جنرل مشرف : قانون کی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی

ہمیں سچے، امانت دار نہیں جھوٹے، خائن رہنما چاہیں؟

اب تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کہہ دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1F) کو ختم کرنے کے لیے اپوزیشن سے مل کر آئین میں ترمیم کا بل لایا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک ہے۔ اس آئینی شق کو اس لیے ن لیگ نکالنے کے لیے بے چین ہو گئی کیوں کہ سپریم کورٹ نے اسی آرٹیکل کو استعمال کر کے میاں نواز شرف کو نا اہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا۔ اس آئینی شق کے مطابق کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا اہل نہیں ہو سکتا جسے کسی عدالت فیصلہ کے ذریعے یہ قرار دے دیا جائے کہ وہ صادق اور امین نہیں۔ صادق یعنی سچا اور امین یعنی امانت دار۔

سپریم کورٹ کا نواز شریف کے متعلق فیصلہ اگر کمزور تھا اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ انصاف پر مبنی نہیں تھا تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ اس آئینی شق کو ہی ختم کر دیا جائے۔ یہ کیسی منفی سوچ ہے۔ ایسی سوچ کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عدالت کے ذریعے ثابت شدہ جھوٹے اور بے ایمان جو امانت میں خیانت کرتے ہوئے پکڑا جائے، کے لیے نہ صرف پارلیمنٹ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے بلکہ ایسے افراد کے لیے وزیر اعظم، وزیر ، مشیر، گورنر سمیت کسی بھی اعلیٰ عہدے پر پہنچنا مسئلہ نہ ہو گا۔ حکمرانی اور پارلیمنٹ تک رسائی کا حق صرف ایسے افراد کو ہی ہونا چاہیے جو عمومی طور پر سچے جانے جاتے ہوں اور جن کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ امانت دار ہوں گے۔

ہمارے ہاں میڈیا اور سیاست سے تعلق رکھنے والا ایک طبقہ آئین کے آرٹیکل 62 (1F) سمیت کچھ دوسری آئینی شقوں کے اس لیے خلاف ہیں کہ ان شقوں کا تعلق اسلامی تعلیمات سے ہے اور یہ بھی کہ ان کو جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کے دوران اُس وقت کی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا۔ ان شقوں پر اگرچہ کبھی عمل نہ ہوا اور نہ ہی عمل کرنے کی کسی نے کبھی بھی کوئی کوشش کی لیکن ان کو پڑھیں تو مقصد صرف ایک نظر آتا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ اور ایوان اقتدار میں جو افراد آئیں وہ کردار کے لیحاظ سے بہترین ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ امین اور صادق تو ہم سے کوئی ہو نہیں سکتا اس لیے ان آئینی شرائط کو ہی آئین سے نکال باہر کریں۔ ایسی باتیں میں نے کچھ سابق جج حضرات سے بھی سنیں۔

بلکہ ایک سپریم کورٹ کے جج صاحب نے پاناما کا کیس سننے کے دوران کہا تھا کہ اگر آرٹیکل 62-63 پر سختی سے عمل کیا جائے تو ماسوائے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کوئی دوسرا ممبر پارلیمنٹ میں نہ رہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں۔ آئین کے مطابق صادق اور امین وہ نہیں جس کو عدالت نے جھوٹا اور بے ایمان ثابت کر دیا۔ ورنہ یہ آئینی شق کسی دوسرے پر لاگو نہیں ہونی چاہے وہ واقعی حقیقی زندگی میں جھوٹا ہو، بے ایمان ہو۔ یعنی صادق اور امین وہ نہیں جس کے بارے میں عدالت ایسا فیصلہ کر دے۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ یہاں تو امریکا ، برطانیہ اور یورپ وغیرہ میں یہ برداشت نہیں کیا جاتا کہ اُن کے حکمران اور پارلیمنٹیرین جھوٹ بولیں یا امانت دار نہ ہوں۔ امریکہ کے سابق صدر کلنٹن کو جھوٹ بولنے پر مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ہم ہیں کہ آئین سے ان شرائط کو اس لیے نکالنے کے لئےتیار ہو گئے کیوں کہ نواز شریف کو ان آئینی شقوں کی وجہ سے عدالت عظمٰی نے نااہل قرار دے دیا۔

