چین انڈیا سرحد پر کشیدگی کیوں ہے ؟

انڈیا، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انڈیا کی حکومت کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر ‘ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور موجودہ صورت میں اہم تبدیلی کا باعث’ ہے۔ دونوں ملک سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے منصوبوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چین میں ڈوگلام اور انڈیا میں ڈوكلام کہا جانے والا علاقہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کا اہم سب ہے۔

اپنے فوجی ہارڈویئر کی تجدید کے ساتھ ہی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سڑکوں، پلوں، ریل لنک اور فضائیہ کی بہتری کے لیے تعمیرات کے منصوبوں میں دونوں ہی نے کافی پیسہ لگایا ہے اور بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کو بھی جھونک رکھا ہے۔ بھارت کے ساتھ ملحق سرحد پر چین نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اپنی معروف صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس نے سرحد پر 15 بڑے ہوائی اڈوں اور 27 چھوٹی ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی ہے۔ ان میں سے سب سے خاص ہر موسم میں استعمال کیا جانے والا تبت کا ہوائی اڈہ ہے، جہاں اعلیٰ درجے کے جنگی طیاروں کو تعینات کیا گيا ہے۔

فضائی شعبے کے علاوہ، کچھ لوگوں کے مطابق چین کے تبت اور یونان صوبے میں وسیع سڑک اور ریل نیٹ ورک بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی فوج کے پاس اب صرف 48 گھنٹوں میں بھارت سے متصل چينی سرحد پر پہنچنے کی صلاحیت ہے۔ بعض خبروں کے مطابق، چین نے حقیقی کنٹرول لائن کے پاس 31 راستوں پر سڑکیں بنائی ہیں۔ اگرچہ چین نے اس شعبے میں ابتدائی برتری ضرور حاصل کر لی ہے تاہم انڈیا کی ایک ویب سائٹ ‘فرسٹ پوسٹ’ کے مطابق انڈیا بھی ‘گذشتہ چند سالوں میں نیند سے جاگ گیا ہے۔’

برسوں کی غفلت کے بعد، انڈیا بہت تیزی سے اپنی سرحدوں پر بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ چین کی برتری کے اثر کو کم کیا جا سکے۔ جولائی میں ایک بھارتی وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ انڈیا نے چین سے متصل سرحد پر 73 سڑکوں کو بنانے کی منظوری دی ہے لیکن ان میں سے اب تک صرف 30 ہی مکمل کی جا سکی ہیں۔ چین کا دعویٰ ہے کہ چین اور پاکستان کی سرحد پر وہ ’14 سٹریٹجک طور پر اہم ریلوے لائنیں’ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے مد نظر انڈیا اروناچل پردیش کے توانگ میں ریل لنک تعمیر کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔ مئی میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرقی ریاست آسام میں ملک کے سب سے طویل پل کا افتتاح کیا تھا تاکہ فوجیوں اور ساز و سامان کی فوری طور پر آمد و رفت میں آسانی ہو سکے۔

فضائی نقطۂ نظر سے انڈیا اروناچل کے توانگ اور دراگ میں دو ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ (اے ایل جی) بنانے کے ساتھ ہی شمال مشرقی علاقے میں پہلے سے تعمیر شدہ چھ اے ایل جی کو اپ گریڈ بھی کر رہا ہے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق انڈیا کے پاس چین کی سرحد کے مغربی اور مشرقی حصے سے ملحق 31 فضائی علاقے ہیں جن میں آسام کے چابا اور تتیج پور کا ائرپورٹ سب سے خاص ہے۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فضائی معاملے میں انڈیا کو چین پر برتری حاصل ہے، کیونکہ چین کے فضائی اڈے اونچائی پر ہیں جہاں فوجی رسد اور ایندھن کو پہنچانا آسان نہیں ہوتا۔ لڑائی کی صورت میں تیزی سے جواب دینے کے لیے اعلیٰ درجے کے بنیادی ڈھانچے کافی مدد گار ہو تے ہیں۔ اسی لیے انڈیا اور چین متنازع سرحدی علاقوں میں سٹریٹجک ایڈوانٹیج حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے تعمیراتی کام پر نظر رکھتے ہیں اور جب بھی ایسے بڑے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے تو اکثر کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔

پی ایل اے اکیڈمی آف ملٹری سائنس میں رسرچر چاو شيازو چین کی سڑک کی تعمیر پر انڈيا کے خدشات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ انڈيا کی جانب سے منظور کردہ حالیہ منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بات آتی ہے تب انڈيا دہرے معیار اپناتا ہے۔ انڈین فوج کے ایک سابق افسر کہتے ہیں: ‘شاید 20 سال لگیں گے، لیکن ایک بار جب ہم چینی سرحد کے نزدیک اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کر لیں گے تب ہم بہتر مواصلاتی رابطوں سے لیس ہوں گے اور تنازعات پر بے فكر رہیں گے۔ لیکن ابھی نہیں۔’ انڈیا کا اپنے دفاعی بنیادی ڈھانچے میں توسیع کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا سٹریٹجک تبدیلی پر کتنا زور ہے۔

اس نئی منطق کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی امور کے ماہر کے وی کبیر کہتے ہیں کہ نیا بنیادی ڈھانچہ انڈيا کو چین کی جانب سے ہونے والی کسی بھی جرات آزمائی کا جواب دینے میں مدد ملے گی۔ لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے برابر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں انڈیا کو ابھی ایک دہائی کا وقت لگے گا۔ چین اس علاقے میں اپنے موثر نقل و حمل کے نیٹ ورک کو زور شور سے دکھاتا رہا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق چین کی تیز رفتار اور لاجسٹکس صلاحیت کا انڈیا سے کوئی میل نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ تبت میں لائیو فائرنگ ڈرل انڈیا کو دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاکہ چین کے بہتر بنیادی ڈھانچے کا پیغام دیا جا سکے۔

شنگھائی انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایک ماہر وانگ ڈیہو کا کہنا ہے کہ فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت اس بات کی مظہر ہے کہ چین کی مغربی حدود کی حفاظت کرنا کتنا آسان ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی فوج کے ماہر سری کانت كوڈاپلّی کا کہنا ہے کہ فوج کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی صورت میں انڈيا کو برتری حاصل ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور رسد کی فراہمی کے معاملے میں چین بہت مضبوط ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلا ہوں

لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی
نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کرکے بھارتی فوج کے ایک میجر اور ایک سپاہی کو ہلاک اور ایک ساتھی کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔

عہدیداروں کے مطابق، فوج مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں موجود عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے وہاں صبح چار بجے پہنچی۔ لیکن، گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے اُن پر بیک وقت کئی اطراف سے اندھا دھند گولیاں چلا دیں۔ یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ حفاظتی دستوں کو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور فائرنگ میں بھارتی فوج کا ایک افسر میجر کملیش پانڈے اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور سپاہی شدید طور پر زخمی ہو گیا۔

حملہ آور اندھیرے کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے علاقے سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پانچ فوجیوں کو ہلاک اور کئی ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر، ابو دُجانہ اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں شہادت سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی۔ ابو دُجانہ عرف حافظ کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا اور ان کی شہادت کو بھارتی حکام نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف چلائی جانے والی فوجی مُہم کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا تھا۔

ابو دُجانہ کا نام بھارتی فوج کی طرف سے اس سال جون میں جاری کی گئی اُن بارہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا جنہیں “سب سے خطرناک‘‘ قرار دیدیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں زندہ یا مُردہ پکڑنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔ لیکن، جیسا کہ آڈیو سے پتہ چلتا ہے ابو دُجانہ کو ہھتیار ڈال کر خود کو حفاظتی دستوں کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی اور کہا کہ وہ شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلے ہیں اور ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

جنگ کے 55 سال بعد بھی انڈیا نے سبق نہیں سیکھا : چینی میڈیا

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بین الاقوامی خاص طور پر چین کے میڈیا نے انڈیا کے موقف پر سوال اٹھائے ہیں۔ چینی میڈیا نے انڈیا میں انگریزی اخبار دا ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے جس کی ہیڈ لائن ہے ’ڈوکلام تنازع : نارازگی کے باوجود چین جنگ نہیں چاہتا، انڈیا کو یقین‘۔ اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کے دفاعی ادارے کو یقین ہے کہ تمام اشتعال انگیز باتوں کے باوجود چین جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ یہاں تک کہ کوئی چھوٹی موٹی فوجی کارروائی بھی نہیں کرے گا۔‘

چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی ویب سائٹ پر اس سے متعلق مضمون کی ہیڈلائن کے ساتھ لکھا ہے کہ ’چین جنگ نہیں چھیڑے گا یہ طے ہے، کیا انڈیا منتر پڑھ رہا ہے؟‘ مضمون میں لکھا ہے ’ہم حیران ہیں کہ انڈین دفائی ادارے میڈیا میں دعوے کر رہی ہیں کہ چین کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ دلی خود بدترین حالات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن انڈیا کے عوام کو بہترین دنوں کے لیے تیار کرنے کی کوش کر رہا ہے۔‘

کیا انڈیا بھول گیا ہے؟
مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ کے 55 برس بعد بھی انڈیا بہت بھولا ہے۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان لوگوں نے سبق نہیں سیکھا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار نے لکھا ہے ’انڈیا کو لگتا ہے لڑائی میں امریکہ ان کی مدد کرے گا اور چین پر نفسیاتی دباؤ ڈالے گا۔ اگرچہ ان کو سِنو ۔ یو ایس گریٹ پاور گیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ انڈیا شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے۔‘

پاکستانی میڈیا کا دعویٰ
چین میں پاکستانی اخبار دا نیوز انٹرنیشنل کی اس خبر کو بھی کوریج دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے آخرکار چین کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور چھہ اگست کو ڈوکلام سے فوج ہٹا لی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے ڈوکلام سے اپنی زیادہ تر فوج ہٹا لی اور سرحد پر صرف پچاس فوجی ہی تقعینات ہیں۔ اس سے قبل چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے بیان دیا تھا کہ دو اگست تک ڈوکلام میں انڈین فوجیوں کی تعداد 400 سے کم ہو کر 48 ہو گئی تھی۔ تاہم انڈین اہلکاروں نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

کیا کہتے ہیں چین کے شہری
بی جے پی کے اہلکاروں کی طرف سے انڈیا میں چینی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کا چین میں خوب مزاق اڑایا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا میں بھی اس موضوع کو توجہ دی گئی ہے۔ گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے ’کچھ انڈین ادارے ان انڈین فوجیوں کے لیے جھنڈے لہرانے اور جنگ کی نعرے لگانے سے بعض نہیں آ رہے ہیں جو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر گئے اور اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں۔‘ ایک چینی نے لکھا ’چین میں بننے والا سامان نہیں خریدیں گے؟ کیا آپ کے پاس کوئی اور راستہ ہے؟‘ ایک دوسرے چینی نے لکھا کہ ’انڈیا اور دیگر ہمسایہ ممالک کے تاجر چینی اشیا اس لیے خریدتے ہیں کیوںکہ یہاں کا سامان سستہ اور اچھے معیار کا ہے۔ آپ اپنا راستہ خود کاٹ رہے ہیں۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

پھر کشمیر کو شام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا

گذشتہ برس آٹھ جولائی کی شام مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خوف اور خونریزی کی جو لہر برپا کر دی وہ ایک برس گزر جانے کے باوجود جاری ہے۔ 22 سالہ برہان وانی کی پہلی برسی پر علیحدگی پسندوں نے اُن کے آبائی قصبے ترال میں تعزیتی اجلاس کی کال دی تھی۔ لیکن ترال اور سرینگر کے علاوہ بیشتر اضلاع میں عوامی مارچ کو روکنے کے لیے جمعرات سے ہی سخت ترین سکیورٹی پابندیاں عائد کی گئیں ۔ اندرونی ریل سروس معطل ہے اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

برہان کو کوکر ناگ قصبے کے بم ڈورہ گاؤں میں ایک مختصر تصادم کے دوران دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اردگرد کے علاقوں سے لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے ترال کی طرف چل پڑے۔ لیکن پولیس، سی آر پی ایف اور فوج نے جنازے کے لیے جا رہے ان جلوسوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ مشتعل ہوگئے۔ پہلے پانچ روز کے دوران 38 افراد مارے گئے۔ بعد میں کئی ماہ تک ان ہی زیادتیوں کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا اور حکومت نے بھی فورسز کو بھرپور طاقت استعمال کرنے کی ہدایت کی۔

