شام نے اسرائیل کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں نے طیارے کو شمالی اسرائیل میں نشانہ بنایا جو اپنی حدود کے اندر ہی گر گیا۔ شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فضائیہ نے ایک سے زائد اسرائیلی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی طیارے نے شام کے وسط میں قائم بیس پر حملے کی کوشش کی جو کہ ‘نئی جارحیت’ کے مترادف ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا ‘اس کا جنگی طیارہ شام کے اندر اس ایرانی بیس کو نشانہ بنانے والا تھا جہاں سے اسرائیل کے لیے ایک ڈرون چھوڑا گیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی سرحد کے اندر ایرانی ڈرون مار گرایا ہے جو شامی سرحد سے داخل ہوا تھا۔ اسرائیل نے ایرانی ڈرون کو ‘ملکی سلامتی’ کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ بعدِازاں اسرائیل نے شام میں مبینہ ایرانی بیس کو تباہ کرنے کے لیے اپنا جنگی طیارہ ایف 16 روانہ کیا تھا لیکن شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں کی زد میں آکر تباہ ہو گیا جس کی تصدیق اسرائیل نے کی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے شام میں فضائی حملے ہوتے رہے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی طیارے کو شامی فورسز نے مار گرایا۔

اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رونن مینیلس نے کہا کہ  اس واقعے میں اسرائیل ایران کو براہِ راست ذمہ دار گردانتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسرائیلی حدود کے اندر ایرانی حملہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ایران خطے کو ایک نئے محاذ پر لے جا رہا ہے جس کی اختتامی حد کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا اور اس واقعے کے اصل ذمہ دار کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ خیال رہے کہ مغربی طاقتیں طویل عرصے سے شامی صدر بشارالاسد کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، مغربی قوتوں کے مطابق شامی حکومت نہ صرف لوگوں کو محصور کر کے انسانی آفت کو تقویت بخش رہی ہے بلکہ بشار الاسد کی حکومت لوگوں پر سیاسی جبر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام میں موجود حراستی مراکز میں سال 2011 سے اب تک 17 ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ شام میں کئی سالوں سے مسلسل خانہ جنگی جاری ہے جس سے سب سے زیادہ معاشی شہر حلب متاثر ہوا۔
ڈھائی لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر میں مسلسل بمباری ہوتی رہتی ہے، جبکہ روسی فوج نے شہر کے مشرقی حصے کو باغیوں سے واپس لے لیا تھا۔
شام کے اس شہر پر مکمل حکمرانی شامی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران صدر بشار الاسد کو روس جیسی عالمی طاقت کے علاوہ ایران، عراق، افغانستان کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد بھی حاصل ہے، جبکہ ترکی کے کرد اور سعودی عرب سمیت کچھ خلیجی ریاستیں بشار الاسد کے خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام کے لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں بچا کر یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی جانب سفر کرنے پر مجبور ہیں، اس وقت شامی مہاجرین کا مسئلہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی، برطانیہ، یونان اور ترکی سمیت کئی ممالک کے درمیان شامی مہاجرین کی آباد کاری سے متعلق اختلافات ہیں۔ جرمنی نے سب سے زیادہ شامی مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے، جس وجہ سے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

Advertisements

اقوام متحدہ کا جنگی جرائم کی تحقیقات کا کمیشن شام میں کچھ نہیں کر سکتا

ماضی میں جنگی جرائم کے مقدمات میں وکیلِ استغاثہ کے فرائص انجام دینے والی کارلہ دل پونٹے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے کمیشن سے استعفیٰ دے رہی ہیں کیونکہ یہ کمیشن ’کچھ بھی نہیں کرتا‘۔ کارلہ دل پونٹے اقوام متحدہ کے شام کے حوالے سے کمیشن کا تقریباً پانچ سال تک حصہ رہی ہیں۔ شامی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کارلہ دل پونٹے سوئس حکومت میں وکیلِ استغاثہ کے عہدے پر فائض رہ چکی ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویا کی جنگوں میں جرائم کی تفتیشات کی تھیں۔

ایک سوئس اخبار ’بلک‘ سے بات کرتے ہوئے کارلہ دل پونٹے نے کہا کہ ’میں تنگ آ چکی ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے۔ میں نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے اور آئندہ چند روز میں اسے جمع کروا دوں گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’شام میں ہر کوئی بری سائڈ پر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے انسانیت کے خلاف انتہائی گھنونے جرائم سرزد کیے ہیں اور جزب مخالف میں بھی شدت پسند اور دہشتگرد ہیں۔‘
بعد میں انھوں نے لوکارنو فلم فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کمیشن چھوڑ رہی ہوں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیکیورٹی کونسل کچھ نہیں کرتی، میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ شام کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے۔‘

اس کمیشن کی ذمہ داریوں میں شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیشن نے ایک درجن کے قریب رپورٹیں جاری کیں ہیں تاہم ان کی تحقیقاتی ٹیم کبھی بھی خود شام نہیں جا سکی ہے۔ ان رپورٹوں کے لیے ان کا انحصار انٹرویوز، تصاویر، میڈیکل ریکارڈز اور دیگر دستاویزات پر رہا ہے۔ کارلہ دل پونٹے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جرائم پہلے کبھی نہیں دیکھے، نہ سابق یوگوسلاویا میں اور نہ ہی روانڈا میں۔ کارلہ دل پونٹے اور کمیشن کے دیگر اراکین نے کئی بار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے شام کی صورتحال کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