نواز شریف بمقابلہ چیف جسٹس، ’جنگ‘ کہاں تک جائے گی ؟

سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور عدلیہ کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناؤ میں مزید شدت آج اس وقت آئی، جب نواز شریف نے یہ بیان دیا کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ جسٹس ثاقب نثار کی قیادت میں ’بدترین آمریت‘ ہے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ایک حاضر سروس چیف جسٹس پر آمر ہونے اور بدترین آمریت نافذ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس بیان سے ملک میں کشیدگی کی فضا مزید بڑھے گی۔ سیاست دانوں کے خدشات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ماضی میں آمریت کے خلاف لڑنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے خبردار کیا ہے کہ اداروں کے درمیان کشیدگی جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہو گی۔

قائدِ حزبِ اختلا ف نے نواز شریف اور چیف جسٹس دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اسلام آباد میں آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا، ’’معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ نواز شریف کو اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیں۔ اور معذرت کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ چیف جسٹس کو بھی اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیں۔‘‘ واضح رہے کہ نون لیگ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد سے ملکی عدلیہ کو ہدفِ تنقید بنا رہی ہے۔ پہلے لیگی رہنماوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ عدالت نواز لیگ کے رہنماوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس کی طرف سے ہسپتالوں کے دوروں اور سول معاملات میں مبینہ مداخلت پر بھی چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے غیر ضروری سکیورٹی مختلف افراد سے واپس لینے کا حکم دیا، جس کو مریم نواز کی طرف سے ہدفِ تنقید بنایا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی سیاسی جماعتیں نواز شریف کی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ اسد بٹ کے خیال میں یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ملک بدترین سینسرشپ سے گزر رہا ہے۔ نواز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں نے سیاسی طور پر کبھی بھی نواز شریف کی حمایت نہیں کی لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں سخت ترین سینسر شپ ہے۔ لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں غیر جمہوری قوتوں کے آگے جھک چکی ہیں اور آپ نے اس کا ایک مظاہرہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران بھی دیکھا۔ میڈیا کا بالکل گلہ دبا دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک دو اخبار بھی کچھ ایسا لکھ دیں جو طاقتور حلقوں کو ناگوار گزرے تو ان کو بلا کر دھمکی دی جاتی ہے۔ ہمیں خود بھی کام کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ پہلے تو مارشل لاء ننگے طریقے سے ایک آمر لگاتا تھا لیکن آج جمہوریت بھی ہے، پارلیمنٹ بھی ہے، سول سوسائٹی بھی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں آمریت کی فضاء ہے۔‘‘

نواز شریف کے اس بیان کے حوالے سے ملک میں لوگوں کی آراء تقسیم ہیں۔ تحریک انصاف اور کئی دیگر جماعتیں نواز شریف کے خلاف احتساب اور عدالتی کارروائیوں کو بالکل صحیح قرار دیتی ہیں جب کہ نواز مخالف سیاسی تجزیہ کار بھی عدالتوں کے کام میں کوئی برائی نہیں دیکھتے۔ لیکن نون لیگ اور اس کے اتحادی اس احتساب کو امتیازی قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے عدلیہ کا دفاع کرتے ہوئے تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس وقت ملک میں آمریت نہیں تھی، جب انہوں نے ماڈل ٹاون میں درجنوں افراد کو ہلاک کروایا اور سینکڑوں کو زخمی کیا۔ جب عدالتیں خاموش تھیں تو سب ٹھیک تھا۔ آج اگر عدالت نے اس واقعے کی تفصیل مانگ لی ہے اور اس پر کارروائی کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے تو عدالتیں خراب ہو گئیں ہیں اور چیف جسٹس نے آمریت قائم کر دی ہے۔

