ترک امریکہ سفارتی تعلقات میں کشیدگی

ترکی اور امریکہ دو ایسے اتحادی ممالک ہیں جن کی دوستی اور اتحاد کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں اور یہ دوستی اور اتحاد آج تک تمام امتحانوں میں پورا اترا ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ اگرچہ امریکہ کے سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم تھے لیکن جدید جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد ترکی اور امریکہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے اورترکی نے امریکہ کی زیر قیادت قائم ہونے والے تمام اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ دونوں ممالک کے درمیان اتحاد کا عملی سلسلہ سعد آباد پیکٹ جو کہ بعد میں ’’سینٹو‘‘ کا نام اختیار کر گیا سے شروع ہوا اور نیٹو کی رکنیت اختیار کرتے ہوئے ترکی نے امریکہ کے ساتھ اپنی گہری وابستگی اور اتحاد کا ثبوت فراہم کیا۔

اس دوران سوویت یونین کی جانب سے پورے علاقے میں وسعت کی پالیسی اپنائی جانے سے ترکی نے اپنی عافیت امریکہ کے مزید قریب ہونے ہی میں سمجھی اور امریکہ کو فوجی ہوائی اڈہ فراہم کر تے ہوئے سوویت یونین کے خلاف قائم بلاک میں مرکزی کردارا ادا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا جس سے سوویت یونین نے ترکی کو دشمن ملک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ترکی اور امریکہ کی قربت صرف دفاعی شعبے تک محدود نہ رہی بلکہ تمام شعبوں میں امریکہ نے ترکی کو ہر ممکنہ تعاون فراہم کیا اور ترکی اپنی جغرافیائی حیثیت کی بنا پر اور سوویت یونین کے ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے براہ راست اس کے حملے کا نشانہ بننے کے خدشات کی وجہ سے امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک پر سبقت لے گیا اور امریکہ نے بھی کھل کر ترکی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا۔

ترکی نے نیٹو میں بھی اپنی حیثیت کا لوہا منوا لیا اور امریکہ کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سرد مہری کا مظاہرہ 1974ء میں قبرص جنگ کے دوران دیکھا گیا امریکہ نے ترکی کے قبرص کے ایک حصے پر قبضہ کیے جانے کے بعد ترکی کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی جو طویل عرصہ جاری رہی۔ تاہم اس کے سفارتی اور سیاسی تعلقات پر کوئی زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہوئے اور ترک اور امریکی باشندوں کا بلا روک ٹوک ایک دوسرے کے ملک آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن آج ترکی اور امریکہ کے درمیان تاریخ میں پہلی بار ویزا سروس کو معطل کیا گیا ہے یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازعے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔ امریکہ نے پہلی بار ترک باشندوں کو ویزے کے اجرا پر پابندی عائد کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی مشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس نے ترکی میں واقع تمام سفارتی مراکز میں نان امیگرنٹ ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔

اس کے بعد ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی باشندوں پر ویزے کی پابندی عائد کر دی۔ ترکی میں امریکی قونصل خانے کی جانب سے ترک باشندوں کو ویزا نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ استنبول میں امریکی قونصل خانے میں ملازم ترک باشندے متین توپوز کو گزشتہ برس ترکی میں ناکام بغاوت کے مبینہ سرغنہ فتح اللہ گولن کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لیا جانا ہے۔ امریکی حکومت نے حکومتِ ترکی کے اس اقدام کو بے بنیاد اور دو طرفہ تعلقات کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا اور ساتھ ہی ترک باشندوں کو ویزا فراہم کرنے کی سروس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی تھا.