ماضی میں پی پی پی اور کچھ دوسری سیکولر سیاسی جماعتیں اس کوشش میں رہیں کہ آئین کی ان اسلامی شقوں کو دستور سے نکال دیا جائے باوجود اس کے کہ ان شقوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے کبھی نہ سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ نے کوشش کی اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی دلچسپی لی۔ ن لیگ ماضی میں ان اسلامی شقوں کو ختم کرنا تو درکنار ان میں ترمیم کے بھی خلاف رہی۔ گزشتہ پی پی پی دور حکومت میں پارلیمنٹ نے 18 ویں ترمیم کے دوران ان شقوں کا بھی جائزہ لیا لیکن ن لیگ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخالفت کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ انہیں اسی طرح آئین میں رکھا جائے گا۔ ویسے بھی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق آئین کے بنیادی ڈھانچہ جس میں آئین میں شامل اسلامی شقیں شامل ہیں کو پارلیمنٹ تبدیل نہیں کر سکتی۔

لیکن اس سب کے باوجود اب ن لیگ سب سے آگے آگے یہ مہم چلا رہی ہے کہ ان اسلامی شقوں کو دستور سے نکال دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر پی پی پی اور پی ٹی آئی اس مسئلہ پر ن لیگ کا ساتھ نہ دیں لیکن پی پی پی تو مکمل طور پر جبکہ پی ٹی آئی میں موجود ایک طبقہ ان اسلامی شقوں کو آئین سے مکمل طور پر ہذف کرنے کے حق میں ہیں۔ ایسے حالات میں مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کو چاہیے کہ ن لیگ کی آرٹیکل 62-63 کو ختم کرنے کی اس مہم جوئی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں ورنہ کوئی بعید نہیں کہ اب ن لیگ کچھ دوسری سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اسلامی آئین کو ہی سیکولر بنانے کے لیے کوئی کارروائی نہ کر دے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ن لیگ کی لیڈر شب کو احساس نہیں کہ وہ کتنا خطرناک کام کرنے جا رہی ہے ۔

انصار عباسی

کیا نواز شریف کی رخصتی کا فیصلہ ہو چکا ؟

گاڈ فادر کے بعد اب وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی حکومت کے لیے سپریم کورٹ نے سسلین مافیا کا بھی حوالہ دے دیا۔ اس کے باوجود اگر میاں صاحب کی حکومت اب بچ جاتی ہے تو تعجب ہو گا۔ ایک بحث پہلے ہی چل رہی ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں مشتمل پانچ ممبر سپریم کورٹ بنچ جس نے پاناما کیس میں 20 اپریل کو فیصلہ سنایا تھا وہ اب بھی قائم ہے اور اگر جسٹس اعجاز افضل خان کی قیادت میں مشتمل موجودہ اسپیشل بنچ میں شامل ایک جج صاحب نے بھی وزیر اعظم کی رخصتی کا فیصلہ کر لیا تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ نواز شریف کا کھیل ختم۔ ویسے بھی جب کسی ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی حکومت یا حکمران کو پہلے گاڈ فادر اور پھر سسلین مافیا کے حوالے دے کر یاد کرے تو پھر ایسی حکومت اور ایسے حکمرانوں کو وہی عدالت کیسے کلین چٹ دے کر چھوڑ سکتی ہے۔

