جرمنی اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان درۂ کیسرین کا معرکہ

بلاشبہ جرمن طوفان جب اٹھا تھا تو اس نے یورپ اور ایشیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ تیونس میں نازی جرمنی اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان فروری 1943ء میں ایک لڑائی لڑی گئی۔ یہ جرمنوں اور امریکیوں کے درمیان براعظم افریقہ میں ہونے والی پہلی بڑی لڑائی تھی۔ تیونس کے دروں، وادیوں اور پہاڑیوں کے اس طرف سیدی بوزید تک کے تمام علاقے پر جرمن افواج کا قبضہ تھا۔ وہاں انہوں نے ٹینکوں، ہوائی جہازوں اور دوسرے جدید قسم کے فوجی ساز وسامان کے ساتھ بڑا مضبوط دفاع قائم کر رکھا تھا جس میں حملہ کرنے کی بھی پوری طاقت تھی۔

چند ہی میل کے فاصلے پر امریکیوں کی دفاعی لائن تھی جس میں ٹینک اور ٹینک شکن توپیں شامل تھیں۔ ٹینک یکے بعد دیگرے جرمن لائن پر حملہ کے لیے بڑھ رہے تھے۔ غرض ایک ایک کر کے پچاس ٹینک حرکت میں آ گئے تھے جن کا تعلق امریکا کی پہلی بکتر بند ڈویژن سے تھا۔ جرمنوں نے امریکی ٹینکوں کے نمودار ہوتے ہی اپنی ٹینک شکن توپوں کے منہ کھول دیے۔ کئی ٹینک تباہ ہو گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔ اس سے جرمنوں میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ٹینکوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ دراصل امریکیوں کو پھنسایا گیا تھا اور جرمن اسی کے منتظر تھے۔ انہوں نے اپنی ٹینک شکن توپوں کی مار چار سو گز تک بڑھالی اور امریکی ٹینکوں میں ایک تباہی مچا دی۔

جرمنی کے مشہور جنرل رومیل کی پالیسی دراصل یہ تھی کہ آگے بڑھ کر امریکا کی ناتجربہ کار فوج پر حملہ کر دے جو فیض شلطا کے علاقے میں جنرل منٹگمری کے زیر کمان طاقتور ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اسی بنا پر اس نے تیس جنوری کو تیونس کے درہ فیض پر ٹینکوں سے شدید حملہ کر دیا جہاں فرانسیسی رجمنٹ دفاع پر مامور تھی۔ جرمن افواج نے اس کا صفایا کر دیا ۔ جنرل رومیل اپنے حریفوں کی تمام کمزوریوں سے واقف تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سیدی بوزید کے اگلے علاقے میں اتحادیوں کی افواج بڑی تیاری کے ساتھ موجود ہیں چنانچہ ان کی دم پر ہاتھ رکھنے کے طور پر اس نے چند ٹینک اس طرف روانہ کر دیے تھے۔ رومیل کی یہ کارروائی کامیاب رہی۔

امریکی بڑھ کر درہ کے دہانے تک آگئے جہاں رومیل کا دستہ ان کا ’’خیر مقدم‘‘ کرنے کو موجود تھا۔ امریکیوں نے اس درہ پر دو شدید حملے کیے تاکہ اس پر قبضہ کر لیں۔ لیکن جرمنوں کی آرٹیلری نے انہیں بھون کر رکھ دیا، امریکیوں کو جنگی ناتجربہ کاری کی بنا پر شدید نقصان کے ساتھ پسپا ہونا پڑا اور ان کا بھی وہی حشر ہوا جو فرانسیسی فوج کا ہوا تھا۔ اس کے چند ہی روز بعد جرمن جاسوسوں نے یہ اطلاع فراہم کی کہ جنرل آئزن ہاور اپنی منتشر افواج کو جمع کر کے کسی تازہ حملہ کی تیاری کر رہا ہے۔ چالاک رومیل نے آئزن ہاور کی کوششوں کے بار آور ہونے سے قبل پیش قدمی شروع کر دی۔ 14 فروری 1943ء کو ایک سو پچاس ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سے زمین لرزنے لگی جو تین طرف سے درہ فیض میں داخل ہو رہے تھے۔

اس طرح جرمنوں نے درہ فیض سے چھ میل آگے بڑھ کر امریکی فوج اور ان کے توپ خانہ کو جا لیا اور ان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا۔ جرمنی کی دسویں پنسر ڈویژن نے درہ کیسرین کو گھیر لیا۔ اس دو طرفہ حملے اور حصار میں ہزاروں امریکی فوجی اپنی بڑی لائن سے کٹ گئے۔ جرمن فوج نے ایک اہم پہاڑی پر بھی قبضہ کر لیا تھا جہاں امریکا کے تقریباً پچیس ٹینک موجود تھے۔ ان میں سے پانچ ٹینک تباہ کر دیے گئے ۔ جرمنوں کے بھی تین ٹینک ضائع ہوئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد امریکا کے چالیس ٹینک اور آ گئے۔ اب جرمن ٹینکوں کو ذرا پیچھے ہٹنا پڑا مگر جرمن ٹینک شکن توپوں نے ان میں سے بھی کئی ٹینک تباہ کر دیے کیونکہ شرمن ٹینک بھاری ہونے کی وجہ سے جلد حرکت نہ کر سکتے تھے۔

چونکہ جرمنی کی فوجوں نے قبل ازیں طبروق اور الامین کی لڑائی میں ٹینکوں کی بہت اچھی مشق کی تھی لہٰذا اس جنگ میں ان کے ٹینک ہر مقام پر امریکی ٹینکوں پر بھاری پڑ رہے تھے۔ جرمن ٹینک بڑی ترکیب سے حملہ کرتے اور اتحادیوں کے ٹینکوں کو تباہ کر دیتے۔ حالانکہ اتحادیوں کے ٹینک دور مار بھی تھے اوران کا نشانہ بھی اچھا تھا مگر اتحادیوں اور بالخصوص امریکیوں کو ٹینکوں کی لڑائی کی اچھی مشق نہ تھی۔ پھر بھی امریکیوں کا ساتھ دینے والے برطانیہ کے ٹینک جرمن ٹینکوں کا خوب مقابلہ کر رہے تھے اور اکثر غالب بھی آ جاتے تھے۔ ایک مقام پر چار امریکی ٹینک کھڑے ہوئے جرمنوں پر گولے برسا رہے تھے مگر فوجی اعتبار سے وہ درست پوزیشن میں نہ تھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جرمنی کی ایک ٹینک شکن توپ نے معقول زاویے سے ان چاروں کو اڑا دیا۔ جرمنوں کے حملے میں اتحادیوں کے سینکڑوں آدمی مارے گئے۔ لڑائی میں جرمنی کے آٹھ ٹینک جبکہ امریکا کے چالیس ٹینک تباہ ہوئے۔ دو روز کے وقفے سے خبر آئی کہ جبل السودہ کے قریب جرمن فوجیں اتحادیوں کو مارتی ہوئی آگے نکل گئی ہیں۔ امریکا کی بقیہ فوج نے شمال کی جانب سے حملہ کیا مگر شدید نقصان اٹھا کر پسپا ہوئی۔ دوسرے روز امریکا کی پندرہویں رجمنٹ نے درہ کی دوسری طرف سے جوابی حملہ کیا لیکن بہت سے امریکی مارے گئے اور کئی ٹینک تباہ ہو گئے۔

