امریکہ، روس شام میں کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں ۔ لیکن، کیا وہاں اُنہی کا کنٹرول ہے؟

گذشتہ ہفتے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام میں وسیع تر لڑائی بھڑکانے سے احتراز برتا، جب مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں اُنھوں نے بشار الاسد کے خلاف ٹھیک ٹھیک نشانے پر میزائل داغے۔ لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آگے بہت سے خطرات لاحق ہیں جن کے سبب بڑی طاقتوں کے علاوہ ہمسایہ ملک شام کی دلدل میں الجھ سکتے ہیں جس کا نتیجہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تنازع کے صورت میں سامنے آسکتا ہے، بیشک وہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اسد کو اقتدار سے ہٹانے کا معاملہ ترک کر دیا ہو اور ترکی کی سرحد کے قریب شمال اور اردن سے ملحقہ جنوب میں چند مقامات ہیں جن پر ہی باغیوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے، جب کہ شام کے تنازع کا خاتمہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔

چھوٹے چھوٹے تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ جو فریق تنازع میں ملوث ہیں اُن کے لیے یہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے، جب کہ معاملہ طاقت کی سطح کو مضبوط کرنے پر الجھن اور جستجو کا ہے۔ متعدد غیر ملکی طاقتیں لڑائی کے بعد شام کی تعمیر نو میں نہ صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ ایسا کر کے اپنے طویل مدتی مفاد کو قائم رکھنے کی خواہاں ہیں، اور ساتھ ہی جو علاقہ اس وقت اُن کے قبضے میں ہے وہ اُسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ شمال میں ترکی امریکہ کے شامی کُرد اتحادیوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا چاہتا ہے، اور اسے وسیع تر کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ سنی عرب باغی اور کُرد ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے ہیں، جس پر امریکہ متوجہ ہو سکتا ہے۔ ادھر، القاعدہ اب بھی ایک مہلک اور با اثر فورس ہے جب کہ داعش گروپ کی باقیات پر حاوی پانا ابھی باقی ہے۔

ترکی کے علاوہ، کافی علاقہ ایسا ہے جو ایرانی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے، جس میں ایران کا لبنانی ساتھی حزب اللہ شامل ہے، جس نے ملک کے کئی فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں، جس کام میں عراق اور افغانستان سے آنے والے ایرانی قیادت والے شیعہ افراد شامل رہے ہیں۔ اور، شام میں بیرونی طاقتوں کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ وہ کس طرح اپنے نام پر جاری جھگڑوں سے جان چھڑائیں اور بناوٹی ساتھیوں سے کس طرح دور رہیں، جس کثیر فریقی پیچیدہ صورت حال میں ملیشیائیں، جنگجو اور ملک آ جاتے ہیں، جن سبھی کے ایجنڈے متضاد نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کی تین سرکاری تنصیبات کا صفایا کرنے کے لیے داغے گئے 105 کروز میزائل حملوں کے بعد مغربی سیاسی اور فوجی قائدین کو ایک سکون ملا۔ صورت حال تب بدتر ہوتی اگر سزا دینے کی اِس کارروائی کے دوران جوابی روسی کارروائی سامنے آتی۔ اور داغے گئے میزائلوں کو مار کرانے کی شامی فوج کی کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، حالانکہ، پینٹاگان کے حکام کے مطابق، روس اور شام نے اس قسم کے دعوے ضرور کیے۔ تاہم، صورت حال بگڑنے کا خدشہ اب بھی باقی ہے، حالانکہ ہفتے کو ایسا نہیں تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سب سے بڑا خطرہ شام میں اسرائیل اور شام کے درمیان الجھاؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

Advertisements

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

سات سال قبل شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج نے جلد ہی کھلم کھلا خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی جس میں اب تک اس میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور اس سے متعدد شہر اور قصبے تباہ ہو گئے ہیں۔

جنگ شروع کیسے ہوئی؟
لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی بہت سے شامیوں کو صدر اسد کی حکومت سے بےروزگاری، بدعنوانی اور سیاسی پابندیوں کی شکایتیں تھیں۔ بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ 2000 میں اقتدار میں آئے تھے۔ مارچ 2011 میں جنوبی شہر دیرا میں پڑوسی عرب ملکوں کے ‘عرب سپرنگ’ سے متاثر ہو کر جمہوریت کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں تشدد پھوٹ پڑا۔ حکومت نے اسے کچلنے کے لیے مہلک طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہونے لگا جن میں صدر اسد سے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

