کیا مسٹر صدام کو ملازمت مل گئی ؟

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا عراقی سیاست اور امریکیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کیے جانے کے بعد موت کے گھاٹ اتارے جانے تک کے واقعات تو منظر عام پر آتے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے میں آیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدام حسین کی زندگی میں ان کے طالب علمی دور کا واقعہ ہے۔ مصلوب صدر خود بھی اپنے ساتھیوں کو یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔ سنہ 1960ء کو صدام حسین اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مصر آئے جہاں انہوں نے پہلے مرحلے میں قصر انٹرمیڈیٹ اسکول میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا اور جامعہ کے قریب واقع الدقی کالونی میں رہائش اختیار کی۔ یہ کالونی دوسرے عرب ملکوں کے تارکین کے لیے مشہور تھی۔

صدم حسین اکثر کالونی کے ایک کباب ہوٹل میں جاتے۔ مصری مورخ وسیم عفیفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہوٹل میں صدام حسین کی پسندیدہ غذاؤں میں سینڈوچ اور ’اسکالوپ روز بیف‘ ان کی پسندہ ڈشز تھیں مگر وہ سبزیاں اور چاول بہت کم کھاتے۔ صدام حسین کے پاس اکثر سینڈوچ خریدنے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے ہوٹل جانے کے بجائے ایک کیفے میں چلے جاتے۔ کیفے میں کام کرنے والے اپنے ایک دوست کو کباب ہوٹل کے مالک کے نام سینڈوچ کا پیغام بھجواتے اور ساتھ ہی کہتے کہ گھر سے پیسے آنے کے بعد انہیں رقم ادا کر دی جائے گی۔ اس طرح صدام حسین اور ہوٹل مالک کے درمیان ادھار چلتا رہتا۔ صدام حسین بہت تاخیر سے قرض ادا کرتے تاہم ریستوران کے مالک صدام کے آرڈر پر سینڈوچ تیار کرا کے فوری روانہ کر دیتے۔

جب صدام حسین تعلیم مکمل کر کے واپس عراق لوٹے وہ اس وقت بھی مصری ریستوران کے مالک کے مقروض تھے۔ کچھ عرصہ بعد صدام حسین سابق صدر احمد حسن البکر کے نائب صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے محسن مصری ہوٹل کے مالک کو اپنے ایلچی کے ذریعے 10 ہزار ڈالر کے مساوی رقم بھجوائی۔ اس رقم کا بیشتر حصہ ماضی میں کھائے گئے سینڈوچ، برگر اور دیگر کھانوں کی مدت میں کاٹا جانا تھا۔ جب عراقی ایلچی یہ رقم لے کر ہوٹل کے مالک کے پاس آیا تو اس نے ایلچی سے پوچھا کہ’ تو کیا استاد صدام کو ملازمت مل گئی‘۔ بعد ازاں یہ بات ایلچی نے صدام حسین کو بتائی اور محفل میں سب لوگ اس لطیفے پرخوب ہنسے۔ وہ عراق میں تعینات امریکی سفیروں اور دیگر اقارب کو بھی یہ لطیفہ سناتے، خود بھی ہنستے اور دوسروں کو بھی ہنساتے تھے۔

قاہرہ اشرف عبدالحمید

Advertisements

گریجویشن کی جعلی ڈگری پر آپ کس ملک میں سینیٹر بن سکتے ہیں ؟

پاکستان الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی گریجویشن بی اے  کی ڈگری جعلی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے جعلی ڈگری کو جواز بنا کر سینیٹر یاسمین شاہ کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسمین شاہ اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق غلط بیانی کر کے 2003 میں سینیٹر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے یاسمین شاہ کی 2003 میں بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔

دنیا کی آدھی دولت ایک فیصد لوگوں کے پاس آ گئی

دنیا کے ایک فیصد امیر ترین لوگ دنیا کی آدھی دولت کے مالک ہیں جبکہ ایک دہائی کے دوران دنیا کی دولت میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق 0.7 فیصد آبادی کے پاس 280 ٹریلین ڈالرز کی رقم ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں امیر اور ایک عام آدمی کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ گزشتہ روز جاری ہونےوالی گلوبل ویلتھ رپورٹ کے مطابق 2008 میں 42.5 فیصد سے بڑھ کر مالی بحران 2017 میں 50.1 فیصد تک ہو گیا ہے یا 140 ٹریلین ڈالرز ہو گیا ہے۔

سالانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا کی 0.7 فیصد آبادی کے پاس پوری دنیا کی دولت کا 46 فیصد ہے اور یہ اب 280 ٹریلین ڈالرزکی رقم بنتی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے ساڑھے 3  فیصد غریب آبادی میں سے ہر ایک کے پاس 10 ہزار ڈالرز سے بھی کم کے اثاثے ہیں۔ ادھر دنیا کے 70 فیصد کام کرنے والے لوگوں کے پاس دنیا کی دولت کا 2.7 فیصد موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق غریب آبادی زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کی ہے جن میں افریقہ اور بھارت جیسے لوگ شامل ہیں اور ان میں 90 فیصد لوگوں کے پاس 10 ہزار ڈالرز سے کم رقم موجود ہے۔

دنیا بھر کی دولت میں ایک دہائی کے دوران ایک چوتھائی اضافہ ہوا ہے، دنیا کی دولت پر جاری ہونےو الی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں دنیا کی دولت میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 2016 سے 2016 کے درمیان دولت 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 2007 میں شدید مالی بحران کا سامنا رہا ہے، پہلی بار رئیل اسٹیٹ نےبھی بلند سطح کو چھوا ہے۔ گزشتہ 12 ماہ میں امریکہ کے پاس ساڑھے 8 ٹریلین کے قریب جمع ہوئے جبکہ چین کی دولت 1.7 ٹریلین ڈالرز تھی۔

دبئی میں گالی دینے پر 57 ہزار روپے جرمانہ مقرر

دبئی میں گالی دینے، چیک باؤنس ہونے اور ہوٹل کے کمرے کا کرایہ ادا نہ کرنے پر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اماراتی میڈیا کے مطابق دبئی حکومت نے عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کےلیے کم سنگین جرائم پر پولیس اور فیملی پراسیکیوشن ونگز کو جرمانے کے اختیارات تفویض کر دیئے ہیں۔ دبئی کے اٹارنی جنرل عصام عیسی کے جاری کردہ حکم نامے کے تحت اب پولیس اور فیملی پراسیکیوشن ونگز جرمانہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ نئے قوانین کا مقصد دبئی آنے والے سیاحوں کو عدالتی کارروائیوں کی وجہ سے ہونے والی تاخیر سے بچانا ہے۔

نئے قوانین کے تحت گالی دینے والے شخص کو بھی 2 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا پڑے گا جو پاکستانی روپوں میں 57 ہزار روپے بنتا ہے جب کہ ہوٹل میں کمرے کا کرایہ ادا نہ کرنے پر 50 ہزار درہم تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ البتہ اس خبر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دبئی حکومت کے مطابق کس چیز کو ’’گالی‘‘ میں شمار کیا گیا ہے یا پھر گالی کی تشریح کےلیے بھی وہاں کی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اسی طرح خودکشی کی ناکام کوشش کرنے پر ایک ہزار درہم اور فون کے ذریعے تنگ کرنے پر 5 ہزار درہم تک جرمانہ ہو گا جب کہ چیک باؤنس ہونے کی صورت میں 2 ہزار سے 50 ہزار درہم تک جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟

40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس امریکی صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کو ‘جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار’ کا نام دیا گیا۔ اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو ’جنگِ عظیم سوم کی جانب‘ لے جانے کا الزام لگایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا ‘غیظ و غضب’ ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہو۔ سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا۔ امریکی سٹرٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر رابرٹ کیہلر کا کہنا ہے کہ ماٰضی میں اگر ان کے دور کے دوران وہ صدر کے حملہ کرنے کے احکامات ملتے، اور اگر وہ قانونی ہوتے تو وہ ان پر عمل کرتے۔ کیہلر کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے تو وہ اپنے مشیروں سے رابطہ کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص حالات میں ‘میں کہہ سکتا تھا کہ میں عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوں۔  وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ایک اور رپبلکن سینیٹر رون جانسن نے پوچھا ‘پھر کیا ہوتا ہے؟’

کیہلر نے تسلیم کیا کہ انھیں نہیں معلوم۔

ہم سماعت سے اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میں کسی سے کو اس سماعت کے دوران جواب دہی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن حملہ کرنے کے انتہائی خفیہ عمل کے بارے میں ایسے عوامی فورم پر کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اس سماعت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، صرف موضوع کی حساسیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پینل میں موجود صدر ٹرمپ کے چند ناقدین بھی اس کی وجہ ہیں جن میں سے چند کا تعلق صدر کی ریپبلیکن پارٹی سے ہی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر کی گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث ہو گئی تھی جس میں وائٹ ہاؤس کو ‘بالغ شخص کی دیکھ بھال کا سینٹر’ کہا گیا تھا۔ پینل میں شریک ایک اور سینیٹر نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں صدر کے جوہری حملے کا حکم دینے کے اختیار کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ میسیچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی کے بل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے جوہری حملہ کرنے سے قبل کانگریس سے جنگ شروع کرنے کی اجازت حاصل کرنی ہو گی۔

