دونوں سپر قوتیں محلے کے بدمعاشوں کی مانند ایک دوسرے کو دہمکیاں دے رہی ہیں

ترکی کے وزیر اعظم نے روس اور امریکہ کو شام کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب گلی کوچوں کی جنگ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس جنگ کا خمیازہ سویلین اپنے جانیں دیتے ہوئے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں یوریشیا اقتصادی سربراہی اجلاس کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مستقل نمائندئے جن کو بڑی قوت حاصل ہے پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ٹویٹ کے ذریعے متنبہ کر رہے ہیں۔ کیا دنیا ان دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے جن میں ہزاروں افرا ہلاک ہو چکے ہیں تماشا ہی دیکھتے رہیں گے؟ ایک کہتا ہے میرے میزائل زیادہ موثر ہیں جبکہ دوسرا کہتا ہے میرے میزائل زیادہ طاقتور ہیں۔

یہ ممالک محلے کی لڑائی کی طرح ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ محلے کے بد معاشوں کے مانند لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ لیکن اس کا حساب کون چکا رہا ہے۔؟ بے چارے معصوم سویلین چکا رہے ہیں۔ علاقے میں مزید خون خرابہ روکنے کے لیے شام میں برسر پیکار ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ لڑائی کا وقت نہیں ہے بلکہ علاقے میں زخمی ہونے والے افراد کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا وقت ہے۔ ان تمام ممالک کو اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے علاقے میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو آپس میں اتحاد کرتے ہوئے شام اور عراق میں امن کے قیام کے لیے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔

بشکریہ RT اردو

Advertisements

کیا صدر ٹرمپ شام پر میزائل حملہ کر دیں گے ؟

صدر ٹرمپ نے روس کو متنبہہ کیا ہے کہ وہ شام کے اندر کیمیائی حملے کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں اور ساتھ ہی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’’ روس تیار ہو رہو، میزائل آ رہے ہیں، بہترین، جدید اور سمارٹ‘‘. دوسری جانب روس نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔ صدر ٹرمپ کا ٹویٹ محض انتباہ ہے یا اس پر عمل درآمد بھی ہو سکتا ہے؟ ردعمل کیا ہو گا ؟ وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں اسد حسن کے ساتھ گفتگو میں ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ صورتحال بہت پیجیدہ ہے، صدر ٹرمپ کے واضح اعلان کے بعد شام پر امریکہ کے حملہ کرنے یا نہ کرنے، دونوں صورتوں میں نتائج سنگین ہیں۔

’’ اب جبکہ صدر ٹرمپ نے حملے کا اعلان کر دیا ہے تو بدقسمتی سے یہ حملہ ہو کر رہے گا۔ اگر حملہ نہیں ہوتا تو پھر (صدر ٹرمپ کی) ساکھ کو مزید دھچکہ پہنچے گا‘‘۔ زبیر اقبال کے بقول امریکہ کے صدر ٹرمپ کے بیانات تضاد ناتجربہ کاری کے عکاس ہیں یہ ناتجربہ کاری ہے۔ ان کے مشیروں کو چاہیے کہ مناسب سمت کی جانب ان کی راہنمائی کریں۔ ناتجربہ کاری بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسرے ملک اس کو اس نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو پالیسیوں میں لڑکھڑاہٹ یا تذبذب کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ملکوں کے لیے اس کے بہت خطرناک نتائج ہوا کرتے ہیں‘‘۔

پاکستان سے تجزیہ کار، سابق سفیر ظفر ہلالی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے شام پر میزائل حملے کے عندیہ پر تنقید کی اور کہا کہ امریکہ وہیں حملے کیا کرتا ہے جہاں اسے یقین ہو کہ جواب میں حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہو کہ جواب میں کاروائی ہو گی تو وہاں وہ بات چیت کیا کرتا ہے۔ اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر میزائل حملہ ان کے الفاظ میں احمقانہ فیصلہ ہو گا جس کے حق میں دلائل نہیں دیے جا سکتے۔ سال 2013 میں اوباما انتظامیہ بھی شام پر اس وقت حملے پر سوچ بچار کرتی رہی ہے جب صدر بشارالاسد نے امریکہ کی جانب سے متعین کردہ سرخ لکیر پار کی تھی اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

