کیا کشمیر فلسطین بن جائے گا ؟

جب 1950 میں انڈیا کی پارلیمنٹ نے ملک کا آئین منظور کیا تو اس میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا۔ اس دفعہ کے تحت انڈیا کی کسی بھی ریاست کا شہری کشمیر میں زمین یا دوسری جائیداد کا قانونی مالک نہیں بن سکتا۔ کشمیر میں سرکاری ملازمت کے لیے عرضی نہیں دے سکتا اور مقامی حکومت کی سکالرشپ کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ لیکن شہری حقوق کی مزید وضاحت چار سال بعد انڈین آئین میں دفعہ 35-A کے تحت کی گئی۔ اس میں واضح کیا گیا کہ کشمیریوں کو پورے انڈیا میں شہری حقوق حاصل ہونگے لیکن دیگر ریاستوں کے انڈین باشندوں کو کشمیر میں یہ حقوق نہیں ہوں گے۔ دفعہ 370 کے تحت کشمیر کے حکمران کو وزیراعظم کہلایا جانا تھا اور ریاست کے سربراہ کو صدر کا عہدہ ملنا تھا۔

لیکن 1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد یہ عہدے باقی ریاستوں کی طرح وزیراعلیٰ اور گورنر کہلائے۔ تاہم شہریت کے خصوصی حقوق کو دفعہ 35-A کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ تین سال قبل جب انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی اور کشمیر میں بھی بی جے پی اقتدار کا حصہ بنی تو پورے ملک میں یہ بحث چھڑی کہ کشمیر کو انڈین وفاق میں مکمل طور پر ضم کرنے میں ہر بار 35-A ہی رکاوٹ ہے۔ آر ایس ایس کے قریب سمجھی جانے والی ایک رضاکار تنظیم ’وی دی سٹیزنز‘ نے سپریم کورٹ میں اسی دفعہ کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس پر سپریم کورٹ نے حمایتی ریمارکس کے بعد پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی بینچ قائم کیا ہے۔ انڈین حکومت اور بھاجپا کی قیادت کی طرف سے بھی یہ اشارے مل رہے ہیں کہ پورا سسٹم اس منفرد نظام کا خاتمہ چاہتا ہے۔

اسی وجہ سے کشمیر کے ہندنواز حلقے، سماجی اور تجارتی انجمنیں اور علیحدگی پسند قیادت آج کل مشترکہ مزاحمت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیر میں بھارتی ترنگا تھامنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ حزب مخالف کے رہنما فاروق عبداللہ نے بھی خطرناک نتائج سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ سماجی سطح پر اس اقدام کی مزاحمت کرنے والے معروف وکیل ظفرشاہ کہتے ہیں ’اگر یہ دفعہ سپریم کورٹ نے خارج کر دی تو کشمیر کو فلسطین بننے سے کون روکے گا۔ بڑی بڑی صنعتی کمپنیاں یہاں مہنگے داموں زمینیں خریدیں گے، لوگ یہاں آباد ہو جائیں گے، اور کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار اقلیت میں بدل دیا جائے گا۔‘

حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ طور گذشتہ ہفتے دفعہ 35-A کے حق میں ہڑتال کی کال دی تو جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی بھر میں عام زندگی معطل ہو گئی ۔ وزیراعلی بار بار یہ کہتی ہیں کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی نے یقین دلایا ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں ہوئی۔ سینیئر صحافی مزمل جلیل کہتے ہیں: “یہ ایک پیچیدہ آئینی مسئلہ ہے۔ لیکن سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہیں، ظاہر ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سیاسی ہی ہو گا۔‘

ریاض مسرور

بی بی سی اردو سروس سری نگر

 

حزب المجاہدین دہشت گرد نہیں

70 سال پہلے بھارت نے اقوام متحدہ سے خود قرارداد منظور کرانے کے باوجود کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کی بجائے ریاست کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس عمل کے دوران لاکھوں کشمیری شہید ہو گئے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور کشمیری نوجوانوں کا اپنے دفاع میں مزاحمت کرنا دہشت گردی نہیں لیکن امریکہ بھارت کے ایما پر تحریک آزادی کو منظم کرنے والی ایک تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح لشکر طیبہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور بھارت نے ان دونوں تنظیموں اور ان کے سربراہوں کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سے عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی جسے چین نے ویٹو کر کے ناکام بنا دیا۔

حکومت پاکستان نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی تھی اور کہا تھاکہ ان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ سید صلاح الدین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کیا ہے اور اس کا مقصد بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا لائسنس دینا ہے۔ کوئی تنظیم، گروہ یا عسکریت پسند کسی ملک پر قبضہ کر کے اپنا نظام لانے اور وہاں قائم قانونی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح کارروائی کرے تو اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند سیاسی قیادت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ بھارتی فوج اسے کچلنے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے تو کشمیری نوجوانوں کا حق ہے کہ اپنا دفاع کریں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے بہتر ہو گا کہ امریکہ بھارت پر دبائو ڈال کر اس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرائے اور عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت دلائے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلا ہوں

لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی
نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کرکے بھارتی فوج کے ایک میجر اور ایک سپاہی کو ہلاک اور ایک ساتھی کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔

عہدیداروں کے مطابق، فوج مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں موجود عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے وہاں صبح چار بجے پہنچی۔ لیکن، گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے اُن پر بیک وقت کئی اطراف سے اندھا دھند گولیاں چلا دیں۔ یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ حفاظتی دستوں کو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور فائرنگ میں بھارتی فوج کا ایک افسر میجر کملیش پانڈے اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور سپاہی شدید طور پر زخمی ہو گیا۔

حملہ آور اندھیرے کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے علاقے سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پانچ فوجیوں کو ہلاک اور کئی ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر، ابو دُجانہ اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں شہادت سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی۔ ابو دُجانہ عرف حافظ کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا اور ان کی شہادت کو بھارتی حکام نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف چلائی جانے والی فوجی مُہم کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا تھا۔

ابو دُجانہ کا نام بھارتی فوج کی طرف سے اس سال جون میں جاری کی گئی اُن بارہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا جنہیں “سب سے خطرناک‘‘ قرار دیدیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں زندہ یا مُردہ پکڑنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔ لیکن، جیسا کہ آڈیو سے پتہ چلتا ہے ابو دُجانہ کو ہھتیار ڈال کر خود کو حفاظتی دستوں کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی اور کہا کہ وہ شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلے ہیں اور ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

پھر کشمیر کو شام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا

گذشتہ برس آٹھ جولائی کی شام مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خوف اور خونریزی کی جو لہر برپا کر دی وہ ایک برس گزر جانے کے باوجود جاری ہے۔ 22 سالہ برہان وانی کی پہلی برسی پر علیحدگی پسندوں نے اُن کے آبائی قصبے ترال میں تعزیتی اجلاس کی کال دی تھی۔ لیکن ترال اور سرینگر کے علاوہ بیشتر اضلاع میں عوامی مارچ کو روکنے کے لیے جمعرات سے ہی سخت ترین سکیورٹی پابندیاں عائد کی گئیں ۔ اندرونی ریل سروس معطل ہے اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

برہان کو کوکر ناگ قصبے کے بم ڈورہ گاؤں میں ایک مختصر تصادم کے دوران دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اردگرد کے علاقوں سے لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے ترال کی طرف چل پڑے۔ لیکن پولیس، سی آر پی ایف اور فوج نے جنازے کے لیے جا رہے ان جلوسوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ مشتعل ہوگئے۔ پہلے پانچ روز کے دوران 38 افراد مارے گئے۔ بعد میں کئی ماہ تک ان ہی زیادتیوں کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا اور حکومت نے بھی فورسز کو بھرپور طاقت استعمال کرنے کی ہدایت کی۔

اس ایک سال میں 133 افراد ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 1247 ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں آہنی چھرے یعنی پیلیٹس لگی ہیں۔ پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 300 کو سنگین الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔
اس عرصے میں عوامی احتجاج کی شدت میں زبردست اضافہ ہوا۔ بھارتی فوج کے سربراہ کی طرف سے وارننگ کے باوجود لوگ تصادم کی جگہوں پر محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے فورسز پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ اس دوران ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ ایسے واقعات میں اب تک دو خواتین سمیت 20 افراد مارے گئے ہیں۔
دوسری طرف مسلح حملوں میں اضافہ ہوا اور فوج کی طرف سے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

احتجاجی لہر کے دوران کشمیر کے سکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات بھی سرگرم ہو گئے اور کئی ماہ سے وہ ہند مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت اکثر اوقات سکولوں اور کالجوں میں تعطیل کا اعلان کرتی ہے۔ صحافی ریاض ملک کہتے ہیں: ’احتجاجی لہر نے کشمیر میں عسکری، نفسیاتی اور سیاسی تبدیلیاں رونما کر دی ہیں۔ ایک یہ کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کو ایک بار پھر عوامی قبولیت حاصل ہو گئی ہے اور لوگ اسے مقدس سمجھتے ہیں۔ سیاسی سطح پر ہند نواز خیمے کی عوامی ساکھ تقریباً ختم ہو گئی ہے جسکا اندازہ پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں 93 فی صد بائیکاٹ سے ہوا، اور اب تک بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے علیحدگی پسند بھی ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے ہیں۔

تیسری تبدیلی نفسیاتی ہے۔ لوگوں کے دل سے موت کا خوف نکل گیا ہے اور وہ مسلح افواج کے سامنے حیران کن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں، اور ہر ایسے واقعہ میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اور اگلی بار پھر یہی ماحول ہوتا ہے۔‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا احتجاجی لہر جاری رہے گی یا حالات میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟ مبصرین کہتے ہیں کہ اس احتجاجی لہر کے دو پہلو ہیں، کشمیر اور نئی دلی۔ جہاں کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور مسلح قیادت کا موقف سخت ہو گیا ہے وہیں انڈین حکومت بھی کسی طرح کی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایک ڈیڈ لاک ہے اور اس ڈیڈ لاک کو یوں ہی جاری رہنے دیا گیا تو علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کے بقول پھر کشمیر کو شام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

