سیاچن : دنیا کا سب سے مشکل میدان جنگ

یہ الفاظ پاکستانی فوج میں تقریباً دو دہائیوں سے کام کرنے والے اس ڈاکٹر کے ہیں جس نے سیاچن کے محاذ پر 19 ہزار فٹ کی بلندی پر آٹھ ماہ گزارے اور ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے مشکل اور ناقابل فراموش ترین دن تھے۔ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز اس ڈاکٹر نے سیاچن پر تقریباً 12 سال قبل وقت گزارا تھا اور انھیں اب بھی وہاں ِبتایا ہوا ہر پل یاد ہے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سیاچن شاید دنیا کی سب سے مایوس کن جگہ ہے۔ آپ کو اپنے چاروں جانب صرف برف کی چادر نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی قسم کی کوئی زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔’

اپنے ملک پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ لیے ہزاروں فوجی جب سیاچن پر جاتے ہیں تو وہاں ان کا مقابلہ دشمن کی گولیوں کے بجائے قدرت سے ہوتا ہے۔ سیاچن قراقرم کی برفیلی چوٹیوں پر موجود، تین کھرب مکعب فٹ برف سے بنا ہوا 45 میل لمبا اور تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی سے شروع ہونے والا برف کا وہ جہان ہے جو قطب شمالی اور قطب جنوبی کو چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔ یہاں پر ڈیوٹی ادا کرنے والے فوجیوں کے لیے روایتی تیاری ناکافی ہوتی ہے۔ اس خطے میں موسم اپنی تمام تر سختیاں اور دشواریاں ساتھ لاتا ہے اور عام طور پر یہاں کا درجہ حرارت منفی دس سے منفی بیس ڈگری رہتا ہے جبکہ اکتوبر سے مارچ تک ناقابلِ یقین منفی 50 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سردی کے موسم میں برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطاً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جو کہ وہاں پر کام کرنے والے فوجیوں کے مطابق سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک میجر جنھوں نے حال ہی میں سیاچن سیکٹر پر سات ماہ گزارے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ سانس لینا یعنی وہ چیز جو ہم سب سے آسان سمجھتے ہیں وہی سب سے مشکل کام ہے۔ ‘شہر میں تو ہم کبھی سوچتے بھی نہیں ہیں کہ اگلی سانس آئے گی یا نہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل فرق ہے۔ آپ لمبی سانس لینا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اور اتنی کم آکسیجن میں آرام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔’

سیاچن 323 بریگیڈ کے نائب کمانڈر کرنل عامر اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر ڈیوٹی دینے سے پہلے تمام فوجیوں کو مخصوص تیاری سے گزرنا پڑتا ہے جہاں انھیں آرمی کے کوہ پیمائی کے سکول میں تربیت دی جاتی ہے اور سیاچن کی آب وہوا کا عادی ہونے کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ ‘ہماری اصل کوشش ہوتی ہے کہ فوجیوں کو کم آکسیجن میں پوری صلاحیت سے کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔’ سیاچن پر ڈیوٹی کرنے والے پاکستانی فوجی اپنے کندھوں پر 25 سے 30 کلو وزنی سامان اٹھا کر ہزاروں فٹ بلندی پر سفر کرتے ہیں۔ اس سامان میں آکسیجن کنستر، برفانی کلہاڑی، خشک کھانا، رسیاں، خاص جرابیں اور دستانے شامل ہوتے ہیں۔ ان فوجیوں کے لیے برف پر چلنے والے مخصوص جوتے ہی صرف دس کلو وزنی ہوتے ہیں۔

سیاچن پر کام کرنے کے لیے فوجیوں کو رفتہ برفتہ اونچی چوکیوں پر بھیجا جاتا ہے۔ کرنل عامر اسلام نے بتایا کہ عام طور پر فوجی ایک چوکی پر 45 دن کام کرتے ہیں جس کے بعد انھیں دوسری چوکی پر بھیج دیا جاتا ہے لیکن سردی کے موسم میں ایسا کرنے کافی دشوار ہوتا ہے کیونکہ برفانی طوفان اور تیز جھکڑ سے جان جانے کا کافی خدشہ ہوتا ہے۔ سیاچن کے محاذ پر وقت گزارنے کے بعد اس بات کا واضح اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فوجی جو زندگی سیاچن پر گزارتا ہے اسے وہ تجربہ کسی اور محاذ پر نہیں مل سکتا۔

معمولی کام جیسے دانت برش کرنا، باتھ روم جانا، شیو کرنا، یہ تمام چیزیں 18000 فیٹ کی بلندی پر کرنا جان جوکھوں سے کم نہیں ہے۔ منفی 20 ڈگری کی سردی میں جلد پر ٹھنڈے پانی لگنے کا مطلب ہے فراسٹ بائیٹ اور اس کا علاج صرف اس عضو کو کاٹ کر پھینکنا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں پر ایک اور چیلنج کھانے کا ہوتا ہے۔ ‘ہمیں بس راشن ایک دفعہ ملتا ہے سال میں جسے ہم برف میں سٹور کر لیتے ہیں۔ اور وہ کھانے اگر نہ ہی کھائیں تو بہتر ہے۔’ دوسری جانب کھانا بنانا ایک الگ امتحان ہوتا ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر صرف دال گلانے میں اکثر چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے نیچے آئے تو ان کا وزن 18 کلو گرام کم ہو چکا تھا۔

لیفٹینٹ کرنل نے بی بی سی کو بتایا : ‘آپ سیاچن پر دشواری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تربیت میں بولا جاتا ہے کہ کم ہلو اور آکسیجن بچاؤ۔ لیکن دوسری جانب 19000، 20000 فیٹ کی بلندی پر آپ ساکت نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ اس قدر شدید سردی میں خون جمنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کریں تو کیا کریں؟’ جسمانی بیماریوں کے علاوہ ایک اور مسئلہ ذہنی حالت بھی ہے جس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں چھ ماہ بعد سیاچن سے واپس آنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہاں سب سے زیادہ تکلیف تنہائی سے ہوئی تھی۔ ‘میں نے وہاں 21 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود چوکی پر تین ماہ گزارے تھے اور وہاں پر میرے ساتھ آٹھ اور ساتھی تھے۔ آپ ان آٹھ لوگوں کے ساتھ 24 گھنٹے اٹھنا بیٹھنا ایک ایسے خیمہ میں کرتے ہیں جہاں بمشکل چار لوگوں کی جگہ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس باتیں ختم ہو جاتی ہیں کرنے کو۔’

