کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟

40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس امریکی صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کو ‘جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار’ کا نام دیا گیا۔ اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو ’جنگِ عظیم سوم کی جانب‘ لے جانے کا الزام لگایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا ‘غیظ و غضب’ ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہو۔ سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا۔ امریکی سٹرٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر رابرٹ کیہلر کا کہنا ہے کہ ماٰضی میں اگر ان کے دور کے دوران وہ صدر کے حملہ کرنے کے احکامات ملتے، اور اگر وہ قانونی ہوتے تو وہ ان پر عمل کرتے۔ کیہلر کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے تو وہ اپنے مشیروں سے رابطہ کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص حالات میں ‘میں کہہ سکتا تھا کہ میں عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوں۔  وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ایک اور رپبلکن سینیٹر رون جانسن نے پوچھا ‘پھر کیا ہوتا ہے؟’

کیہلر نے تسلیم کیا کہ انھیں نہیں معلوم۔

ہم سماعت سے اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میں کسی سے کو اس سماعت کے دوران جواب دہی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن حملہ کرنے کے انتہائی خفیہ عمل کے بارے میں ایسے عوامی فورم پر کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اس سماعت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، صرف موضوع کی حساسیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پینل میں موجود صدر ٹرمپ کے چند ناقدین بھی اس کی وجہ ہیں جن میں سے چند کا تعلق صدر کی ریپبلیکن پارٹی سے ہی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر کی گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث ہو گئی تھی جس میں وائٹ ہاؤس کو ‘بالغ شخص کی دیکھ بھال کا سینٹر’ کہا گیا تھا۔ پینل میں شریک ایک اور سینیٹر نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں صدر کے جوہری حملے کا حکم دینے کے اختیار کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ میسیچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی کے بل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے جوہری حملہ کرنے سے قبل کانگریس سے جنگ شروع کرنے کی اجازت حاصل کرنی ہو گی۔

کیا ٹرمپ جوہری حملہ کر سکتے ہیں؟
ایک کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے، صدر کے پاس جوہری حملے کے حکم دینے کا مکمل اختیار ہے، جو کہ آبدوز، ہوائی جہاز یا بین الابراعظمی بیلیسٹک میزائیلوں کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت امریکی صدر ‘دا فٹبال’ نامی آلے میں کوڈز ڈال کر بھی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ آلہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے یا کسی حکومتی ممبر کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اعلیٰ مشیران جن میں سیکریٹری دفاع جیمز میٹس، سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن یا قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر میں سے کسی کا چین آف کمانڈ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ البتہ روایتی فوجی قوت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ لیکن جوہری طاقت کا استعمال جوہری عہد کے آغاز سے ہی صدر کا اختیار رہا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے داغا جانے والا دشمن کا بیلسٹک میزائل امریکا کو صرف آدھے گھنٹے میں نشانہ بنا سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کا ایک مرتبہ پھر مذاق اڑایا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کا ایک مرتبہ پھرمذاق اڑایا ہے۔ اس مرتبہ ٹرمپ نے کمیونسٹ ملک کے لیڈر کے قد اور وزن کو نشانہ بنایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کا مذاق اڑانے میں ایک نئی حد کو چھُوا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے شمالی کوریائی رہنما کے قد اور وزن کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ قبل ازیں ٹرمپ نے اُن کو ’راکٹ مین‘ اور میڈ مین یا پاگل تک کہہ چکے ہیں۔ شمالی کوریا میڈیا پر ٹرمپ کو ’بوڑھا پاگل‘ قرار دیا تھا اور ٹرمپ کے یہ تازہ استہزائیہ کلمات اسی کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کِم جونگ اُن نے انہیں بوڑھا قرار دے کر اُن کی بے عزتی کی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے کبھی بھی شمالی کوریائی لیڈر کو موٹا اور چھوٹا نہیں کہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ وہ خاصی کوشش کے باوجود کِم جونگ اُن سے دوستانہ تعلقات استوار نہیں کر سکے اور شاید مستقبل میں ایسا ممکن ہو جائے۔ ویتنامی دارالحکومت ہنوئی میں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اُن کی شمالی کوریائی لیڈر سے دوستی ہو جائے تو یہ یقینی طور پر شمالی کوریا اور وہاں کی عوام کے لیے بہت بہتر ہو گا۔ کم جونگ اُن کو راکٹ مین اور پاگل قرار دینے کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی امریکی صدر پر شدید انداز میں جوابی وار کیے تھے۔ شمالی کوریا نے امریکی صدر کو ماؤف الذہن قرار دیا تھا۔