یوم شہادت برہان وانی : شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

آٹھ جولائی 2016 کا دن مقبوضہ کشمیر کیلئے ایک یوم سیاہ تھا، اس دن بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ ایک ایسا مرد مجاہد بنا جس نے اپنے شباب کے آغاز میں بھارتی سورمائوں کو للکارا۔ تحریک آزادی کو ایک نئی روح اور زندگی دینے والے برہان وانی کی اطلاع دینے والے کیلئے بھارت سرکار نے 10 لاکھ روپے کا اعلان کر رکھا تھا۔ بھارتی فورسز کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے اس نوجوان کی ایک کال پر ہزاروں نوجوانوں نے لبیک کہا اور بھارتی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کر دیں ۔ بھارتی سفاکی اور ناجائز قبضے کے خلاف جدو جہد میں شامل ہر کشمیری نوجوان کو اپنا مستقبل معلوم ہے لیکن وہ اس کی قیمت چکانے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد اور آمریت کے روپ میں چھپی جمہوریت کے غنڈوں نے ظلم اور تشدد کے تمام ہتھکنڈے آزما لئے ہیں۔ بچوں کو سنگینوں اور برچھوں سے چھلنی کرنے سے لے کر عورتوں اور بوڑھوں پر بے تحاشا تشدد اور نوجوانوں کو اغوا کر کے بے نام قبروں میں پھینک دینا اور نہتے کشمیریوں پر گولیاں برسانا اب وہاں ایک معمول بن چکا ہے ۔ لیکن جوں جوں ظلم بڑھ رہا ہے تحریک آزادی میں ایک نیا ولولہ اور رُخ سامنے آرہا ہے، وانی اپنے پیچھے ہزاروں سر فروشوں کی ایک فوج تیار کر کے شہید ہوا جو اس کے بعد آزادی کی اس مسلح جد و جہد میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ برہان وانی کے بھائی کو شہید کیا گیا، اس کے گھر والوں پر مصیبت کے پہاڑ توڑ ے گئے لیکن اس کے باپ مرد قلندر کے پائوں میں لغزش نہ آئی ، جس دن وانی کی شہادت ہوئی اس کے اگلے روز 9 کشمیری نوجوانوں نے جام شہادت نوش کر کے اس کے مشن کی آبیاری کی ۔

وادی پر ناجائز قابضین کیخلاف آواز اٹھانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن جب برہان وانی نے سوشل میڈیا کو ،کشمیری نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے استعمال کرنا شروع کیا تو بھارتی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس کے اداروں نے اس کے گھر کی نگرانی شروع کر دی۔ قابض افواج چاہتی تھیں کہ اسے زندہ گرفتار کیا جائے لیکن اس نے بھارتی درندوں کو یہ موقع نہ دیا ۔ برہان وانی جونہی شعور کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے بھی لاکھوں کشمیریوں کی طرح اپنی سر زمین پربھارتی فوج کے بھاری بھرکم اور بدبو دار بوٹوں کی چاپ سنی، جوں جوں وانی جوان ہوتے گئے ان کو قابض فوج کے کرتوتوں کا علم ہوتا گیا ۔

میٹرک پاس کرنے کے فوری بعد 2010ء میں اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو منظم کرنے اور جذبہ آزادی کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے قیادت نے اسے جنوبی کشمیر کا کمانڈر مقرر کیا ، اس سے پہلے لوگ اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے تھے ۔ جب اس کا بڑا بھائی خالد اپریل 2015ء میں قابض افواج کے ہاتھوں شہید ہوا تو پھر مظفر وانی منظر عام پر آیا۔ خالد کی لاش پر زخموں کے علاوہ تشدد کے نشانات بھی پائے گئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسے پہلے گرفتار کیا گیا اور اذیتیں دیکر اس کی جان لی گئی تھی، اس کے بعد علاقے کے لوگوں کی نظریں چھوٹے بھائی برہان وانی کی طرف دیکھنے لگیں،اپنی خدا داد صلاحیتوں اور قیادت کی مختصر تربیت کی بنیاد پر وانی بہت جلد کشمیری نوجوانوں میں ایک متحر ک اور مقبول کمانڈر کی حیثیت سے سامنا آیا۔

