شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔

چنگیز خاں , نپولین اور سکندراعظم کون بڑا فاتح تھا ؟

سات سو سال پہلے ایک آدمی نے دنیا کو قریب قریب بالکل ہی فتح کر لیا تھا۔ اس زمانے کے ربع مسکون کے نصف حصہ پر اس نے اپنا تصرف قائم کیا اور نوع انسان پر ایسی دھاک بٹھائی جس کا اثر کئی نسلوں تک باقی رہا۔ اپنی زندگی میں اس نے کئی نام پائے قتال اعظم، قہر خدا، جنگجوئے کامل، باج گیر تاج و تخت۔ عام طورپر وہ چنگیز خان کے نام سے معروف ہے۔ بہت سے صاحبان اپنے خطابوں کے اہل نہیں ہوئے، مگر وہ ان سب خطابوں کا اہل تھا۔ ہم امریکی، جن کی تعلیم یورپی روایات کے مطابق ہوتی ہے، بڑے شہنشاہوں کی فہرست مقدونیہ کے سکندر اعظم سے شروع کرتے ہیں اورروم کے محلوں کو شمار کرتے ہوئے، اس فہرست کو نپولین پر ختم کرتے ہیں، لیکن اس یورپی بازی گاہ کے کھلاڑیوں کے مقابلے میں چنگیز خان بہت ہی بڑے پیمانے کا فاتح تھا۔

معمولی معیاروں سے اس کا جانچنا مشکل ہے۔ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کرتا تو اس کا سفرمیلوں نہیں، عرض البلد اور طول البلد کے پیمانوں پر ہوتا۔ اس کے راستے میں جو شہر آتے، اکثر حرف غلط کی طرح مٹ جاتے۔ انسانی جانوں کی ایسی تباہی، آج کل کے انسان کے تخیل کو ششدر کر دیتی ہے۔ ایک خانہ بدوش سردار چنگیز خاں نے صحرائے گوبی سے خروج کیا۔ دنیا کی متمدن قوتوں سے جنگ کی اور اس جنگ میں کامران ہوا۔ یہ سب اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہمیں تیرہویں صدی عیسوی کی طرف واپس لوٹنا پڑے گا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کا خیال تھا کہ اس عالم اسباب و اشیا میں یہ غیر معمولی انقلاب محض کسی مافوق الفطرت قوت کے ظہورسے ہی آ سکتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ قیامت کے آثار ہیں۔ ایک مؤرخ لکھتا ہے۔ ’’کبھی اس سے پہلے مغلوں اور نصرانیوں کے حملوں کے نرغے میں دارالسلام کی یہ حالت نہیں ہوئی‘‘۔

عیسائی دنیا بھی چنگیز خاں کی موت کے بعد مغلوں کی اگلی پشت کے مقابلے میں اتنی ہی سراسیمہ و حیران تھی جب کہ خونخوار مغل شہسوار مغربی یورپ کو روندتے پھرتے تھے۔ پولینڈ کا شاہ بولسلاس اورہنگری کا بادشاہ بیلا شکست کھا کے جنگ کے میدانوں سے بھاگے تھے اورسائی لیسیا کا ڈیوک ہنری اپنے تیوتائی شہسواروں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔ یہی حشر روس کے گرینڈ ڈیوک جارج کا ہوا تھا۔ اور قشتالیہ کی خوبرو ملکہ بلانش نے فرانس کے بادشاہ سینٹ لوئی کو یاد کر کے پکارا تھا، ’’میرے بیٹے تو کہاں ہے!‘‘ جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک ثانی نے، جو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کا عادی تھا، انگلستان کے شاہ ہنری ثالث کو لکھ بھیجا کہ یہ ’’تاتاری‘‘ عذاب الٰہی سے کم نہیں، جو نصرانی دنیا پر عیسائیوں کے گناہوں کی پاداش میں نازل ہوئے ہیں۔

ہاں تک کہ روجر بیکن جیسے فلسفی نے یہ رائے ظاہر کی کہ مغل دراصل دجال کے سپاہی ہیں اوراب اپنی آخری دہشت ناک فصل کاٹنے آئے ہیں۔ چنگیز خاں ایک خانہ بدوش تھا، شکاری تھا، چرواہا تھا، لیکن تین بڑی سلطنتوں کے سپہ سالاروں کواس نے شکست دی۔ وہ وحشی تھا، جس نے کوئی شہر نہیں دیکھا تھا اورلکھنا پڑھنا نہ جانتا تھا لیکن اس نے پچاس قوموں کے لیے قانون بنایا اور نافذ کیا۔ جہاں تک خداداد فوجی قابلیت کا تعلق ہے، بادی النظر میں نپولین یورپ کا سب سے درخشاں سپہ سالار تھا، لیکن ہم یہ فراموش نہیں کر سکتے کہ نپولین نے ایک فوج کو مصر میں تقدیر کے حوالے کر کے چھوڑ دیا اور دوسری فوج کا بچا کھچا حصہ روس کے برف زاروں کے حوالے کر دیا اور بالآخر واٹرلو کی شکست پراس کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ اس کے جیتے جی اس کی سلطنت مٹ گئی، اس کا قانون پارہ پارہ کر دیا گیا اوراس کی موت سے پہلے اس کے بیٹے کو محروم الارث قرار دیا گیا۔ یہ پورا واقعہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تھیٹر میں کوئی ڈراما ہو رہا ہو اور جس میں نپولین خود بھی محض ایک ایکٹر ہو۔

