حزب المجاہدین دہشت گرد نہیں

70 سال پہلے بھارت نے اقوام متحدہ سے خود قرارداد منظور کرانے کے باوجود کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کی بجائے ریاست کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس عمل کے دوران لاکھوں کشمیری شہید ہو گئے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور کشمیری نوجوانوں کا اپنے دفاع میں مزاحمت کرنا دہشت گردی نہیں لیکن امریکہ بھارت کے ایما پر تحریک آزادی کو منظم کرنے والی ایک تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح لشکر طیبہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور بھارت نے ان دونوں تنظیموں اور ان کے سربراہوں کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سے عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی جسے چین نے ویٹو کر کے ناکام بنا دیا۔

حکومت پاکستان نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی تھی اور کہا تھاکہ ان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ سید صلاح الدین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کیا ہے اور اس کا مقصد بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا لائسنس دینا ہے۔ کوئی تنظیم، گروہ یا عسکریت پسند کسی ملک پر قبضہ کر کے اپنا نظام لانے اور وہاں قائم قانونی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح کارروائی کرے تو اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند سیاسی قیادت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ بھارتی فوج اسے کچلنے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے تو کشمیری نوجوانوں کا حق ہے کہ اپنا دفاع کریں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے بہتر ہو گا کہ امریکہ بھارت پر دبائو ڈال کر اس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرائے اور عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت دلائے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Advertisements

شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلا ہوں

لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو منگل کے روز ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف للہاری کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں مارے جانے سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی
نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کرکے بھارتی فوج کے ایک میجر اور ایک سپاہی کو ہلاک اور ایک ساتھی کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔

عہدیداروں کے مطابق، فوج مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں موجود عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے وہاں صبح چار بجے پہنچی۔ لیکن، گھات میں بیٹھے عسکریت پسندوں نے اُن پر بیک وقت کئی اطراف سے اندھا دھند گولیاں چلا دیں۔ یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ حفاظتی دستوں کو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور فائرنگ میں بھارتی فوج کا ایک افسر میجر کملیش پانڈے اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور سپاہی شدید طور پر زخمی ہو گیا۔

حملہ آور اندھیرے کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے علاقے سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پانچ فوجیوں کو ہلاک اور کئی ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لشکرِ طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر، ابو دُجانہ اور بھارتی فوج کے ایک افسر کے درمیان فون پر ہونے والی ایک گفتگو کی آڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ یہ گفتگو ابو دُجانہ اور ان کے ایک قریبی ساتھی عارف کے بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں شہادت سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی۔ ابو دُجانہ عرف حافظ کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا اور ان کی شہادت کو بھارتی حکام نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف چلائی جانے والی فوجی مُہم کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا تھا۔

ابو دُجانہ کا نام بھارتی فوج کی طرف سے اس سال جون میں جاری کی گئی اُن بارہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا جنہیں “سب سے خطرناک‘‘ قرار دیدیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں زندہ یا مُردہ پکڑنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔ لیکن، جیسا کہ آڈیو سے پتہ چلتا ہے ابو دُجانہ کو ہھتیار ڈال کر خود کو حفاظتی دستوں کے حوالے کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی اور کہا کہ وہ شہید ہونے کے لئے گھر سے نکلے ہیں اور ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا تحریکِ کشمیر پر کیا اثر پڑے گا ؟

امریکہ نے انڈین وزیرِ اعظم کے دورۂ امریکہ کے موقع پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طور نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازعے کے کسی پرامن حل کا راستہ روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکہ کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 ۔ کشمیری عسکریت گلوبلائز ہو سکتی ہے
حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا۔ گذشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دُور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔

فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔ صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اُٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اُستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ، جس کا ابھی تک کردار بھی مقامی ایجنڈا بھی مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔

 ۔ حکومت ہند کو شورش دبانے کی چھوٹ ملے گی
ظاہر ہے کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کی کاروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکہ اور یورپ کے اداروں نے انڈیا پر نکتہ چینی بھی کی۔ خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے تو انڈیا کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طرف انڈین کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔

گذشتہ دنوں فوج کے سابق ایک کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہو رہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکہ کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔ لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کاروائیوں کے لیے حکومت ہند کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔

 ۔ حریت کانفرنس کی مشکلیں
علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کا ’پُرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اور تصادموں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح حریت کانفرنس کو یہاں کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمۂ خارجہ کے اعلان سے اب حریت بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنا انڈین وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں دو سے تین ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔

تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’انڈیا کو توقع تھی کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کرے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘ صحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اُس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں انڈیا کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمۂ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکہ کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔

کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکہ اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آئے۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

Sayeed Salahudeen

Syed Mohammed Yusuf Shah, popularly known as Syed Salahudeen, is the head of Hizb-ul-Mujahideen, a Kashmir-based militant terrorist group operating in Kashmir, and head of an alliance of anti-India militant groups , the United Jihad Council, that works to annex the Indian state of Jammu and Kashmir to Pakistan. Salahuddin vowed to block any peaceful resolution to the Kashmir conflict, threatened to train more Kashmiri suicide bombers, and vowed to turn the Kashmir valley “into a graveyard for Indian forces.”  He is listed on the NIA Most Wanted list. On 26 June 2017 He was named as a Specially Designated Global Terrorist by the US Department Of State.

Early life 
Yusuf Shah was the seventh child of middle class parents. He was born and raised in Soibugh, Budgam, a village in the Kashmir Valley. The partition of Kashmir between India and Pakistan happened while he was still an infant. His father worked in the Postal Department of the Indian government. Yusuf Shah initially became interested in studying medicine, but later on decided to become a civil servant. While studying Political Science at the University of Kashmir, he was influenced by the Jamaat-e-Islami, and become a member of its branch in Jammu and Kashmir.
At university, he became increasingly radicalised, and got involved in persuading Muslim women to veil themselves (observe orthodox Shariah) and also took part in processions in support of Pakistan. After university instead of taking the civil service exam he became an Islamic teacher at a madrasa. He is married, with five sons. His oldest son, Shakeel Yousuf, works as a medical assistant at Srinagar’s Sher-i-Kashmir Institute of Medical Sciences, second son Javed Yousuf works in the Education Department as computer operator, while Shahid Yousuf is a Research Fellow at the Sher-i-Kashmir University of Agricultural Science and Technology. Shah’s fourth son, Wahid Yusuf, is a doctor at Sher-i-Kashmir Institute of Medical Sciences. Mueed Yusuf, the youngest of Shah’s sons, is working at Entrepreneurship Development Institute (EDI), Srinagar, Kashmir.

 

Political life 
In 1987, Yusuf Shah decided to contest the J&K assembly election on the ticket of the Muslim United Front, a coalition of political parties in Srinagar’s Amirakadal Constituency. Mohammad Yusuf Shah who stood for the Legislative Assembly elections in 1987 from Amirakadal, Srinagar. He came second after Ghulam Mohiuddin Shah of the moderate National Conference won the seat. Mohammed Yusuf Shah was arrested and put in jail for his violent agitations.
Hizbul Mujahideen 
After his arrest for violent protests and release in 1989, he then joined Hizbul Mujahideen founded by Muhammad Ahsan Dar alias “Master” who later parted from Hizbul Mujahideen. He soon took over as the chief of Hizbul Mujahideen and then adopted nom de guerre “Sayeed Salahudeen”, named after Saladin, the 12th century Muslim political and military leader, who fought in the Crusades.
“ We are fighting Pakistan’s war in Kashmir and if it withdraws its support, the war would be fought inside Pakistan, ”
— Sayeed Salahudeen

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن منانیوالے کشمیریوں پر بھارتی فوج کا دھاوا

مقبوضہ کشمیر میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منانے والوں پر قابض بھارتی فورسز نے دھاوا بول دیا۔ کشمیری میڈیا کے مطابق شوپیاں ضلع کے گائوں ویہائل میں پاکستان ٹیم کے حق میں خوشی اور جشن کا سماں تھا، جسے بھارتی فوج کو ایک آنکھ نہ بھایا، اہلکاروں نے وہاں پارک کی گئی درجنوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، رہائشی گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور بند دکانوں کو بھی لوٹ لیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے ویہائل کے درجنوں رہائشی پٹاخے پھوڑ کر پاک کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منا رہے تھے، جشن کی تقریبات کے دوران قریب ہی واقع چوہدرگند فوجی کیمپ سے اہلکار آئے انہوں نے ہوائی فائرنگ کی بند دکانوں کے شٹر توڑ دیے اور اور دکانوں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی کھڑی گاڑیوں کے بھی شیشے توڑے ، رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا۔