عدالت سے باہر کے معاملات دیکھیں تو بھی میاں صاحب کے اردگرد گھیرا تنگ ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اشارے مل رہے ہیں کہ کوئی اور بھی اس کھیل میں شامل ہے۔ ابھی وٹس ایپ کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا تو حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ویڈیو تصویر سامنے آ گئی۔ یہ تصویر کس نے لیک کی اور اس کا کیا مقصد تھا ان سوالوں کے جواب ملنا ضروری ہیں۔ جوڈیشیل اکیڈمی کے ایک کمرہ میں جہاں جے آئی ٹی کے ممبران ایک قطار میں بیٹھ کر سامنے رکھی کرسی پر براجماں بیٹھے شخص سے سوال جواب کرتے ہیں، اگر اُس کمرے سے کوئی مواد میڈیا، سوشل میڈیا یا کسی اور کو لیک ہوتا ہے تو اُس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کچھ دن پہلے جے آئی ٹی کی طرف سے حسین نواز کو جاری کیا گیا سمن میڈیا کو لیک کیا گیا لیکن اُس وقت ذمہ داری کا تعین کرنا اس لیے مشکل تھا کیوں کہ یہ سمن جے آئی ٹی کے ہاتھ سے نکل کر وزیر اعظم ہائوس تک پہنچ چکا تھا۔

اگرچہ کچھ ن لیگی رہنمائوں کی طرف اس کی ذمہ داری جے آئی ٹی پر ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن شک حسین نواز اور ن لیگ پر بھی کیا جا سکتا تھا۔ جہاں تک حسین نواز کی تصویر کی تازہ جے آئی ٹی لیک پر ذمہ داری عائد کرنے کا سوال ہے یہ شاید اتنا مشکل نہ ہو۔ جوڈیشیل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے اجلاسوں کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا تھا۔ جے آئی ٹی سے متعلقہ انتظامی امور کس کے ہاتھ میں ہیں اور کیا ان امور میں حکومت کا کوئی عمل دخل ہے یا نہیں؟؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ضروری ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں کوئی جے آئی ٹی کے secret مواد کو شریف فیملی کے حق میں یا ان کے خلاف پروپیگنڈہ کے لیے تو استعمال نہیں کر رہا۔ کل ہو سکتا ہے جے آئی ٹی وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بلا لیں تو پھر کیا اُن کی بھی جے آئی ٹی کے سامنے حاضری کی تصویریں اور ویڈیو میڈیا کو لیک کی جائیں گی۔

ہو سکتا ہے کہ جے آئی ٹی کی اس لیک کے پیچھے کوئی اور ہی ہو۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کی انکوائری کروانا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ ویسے جیسا کہ اعتزاز احسن کا کہنا ہے سپریم کورٹ کو تو وٹس ایپ کے معاملہ پر بھی انکوائری کروانی چاہیے۔ اعتزاز احسن کے مطابق اگر وٹس ایپ کا معاملہ جسے میں سامنے لے کر آیا جھوٹ ہے تو بھی اس کی انکوائری ہونی چاہیے اور اگر سچ ہے پھر تو اس معاملہ کا کھوج لگانا تو اور بھی ضروری ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے خود سے جے آئی ٹی کے لیے کچھ نام ڈلوانے کے لیے وٹس ایپ کال کیں، انہیں کسی جج صاحب نے کہا یا کہ وٹس ایپ کال کرنے والا کوئی اور ہی شخص تھا۔

ویسے تو سپریم کورٹ کےا سپیشل بنچ کے ایک جج صاحب کی طرف سے عدالت میں یہ کہا گیا کہ جو کچھ رجسٹرار صاحب نے کیا وہ جج حضرات کے کہنے پر کیا گیا۔ لیکن یہ معاملہ ابھی کلیئر نہیں کہ کیا رجسٹرار صاحب نے ایس ای سی پی کے چیئرمین سے پہلے سرکاری فون لائن پر بات کی اور پھر انہیں کہا کہ وہ وٹس ایپ پر کال کریں گے جس کے ذریعے مبینہ طور پر انہوں نے ایک مخصوص نام جے آئی ٹی کے لیے مانگا۔ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایسا کرنے کی ہدایات کسی جج صاحب نے دی اور اگر ایسا ہی ہوا تو کیا یہ ہدایات سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے اُس فیصلہ سے مطابقت رکھتی ہیں جس میں متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جے آئی ٹی کے لیے افسروں کے ناموں پر پینل تجویز کریں گے اور ان ناموں میں سے سپریم کورٹ کسی بھی نام کی جے آئی ٹی کے لیے منظوری دے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے دستاویزات کے مطابق ڈپٹی گورنر کو بھی مبینہ وٹس ایپ کے ذریعے کال کر کے ایک خاص نام پینل میں ڈالنے کا حکم دیا گیا لیکن سپریم کورٹ سے فیکس کے ذریعے جو حکم ملا اُس میں کسی مخصوص نا م کو جے آئی ٹی میں ڈالنے کی کوئی بات ہی نہیں کی گئی تھی۔ کسی ایسے مشکوک معاملہ میں اگر عدالت عظمیٰ کو یا اس کے رجسٹرار کو ملوث کیا جاتا ہے تو ایسے معاملہ کو بغیر انکوائری کے چھوڑنا کوئی اچھی نظیر نہ ہو گی۔