جبکہ ایک بیان میں واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا کہ امریکی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی باشندوں کواس وقت تک ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک حکومتِ امریکہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتی۔ حکومتِ ترکی نے ناکام بغاوت کے بعد اس بغاوت کے ذمہ داروں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف جو کریک ڈائون شروع کر رکھا ہے، اس کے نتیجے میں امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ترکی میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ اس ناکام بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

ترکی کے حوالے سے اب تک اہم امریکی عہدیداروں کے بیانات جو ذرائع ابلاغ تک پہنچے ہیں، وہ امریکہ ترکی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے قبل حکومتِ ترکی کئی بار امریکہ کو وارننگ دے چکی ہے کہ اگر اس نے فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے نہیں کیا تو اس سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ ترکی کے بار بار کے مطالبوں کے جواب میں امریکی عہدیداروں نے ترکی سے ثبوت اور شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترکی نے اس سلسلے میں امریکہ کو فتح اللہ گولن اور ان کی دہشت گرد تنظیم فیتو کے بارے میں بے شمار ثبوت فراہم کیے ہیں لیکن امریکہ ابھی تک ان دلائل اور ثبوتوں سے قائل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور ترکی سے مسلسل مزید ثبوت اور دلائل فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان فتح اللہ گولن اور ان کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ وجہ تنازع بنی ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ویزہ سروس کی معطلی کے پیچھے اسی مسئلے کا ہاتھ کار فرما ہے۔

فتح اللہ گولن گزشتہ کئی برسوں سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں اور امریکی ریاست پینسلوانیا میں مقیم ہیں۔ فتح اللہ گولن کے ایشو کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی ڈی‘‘ کی حمایت کیے جانے اور ان دونوں تنظیموں کو داعش کے خلاف استعمال کرنے کے بہانے سے اسلحہ فراہم کیے جانے کی وجہ سے ترکی کو امریکہ سے شدید گلہ ہے اور ترکی کئی بار اس بات کا برملا اظہار کر چکا ہے کہ امریکہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ شام میں کرد ملیشیا کے مضبوط ہونے سے ترکی میں کردوں کی علیحدگی پسند تحریک مضبوط ہو سکتی ہے۔

ترکی جو کہ نیٹو کا رکن ملک ہے اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود واحد ملک ہے جس نے روس کے ساتھ اپنے دفاع کے لئے روس سے ایس 400 قسم کے میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور روس کو اس سلسلے میں ایڈوانس بھی دیا جا چکا ہے حالانکہ نیٹو کے رکن ملک ہونے کے ناتے آج تک نیٹو کے کسی بھی ملک نے روس سے کسی قسم کا اسلحہ خریدنے کا سوچا تک نہیں ہے لیکن ترکی نے شام کی صورت حال کی وجہ سے اور علاقے میں اپنا کنٹرول قائم رکھنے اور امریکہ کی جانب سے دفاع کے لئے ترکی کے مطالبات کے باوجود میزائل اور بھاری اسلحہ فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ راستہ اختیار کیا ہے جس سے امریکہ کو اپنے اتحادی ملک کے سامنے شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

امریکہ کی جانب سے ترک باشندوں کے لئے ویزا سروس معطل کیے جانے اور پھر ترکی کی جانب سے جوابی کارروائی کیے جانے کے بعد سے ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے اس سلسلے میں تمام تر ذمہ داری امریکی سفیر جان باس پر عائد کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی وجہ انہیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومتِ ترکی کا کوئی ملازم ایسا کام کرتا تو وہ ایک دن بھی انہیں کام نہ کرنے دیتے اور فوری طور پر ان کو عہدے سے سبکدوش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ کرتے۔ سوموار کو ترکی کی کابینہ کے اجلاس اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ترکی اور امریکہ کے درمیان ویزہ سروس کی معطلی کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے شروع کردہ ویزہ سروس کی معطلی کے بعد جلد ہی ایک امریکی سفارتی وفد کے ترکی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاکہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