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا۔
سیول پہنچنے پر ایک بیان میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دیدی اور کہا کہ دعا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف کبھی طاقت کا ستعمال نہ کرنا پڑے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیاروں اور میزائل پروگرام پر امریکا سے بات کرے۔

امریکا کے صدارتی انتخابات میں روس کا کردار، کیا پہلی گرفتاری متوقع ہے؟

امریکی حکام گذشتہ ہفتے اس وقت جوش میں نظر آئے جب عدلیہ نے 2016 میں ہونے والے امریکا کے صدارتی انتخابات میں مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے لیے روس کی مداخلت کی تحقیقات کے دوران کم سے کم ایک شخص پر فرد جرم عائد کی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سی این این سمیت امریکا کے دیگر میڈیا میں مذکورہ شخص کی شناخت اور ان پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم ایک شخص پر فرد جرم عائد کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے، یہ تحقیقات ایف بی آئی کے سابق چیف روبرٹ میلر کی سربراہی میں کی جا رہی تھیں۔

تاہم گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مرتبہ پھر مذکورہ تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’چڑیل کی تلاش‘ قرار دیا اور ساتھ ہی روس سے اپنے کسی بھی قسم کے اتحاد کی خبروں کو مسترد کیا۔
تاہم ملر کی ٹیم مذکورہ معاملے میں تاحال خاموش ہے جبکہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں پیر کو پہلی گرفتاری متوقع ہے۔ بعد ازاں اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ریپبلکن سے تعلق رکھنے والے گورنر کرس کرسٹی کا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم بات جو امریکیوں کو آج جاننے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ امریکی صدر زیر تفتیش نہیں ہیں اور نہ ہی کسی نے انہیں بتایا کہ وہ شامل کیے گئے ہیں‘۔

عام طور پر ایسے معاملات میں اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کیس بنانے کے لیے پہلے نچلے درجے کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کے ایک اور عہدیدار سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ زیر تفتیش ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس حوالے سے جواب نہیں دے سکتے‘۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ ممکنہ طور پر دو افراد کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی لابنگ میں ملوث تھے جن میں سابق قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین اورڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے سابق ڈائریکٹر پاول مین فورٹ شامل ہیں۔

امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں دستاویزات عام کر دی گئیں

سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق تقریباً 2900 دستاویزات عام کر دی گئی ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف بی آئی اور سی آئی اے کے مشوروں کی روشنی میں چند فائلیں آئندہ بھی خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔  امریکا کی نیشنل آرکائیو نے سابق صدر کینیڈی کے قتل سے متعلق یہ خفیہ دستاویزات ایک ایسے موقع پر جاری کی ہیں، جب ان کی اشاعت پر قانونی پابندی کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ ان دستاویزات کے عام ہونے سے 1963ء میں شہر ڈیلاس میں کینیڈی پر جان لیوا فائرنگ کے اُس واقعے کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئیں گے، جس میں لی ہاروی اوسوالڈ نامی شخص ملوث تھا۔ سابق امریکی فوجی اوسوالڈ نے اس مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خود کو گولی مار لی تھی۔

