ٹرمپ کا مسلمانوں پر سفری پابندی سے متعلق بیان پر معافی مانگنے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے سے متعلق اپنے بیان پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجریا کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے درمیان امریکی امیگریشن پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کمزور، قابل رحم، اور متروک قرار دیا۔ انہوں نے اپنی صدارتی مہم 2016 کے دوران مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے کے نعرے پر معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر سفری پابندی سے متعلق بیان میں ایسا کچھ منفی نہیں جس پر معافی مانگی جائے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ حکومت اپنے ملک کی حفاظت کے لیے مضبوط اور فول پروف امیگریشن نظام رکھتی ہے۔ میرے معافی مانگنے سے بھی کچھ نہیں ہو گا کیوں کہ امیگریشن سے متعلق قوانین اپنی جگہ موجود رہیں گے جسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ دنیا ہماری پالیسی پر ہنستی ہے اور ہماری نرمی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگ امریکا میں داخل ہوتے ہیں اور امریکا کو ہی آنکھیں دکھاتے ہیں جیسے میکسیکو سے امریکا میں ہونے والی ہجرت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امیگریشن کے حوالے سے اپنے سخت اور نفرت آمیز موقف کے باعث مقدمات کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کے بعد انہیں اپنے مقدمات میں مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Advertisements

Hopes of peace run high ahead of Korean summit

South Korean President Moon Jae-in (R) and North Korean leader Kim Jong-un (L) met at the Military Demarcation Line of the truce village of Panmunjom, South Korea. Kim Jong-un is the first North Korean leader to enter South Korea since the end of the Korean War in 1953.

 

 

 

 

 

 

 

 

تاریخ میں بچوں کی سب سے بڑی قربانی کی باقیات دریافت

لاطینی امریکی ملک پیرو کے شمال ساحلی علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ کو ایک ایسی قبر ملی ہے، جس میں کم سے کم 140 بچوں اور وہاں کے ایک مقامی جانور کی باقیات ملی ہیں۔ اس دریافت کے حوالے سے ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر انسانی تاریخ میں بچوں کی سب سے بڑی قربانی کی باقیات ہوں گی۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ شمالی پیرو کے شہر تروہلو کے قریب کی گئی کھدائی کے دوران ملنے والی اجتماعی قبر شموو تہذیب کے کھنڈرات سے ملی ہے۔ اس قبر میں کم سے کم 140 بچوں کی باقیات ملی ہیں، جن میں سے زیادہ تر بچوں کی عمروں کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی عمریں 12 سال کے درمیان ہوں گی، تاہم ان میں اس سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے اندازوں کے مطابق بچوں کی یہ قربانی کم سے کم 550 سال قبل انسانی قربانی کے تہوار کے دن پر کی گئی ہو گی، تاہم اس حوالے سے مستند شواہد نہیں ملے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان بچوں کو شموو تہذیب کے لوگوں نے ہی قربان کیا ہو گا، جن کے ہاں ایسی رسومات رائج تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 5 یا 6 صدی قبل اس وقت لاطینی امریکا میں نہ صرف شموو بلکہ دیگر بڑی تہذیبوں یا بادشاہتوں میں بھی انسانی قربانی کرنے کی رسومات پائی جاتی تھیں۔ ماہرین کے مطابق کھدائی کے دوران اجتماعی قبر سے دریافت ہونے والی بچوں کی باقیات پر سرخ رنگت بھی موجود ہے، جس متعلق خیال ہے کہ وہ خون ہو گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی باقیات کے ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں خاص مہارت یا رسم کے مطابق قربان کیا گیا۔ ماہرین نے بتایا کہ قبر سے بچوں کی باقیات کے علاوہ لاطینی امریکا کے جانور لاماز کی باقیات بھی پائی گئیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جانوروں اور انسانوں کو ایک ساتھ قربان کیا جاتا رہا۔ خیال رہے کہ پیرو میں سب سے پہلے 7 سال قبل 2011 میں ایک تاریخی عبادت گاہ کی کھدائی کے دوران بھی 40 انسانوں اور لاماز جانوروں کی باقیات ملی تھیں، جس کے بعد وہاں اس طرح کی تحقیقات کو مزید تیز کر دیا گیا تھا۔ سات سال قبل یہ بھی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ انسانی قربانی سب سے پہلے لاطینی امریکا کے اس خطے میں شروع ہوئی، تاہم تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کہاں کوریا اور کہاں ہم لوگ