جب انہوں نے عدالتوں پر حملے کئے اور عدالتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں تو عدالتیں اچھی تھیں۔ آج یہ حملہ نہیں کر سکتے اور انہیں احتساب کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے تو عدالتیں خراب ہیں اور انہوں نے آمریت مسلط کر دی ہے۔ یہ سب کچھ عدالتوں کو بدنام کرنے کے لئے اور احتساب عدالت کے فیصلے کو پہلے ہی سے متنازعہ بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے لیکن اس سے نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سیدھی سے بات ہے کہ ایوین فیلڈ فلیٹ کی منی ٹریل دے دیں تو ان کی جان چھوٹ جائے گا۔‘‘ سیاسی مبصرین کے خیال میں آنے والے دنوں میں ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ ایک طرف عدلیہ، فوج اور نواز شریف کے درمیان کشیدگی ہے اور دوسری طرف وفاق کے علامت سمجھے جانے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات پر بھی اب کھل کو تنقید ہو رہی ہے، جس میں جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق کے بیان کے بعد مزید شدت آگئی ہے۔

بشکریہ DW اردو

Advertisements

نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور دیگر نااہل افراد کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت یہ نااہلی تاحیات رہے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں ،کیس کا فیصلہ 14 فروری 2018ء کو محفوظ کیا تھا۔

آج جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بنچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں تھے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کر سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے،جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے نااہلی رہے گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ تحریر کیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے اسی 5 رکنی لارجر بنچ نے 14 فروری کو مختلف اپیلوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے رواں سال جنوری میں 15 مختلف درخواستیں یکجا کر کے سماعت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ نواز شریف کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا کہ انہوں نےکوئی درخواست داخل نہیں کی۔ نواز شریف نے جواب میں کہا کہ نااہلی صرف اس مدت کے لیے ہو گی جس مدت کے لیے امیدوار منتخب ہو۔ جہانگیر ترین کے وکیل اور نااہل ہونے والے دیگر اپیل کنندگان نے تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔

پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔ پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس اعجازالحسن شامل تھے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال نے جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف اور جہانگیر ترین کے خلاف فیصلوں میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا تھا۔ سپریم کورٹ عبدالغفور لہڑی کیس میں 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کو تاحیات قرار دے چکی ہے۔

نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر سکتے ہیں

برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر سکتے ہیں، سعودی عرب میں تمام معاملات طے پا سکتے ہیں، سابق وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر شہباز شریف کو جاں نشین بنانے کا اعلان کرایا گیا۔ پل پل بدلتی سیاسی صورتحال پر بھی تبصرے جاری ہیں، لیگی قیادت سعودی عرب میں موجود ہے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اے پی سی بلا کر فیصلے کر لیے۔ جگہ جگہ نئے این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کیا واقعی کوئی تبدیلی آنے والی ہے؟؟

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب میں معاملات طے پانے کا امکان ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق نواز شریف نے سیاست چھوڑنے کی حامی بھر لی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے دباؤ پر مریم نواز کے بجائے شہباز شریف کو اپنا جانشین بھی نامزد کیا۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ خود ساختہ جلا وطنی پر نواز شریف کیلئے مقدمات سے چھٹکارا بھی ممکن ہے۔

کیا کھیل ختم ہو گیا ہے؟

موجودہ حکومت کے قبل از وقت ختم ہونے کے حوالے سے اگرچہ کچھ عرصے سے افواہوں کی چکی بہت تیز چلتی آرہی ہے، یہ پلاٹ اب کافی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے اقتدار کے ایسے سویلین کھلاڑیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے جو پہلے ایسی رپورٹس پر ہنس دیا کرتے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ ہفتے کی پریس کانفرنس میں کسی غیر آئینی اقدام کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو روز قبل اس یاد دہانی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ہفتے میں تین مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں۔