اس ایک سال میں 133 افراد ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 1247 ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں آہنی چھرے یعنی پیلیٹس لگی ہیں۔ پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 300 کو سنگین الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔
اس عرصے میں عوامی احتجاج کی شدت میں زبردست اضافہ ہوا۔ بھارتی فوج کے سربراہ کی طرف سے وارننگ کے باوجود لوگ تصادم کی جگہوں پر محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے فورسز پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ اس دوران ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ ایسے واقعات میں اب تک دو خواتین سمیت 20 افراد مارے گئے ہیں۔
دوسری طرف مسلح حملوں میں اضافہ ہوا اور فوج کی طرف سے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

احتجاجی لہر کے دوران کشمیر کے سکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات بھی سرگرم ہو گئے اور کئی ماہ سے وہ ہند مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت اکثر اوقات سکولوں اور کالجوں میں تعطیل کا اعلان کرتی ہے۔ صحافی ریاض ملک کہتے ہیں: ’احتجاجی لہر نے کشمیر میں عسکری، نفسیاتی اور سیاسی تبدیلیاں رونما کر دی ہیں۔ ایک یہ کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کو ایک بار پھر عوامی قبولیت حاصل ہو گئی ہے اور لوگ اسے مقدس سمجھتے ہیں۔ سیاسی سطح پر ہند نواز خیمے کی عوامی ساکھ تقریباً ختم ہو گئی ہے جسکا اندازہ پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں 93 فی صد بائیکاٹ سے ہوا، اور اب تک بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے علیحدگی پسند بھی ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے ہیں۔

تیسری تبدیلی نفسیاتی ہے۔ لوگوں کے دل سے موت کا خوف نکل گیا ہے اور وہ مسلح افواج کے سامنے حیران کن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں، اور ہر ایسے واقعہ میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اور اگلی بار پھر یہی ماحول ہوتا ہے۔‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا احتجاجی لہر جاری رہے گی یا حالات میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟ مبصرین کہتے ہیں کہ اس احتجاجی لہر کے دو پہلو ہیں، کشمیر اور نئی دلی۔ جہاں کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور مسلح قیادت کا موقف سخت ہو گیا ہے وہیں انڈین حکومت بھی کسی طرح کی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایک ڈیڈ لاک ہے اور اس ڈیڈ لاک کو یوں ہی جاری رہنے دیا گیا تو علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کے بقول پھر کشمیر کو شام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

یوم شہادت برہان وانی : شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

آٹھ جولائی 2016 کا دن مقبوضہ کشمیر کیلئے ایک یوم سیاہ تھا، اس دن بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ ایک ایسا مرد مجاہد بنا جس نے اپنے شباب کے آغاز میں بھارتی سورمائوں کو للکارا۔ تحریک آزادی کو ایک نئی روح اور زندگی دینے والے برہان وانی کی اطلاع دینے والے کیلئے بھارت سرکار نے 10 لاکھ روپے کا اعلان کر رکھا تھا۔ بھارتی فورسز کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے اس نوجوان کی ایک کال پر ہزاروں نوجوانوں نے لبیک کہا اور بھارتی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کر دیں ۔ بھارتی سفاکی اور ناجائز قبضے کے خلاف جدو جہد میں شامل ہر کشمیری نوجوان کو اپنا مستقبل معلوم ہے لیکن وہ اس کی قیمت چکانے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد اور آمریت کے روپ میں چھپی جمہوریت کے غنڈوں نے ظلم اور تشدد کے تمام ہتھکنڈے آزما لئے ہیں۔ بچوں کو سنگینوں اور برچھوں سے چھلنی کرنے سے لے کر عورتوں اور بوڑھوں پر بے تحاشا تشدد اور نوجوانوں کو اغوا کر کے بے نام قبروں میں پھینک دینا اور نہتے کشمیریوں پر گولیاں برسانا اب وہاں ایک معمول بن چکا ہے ۔ لیکن جوں جوں ظلم بڑھ رہا ہے تحریک آزادی میں ایک نیا ولولہ اور رُخ سامنے آرہا ہے، وانی اپنے پیچھے ہزاروں سر فروشوں کی ایک فوج تیار کر کے شہید ہوا جو اس کے بعد آزادی کی اس مسلح جد و جہد میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ برہان وانی کے بھائی کو شہید کیا گیا، اس کے گھر والوں پر مصیبت کے پہاڑ توڑ ے گئے لیکن اس کے باپ مرد قلندر کے پائوں میں لغزش نہ آئی ، جس دن وانی کی شہادت ہوئی اس کے اگلے روز 9 کشمیری نوجوانوں نے جام شہادت نوش کر کے اس کے مشن کی آبیاری کی ۔