آج بھی بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ اس کہانی کے بہت سے حصوں کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے کینیڈی کے قتل کی سازش کے تانے بانے امریکی خفیہ اداروں کے آلہ کاروں، فوج یا پھر اطالوی مافیا سے بھی جوڑے جاتے رہے ہیں۔ ڈیلاس کے مقامی وقت کے مطابق دِن 12 بج کر 31 منٹ پر امریکی صدر جان ایف کینیڈی (جے ایف کے) کو متعدد گولیاں ماری گئیں۔ یہ منظر کیمروں نے ریکارڈ کر لیا۔ صدر کے دِل اور سر پر گولیاں لگیں۔ اس وقت ان کی اہلیہ جیکی کینیڈی اور ان کے میزبان، ٹیکساس کے گورنر جان کونیلی اپنی اہلیہ نیلی کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ کونیلی بھی شدید زخمی ہوئے۔ آج بھی اس بات کا پتہ نہیں کہ صدر کو کتنی گولیاں لگیں۔

شائع کی جانے والی ان دستاویزات میں اس واقعے کے بعد یعنی چوبیس نومبر 1963ء کو جے ایڈگر ہوور کی بات چیت بھی شامل ہے، جو اس وقت وفاقی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی) کے سربراہ تھے۔ ایف بی آئی نے اوسوالڈ کی ہلاکت سے ایک رات قبل ہی اس کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں پولیس کو مطلع کیا تھا۔ تاہم ہوور کے بقول پولیس نے ان کی اس تنبیہ پر کان نہیں دھرے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2891 دستاویزات کی اشاعت کی منظوری دے دی تاہم ان کے علاوہ سو ایسی دستاویزات بھی ہیں، جنہیں آئندہ بھی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ٹرمپ نے وفاقی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے چھ ماہ کے دوران ان دستاویزات پر نظر ثانی کریں، جنہیں خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس پیش رفت پر وکی لیکس نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی کینیڈی کے قتل کے حوالے سے اب تک غیر شائع شدہ مواد اس ویب سائٹ کو مہیا کرے گا، اسے ایک لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ وکی لیکس کے سربراہ جولیان آسانج نے اس تاخیر کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انعامی رقم اُسی صورت میں دی جائے گی کہ ان دستاویزات سے قانون کی خلاف ورزی، نا اہلی یا انتظامی غلطیاں ثابت ہوتی ہوں۔

کیا امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کا استقبال سرد مہری سے کیا گیا ؟

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کو پریس بریفنگ کے دوران تجویز دی گئی کہ پاکستان نے اپنے ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہونے کے امریکی الزامات کو ماننے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں تو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل کے بارے میں کوئی پیشن گوئیاں نہیں کر سکتیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ان کی سر زمین پر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے انکار کی وجہ سے پاکستان پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔

اپنی پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے پاک امریکا تعلقات کے لیے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دورہ اسلام آباد پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم امریکی میڈیا کا ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہنا ہے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ کا استقبال دفترخارجہ کے درمیانی سطح کے حکام اور پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے راولپنڈی کے چکلالہ ایئربیس پر کیا ۔  امریکی سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریکس ٹلرسن کا ان کے شایانِ شان استقبال نہیں کیا جیسا کہ عموماً ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری حکام کا استقبال کیا جاتا ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ سیکریٹری اسٹیٹ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جبکہ وہ اس وقت بگرام ایئر بیس پر موجود تھے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمولی سے غلطی تھی۔ تاہم اسے حوالے سے امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں قائم امریکی بیس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات کے بعد سرکاری طور پر جاری کی جانے والی تصویر میں ہیر پھیر کی گئی تھی جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی ملاقات کابل میں ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن مختصر دورے پر پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرخارجہ خواجہ آصف اور مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہاں سے ملاقات کی اور پاکستان کو خطے میں امن واستحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے نہایت اہم قرار دے دیا تھا۔