وزیراعظم جیسے عہدے کے حامل شخص کی طرف سے ایسی بات ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ پردے کے پیچھے جو کھیل جاری ہے اس سے کچھ اشارے ملتے ہیں کہ معاملات کس طرح ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا جمہوریت پر لیکچر شروع ہونے سے کچھ قبل ایک ہائی پروفائل اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک بااثر رکن اور سویلین سیٹ کے ایک اہم عہدے دار کے مابین ہوا تھا۔ سویلین کو بتایا گیا تھا کہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بااثر رکن نے وضاحت کی کہ اتنی زیادہ گڑبڑ کے ساتھ حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ موجودہ سیٹ اپ کے خلاف معاشی اعداد و شمار چارج شیٹ میں سب سے اوپر ہیں۔ قومی خزانے کا خالی ہونا تشویش کی وجہ بتایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آنے والا منصوبہ ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے قادیانی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی تلخ تنقید پر ناپسندیدگی بھی پہنچائی گئی جس میں مخصوص افراد کو ہدف بنانے کی نیت کار فرما تھی۔ پارلیمنٹ کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو بھی قومی احتساب بیورو کے تحت لانے کو بھی متعلقہ حلقوں کی جانب سے تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ عدلیہ کے خلاف بے رحمانہ مہم اور اسے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوشش کہ یہ نواز شریف کو نکالنے کے لئے کی گئی تھی، اس پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح قانون میں ترمیم کے ذریعے نااہل وزیراعظم کو پارٹی سربراہ کے طور پر واپس لانے کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی ساکھ کیا ہو گی جسے عدالت سے ایک نااہل شخص ریمورٹ کنٹرول سے چلا رہا ہو۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں الیکشن بل 2017 کی منظوری کو وقت سے پہلے روکنے کی کوشش کی گئی، یہ بات الگ سے معلوم ہوئی ہے۔ سرکاری پارٹی کے ارکان کو پرائیوٹ نمبرز سے کالیں موصول ہوئیں جن میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس قانون کی منظوری کا حصہ بننے سے باز رہیں، اس کوشش کو اعلی سیاسی سطح پر رابطوں کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ اپنے والد کی سیاسی وارث کے طور پر مریم نواز کے ابھرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت اور سویلین عہدے دار کے مابین ملاقات میں سوال اٹھایا گیا۔

اتفاق کی بات ہے کہ اس منصوبے پر مسلم لیگ ن کی بھاری بھرکم شخصیات نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان کی شکایت ہے کہ خاندان سے باہر کے پارٹی ممبران کی تو بات ہی الگ ہے، نواز شریف تو پارٹی کے اندر اتفاق رائے پائے جانے کے باوجود اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ کو گھر بھیجنے کے منصوبے پر غور ہو رہا ہے، یہ کس طرح ہو گا؟ کسی کے پاس بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔ اس سازش کے محرم راز حکام سے پس پردہ تبادلہ خیال سے ظاہر ہوتا ہے کہ براہ راست مداخلت کے آپشن کو ترجیح دینے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ آرمی چیف کسی غیرآئینی قدم کے حق میں نہیں ہیں، یہ وہ نکتہ ہے جس کی توثیق ڈی جی، آئی ایس پی آر نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں کی، جب انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو گا۔

اس کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عدلیہ ثالثی کا کردار ادا کرے۔ تبدیلی کے لئے دو ممکنہ منصوبے زیر غور ہیں۔ ایک، حکمران جماعت میں فارورڈ بلا ک کی تشکیل اور دوسرا، اسلام آباد کی جانب مارچ۔ پہلا منصوبہ اسی وقت روبہ عمل آسکتا ہے کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے حکمران جماعت میں سے کافی تعداد میں انحراف کرنے والے دستیاب ہوں۔ ایک کامیاب کوشش سے آخرکار نئے انتخابات کا مطالبہ پھوٹ سکتا ہے لیکن احتساب کے بعد، جس سے پارلیمنٹ کی منظوری سے قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ کس قدر قابل عمل ہے اس کا کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔

اگرچہ سرکاری ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سربراہ کے بارے میں قانون میں ترمیم پر رائے شماری سے روکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا لیکن حکمران جماعت کے لئے جو اشارے باہر آرہے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ چار منحرفین کو مختلف محاذوں پر اپنا راستہ بنانے کا کام تفویض کیا گیا تھا اور ان کی کوششوں کے نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکور کو 50 تک لانے کا دعوی کیا ہے۔ کون اس گروپ کی قیادت کرے گا، اسے ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا منصوبہ جس پر غور کیا جا رہا ہے وہ ایک سیاسی جماعت کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کا ہے جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا یا جس طرح 2016 میں محاصرے کی کال کے ذریعے کوشش کی گئی تھی۔ کوئی بھی ایشو احتجاج کا نکتہ بن سکتا ہے۔ شریف خاندان کی جانب سے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے مبینہ تاخیری حربے، پولیس اور وکلا میں ہاتھا پائی یا اگلی سماعت پر کوئی بھی مہم جوئی بہانہ فراہم کر سکتی ہے۔
انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر عدلیہ پر تنقید بھی ایک وجہ بن سکتی ہے اور یہ مطالبہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں ہے۔

اس مطالبے کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کوئی درخواست دائر کر سکتا ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دفعہ 190 کو لاگو کیا جائے جس کے تحت تمام ایگزیکٹو اور جوڈیشل حکام سپریم کورٹ کی معاونت کریں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کس طرح ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا قومی اتفاق رائے سے بننے والی حکومت ان آپشنز کو استعمال کرکے قائم کی جائے گی۔ اس کا جواب اس منصوبے کے معمار کے پاس ہے۔ اس وقت آئین کے بجائے کنفیوژن بالاتر ہے۔ دی نیوز کو قابل بھروسہ ذرائع سے پتہ چلا ہے، مشرق وسطی کے دو ممالک نے نئے سیٹ اپ کے قیام کی صورت میں بیل آؤٹ پیکج پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آدمی یہی نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ممکنہ تبدیلی کا منصوبہ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی جہات بھی رکھتا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے یمن کے لئے فوجی دستوں کی فراہمی سے انکار کو ابھی تک بھلایا نہیں گیا ہے۔ یہ اتفاقی مطابقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچانک بہتر تعلقات سے ہوئی ہے۔ افغان صدر پاکستان آر ہے ہیں جبکہ ’’را‘‘ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کی لندن میں ملاقات اس عزم پر ختم ہوئی ہے کہ نفرت سے گریز جائے۔ کیا خطے میں تاریخی موقعے کو گرفت میں لینے کےلئے اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے؟ پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دے کر سی پیک کے صلے کا آئندہ ماہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس کا سہرا اپنے سر باندھ سکے؟ آنے والا وقت دلچسپ ہے۔

عمر چیمہ

بشکریہ روزنامہ جنگ

آصف زرداری اور نواز شریف کا مک مکا ؟

سابق صدر آصف علی زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سنی؟ زرداری صاحب نے بغیر کسی توقف کے کہا کہ اب میں نواز شریف کی کوئی بات نہیں سنتا اور موضوع بدلتے ہوئے بتانے لگے کہ قبائلی علاقے کے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات بڑی اچھی رہی۔ وہ سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میں نے دوبارہ انہیں نواز شریف کی تقریر کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ انہوں نے آپ کا ذکر خیر کیا آپ کی صدارت کی مدت ختم ہونے پر وزیراعظم ہائوس میں منعقد کئے گئے الوداعی ظہرانے کا ذکر کیا اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا ذکر کیا۔