ملتان کے قریب گاؤں سے تعلق رکھنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر جانے کے دو ہفتے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا لیکن وہ نیچے نہیں آسکتے تھے۔ ‘ایک دفعہ آپ اوپر چلے گئے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ بس افسوس کر سکتے ہیں، اور کیا کریں گے۔’ تنہائی کے اس ماحول میں فوجی آخر وقت کیسے صرف کرتے ہیں؟ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بتایا: ‘یہی ہمارے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے کہ دن کیسے کاٹیں؟ ہمارے پاس لوڈو ہوتی ہے، تاش کے پتے ہوتے ہیں، کبھی ہم ایک دوسرے کو گانے سناتے ہیں تو کبھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں یا موبائل سے سیلفیاں لیتے ہیں۔ سیاچن کی چوکی پر کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ہم اپنے تمام راز اور خفیہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ اور کچھ ہوتا نہیں ہے کرنے کو۔’

البتہ کبھی کبھار ان فوجیوں کو خوشیاں منانے کے مواقع ملتے ہیں جس سے وہ پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سپاہی محمد شفیق نے بتایا کہ حال ہی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی جس میں پاکستان نے انڈیا کو فائنل میں شکست دی تھی، تو اس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھی فوجیوں کے ساتھ مل کر اس جیت کا جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ لیفٹینٹ کرنل نے کہا کہ بس یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں جن کے آسرے پر وہ اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ‘ہمارے پاس صرف یہی ہے ورنہ اگر ایسا نہ کریں تو ہم سب ادھر رہ کر مایوسی کے مریض بن جائیں گے۔ سارا سارا دن اتھاہ تنہائی کے عالم میں، خون جمانے والی سردی میں چاروں طرف برف کی چادر کو دیکھنا اور ایک ان دیکھے دشمن سے لڑنا.

عابد حسین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سیاچن سیکٹر

Advertisements

مجسمہ کلاشنکوف کا، رائفل نازی فوج کی

روس کے دارالحکومت ماسکو میں مشہور زمانہ اے کے 47 یعنی کلاشنکوف بنانے والے کی رونمائی کی گئی لیکن اس مجسمے میں جلد ہی تبدیلی کی جائے گی۔ تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ میخائل کلاشنکوف کے مجسمے پر ان کی تخلیق کردہ اے کے 47 نہیں بلکہ جرمن رائفل ہے۔ اس مجسمے پر کلاشنکوف کے مختلف ڈیزائنز کندہ کیے گئے ہیں۔ میخائل کے مجسمے کی رونمائی اعلیٰ حکام کی جانب سے ماسکو میں کی گئی تھی۔ تاہم اسلحے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے پر ایس ٹی جی 44 رائفل ہے جس کو نازی فوج کے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا تھا۔

روس کے ملٹری ہسٹوریکل سوسائٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا کہ ‘مجسمہ بنانے والے سے غلطی ہوئی اور اس نے ایس ٹی جی کی جگہ کلاشنکوف لگانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس سوسائٹی نے 25 فٹ بلند یہ مجسمہ بنوایا ہے جس میں میخائل کے ہاتھ میں اپنی ایجاد کردہ اے کے 47 ہونی چاہیے تھی۔ روسی اسلحے کی تاریخ کے ماہر یوری پشولوک نے سب سے پہلے اس غلطی کی نشاندہی کی اور اس کے بعد کئی ماہرین نے اس غلطی کی تصدیق کی۔ مجسمہ بنانے والے صلاوت شربکوو نے کہا کہ وہ اس غلطی کو درست کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اے کے 47 روس کی سب سے مشہور آٹومیٹک رائفل ہے اور اس رائفل کو روس کے وزیر ثقافت نے ملک کے ‘ثقافتی برانڈ’ قرار دیا۔

میخائل کلاشنکوف نے یہ رائفل 1946 میں تیار کی تھی اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ جانی پہچانی رائفل ہے کیونکہ دنیا میں کسی جگہ بھی مسلح تصادم ہو اس رائفل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ میخائل کو سرکاری اعزاز سے نوازا گیا لیکن انھوں نے خود اس رائفل کو ایجاد کرنے سے زیادہ رقم نہیں بنائی۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ وہ زیادہ رقم بناتے اگر رائفل کی جگہ انھوں نے گھاس کاٹنے کی مشین ایجاد کی ہوتی۔ میخائل کا انتقال 94 سال کی عمر میں 2013 میں ہوا۔ ہیوگو شمیسر نے ایس ٹی جی 44 (Sturmgewehr 44) ایجاد کی تھی اور اس کو پہلی بار ایڈولف ہٹلر کی فوج نے 1944 میں استعمال کیا تھا۔ چند ماہرین کہتے ہیں کہ ایس ٹی جے 44 اور اے کے 47 میں مماثلت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس نے ہیوگو کو سوویت یونین میں کام کرنے پر مجبور کیا تھا۔

امریکی افواج میں بڑھتی ہوئی خودکشی ؟

انسان اچھی بری جبلّتوں (Instincts) کا مجموعہ ہے۔ جان بچانا بھی عینِ فطرت ہے اور جان دے دینا بھی ایک فطری انسانی تقاضا ہے۔ اقبال کا یہ شعر اسی فطرت کا غماز ہے:

برتر از اندیشہ ء سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

جنگ و جدال اور کشت و قتال اگر انسان کی سرشت میں شامل ہے تو رحمدلی و کرم فرمائی بھی وہ انسانی جبلت ہے جس کا مظاہرہ ہم آئے روز دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یعنی انسان ایک دوسرے کو تہہ تیغ بھی کرتا ہے اور ایک دوسرے کو بچاتا بھی ہے۔ بعض اوقات تو کسی کو بچانے کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ کسی کی جان بچاتے بچاتے انسان اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ جنگ کے میدان میں جب کشتوں کے پشتے لگ رہے ہوتے ہیں تو یہ دونوں مظاہر بظاہر متضاد خصوصیات ہیں لیکن اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فارسی میں ایک محاورہ ہے: ’’مرگِ انبو ہے، حبشنے دارد‘‘ یعنی اگر کثیر تعداد میں انسان مر رہے ہوں تو وہ بھی ایک جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔

تاریخِ جنگ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی سالارِ لشکر اس دو گونہ متضاد انسانی جبلّت کا کماحقہ ادراک نہیں رکھتا تو وہ عظیم کمانڈر نہیں کہلا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم سپہ سالاروں نے متواتر اور مسلسل جنگی حالات سے اجتناب برتا ہے اور جنگ میں وقفے دیئے ہیں تاکہ موت کے منظر کے بعد امن و امان کے مناظر بھی ان کی سپاہ کو دیکھنے کو ملیں۔ 323 ق م میں جب سکندر اعظم ہندوستان میں دریائے جہلم کے کنارے آ پہنچا تھا تو اس سے پہلے اس نے نہ صرف پورے یونان کو فتح کیا بلکہ مصر اور ایران پر بھی قبضہ کرنے کے بعد برصغیر کا رخ کیا تھا۔ لیکن جب دیر اور باجوڑ کے راستے یونانی لشکر شاہیا کے چٹیل میدان اور ٹیکسلا میں آکر خیمہ زن ہوا تو لشکر کی اکثریت خونریزی کے مسلسل مناظر سے تنگ آ چکی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سکندر اپنی فتوحات کے درمیان طویل وقفے کرتا۔ لیکن اس نے یہ غلطی کی کہ ایک کے بعد دوسرے ملک پر چڑھائی کرتا چلا گیا۔ اس تاخت و تاراج کے تسلسل اور امن و امان کے وقتوں میں کسی تعطل کی عدم موجودگی نے یونانی سپاہ کو بد دل کر دیا۔

ٹروپس کو محسوس ہونے لگا کہ وہ ایک ایسا روبوٹ بن گئے ہیں جس کا کام صرف تیغ بازی، تیر اندازی اور شمشیرزنی ہے۔ چنانچہ انہوں نے راجہ پورس کو شکست دینے کے بعد آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور سکندر کو اپنی نو عمری کے باوصف واپس جانا پڑا۔ اگر انسانی جبلت کے اس پہلو کو سالوں سال دوام ملتا رہے تو انسان واقعی اکتا جاتا ہے۔ شائد اسی انسانی پہلو کو غالب نے ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان کیا تھا :

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

گردشِ مدام یا قتالِ مدام یا امن و امانِ مدام انسانی فطرت کا خاصا کبھی نہیں رہا۔ اگر انسان مرتا ہے تو زندہ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے اگر انسان لڑائی بھڑائی میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے تو یہ شائد اس کی انفرادی خصلت ہو تو ہو، اجتماعی سرشست نہیں ہو سکتی۔

محمود غزنوی ہر سال ہندوستان پر ایک حملہ کرتا تھا اور پھر واپس لوٹ جاتا تھا۔ لیکن اگلے سال پھر قتال کے ارادے سے کسی اور شہر پر حملہ آور ہوتا۔ 17 برسوں میں اس نے ہندوستان پر 17 حملے کئے۔ اس نے سوچا اگر میدانِ جنگ مسلسل دس بارہ دنوں تک بھی اس کے لشکر کی تلواروں کی جھنکار، تیروں کی بارش اور گھوڑوں کی یلغار سے گونجتا رہے تو سال کے باقی 355 دن وہ کیا کرے گا؟۔ اگر آپ محمود غزنوی کے سترہ حملوں میں اس کے لشکر کے وہ ایام شمار کریں جن میں وہ اپنی سپاہ کو مقتل سے ہٹا کر وطن مالوف کے پُرامن شہروں اور دیہاتوں میں لے جایا کرتا تھا تو ان کی تعداد ان ایام سے بڑھ جائے گی جو غزنوی سپاہ اپنے مستقر سے روانگی سے لے کر فتح کے بعد وطن واپسی تک میں صرف کیا کرتی تھی۔

وار ٹیکنالوجی کتنی بھی ترقی کر لے اس کو روبہ عمل لانے والا عنصر صرف اور صرف انسان ہی ہو گا۔ انسان ہی ہر جنگ کا مرکزی کردار رہا ہے (اور آئندہ بھی رہے گا) ہتھیار اور گولہ بارود کے انبار اکٹھے کئے جا سکتے ہیں۔ ایسے انبار جو ختم ہونے ہی میں نہ آئیں۔ لیکن ان کو استعمال تو آخر گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان نے ہی کرنا ہے۔ لوہے، فولاد، بارود ، ربڑ یا پلاسٹک جو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ساخت میں استعمال ہوتے ہیں، وہ تو بے جان ہوتے ہیں، ان کو آرام کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن انسان کو آرام کے وقفوں کی ضرورت ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گارڈ ڈیوٹی پر متعین انسانوں کی ڈیوٹی (مشن کی اہمیت اور حالات کے پیش نظر) دو دو چار چار گھنٹوں کے بعد بدلتی رہتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی یونٹ جس کی نفری 500 سے 900 سپاہیوں اور افسروں پر مشتمل ہو اس کو کسی ایک مقام پر ایک ہی مشن کی ادائیگی کے لئے سٹیشن نہیں رکھا جاتا۔ اس کو باری باری اور وقفے وقفے سے میدانی اور کوہستانی علاقوں میں گھمایا جاتا ہے۔ یہ روٹیشن فوج کا ایک معمول ہے اور یہ معمول انسانی جبلّت کے پیشِ نظر ہی وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان آرمی کی یونٹوں کو فاٹا میں جنگ کرتے ہوئے 16،17 برس گزر چکے ہیں۔ لیکن کوئی ایک یونٹ زیادہ سے زیادہ ایک دو سال سے زیادہ کسی ایک مقام پر سٹیشن نہیں رکھی گئی۔ یہ ٹرن اوور اُس انسانی جبلت کے ٹرن اوور پر منحصر ہے جس کا ہم اس کالم میں ذکر کررہے ہیں۔ اگر اس انسانی سرشت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا تو پاکستان آرمی کا حشر بھی وہی ہو گا جو ماضی ء قریب میں امریکن آرمی کا ہوا ہے! امریکہ نے 2001ء میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن ابھی زمینی قبضے کو پوری طرح سمیٹا (Consolidate) نہیں کیا گیا تھا کہ امریکن آرمی کو عراق میں انڈکٹ کر دیا گیا، اس کے بعد لیبیا اور پھر شام میں اسی فوج کو استعمال کیا جانے لگا (اور کیا جا رہا ہے) لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ریگولر امریکی فوج (Army) کی نفری پاکستان آرمی سے بھی کم ہے۔ اس عددی قلت کو امریکن آرمی، وار ٹیکنالوجی کی کثرت سے پورا کرتی ہے۔