اسد حسن

بشکریہ وائس آف امریکہ

اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملے کا امکان

فضائی حدود کی نگرانی کے یورپی ادارے ’یوروکنٹرول‘ نے فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے گزرنے والی اپنی پروازوں کے حوالے سے احتیاط کریں کیونکہ اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد سے صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مغربی اتحادی دوما میں کیے جانے والے اس مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرتے ہوئے صدر اسد کو سزا دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ماسکو اپنے حلیف اسد کے خلاف کسی بھی طرح کی عسکری کارروائی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بارہ قراردادوں کا راستہ روک چکا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ دوما میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین ہوتے ہی اس کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ماسکو اور واشنگٹن شامی علاقے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک اس واقعے کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس تناظر میں ایک دوسرے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے لاطینی امریکی خطے کا پہلے سے طے شدہ اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ شام پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ سیریئن ریلیف گروپ کے مطابق اس واقعے میں ساٹھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ڈیڑھ سو ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔

بشکریہ DW اردو

شام میں ’کیمیائی حملے‘ کی تحقیقات کیلئے قرار داد، روس نے ویٹو کر دی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس، شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے، کسی قسم کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں ناکام ہو گئے۔ کونسل کے اجلاس میں، شام کے علاقے ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے نتیجے میں 40 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کو روس نے ویٹو کر دیا۔ 12 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، بولیویا نے مخالفت میں روس کا ساتھ دیا جب کہ چین نے ووٹنگ میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

خیال رہے کہ کسی بھی قرار داد کو منظور کرنے کے لیے کل 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں اس حوالے سے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ روس، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے مخالفت میں ووٹ نہ دیا جائے۔ روس کے ویٹو کرنے کے بعد، ایک اور قرار داد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی، جو ماسکو کی حمایت کردہ تھی، تاہم 7 ممالک کی مخالفت کے باعث اسے مسترد کر دیا گیا، چین سمیت پانچ ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دو نے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

امریکا اور روس کی باہمی کشمکش
ووٹنگ سے قبل امریکا اور روس کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ روس کے نمائندے وسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ڈوما میں مشتبہ کیمیائی حملے کو جواز بنا کر امریکا کی جانب سے کی گئی کسی بھی کارروائی کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ شامی افواج کی حمایت کر کے روس نے اپنے ہاتھ شام کے معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
واضح رہے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، شام کے مشرقی حصے غوطہ کے علاقے میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے بعد بگڑتی صورتحال کے باعث طلب کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران شدید تنقید کے تبادلے کے بعد سلامتی کونسل کے مندوبین کی جانب سے کسی ممکنہ حل کی کوشش کے لیے تین تجاویز پر بند کمرے میں مشاورت بھی کی گئی۔ نمائندوں کے مطابق امریکا کا موقف تھا کہ وہ اس بارے میں گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن دنیا کی نظریں سلامتی کونسل کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ امریکا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی قرار داد کے مسودے پر روس کے خدشات دور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے لیکن جو بھی کرنا ہے جلد کرنا ہو گا۔

امریکا کی جانب سے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد مذمتی قرار داد کے ذریعے شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا۔ قرار داد کا مسودہ ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے حوالے سے تھا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے عوام کا جانی نقصان ہوتا رہے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ اس واقعے پر سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور امریکا کے پاس بہت سے عسکری راستے موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے جلد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکا، برطانیہ اور فرانس کی شام پر حملے کی منصوبہ بندی

شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، روس نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کر دی ہے، قرارداد شام میں کیمیائی حملے سے متعلق تحقیقات سے تھی، امریکا نے بھی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد کو ویٹو کر دیا، اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ شام پر کسی بھی حملے سے قبل ہوش سے کام لیا جائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو روز کے دوران زہریلی حملے سے متعلق سخت رد عمل دیں گے، برطانوی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر مغربی اتحادیوں نے مطالبہ کیا تو وہ بھی شامی حکومت پر حملے میں شامل ہو سکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیردفاع جم میٹس نے اپنے بیرونی دورے منسوخ کر دیے ہیں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے پر ردعمل دینے کے لیے ہمارے پاس عسکری سطح پر کئی راستے موجود ہیں جس کے لیے مغربی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے، صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو بھی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی حکومت کو کیمیائی حملوں کی اجازت نہیں دے سکتے، دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شام پر حملے کا فیصلہ کیا تو وہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے اتحادیوں امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر رد عمل دیں گے، میکغوں کا کہنا تھا کہ فرانس کی معلومات کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذمہ دار شامی حکومت ہے.