وادی پر ناجائز قابضین کیخلاف آواز اٹھانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن جب برہان وانی نے سوشل میڈیا کو ،کشمیری نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے استعمال کرنا شروع کیا تو بھارتی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس کے اداروں نے اس کے گھر کی نگرانی شروع کر دی۔ قابض افواج چاہتی تھیں کہ اسے زندہ گرفتار کیا جائے لیکن اس نے بھارتی درندوں کو یہ موقع نہ دیا ۔ برہان وانی جونہی شعور کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے بھی لاکھوں کشمیریوں کی طرح اپنی سر زمین پربھارتی فوج کے بھاری بھرکم اور بدبو دار بوٹوں کی چاپ سنی، جوں جوں وانی جوان ہوتے گئے ان کو قابض فوج کے کرتوتوں کا علم ہوتا گیا ۔

میٹرک پاس کرنے کے فوری بعد 2010ء میں اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو منظم کرنے اور جذبہ آزادی کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے قیادت نے اسے جنوبی کشمیر کا کمانڈر مقرر کیا ، اس سے پہلے لوگ اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے تھے ۔ جب اس کا بڑا بھائی خالد اپریل 2015ء میں قابض افواج کے ہاتھوں شہید ہوا تو پھر مظفر وانی منظر عام پر آیا۔ خالد کی لاش پر زخموں کے علاوہ تشدد کے نشانات بھی پائے گئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسے پہلے گرفتار کیا گیا اور اذیتیں دیکر اس کی جان لی گئی تھی، اس کے بعد علاقے کے لوگوں کی نظریں چھوٹے بھائی برہان وانی کی طرف دیکھنے لگیں،اپنی خدا داد صلاحیتوں اور قیادت کی مختصر تربیت کی بنیاد پر وانی بہت جلد کشمیری نوجوانوں میں ایک متحر ک اور مقبول کمانڈر کی حیثیت سے سامنا آیا۔

 اس نے قابض افواج کو ناقابل حد تک نقصان پہنچایا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نے ایسی حکمت عملی اختیا ر کی کہ اس کے زیر کنٹرول علاقے میں بھارتی فوج کی گرفت ڈھیلی پڑ نے لگی۔ اس کی جنگ مقامی پولیس کے بجائے بھارتی فوجی درندوں سے تھی جو نہتے کشمیریوں کو نشانہ بناتے تھے ۔ شہادت سے ایک ہفتہ پہلے بھارتی غنڈوں نے اس کو اچانک حملے میں شہید کرنا چاہا لیکن ان کے مذموم مقاصد پورے نہ ہو سکے، آزادی کی شمع کے لیے اپنا خون انڈیلنے والے اور لاکھوں کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن وانی کو آٹھ جولائی 2016 کو جمعہ کی شام بھارت کی بھاری فوج نے ایک خون ریز مقابلے میں شہید کر دیا ۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ملکی اور عالمی میڈیا نے اسے کشمیری نوجوانوں کا مقبول ترین کمانڈر قرار دیا ہے ۔

طارق احسان غوری

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن منانیوالے کشمیریوں پر بھارتی فوج کا دھاوا

