ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل حلوصی اقار نے امریکہ کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل جوزف ڈونفورڈ اور روسی فوج کے سربراہ جنرل ویلری گراسیموف کو فوجی آپریشن سے متعلق معلومات دیں جس پر روسی فوج کے سربراہ نے علاقے سے روسی فوجیوں کے انخلا سے آگاہ کیا۔

اسی دوران ترک وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو بھی اس کے چارٹرڈ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ترکی کو حاصل حقوق کی روشنی میں فوجی آپریشن کے آغاز کا بتایا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ ہر ملک کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے جبکہ فرانس کے وزیر خارجہ نے شام کے علاقے عفرین میں ترکی کی اس فوجی کارروائی کے خلاف ایک قرارداد پیش کی جس پر ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ فرانس ترکی کے مخالف گروپ میں ہے۔ ترکی نے عفرین فوجی آپریشن کے دوران مقامی سطح پر تیار فوجی سازو سامان ہی زیادہ تر استعمال کیا ہے تاکہ امریکہ یا پھر مغربی ممالک کا فوجی سازو سامان استعمال کرنے سے کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

کیا شام میں امریکی اور ترک افواج ایک دوسرے کے مقابل آسکتی ہیں ؟

ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے ترکی کو بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے شام کے کرد جنگجوؤں کو اسلحہ کی فراہمی روک دی ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شمالی شام میں ترک فوج کردوں کے خلاف گذشتہ نو دنوں سے کارروائی کر رہی ہے۔ امریکا نے متعدد بار ترکی سے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے مگر ترکی کا کہنا ہے کہ کردوں کو امریکا کی عسکری حمایت حاصل ہے۔ خبر رساں داروں کے مطابق ترک حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے پیغام دیا ہے کہ اس نے کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹ کو اسلحہ کی فراہمی بند کر دی ہے ۔  امریکا کی جانب سرکاری طورپر اس طرح کے کسی اقدام کی تصدیق یا ترید سامنے نہیں آئی۔ شام میں لڑنے والے کرد جنگجوؤں کو امریکا کی طرف سے فضائی مدد فراہم کرنے، اسلحہ پہنچانے اور ترکی مخالف کردستان ورکرز پارٹی کو دفاعی مدد بہم پہنچانے پرانقرہ واشگٹن کے خلاف سخت برہم ہے۔

خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق ترک ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم قالن اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میکسماسٹر کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ بات چیت میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا اب شام میں کردوں کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ شام میں پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران ایک ہفتہ قبل ترکی نے سرحدی علاقے عفرین میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا۔ یہ محاذ ایک ایسے وقت میں کھلا ہے جب امریکا اور ترکی کے درمیان بعض دیگر عالمی معاملات پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگون‘ نے کہا تھا کہ ان کا ملک کرد پروٹیکشن یونٹس کو دیےگئے اسلحہ کی باریکی سے مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ترکی اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی کشدیگی کو ختم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ امریکا ترکی کے ساتھ موثر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترک صدر نے کہا تھاکہ ترک فوج سرحدی علاقوں سے کرد باغیوں کو نکال باہر کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عفرین میں آپریشن کی کامیابی کے بعد ہم مشرقی سرحد پر عراق کی طرف بھی آئیں گے۔ عراق کی سرحد کے قریب امریکی فوج کے اڈے موجود ہیں۔ امریکی اور ترک فوج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آسکتی ہیں۔

ترکی کی فوج شام میں داخل

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کے دورانترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کے دوران ترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے.

ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو ’بہت جلد‘ کچلنے کا عندیہ دیا ہے.

ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کیا ہے.

ترکی کے میڈیا کے مطابق عفرین میں داخلے کے بعد انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا.

انقرہ نے کہا ہے کہ اس دوران کسی شہروں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

ترکی نے وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے.