 اس نے قابض افواج کو ناقابل حد تک نقصان پہنچایا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نے ایسی حکمت عملی اختیا ر کی کہ اس کے زیر کنٹرول علاقے میں بھارتی فوج کی گرفت ڈھیلی پڑ نے لگی۔ اس کی جنگ مقامی پولیس کے بجائے بھارتی فوجی درندوں سے تھی جو نہتے کشمیریوں کو نشانہ بناتے تھے ۔ شہادت سے ایک ہفتہ پہلے بھارتی غنڈوں نے اس کو اچانک حملے میں شہید کرنا چاہا لیکن ان کے مذموم مقاصد پورے نہ ہو سکے، آزادی کی شمع کے لیے اپنا خون انڈیلنے والے اور لاکھوں کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن وانی کو آٹھ جولائی 2016 کو جمعہ کی شام بھارت کی بھاری فوج نے ایک خون ریز مقابلے میں شہید کر دیا ۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ملکی اور عالمی میڈیا نے اسے کشمیری نوجوانوں کا مقبول ترین کمانڈر قرار دیا ہے ۔

طارق احسان غوری

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا تحریکِ کشمیر پر کیا اثر پڑے گا ؟

امریکہ نے انڈین وزیرِ اعظم کے دورۂ امریکہ کے موقع پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طور نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازعے کے کسی پرامن حل کا راستہ روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکہ کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 ۔ کشمیری عسکریت گلوبلائز ہو سکتی ہے
حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا۔ گذشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دُور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔

فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔ صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اُٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اُستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ، جس کا ابھی تک کردار بھی مقامی ایجنڈا بھی مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔

 ۔ حکومت ہند کو شورش دبانے کی چھوٹ ملے گی
ظاہر ہے کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کی کاروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکہ اور یورپ کے اداروں نے انڈیا پر نکتہ چینی بھی کی۔ خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے تو انڈیا کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طرف انڈین کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔

گذشتہ دنوں فوج کے سابق ایک کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہو رہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکہ کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔ لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کاروائیوں کے لیے حکومت ہند کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔

 ۔ حریت کانفرنس کی مشکلیں
علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کا ’پُرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اور تصادموں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح حریت کانفرنس کو یہاں کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمۂ خارجہ کے اعلان سے اب حریت بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنا انڈین وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں دو سے تین ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔

تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’انڈیا کو توقع تھی کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کرے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘ صحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اُس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں انڈیا کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمۂ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکہ کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔

کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکہ اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آئے۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

Sayeed Salahudeen

Syed Mohammed Yusuf Shah, popularly known as Syed Salahudeen, is the head of Hizb-ul-Mujahideen, a Kashmir-based militant terrorist group operating in Kashmir, and head of an alliance of anti-India militant groups , the United Jihad Council, that works to annex the Indian state of Jammu and Kashmir to Pakistan. Salahuddin vowed to block any peaceful resolution to the Kashmir conflict, threatened to train more Kashmiri suicide bombers, and vowed to turn the Kashmir valley “into a graveyard for Indian forces.”  He is listed on the NIA Most Wanted list. On 26 June 2017 He was named as a Specially Designated Global Terrorist by the US Department Of State.

Early life 
Yusuf Shah was the seventh child of middle class parents. He was born and raised in Soibugh, Budgam, a village in the Kashmir Valley. The partition of Kashmir between India and Pakistan happened while he was still an infant. His father worked in the Postal Department of the Indian government. Yusuf Shah initially became interested in studying medicine, but later on decided to become a civil servant. While studying Political Science at the University of Kashmir, he was influenced by the Jamaat-e-Islami, and become a member of its branch in Jammu and Kashmir.
At university, he became increasingly radicalised, and got involved in persuading Muslim women to veil themselves (observe orthodox Shariah) and also took part in processions in support of Pakistan. After university instead of taking the civil service exam he became an Islamic teacher at a madrasa. He is married, with five sons. His oldest son, Shakeel Yousuf, works as a medical assistant at Srinagar’s Sher-i-Kashmir Institute of Medical Sciences, second son Javed Yousuf works in the Education Department as computer operator, while Shahid Yousuf is a Research Fellow at the Sher-i-Kashmir University of Agricultural Science and Technology. Shah’s fourth son, Wahid Yusuf, is a doctor at Sher-i-Kashmir Institute of Medical Sciences. Mueed Yusuf, the youngest of Shah’s sons, is working at Entrepreneurship Development Institute (EDI), Srinagar, Kashmir.

 

Political life 
In 1987, Yusuf Shah decided to contest the J&K assembly election on the ticket of the Muslim United Front, a coalition of political parties in Srinagar’s Amirakadal Constituency. Mohammad Yusuf Shah who stood for the Legislative Assembly elections in 1987 from Amirakadal, Srinagar. He came second after Ghulam Mohiuddin Shah of the moderate National Conference won the seat. Mohammed Yusuf Shah was arrested and put in jail for his violent agitations.
Hizbul Mujahideen 
After his arrest for violent protests and release in 1989, he then joined Hizbul Mujahideen founded by Muhammad Ahsan Dar alias “Master” who later parted from Hizbul Mujahideen. He soon took over as the chief of Hizbul Mujahideen and then adopted nom de guerre “Sayeed Salahudeen”, named after Saladin, the 12th century Muslim political and military leader, who fought in the Crusades.
“ We are fighting Pakistan’s war in Kashmir and if it withdraws its support, the war would be fought inside Pakistan, ”
— Sayeed Salahudeen