کئی روز تک یہی حالات رہے یہاں تک کہ سترہ تاریخ کو امریکیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ایک بڑا حملہ کیا۔ ایک ہی حملہ میں جرمنی کے بیس ٹینک ضائع ہو گئے اور بہت سارے سپاہی مارے گئے۔ آخر جرمنوں کے پیر اکھڑ گئے لیکن وہ جلد ہی سنبھل گئے۔ انہوں نے پلٹ کر ایسا حملہ کیا کہ نقشۂ جنگ پلٹ گیا۔ شیطلہ امریکیوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہ درہ کی طرف بھاگ نکلے۔ پھر فضائی بمباری ہوئی جس سے جرمنوں میں انتشار پیدا ہوا اور امریکیوں نے درہ کیسرین کے اندر دو ہزار سے زیادہ شیل جھونک دیے۔ اس بگڑی ہوئی صورت حال کو دیکھنے کے لیے جنرل رومیل خود اس مقام پر آیا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ لگایا کہ اس کے پاس ٹرانسپورٹ کے وافرذرائع نہیں اس کے علاوہ اس کی فوجیں دو طرفہ پہاڑیوں کے درمیان ہیں لہٰذا اس نے عافیت اسی میں دیکھی کہ پسپائی اختیار کی جائے۔

قیسی رامپوری

Advertisements

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟

40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس امریکی صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کو ‘جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار’ کا نام دیا گیا۔ اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو ’جنگِ عظیم سوم کی جانب‘ لے جانے کا الزام لگایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا ‘غیظ و غضب’ ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہو۔ سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا۔ امریکی سٹرٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر رابرٹ کیہلر کا کہنا ہے کہ ماٰضی میں اگر ان کے دور کے دوران وہ صدر کے حملہ کرنے کے احکامات ملتے، اور اگر وہ قانونی ہوتے تو وہ ان پر عمل کرتے۔ کیہلر کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے تو وہ اپنے مشیروں سے رابطہ کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص حالات میں ‘میں کہہ سکتا تھا کہ میں عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوں۔  وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ایک اور رپبلکن سینیٹر رون جانسن نے پوچھا ‘پھر کیا ہوتا ہے؟’

کیہلر نے تسلیم کیا کہ انھیں نہیں معلوم۔

ہم سماعت سے اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میں کسی سے کو اس سماعت کے دوران جواب دہی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن حملہ کرنے کے انتہائی خفیہ عمل کے بارے میں ایسے عوامی فورم پر کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اس سماعت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، صرف موضوع کی حساسیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پینل میں موجود صدر ٹرمپ کے چند ناقدین بھی اس کی وجہ ہیں جن میں سے چند کا تعلق صدر کی ریپبلیکن پارٹی سے ہی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر کی گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث ہو گئی تھی جس میں وائٹ ہاؤس کو ‘بالغ شخص کی دیکھ بھال کا سینٹر’ کہا گیا تھا۔ پینل میں شریک ایک اور سینیٹر نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں صدر کے جوہری حملے کا حکم دینے کے اختیار کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ میسیچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی کے بل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے جوہری حملہ کرنے سے قبل کانگریس سے جنگ شروع کرنے کی اجازت حاصل کرنی ہو گی۔

کیا ٹرمپ جوہری حملہ کر سکتے ہیں؟
ایک کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے، صدر کے پاس جوہری حملے کے حکم دینے کا مکمل اختیار ہے، جو کہ آبدوز، ہوائی جہاز یا بین الابراعظمی بیلیسٹک میزائیلوں کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت امریکی صدر ‘دا فٹبال’ نامی آلے میں کوڈز ڈال کر بھی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ آلہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے یا کسی حکومتی ممبر کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اعلیٰ مشیران جن میں سیکریٹری دفاع جیمز میٹس، سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن یا قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر میں سے کسی کا چین آف کمانڈ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ البتہ روایتی فوجی قوت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ لیکن جوہری طاقت کا استعمال جوہری عہد کے آغاز سے ہی صدر کا اختیار رہا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے داغا جانے والا دشمن کا بیلسٹک میزائل امریکا کو صرف آدھے گھنٹے میں نشانہ بنا سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ترکی نے روسی میزائل ڈیفنس سسٹم خرید لیا

ترکی کے وزیر دفاع نوریتن کینکلی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا ہے۔ تاہم ترکی یورپین کنسورشیم کے ساتھ بھی ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت وہ خود اپنا میزائل دفاعی نظام تیار کرنے میں اُس کی مدد کرے گا۔
ترکی نیٹو کا رکن ہے اور نیٹو کے کچھ رکن ممالک روس سے S-400 میزائل خریدنے سے متعلق ترکی کے ارادے کو نیٹو کیلئے تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے پر اس حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روسی میزائل نیٹو کے دفاعی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

نیٹو کے ایک سینئر کمانڈر نے خبر رساں ایجنسی رائیٹر کو بتایا ہے کہ نیٹو ترکی پر زور دیتا رہے گا کہ وہ ایسا اسلحہ خریدے جو نیٹو کے دفاعی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر استعمال کیا جا سکے۔ نیٹو کمانڈر نے کہا کہ فی الحال روس سے S-400 میزائلوں کو کوئی کھیپ ترکی نہیں پہنچی ہے۔ تاہم ترکی کے وزیر دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’’معاہدہ طے پا گیا ہے اور میزائل خرید لئے گئے ہیں۔ اب صرف تفصیلات کا طے ہونا باقی ہے۔‘‘