کیا ٹرمپ جوہری حملہ کر سکتے ہیں؟
ایک کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے، صدر کے پاس جوہری حملے کے حکم دینے کا مکمل اختیار ہے، جو کہ آبدوز، ہوائی جہاز یا بین الابراعظمی بیلیسٹک میزائیلوں کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت امریکی صدر ‘دا فٹبال’ نامی آلے میں کوڈز ڈال کر بھی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ آلہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے یا کسی حکومتی ممبر کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اعلیٰ مشیران جن میں سیکریٹری دفاع جیمز میٹس، سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن یا قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر میں سے کسی کا چین آف کمانڈ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ البتہ روایتی فوجی قوت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ لیکن جوہری طاقت کا استعمال جوہری عہد کے آغاز سے ہی صدر کا اختیار رہا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے داغا جانے والا دشمن کا بیلسٹک میزائل امریکا کو صرف آدھے گھنٹے میں نشانہ بنا سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

پاپوا نیو گنی کا مانس جزیرہ : آسٹریلیا کا گونٹانامو بے

پاپوا نیو گنی کے مانس جزیرے پر واقع مہاجرین کے حراستی مرکز کی بندش میں چوبیس گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔ دوسری طرف آسٹریلیا میں ان مہاجرین کے حق میں احتجاجی ریلیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا کہ پاپوا نیو گنی کے جزیرے مانوس پر قائم آسٹریلوی حکومت کے زیر انتظام مہاجر کیمپ کی بندش میں چوبیس گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ تاہم اس تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ روئٹرز نے اس کیمپ میں موجود تین مہاجرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاپوا نیو گنی کے متعلقہ حکام نے انہیں کہا ہے کہ وہ اتوار تک اس کیمپ میں رہ سکتے ہیں۔

مانس کے اس کیمپ میں گزشتہ چار سالوں سے مقیم عراقی مہاجر نے روئٹرز کو بتایا کہ اس حراستی مرکز کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے مائیکروفون کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ اس کیمپ میں موجود افراد مزید ایک دن وہاں رہ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے شدید مذمت اور تحفظات کے باوجود پاپوا نیو گنی نے اس کیمپ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تناظر میں ملکی سپریم کورٹ بھی اس فیصلے کی حمایت کر چکی ہے۔ مقامی حکومت نے مانوس میں واقع اس کیمپ کی بجلی اور پانی کا نظام منقطع کر دیے تھے۔ آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں موجود قریب چھ سو مہاجرین کے لیے نئے شیلٹر ہاؤس بنائے گئے ہیں تاہم یہ مہاجرین اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر انہوں نے مانوس جزیرے پر واقع یہ کیمپ چھوڑا تو انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

ان مہاجرین کو یہ خدشات بھی لاحق ہیں کہ دیگر مہاجر کیمپوں میں منتقل ہونے پر سکیورٹی کی عدم موجودگی کے باعث مقامی آبادی انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنا سکتی ہے۔ مانوس کے اس مہاجر شیلٹر ہاؤس میں موجود کچھ مہاجرین کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، ایران، میانمار، سری لنکا اور شام سے تعلق رکھنے والے باشندے بھی اس کیمپ میں موجود ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے افراد بھی ہیں، جو کئی برسوں سے یہاں مقیم ہیں۔ ابتدائی طور پر ان کی کوشش تھی کہ وہ سمندری راستے کے ذریعے آسٹریلیا پہنچ جائیں۔ تاہم آسٹریلوی حکومت کی طرف سے سخت نگرانی کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا اور ان مہاجرین کو پکڑ کر مانوس کے جزیرے پر قائم اس حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

مانس کے جزیرے پر مشکل حالات میں سکونت پذیر ان مہاجرین کی خاطر آسٹریلیا میں مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ سڈنی کے نواح میں سابق وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ کے دوران مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ‘مانوس کیمپ کو بند کرو اور مہاجرین کو آسٹریلیا لاؤ‘ اور ’تشدد بند کرو‘۔ اسی طرح ملبورن میں ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا، جس کے نتیجے میں روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

ترکی نے روسی میزائل ڈیفنس سسٹم خرید لیا

ترکی کے وزیر دفاع نوریتن کینکلی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا ہے۔ تاہم ترکی یورپین کنسورشیم کے ساتھ بھی ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت وہ خود اپنا میزائل دفاعی نظام تیار کرنے میں اُس کی مدد کرے گا۔
ترکی نیٹو کا رکن ہے اور نیٹو کے کچھ رکن ممالک روس سے S-400 میزائل خریدنے سے متعلق ترکی کے ارادے کو نیٹو کیلئے تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے پر اس حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روسی میزائل نیٹو کے دفاعی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