مقبوضہ کشمیر میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منانے والوں پر قابض بھارتی فورسز نے دھاوا بول دیا۔ کشمیری میڈیا کے مطابق شوپیاں ضلع کے گائوں ویہائل میں پاکستان ٹیم کے حق میں خوشی اور جشن کا سماں تھا، جسے بھارتی فوج کو ایک آنکھ نہ بھایا، اہلکاروں نے وہاں پارک کی گئی درجنوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، رہائشی گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور بند دکانوں کو بھی لوٹ لیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے ویہائل کے درجنوں رہائشی پٹاخے پھوڑ کر پاک کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منا رہے تھے، جشن کی تقریبات کے دوران قریب ہی واقع چوہدرگند فوجی کیمپ سے اہلکار آئے انہوں نے ہوائی فائرنگ کی بند دکانوں کے شٹر توڑ دیے اور اور دکانوں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی کھڑی گاڑیوں کے بھی شیشے توڑے ، رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا۔

کشمیر میں جیپ پر شخص کو باندھنے والے بھارتی افسر کے لیے فوجی اعزاز

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انسان کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر اس کا استعمال کرنے والے فوجی کو انڈیا کے فوجی سربراہ کی جانب سے اعزاز دیا گيا ہے۔ میجر جنرل لیٹول گوگوئی نے مبینہ طور پر اپنے کارواں کو سنگ باروں سے بچانے کے لیے ایک مقامی شخص کو جیپ سے باندھا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ انھیں علاقے میں جاری سرکشی کے خلاف ان کی مستقل کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے اور اس کا جیپ پر کسی شخص کو باندھنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ ‘میجر گوگوئی کو انسرجینسی مخالف ان کی مستقل کوششوں کے لیے آرمی سٹاف کی جانب سے توصیفی کارڈ دیا گیا ہے۔’
خیال رہے کہ جیپ والے واقعے کا ویڈیو اپریل میں وائرل ہوا تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے غیر انسانی فعل قرار دیا تھا۔

فوج نے کہا ہے کہ اس کے متعلق جانچ جاری ہے۔ اپریل میں کشمیر میں ضمنی انتخابات منعقد کرانے کی کوششوں کے دوران تصادم کی تازہ لہر نظر آئی ہے۔
کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کے خلاف فائرنگ کا الزام ہے جبکہ مقامی مظاہرین سکیورٹی فور‎سز پر سنگ باری کرتے ہیں۔ اس سے قبل ایک فوجی کو کشمیریوں کے ہاتھوں تنگ کیے جانے والے ویڈیو کے وائرل ہونے بعد سے ملک میں کشمیریوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں انڈیا کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔
شدید بے روزگاری اور مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی ظلم و زیادتی کی شکایتوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دل و دماغ پر صرف اور صرف آزادی کی آرزو طاری

سڑکوں اور کالجوں پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف، ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے گئیں۔ وادی میں ’سکون’ پیدا کرنے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا۔ نئی دہلی سے لوٹنے پر وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ 22 سوشل میڈیا ویب سائٹس اور میسنجر اپیلکیشنز پر ایک ماہ کی پابندی لگانا تھا۔ یہ پابندی اس مواد کی گردش کو روکنے کے لیے عائد کی گئی تھی، جو حکومت کے نزدیک ’غیر مصدقہ، قابل اعتراض اور اشتعال انگیز’ ہے اور کسی بھی قسم کی تصدیق کے بغیر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ میسجنگ سروسز جیسے ذرائع پر فراہم ہونے سے امن عامہ کو خطرہ ہو سکتا ہے اور ریاست میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے’۔

تھری-جی اور فور-جی جیسی تیز رفتار انٹرنیٹ سروس کو بھی منقطع کر دیا گیا، صرف ٹو- جی انٹرنیٹ سروس بحال ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہندوستان تشدد کے ذریعے کشمیریوں پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے قابل نہیں۔ برہان وانی کو مارنے، پیلٹ گن کے استعمال سے شہریوں کی کثیر تعداد کو اندھے پن کا شکار بنانے، گرفتاریاں اور پولیس کے تشدد کے باوجود وہ اپنی خواہش کو حقیقی روپ نہیں دے پائے ہیں۔ چونکہ کشمیری اپنے لب سینے سے انکاری ہیں، لہٰذا ہندوستانی ریاست ان کی آوازوں کو مکمل طور پر دبانے کو ہی مسئلے کا واحد حل سمجھتی ہے۔