ترکی کے وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ترکی محض روس سے خریدے گئے S-400 میزائلوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اُن کا ملک EUROSAM کنسورشیم سے مزاکرات شروع کر چکا ہے تاکہ ترکی میزئلوں کا دفاعی نظام خود تیار کرنے کیلئے ٹکنالوجی حاصل کر سکے۔ ترکی کے وزیر دفاع کینکلی نے اس سلسلے میں برسلز میں فرانس اور اٹلی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر یوروسیم اور ترکی کی کمپنیاں یوروسیم کے تیار کردہ SAMP-T میزائلوں پر مبنی نظام کی تیاری کا جائزہ لیں گی۔

پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے : کیا امریکا کا ارادہ بدل رہا ہے؟

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دشمنوں کے ٹھکانے پر امریکا کے حالیہ فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ ایف مِک کینزی نے یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹس پر کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ستمبر سے پاک افغان خطے میں امریکا کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے گزشتہ تین ہفتے کے دوران افغانستان میں 70 زمینی اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ دو روز کے دوران متعدد ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی عہدیداروں نے اگرچہ ڈرون حملوں پر تبصرہ نہیں کیا لیکن جنرل مک کینزی نے رواں ہفتے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران افغانستان میں امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ حملے جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر حملہ مسلح تصادم کے قانون کے مطابق ہوتا ہے، جس میں شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے کم سے کم ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جس نے اگست میں جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، اب ڈرونز کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی دیگر رپورٹس میں دیگر میڈیا اداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، ڈرون حملوں پر سابق اوبامہ انتظامیہ کی عائدہ کردہ دو اہم پابندیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ 1۔ صرف اعلیٰ سطح کے دہشت گردوں کو، جو امریکا کے لیے ’مسلسل اور قریبی‘ خطرہ ہوں، ہدف بنایا جائے گا۔ 2۔ ڈرون حملوں اور ریڈز سے قبل ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جائے گی۔ نئی پالیسی، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، امریکی فوج اور سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کم خطرناک اہداف کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائیں، جبکہ ان حملوں کے لیے انہیں اعلیٰ حکام کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدارارن کا، جو مجوزہ پالیسی سے متعلق متعدد میڈیا اداروں سے بات کر چکے ہیں، کہنا تھا کہ انتظامیہ اوباما دور کی اس شرط کو قائم رکھے گی کہ حملوں میں عام شہریوں کی کم سے کم ہلاکتوں کو ممکن بنایا جائے۔
ایک دوسرے میڈیا ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’سی آئی اے‘ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ڈرون حملوں کے اختیارات کو وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت سی آئی اے پاکستانی قبائلی علاقوں میں صرف القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وائٹ ہاؤس، سی آئی اے کی اس درخواست کے حق میں نظر آتا ہے۔

انور اقبال

بشکریہ ڈان اردو

سیاچن : دنیا کا سب سے مشکل میدان جنگ

یہ الفاظ پاکستانی فوج میں تقریباً دو دہائیوں سے کام کرنے والے اس ڈاکٹر کے ہیں جس نے سیاچن کے محاذ پر 19 ہزار فٹ کی بلندی پر آٹھ ماہ گزارے اور ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے مشکل اور ناقابل فراموش ترین دن تھے۔ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز اس ڈاکٹر نے سیاچن پر تقریباً 12 سال قبل وقت گزارا تھا اور انھیں اب بھی وہاں ِبتایا ہوا ہر پل یاد ہے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سیاچن شاید دنیا کی سب سے مایوس کن جگہ ہے۔ آپ کو اپنے چاروں جانب صرف برف کی چادر نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی قسم کی کوئی زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔’

اپنے ملک پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ لیے ہزاروں فوجی جب سیاچن پر جاتے ہیں تو وہاں ان کا مقابلہ دشمن کی گولیوں کے بجائے قدرت سے ہوتا ہے۔ سیاچن قراقرم کی برفیلی چوٹیوں پر موجود، تین کھرب مکعب فٹ برف سے بنا ہوا 45 میل لمبا اور تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی سے شروع ہونے والا برف کا وہ جہان ہے جو قطب شمالی اور قطب جنوبی کو چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔ یہاں پر ڈیوٹی ادا کرنے والے فوجیوں کے لیے روایتی تیاری ناکافی ہوتی ہے۔ اس خطے میں موسم اپنی تمام تر سختیاں اور دشواریاں ساتھ لاتا ہے اور عام طور پر یہاں کا درجہ حرارت منفی دس سے منفی بیس ڈگری رہتا ہے جبکہ اکتوبر سے مارچ تک ناقابلِ یقین منفی 50 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سردی کے موسم میں برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطاً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جو کہ وہاں پر کام کرنے والے فوجیوں کے مطابق سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک میجر جنھوں نے حال ہی میں سیاچن سیکٹر پر سات ماہ گزارے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ سانس لینا یعنی وہ چیز جو ہم سب سے آسان سمجھتے ہیں وہی سب سے مشکل کام ہے۔ ‘شہر میں تو ہم کبھی سوچتے بھی نہیں ہیں کہ اگلی سانس آئے گی یا نہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل فرق ہے۔ آپ لمبی سانس لینا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اور اتنی کم آکسیجن میں آرام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔’

سیاچن 323 بریگیڈ کے نائب کمانڈر کرنل عامر اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر ڈیوٹی دینے سے پہلے تمام فوجیوں کو مخصوص تیاری سے گزرنا پڑتا ہے جہاں انھیں آرمی کے کوہ پیمائی کے سکول میں تربیت دی جاتی ہے اور سیاچن کی آب وہوا کا عادی ہونے کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ ‘ہماری اصل کوشش ہوتی ہے کہ فوجیوں کو کم آکسیجن میں پوری صلاحیت سے کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔’ سیاچن پر ڈیوٹی کرنے والے پاکستانی فوجی اپنے کندھوں پر 25 سے 30 کلو وزنی سامان اٹھا کر ہزاروں فٹ بلندی پر سفر کرتے ہیں۔ اس سامان میں آکسیجن کنستر، برفانی کلہاڑی، خشک کھانا، رسیاں، خاص جرابیں اور دستانے شامل ہوتے ہیں۔ ان فوجیوں کے لیے برف پر چلنے والے مخصوص جوتے ہی صرف دس کلو وزنی ہوتے ہیں۔