لیکن یہ ٹیکنالوجی بھی چونکہ بے جان ہے اور اس کو آپریٹ انسان ہی کرتا ہے تو پھر ہر انسان کی برداشت کی ایک حد بھی ہوتی ہے چاہے وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا۔ امریکی یونٹوں کو حالیہ برسوں میں وقفے وقفے سے بار بار میدانِ جنگ میں اتارنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان کو کسی محاذ پر اپنی کسی یونٹ کو گھمانے (Rotate) کے لئے دو سال ملتے ہیں تو امریکن آرمی کو صرف 9 ماہ ملتے ہیں۔ یعنی ایک ہی امریکی سولجر کو بار بار جنگ میں کودنا پڑتا ہے جس سے بار بار اس کی اس نفسیاتی سرشت کی آزمائش ہوتی ہے جو جنگ اور امن کے درمیان ایک ’’خاص‘‘ وقفہ مانگتی ہے۔ جب اسے یہ وقفہ نہیں ملتا تو انسان کی نفسیات تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سولجر، بعد از ریٹائرمنٹ ، تھوک کے حساب سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

چار سال پہلے 2013ء میں امریکہ میں جو سروے کیا گیا اس کے مطابق ریٹائرڈ فوجیوں کو [جن کو امریکہ میں ’’ویٹرن‘‘ (Vetran) کہا جاتا ہے] بار بار میدانِ جنگ میں بھیجا جاتا رہا۔ کبھی افغانستان، کبھی عراق اور کبھی شام میں۔ بار بار کی اس مسلسل انڈکشن نے ان میں خودکشی کا گراف اس حد تک بڑھا دیا کہ ان کی تعداد 345 ویٹرن سالانہ ہو گئی۔ یعنی 365 دنوں میں 345 سابق فوجی خودکشی کر لیتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکی فوج 2001ء سے 2014ء تک بڑی بُری طرح مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں الجھی رہی۔ ان جنگوں میں ہلاک ہو جانے والے امریکیوں کی تعداد بھی اگرچہ کم نہ تھی لیکن جو امریکی زخمی یا اپاہج ہو جاتے تھے، ان کی تعداد ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ تھی۔

آپ کو معلوم ہے کہ امریکی معاشرے میں سماجی اور خاندانی اقدار و روایات ایک پل صراط پر چلتی ہیں۔ ہر بالغ مرد یا عورت کو کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ اگر کام نہیں کرتا تو بھوکا (تقریباً) مر جاتا ہے۔ جو فوجی ریٹائر ہو کر اور اپاہج ہو کر واپس اپنے معاشرے میں جاتا ہے اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ وہ رشتہ دار صرف اپنی دیکھ بھال کا ذمہ دارہوتا ہے اور بس۔ کسی فوجی کی بیوی یا گرل فرینڈ زیادہ دیر تک اپنے شوہر یا آشنا کا انتظار نہیں کرتی۔ کوئی دوسرا شوہر / آشنا ڈھونڈ لیتی ہے۔ لیکن جب وہ سابق شوہر / آشنا (سپاہی یا آفیسر) میدانِ جنگ سے اپاہج ہو کر واپس وطن لوٹتا ہے تو اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اس کو شکم کی آگ بجھانے کے علاوہ ان انسانی جذبوں کی آگ بھی بجھانی ہوتی ہے جو اس کی سرشت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ جب وہ آگ نہیں بجھتی تو یہ ریٹائرڈ سولجر سوچتا ہے کہ میرا مر جانا ہی بہتر ہے۔ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ جن میدان ہائے جنگ میں اس نے درجنوں انسانوں کو ہلاک اور زخمی کیا تھا وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ اگر وہ زندہ نہیں رہے تو میری زندگی تو اب ان سے بھی بدتر ہے۔ وہ مرنے والے مر کر گویا ایک مسلسل عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ ایسی تنہائی ،بے وفائی، کسمپرسی اور ناامیدی اس کو خودکشی کی طرف لے جاتی ہے۔

ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں انسان ابھی روبوٹ نہیں بنا۔ اس میں جذبات و احساسات کا وہ آمیزہ ہنوز موجود ہے جس میں رشتہ داریاں، ہمسائیگی، روائتیں اور مل جل کر رہنے کی خاندانی اقدار زندہ و تابندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی میں خودکشی کی طرف جانے کا کوئی رجحان نہیں پایا جاتا۔ اگر کوئی ایک آدھ ہو بھی تو اس کی وجوہ وہ نہیں ہوتیں جو امریکہ، جاپان یا دوسرے یورپی معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔ اس عدم رجحان کی ایک مذہبی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ جو پاکستانی خواتین اور مرد خودکشی کرتے ہیں، اس کے اسباب، ویٹرن امریکیوں کی خودکشی کے اسباب سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہ الگ الگ موضوع ہے!

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگیں 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑیں

جب امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی ایک وجہ اخراجات قرار دی تھی تو اس کا مطلب امریکہ کی طرف سے جنگوں پر اب تک خرچ کیے جانے والے ایک ٹریلین ڈالرز تھے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق، افغانستان اور پاکستان میں جاری جنگوں کے باعث امریکی خزانے کو ہونے والے نقصان کا اندازہ اصل سے بہت کم کر کے پیش کیا گیا ہے۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ’جنگی اخراجات‘ (Costs of War) نامی ریسرچ پراجیکٹ کے مطابق امریکی معیشت کو یہ جنگیں کم از کم 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑی ہیں، بلکہ یہ اخراجات 4.4 ٹریلین ڈالرز تک ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد 2001ء میں افغانستان میں القاعدہ لیڈروں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے امریکی فوجوں کی وہاں روانگی اور دیگر تنازعات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ 2.3 ٹریلین سے 2.7 ٹریلین ڈالر تک ہے۔ اس اسٹڈی کے مطابق اگر ایسی تفصیلات میں جایا جائے، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، تو یہ اخراجات مزید بڑھ جائیں گے، مثلاﹰ ان جنگوں کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کا علاج معالجہ اور 2012ء سے 2020ء تک اٹھنے والے اخراجات وغیرہ۔ کم از کم ایک ٹریلین ڈالرز تو سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے جبکہ کئی بلین ڈالرز ایسے بھی ہیں، جن کو کبھی حساب کتاب میں لایا ہی نہیں جا سکتا۔