امریکن خاتون کیٹلن کولمین رہائی کے بعد اب بھی حجاب میں

افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پانچ سال تک جنگجوئوں کی قید میں رہنے والی امریکن خاتون کیٹلن کولمین رہائی کے باوجود اب بھی حجاب میں رہتی ہیں، انہوں نے اپنے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر خاموشی اختیار کی اور جواب نہیں دیا۔ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں مقامی اخبار ٹورونٹو اسٹار سے گفتگو کرتے ہو ئے ان کا کہنا ہے کہ خاموشی توڑنے کی اصل وجہ امریکا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے ہیں ۔ پاکستان کہتا ہے ہم کبھی پاکستان میں تھے ہی نہیں اور جب ہمیں بازیاب کرایا گیا اُسی دن ہم پاکستان پہنچے یہ بھی غلط ہے اور امریکا کہتا ہے کہ ہم شروع سے پاکستان میں تھے اور یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے یہ بھی غلط باتیں ہیں، جو دونوں ہی درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس دن مجھے میرے شوہر جوشوا بوائل میرے بچوں کو بازیاب کرایا گیا اُس دن ہمیں پاکستان منتقل نہیں کیا جا رہا تھا بلکہ وہ گذشتہ ایک سال سے اس ہی علاقے میں قید تھے۔ عیسائی فرقے سے تعلق رکھنے والی کیٹلن کولمین جب سے رہا ہوئی ہیں حجاب لیتی ہیں اور دوران انٹرویو بھی انہوں نے حجاب لیا ہوا تھا، مسلمان لباس حجاب نہ اتارنے کی وجہ پوچھنے پر کیٹلن کولمین نے خاموشی اختیار کی اور اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نے اسلام قبول کر لیا ہے تو انہوں نے نو کمنٹس کہہ کر اس سوال کا جواب گول کر دیا ۔

پاک امریکہ تعلقات بند گلی میں

ان سطور کی اشاعت تک امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن پاکستان کا دورہ کر کے خطے میں امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں واضح پیغام دے کر بھارت میں بھی مذاکرات و معاملات طے کر چکے ہوں گے۔ واشنگٹن سے روانگی سے قبل اور ایک ہفتہ میں پانچ دوروں کے دوران ان کے بیانات سے بھی واضح ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ نئی امریکی حکمت عملی کے نفاذ کا پیغام پہنچانے آئے ہیں۔ اس حکمت عملی میں امریکہ کے نئے اتحادی بھارت کی خطے میں بالادستی اور اس کیلئے امریکہ کی مکمل حمایت کا پیغام بھی ہے جبکہ امریکہ بھارت کو فوجی میدان میں تعاون سے چین کے مقابلے میں کھڑا کر کے چینی اثرونفوذ روکنا بھی چاہتا ہے ۔

گویا امریکہ بھارت کا محاذ تو چین اور اس کے دوستوں کے خلاف ہے لیکن ارد گرد کے علاقوں پر بھارتی بالادستی اور صفائی بھی لازمی ضرورت ہے۔ امریکہ خود ان تما م کاموں میں آگے بڑھ کر وہ تمام خدمات اور تعاون انجام دے رہا ہے جس کی بھارت کو ضرورت ہے۔ پاکستانی ترجمان ٹلرسن کے دورہ اسلام آباد کے بارے میں ’’سب اچھا‘‘ کے بیانات جاری کرنے کی بجائے حقائق سے عوام کو آگاہ فرمائیں، جلد ہی امریکی وزیر دفاع جنرل میٹس بھی اسلام آباد کے دورہ کیلئے متوقع ہیں ورنہ اگلے چند دنوں میں خود امریکی صدر ٹرمپ بھی بھارت کا دورہ کر کے خود جنوبی ایشیا بھر کے عوام کو ان نئے حقائق سے مطلع کر دیں گے۔ لہٰذا اب ہمارے سرکاری ترجمان حقائق کو غلاف میں لپیٹ کر بیان کرنے کی پالیسی ترک فرما دیں۔