Advertisements

ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفیر نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتحال ’’ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھِڑ سکتی ہے۔‘‘ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفارت کار کِم اِن ریونگ نے اس عالمی ادارے کی تخفیف اسلحہ کمیٹی کو بتایا کہ شمالی کوریا ’’جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے اور پوری دنیا سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘‘، مگر وہ امریکی دھمکیوں کے باعث جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کر سکتا۔

کِم کا مزید کہنا تھا، ’’دنیا میں کوئی اور ملک ایسا نہیں ہے جسے اتنے طویل عرصے سے امریکا کی طرف سے اس قدر شدید اور مسلسل جوہری دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ ا ہو۔‘‘ شمالی کوریا کے اس سفارت کار نے متنبہ کیا کہ امریکا ’’شمالی کوریا کی فائرنگ رینج میں ہے اور اگر امریکا نے ہماری مقدس سر زمین کے ایک بھی انچ پر حملہ کیا تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری شدید سزا سے بچ نہیں پائے گا‘‘۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹِلرسن نے امریکی ٹیلی وژن سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بحران کو سفارتی ذریعے سے حل کرنے کی کوششیں ’’اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پہلا بم گِر نہیں جاتا‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان لفظوں کی جنگ شروع ہونے اور ایک دوسرے کو تباہ کر دینے کی دھمکیوں کے بعد جزیرہ نما کوریا میں حالیہ چند ماہ کے دوران تناؤ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
پیونگ یانگ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ برس سے اب تک مختلف بیلسٹک میزائل تجربات کے علاوہ دو جوہری تجربات بھی کر چکا ہے۔ ستمبر میں شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے چھٹے جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی تھیں۔

کیلیفورنیا کی آگ ابھی تک بے قابو ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی آگ شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ کئی دوسری ریاستوں اور چند ممالک سے بھی فائر فائٹرز اس آگ کو بجھانے کے لیے کیلیفورنیا پہنچ گئے ہیں۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔ پہلے یہ تعداد چھتیس بتائی گئی تھی۔ انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کا شکار علاقوں میں زخمیوں اور ممکنہ طور پر جلے ہوئے افراد کی نعشوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ ٹیمیں اب ایسے علاقوں تک پہنچ رہی ہیں، جہاں پہلے آگ کی وجہ سے داخل ہونا ناممکن تھا۔ اس تلاش کے ساتھ ساتھ مسلسل پھیلتی آگ کے رقبے کو کنٹرول کرنے پر بھی ترجیحی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔

بظاہراب تک اس میں اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ریاست کے شمالی حصے میں اس آگ کو لگے پانچ دن ہو گئے ہیں جس کے سبب تقریباً نوے ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مکانات جل چکے ہیں۔ آگ اس وقت سترہ مختلف مقامات پر لگی ہوئی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے نو ہزار سے زائد فائر فائٹرز جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ایک ہزار سے زائد فائر انجن مسلسل پانی کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فضا سے بھی ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر پانی اور آگ بجھانے والے مادے پھینک رہے ہیں۔ کئی رضاکار بھی آگ بجھانے والے عملے کے ساتھ شامل ہیں۔ وسیع پیمانے پر پھیلی اس آگ پر قابو پانے کے لیے امریکی ریاستوں نیواڈا، واشنگٹن، اڈاہو، مونٹانا، نیو میکسیکو اور اوریگن سمیت کئی دوسری ریاستوں کے فائر بریگیڈز کیلیفورنیا پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں شامل ہیں۔ آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی آگ پر قابو پانے کے ماہرین اور فائر فائٹرز کیلیفورنیا پہنچ گئے ہیں۔

شمالی کوریا کے ہیکروں نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے جنگی منصوبے چوری کر لیے

