Hopes of peace run high ahead of Korean summit

South Korean President Moon Jae-in (R) and North Korean leader Kim Jong-un (L) met at the Military Demarcation Line of the truce village of Panmunjom, South Korea. Kim Jong-un is the first North Korean leader to enter South Korea since the end of the Korean War in 1953.

 

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

کہاں کوریا اور کہاں ہم لوگ

چار دن سے میں سوشل میڈیا پر پڑھ پڑھ کے اوبھ گیا ہوں کہ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں فاتح سوویت یونین اور امریکا کی بٹر نائف کے ذریعے جزیرہ نما کوریا کی دو حصوں میں تقسیم، اس تقسیم کے نتیجے میں بڑھنے والی دو طرفہ غلط فہمیوں اور ایک دوسرے کو بزور طاقت متحد کرنے کے شبہے میں انیس سو پچاس سے تریپن تک ہونے والی خونریز جنگ میں دس لاکھ کوریائیوں کی ہلاکت، اور بعد کے پینسٹھ برس میں ایک دوسرے کو نیست و نابود اور جلا کر راکھ کردینے کی ان گنت دھمکیوں، دونوں کوریاؤں کو تہتر برس سے بانٹنے والی خارداری لکیر (اڑتیس عرض البلد) کے دونوں طرف کے ایک ایک انچ پر سپاہیوں کے پہرے اور لاؤڈ اسپیکرزکے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف نظریاتی تبلیغ اور جوش و غصہ دلانے والے گیتوں کی دن رات کان پھاڑ آواز کے بعد بھی اگر شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ ان اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دشمنی کا لامتناہی سلسلہ ختم کرنے کے لیے ایک نہ ایک دن کیمروں کے سامنے ہاتھ تو ملانا ہی پڑتا ہے تو پھر انڈیا پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

خواہشات اپنی جگہ مگر کوریا کی مثال پاک بھارت تعلقات پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ اس بارے میں خامخواہ آس امید کی دلدل میں غوطے کھانے سے خود کو نہ تھکانا زیادہ بہتر ہے۔ سبب یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کو دو الگ الگ خودمختار ممالک کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور ان میں سے کسی ملک کا دوسرے ملک پر کوئی ملکیتی دعویٰ نہیں۔ جب کہ کوریا کے دونوں حصے خود کو پورے جزیرہ نما کی قانونی حکومت سمجھتے ہیں۔ ان کی مثال دوسری عالمی جنگ کے بطن سے پیدا ہونے والے مشرقی اور مغربی جرمنی جیسی ہے۔ جنھیں سرد جنگ کی ضرورتوں نے الگ الگ خانوں میں رکھا اور جیسے ہی سوویت یونین ٹوٹنے کے عمل میں سرد جنگ کی اٹھائی دیوار میں شگاف پیدا ہوا تو دونوں حصوں نے پہلی فرصت میں خود کو ایک متحدہ جرمنی میں ڈھال لیا۔ شمالی و جنوبی کوریا بھی یہی چاہتے ہیں۔ پہلے طاقت کے بل پر اب شائد بات چیت کے بل پر۔

جس دن بھی دونوں کوریاؤں نے متحد ہونے کا سنجیدگی سے فیصلہ کیا اس دن مرحلہ وار روڈ میپ پر بھی کام شروع ہو جائے گا۔ کام آسان نہ ہو گا۔ کیونکہ دونوں خطوں کی موجودہ نسل الگ الگ نظریاتی سانچوں میں ڈھلی ہے۔ معاشی فرق بہت زیادہ ہے۔ لہذا اتحاد کے بعد بھی ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لیے ایک اور نسل تک کا سفر درکار ہے۔ وہ بھی اس شرط پہ اگر کوریا کی سابق نوآبادیاتی طاقت جاپان (جس نے انیس سو دس سے انیس سو پینتالیس تک کوریا کو اپنی کالونی بنا کے رکھا ) ، کوریا کی تقسیم کرنے والی فاتح طاقتیں امریکا اور روس اور شمالی کوریا کے روایئتی اتحادی چین نے کوریائی اتحاد کو اپنے الگ الگ مفادات کے لیے شطرنج کی علاقائی بساط میں تبدیل کرنے اور مشرقِ بعید کا افغانستان بنانے کی کوشش نہ کی۔