ترک فوج کے ٹٰینک سرحد عبور کر کے شام میں داخل

ترک فوج نے شمالی شام میں عفرین کے مقام پر کالعدم لیبر پارٹی سے منسلک کرد جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائی کے بعد باضابطہ زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ترک فوج کے ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیاں سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہو گئی ہیں جہاں زمینی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ’العربیہ‘ نیوز چینل کے نامہ نگار کے مطابق زمینی آپریشن کے لیے ترکی کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں باب الھویٰ گیٹ سے شام کے سرحدی علاقے اعزاز میں داخل ہو گئی ہیں جہاں کرد ملیشیا کے خلاف زمینی آپریشن کی تیاری کی گئی ہے۔

قبل ازیں ترک حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ شمالی شام کے علاقے عفرین میں ’زیتون کی شاخ‘ کے عنوان سے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ترکی کے جنگی طیاروں نےعفرین میں امریکی حمایت یافتہ کرد ڈیمو کریٹک فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔ ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کی بری افواج شام کے علاقے عفرین میں’ضروری آپریشن‘ کرے گی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم یلدرم نے کہا کہ ترک فوج نے امریکی حمایت یافتہ کرد ملیشیا کے خلاف فضائی کارروائی میں قریبا اپنے تمام اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اوردہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

ترکی کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی تصاویر میں فوجی ٹرکوں کو ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اٹھائے شام کی سرحد عبور کرتے دکھایا گیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے’دوآن‘ کی رپورٹ کے مطابق ترک فوج کی بھاری نفری ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ سرحدی علاقے اعزاز میں پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرد پییپلز پروٹیکشن یونٹس کے کئی جنگجوؤں نے حلب کے نواحی علاقے مارع میں فری سیرین آرمی کے سامنے ہتھیار پھینک دیے ہیں۔ ادھر ترکی کےآرمی چیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’زیتون کی شاخ‘ آپریشن کا مقصد شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ان کے اسلحہ، عمارتوں اور دیگر آلات کو تباہ کرنا ہے۔ ترک پارلیمان کے اسپیکر اسماعیل کہرمان نے زیتون کی شاخ آپریشن کی حمایت کی ہے اور کہا ہے یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔

درایں اثناء شامی رجیم نے عفرین آپریشن کے بعد ترک فوج کی دمشق کی جانب ممکنہ پیش قدمی کی تردید کی ہے۔ شامی حکومت نے ترک فوج کی کارروائی کو شام میں ننگی جارحیت قرار دیا۔ خیال رہے کہ ترکی نے اپنی سرحد کے قریب شامی علاقوں میں کرد جنگجوؤں کو منظم ہونے سے روکنے کے لیے نیا آپریشن شروع کیا ہے۔ ترکی اس سے قبل بھی شام میں کرد جنگجوؤں کو منتشر کرنے کے لیے فوجی مداخلت کر چکا ہے۔

الدود، ترکی شام – زیدان زنکلو، ایجنسیاں

’تباہ کن حالات‘ کے شکار تیرہ ملین شامیوں کو مدد کی اشد ضرورت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اس وقت ’تباہ کن حالات‘ کا سامنا کرنے پر مجبور تیرہ ملین یا سوا کروڑ سے زائد انسانوں کو فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی شہر نیو یارک سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے امدادی کارروائیوں کے رابطہ کار مارک لوکاک نے اردن سے ایک ویڈیو رابطے کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ شام میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے باوجود 13 ملین شامی باشندوں کو ابھی تک فوری مدد کی ضرورت ہے۔

مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتایا، ’’ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں، وہ کسی بھی شک و شبے سے بالا تر ہے اور وہ یہ کہ شام کے خونریز بحران کے عام شہریوں پر ابھی تک شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘
اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ اہلکار نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ شام کے صرف ایک شمالی شہر الرقہ سے، جسے داعش نے اپنا دارالخلافہ قرار دے رکھا تھا، چار لاکھ چھتیس ہزار افراد فرار ہو کر ساٹھ سے زائد مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