میری باتیں سن کر آصف زرداری صاحب کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا۔ کہنے لگے تمہیں تو سب پتا ہے کچھ واقعات کے تم عینی شاہد ہو۔ میں باربار نواز شریف سے دھوکہ نہیں کھا سکتا، باربار زخم نہیں کھا سکتا اور پھر انہو ں نے پچھلے چار سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے متعلق شکوے شکایتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ آصف زرداری کہہ رہے تھے کہ ہم وفاق کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو ہم دبے لفظوں میں چوں چراں کر دیتے ہیں۔ گلا پھاڑ کر چیخ و پکار نہیں کرتے کیونکہ ہمیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہم پر صوبائی تعصب پھیلانے کا الزام نہ لگ جائے لیکن نواز شریف کو کھلی چھٹی ہے۔ وہ روز سانحہ مشرقی پاکستان کا نام لے کر قوم کو ایک نئے سانحے سے ڈراتا ہے اور میرے پاس پیغام بھیجتا ہے کہ آئو سویلین اتھارٹی کے لئے متحدہ محاذ بنائیں لیکن اس مرتبہ میں دھوکہ نہیں کھائوں گا۔

نواز شریف ہمیشہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بناتا ہے اور پھر خاموشی سے کسی اور کے ساتھ ڈیل کر لیتا ہے۔ آج نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر رینجرز کے آنے پر بڑا اعتراض ہے۔ جب ہم چیختے تھے کہ سندھ میں رینجرز ہمارے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو نواز شریف کا وزیر داخلہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتا تھا کہ میں رینجرز کے پیچھے کھڑا ہوں۔ آج اسحاق ڈار بڑا مظلوم بن رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کہتا تھا کہ ڈار صاحب سندھ کے فنڈز کم نہ کرو۔ سندھ کو اس کا حق دو تو وہ سنی ان سنی کردیتا تھا۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نواز شریف کے وزیروں نے نواز شریف کی مرضی سے کیا اس لئے نواز شریف کو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہے تو چوہدری نثار کے ساتھ کریں ہمارے ساتھ نہیں۔ آصف زرداری صاحب کی باتیں سن کر میں ان انتہائی باخبر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا جن کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف او ر آصف زرداری اندر سے ایک ہیں اور ایسے ہی دعوئوں کی بنیاد پر تحریک ِ انصاف نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ سے ہاتھ ملا لیا۔ جب سیاسی اور قومی فیصلے غلط اطلاعات اور غلط اندازوں کی بنیاد پر کئے جائیں تو نتائج بھی غلط نکلتے ہیں۔

نواز شریف اور ان کے مشیروں کا خیال ہے انہیں پیپلزپارٹی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نااہلی کے باوجود پیپلزپارٹی کو ایسے شاہانہ انداز میں ڈائیلاگ کی دعوت دے رہے ہیں جیسے پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں کے باعث پنجاب میں شدید بحران کا شکار ہے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کارکن اپنی پارٹی کی بجائے تحریک ِ انصاف کو ووٹ ڈالنے لگا ہے اور اس موقع پر پیپلزپارٹی نواز شریف سے ہاتھ ملا لے تو پنجاب میں اس کا مکمل صفایا ہو سکتا ہے۔ سویلین بالادستی کے لئے سیاسی جماعتوں کومشترکہ حکمت ِ عملی ضرو ر اختیار کرنی چاہئے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب سیاسی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے گی۔

یہ تو ممکن نہیں کہ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو تو پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوجائے دھرنا ناکام ہو جائے تو وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی گرفتاریاں شروع کر دے۔ ان کے نام ای سی ایل پر ڈال دے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلزپارٹی کو کرپشن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں بھی پھنسا دے پھر جب نواز شریف پر دوبارہ مشکل وقت آئے تو پیپلزپارٹی سے توقع کی جائے کہ وہ جمہوریت کے نام پر دوبارہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ آصف علی زرداری ابھی نہیں بھولے کہ 2015 میں ان کی ایک تقریر پر تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ایک ملاقات ہی منسوخ کر ڈالی تھی حالانکہ زرداری صاحب نے بھی سیاستدانوں پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے نا صرف آصف زرداری کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات منسوخ کرائی بلکہ زرداری پر اداروں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے بیانات بھی دیئے۔ آج کل پیپلزپارٹی کے کئی رہنما مسلم لیگ (ن) پر اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا الزام لگا رہے ہیں۔ نواز شریف پر احتساب عدالتو ں میں مقدما ت چل رہے ہیں اور وہ اپنی تقریروں میں ان مقدمات کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ان کا گرینڈ ڈائیلاگ اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک وہ اپنی حالیہ غلطیوں پر معذرت نہیں کرتے۔ تحریک ِ انصاف ابھی تک بضد ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے آپس میں کوئی خفیہ مک مکا کر رکھا ہے لیکن بہت جلد تحریک ِ انصاف کو پتا چلے گا کہ اس کی سیاسی حکمت ِ عملی غلط اندازے پر مبنی تھی اور اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔ اپوزیشن کے اختلافات کافائدہ صرف اور صرف حکومت کو ملے گا۔

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اعتماد نہیں اور نواز شریف کے خیال میں عمران خان بڑے مفاد پرست ہیں۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر گرد اڑا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ریاستی اداروں میں موجود کچھ لوگ حب الوطنی کے نام پر قانون کو مذاق بنا دیں۔ 2 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں رینجرز نے جو طرز ِ عمل اختیار کیا وہ ناقابل قبول ہے۔ رینجرز کو بتانا ہو گا کہ وہ کس کے حکم پر احتساب عدالت میں گئی؟ کچھ وفاقی وزرا اس معاملے کو دبانے کے چکر میں ہیں اور شنید ہے کہ انہیں نواز شریف کی تائید حاصل ہے۔ ان وزرا کا رویہ آصف علی زرداری کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سویلین بالادستی کا نام تو لیتی ہے لیکن کام نہیں کرتی۔ خاموشی سے ڈیل کر لیتی ہے۔ رینجرز کا معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لئے چیلنج ہے انہیں حقائق سامنے لا کر بتانا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور خفیہ ڈیل کا زمانہ گزر گیا۔

حامد میر

نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم نااہلی کے لئے بنیاد مختلف ہو سکتی ہے. جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانج رکنی بینچ پاناما کیس کے فیصلے پر شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس میں حتمی فیصلہ جاری کرنے والا پانچ رکنی بینچ درست نہیں تھا۔ دو معززجج پہلے فیصلہ دے چکے تھے، فیصلہ دینے والے دو ججز پاناما عملدرآمد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی موقع دیا گیا کہ وہ وضاحت کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2 ممبران کے فیصلےکو چیلنج نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہےآپ نے فیصلہ قبول کیا۔ خواجہ حارث نے کہا وہ اقلیتی فیصلہ تھا، اس لیے چیلنج نہیں کیا کیونکہ اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، 20 اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔ خواجہ حارث نے کہا سوال یہ ہے کہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی؟ تحقیقات اور ٹرائل کے لیے مانیٹرنگ جج کی کوئی نظیر نہیں ملتی، نواز شریف کو ایف زیڈ ای کے معاملے پر نااہل قراردیا گیا، نااہلی کے لیے صفائی کا حق دینا بھی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نگراں جج کے ہوتے ہوئے شفاف ٹرائل کیسے ہو گا ؟ نگراں جج نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والےبینچ کا بھی حصہ تھے، نگراں جج کی تعیناتی سے نواز شریف کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، عدالت خود شکایت کنندہ، پراسیکیوٹر اور جج بن گئی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا تحقیقات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کی تعریف ضرور کی تھی مگر ٹرائل کورٹ میں اسکی سکروٹنی ہو گی، آپ کے پاس موقع ہو گا کہ آپ گواہان اور جے آئی ٹی ممبران سے جرح کر سکیں گے، ٹرائل کورٹ کو آزادی ہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ خواجہ حارث نے کہا 2 ججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، انہی دو ججز نے 28 جولائی کو مختلف فیصلے پر دستخط کیے، 20 اپریل کا اکثریتی فیصلہ منظور ہے، جس بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اس پر ان کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا، نواز شریف کی نااہلیت نہیں بنتی تھی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عملدرآمد بنچ ختم ہو گیا تھا، فیصلہ لکھنے والوں کو پتہ ہے کہ انہوں نے کیا لکھا۔