سیاچن پر کام کرنے کے لیے فوجیوں کو رفتہ برفتہ اونچی چوکیوں پر بھیجا جاتا ہے۔ کرنل عامر اسلام نے بتایا کہ عام طور پر فوجی ایک چوکی پر 45 دن کام کرتے ہیں جس کے بعد انھیں دوسری چوکی پر بھیج دیا جاتا ہے لیکن سردی کے موسم میں ایسا کرنے کافی دشوار ہوتا ہے کیونکہ برفانی طوفان اور تیز جھکڑ سے جان جانے کا کافی خدشہ ہوتا ہے۔ سیاچن کے محاذ پر وقت گزارنے کے بعد اس بات کا واضح اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فوجی جو زندگی سیاچن پر گزارتا ہے اسے وہ تجربہ کسی اور محاذ پر نہیں مل سکتا۔

معمولی کام جیسے دانت برش کرنا، باتھ روم جانا، شیو کرنا، یہ تمام چیزیں 18000 فیٹ کی بلندی پر کرنا جان جوکھوں سے کم نہیں ہے۔ منفی 20 ڈگری کی سردی میں جلد پر ٹھنڈے پانی لگنے کا مطلب ہے فراسٹ بائیٹ اور اس کا علاج صرف اس عضو کو کاٹ کر پھینکنا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں پر ایک اور چیلنج کھانے کا ہوتا ہے۔ ‘ہمیں بس راشن ایک دفعہ ملتا ہے سال میں جسے ہم برف میں سٹور کر لیتے ہیں۔ اور وہ کھانے اگر نہ ہی کھائیں تو بہتر ہے۔’ دوسری جانب کھانا بنانا ایک الگ امتحان ہوتا ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر صرف دال گلانے میں اکثر چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے نیچے آئے تو ان کا وزن 18 کلو گرام کم ہو چکا تھا۔

لیفٹینٹ کرنل نے بی بی سی کو بتایا : ‘آپ سیاچن پر دشواری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تربیت میں بولا جاتا ہے کہ کم ہلو اور آکسیجن بچاؤ۔ لیکن دوسری جانب 19000، 20000 فیٹ کی بلندی پر آپ ساکت نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ اس قدر شدید سردی میں خون جمنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کریں تو کیا کریں؟’ جسمانی بیماریوں کے علاوہ ایک اور مسئلہ ذہنی حالت بھی ہے جس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں چھ ماہ بعد سیاچن سے واپس آنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہاں سب سے زیادہ تکلیف تنہائی سے ہوئی تھی۔ ‘میں نے وہاں 21 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود چوکی پر تین ماہ گزارے تھے اور وہاں پر میرے ساتھ آٹھ اور ساتھی تھے۔ آپ ان آٹھ لوگوں کے ساتھ 24 گھنٹے اٹھنا بیٹھنا ایک ایسے خیمہ میں کرتے ہیں جہاں بمشکل چار لوگوں کی جگہ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس باتیں ختم ہو جاتی ہیں کرنے کو۔’

ملتان کے قریب گاؤں سے تعلق رکھنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر جانے کے دو ہفتے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا لیکن وہ نیچے نہیں آسکتے تھے۔ ‘ایک دفعہ آپ اوپر چلے گئے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ بس افسوس کر سکتے ہیں، اور کیا کریں گے۔’ تنہائی کے اس ماحول میں فوجی آخر وقت کیسے صرف کرتے ہیں؟ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بتایا: ‘یہی ہمارے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے کہ دن کیسے کاٹیں؟ ہمارے پاس لوڈو ہوتی ہے، تاش کے پتے ہوتے ہیں، کبھی ہم ایک دوسرے کو گانے سناتے ہیں تو کبھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں یا موبائل سے سیلفیاں لیتے ہیں۔ سیاچن کی چوکی پر کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ہم اپنے تمام راز اور خفیہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ اور کچھ ہوتا نہیں ہے کرنے کو۔’

البتہ کبھی کبھار ان فوجیوں کو خوشیاں منانے کے مواقع ملتے ہیں جس سے وہ پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سپاہی محمد شفیق نے بتایا کہ حال ہی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی جس میں پاکستان نے انڈیا کو فائنل میں شکست دی تھی، تو اس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھی فوجیوں کے ساتھ مل کر اس جیت کا جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ لیفٹینٹ کرنل نے کہا کہ بس یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں جن کے آسرے پر وہ اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ‘ہمارے پاس صرف یہی ہے ورنہ اگر ایسا نہ کریں تو ہم سب ادھر رہ کر مایوسی کے مریض بن جائیں گے۔ سارا سارا دن اتھاہ تنہائی کے عالم میں، خون جمانے والی سردی میں چاروں طرف برف کی چادر کو دیکھنا اور ایک ان دیکھے دشمن سے لڑنا.

عابد حسین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سیاچن سیکٹر

مجسمہ کلاشنکوف کا، رائفل نازی فوج کی

روس کے دارالحکومت ماسکو میں مشہور زمانہ اے کے 47 یعنی کلاشنکوف بنانے والے کی رونمائی کی گئی لیکن اس مجسمے میں جلد ہی تبدیلی کی جائے گی۔ تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ میخائل کلاشنکوف کے مجسمے پر ان کی تخلیق کردہ اے کے 47 نہیں بلکہ جرمن رائفل ہے۔ اس مجسمے پر کلاشنکوف کے مختلف ڈیزائنز کندہ کیے گئے ہیں۔ میخائل کے مجسمے کی رونمائی اعلیٰ حکام کی جانب سے ماسکو میں کی گئی تھی۔ تاہم اسلحے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے پر ایس ٹی جی 44 رائفل ہے جس کو نازی فوج کے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا تھا۔

روس کے ملٹری ہسٹوریکل سوسائٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا کہ ‘مجسمہ بنانے والے سے غلطی ہوئی اور اس نے ایس ٹی جی کی جگہ کلاشنکوف لگانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس سوسائٹی نے 25 فٹ بلند یہ مجسمہ بنوایا ہے جس میں میخائل کے ہاتھ میں اپنی ایجاد کردہ اے کے 47 ہونی چاہیے تھی۔ روسی اسلحے کی تاریخ کے ماہر یوری پشولوک نے سب سے پہلے اس غلطی کی نشاندہی کی اور اس کے بعد کئی ماہرین نے اس غلطی کی تصدیق کی۔ مجسمہ بنانے والے صلاوت شربکوو نے کہا کہ وہ اس غلطی کو درست کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اے کے 47 روس کی سب سے مشہور آٹومیٹک رائفل ہے اور اس رائفل کو روس کے وزیر ثقافت نے ملک کے ‘ثقافتی برانڈ’ قرار دیا۔