اسی طرح شام کے مشرقی شہر دیرالزور سے ساڑھے تین لاکھ شامی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں سے ڈھائی لاکھ یا ایک چوتھائی ملین تو ایسے شامی باشندے تھے، جن کے پاس صرف اس سال اگست سے لے کر اب تک دیر الزور میں اپنے گھروں سے رخصتی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔  مارک لوکاک کے مطابق جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ اور انتہائی پریشان کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ان سوا کروڑ سے زائد شامی باشندوں میں سے قریب تین ملین تو وہ ہیں، جو ایسے علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں امدادی کارکنوں کی ان تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا گیا کہ ان حالات کی وجہ سے شام میں اقوام متحدہ اور اس کے پارٹنر اداروں کی طرف سے جن امدادی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، وہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے بڑی امدادی کارروائیاں ہیں۔ اس بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر میتھیو رائکروفٹ نے سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک برطانیہ، امریکا، فرانس، روس اور چین کو شام میں قیام امن کے لیے اگلے ماہ جنیوا میں ہونے والے نئے مذاکراتی دور کی کامیابی کے لیے بھرپور کاوشیں کرنا چاہییں۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اشٹیفان ڈے مستورا کے مطابق اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں شامی امن بات چیت کا اگلا اور مجموعی طور پر آٹھواں دور اٹھائیس نومبر کو ہو گا۔ اس سے قبل انہی مذاکرات کا ساتواں دور بھی جنیوا ہی میں جولائی میں ہوا تھا.

بشکریہ DW اردو

ترک فوج شامی صوبے ادلب ميں داخل

پچھلے دنوں ترکی، روس اور ايران کی ثالثی ميں شام ميں ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام کے سلسلے ميں طے پانے والے سمجھوتے کے تحت ترک افواج شام کے شمال مغربی صوبے ادلب ميں داخل ہو گئی ہيں۔ ترک افواج کا ايک قافلہ جہاديوں کے زير کنٹرول شامی صوبے ادلب ميں داخل ہو گيا ہے۔ اس پيش رفت کی تصديق شامی امور پر نگاہ رکھنے والے مبصر ادارے سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس نے کر دی ہے۔ يہ فوجی قافلہ اب حلب کے مغربی حصے کی جانب گامزن ہے۔ تاحال يہ واضح نہيں کہ یہ قافلہ کتنا بڑا ہے اور اس بارے ميں ابھی تک انقرہ نے بھی باقاعدہ کوئی بيان جاری نہيں کيا ہے۔ قبل ازيں اسی ہفتے کے آغاز پر ترک فوج نے اپنے ايک بيان کے ذريعے مطلع کيا تھا کہ ادلب ميں آپريشن کے ليے چيک پوسٹيں تعمير کی جائيں گی۔

پچھلے ہفتے ترک صدر رجب طيب ايردوآن نے بھی کہا تھا کہ ترک افواج کی حمايت سے شام ميں سرگرم ترکی نواز باغی ’حيات تحرير الشام‘ نامی جہادی اتحاد کے خلاف عسکری مہم کی قيادت کريں گے۔ يہ آپريشن در اصل ايران، روس اور ترکی کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد آستانہ مذاکراتی امن عمل کے تحت شام ميں ’تشدد ميں کمی‘ کے ليے مخصوص علاقوں کا قيام ہے۔ امن عمل کا طويل المدتی مقصد شام ميں قيام امن ہے تاہم ابتدائی طور پر اس جنگ زدہ ملک ميں چار ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سلسلے ميں تين ’ڈی اسکليشن زونز‘ پہلے ہی مقرر کيے جا چکے ہيں، جن ميں سے ايک دارالحکومت دمشق کے پاس، دوسرا وسطی حمص ميں اور تيسرا جنوبی شام ميں واقع ہے۔ ان زونز کی نگرانی روسی ملٹری پوليس کے سپرد ہے۔ ادلب صوبے ميں اکثريتی علاقوں پر ’حيات تحرير الشام‘ کا کنٹرول ہے۔