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر حملے کا مطالبہ کیا تو وہ یقیناً ایسا کریں گے، ادھر ممکنہ حملے کے پیش نظر شامی فوج نے اپنی تمام فوجی پوزیشنز کو الرٹ کر دیا ہے، سیرین آبزرویٹری کے مطابق تمام فضائی، بری اور بحری اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، شامی فوج کے ایک زریعہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قطر کے امیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی اور ٹرمپ نے شام کی صورت حال اور خلیجی امور پر بات کی۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر میں مفاہمت چاہتے ہیں ۔

امریکا نے فلسطینوں کی امداد روک لی

امریکا نے فلسطین پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے ساڑھے 6 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کو 6 کروڑ ڈالر جاری کر دیے ہیں تاہم مزید 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق فنڈنگ کے تمام معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ فنڈنگ کے معاملے میں دیگر ممالک بھی زیادہ حصہ ادا کریں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے امداد کی کٹوتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی خدمات بہت اہمیت رکھتی ہیں اور امداد کٹوتی کی صورت میں ادارے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ کی جانب سے فلسطینیوں کی امداد روکنے کی دھمکی

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی دھمکی دی ہے، یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہ یوں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ امن عمل میں تعطل واقع ہو گیا ہے۔ اپنی دو عدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہنا ہے کہ ’’ہم فلسطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر ادا کرتے ہیں، جس پیسے کی نہ تو قدر کی جاتی ہے نہ اُسے سراہا جاتا ہے۔ وہ طویل مدت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، نہ ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے میں جب فلسطینی امن بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ہم کیوں اُن کو اتنی بڑی رقوم دیتے رہیں؟‘‘

ٹرمپ نے گذشتہ سال کے اواخر میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس پر متعدد لوگ ناراض ہوئے۔ ایک طویل عرصے سے ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ امن کی ثالثی کے کردار کے خواہاں ہیں، جسے اُنھوں نے بالآخر ہونے والا ’’حتمی معاہدہ‘‘ قرار دیا ہے۔ صدر کی ٹوئیٹ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے انکشاف کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے اُس ادارے کو رقوم کی فراہمی بند کی جائے گی جو انسانی بنیادوں پر فلسطینی مہاجرین کو امداد فراہم کرتا ہے۔ سفیر نکی ہیلی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’بنیادی طور پر صدر نے یہ کہا ہے کہ وہ مزید رقوم دینے کے خواہاں نہیں، جب تک فلسطینی مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ ’یو این آر ڈبلیو اے‘ کی ویب سائٹ کے مطابق، ادارے کو امریکہ سب سے زیادہ رقوم فراہم کرتا ہے، جس کے لیے سال 2016ء میں تقریباً 37 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

کیا روس اور چین، شمالی کوریا کی مدد کر رہے ہیں ؟

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ شمالی کوریا کو چین اور روس کے بحری جہازوں کے ذریعے تیل منتقل کیا گیا ہے۔ چین نے تیل منتقلی کی تردید کی ہے۔ روس کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دو سینیئر مغربی سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کو روس کے بحری جہازوں سے کھلے سمندر میں تیل منتقل کیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ روس کی جانب سے ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے لیے تیل کا حصول حکومتی عملداری قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تیل مال بردار بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکروں پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترسیل کے عمل میں امکاناً روس کے نجی کاروباری حلقوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس مناسبت سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریائی مال بردار بحری جہاز روسی بندرگاہوں سے تواتر کے ساتھ آ جا رہے ہیں۔ ان ذرائع نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے یہ تیل کی منتقلی بحر الکاہل میں ہوئی ہے۔ روسی تیل بردار بحری جہاز مشرقی روسی بندرگاہی علاقوں سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بحری جہازوں کی آمد و رفت انٹیلیجنس سیٹلائٹ پر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تیل کی منتقلی کے حوالے سے معلومات مغربی سکیورٹی ذرائع نے نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی روئٹر کو بتائی ہیں۔ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بظاہر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تیل کی منتقلی میں روسی حکومت ملوث ہے۔ روس کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کی تردید کر دی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ چین نے شمالی کوریا کو تیل کی فراہمی میں چھوٹ دے رکھی ہے۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں۔ ایک جنوبی کوریائی اخبار Chosun Ilbo نے ایک امریکی انٹیلیجنس سیٹلائٹ سے اتاری گئی ایک تصویر شائع کی تھی اور لکھا تھا کہ ایک چینی بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکر پر تیل کی منتقلی دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام نے اس جنوبی کوریائی اخباری رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