چار دن سے میں سوشل میڈیا پر پڑھ پڑھ کے اوبھ گیا ہوں کہ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں فاتح سوویت یونین اور امریکا کی بٹر نائف کے ذریعے جزیرہ نما کوریا کی دو حصوں میں تقسیم، اس تقسیم کے نتیجے میں بڑھنے والی دو طرفہ غلط فہمیوں اور ایک دوسرے کو بزور طاقت متحد کرنے کے شبہے میں انیس سو پچاس سے تریپن تک ہونے والی خونریز جنگ میں دس لاکھ کوریائیوں کی ہلاکت، اور بعد کے پینسٹھ برس میں ایک دوسرے کو نیست و نابود اور جلا کر راکھ کردینے کی ان گنت دھمکیوں، دونوں کوریاؤں کو تہتر برس سے بانٹنے والی خارداری لکیر (اڑتیس عرض البلد) کے دونوں طرف کے ایک ایک انچ پر سپاہیوں کے پہرے اور لاؤڈ اسپیکرزکے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف نظریاتی تبلیغ اور جوش و غصہ دلانے والے گیتوں کی دن رات کان پھاڑ آواز کے بعد بھی اگر شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ ان اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دشمنی کا لامتناہی سلسلہ ختم کرنے کے لیے ایک نہ ایک دن کیمروں کے سامنے ہاتھ تو ملانا ہی پڑتا ہے تو پھر انڈیا پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

خواہشات اپنی جگہ مگر کوریا کی مثال پاک بھارت تعلقات پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ اس بارے میں خامخواہ آس امید کی دلدل میں غوطے کھانے سے خود کو نہ تھکانا زیادہ بہتر ہے۔ سبب یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کو دو الگ الگ خودمختار ممالک کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور ان میں سے کسی ملک کا دوسرے ملک پر کوئی ملکیتی دعویٰ نہیں۔ جب کہ کوریا کے دونوں حصے خود کو پورے جزیرہ نما کی قانونی حکومت سمجھتے ہیں۔ ان کی مثال دوسری عالمی جنگ کے بطن سے پیدا ہونے والے مشرقی اور مغربی جرمنی جیسی ہے۔ جنھیں سرد جنگ کی ضرورتوں نے الگ الگ خانوں میں رکھا اور جیسے ہی سوویت یونین ٹوٹنے کے عمل میں سرد جنگ کی اٹھائی دیوار میں شگاف پیدا ہوا تو دونوں حصوں نے پہلی فرصت میں خود کو ایک متحدہ جرمنی میں ڈھال لیا۔ شمالی و جنوبی کوریا بھی یہی چاہتے ہیں۔ پہلے طاقت کے بل پر اب شائد بات چیت کے بل پر۔

جس دن بھی دونوں کوریاؤں نے متحد ہونے کا سنجیدگی سے فیصلہ کیا اس دن مرحلہ وار روڈ میپ پر بھی کام شروع ہو جائے گا۔ کام آسان نہ ہو گا۔ کیونکہ دونوں خطوں کی موجودہ نسل الگ الگ نظریاتی سانچوں میں ڈھلی ہے۔ معاشی فرق بہت زیادہ ہے۔ لہذا اتحاد کے بعد بھی ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لیے ایک اور نسل تک کا سفر درکار ہے۔ وہ بھی اس شرط پہ اگر کوریا کی سابق نوآبادیاتی طاقت جاپان (جس نے انیس سو دس سے انیس سو پینتالیس تک کوریا کو اپنی کالونی بنا کے رکھا ) ، کوریا کی تقسیم کرنے والی فاتح طاقتیں امریکا اور روس اور شمالی کوریا کے روایئتی اتحادی چین نے کوریائی اتحاد کو اپنے الگ الگ مفادات کے لیے شطرنج کی علاقائی بساط میں تبدیل کرنے اور مشرقِ بعید کا افغانستان بنانے کی کوشش نہ کی۔

فی الحال تو دونوں کوریاؤں کا زور اس پر ہے کہ جزیرہ نما ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دے دیا جائے۔ اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے مشروط یا غیر مشروط انداز میں دستبردار ہونے پر آمادہ ہو گیا تو پھر جنوبی کوریا بھی امریکی فوجوں کی اپنے ملک سے واپسی کا مطالبہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
کوریا کے دونوں حصوں کے تعلقات معمول پر لانے کا موازنہ بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات و حالات سے کرنا اس لیے بھی درست نہ ہو گا کیونکہ بھارت اور پاکستان کے برعکس شمالی کوریا کے کیمونسٹ اور جنوبی کوریا کے سرمایہ دارانہ ریاستی نظریے اور معاشی ترقی کے فرق کے باوجود دونوں کوریاؤں کی زبان، نسل، رنگ ، مذہبی رجحانات ، کھانا پینا اور تاریخ اپنے خمیر میں ایک ہی جیسی ہے۔ سوچئے اگر شمالی کوریا میں مسلمان اور جنوبی کوریا میں ہندو اکثریت ہوتی تو آج دو ہزار اٹھارہ کی دنیا میں تہتر برس پرانی تقسیم کو لے کر وہ ایک دوسرے کے بارے میں کس طرح سوچ رہے ہوتے ؟

اس کے علاوہ طبیعت اور نفسیات میں بھی نمایاں فرق ہے۔ کورینز کی ناک ایسی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آسانی سے ملا سکتے ہیں۔ جب کہ بھارت اور پاکستان کی ناکیں اتنی لمبی ہیں کہ کٹ تو سکتی ہیں مل نہیں سکتیں، ٹوٹ سکتی ہیں پر نیچی نہیں ہو سکتیں۔ کورینز میں بہت زیادہ مونچھیں رکھنے کا بھی رواج نہیں لہذا ان کی زبان میں شائد مونچھ اونچی اور نیچی کرنے کا محاورہ نہ ہو اور وہ باآسانی تعلقات کا پلِ صراط عبور کر پائیں۔ اس کے برعکس اپنے ہاں تو سرحد کے دونوں طرف بھلے عسکری پالیسی ہو کہ خارجہ پالیسی، دونوں کی دونوں تاؤ زدہ مونچھوں سے لٹکی ہوئی ہیں اور بیچ میں کشمیر کا پتھر الگ سے گڑا ہوا ہے۔