جب ہماری ضرورت تھی تو امریکی صدور بھی کیا دلکش بیانات پاکستان کے حق میں دیا کرتے تھے۔ 23؍ جنوری 2004ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف اور ری پبلکن صدر جارج بش کی کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات ہوئی تو مشترکہ کانفرنس میں صدر بش سے میں نے سوال کرتے ہوئے بھارت اور روس کے 20 سال کے تعلقات کے ’’رومانس‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی اداروں میں بھارت کے امریکہ کے خلاف ووٹوں کی تعداد اور شرح کا ذکر کیا اور پوچھا کہ امریکہ اپنے اتحادی پاکستان کی سیکورٹی کیلئے اب کیا گارنٹی اور اقدامات کرے گا ؟ تو صدر جارج بش نے پرویز مشرف اور ان کے وفد کی موجودگی میں جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ امریکہ پاک بھارت تنازع حل کرنے کے لئے اپنا رول ادا کر ے گا۔ وہ اس وقت بھی بھارت روسی تعلقات کے 20 سالہ دور کو نظرانداز کر گئے تھے لیکن پاکستان ، چین تعلق کو امریکہ ہضم نہیں کر پا رہا بلکہ محاذ آرائی پر آمادہ نظر آتا ہے۔

پھر بھی صدر مشرف اور وفد کے اراکین صدر بش کے اس بیان پر بڑے مسرور تھے۔ اسی طرح جب ایک اور مرتبہ میں نے صدر بش سے سوال اٹھایا کہ ماضی میں امریکہ پہلی افغان جنگ میں اپنا مقصد پورا ہونے پر پاکستان کو تنہا اور جنگ کے بعد کے اثرات سمیت چھوڑ کر چلا آیا تو صدر بش نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ اس بار یہ ڈانس شارٹ نہیں ہو گا۔‘‘ اور پھر تفصیل سے پاکستان کی تعریف کی لیکن آج حالات ثابت کر رہے ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کا رومانوی ’’ڈانس‘‘ بہت ہی ’’شارٹ‘‘ ثابت ہوا اور آج وہی امریکہ اب بھارت کے ساتھ ’’رومانس‘‘ اور پاکستان کو ’’ولن‘‘ قرار دے کر تمام تعاون بھول چکا ہے۔ ڈپلومیسی کی دنیا میں کوئی تعلق مستقل نہیں ہوتا لیکن ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بجائے اپنی ذاتی خواہشات، اقتدار کی طوالت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر امریکہ سے مذاکرات اور سمجھوتے کئے جس کے نتیجے میں ہم نے امریکی مفادات کیلئے قربانیاں دیں.

مگر ہمیں ہرچند سال امریکہ کی جانب سے اقتصادی ، فوجی پابندیاں اورمشکلات ملیں اور ہمارا ایٹمی طاقت بننا بھی پسند نہ آیا۔ پاک امریکہ تعلقات کو ’’بند گلی‘‘ میں لانے والوں میں خود ہمارے حکمرانوں کی کمزور یاں خواہشات اور کم عقلی کا بھی دخل ہے۔ حال ہی میں پانچ امریکی کینیڈین افراد کی دہشت گردوں سے پانچ سال بعد رہائی کا واقعہ بھی صرف دو دن تک اثر قائم رکھ سکا۔ صرف آٹھ منٹ کی فون کال پر امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کےسامنے ہتھیار ڈال کر غیر مشروط طور پر افغان جنگ میں اتحادی بن کر امریکہ کیلئے پاکستان کی پوری سرزمین اور فضا کھول دینے والے حکمراں تو پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کی یقین دہانیاں کراتے رہے۔ آج وہ کہاں ہیں؟