برہان وانی کے دوست سبزار احمد کی نماز جنازہ سات مرتبہ ادا کی گئی

حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزراحمد بٹ کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور جنازہ سات مرتبہ ادا کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق جنازے میں پاکستان وآزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی، شہید کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر اور برہان وانی شہید کے قریبی دوست سبزراحمد بٹ کا نماز جنازہ پلوامہ کے علاقے تڑال میں ادا کیا گیا۔ کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے پابندیوں اوربھارتی قابض فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باوجود عوام نے بڑی تعداد میں جنازے میں شرکت کی۔

عینی شاہدین کے مطابق شہید کمانڈر سبزار بٹ کے جنازے میں رش کے باعث سات مرتبہ جنازہ ادا کیا گیا۔ نمازجنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شہید کے میت کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹا گیا تھا جبکہ جنازے میں پاکستان اورآزادی کے حق اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی سبزراحمد بٹ کو شہداء کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ حریت رہنما وں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کرنے کے بعد بھارتی پولیس نے یاسین ملک کو گرفتار کر لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یاسین ملک کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے سری نگر کی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔

کشمیر میں جیپ پر شخص کو باندھنے والے بھارتی افسر کے لیے فوجی اعزاز

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انسان کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر اس کا استعمال کرنے والے فوجی کو انڈیا کے فوجی سربراہ کی جانب سے اعزاز دیا گيا ہے۔ میجر جنرل لیٹول گوگوئی نے مبینہ طور پر اپنے کارواں کو سنگ باروں سے بچانے کے لیے ایک مقامی شخص کو جیپ سے باندھا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ انھیں علاقے میں جاری سرکشی کے خلاف ان کی مستقل کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے اور اس کا جیپ پر کسی شخص کو باندھنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ ‘میجر گوگوئی کو انسرجینسی مخالف ان کی مستقل کوششوں کے لیے آرمی سٹاف کی جانب سے توصیفی کارڈ دیا گیا ہے۔’
خیال رہے کہ جیپ والے واقعے کا ویڈیو اپریل میں وائرل ہوا تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے غیر انسانی فعل قرار دیا تھا۔

فوج نے کہا ہے کہ اس کے متعلق جانچ جاری ہے۔ اپریل میں کشمیر میں ضمنی انتخابات منعقد کرانے کی کوششوں کے دوران تصادم کی تازہ لہر نظر آئی ہے۔
کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کے خلاف فائرنگ کا الزام ہے جبکہ مقامی مظاہرین سکیورٹی فور‎سز پر سنگ باری کرتے ہیں۔ اس سے قبل ایک فوجی کو کشمیریوں کے ہاتھوں تنگ کیے جانے والے ویڈیو کے وائرل ہونے بعد سے ملک میں کشمیریوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں انڈیا کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔
شدید بے روزگاری اور مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی ظلم و زیادتی کی شکایتوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دل و دماغ پر صرف اور صرف آزادی کی آرزو طاری

سڑکوں اور کالجوں پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف، ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے گئیں۔ وادی میں ’سکون’ پیدا کرنے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا۔ نئی دہلی سے لوٹنے پر وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ 22 سوشل میڈیا ویب سائٹس اور میسنجر اپیلکیشنز پر ایک ماہ کی پابندی لگانا تھا۔ یہ پابندی اس مواد کی گردش کو روکنے کے لیے عائد کی گئی تھی، جو حکومت کے نزدیک ’غیر مصدقہ، قابل اعتراض اور اشتعال انگیز’ ہے اور کسی بھی قسم کی تصدیق کے بغیر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ میسجنگ سروسز جیسے ذرائع پر فراہم ہونے سے امن عامہ کو خطرہ ہو سکتا ہے اور ریاست میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے’۔

تھری-جی اور فور-جی جیسی تیز رفتار انٹرنیٹ سروس کو بھی منقطع کر دیا گیا، صرف ٹو- جی انٹرنیٹ سروس بحال ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہندوستان تشدد کے ذریعے کشمیریوں پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے قابل نہیں۔ برہان وانی کو مارنے، پیلٹ گن کے استعمال سے شہریوں کی کثیر تعداد کو اندھے پن کا شکار بنانے، گرفتاریاں اور پولیس کے تشدد کے باوجود وہ اپنی خواہش کو حقیقی روپ نہیں دے پائے ہیں۔ چونکہ کشمیری اپنے لب سینے سے انکاری ہیں، لہٰذا ہندوستانی ریاست ان کی آوازوں کو مکمل طور پر دبانے کو ہی مسئلے کا واحد حل سمجھتی ہے۔