تو کیا اتنی لمبی ناکوں اور کڑکیلی مونچھوں کے باوجود ہم دو نارمل ممالک کی طرح نہیں رہ سکتے ؟ جیسے چین اور جاپان ، جیسے فرانس اور جرمنی ، جیسے امریکا اور ویتنام یا امریکا اور کیوبا۔ ہم بالکل نارمل انداز میں رہ سکتے ہیں مگر کیوں رہیں ؟ اس کے بعد زندگی میں بوریت کے سوا کیا بچے گا۔ باقی دنیا اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا۔ ویسے بھی غالب بھارت اور پاکستان کی مشترکہ میراث ہے اور غالب نے کورینز کے لیے نہیں اپنے آجو باجو والوں کے بارے میں ہی فرمایا ہے کہ

چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد
گر نہیں وصل عداوت ہی سہی

کورینز کا تو صرف ایک مسئلہ ہے یعنی اوپر سے تھوپی گئی تقسیم۔ ہمارے پاس تو ایک سے بڑھ کر ایک خونی سرحدی و تاریخی شخشخا اور پنج شاخہ ہے ، ایٹمی ہتھیار ہیں ، اکھنڈتا کا جن سنگھی نظریہ ہے، بھارت فتح کرنے کا جہادی نظریہ ہے، را ہے، آئی ایس آئی ہے، افغانستان کی شطرنج ہے، وہاگہ اٹاری سرحد پر ہر شام منعقد ہونے والی جناتی دھمک سے لتھڑی گھورم گھاری والی سینہ و مکہ تانی پریڈ ہے۔ خدانخواستہ کہیں مسائل واقعی حل نہ شروع ہونے ہو جائیں، اس نوبت سے بچنے کے لیے سیول اور پیانگ یانگ کے برعکس دلی اور اسلام آباد کے پاس ایک دوسرے سے ملاقات نہ کرنے کے سو بہانے ہر وقت تیار ہیں، طنز کے زہریلے تیر ترکش میں بھرے رہتے ہیں، اپنی اپنی موجودہ اور اگلی نسلوں کو الو بنانے کے لیے نقلی یا ملاوٹی تاریخ اور قصے گھڑنے والی بیسیوں دانشورانہ فیکٹریاں ہیں۔ ان میں سے کئی تو تین تین شفٹوں میں چلتی ہیں۔ کورینز کے پاس کیا ہے ؟ لکیر کے آرپار پتھرائی آنکھوں والی بوڑھی ماؤں ، باپوں ، قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے اپنے سرحد پار بھائیوں، بیٹیوں یا لگڑ پوتوں کی ایک جھلک دیکھنے کی حسرت کے سوا ؟ لہذا کہاں کورینز کہاں ہم۔ ان کی دشمنی صنعتی سماج ہونے کے باوجود زرعی انداز کی ہے، ہماری دشمنی زرعی سماج ہونے کے باوجود صنعتی ہے۔

وسعت اللہ خان

گدھ۔ ، جس کی نسل اب ختم ہوتی جا رہی ہے

گدھ کو انگریزی میں ولچر کہتے ہیں۔ یہ مردہ خور پرندہ ہے جو بلند پرواز بھی کرتا ہے۔ گدھ کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک گروپ میں کیلی فورنیا اور انڈین کانڈرس گدھ کو رکھا گیا ہے۔ اولذکر گروپ شمالی اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے جبکہ آخری گروپ جسے اولڈ ورلڈ ولچر سے موسوم کیا گیا ہے یورپ ، افریقہ اور ایشیائی ممالک میں پایا جاتا ہے یہ ہندوستان کے ریگستانی، صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مردار خور گدھ کی چونچ موٹی سخت اور سامنے مڑی ہوئی ہوتی ہے۔ چونچ کے اوپر سانس لینے کیلئے دونوں جانب سوراخ ہوتے ہیں۔

مردار خور گدھ کا سر بھی ہوتا ہے سر کے کسی قدر نیچے کی جانب دونوں طرف آنکھیں ہوتی ہیں جو دو الگ اطراف میں دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ایک شکاری پرندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عموماً صحت مند جانوروں پر حملہ یا شکار نہیں کرتے بلکہ بیمار اور لاغر جانوروں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ گدھ کے پر بڑے ہوتے ہیں جو بلندی سے اترنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں سونگھنے کی صلاحیت یعنی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ گروپ کی شکل میں غذا کھاتے ہیں جب کسی جانور کی نعش دکھائی دیتی ہے تب گدھ کا جھنڈ وہاں اتر پڑتا ہے۔

