انتہاپسند امریکی طالبعلم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 17 کو ہلاک کر دیا

امریکہ ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک متشبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ نکولوس کروز کے نام سے ہوئی ہے جو ایک سکول کا سابق طالب ہیں اور انھیں سکول سے نکالا گیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مقامی چینل سی بی ایس کو بتایا کہ ملزم نے فائرنگ کرنے سے پہلے فائر الام بجایا جس سے افراتفری پیدا ہوئی۔ بروارڈ کاونٹی شیرف سکاٹ اسرائیل نے صحافیوں کو بتایا کہ نکلولوس کروز نے ایک رائفل استعمال کیا اور ان کے پاس ’لاتعداد میگزینز‘ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکول کے باہر سے فائرنگ کرنا شروع کی جہاں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہوئے اور مزید 12 افراد کو ہلاک کیا۔

اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔ اس سے قبل سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے سپرینٹینڈینٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص ’ممکنہ طور پر سابق طالب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ شخص اب زیر حراست ہے۔‘ مقامی سکول پبلک سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سکول کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب طالب علموں کو نکالا جا رہا ہے۔ ہمیں ممکنا طور پر زخمی ہونے والوں کے بارے میں بھی اطلاعات ملی ہیں۔‘

سکول کا کہنا تھا کہ پولیس سکول کی ایک عمارت سے طالب علموں کو نکال رہی ہے۔ کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔ بحٖفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘ جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایوری ٹاون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکہ میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

Advertisements

شام میں امریکی حملے میں درجنوں روسی جنگجو ہلاک

شمال مشرقی شام میں روسی جنگجو امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ بات ان روسیوں کے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتائی۔ اطلاعات کے مطابق ان جنگجوؤں کو ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا جو شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان اموات کی خِبریں امریکی میڈیا میں آئی ہیں لیکن روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ان اطلاعات کو ‘بنیادی ذرائع’ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس کے حملوں میں کم از کم ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سینکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔ جب انھوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ امریکہ نے اس کے جواب میں بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا۔ شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ اس حملے میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں اور اسے ‘وحشیانہ قتلِ عام’ قرار دیا ۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نے پینٹاگون کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے اڈے پر حملے میں شام کے حکومت نواز جنگجوؤں کے ساتھ روسی کرائے کے فوجی بھی شامل تھے۔ سی بی ایس نے کہا : ‘اگر واقعی روسی مارے گئے ہیں تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ شام میں کسی امریکی کارروائی میں روسی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔’ روسی جنگجوؤں کے دو ساتھیوں نے بی بی سی سے تصدیق کی کہ وہ سات فروری کو مارے گئے تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے نام ولادی میر لوگینوف اور کریل آنانیف بتائے۔ بعض روپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ درجنوں روسی ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ انھیں نجی روسی کمپنی واگنر نے بھرتی کیا تھا۔ اس کمپنی نے ابھی تک اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کیا امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے ؟

امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے۔ امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار) نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی جو امریکی کانگریس، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی گئی۔ رپورٹ میں اعتراف کیا کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے اور امریکا کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہو رہی ہے، اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔

سگار کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں بم حملوں کے اعداد و شمار 2012 کی نسبت 3 گنا زیادہ ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ سپاہیوں کو ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے، گزشتہ 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اکتوبر میں افغانستان میں فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر دی گئی لیکن اس کے باوجود گزشتہ سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فی صد اضافہ ہوا اور پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ افغان صوبے فرح میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی سرکاری چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے کا بل امریکی ایوان نمائندگان میں پیش

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ایک بل متعارف کرایا گیا۔ اس سے قبل ایک ایسا ہی بل سینیٹ کے فلور پر بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایوان میں لائے جانے والے بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی غیر فوجی امداد بھی روکی جانی چاہیے اور اس اقدام سے بچنے والے فنڈز امریکہ کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان دہشت گردوں کو فوجی امداد اور خفیہ معلومات فراہم کرتا ہے۔

پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس کا الزام پاکستان پر ڈال رہا ہے جہاں وہ بڑھتی ہوئی شورش کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ یہ بل ساؤتھ کیرولائنا کے کانگریس مین مارک سین فورڈ اور کنٹکی کے تھامس مارسی نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ، اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ کو امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم پاکستان بھیجنے سے روکا جائے۔ اس کی بجائے یہ فنڈز امریکہ میں سٹرکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ہائی وے ٹرسٹ فنڈ کو دے دیے جائیں۔ پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق ایک ایسا ہی بل سینیٹ میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ بل پچھلے مہینے سینیٹر رینڈ پال نے متعارف کر ایا تھا۔