فی الحال تو دونوں کوریاؤں کا زور اس پر ہے کہ جزیرہ نما ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دے دیا جائے۔ اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے مشروط یا غیر مشروط انداز میں دستبردار ہونے پر آمادہ ہو گیا تو پھر جنوبی کوریا بھی امریکی فوجوں کی اپنے ملک سے واپسی کا مطالبہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
کوریا کے دونوں حصوں کے تعلقات معمول پر لانے کا موازنہ بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات و حالات سے کرنا اس لیے بھی درست نہ ہو گا کیونکہ بھارت اور پاکستان کے برعکس شمالی کوریا کے کیمونسٹ اور جنوبی کوریا کے سرمایہ دارانہ ریاستی نظریے اور معاشی ترقی کے فرق کے باوجود دونوں کوریاؤں کی زبان، نسل، رنگ ، مذہبی رجحانات ، کھانا پینا اور تاریخ اپنے خمیر میں ایک ہی جیسی ہے۔ سوچئے اگر شمالی کوریا میں مسلمان اور جنوبی کوریا میں ہندو اکثریت ہوتی تو آج دو ہزار اٹھارہ کی دنیا میں تہتر برس پرانی تقسیم کو لے کر وہ ایک دوسرے کے بارے میں کس طرح سوچ رہے ہوتے ؟

اس کے علاوہ طبیعت اور نفسیات میں بھی نمایاں فرق ہے۔ کورینز کی ناک ایسی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آسانی سے ملا سکتے ہیں۔ جب کہ بھارت اور پاکستان کی ناکیں اتنی لمبی ہیں کہ کٹ تو سکتی ہیں مل نہیں سکتیں، ٹوٹ سکتی ہیں پر نیچی نہیں ہو سکتیں۔ کورینز میں بہت زیادہ مونچھیں رکھنے کا بھی رواج نہیں لہذا ان کی زبان میں شائد مونچھ اونچی اور نیچی کرنے کا محاورہ نہ ہو اور وہ باآسانی تعلقات کا پلِ صراط عبور کر پائیں۔ اس کے برعکس اپنے ہاں تو سرحد کے دونوں طرف بھلے عسکری پالیسی ہو کہ خارجہ پالیسی، دونوں کی دونوں تاؤ زدہ مونچھوں سے لٹکی ہوئی ہیں اور بیچ میں کشمیر کا پتھر الگ سے گڑا ہوا ہے۔

تو کیا اتنی لمبی ناکوں اور کڑکیلی مونچھوں کے باوجود ہم دو نارمل ممالک کی طرح نہیں رہ سکتے ؟ جیسے چین اور جاپان ، جیسے فرانس اور جرمنی ، جیسے امریکا اور ویتنام یا امریکا اور کیوبا۔ ہم بالکل نارمل انداز میں رہ سکتے ہیں مگر کیوں رہیں ؟ اس کے بعد زندگی میں بوریت کے سوا کیا بچے گا۔ باقی دنیا اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا۔ ویسے بھی غالب بھارت اور پاکستان کی مشترکہ میراث ہے اور غالب نے کورینز کے لیے نہیں اپنے آجو باجو والوں کے بارے میں ہی فرمایا ہے کہ

چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد
گر نہیں وصل عداوت ہی سہی

کورینز کا تو صرف ایک مسئلہ ہے یعنی اوپر سے تھوپی گئی تقسیم۔ ہمارے پاس تو ایک سے بڑھ کر ایک خونی سرحدی و تاریخی شخشخا اور پنج شاخہ ہے ، ایٹمی ہتھیار ہیں ، اکھنڈتا کا جن سنگھی نظریہ ہے، بھارت فتح کرنے کا جہادی نظریہ ہے، را ہے، آئی ایس آئی ہے، افغانستان کی شطرنج ہے، وہاگہ اٹاری سرحد پر ہر شام منعقد ہونے والی جناتی دھمک سے لتھڑی گھورم گھاری والی سینہ و مکہ تانی پریڈ ہے۔ خدانخواستہ کہیں مسائل واقعی حل نہ شروع ہونے ہو جائیں، اس نوبت سے بچنے کے لیے سیول اور پیانگ یانگ کے برعکس دلی اور اسلام آباد کے پاس ایک دوسرے سے ملاقات نہ کرنے کے سو بہانے ہر وقت تیار ہیں، طنز کے زہریلے تیر ترکش میں بھرے رہتے ہیں، اپنی اپنی موجودہ اور اگلی نسلوں کو الو بنانے کے لیے نقلی یا ملاوٹی تاریخ اور قصے گھڑنے والی بیسیوں دانشورانہ فیکٹریاں ہیں۔ ان میں سے کئی تو تین تین شفٹوں میں چلتی ہیں۔ کورینز کے پاس کیا ہے ؟ لکیر کے آرپار پتھرائی آنکھوں والی بوڑھی ماؤں ، باپوں ، قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے اپنے سرحد پار بھائیوں، بیٹیوں یا لگڑ پوتوں کی ایک جھلک دیکھنے کی حسرت کے سوا ؟ لہذا کہاں کورینز کہاں ہم۔ ان کی دشمنی صنعتی سماج ہونے کے باوجود زرعی انداز کی ہے، ہماری دشمنی زرعی سماج ہونے کے باوجود صنعتی ہے۔

وسعت اللہ خان

کوریائی سربراہان کی 65 برس بعد تاریخی ملاقات

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مابین طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے دوران گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے جس کے مطابق خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ جنوبی کوریا کے سرحدی گاؤں ’پان من جوم‘ میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن نے اپنے اعلیٰ سطحی وفود کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام اور باہمی تعلقات کے حوالے سے مذاکرات کیے گئے۔

واضح رہے 1953 میں کوریا جنگ کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ہونے والی یہ تیسری ملاقات تھی جس میں سے گزشتہ 2 ملاقاتیں بالترتیب سال 2000 اور 2007 میں شمالی کوریا میں ہوئیں، جبکہ کوریا جنگ کے بعد کِم جونگ ان شمالی کوریا کے پہلے حکمران ہیں جو سرحد عبور کر کے جنوبی کوریا آئے۔ ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے مشترکہ طور پر ایک اعلامیہ پر دستخط کیے جس کے تحت اتفاق کیا گیا کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے گا، تاہم اس ضمن میں کسی لائحہ عمل یا ممکنہ مدت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں خطے میں فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلحے میں کمی کرنے، جنگ کے دوران بچھڑ جانے والے خاندانوں کی ملاقات کرانے، دونوں ممالک کو ریل کے نظام سے آپس میں منسلک کرنے اور رواں سال ہونے والے ایشیائی گیمز سمیت کھیلوں کی دیگر سرگرمیوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک میں مستقل امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے سال کے آخر تک معاہدہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا، جبکہ ان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد لینے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1953 میں کوریا جنگ کا اختتام ایک سمجھوتے کے تحت کیا گیا تھا اور باقاعدہ طور پر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ تاحال نہیں کیا جا سکا، جس کے سبب دونوں ممالک تکنیکی اعتبار سے اب بھی حالت جنگ میں ہیں۔

سی آئی اے کے سربراہ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے “خفیہ” ملاقات

امریکی خفیہ ایجنسی “سی آئی اے” کے سربراہ مائک پومپیو نے شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا ہے جہاں مبینہ طور پر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس امر کا دعوی امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ شمالی کوریا سے اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق شمالی کوریا اور امریکہ کے حکام کی براہ راست بات چیت ہوئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تاریخی ملاقات کے بارے میں معاملات طے کیے جا سکیں، تاہم امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ بات چیت میں کون شامل تھا۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیراعظم شِنزو آبے سے ملاقات کے موقعے پر بتایا کہ’ہماری اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور اس وقت پانچ مقامات زیر غور ہیں جہاں میری کم جونگ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔‘ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات جون کے ابتدا میں یا اس سے کچھ دیر پہلے ہو سکتی ہے۔ جاپانی وزیراعظم شِنزو آبے نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات پر رضامند ہونے کے جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی۔ خیال رہے کہ جاپان کو خدشات ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان باہمی بات چیت کے منصوبے میں جاپان نظرانداز ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے معاملے پر متحد ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ رواں ماہ کے شروع میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے جوہری ہتھیاروں اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی ملاقات کی خبر مارچ میں سامنے آئی تھی اور وہ عالمی برادری کے لیے نہایت حیران کن تھی۔ واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے ایک سال قبل تک ان دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کیے اور دھمکیاں تک دی تھیں۔