یہ ایک ایسا پرندہ ہے جو مردار کے اندورنی اعضاء جیسے آنت ، جگر اور دل بھی شوق سے کھاتا ہے۔ اس پرندے کو بلندی پر مردار کی بو پہنچ جاتی ہے۔ جو کہ اس کے سونگھنے کی ایک بہترین صلاحیت ہے۔ جب گدھ غذا کھا لیتا ہے تو اسے ہضم کرنے کے لئے سو جاتا ہے یا نیم خوابیدہ حالت میں رہتا ہے۔ گدھ کو صفائی کرنے والا پرندہ کہا جاتا ہے یعنی جنگلوں میں مردار جانوروں کو یہ پرندے تھوڑی دیر میں ہی چٹ کر جاتے ہیں۔ گدھ کی نسل اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ان پرندوں کی بقاء کے لئے محکمہ جنگلات جہدو جہد میں مصروف ہے ۔

ابراہیم احمد

’’گوگل‘‘ : کامیابی کے سفر کی دلچسپ کہانی

گوگل کی بنیاد امریکی ’’لیری پیج‘‘ اور روسی نژاد امریکی ’’سرگے برن‘‘ نے رکھی۔ دونوں سٹین فورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے۔ جنوری 1996ء میں انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی منصوبے کے تحت ایک ’’ویب سرچ انجن‘‘ بنایا۔ اس منصوبے کو بیک رب (BackRub) کا نام دیا۔ ایک سال سے زائد عرصہ تک بیک رب سٹین فورڈ یونیورسٹی کے سرور پر ہی چلتا رہا۔ 15 ستمبر 1997ء کو اسے گوگل ڈاٹ کام پر منتقل کر دیا گیا۔ گوگل کو سب سے پہلا فنڈ اگست 1998ء میں ایک لاکھ ڈالر کا ملا، جو کہ ’’سن مائیکرو سسٹمز‘‘ کے شریک بانی اینڈی نے دیا۔ اس کے بعد 4 ستمبر 1998ء کو باقاعدہ گوگل کمپنی کیلیفورنیا میں رجسٹرڈ ہوئی۔

شروع 1999ء میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب گوگل کے بانیوں (لیری اور سرگے) کو محسوس ہوا کہ گوگل ان کا بہت زیادہ وقت لے رہا ہے اور اس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے گوگل بیچنے کا سوچا اور ’’ایکسائیٹ‘‘ کے چیئرمین جارج بل کو دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل فروخت کرنے کی پیشکش کی، مگر جارج نے یہ سودا ٹھکرا دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد 7 جون 1999ء کو چند بڑے سرمایہ کاروں اور دو ’’ونچر کیپیٹل فرمز‘‘ کی طرف سے گوگل کے لئے 25 ملین ڈالر کی مرحلہ وار سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ سرمایہ کاری گوگل کے لئے اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔

اس کے بعد گوگل نے ایسے ترقی کی کہ پہلے جو کمپنی خود فروخت ہو رہی تھی اب وہ دوسری کمپنیوں کو خریدنے لگی۔ گوگل (Google) کا نام لفظ Googol کی بنیاد پر رکھا گیا تھا۔ Googol ایک بہت بڑے عدد کو کہتے ہیں۔ ایسا عدد جس میں ایک کے ساتھ سو صفر لگتے ہیں یعنی دس کی طاقت سو۔ لفظ گوگل بنا تو Googol سے ہی ہے مگر اس بننے کے متعلق کئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ گوگل میں سب سے پہلے سرمایہ کاری کرنے والے نے لیری اور سرگے کو جو پہلا چیک دیا اس پر اس نے غلطی سے Googol کی بجائے Google لکھ دیا تھا۔ چیک درست کرانے کی بجائے لیری اور سرگے نے Google کو ہی بہتر جانا اور اسی نام سے کمپنی رجسٹرڈ کرا لی۔

ایک کہانی یہ بھی سننے کو ملتی ہے کہ جب ویب سائیٹ کا نام (ڈومین نیم) رجسٹر کرانے لگے تو نام ٹائیپ کرنے والے نے غلط سپیلنگ لکھ دیئے۔ جس پر لیری نے کہا کہ ’’پاگل! تم نے سپیلنگ غلط لکھ دیئے ہیں مگر کوئی بات نہیں کیونکہ Googol.com پہلے سے ہی رجسٹر ہے اور ہمیں نہیں مل سکتا۔ اس لئے Google.com ہی بہتر ہے۔‘‘ خیر نام رکھنے کے متعلق اول الذکر بات میں صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ googol.com ویب سائیٹ 1995ء سے ہی رجسٹر تھی۔ اب ایک کمپنی جس کی بنیاد ہی انٹرنیٹ ہو تو اس کمپنی کے نام کی ویب سائیٹ ملنا سب سے پہلی بات ہوتی ہے۔

یقینا گوگل کے بانیوں نے بھی ویب سائیٹ ملنے نہ ملنے کی بنیاد پر نام رکھنا تھا۔ ویسے مؤخر الذکر کہانی میں کچھ کچھ صداقت معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیری اور سرگے نام تو Googol ہی رکھنا چاہتے تھے مگر جب انہیں معلوم ہوا ہے کہ اس نام کی ویب سائیٹ پہلے سے رجسٹر ہو چکی ہے تو انہوں نے اس کے سپیلنگ میں تبدیلی کر کے Google کر لیا۔ ویسے نام کے متعلق گوگل نے اپنی ویب سائیٹ پر لکھا ہوا ہے کہ یہ نام لفظ Googol کی بنیاد پر اس لفظ میں ترمیم کر کے Google رکھا گیا۔