اس پراجیکٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کا انسانی حوالے سے نقصان بھی ناقابل تلافی ہے۔ اندازوں کے مطابق 224000 سے 258000 افراد ان جنگوں میں لقمہ اجل بنے۔ ان میں سے ایک لاکھ 25 ہزار شہری تو صرف عراق میں جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ اس تعداد میں ان اموات کا شمار نہیں ہے، جو جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر حالات کے سبب ہوئیں، مثلاﹰ پینے کے صاف پانی سے محرومی، صحت اور خوراک کی عدم دستیابی وغیرہ۔

رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کے باعث 365000 افراد زخمی ہوئے جبکہ 78 لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ تعداد امریکی ریاستوں کنیکٹیکٹ اور کینٹکی کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ Costs of War نامی اس ریسرچ پراجیکٹ میں جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات اور جانی نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے 20 دانشوروں نے مل کر کام کیا۔ اس پراجیکٹ اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کے بارے میں تفصیلات ان کی ویب سائٹ http://www.costsofwar.org پر دستیاب ہیں۔

بشکریہ DW اردو

رپورٹ: افسر اعوان
ادارت: امجد علی

جنگ عظیم دوم : ہٹلر نے پولینڈ کو کیسے تاراج کیا ؟

یکم ستمبر 1939ء، طلوعِ سحر،جنگ کا کوئی اعلان نہ کیا گیا۔ ہٹلر کی زبردست جنگی مشن کی پہلی طوفانی موجیں پولینڈ کی مغربی سرحدوں سے داخل ہوئیں۔ مشرقی پروشیا، پومی رینیا، سلیشیا اور سلوواکیا سے بیک وقت نازی فوجیں شدید تیزی اور تندی سے پیش قدمی کرتی ہوئی وارسا کی طرف بڑھیں۔ دوسری جنگ عظیم کی یہ پہلی بڑی مہم تھی۔ اسے ان حملوں کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے جو آگے چل کر ممالک زیریں اور دیگر پر ہوئے۔ موسم بڑی جنگجو صفوں کے لیے موزوں تھا۔

دریاؤں کا پانی انتہائی پست سطح پر پہنچ گیا تھا اور انہیں عبور کر لینا بہت سہل تھا۔ جرمن فوجوں کی پیش قدمی میں ایک دلدوز صحت و تنظیم نمایاں تھی۔ انہیں دیکھتے ہی 1914ء میں بیلجیم پر جرمن حملے کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔ لیکن 1939ء کی یورش میں ایک خصوصیت تھی۔ اب وہ حالت نہ تھی کہ پیش قدمی کرتے ہوئے سپاہیوں کے بے شمار لشکر دن بھر میں صرف چند میل آ گے جائیں بلکہ برق رفتار جنگ کا یہ پہلا مظاہرہ تھا۔ مشینی دور کے ساتھ فوج کی مطابقت اس پیمانے پر پہنچ گئی تھی، جسے دیکھتے ہی ہوش و حواس گم ہو جاتے تھے۔ حملے کا فارمولا تباہی خیز حد تک سادہ تھا۔

اول، دشمن کی صفوں کے پیچھے پانچویں کالم کے ذریعے سے اپنے لیے راستہ ہموار کر لینا۔

دوم، ایک تیز اور اچانک ضرب کے ذریعے مخالف ہوائی قوت کو زمین ہی پر تباہ کر ڈالنا۔

سوم ہوائی جہازوں کی بمباری سے دشمن کی آمدورفت اور نقل و حمل کے وسائل کو نقصان پہنچانا۔

چہارم فوجی اجتماعات پر بمبار آب دوزوں سے ایسے حملے کرنا کہ ان میں افراتفری پھیل جائے۔

پنجم، سبک رفتار فوجیں، موٹر سائیکلوں پر دستے، ہلکے ٹینک اور موٹروں کے ذریعے سے نقل و حمل کرنے والی توپیں بھیجنا تا کہ تیزی سے دشمن کے علاقے میں گھس جائیں۔

ششم، بھاری ٹینکوں سے کام لینا تا کہ جا بجا وہ مشینی یورشوں کے لیے عقب میں جگہیں بنا لیں۔

سب سے آخر میں باقاعدہ فوج یعنی پیادہ سپاہ کا توپ خانے کے ساتھ آگے بڑھنا تا کہ مزاحمت ختم ہو جائے اور پیادہ فوج ہر اول سے مل جائے۔ اس پوری کارروائی میں فوجی ٹینک ایک کلیدی حربہ تھا۔ یہ پٹڑی والی بکتربند گاڑی تھی جو پہلے پہل انگریزوں نے 1916ء میں استعمال کی تھی، لیکن 1918ء تک اس کی حیثیت صرف اتنی تھی کہ پیش قدمی کرنے والی اس پیادہ فوج کے لیے ایک پناہ کا کام دیتی۔ مگر اب جرمنوں نے ٹینکوں کو توپ خانے کے متحرک بازو کی حیثیت میں استعمال کیا۔ ان جنگی کارروائیوں کا اہتمام جرمنی کے نہایت تجربہ کار فوجی قائدین کے ہاتھ میں تھا۔ جنرل والتھر فان برخش کماندار اعلیٰ تھا۔ جنرل فرینز ہالڈر اس کا چیف آف سٹاف تھا۔ جنرل فان رونسٹاٹ ان تین فوجوں کا کماندار تھا، جو جنوبی سمت سے حملہ کررہی تھیں۔

شمالی سمت سے دو فوجیں حملہ آور تھیں، جن کی کمان جنرل فیڈوفان بوک کے ہاتھ میں تھی۔ اس فوجی قیادت کے شان دار ہونے میں کلام کی کیا گنجائش تھی؟ حملہ آور جرمنوں کی تعداد پولستانیوں سے بہت زیادہ تھی۔ جرمن فوج کی تعداد کے متعلق مختلف لوگوں نے مختلف اندازے لگائے۔ علاوہ بریں مختلف مقاصد کے لیے جو فوجیں استعمال کی گئیں ان کے باب میں بھی اندازے مختلف رہے۔ بہرحال واضح ہوتا ہے کہ متصرف اور محفوظ فوجوں کو شامل کرتے ہوئے کل تعداد دس لاکھ سے زائد تھی۔ آتش بار اسلحہ کی تعداد میں جرمنی کی برتری کا تناسب دو ایک کا تھا لیکن ٹینک دشمن کے مقابلے میں بیس گنا تھے۔