بہرحال بھارت اور امریکہ کے درمیان ڈرامائی انداز میں تعلقات گہرے ہو رہے ہیں چین کے اثرو رسوخ کو روکنے کیلئے بھارت کو امریکہ فوجی ، معاشی اور ہر طرح کی فنانسنگ اور تعاون فراہم کرے گا بلکہ آسٹریلیا اور جاپان کو بھی بھارت امریکہ سیکورٹی تعاون کا حصہ بنانے پر کام ہو رہا ہے تاکہ چین اور اس کے دوست ممالک کے خلاف حصار مکمل ہو سکے۔ وزیر خارجہ ٹلرسن قطر سعودی تعلقات کو بہتر بنانے پر تو کوئی قدم نہ اٹھا سکے لیکن مسلم دنیا کی بے بسی دیکھئے کہ حالیہ ماضی میں عراق پر سعودی سرزمین سے امریکی طیاروں نے اڑ کر نہ صرف بمباری کی بلکہ عشروں تک سعودی، عراق سرحدیں بند رکھی گئیں لیکن اب سعودی، عراق کوآرڈی نیشن کونسل قائم کر کے ایران کے خلاف جنگی محاذ قائم ہو گیا ہے ٹلرسن اس کونسل کے اجلاس میں شرکت کر کے قطر روانہ ہوئے۔

مشرق وسطیٰ اور چین کے اردگرد اپنے مفادات اور سیکورٹی کا حصار اور اتحاد قائم کرنے کے علاوہ جنوبی ایشیا میں افغانستان، پاکستان اور بھارت کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کے تحت پرانے اتحادی پاکستان کو ’’ڈومور‘‘ کے دبائو اور ’’سی پیک ‘‘ کی سزا کا حقدار قرار دیتے ہوئے بھارت کو علاقے کی سب سے بڑی قوت کے طور پر ابھار کر جنوبی ایشیامیں بالادستی اور چین کی مقابل طاقت کے طور پر کھڑا کرنا مقصود ہے۔ اس امریکی اسٹرٹیجی میں پاکستان کیلئے امریکہ نے کوئی گنجائش نہیں رکھی اور پاکستان کو اپنے وسائل اور چینی حمایت پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔ سری لنکا اور پاکستان میں چین کے جو تعمیراتی پروجیکٹ جاری ہیں ان پر بھارت کو بڑی تشویش ہے اور امریکہ بھی ان پروجیکٹس کو خطرہ سمجھتا ہے کہ چین اپنی سرحدوں سے نکل کر بیرونی دنیا میں اپنا اثرونفوذ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے.

بلکہ امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے تو چین کے مالی تعاون اور سرمایہ کاری کو ایک مختلف رنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’چین کا رویہ شکاریوں جیسا ہے اور وہ قرضوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے بعض ملکوں کو معاشی دبائو تلے لا رہا ہے۔ ’’بھارت کو اپنے عقب میں ہونے والی یہ ’’جیو۔ اکنامک‘‘ ترقی و توسیع سے خطرات ہیں اور جب چین کا ’’ہوا‘‘ کھڑا کر کے بھارت کو امریکہ جیسی عالمی طاقت اور اسرائیل جیسی مہارت اور مشرق وسطیٰ میں امریکی حامی اور عرب مخالف ملک کا خفیہ تعاون اور حمایت حاصل ہو رہی ہے تو ا س سے زیادہ اچھا موقع کیا ہو گا۔ بھارت تو افغانستان میں اپنے فوجی بھیجنے سے تاحال انکاری ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ جس روز بھارتی فوج نے افغانستان میں قدم رکھا تو اسی روز نہ صرف پورا افغانستان بھارت کو اپنا دشمن قرار دے کر اٹھ کھڑا ہو گا بلکہ بھارت کو وہ قیمت ادا کرنا ہو گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت انٹیلی جنس اور دیگر طریقوں سے افغانستان میں مصروف ہے اور افغانستان میں ’’ترقی و تعمیر‘‘ کے عنوان سے اپنا رول ادا کرنا چاہتا ہے مگر اپنے ’’فوجی بوٹس‘‘ افغانستان میں بھیجنے سے انکاری ہے وہ کوئی جانی قربانی دیئے بغیر ہی افغانستان میں اپنا قدم جمانا چاہتا ہے۔