فواد حسن

امریکا، چین اقتصادی جنگ کے عالمی تجارت پر اثرات

ایک دور تھا جب دنیا بھر میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور دنیا دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم تھی۔ اس وقت ایک مرد قلندر سید ابولاعلی مودودی نے کہا تھا کہ ’’ایک دور آئے گا جب اشتراکیت کو ماسکو اور سرمایہ دارانہ نظام کو واشنگٹن میں پناہ نہ ملے گی‘‘۔ اشتراکیت تو سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی زمین بوس ہو گیا اور دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کو واحد معاشی نظام کے طور پر قبول کر لیا گیا لیکن 2008ء میں آنے والے مالیاتی بحران نے سرمایہ داری کے ستونوں پر لرزہ طاری کر دیا اور اس میں دراڑ پڑنی شروع ہو گئیں۔

پھر چین دنیا کی اقتصادی طاقت کے طور پر اُبھرنے لگا اور رفتہ رفتہ یورپ و امریکا کی مارکیٹوں پر چھا گیا۔ وال مارٹ جیسا امریکی ادارہ چینی اشیا سے بھر گیا اور امریکی چینی اشیا کے ایسے ہی عادی ہو گئے جیسے کسی زمانے میں گراں خواب چینی افیون کے عادی تھے۔ ایک امریکی اوسطاً روزانہ دس چینی اشیا استعمال کرتا ہے۔ وہ صبح اُٹھ کر جس بلیڈ سے شیو کرتا ہے وہ چینی ہوتا ہے، ناشتے کی میز پر کراکری سمیت متعدد اشیا چینی، دفتر میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری و دیگر سامان چینی، باتھ روم میں استعمال ہونے والے سامان چینی۔ اس صورت حال نے امریکیوں کو شدید پریشانی کا شکار کر دیا۔ کوئی صورت ایسی نظر نہیں آرہی تھی جس سے چینی اشیا سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر کار آمد ہو سکے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عالمی اقتصادی شطرنج کی بساط پر سرمایہ داری کی بنیاد رکھنے اور آزاد تجارت کے تصور کو متعارف کرانے والے ممالک اب اس سے پسپائی اختیار کر رہے ہیں کیوں کہ چین کے اقتصادی ہتھیاروں یعنی کم قیمت، بہتر معیار، مسلسل جدوجہد اور انتھک محنت کا توڑ امریکا اور مغربی ممالک کے پاس نہیں۔ چناں چہ جس جمہوریت، دنیا بھر سے ٹیلنٹ، صلاحیت، قابلیت کو اپنے اپنے ملکوں میں سمیٹنے اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کی بدولت مغرب و امریکا نے ترقی کی معراج پائی اسی جمہوریت کا سہارا لے کر امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے انتہا پسند کو اپنا قائد منتخب کیا۔

اس طرح بھارت اور امریکا جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں دونوں ممالک نے انتہا پسندوں کو اقتدار کا راستہ دکھا کر دنیا کے امن کو خطرات سے دو چار کر دیا۔ امریکا میں اب تاریک وطن کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے، برطانیہ نے بریگزٹ کی راہ اپنالی ہے، مغرب کے متعدد ممالک میں قوم پرستی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے، گورے اور کالے، امیر و غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ 5 اپریل 2018ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو چینی برآمدات پر اضافی ٹیرف میں ایک سو ارب ڈالر کے تازیانے کی دھمکی دی۔ اس سے صرف ایک دن قبل ٹرمپ انتظامیہ نے 50 ارب ڈالر کی چینی برآمدات پر تادیبی ٹیکس کے اپنے منصوبے کا آغاز کیا۔

جس طرح پاکستان میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا یہ اور بات ہے کہ اقتدار سے رخصتی کے بعد ’’سب سے پہلے وہ پاکستان سے رخصت ہوئے‘‘ اور ان کے درآمد شدہ وزیراعظم شوکت عزیز کی طرح وہ آج بھی ملک سے باہر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی سب سے ’’پہلے امریکا‘‘ کا نعرہ بلند کر کے چین کے ساتھ اقتصادی جنگ چھیڑ دی۔ اس سے قبل 2018ء کے آغاز میں 22 جنوری کو امریکا نے بڑے پیمانے پر چینی درآمد شدہ شمسی سامان اور واشنگ مشینوں پر ٹیرف کا اعلان کر کے اس جنگ کا عندیہ دے دیا تھا۔