دنیا بھر میں تین ملین افراد ’بے وطن‘ ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تیس لاکھ افراد کو بے وطنیت کا سامنا ہے جن کی اکثریت کا تعلق کسی نہ کسی خطے کی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیت سے ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت میانمار کے روہنگیا مسلمان دنیا کی سب سے بڑی ’بے وطن‘ اقلیت ہیں۔ صرف اگست کے بعد سے اب تک چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مبينہ تشدد اور جبر کے باعث میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔

یہ ہمارا گھر ہے – شہریت کی تلاش میں بے وطن اقلیتیں‘ کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ بھی دنیا بھر میں کئی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیتوں کو بے وطنیت کا سامنا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق بے وطن انسانوں کے ساتھ دنیا بھر میں امتیازی سلوک کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب بھی کیا جاتا ہے۔ ادارے نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سن 2024 تک ایسی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یو این ایچ سی آر کے ایک سینئر اہلکار کارول بیچلر نے رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ دنیا میں کسی ملک کی شہریت کے بغیر رہ رہے ہیں تو آپ کی کوئی شناخت نہیں، نہ کوئی دستاویزات ہیں اور نہ ہی تعلیم، ملازمت اور صحت جیسی بنیادی سہولیات۔‘‘ عالمی ادارے نے اقوام عالم سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دی جائے، بصورت دیگر ان بچوں کو بھی بے وطنیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں کئی برسوں سے کسی ملک میں رہنے والے مہاجرین کو بھی مقامی شہریت دیے جانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق بے وطن اقلیتوں میں روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ شامی کرد، مقدونیا کی روما برادری، مدگاسکر کی کارانا اور کینیا کی پیمبا اقلیت سے تعلق رکھنے والے انسان سرفہرست ہیں۔

بے وطن انسانوں کے اعداد و شمار کے بارے میں بیچلر کا کہنا تھا، ’’ہم مصدقہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت بے وطن انسانوں کی تعداد تین ملین سے زائد ہے۔‘‘ ان سے پوچھا گیا کہ کیا روہنگیا مسلمان کا شمار بھی ایسے انسانوں میں ہوتا ہے جنہیں دانستاﹰ شہریت سے محروم رکھا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا، ’’میانمار میں شہریت سے متعلق قوانین ہیں جن میں ان افراد کی فہرست بھی شامل ہے جنہیں میانمار کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے لیکن روہنگیا اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔‘‘ عالمی ادارہ برائے مہاجرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بےوطنیت کی یہ تکلیف دہ صورت حال ختم ہونی چاہیے اور وہ تمام قوانین بھی، جن کی مدد سے ایسے امتیازی برتاؤ کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

مسعود اظہر کے خلاف بھارتی قرارداد کو دوبارہ ویٹو کر دیں گے، چین

چین سلامتی کونسل میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی بھارتی کوشش کو دوبارہ ناکام بنا دے گا۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کا مسعود اظہار پر پابندی لگانے کے معاملے پر اختلاف ہے۔ بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا شن ینگ نے مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ فی الوقت سلامتی کونسل کے ارکان کا اس معاملے پر اختلاف ہے اور چین نے مزید غور و خوض کرنے کے لیے تکنیکی طور پر اس معاملے کو روکا ہے۔ واضح رہے کہ چین نے اگست میں سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارتی قرارداد تکنیکی بنیادوں پر روک تھی جس کی مدت میں اس جمعرات کو ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ عسکری تنظیم جیش محمد پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