فتح مندی میں چنگیز خاں سے موازنہ کرنے کے لیے مقدونیہ کے سکندر اعظم کا ذکر ضروری ہے۔ سکندر ایک بے پروا اورفتح مند نوجوان تھا۔ دیوتائوں جیسا، جو اپنی صف بہ صف فوج کے ساتھ مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اس کے ہمرکاب یونان کے تمدن کی برکتیں تھیں۔ سکندر اور چنگیز خاں دونوں کی موت کے وقت ان کے اقبال کا ستارہ انتہائی عروج پر تھا اور ان کے نام ایشیا کی حکایتوں میں محفوظ ہیں۔ دونوں کی موت کے بعد کے واقعات سے دونوں کی حقیقی کامرانیوں کے حاصل کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ فرق بے اندازہ ہے۔ سکندر کے مرتے ہی اس کے سپہ سالار آپس میں لڑنے لگے اور اس کے بیٹے کو سلطنت چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ لیکن چنگیز خاں نے اس قدر کامل طورپر اپنے آپ کو آرمینیا سے کوریا تک اورتبت سے دریائے نیل تک کے علاقے کا مالک بنا لیا تھا کہ بلا کسی ردوکد کے اس کے بیٹے کو اس کی جانشینی نصیب ہوئی اور اس کا پوتا قبلائی خان بھی نصف دنیا پر حکمران تھا۔

ہیرالڈ لیم

امریکہ کا جنگی جنون

امریکہ آج کے دور کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ اس کی فوج تقریباً 13 لاکھ
69 ہزار سے زائد جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ریزرو فوجیوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ امریکا کا دفاعی بجٹ سالانہ 585 ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ خفیہ اداروں کو بھی اربوں ڈالر دیئے جاتے ہیں۔ سی آئی اے کا بجٹ 16 ارب ڈالر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ سولہ خفیہ امریکی اداروں پر گذشتہ بارہ برسوں میں 52.6 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق خفیہ اداروں کو فراہم کیے جانے والے فنڈز بلیک فنڈز کہلاتے ہیں۔

امریکا کی 16 خفیہ ایجنسیوں میں ایک لاکھ 7ہزار 35 افراد ملازم ہیں بجٹ کب، کیسے اور کہاں خرچ کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کسی کو معلوم نہیں کسی آپریشن کی کامیابی، ناکامی، یہاں تک کہ ہدف کے حصول کے متعلق بھی معلومات میسر نہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ سی آئی اے اور این ایس اے نے دیگر ممالک میں سائبر حملوں کی کاروائی شروع کر رکھی ہے۔ جس کے لیے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران، چین، روس، کیوبا اور اسرائیل امریکی جاسوس اداروں کے ٹارگٹ جبکہ دیگر ممالک کے مقابلوں میں پاکستان سی آئی اے کی جاسوسی کا خاص ہدف ہے۔ اس وقت 39 ممالک میں امریکا کے 820 مستقل فوجی اڈے موجود ہیں جبکہ دنیا کے 150 ممالک میں امریکی فوجی کسی نہ کسی طرح متمکن ہیں۔

امریکی بحری بیڑے دنیا بھر میں اس کے مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں جبکہ میزائل ڈیفنس سسٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی تسلط کے تحفظ کا کام لیا جاتا ہے۔ 1775ء سے 1783ء تک امریکیوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد امریکا نے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنایا اور آس پاس موجود کئی جزیروں اور چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضے شروع کر دیئے۔ 1861ء میں امریکا کو خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ پر قابو پانے کے بعد امریکا کے سامراجی عزائم کا آغاز ہوا۔ امریکا نے پہلی سامراجی جنگ اسپین کی کالونیاں کے حاصل کے لیے لڑی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا نے براعظم سے باہر قدم رکھا اور فلپائن، گوام سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

اس کے بعد 1913ء تک فلپائن میں ہزاروں افراد کو امریکی قبضہ مضبوط کرنے کی غرض سے ہلاک کر دیا گیا۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر امریکا نے اپنے سامراجی عزائم کا اظہار کیا۔ امریکا نے 1946ء سے لے کر 1989ء کے عرصہ میں سرد جنگ کے دوران عالمی محاذ آرائی پر 100 کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم صرف کی۔ آج امریکی معیشت اس قومی خزانے کے بے پناہ اصراف کے بعد سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگر صرف 50 کھرب ڈالر سے کچھ زائد رقم کو بھی منظم طور پر خرچ کیا جاتا تو دنیا بھر میں غربت، بے گھری، بیماری، بھوک، جہالت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جا سکتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران وہائٹ ہائوس کے مکین امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے کہا تھا کہ ’’اگرجنگ عظیم میں اتحادی فوجوں کو فتح حاصل ہوتی ہے تو ہم اپنے آپ کو مستقل طور پر ایک ایسی فوجی طاقت میں ڈھال لیں گے جس کی بنیاد جنگوں کی معیشت پر ہو گی۔ ‘‘ کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر، نامور جغرافیہ دان اور معیست دان فلپ لی بیلن Philippe Lebillon نے جنگوں کی معیشت کو قدرے زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔ فلپ کہتے ہیں کہ ’’جنگوں کی معیشت ایک ایسا نظام ہے جو تشدد کو پروان چڑھانے اور باقی رکھنے کے لیے وسائل مہیا کرتا ہے۔ یہ نظام ان وسائل میں حرکت پذیری کو جنم دیتا ہے، پھر ان وسائل کو تشدد کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

جمیل خان