پینٹا گون چیف دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ سے بچائیں

پینٹاگون کو جاری کئے گئے ایک پیپر میں ڈینئل ایلسبرگ نے خبردار کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع جم میٹس سے کہا ہے کہ وہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کاروائی کا آغاز کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حکم سے بچائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برس کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ صورتحال جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جانب جا رہی ہے ۔ پیپر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بااختیار شخص ہونے کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کر رہے ہیں۔

ایلسبرگ جو ایک سابق فوجی تجزیہ نگاربھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ کا منصوبہ عالمی تباہی میں تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ پینٹاگون پیپر 3 بڑی جوہری طاقتیں امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے بشارت الاسد کے خلاف اقدامات کرنے اور شام میں کیمیائی حملے کے بعد دیئے گئے ان بیانات کے بعد سامنے آئے ہیں ۔ الیسبرگ کا مزید کہنا ہے کہ یہ ایک بہت خطرناک وقت ہے ۔انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر کاروائی کرنے کے لفظی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ایک اور جوہری طاقت کو جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں ۔

جب کہ 4 جوہری طاقتیں مل کر شام پر کاروائی کر رہی ہیں اور ان پر سیاسی دبائو بھی ہے ۔ ایلسبرگ نے میٹس پر زور دیا ہے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کیلئے تیار رہنا چاہیئے ، تاہم میٹس کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے اس قسم کے حکم کو اپرول کے بغیر نہیں مانا جائے گا اور مٹس ڈونلڈ ٹرمپ کو شام اور شمالی کوریا میں ایسے کسی اقدام سے روک لیں گے ۔

کم جونگ ان چین میں کیا کرتے رہے ؟

کئی روز کی افواہوں کے بعد اب باضابطہ طور پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے چین کا دورہ کیا اور اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

مقامی میڈیا پر یہ خبر چلی کہ سفارتی ٹرین پر ہائی پروفائل شخصیت بیجنگ پہنچی ہے جبکہ جاپانی میڈیا کا کہنا تھا کہ وہ شخصیت شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان ہیں۔

اب کم جونگ کے اس دورے کی تصدیق چین اور شمالی کوریا دونوں نے کر دی ہے.

چینی خبر رساں ایجنسی شن ہوا کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں.

 ایجنسی کے مطابق غیر سرکاری دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنے چینی ہم منصب کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عزم پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی.

شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کا 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا.

اس دورے کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی دیے جانے کے تناظر میں بہت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے.

ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے شمالی کوریا اور چین کے اعلیٰ حکام ایک ملاقات کر سکتے ہیں۔

 

ایک غلط بٹن دبنے سے امریکہ میں بیلسٹک میزائل حملے کی وارننگ جاری ہو گئی

امریکی ریاست ہوائی میں موبائل فونز پر بیلسٹک میزائل حملے کی وارننگ ملتے ہی ہر جانب ہلچل مچ گئی۔ وارننگ میں کہا گیا تھا کہ بیلسٹک میزائل کا حملہ ہونے والا ہے، جلد سے جلد پناہ گاہیں تلاش کی جائیں یہ کوئی مذاق نہیں ہے، مگر بعد میں اسے انسانی غلطی قرار دے دیا گیا۔ امریکی حکام نے کہا پیغام غلطی سے چلا گیا تھا، وارننگ مشق کی تھی۔ اس حوالےسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بریفنگ دی گئی جبکہ ہوائی کے گورنر نے غلط خبر پر عوام سے معذرت کر لی۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق شہریوں کے چہروں پر خوف، دلوں میں دہشت اور جان بچا کر بھاگنے کے مناظر فلموں میں تو بہت دیکھے ہوں گے مگر امریکی ریاست ہوائی میں یہ حقیقت بن گیا تھا۔

 ہوائی کے ایمرجنسی مینجمنٹ آفس کی جانب سے ٹویٹ جاری کیا گیا کہ ہوائی کو کوئی خطرہ نہیں، گورنر ہوائی کا کہنا ہے انسانی غلطی کے باعث غلط وارننگ جاری ہوئی تھی۔ صحافیوں نے ایج سے اصرار کرتے ہوئے بارہا پوچھا کہ ایسی غلطی کس طرح ہوئی تو گورنر کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ ہر وہ ممکن اقدام کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔ ہوائی میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ادارے عہدیدار ورن میاگی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ غلط پیغام جاری کرنے والے ذمہ دار شخص کو اپنی اس “خطرناک غلطی کا احساس ہے”۔

مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ انھیں میزائل حملے کا انتباہی پیغام، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ای میلز اور موبائل فونز پر بھی موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ “ہوائی کی طرف بیلسٹک میزائل آ رہا ہے، فوراً محفوظ مقام تلاش کریں، یہ کوئی مشق نہیں ہے۔” انتباہی پیغام جاری ہونے اور الارم بجنے کے بعد ہوٹلوں میں مقیم افراد کو فوراً تہہ خانوں میں منتقل کر دیا گیا اور مقامی لوگ اپنے اپنے گھروں میں محفوظ ترین جگہوں کی تلاش میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس انتباہ کے 20 منٹ کے بعد ہی یہ حکام کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ پیغام ایک اہلکار کی طرف سے غلطی سے بٹن دب جانے کے باعث جاری ہوا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

شدید کشیدگی کے بعد شمالی و جنوبی کوریا میں مذاکرات کا آغاز

شمالی اور جنوبی کوریا کے اعلی ترین حکام دو برس بعد پہلی ملاقات میں مشترکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بات چیت میں جنوبی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے معاملے کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جسے شمالی کوریا نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت شمالی کوریا جنوبی کوریا میں ہونے والے موسمِ سرما کے اولمپکس مقابلوں میں اپنے کھلاڑی بھیجنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔ جنوبی کوریا کی حکومت کے بیان کے مطابق دونوں ممالک فوجوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’ہاٹ لائن‘ کو بحال کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ جوہری تخفیف کے معاملے میں شمالی کوریا کے وفد کا رویہ منفی تھا۔ دو دن کے مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تعلقات میں بہتری کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری رکھنے کے علاوہ کچھ دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق کیا تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

شمالی کوریا نے جن معاملات پر اتفاق کیا ان میں اپنی قومی اولمپکس کمیٹی کے وفد کے دورے کے علاوہ کھلاڑیوں، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے والی چیئر لیڈرز، جسمانی کرتب دکھانے والے کھلاڑیوں، تماشائیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی کوریا بھیجنے پر رضامندی شامل ہے۔ جنوبی کوریا نے ان مہمانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان مذاکرات میں جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے ایسے جارحانہ اقدامات سے پرہیز کا بھی کہا ہے جن سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور شمالی کوریا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر پُرامن فضا قائم رکھنا ضروری ہے ۔  مشترکہ بیان کے علاوہ ذرائع ابلاغ نے مذاکرات کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے مطابق:

جنوبی کوریا نے تجویز پیش کی ہے کہ اگلے ماہ کے سرمائی اولپمکس کی افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی اسی طرح اکٹھے گراؤنڈ میں داخل ہوں گے جیسے وہ سنہ 2006 کے اولمپکس میں ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا نے مذاکرات میں زور دیا کہ کھیلوں کے دوران کوریائی قمری سال کی تعطیل کے دن کوریائی جنگ کے دوران ایک دوسرے سے بچھڑ جانے والے خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ملایا جائے۔ جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے کھلاڑیوں کی اولمپکس میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے شمالی کوریا پر لگی پابندیوں کو جنوبی کوریا اقوام متحدہ کے تعاون سےعارضی طور پر اٹھا لے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان امور پر شمالی کوریا کے ردعمل کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مذاکرات کے بعد بیان دیتے ہوئے شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ کے ابتدائی الفاظ بالکل غیر جانبدارانہ تھے۔ ری سون گؤان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ’شمالی کوریا کا موقف مخلصانہ اور سنجیدگی پر مبنی ہے اور انھیں توقع ہے کہ یہ مذاکرات نئے سال کے لیے ایک ’اچھا تحفہ‘ ثابت ہوں گے۔ سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وِنگفیلڈ ہیز کے تجزیے کے مطابق صرف ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا جوہری جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا، اور منگل کی صبح پیونگ یانگ سے ایک وفد چہل قدمی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کھینچی ہوئی اس لکیر کی دوسری جانب پہنچ گیا جس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کیا ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے خیال میں کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اگرچہ ایک ڈرامائی تبدیلی ہیں، لیکن جنوبی کوریا میں کم ہی لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات شمالی کوریا کے رویے میں کسی بنیادی تبدیلی کی نشاندھی کرتے ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون جائئن کو بھی ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ اگر شمالی کوریا کو کسی قسم کے بامعنی مذاکرات پر رضامند کر بھی لیتے ہیں تو خدشہ یہ ہے کہ امریکہ شاید اپنے اتحادی کی اس کوشش کو بھی شک کی نظر دیکھ سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن میری میز پر ہے، کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا بٹن ان کی میز پر ہے۔ سال نو کے آغاز پر اپنے خطاب میں کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ پورا امریکا ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا بٹن دفتر میں ہمیشہ میرے قریب ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ اٹل حقیقت ہے۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ ان کا ملک ایک ذمے دار جوہری ملک ہے جو امن سے محبت کرتا ہے اور یہ تب تک ہے جب تک اس پر کوئی جارحیت نہیں کرتا۔ کم جونگ ان نے اعلان کیا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی پیداوارمیں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو ایٹمی جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لیے ملک کو تیار رہنے کی ضرورت ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق اور راکٹ انجینئرنگ کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

عدنان تابش

کیا روس اور چین، شمالی کوریا کی مدد کر رہے ہیں ؟

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ شمالی کوریا کو چین اور روس کے بحری جہازوں کے ذریعے تیل منتقل کیا گیا ہے۔ چین نے تیل منتقلی کی تردید کی ہے۔ روس کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دو سینیئر مغربی سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کو روس کے بحری جہازوں سے کھلے سمندر میں تیل منتقل کیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ روس کی جانب سے ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے لیے تیل کا حصول حکومتی عملداری قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تیل مال بردار بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکروں پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترسیل کے عمل میں امکاناً روس کے نجی کاروباری حلقوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس مناسبت سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریائی مال بردار بحری جہاز روسی بندرگاہوں سے تواتر کے ساتھ آ جا رہے ہیں۔ ان ذرائع نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے یہ تیل کی منتقلی بحر الکاہل میں ہوئی ہے۔ روسی تیل بردار بحری جہاز مشرقی روسی بندرگاہی علاقوں سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بحری جہازوں کی آمد و رفت انٹیلیجنس سیٹلائٹ پر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تیل کی منتقلی کے حوالے سے معلومات مغربی سکیورٹی ذرائع نے نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی روئٹر کو بتائی ہیں۔ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بظاہر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تیل کی منتقلی میں روسی حکومت ملوث ہے۔ روس کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کی تردید کر دی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ چین نے شمالی کوریا کو تیل کی فراہمی میں چھوٹ دے رکھی ہے۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں۔ ایک جنوبی کوریائی اخبار Chosun Ilbo نے ایک امریکی انٹیلیجنس سیٹلائٹ سے اتاری گئی ایک تصویر شائع کی تھی اور لکھا تھا کہ ایک چینی بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکر پر تیل کی منتقلی دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام نے اس جنوبی کوریائی اخباری رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