 انصار عباسی

یہاں انصاف مانگنے سے ڈر لگتا ہے

ہمارے جاننے والے ایک صاحب ظہور احمد نے 1986 میں سینئر سول جج راولپنڈی کی عدالت میں وزارت دفاع وغیرہ کے خلاف ایک سول مقدمہ قائم کیا۔ یہ مقدمہ مدعی کی زمین کے قبضہ سے متعلق تھا۔ برسوں عدالت کے چکر لگا کر اُن کی ملکیت ثابت ہوئی جبکہ قبضہ وزارت دفاع کے پاس ہی رہا۔ اس قبضہ کے خلاف مدعی ایڈیشنل سیشن کورٹ گئے جہاں سینئر سول جج کا فیصلہ برقراررکھا گیا۔ 1999 میں ظہور صاحب نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی کہ اُن کی زمین یا انہیں واپس کی جائے یا محکمہ اُسے باقاعدہ ایکوئر کر لے۔ کبھی ایک بہانہ تو کبھی دوسرا، مقدمہ لٹکتا رہا اور پھر آخر کار 2002 میں ہائی کورٹ نے ظہور احمد صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

محکمہ کو حکم ملا کہ یا تو مارکیٹ کے مطابق مدعی کو پیسہ دو یا زمین واپس کر دو۔ لیکن محکمہ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ 2004 میں سپریم کورٹ نے محکمہ کی پہلے اپیل خارج کی پھر جب ریویو پٹیشن فائل کی گئی اُسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ تقریباً اٹھارہ سال عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر کار ظہور احمد کو انصاف ملا لیکن محکمہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد سے لیت و لعل شروع کر دی۔ وکیلوں نے کہا کوئی بات نہیں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ہائی کورٹ چلتے ہیں۔ بچارے ظہور احمد کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا اور پھر اُسی سال (یعنی 2004) میں ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے درخواست دے دی۔

پھر وہی وکیل، وہی، عدالتیں اور روز روز کچہری کے چکر۔ آخر کار 2012 میں ہائی کورٹ نے مدعی کے حق میں فیصلہ دے دیا جس کے نتیجہ میں متعلقہ محکمہ نے مدعی کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق پیسہ دینے کے لیے دفتری کارروائی شروع کر دی۔ مدعی کو اب یقین تھا کہ اب تو کوئی رکاوٹ نہیں رہی، سپریم کورٹ کا اُن کے حق میں فیصلہ آ چکا اور اب تو ہائی کورٹ نے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے حکم بھی صادر کر دیا۔ عمل درآمد کے انتظار میں دو سال اور گزر گئے اور پھر اچانک 2014 میں مدعی کو سیشن کورٹ کا نوٹس ملا اور اس بار متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے کیس دائر کیا کہ مدعی زمین سے ملکیت کے بارے میں ثبوت دے کہ وہی زمین کا مالک ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہی محکمہ مال مدعی کی ملکیت کے حق میں گواہی دیتا رہا لیکن اب پھر کسی کو خیال آیا کیوں نہ یہ قانونی گُر چلا جائے اس سے مقدمہ کم از کم بیس تیس سال کے لیے اور لٹک جائے گا۔

2014 کی اس قانونی چال کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے مدعی نے ایک بار پھر 2014 میں ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا۔ تین سال گزر گئے اور معاملہ ابھی ہائیکورٹ کے سامنے ہی ہے۔ ان تین برسوں میں اب تک ہائی کورٹ نے اس معاملہ پر مقدمہ کو ایک ہی بار سنا۔ اس مقدمہ کا ایک اہم پہلو ہے کہ ظہور احمد اس مقدمہ کو عدالتوں میں لڑتے لڑتے 2013 میں فوت ہو چکے جس کے بعد اُن کا 45 سالہ بیٹا اس مقدمہ کی پیروی کر رہا ہے۔ ایک نسل گزر گئی اور نہیں معلوم کہ دوسری نسل کے نصیب میں بھی انصاف دیکھنا ممکن ہو گا بھی یا نہیں۔ ہمارے ایک اور جاننے والے عبدالقیوم صاحب گزشتہ 15-20 سال سے سی ڈی اے کے ساتھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ بازی میں مشغول ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُ ن سے سی ڈی اے نے زمین ایکوائر کی جس پر وہ ایگرو پلاٹ لینے کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کے گزشتہ دو دہائیوں سے چکر لگا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کے اُن کے حق میں سب سے پہلے وفاقی محتسب نے فیصلہ دیا پھر بار بار ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں انہوں نے محکمہ کے ساتھ مقدمہ لڑا اور جیتا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کل سات مقدمات کا اُن کے حق میں فیصلہ ہو چکا لیکن اس کے باوجود وہ پھر عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ عمل درآمد کے لیے سی ڈی اے کو کہہ چکی لیکن عمل درآمد ہو نہیں رہا۔ کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم ہاوس کا ایک ڈرائیور میرےگھر ملنے آیا۔ وہ بچارا روتے روتے مجھے بتا رہا تھا وہ چار بیٹیوں کا باپ ہے۔ اُس نے اپنی زندگی کی کمائی سے کوئی دس بارہ سال پہلے ایک پلاٹ خریدا اور سی ڈی اے میں متعلقہ پلاٹ کے مالک نے اپنے حق میں بیان بھی دلوا دیا۔ لیکن بعد میں اُسے عدالت سے نوٹس آ گیا کہ اُس پلاٹ کو کسی اور کو بھی بیچا گیا۔ اُس ڈرائیور کے مطابق اس مقدمہ میں اُس کا مد مقابل کوئی ایک وکیل ہے جس کا کہنا ہے کہ اُس نے یہ پلاٹ میرے ایک مرحوم قریبی عزیز سے لیا تھا جس کی وجہ سے اُس ڈرائیور نے مجھ سے مدد کی درخواست کی۔

ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کو درخواست دے دے کر تھک چکا کہ اس کے مد مقابل پارٹی کی درخواست جھوٹی ہے ، حتیٰ کہ دستخط بھی جعلی ہیں لیکن مقدمہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ڈرائیور بچارے نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اپنے عزیز سے درخواست کروں کہ وہ عدالت کو کم از کم یہ بتا دے کہ اس کیس سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ بات جب میں نے اپنے عزیز کو کہی تو اُس نے کہا ڈرائیور کا کیس جائز لگتا ہے لیکن وہ بلا وجہ عدالت کے چکروں میں پھنس کر اپنی زندگی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ نجانے کتنا عرصہ غریب ڈرائیور عدالتوں کے چکر لگاتا رہے گا۔ افسوس کہ اتنے سادہ سے مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ہماری عدالتوں کو برسوں اوردہائیوں لگ جاتے ہیں۔ ان چند مثالوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد پاکستان کے عدالتی نظام کی اُس ناکامی کو اجاگرکرنا ہے جس کے باعث عدالتوں کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن نہیں رہا۔

اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ عدالت کا نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ عدالتیں نہ صرف انصاف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں بلکہ یہ عدالتی نظام مظلوم کی بجائے ظالم کے ظلم کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ کسی بھی مقدمہ میں اگر کوئی عدالت میں چلا گیا تواس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ لٹک گیا۔ حال ہی میں پیمرا کے چئیرمین ابصار عالم نے کہا کہ کس طرح اس ادارہ کی رٹ کو ٹی وی چینلز نے سینکڑوں عدالتی اسٹے آرڈرز کے ذریعے بے بس کر دیا۔ نوے کے عشرے میں اسلام آباد میں ہمارے ایک ہمسایہ نے نیا گھر بنایا اور کرائے پر دیا۔ کرائے دار نے گھر میں گھستے ہی اعلان کر دیا کہ وہ کرایہ دار نہیں بلکہ گھر کا مالک ہے۔ اس پر اصل مالک سٹ پٹا اٹھا اور نقلی مالک مکان کو کہنے لگا کہ تم کس طرح یہ بات کر سکتے ہو جس پر اصل مالک کو جواب ملا کہ جو بات ثابت کرنی ہے عدالت میں کرو۔ اور یوں معاملہ کچھ سال عدالت میں چلتا رہا اور جب نقلی مالک مکان کا وہاں جی بھر گیا تو بغیر کرایہ دیے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔

2011 میں سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پارک اینکلیو نام کا ایک سیکٹر کھولا اور اس کے پلاٹ مارکیٹ ریٹ سے بیچے۔ وعدہ کیا گیا کہ 2013 میں خریداروں کو پلاٹوں کا قبضہ مل جائے گا لیکن آج 2017 میں بھی پچاس ساٹھ الاٹیوں کو ادائیگیوں کے باوجود پلاٹ مہیا نہیں کیے گے۔ ان متاثرین کی جب سی ڈی اے سے بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کیا کریں عدالتوں نے اسٹے آرڈر دیے ہوئے ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں زمینوں، کاروباری لین دین، جائیداد وغیرہ کے معاملات جب عدالتوں میں چلے جاتے ہیں تو پھر معاملہ برسوں ، دہائیوں کے لیے لٹک جاتا ہے۔ اس صورتحال میں دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ مظلوم عدالت چلے جائیں کیوںکہ قانونی جنگ لمبی چلے گی اور اب تو انصاف کے حصول کے لیے وکیل پیسہ بھی بہت مانگتے ہیں۔ یہ صورتحال غریب، متوسط اور مظلوم طبقہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے اور اسی لیے عمومی طور پر لوگ عدالت جانے سے ڈرتے ہیں۔ چند روز قبل محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے انصاف کی جلد فراہمی اور موجودہ عدالتی نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اللہ کرے وہ اس میں کامیاب ہوں ورنہ پاکستان میں عدالتوں اور انصاف کا حال بہت ہی بُرا ہے۔

انصار عباسی

ٹویٹ نے کس کس کا نقصان کیا ؟

فیس بک اور سوشل میڈیا نے جہاں اور کئی بیماریاں ہمارے معاشرہ میں پیدا کر
دیں وہیں گھروں کے اندر کی لڑائیوں کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ میں نے کئی مرتبہ مختلف گھرانوں کے بچوں کو ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے فیس بک پر آپس میں لڑتے دیکھا۔ ہو سکتا ہے وہ ایک ہی جگہ بیٹھے ہوں لیکن بات چیت کے لیے فیس بک، ٹیوٹر ، وٹس ایپ وغیرہ کو استعمال کر رہے ہیں اور اختلاف کی صورت میں جھگڑا بھی سوشل میڈیا پر ہی کیا جا رہا ہے۔ بھئی اگر جھگڑے کی بات ہے تو موبائل اور لیب ٹاپ ایک طرف رکھ کر آمنے سامنے ہی اپنے اختلافات پر بات کر کے مسئلہ حل کر لو۔