 پہلے تو کشمیر میں قائم ہونے والی حکومتیں لوگوں کے کسی بھی اجتماع پر کریک ڈاؤن کر دیتی تھیں، پھر چاہے وہ اجتماع آزادی پسند جماعتوں کے تنظیمی اجلاس ہوں یا پھر عام شہریوں کی جانب سے منعقد کی جانے والی کسی کتاب کی تقریبِ رونمائی ہو۔ طلبہ سیاست پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ کسی بھی قسم کے تحریکی عمل کی تھوڑی سی بھی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی۔ تاہم، سوشل میڈیا کی آمد نے لوگوں کو ایک نئے ہتھیار سے لیس کر دیا۔ ہندوستان کی حامی سیاسی جماعتوں نے بھی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، مگر ان کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ہندوستانی ریاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان جس طرح کشمیر کی سڑکوں پر شکست خوردہ نظر آ رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی بری طرح شکست کا سامنا کر رہا ہے۔ کیوں نہ ہو، چاہے آپ پتھر پھینکیں یا ٹوئیٹ کریں، دونوں صورتوں میں آپ خود پر مسلط قوت کو ہی ڈراتے ہیں۔

ریاست ایک فیس بک پوسٹ سے ڈر جاتی ہے، ایک نظم سے خائف ہوتی ہے۔ ایک وڈیو سے بھی اس پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔ دراصل ہندوستان حقیقت سے ہی خوف زدہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مدد سے اب ہندوستانی بربریت کو براہ راست پوری دنیا میں نشر کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں یہ خبریں باہری دنیا کے لیے نئی ہیں، وہاں یہ بربریت اور تشدد کشمیریوں کے لیے ذرا بھی اجنبی نہیں۔ ہندوستانی ریاست کشمیر کے لوگوں سے صرف اور صرف تشدد کی زبان میں بولتی ہے۔

کشمیر میں ہندوستان کی حامی سیاسی جماعتیں بھی صرف قوت کے استعمال سے ہی انتخابات میں فتح یاب ہوتی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے اہلکار ایک سے دوسرے گھر جا کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا بھلے ہی ان ووٹوں کو ’ہندوستان کے حق میں ووٹ ’ گنوائے، کہ کشمیری ’اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے باہر نکلے’، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ‘دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت’ یہاں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے کون سے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

ہندوستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، ‘کشمیر ماہرین’ سے لیس ابھرتے تھنک ٹینکس، اور ہندوسانی صحافیوں کا ایک میزبان اس بے وقوفانہ خام خیالی کا شکار ہے کہ اس پابندی کے ساتھ ہندوستان کشمیر میں شورش کو ٹھنڈا کر پائے گا۔ حمایتی یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پابندی سے حکومت کو تشدد اور پتھراؤ روکنے میں مدد فراہم ہو گی۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا ہے کہ وہ اپنے ایسے رویوں کی وجہ سے ہی لوگوں کے ذہنوں اور دلوں کو جیت نہیں پائے ہیں۔ افسوس کہ دل جیتنے کی بات تو خام خیالی ٹھہری، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کے دل و دماغ پر صرف اور صرف آزادی کی آرزؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب جب میں اس تحریر کو قلمبند کر رہا ہوں، سری نگر سے قریب 170 کلومیٹر دور چوکیبال، کپواڑہ میں پتھراؤ شروع ہو چکا ہے۔

بشارت علی

کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے وادی میں فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی 16 ویب سائٹس تک عوامی رسائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ دفترِ داخلہ نے ایک حکم نامے میں 1885 میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ حکومت امن عامہ کے مفاد میں یہ اقدام اُٹھا رہی ہے۔ حکم نامے کے مطابق یہ پابندی کم از کم ایک ماہ کی مدت تک رہے گی۔ سرکاری اعلان کے مطابق کشمیریوں کو فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، کیو کیو، وی چیٹ، کیوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بائیڈو، سکائپ، ، وائبر، لائن، سنیپ چیٹ، پنٹریسٹ، انسٹا گرام اور ریڈاٹ تک رسائی نہیں ہو گی۔