پھر چین نے 4 فروری کو جانوروں کی خوراک پر اینٹی ڈمپنگ کی تحقیق کا آغاز کیا۔ 8 فروری کو چین کے اعلیٰ سفارت کاروں سے تجارتی جنگ روکنے کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ 2 مارچ کو امریکا نے ایلومینیم کی درآمدات پر تادیبی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کو کاروباری حلقوں اور اقتصادی ماہرین نے آگ سے کھیلنے سے مشابہت دی۔ لہٰذا 6 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتصادی مشیر کرے کوھن نے استعفا دیتے ہوئے اس آگ سے اپنے دامن کو بچانے ہی میں عافیت محسوس کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات کے مضمرات کو عالمی سطح پر بھی محسوس کیا گیا، عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او نے 13 اپریل کو خبردار کیا کہ ٹرمپ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کاروباری کشیدگی چین اور یورپی یونین جیسے اہم امریکی کاروباری شراکت داروں پر پہلے ہی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کرسچین لگارڈ نے 12 پریل کو کہا کہ عالمی معیشت پر گہرے بادل چھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کے عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ چین نے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی اسٹیل ہارٹس، تازہ پھلوں اور شراب پر پندرہ فی صد پورک پر 25 فی صد ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا اور اس اقتصادی جنگ کے اثرات مختلف اسٹاک مارکیٹوں پر پڑنے شروع ہوئے اور جاپان، جرمنی سمیت متعدد ممالک کی اسٹاک مارکیٹس کے انڈیکس میں کمی آئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اقدامات چین کی عالمی اقتصادی اُفق پر بڑھتی ہوئی پیش رفت کو روکنے کے علاوہ پنسلونیا میں انتخابات جیتنا بھی مقصد تھا جو امریکا کی اسٹیل کی پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔ کیا امریکا اس اقتصادی جنگ کو جیت جائے گا؟ یہ سوال بڑا اہم ہے، عالمی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی اقتصادی پیش رفت اس قدر وسیع، ہمہ گیر اور توانا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ خود ٹرمپ اپنے ٹویٹ میں اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوئے اور کہا کہ ہماری تجارتی جنگ چین سے نہیں ہے۔ یہ جنگ ہم برسوں پہلے نااہل لوگوں کے باعث ہار چکے ہیں۔

اب امریکا کو ہر سال 500 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا چین کا 170 ارب ڈالر کا مقروض ہے جب کہ 2016ء میں اسے چین کے ساتھ 342 ارب ڈالر اور 2017ء میں یہ خسارہ بڑھ کر 566 ارب ڈالر ہو گیا۔ امریکا اور چین کی اقتصادی جنگ، تارکین وطن کے خلاف امریکا و مغرب میں بڑھتی ہوئی نفرت، گورے کالے اور امیر و غریب میں بڑھتے ہوئے فرق، افغانستان، شام، فلسطین و کشمیر میں جاری خونریزی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ موجودہ عالمی سیاسی و اقتصادی نظام ناکام ہو چکا ہے۔

انسانوں کے درمیان نفرتوں کی بڑھتی ہوئی خلیج، تہذیبوں کے تصادم اور عالمی اقتصادی جنگ کو روکنے کے لیے اسلام کے نظام اخوت، انسانی بھائی چارے اور اسلامی معیشت کے رہنما اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اسلامی ممالک اس کی ابتدا کر کے مغرب اور امریکا کو رول ماڈل فراہم کریں تو دنیا کے دیگر ممالک بھی اس نظام کی افادیت کے قائل ہو جائیں گے۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ کمیونزم کی ماسکو بدری کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام اور آزاد تجارت کا تصور واشنگٹن سے رخصتی کے لیے پَر تول رہا ہے اور جنگ عظیم اوّل و دوئم کی خونخوار قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر سید محبوب

بیس سال سے زیر نمائش مشہور فرانسیسی مصور کے 82 فن پارے جعلی نکلے

فرانس کے ایک عجائب گھر میں مصور ایچن تیرس کی نمائش کے لیے رکھے گئے 82 فن پارے جعلی نکلے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر ایلنئے میں مصور ایچن تیرس کے نام سے منسوب عجائب گھر میں مصور کے فن پاروں کو اصل سمجھ کر نمائش کے لیے رکھا ہوا تھا لیکن بعد ازاں ایک تاریخ دان نے یہ انکشاف کیا کہ ان میں سے آدھی پینٹنگز جعلی ہیں اور یہ تخلیق مصور ایچن تیرس کی نہیں بلکہ کسی اور مصور کی ہیں۔ جعلی فن پاروں کی قیمت ایک لاکھ 60 ہزار سے ایک لاکھ 40 ہزار یورو کے درمیان ہے جنہیں ایلنئے کونسل نے 20 سال قبل خریدا تھا۔

عجائب گھر کی انتظامیہ نے تاریخ دان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان فن پاروں کی نمائش جاری رکھی جب کے نمائش دیکھنے والے مداح بھی اس چوری کو پکڑ نہیں سکے یہاں تک کے مصوری کے ماہر ایرک فورکاڈا نے بھی عجائب گھر سے رابطہ کر کے فن پاروں کی اصلیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جس کے بعد انتظامیہ نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جنھوں نے پیٹنگز کا مشاہدہ کر کے بتایا کہ فن پاروں میں سے 82 پینٹنگز مصور ایچن تیرس کے ہاتھوں کی تخلیق نہیں ہیں۔ عجائب گھر کے انتظامی سربراہ اور شہر کے میئر نے ایچن تیرس کے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے صورت حال کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھوکا دہی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مداحوں کے دل توڑنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے گا تاکہ دوبارہ سے ایسی کوئی صورت حال پیدا نہ ہو۔

بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں تارکین وطن کا کیا بنے گا ؟

’ونڈ رش اسکینڈل‘ میں کئی تارکین وطن کو غلط طریقے سے ملک بدر کیے جانے کے بعد برطانوی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا رہا۔ برطانیہ میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ بریگزٹ کے بعد برطانوی امیگریشن پالیسی کے خدوخال کیسے ہوں گے۔ سن 1948 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ نے ویسٹ انڈیز سے کئی ’گیسٹ ورکرز‘ بلائے تھے۔ کئی دہائیوں سے برطانیہ میں قانونی طور پر مقیم ان مہمان مزدوروں کے اہل خانہ کو ملک بدر کیے جانے کے بعد لندن حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں برطانیہ نے ’ونڈ رش اسکینڈل‘ سے متاثر افراد سے معذرت کرتے ہوئے انہیں برطانوی پاسپورٹ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

’معاندانہ ماحول‘ کا ایجنڈا
مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’مائگرینٹ وائس‘ سے تعلق رکھنے والے نازک رمضان سمیت کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ونڈ رش اسکینڈل برطانوی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف روا رکھے گئے ’معاندانہ ماحول‘ کا نتیجہ ہے۔ رمضان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی سن 2013 میں اختیار کی گئی تھی اور اس وقت موجودہ وزیر اعظم ٹریزا مے ملکی وزیر داخلہ تھیں۔ تب انہوں نے خود ہی کہا تھا کہ تارکین وطن کے خلاف اس سخت پالیسی کا مقصد ’غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف انتہائی مشکل ماحول پیدا کرنا ہے‘۔

یورپی یونین سے اخراج اور مہاجرت
یورپی یونین سے برطانوی اخراج کا عمل انتیس مارچ سن 2019 تک مکمل ہو جائے گا۔ بریگزٹ کے حامیوں کی خواہش ہے کہ لندن حکومت مہاجرت کے خلاف مزید سخت پالیسی اپنائے۔ دوسری جانب کاروباری حلقوں کو خطرہ ہے کہ ہنرمند تارکین وطن کو ملازمتیں فراہم کرنے میں مشکلات کے باعث ان کے کاروبار متاثر ہوں گے۔ مہاجرت سے متعلق برطانوی وزیر کیرولین نوکس کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد کے دور کے لیے نئی امیگریشن پالیسی کا اعلان رواں برس موسم خزاں میں کر دیا جائے گا۔

‘صورت حال ویسی ہی رہے گی‘
بریگزٹ سے سب سے زیادہ متاثر برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری ہوں گے جب کہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن پر بریگزٹ کے براہ راست اثرات مرتب ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔

کتنے پاکستانیوں کو یورپ سے نکال دیا گیا؟
یورپی ملک برطانیہ سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران قریب چالیس ہزار پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر مقیم تھے جنہیں انتظامی یا عدالتی حکم کے تحت ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس عرصے میں ستائیس ہزار سے زائد پاکستانی برطانیہ چھوڑ کر واپس اپنے وطن یا کسی دوسرے غیر یورپی ملک گئے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ مہاجرت کے امور کے ماہر پروفیسر الیگزنڈر بیٹس بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق برطانیہ پہلے ہی آزادانہ نقل و حرکت کے یورپی خطے، یعنی شینگن، کا حصہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے برطانیہ گزشتہ برسوں کے دوران یورپ میں مہاجرین کے بحران سے بھی دیگر یورپی ممالک کی نسبت بہت کم متاثر ہوا تھا۔ پناہ گزینوں کی زیادہ تعداد فرانسیسی ساحلی شہر کیلے میں چینل ٹنل کے راستے فرانس سے برطانیہ پہنچی تھی۔ برطانیہ اور فرانس کے مابین ایک تازہ معاہدے کے مطابق چینل ٹنل پر سکیورٹی انتظامات بڑھائے جا رہے ہیں اور برطانیہ فرانسیسی سرزمین پر ہی بارڈر کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ فرانس اور برطانیہ کے مابین ہے اور یہ بھی بریگزٹ سے متاثر نہیں ہو گا۔

عالمی قوانین کی پاسداری، لیکن پالیسی سخت
برطانیہ یورپی یونین میں مہاجرین کی تقسیم کے منصوبہ کا حصہ بھی نہیں بنا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے ساتھ معاہدے کے تحت برطانیہ نے سن 2020 تک بیس ہزار شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی طرح کم عمر تارکین وطن کو پناہ دینے کے بارے میں بھی برطانیہ اسی عالمی ادارے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اسی طرح برطانیہ مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے کے عالمی معاہدوں کی پاسداری بریگزٹ کے بعد بھی جاری رکھے گا۔ تاہم رمضان اور پرفیسر بیٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر یورپی پناہ گزینوں پر بریگزٹ کے بلواسطہ اثرات ضرور مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یورپی یونین سے اخراج کے بعد برطانوی امیگریشن پالیسی مزید سخت کر دی جائے گی۔