 لڑائی جب سوشل میڈیا کے ذریعے ساری دنیا کے سامنے لڑی جائے گی تو پھر اختلافات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کا ہی خطرہ ہو گا کیوں کہ اس ماحول میں لگائی بجھائی اور تیل چھڑکنے والے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔ جب ایسی لڑائیاں یا اختلافات ریاستی اداروں کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جائیں گی تو نقصان ریاست کا ہوتا ہے اور فائدہ صرف دشمن قوتیں اٹھاتی ہیں۔ ویسے یہ پاکستان کا ہی کمال ہے کہ یہاں فوجی ترجمان کی طرف سے وزیر اعظم کے حکم نامہ پر اعتراض اور اُس حکم نامہ کو مسترد کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈان لیک کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم کے حکم نامہ پر فوجی قیادت کو اعتراض تھا تو بہتر یہ ہوتا کہ وہ دو سطریں جو ٹویٹ کی گئیں انہی کو موبائل پیغام (SMS message) کے ذریعے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، ملٹری سیکریٹری یا پرنسل اسٹاف افسر کو وزیر اعظم کی اطلاع کے لیے بجھوا دیتے تو معاملہ خرابی سے بچ جاتا۔

ایسی صورت میں دونوں اطراف اچھے طریقے سے بات چیت کر کے مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کر سکتے تھے۔ لیکن فوجی ترجمان کے ٹویٹ نے معاملہ کو بہت خراب کر دیا۔ ٹویٹ کے الفاظ بھی بہت نامناسب اورسخت تھے اور اس انداز میں وزیر اعظم کے حکم نامہ کو مسترد کیا گیا جس سے نہ صرف فوج اور سول کے درمیان اختلاف کو واضح کیا گیا بلکہ وزیر اعظم کے لیے شرمندگی کی صورتحال پیدا کی گئی۔ میری ذاتی رائے میں اس ٹویٹ نے سب سے زیادہ نقصان فوج کی ہی ساکھ کو پہنچایا۔ ان حالات نے جہاں ملک کے اندر پریشانی کی صورت حال پیدا کر دی وہیں انٹرنیشنل میڈیا اور خصوصا پاکستان کے دشمن ہندوستان کو خوب موقع فراہم کیا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور یہ کہا جائے پاک فوج تو وزیر اعظم تک کی نہیں سنتی۔

 آئی ایس پی آر کے ٹویٹ جہاں ایک طرف سول حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کے لیے embarrassment کا باعث بنا وہیں اس سے فوج کو بلاوجہ ایک ایسے تنازعہ میں گھسیٹ دیا گیا جس کی نہ ضرورت تھی اور نہ ہی یہ ملک و قوم اور فوج کے اپنے مفاد میں ہے۔ اس ٹویٹ پر سوشل میڈیا میں اپنے تبصروں میں پاکستان کے میڈیا سے تعلق رکھنے والے اکثر صحافیوں نے عمومی طور پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پاکستان کو جس طرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے اُس کے لیے ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے مل کر لڑنا ہو گا۔ فوجی ترجمان کے ٹویٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اگرچہ سول اور فوجی قیادت کے درمیان دوریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ آرمی چیف حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

 دونوں آپس میں مل بیٹھ کر بند کمرہ میں ایک دوسرے سے کھل کر اپنی اپنی شکایات اور ناراضگی کا اظہار کریں، دل کا غبار نکالیں لیکن جب علیحدہ ہوں تو اس فیصلے کے ساتھ کہ آئندہ ایسے اختلافات کو ٹویٹ کی بجائے آمنے سامنے بیٹھ کر حل کیا جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جنرل قمر باجوہ فوجی ترجمان کو متنازعہ ٹویٹ کو واپس لینے کا حکم دے کر ایک ایسی مثال قائم کریں جو نہ صرف آئینی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کا موجب بنے گا بلکہ اس سے فوج اور سول قیادت کے درمیان ایک غیر ضروری تنازعہ کا خاتمہ ہو گا جو پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایک ایسا اقدام جو ناموزوں اور نامناسب تھا، اُسے واپس لینا ایک اچھا عمل ہو گا۔

انصار عباسی