رجسٹروں کے اعتبار سے پولستانی فوج کی تعداد بیس لاکھ تھی مگر اس فوج کی عام نقل و حرکت 31 اگست 1939ء یعنی حملے کے ایک روز پیشتر تک شروع نہ ہوئی۔ جب حملے کا زور بڑھا تو مقابلے پر پولستانی فوج صرف چھ لاکھ تھی۔ نازیوں کی برق رفتار جنگ کا سب سے پہلا منظر ہوائی حملوں کا تھا۔ جرمنوں کی ہوائی فوج پولستانیوں کے مقابلے میں تین گنا تھی۔ چودہ سو ہوائی جہاز جن میں غوطہ خور بمبار جہاز بھی شامل تھے، ان کے مقابلے میں پولستانی ہوائی جہاز صرف ساڑھے چار سو تھے۔ حقیقتاً کوئی ہوائی جنگ نہ ہوئی۔ جرمن حملوں کا مدعا یہی تھا کہ دشمن کے ہوائی جہاز زمین ہی پر تباہ کر دیے جائیں اور دو روز کے اندر اندر پوری ہوائی قوت تقریباً تباہ کر ڈالی۔ اس کے بعد بکتر بند جرمن فوج بے خطر آگے بڑھ سکتی تھی کیونکہ اوپر سے حملے کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا تھا۔

لوئس ایل سنائیڈر

 (ترجمہ: غلام رسول مہر)

شمالی کوریا کا جاپان پر میزائل حملہ

اکثر جاپانی میڈیا شمالی کوریا کی بے قابو جنگی طاقت اور جنگی جنون کے حوالے سے رپورٹس تو دکھاتا ہی رہا ہے جس میں شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ئن کی جانب سے خطرناک میزائلوں اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاریوں کے حوالے سے خبریں جاپانی میڈیا کی ہیڈ لائن میں رہتی ہیں تاہم جاپانی عوام کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ تباہ کن ہتھیار اور خطرناک میزائل جاپان کی جانب بھی رخ کر سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان ایک تو دنیا کا پرامن ملک ہے جو ماضی میں تو کسی سے دشمنی رکھتا ہو لیکن حالیہ زمانے میں جاپان نے ہمیشہ ہی دنیا کے ساتھ امن سے رہنے کی کوشش کی ہے ، پھر امریکہ کی جانب سے جاپان کی سلامتی کی ضمانت اور کسی بھی طرح کے خطرناک میزائلوں حتی کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حملے سے بھی جاپان کو بچانے کا معاہدہ امریکہ اور جاپان کے درمیان موجود ہے.

 یہی وجہ ہے کہ جاپانی عوام چین کی نیند سوتے رہے لیکن گزشتہ رات یہ چین کی نیند بے بسی میں تبدیل ہو گئی جب شمالی کوریا نے جاپان کی جانب ایک خطرناک میزائل فائر کیا جو جاپان کی سمندری حدود سے ہوتا ہوا اس کے سمندری علاقے ہکائیدو میں گر کر تباہ ہو گیا ، شمالی کوریا کی غیر مہذب حرکت نے جاپانی حکومت اور عوام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ، رات دو بچے اچانک جاپانی شہریوں کے موبائل فون پر میزائل حملے کی اطلاع اور حفاظتی اقدامات کرنے کے پیغامات نے ان کو نیند سے جھنجھوڑ کر رکھ  دیا ، ایسے الارم اور پیغامات عموماََ زلزلوں کے حوالے سے موصول ہوتے ہیں۔ جاپانی حکومت کے لئے بھی یہ ایک پریشان کن امر تھا ، کیونکہ جاپانی حکومت اپنے عوام کی سلامتی کو بہت عزیز رکھتی ہے اور شمالی کوریاکے میزائل کا جاپانی سرحدوں سے گزر جانا کہیں دفاعی ناکامی تو نہیں ہے اس حوالے سے جاپانی حکومت کا رد عمل سامنے آنا باقی ہے.

گزشتہ دنوں ہی جاپانی قومی ٹی وی چینل نے شمالی کوریا کی جانب سے تیار کئے گئے میزائلوں کے حوالےسے ڈاکیومنٹری پروگرام نشر کیا تھا جس میں شمالی کوریا کے میزائلوں کی جدیدیت اور کسی بھی حملے میں انھیں جاپان کی جانب داغے جانے کے بعد جاپانی رد عمل کے حوالے سے بھی بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والے کسی بھی میزائل کا جاپانی اور امریکی ریڈار فوری طور پر پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور شمالی کوریا سے جاپان کی جا نب پہنچنے میں میزائل کو کم سے کم نو منٹ کا عرصہ درکار ہو گا اتنی دیر میں جاپان میں نصب دفاعی میزائل نظام حرکت میں آ جائے گا اور آنے والے میزائل کو مار گرایا جائے گا جبکہ پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جاپان نے دفاعی میزائل نظام نہ صرف اپنی سمندری حدود میں بلکہ اہم شہرو ں میں بھی نصب کر رکھا ہے جو فوری طور پر حرکت میں آئے گا اور شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی حدود میں داخل ہونے والے کسی بھی میزائل کو مار گرائے گا.

اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سےآنےوالا میزائل جاپانی سمندری حدود میں فضا میں تباہ ہو کر تین ٹکڑوں میں سمندر میں گرا ہے جس سے لگتا ہے کہ شاید شمالی کوریا کے اس میزائل کو جاپانی دفاعی میزائل سسٹم کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ، اس حوالے سے جاپان میں شہری دفاع کے ادارے بھی بھرپور کام کر رہے ہیں ، جاپانی حدود میں میزائل کے داخلے کے ساتھ ہی ملک بھر میں سائرن بجا دئیے گئے ، میزائل حملے کی اطلاع اور اس سے بچائو کی معلومات بھی عوام کو موبائل فون کے ذریعے فراہم کی گئیں۔

امن کے دنوں میں جاپانی سرکاری ادارے اپنے عوام کو زلزلوں اور میزائل حملوں سے بچنے کی مشقیں کراتے رہتے ہیں جس سے عوام ذہنی طور پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے لئے تیار رہتے ہیں اور گھروں میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کا کچھ نہ کچھ سامان بھی ضرور رکھتے ہیں جیسے پانی ، خشک خوراک و میڈیکل دوائیں وغیرہ ۔ یہ تو جاپانی عوام کی مشکل حالات سے نمٹنے کی تیاری کی بات تھی جہاں تک جاپانی حکومت کی بات ہے تو حملے کے فوری بعد جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے امریکی صدر سے شمالی کوریا کے میزائل حملے پر خصوصی گفتگو کی اوردونوں ممالک نے شمالی کوریا کی اس حرکت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان جسے عالمی سلامتی کے لئے ممکنہ خطرہ قرار دیتا ہے اس کے لئے تو اپنی فوجیں بھی افغانستان بھجوا رہا ہے لیکن پاکستان جیسے دوست ملک جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار جانوں کی قربانیاں دیں ، سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار بھی نبھایا ایسے دوست کو امریکہ کھونے کو تیار ہے جبکہ دوسری جانب شمالی کوریا جیسا ملک جو امریکہ کے قریبی اتحادی جاپان (جس کی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ نے اٹھا رکھی ہے اسکےعوض سالانہ اربوں ڈالر بھی وصول کرتا ہے) کی سلامتی کے لئے حقیقی خطرہ ثابت ہو رہا ہے ، اس پر میزائل حملہ کر دیتا ہے اور امریکہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ شمالی کوریا امریکہ کو خطے میں اپنی فوجیں رکھنے کا جواز فراہم کر رہا ہے اس سے جاپان اور جنوبی کوریا کو ڈرا کر امریکہ اپنی افواج خطے میں رکھنے کے ساتھ ان ممالک سے بھاری معاوضہ بھی وصول کرتے رہنا چاہتا ہے ورنہ شمالی کوریا جیسے ملک کی قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا امریکہ کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، جب امریکہ یمن ، شام ، لیبیا ، عراق جیسے ممالک کے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کر سکتا ہے تو شمالی کوریا کی حکومت کی تبدیلی فوجی آپریشن جیسے اقدام امریکہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں لیکن نہ امریکہ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ کوئی مجبوری.

دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے امن پسندی کے جس راستے کا انتخاب کیا وہ اسے ترقی کی معراج تک تو ضرور لے گیا لیکن جاپان کی صرف تعلیم اور صنعتی ترقی نے جاپان کی مخالفت اور تاریخی دشمنیا ں دل میں رکھنے والے بہت سے دشمن ممالک کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اس کو بلیک میل کرنے کا راستہ بھی فراہم کر دیا ہے تاہم اب جاپانی عوام کو احساس ہو رہا ہے کہ صرف تعلیم اور صنعت کے میدان میں ترقی کافی نہیں بلکہ اپنی اور اپنے عوام کی حفاظت کے لئے مضبوط فوجی طاقت ہونا بھی ضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاپانی حکومت دفاع میں خود کفیل ہونے کا فیصلہ کب کرتی ہے۔

محمد عرفان صدیقی

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کی جاپان پر پرواز

شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والا ایک میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزرا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جنوبی کوریا کی مسلح افواج کے مطابق شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا جس نے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا جانے والا نیا میزائل 550 کلومیٹر کی بلندی تک گیا اور 2700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شمالی بحرالکاہل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

اس تجرباتی پرواز کے دوران میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکیڈو کے اوپر سے بھی گزرا جس نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا تیسرا اور پیانگ یانگ کے کسی میزائل کے جاپان کی حدود سے گزرنے کا پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 1998ء اور 2009ء میں شمالی کوریا کے راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرے تھے لیکن دونوں بار شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ راکٹ مصنوعی سیارے خلا میں لے جا رہے تھے۔ شمالی کوریا نے یہ نیا میزائل تجربہ ایسے وقت کیا ہے جب اس کے قریبی سمندر میں امریکہ اورجنوبی کوریا کی افواج کی جنگی مشقیں جاری ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے حالیہ چند ماہ کے دوران میزائل تجربات تیز کر دیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تیزی سے اپنے بین البراعظمی میزائل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رواں سال شمالی کوریا اب تک 13 میزائل تجربات کر چکا ہے اور اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی شدید مذمت اور پابندیوں کے باوجود اس کی جانب سے میزائل تجربات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ منگل کے تجربے اور اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جاپان نے سخت مذمت کی ہے۔

جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی یہ حرکت ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جو اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاپان کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ جاپانی حکام نے کہا ہے کہ میزائل کی ہکیڈو کے اوپر پرواز سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ میزائل کی پرواز سے قبل جزیرے کے رہائشیوں کو ان کے موبائل فونز پر “خطرے” کا پیغام بھیج دیا گیا تھا جن میں لوگوں سے گھروں میں رہنے کی درخواست کی گئی تھی۔
خطے میں امریکہ کے دوسرے بڑے اتحادی اور شمالی کوریا کے پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے میزائل تجربے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پیانگ یانگ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو اس کےخلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ سے ’قاتل روبوٹس‘ کی تیاری پر پابندی لگانے کا مطالبہ

روبوٹکس کے 100 سے زیادہ ماہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘قاتل روبوٹس’ کی ایجاد پر جاری منصوبے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ارب پتی ایولن مسک سمیت مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے سو سے زائد ماہرین نے خط میں اقوام متحدہ ‘جنگی صلاحیتوں میں تیسرے انقلاب’ سے خبردار کیا ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘یہ خطرناک خودکار’ ٹیکنالوجی ایک پینڈورا باکس ہے جس کے کھلنے سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور اس سے مقابلہ کرنے کے لیے وقت بہت کم ہے۔ ان 116 ماہرین نے ہتھیاروں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔  اس خط میں جلد سے جلد قدم لینے کی درخواست کی گئی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا کہ ‘ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ایک دفعہ یہ پینڈورا باکس کھل گیا تو اس کا بند ہونا مشکل ہے۔’

ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ہتھیاروں کی یہ ٹیکنالوجی ‘اخلاقی طور پر غلط’ ہے. چنانچہ ان پر اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت پابندی لگائی جائے۔ اقوام متحدہ کا ایک نامزد گروپ خودکار ہتھیاروں پر گفتگو کے لیے پیر کو ملاقات کرنے والا تھا لیکن اب یہ میٹنگ نومبر میں ہو گی۔ اقوام متحدہ کی کمیٹیاں اس سے پہلے بھی قاتل روبوٹس کی تیاری اور اس پر پابندی لگانے کے بارے میں غور کر چکی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2015 میں بھی ہزار سے زیادہ ماہرین نے اقوام متحدہ کو خط میں خودکار ہتھیاروں کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

قاتل روبوٹ کیا ہے؟
قاتل روبوٹ ایک خودکار ہتھیار ہے جو انسانی مدد کے بغیر اپنے ہدف کو چن سکتا ہے اور نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ روبوٹ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔ ان ہتھیاروں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی قوانین کی مدد سے ان خودکار روبوٹس کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار انسانیت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

پچیس سال بعد بھی بوسنیا کی جنگ کے زخم تازہ ہیں

بوسنیا کی لڑائی کو 25 سال گزر گئے ، لیکن اس کے زخم ان مائوں کے لئے آج بھی تازہ ہیں جن کے جوان بیٹے اور جوان بیٹیاں جنگ کی نذر ہو گئیں ۔ اس جنگ کا ماجرہ کچھ یوں ہے کہ یوگوسلاویہ بکھرنے کے بعد سربیا، کروشیا اور سلووینیا میں لڑائی چھڑی ہوئی تھی کہ بوسنیا ہرزیگووینا نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ بوسنیا ہرزیگووینا میں سرب عیسائی، کروٹس اور بوسنیک مسلمان مل کر رہتے تھے تاہم مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد سربیا کی مملکت بوسنیا کو بھی اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتی تھی۔ بلغراد کے انتہا پسند چاہتے تھے کہ ’’گریٹ سرب ‘‘ریاست قائم کریں اور جہاں جہاں سرب رہتے ہیں وہ ان کی سرزمین ہو۔ 3 مارچ 1992 ء میں بوسنیا کے عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا اور علی جاہ عزت بیگووچ کو صدر منتخب کیا۔ حارث سلاجک وزیر اعظم بنے ۔

آزادی کا اعلان ہوتے ہی مسلمان صدر علی جاہ عزت بیگوچ اور ان کی وفادار فوجوں کیخلاف سربیا کی حکومت نے اپنی فوجیں بوسنیا میں داخل کر دیں۔ سرب آبادی نے آزادی کے ریفرنڈم کی مخالفت کی تھی اور سرب ڈیموکریٹک پارٹی نے سرب فوج کی مدد کی۔ مسلمان فوج انتہائی قلیل اور جدید اسلحہ سے محروم تھی جبکہ سربیا ایک طاقتور ریاست تھی ۔ اس کی افواج نے بوسنیا میں داخل ہوتے ہی نسل کشی کا آغاز کر دیا۔ مئی 1992 ء سے لے کر اگست 1992 ء تک بوسنیا کے شہر پریجیڈور میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس قتل عام میں اومارسکا کیمپ کی داستان بھی شامل ہے۔ رزاق ہوکانووک جو کہ اومارسکا کیمپ میں قید رہے اور اب تک زندہ ہیں کا کہنا ہے کہ پریجیڈور زندہ دل لوگوں کا شہر تھا۔ چرچ اور مساجد آمنے سامنے تھے  لوگ آپس میں مل جل کر رہتے تھے، ایک دوسرے کی شادیوں اور جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔ بوسنیا میں سربوں نے بوسنین سرب ملٹری اور پولیس کے نام سے مختلف علاقوں کا کنٹرول سنبھال کر بوسنیک مسلمانوں اور کروٹس کو گھروں سے بے دخل کرنا شروع کر دیا ۔ جو مزاحمت کرتا اسے مار دیا جاتا اور باقیوں کو قید کر کے مختلف کیمپوں میں رکھا جانے لگا۔

اس وقت کے پریجیڈور کے جج اور کیمپ میں بچ جانیوالے نصریتا سیواچ کے مطابق مئی کے ابتدائی دنوں میں سرب فوج اور سرب ڈیموکریٹک پارٹی نے بوسنیک اور کروٹس منتخب نمائندوں کو ان کے عہدوں سے الگ کر کے دفاتر سے نکالنا شروع کر دیا۔ بوسنیا میں سینکڑوں کیمپ قائم کر دیئے گئے جہاں نان سرب آباد ی (بوسنیک اور کروٹس) کو قید کر کے رکھا گیا لیکن اومارسکا کا کیمپ اس لئے زیادہ بدنام ہوا کہ اس میں قید زیادہ تر افراد کو قتل کر دیا گیا۔ باپ کو بیٹے کے سامنے اور بیٹے کو باپ کے سامنے مارا گیا۔ کیمپوں میں قید افراد کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا گیا۔ جب ایک برطانوی صحافی ایڈولیامی نے ان کیمپوں کا دورہ کیا تو اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ قیدیوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی اور وہ بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے تھے اور ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات عام تھے۔

بوسنیا کی جنگ کے دوران جہاں پر عام شہریوں کو قیدی بنا کر رکھا گیا ان میں اومارسکا کا کیمپ بدنام زمانہ کیمپ تھا کیونکہ یہاں قیدیوں کو جانوروں کی طرح رکھا گیا اور وہ تکالیف پہنچائیں گئیں کہ انسانیت شرما گئی۔ اومارسکا مائینز کمپلیکس پریجیڈور ٹائون سے باہر 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ سب سے پہلے عام شہریوں کو قیدی بنا کر مئی 1992 کے آخر میں اسی کیمپ میں لایا گیا۔ مسلمان قیدیوں کو عموماً رائفلز کے بٹوں سے یا آہنی سلاخوں سے مارا پیٹا جاتا۔ اومارسکا کمپلیکس کی دونوں عمارتیں قیدیوں سے کچھا کھچ بھری ہوئی ہوتی تھیں۔ خواتین قیدیوں کو الگ انتظامی بلاک میں رکھا گیا۔ اس کیمپ میں تقریباً تین ہزار سے زائد قیدیوں کو ٹھونسا گیا تھا۔ صفائی کے ناقص انتظام اور دن میں ایک وقت کھانا ملنے سے کئی قیدی بیمار پڑ کر دم توڑ گئے۔ کئی قیدیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مار دیا جاتا۔

 طیب رضا عابدی

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