سید صلاح الدین کے لئے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے؟

عیدالفطر کی رات امریکی حکومت نے ایک خصوصی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ انہیں عالمی دہشت گرد قرار دے ڈالا۔ اس ایگزیکٹو آرڈر کو غور سے پڑھیں۔ سید صلاح الدین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2014 میں حزب المجاہدین نے بھارت کے’’زیر انتظام‘‘ جموں و کشمیر میں ایک دھماکے کی ذمہ داری قبول کی جس میں17 افراد زخمی ہوئے۔17 افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا جس پر بھارتی حکومت خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے جبکہ بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ تسلیم نہ کر کے ٹرمپ نے بڑی زیادتی کی ہے۔

امریکی حکومت کے اس اعلان کے بعد صدر ٹرمپ کی بھارتی وزیر اعظم مودی سے ملاقات ہوئی جس میں مودی نے امریکہ سے فوجی اسلحہ خریدنے کے کچھ معاہدوں پر دستخط کئے۔ دوسرے الفاظ میں ٹرمپ نے اپنے ایک گاہک کو خوش کرنے کے لئے اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ پکڑا دیا جسے دیکھ دیکھ کر گاہک خوش ہوتا رہے گا لیکن سید صلاح الدین کو اس کاغذ کا کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہو گا۔ امریکی حکومت کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سید صلاح الدین امریکہ کا کوئی سفر نہیں کر سکتے اور امریکہ میں کوئی جائیداد یا اثاثے نہیں رکھ سکتے۔ سید صلاح الدین نے امریکہ جانا ہے نہ وہاں کوئی جائیداد خریدنی ہے پھر انہیں کیا نقصان ہو گا ؟ بھارت کے خیال میں یہ اس کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے لیکن غور کریں تو امریکہ کے اس عمل کا زیادہ فائدہ سید صلاح الدین اور کشمیر کی تحریک آزادی کو ہو گا۔ 8 جولائی کوحزب المجاہدین کے شہید کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی آنے والی ہے۔

سید صلاح الدین 8 جولائی کو پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جلسے جلوسوں اور مظاہروں کی تیاری کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دینے کا اعلان ان کے لئے غیبی امداد ثابت ہو گا اور 8 جولائی سے پہلے ہی پورے جموں و کشمیر میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے خلاف مظاہروں میں شدت آئے گی۔ سید صلاح الدین ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ انہوں نے 1987 میں سرینگر سے ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا لیکن الیکشن میں دھاندلی ہو گئی۔ یاسین ملک ان کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے۔ دھاندلی کا الزام لگانے پر دونوں کو گرفتار کر لیا گیا اور رہائی کے بعد دونوں نے عسکریت کا راستہ اختیار کر لیا۔ سید صلاح الدین کا اصل نام سید یوسف شاہ ہے اور ساتھی انہیں پیار سے پیر صاحب کہتے ہیں۔ پیر صاحب نے کبھی امریکہ پر حملے کی دھمکی نہیں دی نہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے لیکن مودی کی فرمائش پر ٹرمپ صاحب نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے کر خود ہی امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے جھنڈے بھی نذر آتش ہوں گے اور اس کی ذمہ داری پیر صاحب پر نہیں بلکہ ٹرمپ پر عائد ہو گی۔ 28 جون کو بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں میرا ایک کالم شائع ہوا جس میں اس ناچیز نے لکھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت سید صلاح الدین کو دہشت گرد نہیں بلکہ حریت پسند سمجھتی ہے اور پیر صاحب کا کہنا ہے کہ وہ بھگت سنگھ کے راستے پر چل رہے ہیں، اگر بھگت سنگھ حریت پسند تھا تو میں بھی حریت پسند ہوں اور اگر بھگت سنگھ دہشت گرد تھا تو میں بھی دہشت گرد ہوں۔ یہ کالم پڑھنے کے بعد بھارت کی ایک معروف خاتون صحافی نے پیغام بھیجا کہ اگر آپ کشمیر میں مسلح مزاحمت کرنے والوں کو حریت پسند کہتے ہیں تو کیا ہم بلوچستان میں مسلح مزاحمت کرنے والوں کو بھی حریت پسند سمجھیں؟

میں نے اس صحافی کو جواب دیا کہ کشمیر اور بلوچستان میں بڑا فرق ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں کے ذریعہ کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا ہے جبکہ بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ ہے۔ بلوچستان میں ظلم و جبر کے خلاف تو ہم بھی آواز بلند کرتے ہیں لیکن کیا آپ کو کشمیر کی تحریک آزادی میں بلوچستان والوں کے کردار کا پتا ہے؟ خاتون صحافی کچھ حیران ہو گئیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ بلوچ قوم پرستوں کیلئے انتہائی قابل احترام بزرگ دانشور اور ادیب پروفیسر عبداللہ جان جمال دینی کی آپ بیتی ’’لٹ خانہ‘‘ پڑھو۔ ’’لٹ خانہ‘‘ میں جمال دینی صاحب نے اپنے ایک ترقی پسند شاعر دوست کمال ا لدین شیرانی کا ذکر کیا ہے جنہوں نے 1947 کے جہاد کشمیر میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا تھا۔ شیرانی صاحب کا تعلق ژوب سے تھا اور جمال دینی صاحب انہیں ’’غازی‘‘ کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ ایک اور ترقی پسند انقلابی شاعر احمد فراز نے بھی جہاد کشمیر میں خود حصہ لیا تھا اور وہ زندگی کے آخری لمحات تک اپنے عالم شباب کے اس ایڈونچر پر فخر کا اظہار کیا کرتے تھے۔ امریکہ کس کس کو دہشت گرد قرار دے گا؟