اس لئے پاکستان پر ابھی تک ’’ڈومور‘‘ کے دبائو کے ذریعے پاکستانی فوج کو افغان جنگ اور صفائی کی مہم میں ’’انگیج‘‘ رکھنا مقصود ہے۔ ٹلرسن پاکستان کا موقف سننے کیلئے نہیں پاکستان کو سخت لہجے میں پیغام دینے کیلئے آئے ہیں۔ اسی لئے وہ واشنگٹن ، ریاض، دوحہ اور کابل میں اپنے بیانات میں افغانستان اور پاکستان کا ذکر خیر اور اپنے دورے کا مقصد بیان کرتے رہے ہیں حالانکہ ڈپلومیسی کا تقاضا ہے کہ کسی ملک کا دورہ کرنے اور مذاکرات کے بعد ہی کسی بیان اور موقف کا اظہار کرنا مناسب ہوتا ہے۔ پاکستان پہنچنے سے قبل پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرنا بہت کچھ واضح کر رہا ہے۔ افغانستان میں 783 ارب ڈالرز کے اخراجات اور ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں کے 14 سالہ قیام اور آپریشنز کے بارے میں امریکہ کوئی بات کرنے اور امریکی ناکامی کو زیر بحث لانے کیلئے تیار نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام تو لگاتا ہے مگر ثبوت فراہم نہیں کرتا۔

 پاکستان کو امریکہ سے مشروط تعلقات کی اطلاع بھی پہلے سے دی جا چکی ہے۔ خطے میں بھارتی برتری قائم کرنے کے بعد پاکستان کی سلامتی کا ذکر امریکی وزیر خارجہ کے منہ سے اچھا نہیں لگتا۔ ٹلرسن کا لب و لہجہ یکطرفہ شرائط پر ڈائیلاگ سے قبل ہی حاکمانہ ہے۔ یہ دورہ اسلام آباد محض یکطرفہ پیغام تک محدود اور امریکی پلان کو تمام شرائط کے ساتھ قبول کرنے پر مجبور کرنے تک محدود ہے۔ خدا خیر کرے۔

عظیم ایم میاں

امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان آنے سے’’ قبل ڈومور کا‘‘ مطالبہ

پاکستان آمد سے قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے سخت پیغام دیا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبے کے عملی جامہ پہنانے کیلئے پاکستان پہنچیں گے اور اسلام آباد پر زور دیں گے کہ محفوظ پناہ گاہوں کے متلاشی دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع فراہم نہ کرے ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ 2014 میں امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی افغانستان سے واپسی کے بعد طالبان کی کارروائیاں دن بہ دن تشویشناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس بڑھتی بغاوت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں شدت سے اضافہ کیا جائے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریکس ٹلرسن پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اسلام آباد پر زور دیں گے کہ پاکستان میں موجودعسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ ٹلرسن کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان پر لازم ہے کہ موجودہ صورت حال پر وہ واضح اور خاص طور پر نظر رکھے اور محفوظ پناہ گاہوں کے متلاشی دہشت گردوں کوان کو چھپنے کا موقع فراہم نہ کرے ۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد پاکستان کا استحکام اوراس کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال اگست میں ریکس ٹلرسن نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان کی جانب سے افغان عسکریت پسندوں کی مدد جاری رکھنے کی صورت میں وہ اپنا وہ مقام اور مرتبہ کھو بیٹھے گا جو اسے نان نیٹو الائی کی حیثیت میں ملتا ہے، جس میں اربوں ڈالرز کی امداد اور جدید امریکی ملٹری ٹیکنالوجی شامل ہے۔