میخائل کلاشنکوف نے یہ رائفل 1946 میں تیار کی تھی اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ جانی پہچانی رائفل ہے کیونکہ دنیا میں کسی جگہ بھی مسلح تصادم ہو اس رائفل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ میخائل کو سرکاری اعزاز سے نوازا گیا لیکن انھوں نے خود اس رائفل کو ایجاد کرنے سے زیادہ رقم نہیں بنائی۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ وہ زیادہ رقم بناتے اگر رائفل کی جگہ انھوں نے گھاس کاٹنے کی مشین ایجاد کی ہوتی۔ میخائل کا انتقال 94 سال کی عمر میں 2013 میں ہوا۔ ہیوگو شمیسر نے ایس ٹی جی 44 (Sturmgewehr 44) ایجاد کی تھی اور اس کو پہلی بار ایڈولف ہٹلر کی فوج نے 1944 میں استعمال کیا تھا۔ چند ماہرین کہتے ہیں کہ ایس ٹی جے 44 اور اے کے 47 میں مماثلت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس نے ہیوگو کو سوویت یونین میں کام کرنے پر مجبور کیا تھا۔

امریکی افواج میں بڑھتی ہوئی خودکشی ؟

انسان اچھی بری جبلّتوں (Instincts) کا مجموعہ ہے۔ جان بچانا بھی عینِ فطرت ہے اور جان دے دینا بھی ایک فطری انسانی تقاضا ہے۔ اقبال کا یہ شعر اسی فطرت کا غماز ہے:

برتر از اندیشہ ء سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

جنگ و جدال اور کشت و قتال اگر انسان کی سرشت میں شامل ہے تو رحمدلی و کرم فرمائی بھی وہ انسانی جبلت ہے جس کا مظاہرہ ہم آئے روز دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یعنی انسان ایک دوسرے کو تہہ تیغ بھی کرتا ہے اور ایک دوسرے کو بچاتا بھی ہے۔ بعض اوقات تو کسی کو بچانے کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ کسی کی جان بچاتے بچاتے انسان اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ جنگ کے میدان میں جب کشتوں کے پشتے لگ رہے ہوتے ہیں تو یہ دونوں مظاہر بظاہر متضاد خصوصیات ہیں لیکن اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فارسی میں ایک محاورہ ہے: ’’مرگِ انبو ہے، حبشنے دارد‘‘ یعنی اگر کثیر تعداد میں انسان مر رہے ہوں تو وہ بھی ایک جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔

تاریخِ جنگ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی سالارِ لشکر اس دو گونہ متضاد انسانی جبلّت کا کماحقہ ادراک نہیں رکھتا تو وہ عظیم کمانڈر نہیں کہلا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم سپہ سالاروں نے متواتر اور مسلسل جنگی حالات سے اجتناب برتا ہے اور جنگ میں وقفے دیئے ہیں تاکہ موت کے منظر کے بعد امن و امان کے مناظر بھی ان کی سپاہ کو دیکھنے کو ملیں۔ 323 ق م میں جب سکندر اعظم ہندوستان میں دریائے جہلم کے کنارے آ پہنچا تھا تو اس سے پہلے اس نے نہ صرف پورے یونان کو فتح کیا بلکہ مصر اور ایران پر بھی قبضہ کرنے کے بعد برصغیر کا رخ کیا تھا۔ لیکن جب دیر اور باجوڑ کے راستے یونانی لشکر شاہیا کے چٹیل میدان اور ٹیکسلا میں آکر خیمہ زن ہوا تو لشکر کی اکثریت خونریزی کے مسلسل مناظر سے تنگ آ چکی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سکندر اپنی فتوحات کے درمیان طویل وقفے کرتا۔ لیکن اس نے یہ غلطی کی کہ ایک کے بعد دوسرے ملک پر چڑھائی کرتا چلا گیا۔ اس تاخت و تاراج کے تسلسل اور امن و امان کے وقتوں میں کسی تعطل کی عدم موجودگی نے یونانی سپاہ کو بد دل کر دیا۔

ٹروپس کو محسوس ہونے لگا کہ وہ ایک ایسا روبوٹ بن گئے ہیں جس کا کام صرف تیغ بازی، تیر اندازی اور شمشیرزنی ہے۔ چنانچہ انہوں نے راجہ پورس کو شکست دینے کے بعد آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور سکندر کو اپنی نو عمری کے باوصف واپس جانا پڑا۔ اگر انسانی جبلت کے اس پہلو کو سالوں سال دوام ملتا رہے تو انسان واقعی اکتا جاتا ہے۔ شائد اسی انسانی پہلو کو غالب نے ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان کیا تھا :

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

گردشِ مدام یا قتالِ مدام یا امن و امانِ مدام انسانی فطرت کا خاصا کبھی نہیں رہا۔ اگر انسان مرتا ہے تو زندہ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے اگر انسان لڑائی بھڑائی میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے تو یہ شائد اس کی انفرادی خصلت ہو تو ہو، اجتماعی سرشست نہیں ہو سکتی۔

محمود غزنوی ہر سال ہندوستان پر ایک حملہ کرتا تھا اور پھر واپس لوٹ جاتا تھا۔ لیکن اگلے سال پھر قتال کے ارادے سے کسی اور شہر پر حملہ آور ہوتا۔ 17 برسوں میں اس نے ہندوستان پر 17 حملے کئے۔ اس نے سوچا اگر میدانِ جنگ مسلسل دس بارہ دنوں تک بھی اس کے لشکر کی تلواروں کی جھنکار، تیروں کی بارش اور گھوڑوں کی یلغار سے گونجتا رہے تو سال کے باقی 355 دن وہ کیا کرے گا؟۔ اگر آپ محمود غزنوی کے سترہ حملوں میں اس کے لشکر کے وہ ایام شمار کریں جن میں وہ اپنی سپاہ کو مقتل سے ہٹا کر وطن مالوف کے پُرامن شہروں اور دیہاتوں میں لے جایا کرتا تھا تو ان کی تعداد ان ایام سے بڑھ جائے گی جو غزنوی سپاہ اپنے مستقر سے روانگی سے لے کر فتح کے بعد وطن واپسی تک میں صرف کیا کرتی تھی۔

وار ٹیکنالوجی کتنی بھی ترقی کر لے اس کو روبہ عمل لانے والا عنصر صرف اور صرف انسان ہی ہو گا۔ انسان ہی ہر جنگ کا مرکزی کردار رہا ہے (اور آئندہ بھی رہے گا) ہتھیار اور گولہ بارود کے انبار اکٹھے کئے جا سکتے ہیں۔ ایسے انبار جو ختم ہونے ہی میں نہ آئیں۔ لیکن ان کو استعمال تو آخر گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان نے ہی کرنا ہے۔ لوہے، فولاد، بارود ، ربڑ یا پلاسٹک جو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ساخت میں استعمال ہوتے ہیں، وہ تو بے جان ہوتے ہیں، ان کو آرام کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن انسان کو آرام کے وقفوں کی ضرورت ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گارڈ ڈیوٹی پر متعین انسانوں کی ڈیوٹی (مشن کی اہمیت اور حالات کے پیش نظر) دو دو چار چار گھنٹوں کے بعد بدلتی رہتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی یونٹ جس کی نفری 500 سے 900 سپاہیوں اور افسروں پر مشتمل ہو اس کو کسی ایک مقام پر ایک ہی مشن کی ادائیگی کے لئے سٹیشن نہیں رکھا جاتا۔ اس کو باری باری اور وقفے وقفے سے میدانی اور کوہستانی علاقوں میں گھمایا جاتا ہے۔ یہ روٹیشن فوج کا ایک معمول ہے اور یہ معمول انسانی جبلّت کے پیشِ نظر ہی وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان آرمی کی یونٹوں کو فاٹا میں جنگ کرتے ہوئے 16،17 برس گزر چکے ہیں۔ لیکن کوئی ایک یونٹ زیادہ سے زیادہ ایک دو سال سے زیادہ کسی ایک مقام پر سٹیشن نہیں رکھی گئی۔ یہ ٹرن اوور اُس انسانی جبلت کے ٹرن اوور پر منحصر ہے جس کا ہم اس کالم میں ذکر کررہے ہیں۔ اگر اس انسانی سرشت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا تو پاکستان آرمی کا حشر بھی وہی ہو گا جو ماضی ء قریب میں امریکن آرمی کا ہوا ہے! امریکہ نے 2001ء میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن ابھی زمینی قبضے کو پوری طرح سمیٹا (Consolidate) نہیں کیا گیا تھا کہ امریکن آرمی کو عراق میں انڈکٹ کر دیا گیا، اس کے بعد لیبیا اور پھر شام میں اسی فوج کو استعمال کیا جانے لگا (اور کیا جا رہا ہے) لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ریگولر امریکی فوج (Army) کی نفری پاکستان آرمی سے بھی کم ہے۔ اس عددی قلت کو امریکن آرمی، وار ٹیکنالوجی کی کثرت سے پورا کرتی ہے۔

لیکن یہ ٹیکنالوجی بھی چونکہ بے جان ہے اور اس کو آپریٹ انسان ہی کرتا ہے تو پھر ہر انسان کی برداشت کی ایک حد بھی ہوتی ہے چاہے وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا۔ امریکی یونٹوں کو حالیہ برسوں میں وقفے وقفے سے بار بار میدانِ جنگ میں اتارنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان کو کسی محاذ پر اپنی کسی یونٹ کو گھمانے (Rotate) کے لئے دو سال ملتے ہیں تو امریکن آرمی کو صرف 9 ماہ ملتے ہیں۔ یعنی ایک ہی امریکی سولجر کو بار بار جنگ میں کودنا پڑتا ہے جس سے بار بار اس کی اس نفسیاتی سرشت کی آزمائش ہوتی ہے جو جنگ اور امن کے درمیان ایک ’’خاص‘‘ وقفہ مانگتی ہے۔ جب اسے یہ وقفہ نہیں ملتا تو انسان کی نفسیات تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سولجر، بعد از ریٹائرمنٹ ، تھوک کے حساب سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

چار سال پہلے 2013ء میں امریکہ میں جو سروے کیا گیا اس کے مطابق ریٹائرڈ فوجیوں کو [جن کو امریکہ میں ’’ویٹرن‘‘ (Vetran) کہا جاتا ہے] بار بار میدانِ جنگ میں بھیجا جاتا رہا۔ کبھی افغانستان، کبھی عراق اور کبھی شام میں۔ بار بار کی اس مسلسل انڈکشن نے ان میں خودکشی کا گراف اس حد تک بڑھا دیا کہ ان کی تعداد 345 ویٹرن سالانہ ہو گئی۔ یعنی 365 دنوں میں 345 سابق فوجی خودکشی کر لیتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکی فوج 2001ء سے 2014ء تک بڑی بُری طرح مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں الجھی رہی۔ ان جنگوں میں ہلاک ہو جانے والے امریکیوں کی تعداد بھی اگرچہ کم نہ تھی لیکن جو امریکی زخمی یا اپاہج ہو جاتے تھے، ان کی تعداد ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ تھی۔

آپ کو معلوم ہے کہ امریکی معاشرے میں سماجی اور خاندانی اقدار و روایات ایک پل صراط پر چلتی ہیں۔ ہر بالغ مرد یا عورت کو کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ اگر کام نہیں کرتا تو بھوکا (تقریباً) مر جاتا ہے۔ جو فوجی ریٹائر ہو کر اور اپاہج ہو کر واپس اپنے معاشرے میں جاتا ہے اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ وہ رشتہ دار صرف اپنی دیکھ بھال کا ذمہ دارہوتا ہے اور بس۔ کسی فوجی کی بیوی یا گرل فرینڈ زیادہ دیر تک اپنے شوہر یا آشنا کا انتظار نہیں کرتی۔ کوئی دوسرا شوہر / آشنا ڈھونڈ لیتی ہے۔ لیکن جب وہ سابق شوہر / آشنا (سپاہی یا آفیسر) میدانِ جنگ سے اپاہج ہو کر واپس وطن لوٹتا ہے تو اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اس کو شکم کی آگ بجھانے کے علاوہ ان انسانی جذبوں کی آگ بھی بجھانی ہوتی ہے جو اس کی سرشت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ جب وہ آگ نہیں بجھتی تو یہ ریٹائرڈ سولجر سوچتا ہے کہ میرا مر جانا ہی بہتر ہے۔ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ جن میدان ہائے جنگ میں اس نے درجنوں انسانوں کو ہلاک اور زخمی کیا تھا وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ اگر وہ زندہ نہیں رہے تو میری زندگی تو اب ان سے بھی بدتر ہے۔ وہ مرنے والے مر کر گویا ایک مسلسل عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ ایسی تنہائی ،بے وفائی، کسمپرسی اور ناامیدی اس کو خودکشی کی طرف لے جاتی ہے۔

ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں انسان ابھی روبوٹ نہیں بنا۔ اس میں جذبات و احساسات کا وہ آمیزہ ہنوز موجود ہے جس میں رشتہ داریاں، ہمسائیگی، روائتیں اور مل جل کر رہنے کی خاندانی اقدار زندہ و تابندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی میں خودکشی کی طرف جانے کا کوئی رجحان نہیں پایا جاتا۔ اگر کوئی ایک آدھ ہو بھی تو اس کی وجوہ وہ نہیں ہوتیں جو امریکہ، جاپان یا دوسرے یورپی معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔ اس عدم رجحان کی ایک مذہبی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ جو پاکستانی خواتین اور مرد خودکشی کرتے ہیں، اس کے اسباب، ویٹرن امریکیوں کی خودکشی کے اسباب سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہ الگ الگ موضوع ہے!

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

نہ دہشت گرد نہ پناہ گزین بلکہ صرف بچّے

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں عین اسی دوران دنیا بھر میں پناہ گزین بچوں کی تعداد 5 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو اپنے گھروں ، خاندانوں اور ماحول سے محروم ہو چکے ہیں۔ دنیا میں 5 کروڑ بچے ٹھکانہ کھو دینے یا ہجرت کرنے یا پھر نقل مکانی کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں نے پانی میں ڈوب کر موت کا سفر بھی کر لیا ! ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی پناہ گزین بچے کی آنکھوں میں جھانکیں اور ہمیں ان میں “خوف” یا “وبائی بیماری” یا “اندیشہ” نظر نہ آئے. یہ وہ پیغام ہے جو بچوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف نے دو روز قبل ایک “مختصر فلم” کے ذریعے جاری کیا۔ اس فلم کا مقصد رواداری کی سوچ کو پروان چڑھانا اور ان ناتواں پھولوں کے واسطے اس سوچ کو قبول کرنا ہے۔

پناہ گزینوں بالخصوص بچوں کا یہ سفر کبھی بھی “پھولوں کی سیج” نہ ثابت ہوا ہے اور نہ کبھی ہو گا۔ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے ، ان میں بعض کو اس کی ماں یا باپ کے سینے سے الگ کیا گیا اور بعض سرحدوں کے درمیان تنہا بے گھر ہوئے۔ موت سے فرار اختیار کرنے والے یہ بچے مکمل زندگی کے مستحق ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ جس کرب سے گزرے ہیں ، جس خوف سے دوچار ہوئے ہیں اور ہر لمحہ جس محرومی کا شکار ہوئے ہیں اس کا تصوّر بھی ممکن نہیں ہے۔

بڑوں کے تنازعات میں بچوں کے دُکھ
اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ہر 5 میں سے 1 بچے کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے. اور ان میں 90% سے زیادہ بچے تنازعات اور جنگوں سے متاثرہ ممالک میں رہتے ہیں۔ اس طرح ابھی تک تنازعات بڑی آسانی کے ساتھ کروڑوں بچے اور بچیوں سے ان کا بچپن چھین رہے ہیں۔ بالخصوص مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں “تنازعات کا شکار” ان بچوں نے ایسے پُرتشدد حالات دیکھے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی ! ایک اندازے کے مطابق صرف شام میں محصور علاقوں یا ان علاقوں میں جہاں پہنچنا دشوار ہے رہنے والے بچوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ان تک محدود امداد ہی پہنچ سکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگیں 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑیں

جب امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی ایک وجہ اخراجات قرار دی تھی تو اس کا مطلب امریکہ کی طرف سے جنگوں پر اب تک خرچ کیے جانے والے ایک ٹریلین ڈالرز تھے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق، افغانستان اور پاکستان میں جاری جنگوں کے باعث امریکی خزانے کو ہونے والے نقصان کا اندازہ اصل سے بہت کم کر کے پیش کیا گیا ہے۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ’جنگی اخراجات‘ (Costs of War) نامی ریسرچ پراجیکٹ کے مطابق امریکی معیشت کو یہ جنگیں کم از کم 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑی ہیں، بلکہ یہ اخراجات 4.4 ٹریلین ڈالرز تک ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد 2001ء میں افغانستان میں القاعدہ لیڈروں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے امریکی فوجوں کی وہاں روانگی اور دیگر تنازعات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ 2.3 ٹریلین سے 2.7 ٹریلین ڈالر تک ہے۔ اس اسٹڈی کے مطابق اگر ایسی تفصیلات میں جایا جائے، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، تو یہ اخراجات مزید بڑھ جائیں گے، مثلاﹰ ان جنگوں کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کا علاج معالجہ اور 2012ء سے 2020ء تک اٹھنے والے اخراجات وغیرہ۔ کم از کم ایک ٹریلین ڈالرز تو سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے جبکہ کئی بلین ڈالرز ایسے بھی ہیں، جن کو کبھی حساب کتاب میں لایا ہی نہیں جا سکتا۔

اس پراجیکٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کا انسانی حوالے سے نقصان بھی ناقابل تلافی ہے۔ اندازوں کے مطابق 224000 سے 258000 افراد ان جنگوں میں لقمہ اجل بنے۔ ان میں سے ایک لاکھ 25 ہزار شہری تو صرف عراق میں جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ اس تعداد میں ان اموات کا شمار نہیں ہے، جو جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر حالات کے سبب ہوئیں، مثلاﹰ پینے کے صاف پانی سے محرومی، صحت اور خوراک کی عدم دستیابی وغیرہ۔

رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کے باعث 365000 افراد زخمی ہوئے جبکہ 78 لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ تعداد امریکی ریاستوں کنیکٹیکٹ اور کینٹکی کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ Costs of War نامی اس ریسرچ پراجیکٹ میں جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات اور جانی نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے 20 دانشوروں نے مل کر کام کیا۔ اس پراجیکٹ اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کے بارے میں تفصیلات ان کی ویب سائٹ http://www.costsofwar.org پر دستیاب ہیں۔