آج کے کچھ نام نہاد ترقی پسند اور لبرل دانشور بھگت سنگھ سے لے کر چے گویرا کو حریت و انقلاب کی علامت قرار دیتے ہیں لیکن سید صلاح الدین کو حریت پسند تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ سید صلاح الدین سے گفتگو کریں تو وہ آپ کو کشمیر کے بارے میں علامہ اقبال کے اشعار سنانا شروع کر دیں گے۔ میں پہلے بھی اپنے قارئین کو بتا چکا ہوں، دوبارہ دہراتا ہوں کہ کشمیر کی حالیہ تحریک آزادی کی بنیادیں کھڑ ی کرنے میں علامہ اقبال کا اہم کردار ہے۔ پیام مشرق میں ان کی نظم ’’ساقی نامہ‘‘ شامل ہے جو انہوں نے جون 1921 میں سرینگر کے باغ نشاط میں بیٹھ کر لکھی تھی اور کشمیریوں کے بےقرار دلوں میں آزادی کی آگ بھڑکنے کی پیش گوئی کی تھی۔ پھر اسی علامہ اقبال نے13 جولائی 1931 کو سرینگر میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی اور 14 اگست 1931 کو لاہور میں یوم کشمیر منایا۔

روزنامہ انقلاب لاہور کی فائلوں میں 14 اگست 1931 کو لاہور میں علامہ اقبال کی زیر صدارت یوم کشمیر کے جلسے کی روداد پڑھی جا سکتی ہے جس میں شاعر مشرق نے مسلمانوں سے کہا کہ اٹھو اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہو جائو۔ کیا امریکہ شاعر مشرق کو بھی دہشت گرد قرار دے گا ؟ اپنے فیض احمد فیض کا کیا کریں گے؟ انہوں نے 3جنوری 1948 کو پاکستان ٹائمز میں شائع ہونے والے اس بیان پر دستخط کئے جس میں جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کھل کر مذمت کی گئی۔ کیا فیض بھی دہشت گرد تھے؟ حبیب جالب کو کیا کہیں گے جنہوں نے کہا تھا؎

کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر ظالم و جابر کا کرتے ہی چلو سرخم

سید صلاح الدین نے وہی کیا جس کا درس انہیں اقبالؔ، فیضؔ، فرازؔ اور جالبؔ نے دیا، اگر سید صلاح الدین دہشت گرد ہے تو پھر یہ سارے شاعر بھی دہشت گرد ہیں، پھر ہر غیرت مند کشمیری، ہر محب وطن پاکستانی اور ہر آزادی پسند مسلمان دہشت گرد ہے۔ امریکہ کس کس کو دہشت گرد قرار دے گا؟

حامد میر

 

برہان وانی کی شہادت کا ایک سال

بھارتی میڈیا، اسرائیلی میڈیا، امریکی میڈیا، یورپی میڈیا حتی کہ پاکستان کے پٹھو میڈیا نے برہان وانی کا تعلق لشکر طیبہ یا جماعت الدعوہ سے نہیں جوڑا،۔ کسی نے اسے مقبو ضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیموں سے وابستہ نہیں کیا، بس وہ ایک عام سا کشمیری نوجوان تھا، اس کے بھائی کو بھارتی دہشت گرد فوج نے گولیوں سے بھون دیا تھا، اس کا باپ ایک اسکول ماسٹر تھا، وہ بھی بچوں کو درسی کتابیں پڑھاتا اور گھر آجاتا، برہان وانی کے بھائی کو اس کی آنکھوں کے سامنے بھارتی فوج نے گولیوں سے شہید کیا تو اس کا خون کھول اٹھا، وہ گھنے جنگلوں کی طرف نکل گیا۔

برہان وانی خالی ہاتھ تھا مگر اس نے اپنے دیس کی آزادی کے لئے سوشل میڈیا کا محاذ چن لیا، وہ ا ٓزادی کا پرچار کرتا تھا، یہ آزادی ا س کا بنیادی حق تھا، اس حق کو امریکہ نے بھی استعمال کیا اور برطانوی استعمار کو مار بھگایا، اس حق کو نیلسن منڈیلا نے بھی استعمال کیا اور سفید فام استعمار اور استبداد سے نجات پائی، اس حق کو یاسر عرفات نے بھی استعما ل کیا اور وہ اسرائیل کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا رہا۔ الجزائر اور انگولا نے آزادی کی تحریک چلائی تو میں نویں جماعت میں تھا اور فیض احمد فیض کا لیل و نہار پڑھتا تھا جو ان ممالک کے حریت پسندوں کے حق میں آواز بلند کرتا تھا۔