خواجہ حارث نے کہا بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کا چنائو کیا، انہوں نے ہی رپورٹ پر فیصلہ دیا، عملدرآمد بنچ کو آزاد ہونا چاہیے تھا۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا امید ہے آپ یہ نہیں کہیں گے کہ ججز سپریم کورٹ کا کام نہیں کر سکتے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کے مطابق 2 ججز نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ دیا، آپ نے 2 ججز کے فیصلے کو اقلیتی قرار دیا، 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر سب کے دستخط موجود تھے، عدالتی فیصلے میں اختلاف صرف جے آئی ٹی کے معاملے پر تھا، تین میں سے کسی جج نے نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو 5 ججز نے اپنا حتمی فیصلہ دے دیا، 20 اپریل کو نااہل کرنے والوں نے 28جولائی کو کچھ نہیں کہا، وجوہات مختلف لیکن نتیجہ ایک ہی اخذ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کی نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچوں کو اس معاملے میں طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ حکمراں جماعت کا دعویٰ ہے جب تک نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک نواز شریف اور ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد نیب کے سامنے پیش نہیں ہو گا۔ نیب حکام نے سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس کی تیاری کے لیے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے چھ ارکان کے بیان ریکارڈ کرنے کے بارے میں بھی رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان افراد کی جانب سے کوئی درعمل نہیں دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے متفقہ فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو چھ ہفتوں میں سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف چار ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیب حکام نے نیشنل بینک کے صدر کے علاوہ ان کے قریبی ساتھی جاوید کیانی کو بھی طلب کیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق وہ بھی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ دوسری جانب نیب حکام نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی 22 اگست کو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

بیچارا انقلاب

انقلاب پریشان ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ نے انقلاب کو پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا ہے کیونکہ اس مارچ کے دوران نواز شریف کی زبان پر بار بار انقلاب کا ذکر آتا رہا۔ جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوران تقاریر میں نواز شریف نے خود کو بڑا نظریاتی انسان قرار دیا اور لاہور پہنچ کر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئین کو بدل ڈالیں گے۔ انقلاب پہلی دفعہ پریشان نہیں ہوا۔ تین سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو یہ دونوں اصحاب بھی انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دونوں اپنے اپنے کنٹینروں پر چڑھ کر انقلاب کی باتیں کرنے لگے تو نواز شریف نے ان کے مارچ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

پھر یہ مارچ دھرنے میں بدل گیا۔ دھرنا کامیاب نہ ہو سکا اور انقلاب کا ذکر ختم ہو گیا۔ تین سال کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ شروع کیا تو یارانِ نکتہ داں نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مارچ کا مقصد بڑا واضح تھا وہ نواز شریف کی حکومت گرانے اسلام آباد آئے تھے لیکن نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور کی طرف مارچ کا کیا مقصد ہے؟ وفاق میں بھی اُن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی اُن کی حکومت اُن کا مارچ کس کے خلاف ہے؟ نواز شریف کی تقاریر سے واضح ہو گیا کہ اُن کا مارچ سپریم کورٹ کے خلاف تھا اور لاہور میں اُن کی تقریر سے یہ اشارہ ملا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین میں کچھ تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کا تعلق آئین کی دفعہ 62، 63 اور 184 سے ہو گا تا کہ آئندہ سپریم کورٹ کسی رکن پارلیمنٹ کو بے ایمان یا جھوٹا قرار دے کر نااہل قرار نہ دے سکے۔ نواز شریف نے لاہور کی تقریر میں کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کی تجاویز سے متفق ہیں اور اُن کی جماعت ان تجاویز پر عملدرآمد کی حمایت کرے گی۔ نواز شریف بھول گئے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے نااہل قرار دلوایا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے کوئی غلط بات نہیں کی لیکن جب اسی چیئرمین سینیٹ نے چند ماہ قبل یہ شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم اور اُن کے وزراء ایوان بالا کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تو نواز شریف کیوں خاموش رہے؟ چیئرمین سینیٹ نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ یہ باتیں پچھلے تین سال سے کر رہے ہیں لیکن نواز شریف نے پہلی دفعہ اُن کی تائید کی ہے کیونکہ اب نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف بھول گئے کہ جس شام اُنہوں نے چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اُسی شام پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی چنیوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 2007ء میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ اعتراف کر لیا تھا کہ مشرف کے ساتھ این آر او اُن کی غلطی تھی۔ وہ عالمی سطح کی لیڈر تھیں لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ اُنہوں نے آخری ملاقات میں مجھ ناچیز کو یہ کہہ دیا کہ این آر او کے متعلق آپ کی رائے درست تھی یہ این آر او محض ایک دھوکہ تھا میری رائے غلط نکلی۔