 پہلے تو کشمیر میں قائم ہونے والی حکومتیں لوگوں کے کسی بھی اجتماع پر کریک ڈاؤن کر دیتی تھیں، پھر چاہے وہ اجتماع آزادی پسند جماعتوں کے تنظیمی اجلاس ہوں یا پھر عام شہریوں کی جانب سے منعقد کی جانے والی کسی کتاب کی تقریبِ رونمائی ہو۔ طلبہ سیاست پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ کسی بھی قسم کے تحریکی عمل کی تھوڑی سی بھی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی۔ تاہم، سوشل میڈیا کی آمد نے لوگوں کو ایک نئے ہتھیار سے لیس کر دیا۔ ہندوستان کی حامی سیاسی جماعتوں نے بھی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، مگر ان کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ہندوستانی ریاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان جس طرح کشمیر کی سڑکوں پر شکست خوردہ نظر آ رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی بری طرح شکست کا سامنا کر رہا ہے۔ کیوں نہ ہو، چاہے آپ پتھر پھینکیں یا ٹوئیٹ کریں، دونوں صورتوں میں آپ خود پر مسلط قوت کو ہی ڈراتے ہیں۔

ریاست ایک فیس بک پوسٹ سے ڈر جاتی ہے، ایک نظم سے خائف ہوتی ہے۔ ایک وڈیو سے بھی اس پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔ دراصل ہندوستان حقیقت سے ہی خوف زدہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مدد سے اب ہندوستانی بربریت کو براہ راست پوری دنیا میں نشر کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں یہ خبریں باہری دنیا کے لیے نئی ہیں، وہاں یہ بربریت اور تشدد کشمیریوں کے لیے ذرا بھی اجنبی نہیں۔ ہندوستانی ریاست کشمیر کے لوگوں سے صرف اور صرف تشدد کی زبان میں بولتی ہے۔

کشمیر میں ہندوستان کی حامی سیاسی جماعتیں بھی صرف قوت کے استعمال سے ہی انتخابات میں فتح یاب ہوتی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے اہلکار ایک سے دوسرے گھر جا کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا بھلے ہی ان ووٹوں کو ’ہندوستان کے حق میں ووٹ ’ گنوائے، کہ کشمیری ’اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے باہر نکلے’، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ‘دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت’ یہاں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے کون سے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

ہندوستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، ‘کشمیر ماہرین’ سے لیس ابھرتے تھنک ٹینکس، اور ہندوسانی صحافیوں کا ایک میزبان اس بے وقوفانہ خام خیالی کا شکار ہے کہ اس پابندی کے ساتھ ہندوستان کشمیر میں شورش کو ٹھنڈا کر پائے گا۔ حمایتی یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پابندی سے حکومت کو تشدد اور پتھراؤ روکنے میں مدد فراہم ہو گی۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا ہے کہ وہ اپنے ایسے رویوں کی وجہ سے ہی لوگوں کے ذہنوں اور دلوں کو جیت نہیں پائے ہیں۔ افسوس کہ دل جیتنے کی بات تو خام خیالی ٹھہری، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کے دل و دماغ پر صرف اور صرف آزادی کی آرزؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب جب میں اس تحریر کو قلمبند کر رہا ہوں، سری نگر سے قریب 170 کلومیٹر دور چوکیبال، کپواڑہ میں پتھراؤ شروع ہو چکا ہے۔

بشارت علی

کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے وادی میں فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی 16 ویب سائٹس تک عوامی رسائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ دفترِ داخلہ نے ایک حکم نامے میں 1885 میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ حکومت امن عامہ کے مفاد میں یہ اقدام اُٹھا رہی ہے۔ حکم نامے کے مطابق یہ پابندی کم از کم ایک ماہ کی مدت تک رہے گی۔ سرکاری اعلان کے مطابق کشمیریوں کو فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، کیو کیو، وی چیٹ، کیوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بائیڈو، سکائپ، ، وائبر، لائن، سنیپ چیٹ، پنٹریسٹ، انسٹا گرام اور ریڈاٹ تک رسائی نہیں ہو گی۔