برطانیہ میں سیاسی پناہ سے متعلق اعداد و شمار
برطانیہ کے وفاقی دفتر شماریات کے مطابق ستمبر 2017ء سے قبل کے بارہ ماہ کے دوران ’نیٹ امیگریشن‘ دو لاکھ چوالیس ہزار رہی۔ یہ تعداد اس سے گزشتہ عرصے کے مقابلے میں تو کم ہے لیکن لندن حکومت کا ہدف تھا کہ اسے ایک لاکھ تک محدود کر دیا جائے۔ سن 2017 میں پندرہ ہزار سے زائد افراد کو مختلف حیثیتوں میں پناہ دی گئی۔ پانچ ہزار سے زائد افراد کو فیملی ری یونین ویزے بھی دیے گئے جو کہ اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں چودہ فیصد کم تھے۔
اس ادارے کے مطابق گزشتہ برس برطانیہ میں تینتیس ہزار سے زائد افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، اس کے مقابلے میں اس دوران جرمنی میں دو لاکھ، اٹلی میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب اور فرانس میں ایک لاکھ افراد نے پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ برطانیہ میں پناہ کے متلاشی زیادہ تر افراد کا تعلق ایران، پاکستان اور عراق سے تھا۔

 (ماریون میک گریگر- انفو مائگرینٹس)

بشکریہ DW اردو

کیا بھارت میں عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے؟

انڈیا کی مرکزی حکومت نے اس ہفتے سپریم کورٹ میں دو ججوں کی تقرری کے لیے ’کولیجیم‘ کے ذریعے بھجیے گئے دو ناموں میں سے صرف ایک کی منظوری دی جبکہ دوسرا نام کولیجیم کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ ا س پر نظر ثانی کرے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر تقرری کے لیے جسٹس کے ایم جوزف موزوں نہیں ہیں کیوں کہ سینیارٹی میں کئی اور جج ان سے آگے ہیں اور یہ کہ عدالت عظمیٰ میں ان کی ریاست کی نمائندگی متوازن ہے ۔  جسٹس کے ایم جوزف کا نام کولیجیم نے ججوں کی تقرری کے لیے اپنے مسلمہ ضابطوں کے تحت ایک قابل جج کے طور پر بھیجا تھا۔ تقرری کے لیے دو ناموں کی سفارش بھیجی گئی تھی۔ حکومت ان سفارشات کو لے کر تین مہینے بیٹھی رہی اور جب منظوری دی تو صرف ایک ہی نام جج کی تقرری کے لیے منظور کیا۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے جسٹس کے ایم جوزف کا نام اس لیے منظور نہیں کیا کیونکہ جب وہ اترا کھنڈ کے چیف جسٹس تھے تو انھوں نے ریاست میں مودی حکومت کے ذریعے لگائے گئے صدر راج کو غیر آئینی قرار دے کر کانگریس کی حکومت کو بحال کرنے حکم دیا تھا جبکہ حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔ ماہرین قانون اور سبکدوش ججوں کا خیال ہے کہ ججوں کی تقرری کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی کولیجیم کی سفارشات حتمی ہیں اور حکومت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے لیکن کئی ججوں کے نام پر حکومت کو کچھ اعتراضات ہو سکتے ہیں اور وہ کولیجیم میں اپنے تحفظات پیش کر سکتی ہے۔ لیکن ناموں کو رد کرنا عدلیہ کی آزادی کے سلسلے میں کئی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ کئی ماہرین قانون اور ججوں نے رائے دی ہے کہ چیف جسٹس کو اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔

ججز کی تقرری کے سوال پر حکومت اور کولیجیم میں یہ ٹکراؤ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت 31 ججوں کی جگہیں ہیں جن میں اس وقت 24 جج ہیں۔ سات جگہیں خالی پڑی ہیں۔ اس برس کے آخر تک مزید پانچ جج سبکدوش ہو جائيں گے۔ ملک کی ہائی کورٹس میں 400 سے زیادہ ججوں کی جگہیں خالی پڑی ہیں۔ یہ صورت حال ان حالات میں ہے جب مقدمات کی سماعت اور فیصلے کی مدت طویل ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی ذیلی عدالتوں میں کروڑوں مقدمات التوا میں پڑے ہو ئے ہیں۔ مقدمات برسوں تک چلتے رہتے ہیں۔ انصاف کا عمل عام آدمی کی رسائی سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا خیال ہے ججوں کی تقرری سے لے کر عدالتوں کے طریقۂ کار تک ہر پہلو میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کی عدالتوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ۔ عدلیہ ابھی تک اپنی خود مختاری اور آزادی کا پوری طاقت اور سختی کے ساتھ دفاع کرتی آئی ہے۔ عدلیہ ملک کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جن پر لوگوں کا اب بھی پورا اعتبار ہے۔ اس کی آزادی اور غیر جانبداری کے تحفظ کی ذمے داری صرف عدلیہ کی ہی نہیں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی بھی ہے۔ ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ ایک فعال اور متحرک جمہوریت کی ضامن ہے۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی