شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل داغنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ گوام پر حملہ کرنے کے فیصلے سے قبل کم جونگ ان امریکی اقدامات پر نظر رکھیں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریانے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے ‘میزائل داغنے کے منصوبے کا کافی دیر تک جائزہ لیا’ اور سینیئر فوجی افسران سے اس بارے میں گفتگو کی۔ ‘ رپورٹ کے مطابق ‘شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔’ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ ‘امریکہ جوہری ہتھیار ہمارے ملک کے قریب لایا ہے اور یہ اس کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے تو وہ درست فیصلہ لے تا کہ عسکری تصادم نہ ہو۔’

شمالی کوریا کے سربراہ نے فوج کو حکم دیا کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی حملہ جنگ میں بدل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ‘کسی بھی وقت، کسی کی جانب سے کیے گئے حملے’ سے نمٹنے اور ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے پڑوسی جنوبی کوریا نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ سے ملاقات میں اعادہ کیا کہ ‘جنوبی کوریا کی سب سے اہم ترجیح امن ہے۔’ ساتھ ساتھ انھوں نے شمالی کوریا سے بھی اشتعال انگیزی ختم کرنے کو کہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ شمالی کوریا پر ‘آگ اور قہر’ کی بارش کر دی جائے گی۔ تاہم شمالی کوریا کے روایتی ساتھی چین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ضبط سے کام لیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے الفاظ اور افعال کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔’ اس سے قبل اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔

امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل تیار

    شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے وسط تک وہ امریکی علاقے گوائم کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائل تیار کر لے گا۔ ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر کم جونگ ان نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو ہوسونگ-12 راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے گوائم سے 30 کلومیٹر دور سمند میں جا گریں گے۔ ادھر امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو ‘اسے اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی جانب لے جائیں۔’

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جنگ میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔’ جیمز میٹس کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان سے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘آگ اور غصے’کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سخت پیغام میں امریکی وزیرِ دفاع نے شمالی کوریا سے اپنے ہتھیاروں کا پروگرام بند کرنے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کی جانب سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ شمالی کوریا نے بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے، اسٹریٹجک بمبار طیارے اور 163،000 امریکی رہتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے دورے سے واپس آتے ہوئے ریکس ٹلرسن کا ہوائی جہاز ایندھن لینے کے لیے گوام پر اترا تھا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ٹلرسن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے روس اور چین کے تعاون سے بین الاقوامی مہم کے مثبت نتائج ہوں گے اور شمالی کوریا کے ساتھ ایک ‘نئے مستقبل’ کو لے کر بات چیت ہو سکے گی۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو سفارت کاری کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے اور اسے ایک واضح پیغام دینے کی ضرورت تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘ آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیو جرسی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ‘شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔’ امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں۔

شمالی کوریا : فوجی پریڈ میں اسلحہ کی نمائش، امریکا پر ہیبت طاری

امریکا پر شمالی کوریا میں فوجی پریڈ کے دوران اسلحہ کی نمائش کی ہیبت طاری ہے۔ امریکی ماہردفاع نے بعض میزائلوں کو نقلی اور کھلونا ہتھیار قرار دے دیا، امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بڑا تنازع ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا میں ہونے والی فوجی پریڈ میں اسلحہ کی نمائش پر امریکی ماہر دفاع مائیکل پریگینٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پریڈ میں شمالی کوریا نے جن ہتھیاروں کی نمائش کی وہ نقلی تھے۔ امریکی ماہر دفاع نے ہتھیاروں کے کور پلاسٹک اورفوجیوں کے جنگی چشموں کےغیر معیاری ہونے کا بھی دعوی کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

صدر ٹرمپ کے سو دن : کيا کھويا، کيا پايا ؟

امریکی صدر جمہوری انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں لیکن ناقدین کے خیال
میں ان کے بعض اقدامات غیر جمہوری اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہیں۔ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں بھی ناقدین کی ہاں میں ہاں ملانے لگی ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انسانی حقوق کی 100 خلاف ورزیوں کی فہرست ترتیب دی گئی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم کے مطابق یہ صدارت کے ابتدائی 100 دنوں میں کی گئیں۔ اس بارے میں تنظیم کی امریکی شاخ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارگریٹ ہوانگ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملک کی 55 سالہ تاریخ میں جس قدر خوف و ہراس اس وقت ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتیں الفاظ کی حد تک ہی سہی لیکن انسانی حقوق کو امریکہ کے قومی مفاد کے مطابق قرار دیتی تھیں لیکن موجودہ صدر انسانی حقوق کے معاملے کو قابل غور نہیں سمجھتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کی مذمت کرنے سے بھی گریز کیا ہے اور بظاہر نسل پرستی اور تعصب کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی پردہ پوشی کی کوشش بھی کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کے بعض اقدامات امریکہ میں سیاہ فاموں سے ان کے متعصبانہ رویے کا عندیہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے جیف سیشنز کو اٹارنی جنرل کے طور پر منتخب کیا۔ قبل ازیں امریکی سینیٹ کی کمیٹی سیشنز کی جانب سے نسل پرستانہ آرا کے اظہار کی متعدد اطلاعات پر انہیں وفاقی جج بنانے پر اعتراض اٹھا چکی تھی۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد سیشنز نے مقامی پولیس کی طرف سے سیاہ فاموں سے کی جانے والی زیادتیوں کی نگرانی کے عمل کو روک دیا ۔ اسی طرح صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتے بعد ٹرمپ نے سات عرب ممالک کے باشندوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگا دی۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں مقیم بہت سے خاندان منقسم ہو گئے اور بین الاقوامی سطح پر سخت رد عمل بھی ظاہر ہوا۔ وفاقی عدالت نے اسے غیر آئینی گردانا اور اس پر سے پابندی اٹھا لی۔ اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف پر اڑے رہے اور ایک بار پھر ویسی ہی کوشش کی جسے امریکی عدلیہ نے دوبارہ ناکام بنا دیا۔ امریکی انتظامیہ نے ملک میں مہاجرین کی سالانہ آمد کو ایک لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 50 ہزارکر دیا ہے۔

ڈونلڈٹرمپ ملک میں موجود شامی مہاجرین کو واپس بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ میکسیکو کے مہاجرین کو نکالنے اور میکسیکو کی سرحد کے قریب اربوں ڈالر کے خرچ سے دیوار بنانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں تا کہ بلا اجازت نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ ایمنسٹی کے مطابق امریکی صدر نے امیگریشن اور کسٹمز کے محکموں کے اختیارات اسی مقصد کے تحت بڑھا دیئے ہیں۔ امریکا میں صحافیوں اور حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو بھی امریکی صدر کے اقدامات اور ان کے بیانات سے شکایت ہے۔ وہ ملک کے بڑے صحافتی اداروں کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کر چکے ہیں اور انہیں ’’امریکی عوام کا دشمن‘‘ کہہ چکے ہیں۔

صحافی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ٹرمپ کو آزادی صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکی مسلمانوں کو بھی ٹرمپ سے شکایت ہے۔ ان کی جانب سے جن ممالک کے باشندوں کو روکنے کی کوشش کی گئی وہ مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ انہوں نے ہوائی جہاز پر سفر کے دوران جن چند ممالک کے مسافروں پر لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی لگائی ان میں شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک شامل تھے۔ سائنس دان اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کام کرنے والے بھی ٹرمپ سے نالاں ہیں۔ انہوں نے ماحول کے تحفظ کے لیے قائم امریکی ادارے کی فنڈنگ میں خاصی کمی کردی ہے۔