The Current United States National Debt

Treasury Secretary Steven Mnuchin walks past a display of the U.S. national debt as he testifies to the House Financial Services Committee on “The Annual Report of the Financial Stability Oversight Council,” on Capitol Hill in Washington. The U.S. debt is about $19.9 trillion and is constantly changing; it amounts to:
$61,365 for every person living in the U.S.
$158,326 for every household in the U.S.
106 percent of the U.S. gross domestic product
560 percent of annual federal revenues
Much of the debt is bought and held by individuals, institutional investment companies and foreign governments. The debt is managed by the U.S. Treasury through its Bureau of the Public Debt. The debt falls into two categories: intragovernmental holdings and debt held by the public.
What Is the Budget Deficit?
When the government spends more in a given fiscal year than it brings in through revenues, it runs a deficit. It’s the same as when a person spends more than he or she has in the bank, except private citizens do not have as much freedom to keep a running tab. Running a deficit for a long time can be a bad thing for the country because the interest on borrowed money continues to accrue, exacerbating the long-term debt. The deficit usually increases when the nation is financing a war or is experiencing a recession, but at other times as well since the greater the national debt, the greater the interest on that debt becomes.
The highest deficit of GDP was in 1944, at 21.2 percent during World War II; it remained below 3 percent of GDP for most of the nation’s history and was 3.5 percent in 2016. In order for the government to correct a budget deficit, it needs to cut back on expenditures or increase revenue through a hike in income taxes or fees. Another way the deficit can be reduced is by increasing the growth rate of the economy. The projected U.S. federal budget deficit for fiscal year 2018 is $352 billion.

امریکی اسٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی، سات برسوں کا ریکارڈ خسارہ

امریکی سٹاک مارکیٹ کو گزشتہ سات برسوں کے دوران کسی ایک دن میں سب سے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس نقصان کی وجہ سے تمام بڑی ایشیائی منڈیوں میں بھی شدید خسارے کا رجحان رہا۔ جاپانی دارالحکومت ٹوکیو سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق امریکی شہر نیو یارک کی وال سٹریٹ پر قائم نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں، جو دنیا بھر میں حصص کی سب سے بڑی منڈی ہے، ڈاؤ جونز انڈکس کو یومیہ بنیادوں پر 2011ء سے لے کر آج تک کے سب سے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

نئے ہفتے کا آغاز وال سٹریٹ کے لیے اتنا نقصان دہ دن ثابت ہوا کہ کاروبار کے اوقات کے دوران ایک بار تو اس انڈکس میں خسارے کا حجم 1,597.08 تک پہنچ گیا تھا۔ حصص کے کاروبار کے کسی ایک دن کے اندر اندر یہ ڈاؤ جونز انڈکس کی تاریخ میں آج تک ریکاڑد کی گئی سب سے زیادہ کمی تھی۔ پھر دن کے باقی ماندہ حصے میں اس انڈکس کو کچھ سنبھالا ملا اور یہ 1175.21 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ ڈاؤ جونز کے صنعتی اوسط انڈکس میں یہ کمی 4.6 فیصد بنتی تھی اور اس سے قبل ایسا آخری مرتبہ 2011ء میں ہوا تھا کہ وال سٹریٹ کو کسی ایک دن میں اتنا زیادہ نقصان ہوا تھا۔

مقامی وقت کے مطابق نیو یارک سٹاک مارکیٹ چونکہ ایسے وقت پر بند ہوتی ہے، جب کئی ایشیائی ممالک میں اگلا دن شروع ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے حصص کی قیمتوں میں ایسے ہر بڑے اتار چڑھاؤ کے اثرات اگلے روز براعظم ایشیا کی بڑی سٹاک مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وال سٹریٹ کے پیر کو 4.6 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہونے کے بعد جب ایشیائی کاروباری منڈیاں کھلیں، تو ان میں بھی شدید خسارے کا رجحان دیکھنے میں آیا، جو ایشیا میں ٹوکیو سے شروع ہوا اور ممکنہ طور پر آج دن کے دوران یورپ میں لندن سٹاک ایکسچینج تک میں دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق جاپان میں ٹوکیو سٹاک مارکیٹ کے نِکئی انڈکس کو آج 1,071.84 پوائنٹس کا خسارہ ہوا، جو یہ مارکیٹ بند ہونے تک 4.73 فیصد بنتا تھا۔ اسی طرح چین اور ہانک کانگ میں حصص کی منڈیوں کو بھی کاروبار شروع ہونے کے فوری بعد سے مندی کے رجحان کا سامنا رہا۔ شنگھائی میں کمپوزٹ انڈکس کو منگل کی دوپہر تک 3.2 خسارے اور ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ انڈکس کو بعد دوپہر تک 4.32 فیصد نقصان کا سامنا تھا۔ صرف ایک اعلان کے بعد کئی مالیاتی ماہرین کے مطابق دنیا کی اکثر بڑی معیشتوں میں سود کی شرح اس وقت تقریباﹰ ریکارڈ حد تک کم ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی سطح پر حصص کی قیمتوں میں کافی زیادہ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

کسی کو یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے والا ناروے بھی تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہو جائے گا۔ بحیرہٴ شمال کی تہہ میں موجود خام تیل نے ناروے کو دنیا کے امیر ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا تاہم تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اوسلو حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔ اب یہ ملک تیل اور گیس کی فروخت پر بھروسا کرنے کے ساتھ ساتھ ماہی گیری پر بھی انحصار بڑھائے گا۔ حصص کی بین الاقوامی منڈیوں میں اس خسارے کی وضاحت کرتے ہوئے ہانگ کانگ میں سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار بین کوانگ نے کہا، ’’یہ سٹاک مارکیٹ انڈکس میں منطقی اصلاح کا وہ عمل تھا، جس کا ایک طرح سے کافی عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

اس کی وجہ سرمایہ کاروں کے امریکا میں سود کی مرکزی شرح میں اضافے سے متعلق خدشات بنے۔‘‘ پیر کے روز ڈاؤ جونز انڈکس میں بہت زیادہ کمی ایک ایسے وقت پر دیکھنے میں آئی، جب امریکا میں فیڈرل ریزرو نامی مرکزی بینک کے نئے سربراہ جیروم پاویل اپنی ذمے داریاں سنبھال رہے تھے۔ بھارتی سٹاک مارکیٹ میں بھی قریب تین فیصد اور آسٹریلین سٹاک مارکیٹ میں 3.2 فیصد کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ایشیائی ممالک کی شیئر مارکیٹوں میں بھی خسارے کا یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔

بشکریہ DW اردو

صدر ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی کے ممکنہ اثرات

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ منگل کی شام کانگریس میں اپنا پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ریاست مضبوط ہے اور امریکی معیشت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امیگریشن سے متعلق چار نقاط پر مشتمل اپنی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا جس میں امریکہ میں قانونی دستاویزات کے بغیر 18 لاکھ امیگرینٹس کو قانونی حیثیت دینے، میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے، ویزا لاٹری ختم کرنے اور چین امیگریشن کو بیوی/شوہر اور بچوں تک محدود کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس نئی امیگریشن پالیسی کے عمومی طور پر امیگریشن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم نے اس بارے میں امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس میں امیگریشن پالیسی کے ڈائریکٹر جنرل فلپ وولجن سے بات کی تو اُنہوں نے بتایا کہ اگر یہ امیگریشن پالیسی قانون کا درجہ حاصل کر لیتی ہے تو اس سے امریکہ میں امیگریشن انتہائی محدود ہو جائے گی اور امریکہ پر تین اہم حوالوں سے اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سے امیگریشن بہت کم ہو جائے گی اور سفید فام لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگ اس سے شدید طور پر متاثر ہوں گے۔ اس پالیسی کی وجہ والدین کیلئے امریکہ میں اپنے بچوں کے پاس آنا ممکن نہیں رہے گا اور نہ ہی بہن بھائیوں کا یہاں آنا ممکن ہو سکے گا۔ فلپ وولجن کا خیال ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں امیگریشن کے ذریعے امریکہ آنے والوں کی تعداد میں ایک تہائی سے نصف حد تک کمی واقع ہو گی۔ یوں ان پابندیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سیام فام، لاطینو اور ایشیائی امیگرنٹ شامل ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ کو جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کیلئے مطلوبہ 25 ارب ڈالر کے مالی وسائل دستیاب ہو جائیں گے جس سے دیوار تعمیر کرنے کے علاو ہ اس کی نگرانی کیلئے مزید بارڈر پیٹرول اہلکاروں کو بھرتی کیا جا سکے گا۔

فلپ وولجن کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی یعنی DHS کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل ایلن ڈیوک نے کہا ہے کہ 25 ارب ڈالر کی اس مجوزہ فنڈنگ کا کچھ حصہ DHS خود بھی استعمال کرے گا جس سے بقول اُن کے مراد یہ ہے کہ یہ رقم امیگرنٹس کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے استعمال ہو گی۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس سے وہ لوگ بھی شدید طور پر متاثر ہوں گے جو کسی خطرے سے بچنے کیلئے امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں کیونکہ اُن کیلئے خطرات سے بچنے کا یہ واحد راستہ ہے۔ فلپ وولجن کا کہنا ہے کہ امیگرینٹس کے امریکہ آنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ نسبتاً کم عمر کے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد نے امریکہ آ کر یہاں ریٹائر ہونے والوں کی جگہ سنبھالی اور یوں اُنہوں نے امریکہ کی تیز رفتار ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ امریکہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے اور اُن کی دیکھ بھال کیلئے سوشل سیکورٹی اور طبی دیکھ بھال کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ لہذا اگر امیگریشن انتہائی محدود ہو جاتی ہے تو امریکہ میں مستقبل میں خالی ہونے والی ملازمتوں کیلئے کافی انسانی وسائل موجود نہیں ہوں گے۔

فلپ نے گوگل اور یاہو جیسی انٹرنیٹ کمپنیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بڑی کمپنیوں کے بانی امیگرنٹ تھے اور اگر امیگریشن پر پابندی لگ جاتی ہے تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا ایسے ذہین لوگ امریکہ آئیں گے یا پھر دوسرے ملکوں کا رُخ کریں گے۔ اس بارے میں شاید ہم نے سوچا نہیں ہے۔ فلپ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فی الحال محض ایک تجویز ہے اور کانگریس سے منظوری کے بعد ہی اسے قانونی حیثیت حاصل ہو سکے گی اور یہ منظوری حاصل کرنے میں شدید دشواری ہو گی کیونکہ ڈیموکریٹک سنیٹرز اور ایوان نمائیندگان کے ارکان اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم آن لائن تحقیقی ادارے WalletHub Communications کی تجزیہ کار جل گانزیلس نے ہمیں بتایا کہ نئی امیگریشن پالیسی سے امریکہ کی تمام ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ڈریمرز کہلانے والے اُن 18 لاکھ امیگرنٹس کو سکونتی دستاویزات فراہم کرنے کی بات کی ہے جنہیں سالہا سال امریکہ میں رہنے کے باوجود سکونت کیلئے قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم امیگرنٹس پر مشتمل انسانی وسائل پر نظر ڈالیں تو نیویارک اور کیلی فورنیا جیسی ریاستوں میں کام کرنے والے ایک تہائی افراد ایسے ہیں جن کی پیدائش کسی دوسرے ملک میں ہوئی تھی۔ لہذا مزید 18 لاکھ امیگرنٹس کو قانونی حیثیت دینے سے انسانی وسائل میں اضافہ ہو گا اور یہ ثابت ہو گا کہ امریکی معیشت امیگرنٹس پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ ویزا لاٹری کی منسوخی کے حوالے سے جل کہتی ہیں کہ اس سے امیگریشن پر کچھ اثر تو ضرور پڑے گا لیکن یہ اثر اس حوالے سے ہو گا کہ امیگرنٹس کس انداز اور حیثیت میں امریکہ آتے ہیں۔ اُنہوں نے واشنگٹن ڈی سی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بہت سے غیر ملکی طلبا F-1 ویزا پر آئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے H1-B ویزا لیا اور اب مقامی معیشت کا حصہ بن رہے ہیں۔ یوں میرٹ کی بنیاد پر ہم امیگریشن میں اضافہ ہوتا دیکھیں گے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو

Inside Donald Trump’s Guantanamo detention camp

European Union members and the Organization of American States, as well as non-governmental organizations such as Amnesty International and Human Rights Watch, have protested the legal status and physical condition of detainees at Guantánamo. The human rights organization Human Rights Watch has criticized the Bush administration over this designation in its 2003 world report, stating: “Washington has ignored human rights standards in its own treatment of terrorism suspects. It has refused to apply the Geneva Conventions to prisoners of war from Afghanistan, and has misused the designation of ‘illegal combatant’ to apply to criminal suspects on U.S. soil.” On 25 May 2005, Amnesty International released its annual report calling the facility the “gulag of our times.”  Lord Steyn called it “a monstrous failure of justice,” because “… The military will act as interrogators, prosecutors and defense counsel, judges, and when death sentences are imposed, as executioners. The trials will be held in private. None of the guarantees of a fair trial need be observed.
Another senior British Judge, Justice Collins, said of the detention center: “America’s idea of what is torture is not the same as the United Kingdom’s.” At the beginning of December 2003, there were media reports that military lawyers appointed to defend alleged terrorists being held by the United States at Guantánamo Bay had expressed concern about the legal process for military commissions. The Guardian newspaper from the United Kingdom reported that a team of lawyers was dismissed after complaining that the rules for the forthcoming military commissions prohibited them from properly representing their clients. New York’s Vanity Fair reported that some of the lawyers felt their ethical obligations were being violated by the process. The Pentagon strongly denied the claims in these media reports. It was reported on 5 May 2007, that many lawyers were sent back and some detainees refuse to see their lawyers, while others decline mail from their lawyers or refuse to provide them information on their cases (see also Mail privileges of Guantanamo Bay detainees).

 

The New York Times and other newspapers are critical of the camp; columnist Thomas Friedman urged George W. Bush to “just shut it down”, calling Camp Delta “… worse than an embarrassment.”  Another New York Times editorial supported Friedman’s proposal, arguing that Guantánamo is part of “… a chain of shadowy detention camps that includes Abu Ghraib in Iraq, the military prison at Bagram Air Base in Afghanistan and other secret locations run by the intelligence agencies” that are “part of a tightly linked global detention system with no accountability in law.”
In November 2005, a group of experts from the United Nations Commission on Human Rights called off their visit to Camp Delta, originally scheduled for 6 December, saying that the United States was not allowing them to conduct private interviews with the prisoners. “Since the Americans have not accepted the minimum requirements for such a visit, we must cancel [it],” Manfred Nowak, the UN envoy in charge of investigating torture allegations around the world, told AFP. The group, nevertheless, stated its intention to write a report on conditions at the prison based on eyewitness accounts from released detainees, meetings with lawyers and information from human rights groups.
In February 2006, the UN group released its report, which called on the U.S. either to try or release all suspected terrorists. The report, issued by the Working Group on Arbitrary Detention, has the subtitle Situation of detainees at Guantánamo Bay. This includes, as an appendix, the U.S. ambassador’s reply to the draft versions of the report in which he restates the U.S. government’s position on the detainees.
European leaders have also voiced their opposition to the internment center. On 13 January 2006, German Chancellor Angela Merkel criticized the U.S. detention of prisoners at Guantánamo Bay: “An institution like Guantánamo, in its present form, cannot and must not exist in the long term. We must find different ways of dealing with prisoners. As far as I’m concerned, there’s no question about that,” she declared in a 9 January interview to Der Spiegel. Meanwhile, in the UK, Peter Hain, the Secretary of State for Northern Ireland, stated during a live broadcast of Question Time (16 February 2006) that: “I would prefer that it wasn’t there and I would prefer it was closed.” His cabinet colleague and Former Prime Minister of the United Kingdom, Tony Blair, declared the following day that the center was “an anomaly and sooner or later it’s got to be dealt with.”

 