بشکریہ DW اردو

رپورٹ: افسر اعوان
ادارت: امجد علی

جنگ عظیم دوم : ہٹلر نے پولینڈ کو کیسے تاراج کیا ؟

یکم ستمبر 1939ء، طلوعِ سحر،جنگ کا کوئی اعلان نہ کیا گیا۔ ہٹلر کی زبردست جنگی مشن کی پہلی طوفانی موجیں پولینڈ کی مغربی سرحدوں سے داخل ہوئیں۔ مشرقی پروشیا، پومی رینیا، سلیشیا اور سلوواکیا سے بیک وقت نازی فوجیں شدید تیزی اور تندی سے پیش قدمی کرتی ہوئی وارسا کی طرف بڑھیں۔ دوسری جنگ عظیم کی یہ پہلی بڑی مہم تھی۔ اسے ان حملوں کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے جو آگے چل کر ممالک زیریں اور دیگر پر ہوئے۔ موسم بڑی جنگجو صفوں کے لیے موزوں تھا۔

دریاؤں کا پانی انتہائی پست سطح پر پہنچ گیا تھا اور انہیں عبور کر لینا بہت سہل تھا۔ جرمن فوجوں کی پیش قدمی میں ایک دلدوز صحت و تنظیم نمایاں تھی۔ انہیں دیکھتے ہی 1914ء میں بیلجیم پر جرمن حملے کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔ لیکن 1939ء کی یورش میں ایک خصوصیت تھی۔ اب وہ حالت نہ تھی کہ پیش قدمی کرتے ہوئے سپاہیوں کے بے شمار لشکر دن بھر میں صرف چند میل آ گے جائیں بلکہ برق رفتار جنگ کا یہ پہلا مظاہرہ تھا۔ مشینی دور کے ساتھ فوج کی مطابقت اس پیمانے پر پہنچ گئی تھی، جسے دیکھتے ہی ہوش و حواس گم ہو جاتے تھے۔ حملے کا فارمولا تباہی خیز حد تک سادہ تھا۔

اول، دشمن کی صفوں کے پیچھے پانچویں کالم کے ذریعے سے اپنے لیے راستہ ہموار کر لینا۔

دوم، ایک تیز اور اچانک ضرب کے ذریعے مخالف ہوائی قوت کو زمین ہی پر تباہ کر ڈالنا۔

سوم ہوائی جہازوں کی بمباری سے دشمن کی آمدورفت اور نقل و حمل کے وسائل کو نقصان پہنچانا۔

چہارم فوجی اجتماعات پر بمبار آب دوزوں سے ایسے حملے کرنا کہ ان میں افراتفری پھیل جائے۔

پنجم، سبک رفتار فوجیں، موٹر سائیکلوں پر دستے، ہلکے ٹینک اور موٹروں کے ذریعے سے نقل و حمل کرنے والی توپیں بھیجنا تا کہ تیزی سے دشمن کے علاقے میں گھس جائیں۔

ششم، بھاری ٹینکوں سے کام لینا تا کہ جا بجا وہ مشینی یورشوں کے لیے عقب میں جگہیں بنا لیں۔

سب سے آخر میں باقاعدہ فوج یعنی پیادہ سپاہ کا توپ خانے کے ساتھ آگے بڑھنا تا کہ مزاحمت ختم ہو جائے اور پیادہ فوج ہر اول سے مل جائے۔ اس پوری کارروائی میں فوجی ٹینک ایک کلیدی حربہ تھا۔ یہ پٹڑی والی بکتربند گاڑی تھی جو پہلے پہل انگریزوں نے 1916ء میں استعمال کی تھی، لیکن 1918ء تک اس کی حیثیت صرف اتنی تھی کہ پیش قدمی کرنے والی اس پیادہ فوج کے لیے ایک پناہ کا کام دیتی۔ مگر اب جرمنوں نے ٹینکوں کو توپ خانے کے متحرک بازو کی حیثیت میں استعمال کیا۔ ان جنگی کارروائیوں کا اہتمام جرمنی کے نہایت تجربہ کار فوجی قائدین کے ہاتھ میں تھا۔ جنرل والتھر فان برخش کماندار اعلیٰ تھا۔ جنرل فرینز ہالڈر اس کا چیف آف سٹاف تھا۔ جنرل فان رونسٹاٹ ان تین فوجوں کا کماندار تھا، جو جنوبی سمت سے حملہ کررہی تھیں۔

شمالی سمت سے دو فوجیں حملہ آور تھیں، جن کی کمان جنرل فیڈوفان بوک کے ہاتھ میں تھی۔ اس فوجی قیادت کے شان دار ہونے میں کلام کی کیا گنجائش تھی؟ حملہ آور جرمنوں کی تعداد پولستانیوں سے بہت زیادہ تھی۔ جرمن فوج کی تعداد کے متعلق مختلف لوگوں نے مختلف اندازے لگائے۔ علاوہ بریں مختلف مقاصد کے لیے جو فوجیں استعمال کی گئیں ان کے باب میں بھی اندازے مختلف رہے۔ بہرحال واضح ہوتا ہے کہ متصرف اور محفوظ فوجوں کو شامل کرتے ہوئے کل تعداد دس لاکھ سے زائد تھی۔ آتش بار اسلحہ کی تعداد میں جرمنی کی برتری کا تناسب دو ایک کا تھا لیکن ٹینک دشمن کے مقابلے میں بیس گنا تھے۔

رجسٹروں کے اعتبار سے پولستانی فوج کی تعداد بیس لاکھ تھی مگر اس فوج کی عام نقل و حرکت 31 اگست 1939ء یعنی حملے کے ایک روز پیشتر تک شروع نہ ہوئی۔ جب حملے کا زور بڑھا تو مقابلے پر پولستانی فوج صرف چھ لاکھ تھی۔ نازیوں کی برق رفتار جنگ کا سب سے پہلا منظر ہوائی حملوں کا تھا۔ جرمنوں کی ہوائی فوج پولستانیوں کے مقابلے میں تین گنا تھی۔ چودہ سو ہوائی جہاز جن میں غوطہ خور بمبار جہاز بھی شامل تھے، ان کے مقابلے میں پولستانی ہوائی جہاز صرف ساڑھے چار سو تھے۔ حقیقتاً کوئی ہوائی جنگ نہ ہوئی۔ جرمن حملوں کا مدعا یہی تھا کہ دشمن کے ہوائی جہاز زمین ہی پر تباہ کر دیے جائیں اور دو روز کے اندر اندر پوری ہوائی قوت تقریباً تباہ کر ڈالی۔ اس کے بعد بکتر بند جرمن فوج بے خطر آگے بڑھ سکتی تھی کیونکہ اوپر سے حملے کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا تھا۔

لوئس ایل سنائیڈر

 (ترجمہ: غلام رسول مہر)