برہان وانی نے آزادی کے حق میں آواز بلند کی، اس کے ہاتھ میں اسلحہ نہیں تھا مگر پوری وادی کشمیر کے نوجوان اس کے پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے تھے، بھارت نے اس آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کے لئے جنگلوں کا محاصرہ کیا اور برہان وانی کو شہید کر دیا۔ برہان وانی غیر مسلح تھا جبکہ بھارتی فوج دہشت گردی کے لئے ہر ہتھیار سے لیس تھی، مسئلہ شہادت پر رکا نہیں، اس کی لاش کو سری نگر کے بازاروں میں گھمایا گیا اور ٹی وی اسکرینوں پر بار بار د کھایا گیا، بھارت کا پیغام یہ تھا کو جو کوئی برہان وانی کے نقش قدم پہ چلے گا، اس کے خلاف اسی قسم کی دہشت گردی کی جائے گی۔

مگر بھارتی فوج کے اندازے غلط ثابت ہوئے، وہ کشمیری نوجوانوں کو خوف زدہ کرنے میں ناکام رہی، پہلے تو برہان وانی اکیلا تھا، اب وادی کشمیر کے سبھی نوجوان سروں پہ کفن پہن کر باہر نکل آئے، تاجروں نے دکانیں بند کر دیں، سرکاری ملازمین نے دفاتر کا بائیکاٹ کر دیا، ایک سری نگر کیا، کشمیر کے سارے شہر اور قصبے سنسان ہو گئے، صرف بھارتی فوج کے بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ یا گولیوں کی تڑ تڑاہٹ۔ اور پھر سار اکشمیر اچانک ابل پڑا، اور آزادی، آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا، بھارتی فوج نے اس احتجاج کو دبانے کے لئے نیا حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ لیا ، وہ پیلٹ گنوں سے فائر کرنے لگا جس سے تین سالہ بچی سے لے کر نوجوانوں اور بوڑھوں تک کی آنکھیں ضائع ہونے لگیں، کشمیر کے سارے ہسپتالوں کے برآمدے ان زخمیوں سے بھر گئے۔ یہ سب کشمیری تھے۔

کشمیری حریت پسندوں کو اس حربے سے بھی دھمکایا نہ جا سکا۔ آزادی کے نعرے گونج رہے تھے اور بھارتی فوج کے حوصلے پست ہو رہے تھے، اسنے بزدلوں کی طرح غیر مسلح اور بے گناہ کشمیریوں کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ برہان وانی کی شہادت کو ایک سال ہونے والا ہے، سات جولائی کو اس کا یوم شہادت ہے اور کشمیریوں کے جذبے ہمالہ کی چوٹیوں کی طرح بلند وبالا ہیں۔ سات جولائی سے تیرہ جولائی تک شہیدوں کی یاد منانے کا اعلان کیا گیا ہے، تیرہ جولائی کا دن بھارتی بربریت کے دن کے طور پر برسوں سے منایا جا رہا ہے، اس روز بھارتی فوج نے پہلی مرتبہ کشمیریوں کے سینے چھلنی کئے تھے اور سڑکوں پر شہیدوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ برہان وانی کی شہادت سے جنم لینے والی تحریک کو بھارت بیرونی تحریک نہیں کہہ سکا ۔ اس تحریک کا کوئی تعلق آل پارٹیز حریت کانفرنس ے بھی نہیں ہے مگر سبھی لیڈر خواہ علی گیلانی ہوں ، یا میر واعظ یا مسرت عالم یا آسیہ اندرابی، سبھی نے شہیدوں کے کفن کو پرچم بنا لیا ہے ۔

مجھے معلوم ہے کہ پاکستان میں جو شخص بے گناہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرے گا، اسے حافظ سعید کے انجام تک پہنچا دیا جائے گا، مگر مجھے اس انجام سے کوئی خوف اور ڈر نہیں ، اس لئے کہ میرے مرشد کو کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے سے کوئی خوف اور ڈر نہیں تھا، انہوں نے برملا کہا تھا کہ انہیں ایک ایٹمی میزائل کے ساتھ باندھ کر جموں میں بھارتی فوج کی چھائونی پر داغ دیا جائے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرے مرشد نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی انہیں دہشت گرد سمجھتا ہے تو بڑے شوق سے انہیں گوانتا نامو بے میں لے جا کر پنجرے میں بند کر دے ۔