On 10 March 2006, a letter in The Lancet was published, signed by more than 250 medical experts urging the United States to stop force-feeding of detainees and close down the prison. Force-feeding is specifically prohibited by the World Medical Association force-feeding declarations of Tokyo and Malta, to which the American Medical Association is a signatory. Dr David Nicholl who had initiated the letter stated that the definition of torture as only actions that cause “death or major organ failure” was “not a definition anyone on the planet is using.” There has also been significant criticism from Arab leaders: on 6 May 2005, prominent Kuwaiti parliamentarian Waleed Al Tabtabaie demanded that U.S. President Bush “uncover what is going on inside Guantánamo,” allow family visits to the hundreds of Muslim detainees there, and allow an independent investigation of detention conditions.
In May 2006, the Attorney General for England and Wales Lord Goldsmith said the camp’s existence was “unacceptable” and tarnished the U.S. traditions of liberty and justice. “The historic tradition of the United States as a beacon of freedom, liberty and of justice deserves the removal of this symbol,” he said.[250] Also in May 2006, the UN Committee Against Torture condemned prisoners’ treatment at Guantánamo Bay, noted that indefinite detention constitutes per se a violation of the UN Convention Against Torture, and called on the U.S. to shut down the Guantánamo facility. In June 2006, the European Parliament voted overwhelmingly in support of a motion urging the United States to close the camp.
In June 2006, U.S. Senator Arlen Specter stated that the arrests of most of the roughly 500 prisoners held there were based on “the flimsiest sort of hearsay.” In September 2006, the UK’s Lord Chancellor, Lord Falconer, who heads the UK’s legal system, went further than previous British government statements, condemning the existence of the camp as a “shocking affront to democracy.” Lord Falconer, who said he was expressing Government policy, made the comments in a lecture at the Supreme Court of New South Wales. According to former U.S. Secretary of State Colin Powell: “Essentially, we have shaken the belief the world had in America’s justice system by keeping a place like Guantánamo open and creating things like the military commission. We don’t need it and it is causing us far more damage than any good we get for it.”
In March 2007, a group of British Parliamentarians formed an All-party parliamentary group to campaign against Guantánamo Bay  The group is made up of members of parliament and peers from each of the main British political parties, and is chaired by Sarah Teather with Des Turner and Richard Shepherd acting as Vice Chairs. The Group was launched with an Ambassadors’ Reception in the House of Commons, bringing together a large group of lawyers, non-governmental organizations and governments with an interest in seeing the camp closed. On 26 April 2007, there was a debate in the United States Senate over the detainees at Guantánamo Bay that ended in a draw, with Democrats urging action on the prisoners’ behalf but running into stiff opposition from Republicans.
Some visitors to Guantánamo have expressed more positive views on the camp. Alain Grignard, who visited Gitmo in 2006, objected to the detainees’ legal status but declared that “it is a model prison, where people are better treated than in Belgian prisons.” Grignard, then deputy head of Brussels’ federal police anti-terrorism unit, served as expert on a trip by a group of lawmakers from the assembly of the Organisation for Security and Cooperation in Europe (OSCE). “I know no Belgian prison where each inmate receives its Muslim kit,” Mr Grignard said.
According to polls conducted by the Program on International Policy (PIP) attitudes, “Large majorities in Germany and Great Britain, and pluralities in Poland and India, believe the United States has committed violations of international law at its prison on Guantánamo Bay in Cuba, including the use of torture in interrogations.” PIP found a marked decrease in the perception of the U.S. as a leader of human rights as a result of the international community’s opposition to the Guantánamo prison. A 2006 poll conducted by the BBC World Service together with GlobeScan in 26 countries found that 69% of respondents disapprove of the Guantánamo prison and the U.S. treatment of detainees. American actions in Guantánamo, coupled with the Abu Ghraib torture and prisoner abuse scandal, are considered major factors in the decline of the U.S.’s image abroad.
Michael Lehnert, who as a U.S. Marine Brigadier General helped establish the center and was its first commander for 90 days, has stated that was dismayed at what happened after he was replaced by a U.S. Army commander. Lehnert stated that he had ensured that the detainees would be treated humanely and was disappointed that his successors allowed harsh interrogations to take place. Said Lehnert, “I think we lost the moral high ground. For those who do not think much of the moral high ground, that is not that significant. But for those who think our standing in the international community is important, we need to stand for American values. You have to walk the walk, talk the talk.”

سی آئی اے نے چین کو بھی روس جیسا بڑا خطرہ قرار دے دیا

امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے چین کو بھی روس جیسا بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ سی آئی اے کے سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ شمالی کوریا جلد امریکا پر جوہری حملے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جبکہ روس امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کر سکتا ہے۔ مائک پومپیو نے سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر میں برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کے اندرونی معاملات میں روسی مداخلت تاحال جاری ہے جس میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں آئی ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے شمالی کوریا کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا کہ شمالی کوریا آئندہ چند ماہ میں امریکا کو جوہری ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

مائک پومپیو نے چین پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ چین مسلسل امریکی معلومات کو چوری کرنے اور امریکی خفیہ اداروں میں گھسنے کی کوششں کر رہا ہے، چین کی امریکا اور مغربی ممالک میں اپنا اثر بڑھانے کی خفیہ کوششیں امریکا کے لیے اتنی ہی پریشان کن ہیں جتنی روس کی تخریب کاری کی کوششیں، بیجنگ حکومت مسلسل امریکی اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کر رہی ہے۔
امریکا کے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں مائک پومپیو نے امکان ظاہر کیا کہ روس مداخلت کر سکتا ہے لیکن امریکا میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے ہاں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکتا ہے۔

President Trump’s First State of the Union

The 2018 State of the Union Address was given by the 45th President of the United States, Donald Trump, on Tuesday, January 30, 2018, at 9 p.m. EST in the chamber of the United States House of Representatives. It is addressed to the 115th United States Congress. It is Trump’s first State of the Union Address and his second speech to a joint session of the United States Congress. U.S. Representative Joe Kennedy III and Virginia Delegate Elizabeth Guzmán will be giving the Democratic Party’s response in English and Spanish respectively.
 Article II, Section 3, Clause 1 of the United States Constitution states that the president “shall from time to time give to the Congress Information of the State of the Union, and recommend to their Consideration such measures as he shall judge necessary and expedient.” On November 30, 2017, House Speaker Paul Ryan sent an invitation to the President to deliver a “State of the Union address before a joint session of Congress on Tuesday, January 30, 2018, in the House Chamber.” The speech will be Trump’s first State of the Union address and his second speech to a joint session of Congress.
On January 26, 2018, a senior administration official told reporters that “the tone [of the address] will be one of bipartisanship and it will be very forward looking.” The official said that the theme of Trump’s speech would be “building a safe, strong, and proud America.” Five major policy issues to be discussed by the president are: the economy, infrastructure, immigration, trade, and national security.[6] More specifically, Trump is expected to tout the Tax Cuts and Jobs Act of 2017 and echo his campaign call for “fair” and “reciprocal” trade deals.
Senior policy adviser Stephen Miller and staff secretary Rob Porter took the lead in writing the speech. The full draft of the speech was completed two weeks before the State of the Union Address, but it was still being edited with reviews and suggestions from Cabinet secretaries and senior White House aides. National Security Advisor H. R. McMaster, Secretary of State Rex Tillerson, and Secretary of Defense Jim Mattis offered feedback on the national security portion of the speech.
The State of the Union Address was given at 9 pm EST on January 30, 2018. Distribution of the tickets for the event was delayed due to a spelling error. John Roberts, the Chief Justice of the United States, and Associate Justices Stephen Breyer, Neil Gorsuch, and Elena Kagan will be the only justices of the Supreme Court of the United States in attendance for the speech. The other five justices were absent. Supreme Court Justice Ruth Bader Ginsburg will not be attending the address. Instead, she will be participating in a “fireside chat” at Roger Williams University School of Law with U.S. Circuit Judge Bruce M. Selya, which was scheduled in August 2017. U.S Secretary of Agriculture Sonny Perdue was named the designated survivor and will be at an undisclosed location during the address so that, in case of a catastrophe, the continuity of government is upheld. 

 

A group of female Democratic members of Congress plan to wear black outfits to the address in solidarity with movements protesting sexual harassment and assault in numerous industries. Members of the Congressional Black Caucus (CBC) will wear red pins to honor Recy Taylor, a black woman who was gang raped by six white men in 1944.

 

On January 5, 2018, U.S. Representative Earl Blumenauer announced that he would be in his district rather than attend the State of the Union Address. In light of reporting that Trump called Haiti, El Salvador, and several nations in Africa “shithole countries”, Representative John Lewis announced on January 12 that he was not planning on attending the address. Joining Lewis in the boycott, Representative Maxine Waters said, “[Trump] does not deserve my attention.” Representative Frederica Wilson became the fourth member of Congress to boycott the address on January 14, calling Trump a racist and liar. On January 15, Representative Pramila Jayapal announced she too was boycotting the address because of “racism and hatred” from Trump. On January 17, CBC chairman Cedric Richmond said that the group was pondering a potential boycott or demonstration of the address. The press secretary of Representative Barbara Lee said she would not attend the address, which was decided before Trump’s disparaging remarks were reported.
On January 26, Representative Jan Schakowsky announced she was not going to attend the address, citing the travel ban, Trump’s response to the violence at the Unite the Right rally, and his use of vulgar language to refer to African nations as reasons for her boycott. Representative Gregory Meeks announced on January 28 that he would be boycotting, saying, “I cannot give this man, who does not respect me, the respect to be in that audience.” The spokesperson for Representative Albio Sires said, “The congressman is not attending the State of the Union because many of his constituents are offended by the president’s rhetoric and behavior.” On January 29, Representatives Bobby Rush and Danny Davis announced they were boycotting the address.