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے جنوبی کوریا کے فوجی دستاویزات کی ایک بڑی تعداد چوری کر لی ہے جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک قانون ساز ری چول ہی کا کہنا ہے کہ چوری کی جانے والی معلومات وزارتِ دفاع سے متعلق ہیں۔ چوری کی جانے والی دستاویزات میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ سے متعلق تیار کیے جانے والےمنصوبے بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان دستاویزات میں جنوبی کوریا کی خصوصی افواج کے منصوبوں تک رسائی حاصل کی گئی جن میں اہم پاور پلانٹس اور فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات بھی شامل تھیں۔ ری چول کے مطابق جنوبی کوریا کے دفاعی ڈیٹا سینٹر سے 235 گیگا بائٹس فوجی دستاویزات چوری کی گئیں اور ان میں سے 80 فیصد کی ابھی تک شناخت نہیں کی گئی ہے۔ یہ دستاویزات گذشہ سال ستمبر میں ہیک کی گئیں۔ جنوبی کوریا نے مئی میں کہا تھا کہ ان کا بڑی مقدار میں ڈیٹا چرایا گیا تھا اور شاید شمالی کوریا نے اس سائیبر حملے کی ترغیب دی ہو تاہم اس نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

جنوبی کوریا کے ریاستی خبر رساں ادارے ہونہاپ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیئول حالیہ برسوں میں اپنے کیمونسٹ ہمسائے کی جانب سے سائیبر حملوں کا شکار رہا ہے جس میں سرکاری ویب سائٹس اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر ‘من گھڑت دعوے’ عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ شمالی کوریا نے حال ہی میں ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا تھا جسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو ‘راکٹ مین’ کہہ کر پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ خودکش مشن پر ہیں۔ اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ ‘سٹھیائے ہوئے دماغی مریض امریکی کو آگ سے سدھائیں گے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

‘جیسا کرو گے ویسا بھرو گے’ ترکی نے امریکیوں کو ویزے روک دیے

 امریکا اور ترکی کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے لیے اپنی بیشتر ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔ واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا کہ اسے مشن اور عملے کی سلامتی کے لیے امریکی حکومت کے عزم کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ادھر ترکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکیوں کے لیے اپنی ویزا سروسز معطل کردی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدام کا جواب ہے۔ اس سے پہلے تُرک حکام نے استنبول میں امریکی قونصل خانے کے ایک اہلکار کو گذشتہ برس ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے مبینہ سرغنہ فتح اللہ گولن کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔ امریکی حکومت نے اس اقدام کو بے بنیاد اور دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔ ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہلکار ترک شہری تھا۔

ایک بیان میں واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا: ‘حالیہ واقعات نے ترک حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ترک مشن اور عملے کی سلامتی کے بارے امریکی حکومت کے عزم کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ ‘اس جائزے کے دوران ہمارے سفارتی اور قونصلر مشنز کے اندر آنے والے لوگوں کی تعداد کم کرنے کے لیے ہم نے فوری طور پر امریکا میں اپنے سفارتی اور کونسلر مراکز میں امریکی شہریوں کے لیے تمام ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔’ ترک حکومت کا بیان عین وہی ہے جو اس سے پہلے امریکا نے جاری کیا تھا، صرف ملک کا نام بدل دیا گیا ہے۔ امریکی مشن نے کہا تھا کہ اس نے ترکی میں واقع تمام سفارتی مراکز میں نان امیگرینٹ ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔’ ترک حکومت کئی مہینوں سے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کر دے، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے جولائی 2016 میں ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

چی گویرا ڈائری کیوں لکھتا تھا ؟

چی گویرا کو نو نومبر 1967ء کو 39 سال کی عمر میں گرفتار کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس وقت وہ کیوبا میں انقلاب کی قیادت کرنے کے بعد بولیویا میں سرگرم تھا۔ کاسترو کیوبا میں اس کا ساتھی رہا۔ زیرنظر تحریر میں اس نے چی کی لکھی ڈائریوں کے بارے بتایا ہے. گوریلا زندگی کے دنوں میں چی کی عادت تھی کہ روز مرہ کے واقعات و تجربات اپنی ذاتی ڈائری میں لکھ لیتا۔ دشوار گزار راستوں میں طویل مارچ کے دوران جب گوریلا سپاہیوں کی قطاریں اپنے ساز و سامان اور اسلحہ کے بوجھ تلے دبی دم لینے کے لئے جنگلات میں رکتیں یا جب دن بھر مارچ کرنے کے بعد سپاہیوں کو رکنے اور کیمپ لگانے کا حکم ملتا تو چی (جسے کیوبا کے رفیق پیار سے اس نام سے پکارتے تھے) جیب سے اپنی نوٹ بک نکالتا اور باریک ناقابل شناخت حروف میں اپنی یادداشت لکھنے لگتا۔