یہ حکم ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منگل کو سرینگر میں بھارتی فوج، نیم فوجی اداروں، خفیہ سروسز اور سول انتظامیہ کا ایک اعلیٰ اجلاس منعقد ہوا تھا جس کی صدارت وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کی تھی۔ اس اجلاس میں وادی میں آئندہ تین ماہ کے لیے سکیورٹی ایجنڈا مرتب کیا گیا تاہم اس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ کشمیر کے کشیدہ حالات میں سماجی رابطوں کا واحد ذریعہ سوشل میڈیا ہی تھا اور اس حکومتی پابندی پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صحافیوں، تاجروں اور طلبہ نے اس فیصلے کو ‘انسانیت کے خلاف جرم’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ایسا کر کے ‘اعترافِ شکست’ کر رہی ہے۔

 

صحافی ریاض ملک کا کہنا تھا کہ ‘نو اپریل کو جب ضمنی انتخابات ہوئے تو ایک دن پہلے ہی انٹرنیٹ معطل کیا گیا لیکن اس کے باوجود مظاہرے ہوئے اور ہلاکتیں ہوئیں۔’ ان کے مطابق غور طلب ہے کہ پیر کو وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی دلی میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے بغیر کسی اور چیز سے ممکن نہیں اور دو دن بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ برس نوجوان عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد علاقے میں احتجاج اور مظاہروں کی لہر پھیل گئی تھی۔ چھ ماہ تک حالات انتہائی کشیدہ رہے اور تقریباً 100 مظاہرین سکیورٹی فورسز کے ایکشن میں مارے گئے۔ رواں سال اپریل میں جو کشمیر کی پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لیے ضمنی انتخابات کرائے گئے تو حالات پھر سے کشیدہ ہو گئے۔ نو اپریل سے اب تک مظاہروں میں دس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے اب طلبا و طالبات سڑکوں پر ہند مخالف مظاہرے کر رہے ہیں جس کے بعد حکومت آئے روز تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کرتی رہی ہے۔

بہادر کشمیری خواتین کی خون بھری جدوجہد

 انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والی سنگ باری کی تصاویر میں پہلے زیادہ تر لڑکے دکھائی دیتے تھے لیکن اب سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے  جھڑپوں میں لڑکیاں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ ایک ہفتے کی پابندی کے بعد وادی کشمیر کے سکول اور کالج جب دوبارہ کھلے تو سڑکوں پر کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔

 ویسے تو کشمیر میں احتجاج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن لڑکیوں کو سنگ باری میں شامل ہونے نئے رجحان کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اب کشمیری لڑکیاں بھی آزادی اور انڈیا مخالفت کے نعرے لگا رہی ہیں۔

ان میں سے اکثر سکول اور کالج جانے والی لڑکیاں ہیں۔ ان کی پیٹھ پر لدا بیگ اور یونیفارم اس تصدیق کرتے ہیں۔ کشمیر پر نظر رکھنے والے لوگ اس وادی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد جھڑپوں کا نیا چہرہ قرار دے رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں سکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج کا جھنڈا بلند کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر تقریباً وائرل ہو گئی ہیں۔

 تصاویر میں لڑکیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو پولیس اور سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہی ہیں۔ یہ تصاویر سری نگر کے مولانا آزاد روڈ پر موجود گورنمنٹ کالج فار ویمن کے قریب کی ہیں۔ سماجی حلقوں میں گورنمنٹ کالج فار ویمن کو ممتاز کالج سمجھا جاتا ہے۔

 24 اپریل کو سری نگر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ طالبات کی جھڑپیں ہوئیں۔ اپریل میں ہی سری نگر میں ہوئے ضمنی انتخابات کے دوران محض 7 فیصد ووٹنگ کے درمیان خوب تشدد دیکھنے کو ملا۔ صورت حال اس وقت اور کشیدہ ہو گئی جب سکیورٹی فورس اور کشمیری نوجوان اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی عکاسی والے ویڈیوز کو شیئرز کیا جانے لگا۔

 گذشتہ برس جولائی میں بھارتی سکیورٹی فورسز سے ہوئی تصادم میں عسکریت پسند برہان وانی کی موت کے بعد شروع ہونے والے تشدد میں 100 سے زیادہ لوگوں کی شہادت ہوئی تھی۔ چار ماہ تک مسلم اکثریتی آبادی والی وادی سلگتی رہی، اس میں 55 دن تو کرفیو لگا رہا۔ اس موسم گرما میں بھی صورت حال بہت بہتر نہیں نظر آرہی ہے۔