نیٹو کے ایک سینئر کمانڈر نے خبر رساں ایجنسی رائیٹر کو بتایا ہے کہ نیٹو ترکی پر زور دیتا رہے گا کہ وہ ایسا اسلحہ خریدے جو نیٹو کے دفاعی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر استعمال کیا جا سکے۔ نیٹو کمانڈر نے کہا کہ فی الحال روس سے S-400 میزائلوں کو کوئی کھیپ ترکی نہیں پہنچی ہے۔ تاہم ترکی کے وزیر دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’’معاہدہ طے پا گیا ہے اور میزائل خرید لئے گئے ہیں۔ اب صرف تفصیلات کا طے ہونا باقی ہے۔‘‘

ترکی کے وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ترکی محض روس سے خریدے گئے S-400 میزائلوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اُن کا ملک EUROSAM کنسورشیم سے مزاکرات شروع کر چکا ہے تاکہ ترکی میزئلوں کا دفاعی نظام خود تیار کرنے کیلئے ٹکنالوجی حاصل کر سکے۔ ترکی کے وزیر دفاع کینکلی نے اس سلسلے میں برسلز میں فرانس اور اٹلی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر یوروسیم اور ترکی کی کمپنیاں یوروسیم کے تیار کردہ SAMP-T میزائلوں پر مبنی نظام کی تیاری کا جائزہ لیں گی۔

ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کا ایک مرتبہ پھر مذاق اڑایا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کا ایک مرتبہ پھرمذاق اڑایا ہے۔ اس مرتبہ ٹرمپ نے کمیونسٹ ملک کے لیڈر کے قد اور وزن کو نشانہ بنایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کا مذاق اڑانے میں ایک نئی حد کو چھُوا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے شمالی کوریائی رہنما کے قد اور وزن کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ قبل ازیں ٹرمپ نے اُن کو ’راکٹ مین‘ اور میڈ مین یا پاگل تک کہہ چکے ہیں۔ شمالی کوریا میڈیا پر ٹرمپ کو ’بوڑھا پاگل‘ قرار دیا تھا اور ٹرمپ کے یہ تازہ استہزائیہ کلمات اسی کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کِم جونگ اُن نے انہیں بوڑھا قرار دے کر اُن کی بے عزتی کی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے کبھی بھی شمالی کوریائی لیڈر کو موٹا اور چھوٹا نہیں کہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ وہ خاصی کوشش کے باوجود کِم جونگ اُن سے دوستانہ تعلقات استوار نہیں کر سکے اور شاید مستقبل میں ایسا ممکن ہو جائے۔ ویتنامی دارالحکومت ہنوئی میں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اُن کی شمالی کوریائی لیڈر سے دوستی ہو جائے تو یہ یقینی طور پر شمالی کوریا اور وہاں کی عوام کے لیے بہت بہتر ہو گا۔ کم جونگ اُن کو راکٹ مین اور پاگل قرار دینے کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی امریکی صدر پر شدید انداز میں جوابی وار کیے تھے۔ شمالی کوریا نے امریکی صدر کو ماؤف الذہن قرار دیا تھا۔

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے بڑھتا مرض

ذیابیطس ( شوگر) کی پیچیدگیوں، علامات، علاج اور پرہیز سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرض کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کیلئے دنیا کو متوجہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض سے تقریبا 80 فیصد اموات کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو2030ء تک ذیا بیطس دنیا کی ساتویں بڑی جان لیوا بیماری بن جائے گی۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے اسباب میں موٹاپا، تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنا اہم وجوہات ہیں، چند احتیاطی تدابیرپر عمل کر کے اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے جبکہ مرض لاحق ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن اقوام متحدہ کی سفارش پر ہر برس 14نومبر کو منایا جاتا ہے، جس کی ابتدا 2007 سے ہوئی تھی۔

ایران-عراق سرحد پر زلزلے کے بعد کے خوفناک مناظر

  ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقوں میں 7.3 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں جہاں سیکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا وہیں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ عراق اور ایران کی سرحد کے قریب آیا، جس کی شدت سے خطے کے دیگر ممالک میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز ایران کے سرحد کے قریب عراق کا شہر حلبجہ تھا۔ عراق کے محکمہ ارضیات نے فوری طور پر سرکاری ٹی وی پر انتباہ کی خبر جاری کی کہ شہری عمارتوں سے دور رہیں جبکہ لفٹ کے استعمال سے بھی اجتناب کریں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ایران، لبنان، کویت، ترکی سمیت پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