یہ حکم ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منگل کو سرینگر میں بھارتی فوج، نیم فوجی اداروں، خفیہ سروسز اور سول انتظامیہ کا ایک اعلیٰ اجلاس منعقد ہوا تھا جس کی صدارت وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کی تھی۔ اس اجلاس میں وادی میں آئندہ تین ماہ کے لیے سکیورٹی ایجنڈا مرتب کیا گیا تاہم اس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ کشمیر کے کشیدہ حالات میں سماجی رابطوں کا واحد ذریعہ سوشل میڈیا ہی تھا اور اس حکومتی پابندی پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صحافیوں، تاجروں اور طلبہ نے اس فیصلے کو ‘انسانیت کے خلاف جرم’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ایسا کر کے ‘اعترافِ شکست’ کر رہی ہے۔

 

صحافی ریاض ملک کا کہنا تھا کہ ‘نو اپریل کو جب ضمنی انتخابات ہوئے تو ایک دن پہلے ہی انٹرنیٹ معطل کیا گیا لیکن اس کے باوجود مظاہرے ہوئے اور ہلاکتیں ہوئیں۔’ ان کے مطابق غور طلب ہے کہ پیر کو وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی دلی میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے بغیر کسی اور چیز سے ممکن نہیں اور دو دن بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ برس نوجوان عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد علاقے میں احتجاج اور مظاہروں کی لہر پھیل گئی تھی۔ چھ ماہ تک حالات انتہائی کشیدہ رہے اور تقریباً 100 مظاہرین سکیورٹی فورسز کے ایکشن میں مارے گئے۔ رواں سال اپریل میں جو کشمیر کی پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لیے ضمنی انتخابات کرائے گئے تو حالات پھر سے کشیدہ ہو گئے۔ نو اپریل سے اب تک مظاہروں میں دس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے اب طلبا و طالبات سڑکوں پر ہند مخالف مظاہرے کر رہے ہیں جس کے بعد حکومت آئے روز تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کرتی رہی ہے۔

بہادر کشمیری خواتین کی خون بھری جدوجہد

 انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والی سنگ باری کی تصاویر میں پہلے زیادہ تر لڑکے دکھائی دیتے تھے لیکن اب سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے  جھڑپوں میں لڑکیاں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ ایک ہفتے کی پابندی کے بعد وادی کشمیر کے سکول اور کالج جب دوبارہ کھلے تو سڑکوں پر کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔

 ویسے تو کشمیر میں احتجاج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن لڑکیوں کو سنگ باری میں شامل ہونے نئے رجحان کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اب کشمیری لڑکیاں بھی آزادی اور انڈیا مخالفت کے نعرے لگا رہی ہیں۔

ان میں سے اکثر سکول اور کالج جانے والی لڑکیاں ہیں۔ ان کی پیٹھ پر لدا بیگ اور یونیفارم اس تصدیق کرتے ہیں۔ کشمیر پر نظر رکھنے والے لوگ اس وادی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد جھڑپوں کا نیا چہرہ قرار دے رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں سکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج کا جھنڈا بلند کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر تقریباً وائرل ہو گئی ہیں۔

 تصاویر میں لڑکیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو پولیس اور سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہی ہیں۔ یہ تصاویر سری نگر کے مولانا آزاد روڈ پر موجود گورنمنٹ کالج فار ویمن کے قریب کی ہیں۔ سماجی حلقوں میں گورنمنٹ کالج فار ویمن کو ممتاز کالج سمجھا جاتا ہے۔

 24 اپریل کو سری نگر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ طالبات کی جھڑپیں ہوئیں۔ اپریل میں ہی سری نگر میں ہوئے ضمنی انتخابات کے دوران محض 7 فیصد ووٹنگ کے درمیان خوب تشدد دیکھنے کو ملا۔ صورت حال اس وقت اور کشیدہ ہو گئی جب سکیورٹی فورس اور کشمیری نوجوان اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی عکاسی والے ویڈیوز کو شیئرز کیا جانے لگا۔

 گذشتہ برس جولائی میں بھارتی سکیورٹی فورسز سے ہوئی تصادم میں عسکریت پسند برہان وانی کی موت کے بعد شروع ہونے والے تشدد میں 100 سے زیادہ لوگوں کی شہادت ہوئی تھی۔ چار ماہ تک مسلم اکثریتی آبادی والی وادی سلگتی رہی، اس میں 55 دن تو کرفیو لگا رہا۔ اس موسم گرما میں بھی صورت حال بہت بہتر نہیں نظر آرہی ہے۔