ان یادداشتوں سے جو بھی محفوظ رہ جاتیں انہیں وہ کیوبا کی انقلابی جنگ کے شاندار تذکرے میں استعمال کرتا جو انقلابی، تعلیمی اور انسانی قدروں کا حامل تھا۔ چی کی اس پختہ عادت کی بدولت کہ وہ ہر روز کے خاص واقعات لکھ لیتا۔ آج ہمیں بولیویا میں اس کی زندگی کے آخری ایام کی بالکل صحیح، بے بہا اور تفصیلی اطلاعات میسر ہوئیں۔ یہ یادداشتیں چھپنے کے لئے نہیں لکھی گئی تھیں۔ ان سے واقعات، حالات اور انسانوں کو پرکھنے میں مدد ملتی اور اس کی باریک بین فطرت اور تجزیاتی انداز کو ذریعہ اظہار کی تسکین میسر آتی۔ یہ نوٹ بہت سنبھل کر لکھے گئے ہیں اور شروع سے آخر تک ان میں ایک مسلسل ربط ہے۔

یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ نوٹ فرصت کے ان نادر لمحات میں لکھے گئے ہیں جو چی کو گوریلا جدوجہد کی اولین کٹھن منزلوں میں گوریلا سردار کی حیثیت سے دلیرانہ جسمانی مشقت کے دوران کبھی کبھی میسر آئے۔ ناقابل برداشت مادی مصائب میں اس کی طبیعت کا جوہر نکھرتا تھا۔ اور اس کا عزم آہنی اور انفرادی طریق کار نمایا ں ہوتا تھا۔ ڈائری میں روزانہ کے واقعات کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے اور ایسی غلطیوں اور کوتا ہیوں پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے جو ایک انقلابی گوریلا کے ارتقا میں ناگزیر ہیں۔ ایک گوریلا دستے میں ایسا محاسبہ ضروری ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب جماعت بہت مختصر لیکن کلیدی حیثیت کی حامل ہوا اور مسلسل سخت ترین دشوار حالات اور کثیر دشمنوں کا سامنا ہو۔

جب معمولی کوتاہی اور چھوٹی سی غلطی بھی موت کا پیغام بن سکتی ہے۔ اور سردار کو سخت گیر بھی ہونا پڑتا ہے اور شفیق استاد بھی تاکہ ان غلطیوں سے اس کے رفیق اور آئندہ آنے والے گوریلا سردار سبق حاصل کریں۔ گوریلا دستے کی تشکیل ہر شخص کے ضمیر اور عزت نفس کے لئے ایک مسلسل پکار ہے۔ چی جانتا تھا کہ انقلابیوں کے گہرے جذبات کے تاروں کو کیسے چھیڑا جاتا ہے۔ جب کئی دفعہ انتباہ کے بعد بار کوس کو خبردار کیا گیا کہ اسے گوریلا دستے سے بے عزتی کے ساتھ نکال دیا جائے گا تو اس نے کہا ’’اس ذلت پر میں موت کو ترجیح دوں گا۔‘‘ یہی مارکوس بعد میں دلیرانہ موت مرا۔ یہی حال اس کے باقی ساتھیوں کا تھا جن پراسے اعتماد بھی تھا۔ چونکہ اس ڈائری میں کیوبا کے انقلاب اور گوریلا تحریک سے اس کے تعلق کا بار بار ذکر آیا ہے اس لئے کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اس ڈائری کو شائع کر کے ہم نے انقلاب کے دشمن امریکی سامراجیوں اور ان کے حلقوں بگوش لاطینی امریکی جاگیرداروں کا منہ چڑایا ہے۔