مظاہروں اور انھیں دبانے کے لیے طاقت میں شدت آتی گئی۔ حزبِ مخالف کے حامیوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے اور انھیں پہلے اپنے دفاع اور بعد میں سکیورٹی فورسز سے لڑنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ بشار الاسد نے کہا کہ مظاہرے ‘بیرونی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی’ ہے، اور عزم کیا کہ وہ انھیں کچل کر رہیں گے۔ تشدد پھیلتا چلا گیا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔

کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں؟
برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے شام میں موجود ذرائع نے مارچ 2018 تک شام میں 353,900 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں 106,000 عام شہری ہیں۔ اس تعداد میں وہ 56,900 افراد شامل نہیں ہیں جو یا تو غائب ہیں یا پھر ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ اسی دوران خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے وی ڈی سی نے شام میں اپنے ذرائع کی مدد سے بین الاقوامی انسانی قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کی خبر دی ہے۔ اس نے فروری 2018 تک جنگ میں 185,980 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے جن میں 119,200 عام شہری شامل ہیں۔

جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے؟
بہت جلد جنگ صرف بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان محدود نہیں رہی۔ اس میں متعدد تنظیمیں اور متعدد ملک ملوث ہو گئے جن میں ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے۔ ایک طرف مذہبی جنگ ہو رہی ہے، جس میں سنی اکثریت صدر اسد کی علوی شیعہ اقلیت سے نبردآزما ہے۔ دوسری طرف ملک کے اندر بدامنی سے دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو وہاں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
شام میں رہنے والے کرد الگ ہیں جو سرکاری فوج سے تو نہیں لڑ رہے لیکن اپنے لیے الگ ملک چاہتے ہیں۔

شامی حکومت کو ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے، جب کہ امریکہ، ترکی اور سعودی عرب باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ روس نے شام میں فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور اس نے 2015 سے بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے پانسہ اسد کی حمایت میں پلٹ گیا ہے۔ روسی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف ‘دہشت گردوں’ کو نشانہ بناتی ہے، لیکن امدادی کارکنوں کے مطابق وہ حکومت مخالف تنظیموں اور شہریوں پر بھی حملے کرتی ہیں۔

دوسری طرف ایران کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے سینکڑوں فوجی شام میں سرگرمِ عمل ہیں اور وہ صدر اسد کی حمایت میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ایران ہزاروں شیعہ جنگجوؤں کو تربیت دے رہا ہے۔ زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق لبنان کی حزب اللہ سے ہے، لیکن ان میں عراق، افغانستان اور یمن کے شیعہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے باغیوں کو مختلف قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ ایک بین الاقوامی اتحادی فوج 2014 سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ ان کی وجہ سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نامی باغی دھڑے کو بعض علاقوں پر تسلط قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

ترکی ایک عرصے سے باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن اس کی توجہ کا مرکز کرد ملیشیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ اس کا تعلق ترکی کی ممنوعہ باغی تنظیم پی کے کے سے ہے۔ سعودی عرب کو فکر ہے کہ شام میں ایران اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، اس لیے وہ باغیوں کو اسلحہ اور پیسہ دے رہا ہے۔ اسرائیل کو تشویش ہے کہ حزب اللہ کو ملنے والا اسلحہ اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے وہ بھی شام میں حملے کر رہا ہے۔

شامی عوام کے مصائب
جنگ کی وجہ سے لاکھوں اموات کے علاوہ کم از کم 15 لاکھ شامی مستقل معذروی کا شکار ہوئے ہیں، جب کہ 86 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا کوئی عضو ضائع ہوا ہے۔ بےگھر ہونے والوں کی کل تعداد 61 لاکھ ہے جب کہ 56 لاکھ دوسرے ملکوں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

موجودہ زمینی صورتِ حال
حکومت نے ملک کے اکثر بڑے شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی بڑے پیمانے پر ایس ڈی ایف کے باغیوں کا کنٹرول ہے۔
باغیوں کے قبضے میں سب سے بڑا صوبہ ادلب ہے جس کی آبادی 26 لاکھ ہے۔
ادلب کو ‘غیر جنگی علاقہ’ قرار دیا گیا ہے، لیکن حکومتی فوج اس پر یہ کہہ کر حملے کرتی رہتی ہے کہ یہاں القاعدہ کے جنگجو چھپے ہیں۔ ایس ڈی ایف اب رقہ پر بھی قابض ہے جو 2017 تک دولت اسلامیہ کا نام نہاد دارالخلافہ تھا۔ اس کے علاوہ مشرقی غوطہ پر حملہ جاری ہے، جہاں چار لاکھ کے قریب افراد 2013 سے حکومتی محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جنگ کیسے ختم ہو گی؟
ماہرین کے مطابق اس تنازعے کا تصفیہ جنگ سے نہیں سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2012 کی جنیوا مراسلے کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں صلاح و مشورے سے ‘عبوری حکومت’ قائم کی جائے۔ لیکن 2014 کے بعد سے اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں جنیوا 2 کہلائے جانے والے مذاکرات کے نو دور بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ صدر اسد حزبِ مخالف سے بات کرنے سے کترا رہے ہیں، جب کہ باغیوں کا اصرار ہے کہ پہلے اسد استعفیٰ دیں۔ اسی دوران مغربی ملکوں کا الزام ہے کہ روس نے ایک متوازی سیاسی عمل شروع کر کے امن مذاکرات کھٹائی میں ڈال دیے ہیں۔ جنوری 2018 میں روسی نے ‘آستانہ عمل’ کا آغاز کیا، تاہم اس میں حزبِ اختلاف کی اکثر جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکا، برطانیہ اور فرانس کی شام پر حملے کی منصوبہ بندی

شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، روس نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کر دی ہے، قرارداد شام میں کیمیائی حملے سے متعلق تحقیقات سے تھی، امریکا نے بھی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد کو ویٹو کر دیا، اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ شام پر کسی بھی حملے سے قبل ہوش سے کام لیا جائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو روز کے دوران زہریلی حملے سے متعلق سخت رد عمل دیں گے، برطانوی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر مغربی اتحادیوں نے مطالبہ کیا تو وہ بھی شامی حکومت پر حملے میں شامل ہو سکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیردفاع جم میٹس نے اپنے بیرونی دورے منسوخ کر دیے ہیں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے پر ردعمل دینے کے لیے ہمارے پاس عسکری سطح پر کئی راستے موجود ہیں جس کے لیے مغربی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے، صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو بھی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی حکومت کو کیمیائی حملوں کی اجازت نہیں دے سکتے، دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شام پر حملے کا فیصلہ کیا تو وہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے اتحادیوں امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر رد عمل دیں گے، میکغوں کا کہنا تھا کہ فرانس کی معلومات کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذمہ دار شامی حکومت ہے.

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر حملے کا مطالبہ کیا تو وہ یقیناً ایسا کریں گے، ادھر ممکنہ حملے کے پیش نظر شامی فوج نے اپنی تمام فوجی پوزیشنز کو الرٹ کر دیا ہے، سیرین آبزرویٹری کے مطابق تمام فضائی، بری اور بحری اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، شامی فوج کے ایک زریعہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قطر کے امیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی اور ٹرمپ نے شام کی صورت حال اور خلیجی امور پر بات کی۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر میں مفاہمت چاہتے ہیں ۔

شام نے اسرائیل کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں نے طیارے کو شمالی اسرائیل میں نشانہ بنایا جو اپنی حدود کے اندر ہی گر گیا۔ شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فضائیہ نے ایک سے زائد اسرائیلی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی طیارے نے شام کے وسط میں قائم بیس پر حملے کی کوشش کی جو کہ ‘نئی جارحیت’ کے مترادف ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا ‘اس کا جنگی طیارہ شام کے اندر اس ایرانی بیس کو نشانہ بنانے والا تھا جہاں سے اسرائیل کے لیے ایک ڈرون چھوڑا گیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی سرحد کے اندر ایرانی ڈرون مار گرایا ہے جو شامی سرحد سے داخل ہوا تھا۔ اسرائیل نے ایرانی ڈرون کو ‘ملکی سلامتی’ کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ بعدِازاں اسرائیل نے شام میں مبینہ ایرانی بیس کو تباہ کرنے کے لیے اپنا جنگی طیارہ ایف 16 روانہ کیا تھا لیکن شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں کی زد میں آکر تباہ ہو گیا جس کی تصدیق اسرائیل نے کی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے شام میں فضائی حملے ہوتے رہے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی طیارے کو شامی فورسز نے مار گرایا۔

اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رونن مینیلس نے کہا کہ  اس واقعے میں اسرائیل ایران کو براہِ راست ذمہ دار گردانتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسرائیلی حدود کے اندر ایرانی حملہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ایران خطے کو ایک نئے محاذ پر لے جا رہا ہے جس کی اختتامی حد کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا اور اس واقعے کے اصل ذمہ دار کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ خیال رہے کہ مغربی طاقتیں طویل عرصے سے شامی صدر بشارالاسد کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، مغربی قوتوں کے مطابق شامی حکومت نہ صرف لوگوں کو محصور کر کے انسانی آفت کو تقویت بخش رہی ہے بلکہ بشار الاسد کی حکومت لوگوں پر سیاسی جبر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام میں موجود حراستی مراکز میں سال 2011 سے اب تک 17 ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ شام میں کئی سالوں سے مسلسل خانہ جنگی جاری ہے جس سے سب سے زیادہ معاشی شہر حلب متاثر ہوا۔
ڈھائی لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر میں مسلسل بمباری ہوتی رہتی ہے، جبکہ روسی فوج نے شہر کے مشرقی حصے کو باغیوں سے واپس لے لیا تھا۔
شام کے اس شہر پر مکمل حکمرانی شامی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران صدر بشار الاسد کو روس جیسی عالمی طاقت کے علاوہ ایران، عراق، افغانستان کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد بھی حاصل ہے، جبکہ ترکی کے کرد اور سعودی عرب سمیت کچھ خلیجی ریاستیں بشار الاسد کے خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام کے لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں بچا کر یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی جانب سفر کرنے پر مجبور ہیں، اس وقت شامی مہاجرین کا مسئلہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی، برطانیہ، یونان اور ترکی سمیت کئی ممالک کے درمیان شامی مہاجرین کی آباد کاری سے متعلق اختلافات ہیں۔ جرمنی نے سب سے زیادہ شامی مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے، جس وجہ سے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

اقوام متحدہ کا جنگی جرائم کی تحقیقات کا کمیشن شام میں کچھ نہیں کر سکتا

ماضی میں جنگی جرائم کے مقدمات میں وکیلِ استغاثہ کے فرائص انجام دینے والی کارلہ دل پونٹے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے کمیشن سے استعفیٰ دے رہی ہیں کیونکہ یہ کمیشن ’کچھ بھی نہیں کرتا‘۔ کارلہ دل پونٹے اقوام متحدہ کے شام کے حوالے سے کمیشن کا تقریباً پانچ سال تک حصہ رہی ہیں۔ شامی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کارلہ دل پونٹے سوئس حکومت میں وکیلِ استغاثہ کے عہدے پر فائض رہ چکی ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویا کی جنگوں میں جرائم کی تفتیشات کی تھیں۔

ایک سوئس اخبار ’بلک‘ سے بات کرتے ہوئے کارلہ دل پونٹے نے کہا کہ ’میں تنگ آ چکی ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے۔ میں نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے اور آئندہ چند روز میں اسے جمع کروا دوں گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’شام میں ہر کوئی بری سائڈ پر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے انسانیت کے خلاف انتہائی گھنونے جرائم سرزد کیے ہیں اور جزب مخالف میں بھی شدت پسند اور دہشتگرد ہیں۔‘
بعد میں انھوں نے لوکارنو فلم فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کمیشن چھوڑ رہی ہوں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیکیورٹی کونسل کچھ نہیں کرتی، میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ شام کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے۔‘

اس کمیشن کی ذمہ داریوں میں شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیشن نے ایک درجن کے قریب رپورٹیں جاری کیں ہیں تاہم ان کی تحقیقاتی ٹیم کبھی بھی خود شام نہیں جا سکی ہے۔ ان رپورٹوں کے لیے ان کا انحصار انٹرویوز، تصاویر، میڈیکل ریکارڈز اور دیگر دستاویزات پر رہا ہے۔ کارلہ دل پونٹے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جرائم پہلے کبھی نہیں دیکھے، نہ سابق یوگوسلاویا میں اور نہ ہی روانڈا میں۔ کارلہ دل پونٹے اور کمیشن کے دیگر اراکین نے کئی بار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے شام کی صورتحال کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