اسی طرح انہوں نے شعبہ تعلیم کے بجٹ میں نو بلین ڈالر کی کمی کی ہے جس سے کم آمدن والے خاندان خاص طور پر متاثر ہوں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے عورتوں کے بارے میں متعصبانہ اور غیرمحتاط زبان استعمال کرنے کی شکایت عام ہے ۔ اسی لیے عورتوں کی بڑی تعداد نے عہدہ سنبھالتے ہی ٹرمپ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ ان کی جانب سے محکمہ صحت میں کی جانے والی کٹوتیوں سے عورتوں اور لڑکیوں کو ملنے والی صحت کی سہولیات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رضوان عطا

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے لگے

 امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، ایک طرف امریکا اور جنوبی کوریا نے جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں تو دوسری جانب شمالی کوریا نے بھی اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی کوریا کے ممکنہ ایٹمی حملے سے نمٹنے کے لئے نیویارک کے اطراف امریکا اور جنوبی کوریا نے جوہری مشقیں جاری ہیں، آپریشن گوتھم شیلڈ کے نام سے شروع کی گئی مشقوں کا مقصد کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اور جنوبی کورین افواج نے شمالی کوریا کی سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کر رکھی ہیں، مشقوں میں جدید ترین جنگی طیاروں کےساتھ ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر اور ٹینک بھی حصہ لے رہے ہیں۔

امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس کارل ونسن بھی فلپائن کے ساحل پر لنگرانداز ہو گیا ہے جہاں سے شمالی کوریا کو با آسانی نشانا بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی فضائیہ نے کیلیفورنیا میں بیلسٹک میزائل ’منٹ مین‘ کا تجربہ بھی کیا ہے جو بحر اوقیانوس تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے کہا ہے کہ امریکا کم جونگ ان کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکا اور جنوبی کوریا کو دھمکی دی ہے کہ اس کے 50 لاکھ بچے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں، اگر حملے کی غلطی کی تو امریکا اور جنوبی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، جنوبی کوریا میں امریکا کا تعینات کردہ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی خاک میں ملا دیں گے۔ چین نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان شدید کشیدگی کے بعد ملکی سطح پر تیارہ کردہ پہلا طیارہ بردار بحری بیڑہ سمندر میں اتار دیا ہے۔ چین کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارنامہ چین کی فوجی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یوٹرن کے ماہر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن

امریکی صدر نے ایشیا میں اہم سکیورٹی سوالات کو ابھارا ہے۔ انھوں نے حلف
لینے سے قبل تائیوان کے حوالے سے بیان جاری کر کے نہ صرف چین کو حیران کر دیا بلکہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین میں بنائے جانے والے مصنوعی جزیرے تک چین کی رسائی کو بلاک کر دیں گے۔ ٹلرسن کے اس بیان پر چین کی ریاستی میڈیا نے فوجی تصادم کی تنبیہ کی۔

شمالی کوریا کی فوجی مشق، امریکی آبدوز جنوبی کوریا میں امریکی صدر نے جاپان اور جنوبی کوریا کے بارے میں کہا کہ وہ امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے فائدہ ہو گا۔ شمالی کوریا جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا کے اس منصوبے کو روکنے کے چیلنج کا سامنا ہے جو کہ ان سے قبل امریکی رہنما نہ کر سکے۔ اوباما انتظامیہ میں شمالی کوریا کے حوالے سے پالیسی ‘سٹریٹیجک صبر’ کی تھی جس کے تحت شمالی کوریا پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا تھا اور دیگر ممالک کو ایسا کرنے پر رضا مند کرنا تھا خصوصاً چین کو۔ لیکن نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ ‘سٹریٹیجک صبر’ کا دور گزر چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے تمام آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحری بیڑے کو کوریا روانہ کیے جانے کے باعث فوجی کارروائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ امریکی قدم کے جواب میں شمالی کوریا نے ہفتہ وار میزائل ٹیسٹ کرنے کی تنبیہ کی اور متنبہ کیا کہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن 10 روز بعد ہی کنفیوژن اس وقت پیدا ہوئی جب کوریا کی جانب روانہ کیا گیا امریکی بحری بیڑا الٹی سمت پر روانہ ہو گیا۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ جنگی بیڑا اب بھی کوریا کی جانب جا رہا ہے ٹرمپ نے چین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف کارروائی کرے۔

روس کے ساتھ تعلقات مزید پیچیدہ

امریکی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر پوتن کی تعریف کرتے ہوئے ان کو ایک مضبوط رہنما قرار دیا اور کہا کہ وہ پوتن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا پسند کریں گے۔ اس کے بعد امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے کہا کہ روس نے ڈیموکریٹ جماعت کے ای میلز ہیک کیے۔ ایجنسیوں کی اس رپورٹ سے آخر کار ٹرمپ متفق ہوئے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے روس کے ساتھ روابط کے باعث ان پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلِن نے ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل روسی سفیر سے بات چیت کرنے پر استعفیٰ دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر پوتن پر اعتبار کرنا چاہتے ہیں لیکن متنبہ کیا کہ ایسا زیادہ دیر تک جاری نہ رہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکہ اور روس کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔

نیٹو پر زیادہ توجہ

صدر ٹرمپ ماضی میں نیٹو پر کافی تنقید کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے نیٹو کو معدوم قرار دیا اور اس تنظیم کے ممبر ممالک کو احسان فراموش کہا۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے فروری میں کہا کہ نیٹو کے ممبر ممالک اپنے دفاع کے بجٹ میں جی ڈی پی کے دو فیصد کا اضافہ کریں۔ لیکن اپریل میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم سب دفاعی بجٹ میں اضافے کے نتائج دیکھ رہے ہیں جو مثبت ہیں۔’ انھوں نے مزید کہا کہ نیٹو اب معدوم نہیں ہے۔

طاقت کا استعمال

صدر اوباما عراق اور افغانستان میں میں جاری امریکی جنگ کے خاتمے کے نعرے پر منتخب ہوئے تھے اور وہ مشرق وسطیٰ میں کسی اور مسئلے میں الجھنا نہیں چاہتے تھے۔ شام میں جب خونریزی عروج پر تھی تب بھی اوباما نے کہا کہ فوجی کارروائی بہت مہنگی پڑے گی اور ناکام بھی ہو گی۔ صدر ٹرمپ شام میں امریکی فوج کی مداخلت کے خلاف تھے۔ ان کا نعرہ تھا ‘شام کو بھول جاؤ، امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ’۔ تاہم جب امریکہ نے اپریل میں شام کے فضائی اڈے پر بمباری کی تو انھوں اپنے موقف سے انحراف کیا۔ چند ہی روز بعد صدر ٹرمپ نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ امریکہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے جا رہا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک میں جاری تصادم میں زیادہ کردار ادا کرے گا۔

فری ٹریڈ کا مستقبل

تجارتی پالیسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کے حوالے سے بہت بڑی تبدیلی لا رہے ہیں۔ انھوں نے بہت ساری فری ٹریڈ معاہدوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے بشمول نارتھ امیریکم فری ٹریڈ ایگریمنٹ جو امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان ہے۔ انھوں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے بھی نکل جانے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تجاری پالیسی کا مقصد امریکہ میں بے روزگاری کم کرنا، تجارتی خسارے کو کم کرنا اور امریکیوں کے لیے فائدہ مند ڈیلز حاصل کرنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ صدر بننے کے بعد 100 روز کے اندر پیرس موسمیاتی معاہدے کو منسوخ کر دیں گے۔ ایسا نہیں ہوا اور صدر کے سینیئر مشیران اس حوالے سے منقسم ہیں۔ تاہم انھوں نے مارچ میں کلین پاور پلان یا ماحول دوست توانائی کے منصوبے کو ختم کرنے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے۔ تاہم اس آرڈر کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور اس پر عملدرآمد رک گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا امریکہ کی توانائی کو آزاد کرنے اور نوکروں کے لیے ضروری ہے۔ لیکن ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ملک کے اندر اور باہر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ نے کئی بار اس موقف کو رد کیا ہے کہ موسمی تبدیلی انسانوں کے باعث ہوئی ہے۔

ایران جوہری معاہدہ

سابق صدر براک اوباما کے لیے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ تاریخ تھا۔ لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘یہ سب سے بدترین معاہدہ ہے’۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے لیکن انھوں نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ وہ کیا کریں گے۔ اب امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔ اس پالیسی میں کے جائزے میں نہ صرف ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی پاسداری کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پہلے ہی ٹرم سے کہہ چکے ہیں جوہری معاہدے کی پاسداری کریں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو معاہدے کی پاسداری کرنی ہو گی کیونکہ یہ معاہدہ کئی ممالک نے مل کر کیا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے زیادہ سخت الفاظ کرتے ہوئے کہا ‘اگر انھوں نے معاہدے کو پھاڑا تو ہم اس معاہدے کو آگ لگا دیں گے۔’ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ‘ایران آگ سے کھیل رہا ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

شمالی کوریا امریکی بحری جہاز ڈبونے کے لیے تیار ہے

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو ‘ڈبونے کے لیے تیار ہے۔’ رودونگ سنمن اخبار نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز کارل ونسن ‘ایک ہی وار’ میں ڈبویا جا سکتا ہے۔ اس بحری جہاز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنبیہ کے ساتھ جزیرہ نما کوریا کی طرف بھیجا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے معاملے پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب شمالی کوریا نے حال میں ایک میزائل کا تجربہ کرنے کی کوشش کی اور ایک فوجی پیریڈ کے دوران اپنے جدید ترین اسلحے کا مظاہرہ کیا۔

روندونگ سنمن حکومتی جماعت ورکرز پارٹی کا ترجمان اخبار ہے۔ اس میں اتوار کو شائع ہونے والے تبصرے کے بعد ایک اور خبر میں ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو سؤروں کے ایک فارم کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے: ‘ہماری انقلابی افواج ایٹمی طاقت سے چلنے والے امریکی طیارہ بردار جہاز کو ایک ہی وار میں ڈبونے کے لیے تیار ہیں۔‘ تبصرے میں مزید لکھا ہے کہ ایک ‘ناگوار جانور’ پر حملہ ‘ہماری فوج کی طاقت کے مظاہرے کی اصل مثال ہو گا۔’

سرکاری اخبار منجو جوسون نے بھی کچھ ایسی ہی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فوج ‘دشمن کے خلاف ایسے بےرحمانہ وار کرے گی کہ وہ دوبارہ زندہ نہ ہو سکے۔’

 گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے ایشیائی ملکوں کے دورے کے دوران شمالی کوریا کے بارے میں خاصا سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ‘شمالی کوریا کی بطور دہشت گردی کے سرکاری سرپرست حیثیت کا جائزہ لے رہا ہے اور دوسرے طریقوں پر بھی غور کر رہا ہے جن کے تحت پیونگ یانگ کی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔’ اس کا جواب دیتے ہوئے روندونگ سنمن نے لکھا: ‘ہمارا زبردست طاقتور پیش بندانہ وار نہ صرف امریکی فوج کو جنوبی کوریا سے مکمل طور پر ختم کر دے گا بلکہ وہ خود امریکی سرزمین کو بھی راکھ میں تبدیل کر دے گا۔’ شمالی کوریا نے آسٹریلیا کو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امریکی کا اتحادی بنا رہا تو اسے ایٹمی اسلحے کا نشانہ بنایا جائے گا۔ شمالی کوریا جوہری صلاحیت کے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسے شواہد نہیں مل سکے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ونسن بحیرۂ فلپائن میں جاپانی بحریہ کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے۔