فیڈل کاسترو

امریکا میں پھیلتا گن کلچر

بو کر ببول آم کی خواہش نہ کیجیے
زہریلے بیج بو کے نہ امرت تلاش کر

دنیا میں پولیس اہلکار کا کردار ادا کرنے والا امریکا تقریباً ہر ملک کو حقوق انسانی کا درس دینا اولین فریضہ سمجھتا ہے۔ کسی ملک میں کوئی بھی واقعہ پیش آئے، امریکا اس پر اپنا موقف واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ تاہم خود امریکا میں حالات ایسے ہوتے جا رہے ہیں کہ عام امریکی عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ وہاں آئے دن فائرنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور گن کلچر کو فروغ مل رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایک سفید فام، سٹیفن پیڈوک نے امریکی شہر،لاس ویگاس میں موسیقی سنتے لوگوں پر دیوانہ وار گولیاں چلا دیں۔ اس حملے میں 58 افراد مارے گئے جبکہ 489 زخمی ہوئے۔ یہ امریکی تاریخ کا سب سے جان لیوا حادثہ بن گیا۔ فائرنگ کے واقعات یقینی طور پر افسوسناک ہوتے ہیں جن میں عام آدمی کی زندگیاں تلف ہو جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات امریکی معاشرہ میں پائی جانے والی بے چینی بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ امریکی نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ایسے واقعات وہاں بتدریج بڑھتے جا رہے ہیں اور لوگ اس پر سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کر پا رہے ۔

صدر امریکا، ٹرمپ نے بھی ایسے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا لیکن صرف افسوس ظاہر کرنے سے یہ مسئلے حل نہیں ہو جاتے بلکہ ان کے تدارک کی خاطر سارے معاشرے میں بہتری کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور فی الحال ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا۔ گذشتہ چند برس سے امریکا کے مختلف شہروں میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں اور ان واقعات میں عام اور بے گناہ شہری زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سال 12 جون کو اولینڈو میں ایک کلب پر فائرنگ ہوئی جس میں تقریبا 49 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ کو انتہا پسندی سے جوڑا گیا اور ساری دنیا میں اس کی مذمت ہوئی ۔ اس کے بعد 7 جولائی کو ایک سابق امریکی فوجی نے ڈالاس میں فائرنگ کرتے ہوئے پانچ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل بھی امریکہ میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں محض شوقیہ فائرنگ کرتے ہوئے بے گناہوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔ ہر واقعہ کے بعد کچھ دن سوگ منایا جاتا ہے اورمقتولین کو خراج پیش کرتے ہوئے اسے فراموش کر دیا جاتا ہے۔ واقعات کے تدارک کے لیے کوئی جامع اور مبسوط حکومت عملی تیار نہیں کی جاتی۔

جو واقعات امریکا میں پیش آ رہے ہیں وہ امریکی معاشرہ کے کھوکھلے پن اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی و عدم اطمینان کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ امریکا دنیا بھر میں دوسروں کو درس دینے کی بجائے اپنے معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی اور مسلسل فروغ پاتے ہوئے بندوق کلچر کو ختم کرنے پر توجہ دے۔ جب اولینڈو میں فائرنگ ہوئی تو اسے آئی ایس آئی ایس سے جوڑ دیا گیا۔ یقینی طور پر آئی ایس آئی ایس قابل مذمت اور قاتلوں کا گروپ ہے جس کی ہر گوشے سے مذمت کی جانی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی جو عام شہری بندوق اٹھا رہے ہیں اور دوسرے بے گناہوں کو قتل کر رہے ہیں، ان کے حوالے سے بھی سخت گیر رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی سفید فاموں میں بڑھتی انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیں۔

اب تک یہ واقعات اکا دکا قرار دئے جاتے تھے لیکن ان میں تسلسل پیدا ہو رہا ہے اور یہ مسلسل امریکا کے کسی نہ کسی شہر میں یہ واقعات پیش آ رہے ہیں اور بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عام نوجوان ایسے واقعات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے پہلے تو بے دریغ فائرنگ کرتے ہوئے دوسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پھر خود کو ہلاک کردیا یا پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔ پہلے سیاہ فام باشندوں کو اس طرح کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا تھا۔ اب فائرنگ کے واقعات صرف سیاہ فام باشندوں تک محدود نہیں رہے۔

امریکی معاشرے میں امتیازی سلوک اور نفرت کا ماحول دھیرے دھیرے سرائیت کر رہا ہے۔ لگتا ہے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی تقاریر سے اس لعنت کو ہوا دے رہے ہیں اور وہ نفرت کی سیاست کو اختیار کر رہے ہیں۔ عام شہریوں کو ہتھیار کس طرح حاصل ہوتے ہیں، یہ سوال اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صورتحال خود امریکی معاشرے اور امریکی عوام کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہتھیار موجود ہوں تو حکومت امریکا اسے امریکی عوام کے لیے خطرناک قرار دیتی ہے۔ لیکن خود اس کے شہروں میں عام لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کسی رکاوٹ کے بغیر پہنچ رہے ہیں اور امریکی حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں۔

اقبال حسن

ٹرمپ تیسری عالمی جنگ کی راہ پر گامزن ہیں، امریکی سینیٹر

امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کئی دیگر ممالک کے خلاف اختیار کردہ دھمکی آمیز رویہ امریکا کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ امریکا میں طاقتور سمجھی جانے والی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ اور صدر ٹرمپ ہی کی ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اہم سیاست دان بوب کورکر نے ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغامات میں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک کے خلاف اختیار کردہ دھمکی آمیز لہجہ امریکا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کورکر نے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ اپنے دفتر کے امور کو کسی ’ریئیلٹی شو‘ کی طرح چلا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے مابین سوشل میڈیا پر جاری نوک جھونک کے بعد بوب کورکر کا اپنی ہی پارٹی کے منتخب کردہ صدر کے خلاف عوامی سطح پر سامنے آنے والے ردِ عمل کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے سینیٹ سے ایران کی جوہری ڈیل اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق بل پاس کروانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ اور کورکر کے مابین سوشل میڈیا پر نوک جھونک کا آغاز ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کے بعد ہوا جس میں انہوں نے کورکر کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں دوبارہ انتخاب لڑنے کی ’ہمت‘ نہیں ہے۔

جواب میں کورکر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وائٹ ہاؤس ’بالغوں کا ڈے کیئر سینٹر‘ بن چکا ہے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر کئی پیغامات لکھے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورکر ملکی وزیر خارجہ بننے کے خواہش مند تھے تاہم صدر ٹرمپ نے ان کی درخواست رد کر دی تھی۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورکر ’ایران کے ساتھ بُری جوہری ڈیل‘ طے کرانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ بیس جنوری کو اپنی حلف برداری کے بعد ٹرمپ نے جو خطاب کیا، وہ اُن کی انتخابی مہم ہی کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ اُنہوں نے بڑے جارحانہ انداز میں ’امریکا پہلے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اُن کی نئی پالیسیاں کس سمت میں جائیں گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ملک میں برسوں سے ایک ’قتلِ عام‘ جاری ہے، جسے اب ختم ہونا ہو گا۔ دنیا انگشت بدنداں ہے کہ یہ لیڈر آخر کیا کرنے والا ہے۔

بعد ازاں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کورکر کا کہنا تھا، ’’مجھے صدر ٹرمپ کے بارے میں خدشات ہیں، صرف مجھے ہی نہیں ملک کا خیال رکھنے والے ہر شخص کو ٹرمپ کے بارے میں خدشات ہونا چاہییں۔‘‘ ریپبلکن پارٹی میں روشن خیال سمجھے جانے والے کورکر نے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی تاہم گزشتہ ہفتے انہوں نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو حکام بالا سے ویسی حمایت نہیں مل رہی جیسی کہ اس وقت انہیں ملنا چاہیے۔ ٹلرسن گزشتہ ہفتے ہی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، اس کے بعد ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’ٹلرسن مذاکرات کی کوشش کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

بشکریہ DW اردو

امریکا سی پیک کے خلاف کُھل کر سامنے آ گیا

امریکا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف کھل کر سامنے آ گیا۔
بھارت کو سی پیک منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ بہانے بہانے سے اسے متنازع اور ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سی پیک کو ناکام بنانے کی اس مہم میں امریکا بھی کھل کر بھارت کا ہمنوا بن گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری متنازع علاقے سے گزر رہی ہے۔  امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور ارکان کانگریس کو پاک افغان خطے کی موجوہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ متنازع علاقے سے بھی گزرتا ہے جو بجائے خود کسی نئے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، امریکا اصولی طور پر ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ایک سے زیادہ سڑکیں اور گزر گاہیں موجود ہیں لہذا کسی بھی ملک کو صرف ’ایک گزرگاہ اور ایک سڑک‘ کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے، امریکا پاکستان میں اس منصوبے کی مخالفت اس لیے بھی کرتا ہے کیونکہ وہ متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے چین کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تاہم جہاں چین کی سمت غلط ہے وہاں ہمیں اس کی مخالفت بھی کرنی ہو گی۔ سی پیک پر امریکا کا نیا موقف دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے جب کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو زیادہ بڑا اور اہم کردار دینے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

اُنسٹھ افراد کا قاتل دہشت گرد کیوں نہیں؟

لاس ویگاس کنسرٹ میں 59 افراد کے قاتل اسٹیفن پیڈوک کو محض تنہائی پسند قرار دینے پر امریکا میں بحث چھڑ گئی ہے۔ لوگو ں کا سوال ہے کہ کیا محض سفید فام ہونے کے سبب درجنوں افراد کے قاتل کو تنہائی پسند کہہ کر رویہ نرم کر لیا گیا ؟ اگر59 افراد کا قاتل اسٹیفن پیڈوک کسی اورنسل اورمذہب کا ہوتا تو کیا اسے تنہائی پسند ہی کہا جاتا ؟ نئی بحث میں پوچھا گیا کہ اسٹیفن پیڈوک مسلمان اور کسی ایشیائی یا عرب ملک کا ہوتا تو کیا رویہ اپنایا جاتا ؟ یاد رہےاتوار اور پیر کی درمیانی رات لاس ویگاس میں کنسرٹ کے دوران 64 سالہ اسٹیفن پیڈوک نے ہوٹل کی 32 ویں منزل سے لوگوں پر گولیاں برسا دی تھیں جن میں 59 افراد ہلاک اور 527 زخمی ہوگئے تھے۔

حملہ آور نے مختلف قسم کی 42 رائفلیں جمع کر رکھی تھیں جن میں سے 23 حملے کی رات اس کے ہوٹل کے کمرے میں پائی گئیں۔ ان میں 4 ڈی ڈی ایم فور رائفل، 3 ایف این 15 رائفل، ایک اے کے 47، ایک کولٹ اے آر 15 بھی شامل ہے جبکہ ایک رائفل کو خاص طور سے آٹو میٹک بھی بنایا گیا تھا۔ لاس ویگاس میں خون کی ہولی کھیلنے والےاسٹیفن پیڈوک نے پولیس کی آمد سے آگاہ رہنے کے لیے کمرے کے اندر اور باہر کیمرے بھی لگا رکھے تھے۔