اور مجھے اس وقت زیادہ حوصلہ ملتا ہے جب مجھے یہ یاد آتا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا، کس کس کو دہشت گرد کہو گے، کہہ لو جس کو بھی کہنا ہے مگر ہم کہتے رہیں گے کہ کشمیر میں دہشتگرسی کی مجرم بھارتی فوج ہے اور بھارتی ریاست ہے، اسے ختم ہونا چاہئے، بربریت کا یہ سلسلہ ستر سال سے جاری ہے، فرعو ن نے بڑے مظالم کئے، بخت نصر ایک جابر حکمران تھا، ہلاکو اور چنگیز نے لاشوں کے ڈھیر پر تخت سجایا، ہٹلر کو ہولو کاسٹ کا مجرم کہا جاتا ہے مگر بھارت نے جبر اور قہر اور دہشت گردی کے سارے ریکارڈ مات کر دیئے ہیں، اور ساری دنیا بھارت کی اس دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، وزیر اعظم نوازشریف نے یو این او میں بھارت کے اس ظلم کا پردہ چاک کیا مگراس ادارے کے ارکان نے سنی ان سنی کر دی، آج مظلوم کشمیری یکہ و تنہا ہیں۔ کہنے کو پاکستان نعرے بہت لگاتا ہے مگر کشمیر میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، تسلسل سے جاری ہے، کسی وقفے کے بغیر جاری ہے اور واحد مسلم ایٹمی طاقت خاموش تماشائی ہے، صرف خاموش تماشائی ہوتی تو کشمیریوں کی آس پھر بھی باقی رہتی، اب تو پاکستان میں جو شخص کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کرتا ہے، اسے حافظ سعید بنا دیا جاتا ہے ۔

مگر یاد رکھیں کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے، پاکستان میں ایک لفظ کشمیر کا شامل ہے۔ اس لفظ کو شامل کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا پڑے گا ورنہ جارحیت اور دہشت گردی پہ مائل بھارت ، مستقل طور پر پانی بند کر دے گا، اب بھی وہ ہماری ضرورت کے وقت پانی بند کر دیتا ہے اور جب ضرورت نہ ہو تو ڈیموں کے منہ کھول دیتا ہے ا ور پاکستان کوسیلاب میں غرق کر دیتا ہے، پاکستان یہ نقصان برداشت کرنے کے قابل نہیں مگر آفریں ہے کشمیریوں کی کہ وہ جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں اورا ٓزادی ، آزادی کے نعرے لگا تے ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے عزم کو دہراتے ہیں۔ بھارتی لیڈر پاگل پن میں کہتے ہیں کہ ایٹم بم مار کر ان کا قصہ ہمیشہ کے لئے پاک کردو۔ کوئی ان کی نسل کشی کے منصوبے پروان چڑھا رہا ہے یہی کچھ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا۔

برہان وانی کی شہادت کو ایک سال بیتنے کو ہے، سات جولائی سر پہ ہے، آئے ہم اس شہید اعظم کو یاد رکھیں۔ زبانی کلامی ہی سہی ! اسے خراج عقیدت پیش کریں، اس کے لئے چند آنسو تو بہا لیں ۔ اس نوجوان نے کشمیری تحریک حرہت کو ایک نئی جہت عطا کی، اب اس تحریک حریت کو بیرونی بیساکھیوں کی قطعی طور پر ضرورت نہیں، اب حافظ سعید کو ہم مستقل طور پر بند رکھ سکتے ہیں ۔ کشمیری نوجوان حافظ سعید کے پیغام حریت کوحرز جاں بنا چکے ۔

پاکستان کی کل فوج سات لاکھ نہیں، بھارت کی سات لاکھ فوج صرف کشمیریوں کے سروں پر سنگینیں تان کر کھڑی ہے۔ سات جولائی سے تیرہ جولائی تک شہیدوں کی یاد منائی جائے گی۔ کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، کشمیری شہدا کو سلام پیش کیا جائے گا۔ جو اپنے بل بوتے پر، اغیار کی مدد کا خیال ترک کر کے سر پہ کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہ غیر مسلح ہیں، مگر ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہی یہ ہے کہ وہ غیر مسلح ہیں۔ وہ بے گناہ ہیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کانعرہ ہے آزادی ، یہ آزادی انہیں ملنی چاہئے۔

 اسد اللہ غالب

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن منانیوالے کشمیریوں پر بھارتی فوج کا دھاوا

مقبوضہ کشمیر میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منانے والوں پر قابض بھارتی فورسز نے دھاوا بول دیا۔ کشمیری میڈیا کے مطابق شوپیاں ضلع کے گائوں ویہائل میں پاکستان ٹیم کے حق میں خوشی اور جشن کا سماں تھا، جسے بھارتی فوج کو ایک آنکھ نہ بھایا، اہلکاروں نے وہاں پارک کی گئی درجنوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، رہائشی گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور بند دکانوں کو بھی لوٹ لیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے ویہائل کے درجنوں رہائشی پٹاخے پھوڑ کر پاک کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منا رہے تھے، جشن کی تقریبات کے دوران قریب ہی واقع چوہدرگند فوجی کیمپ سے اہلکار آئے انہوں نے ہوائی فائرنگ کی بند دکانوں کے شٹر توڑ دیے اور اور دکانوں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی کھڑی گاڑیوں کے بھی شیشے توڑے ، رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا۔