ایک غلطی کے اعتراف نے میری نظروں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قد بہت بلند کر دیا لیکن نواز شریف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں اُنہوں نے خفیہ اداروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے جو کردار ادا کیا وہ غلط تھا۔ نواز شریف یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ محض انقلاب کا لفظ اپنی زبان پر لا کر پیپلز پارٹی کو اپنے دام الفت میں پھنسا لیں گے۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب کی نہیں بلکہ ردِّ انقلاب کی علامت ہے۔ اس پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف میں گھسنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں پہلے ہی ردِّ انقلاب کی بہت سی علامتیں اکٹھی ہو چکی ہیں لہٰذا وہاں نئے آنے والوں کے خلاف ایک بڑی مزاحمت سر اُٹھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون پیپلز پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دے گا اس لئے فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر انقلاب لانے کا خیال کسی سراب سے کم نہیں۔

انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان، آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظریے پر عملدرآمد اوپر سے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ انقلابی نظریہ اوپر والے لے کر نہیں چلتے بلکہ نیچے والے اوپر لے کر جاتے ہیں۔ انقلابی نظریے کی علامت چے گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ لگا دے تو اُس کی بات پر کون یقین کرے گا؟ فرانس، روس، چین اور ایران کے انقلابات کی تاریخ اٹھا لیں۔ یہ انقلابات نچلے اور متوسط طبقے نے امیر طبقے کے خلاف برپا کئے۔ انقلابی نظریہ پرولتاری طبقے میں پیدا ہوا سرمایہ داروں میں پیدا نہیں ہوا۔ ذرا غور تو فرمایئے! آج کل کون کون انقلاب کی بات کر رہا ہے؟ چشم تصور سے سوچئے کہ انقلاب کتنا پریشان ہو گا۔ فرانس، روس، چین اور ایران کا انقلاب تاریخ کی کتابوں میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا نام اُن لوگوں کی زبان پر کیوں آنے لگا جو ہمیشہ میرا راستہ روکتے رہے؟ انقلاب یہ سوچ رہا ہو گا کہ آج میں اُن کا محبوب کیسے بن گیا جو ہمیشہ ضد انقلاب تھے؟

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے ذریعے یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ نااہل ضرور ہوئے لیکن اُن کی سیاست ختم نہیں ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ میں پنجاب پولیس کھلم کھلا اُن کے جلسوں کے انتظامات کر رہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن اُن کی عدلیہ مخالف تقاریر بھی نشر کر رہا تھا لیکن سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب پولیس نہیں ہو گی۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی زبان سے انقلاب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ تینوں میں سے کسی کا کردار انقلابی نہیں ہے۔ انقلاب آئین میں تبدیلی سے نہیں پورے سیاسی نظام کی تبدیلی سے آتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی بقاء وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الحال اس نظام کو چلنے دیں اور قوم کو انقلاب کا فریب نہ دیں کہیں انقلاب مزید پریشان ہو کر قوم کے دماغ میں نہ گھس جائے پھر کسی کی خیر نہ ہو گی۔

حامد میر

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار