کیا کھیل ختم ہو گیا ہے؟

موجودہ حکومت کے قبل از وقت ختم ہونے کے حوالے سے اگرچہ کچھ عرصے سے افواہوں کی چکی بہت تیز چلتی آرہی ہے، یہ پلاٹ اب کافی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے اقتدار کے ایسے سویلین کھلاڑیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے جو پہلے ایسی رپورٹس پر ہنس دیا کرتے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ ہفتے کی پریس کانفرنس میں کسی غیر آئینی اقدام کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو روز قبل اس یاد دہانی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ہفتے میں تین مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں۔

وزیراعظم جیسے عہدے کے حامل شخص کی طرف سے ایسی بات ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ پردے کے پیچھے جو کھیل جاری ہے اس سے کچھ اشارے ملتے ہیں کہ معاملات کس طرح ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا جمہوریت پر لیکچر شروع ہونے سے کچھ قبل ایک ہائی پروفائل اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک بااثر رکن اور سویلین سیٹ کے ایک اہم عہدے دار کے مابین ہوا تھا۔ سویلین کو بتایا گیا تھا کہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بااثر رکن نے وضاحت کی کہ اتنی زیادہ گڑبڑ کے ساتھ حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ موجودہ سیٹ اپ کے خلاف معاشی اعداد و شمار چارج شیٹ میں سب سے اوپر ہیں۔ قومی خزانے کا خالی ہونا تشویش کی وجہ بتایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آنے والا منصوبہ ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے قادیانی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی تلخ تنقید پر ناپسندیدگی بھی پہنچائی گئی جس میں مخصوص افراد کو ہدف بنانے کی نیت کار فرما تھی۔ پارلیمنٹ کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو بھی قومی احتساب بیورو کے تحت لانے کو بھی متعلقہ حلقوں کی جانب سے تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ عدلیہ کے خلاف بے رحمانہ مہم اور اسے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوشش کہ یہ نواز شریف کو نکالنے کے لئے کی گئی تھی، اس پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح قانون میں ترمیم کے ذریعے نااہل وزیراعظم کو پارٹی سربراہ کے طور پر واپس لانے کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی ساکھ کیا ہو گی جسے عدالت سے ایک نااہل شخص ریمورٹ کنٹرول سے چلا رہا ہو۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں الیکشن بل 2017 کی منظوری کو وقت سے پہلے روکنے کی کوشش کی گئی، یہ بات الگ سے معلوم ہوئی ہے۔ سرکاری پارٹی کے ارکان کو پرائیوٹ نمبرز سے کالیں موصول ہوئیں جن میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس قانون کی منظوری کا حصہ بننے سے باز رہیں، اس کوشش کو اعلی سیاسی سطح پر رابطوں کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ اپنے والد کی سیاسی وارث کے طور پر مریم نواز کے ابھرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت اور سویلین عہدے دار کے مابین ملاقات میں سوال اٹھایا گیا۔

اتفاق کی بات ہے کہ اس منصوبے پر مسلم لیگ ن کی بھاری بھرکم شخصیات نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان کی شکایت ہے کہ خاندان سے باہر کے پارٹی ممبران کی تو بات ہی الگ ہے، نواز شریف تو پارٹی کے اندر اتفاق رائے پائے جانے کے باوجود اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ کو گھر بھیجنے کے منصوبے پر غور ہو رہا ہے، یہ کس طرح ہو گا؟ کسی کے پاس بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔ اس سازش کے محرم راز حکام سے پس پردہ تبادلہ خیال سے ظاہر ہوتا ہے کہ براہ راست مداخلت کے آپشن کو ترجیح دینے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ آرمی چیف کسی غیرآئینی قدم کے حق میں نہیں ہیں، یہ وہ نکتہ ہے جس کی توثیق ڈی جی، آئی ایس پی آر نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں کی، جب انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو گا۔

اس کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عدلیہ ثالثی کا کردار ادا کرے۔ تبدیلی کے لئے دو ممکنہ منصوبے زیر غور ہیں۔ ایک، حکمران جماعت میں فارورڈ بلا ک کی تشکیل اور دوسرا، اسلام آباد کی جانب مارچ۔ پہلا منصوبہ اسی وقت روبہ عمل آسکتا ہے کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے حکمران جماعت میں سے کافی تعداد میں انحراف کرنے والے دستیاب ہوں۔ ایک کامیاب کوشش سے آخرکار نئے انتخابات کا مطالبہ پھوٹ سکتا ہے لیکن احتساب کے بعد، جس سے پارلیمنٹ کی منظوری سے قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ کس قدر قابل عمل ہے اس کا کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔

اگرچہ سرکاری ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سربراہ کے بارے میں قانون میں ترمیم پر رائے شماری سے روکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا لیکن حکمران جماعت کے لئے جو اشارے باہر آرہے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ چار منحرفین کو مختلف محاذوں پر اپنا راستہ بنانے کا کام تفویض کیا گیا تھا اور ان کی کوششوں کے نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکور کو 50 تک لانے کا دعوی کیا ہے۔ کون اس گروپ کی قیادت کرے گا، اسے ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا منصوبہ جس پر غور کیا جا رہا ہے وہ ایک سیاسی جماعت کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کا ہے جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا یا جس طرح 2016 میں محاصرے کی کال کے ذریعے کوشش کی گئی تھی۔ کوئی بھی ایشو احتجاج کا نکتہ بن سکتا ہے۔ شریف خاندان کی جانب سے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے مبینہ تاخیری حربے، پولیس اور وکلا میں ہاتھا پائی یا اگلی سماعت پر کوئی بھی مہم جوئی بہانہ فراہم کر سکتی ہے۔
انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر عدلیہ پر تنقید بھی ایک وجہ بن سکتی ہے اور یہ مطالبہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں ہے۔

اس مطالبے کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کوئی درخواست دائر کر سکتا ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دفعہ 190 کو لاگو کیا جائے جس کے تحت تمام ایگزیکٹو اور جوڈیشل حکام سپریم کورٹ کی معاونت کریں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کس طرح ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا قومی اتفاق رائے سے بننے والی حکومت ان آپشنز کو استعمال کرکے قائم کی جائے گی۔ اس کا جواب اس منصوبے کے معمار کے پاس ہے۔ اس وقت آئین کے بجائے کنفیوژن بالاتر ہے۔ دی نیوز کو قابل بھروسہ ذرائع سے پتہ چلا ہے، مشرق وسطی کے دو ممالک نے نئے سیٹ اپ کے قیام کی صورت میں بیل آؤٹ پیکج پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آدمی یہی نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ممکنہ تبدیلی کا منصوبہ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی جہات بھی رکھتا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے یمن کے لئے فوجی دستوں کی فراہمی سے انکار کو ابھی تک بھلایا نہیں گیا ہے۔ یہ اتفاقی مطابقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچانک بہتر تعلقات سے ہوئی ہے۔ افغان صدر پاکستان آر ہے ہیں جبکہ ’’را‘‘ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کی لندن میں ملاقات اس عزم پر ختم ہوئی ہے کہ نفرت سے گریز جائے۔ کیا خطے میں تاریخی موقعے کو گرفت میں لینے کےلئے اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے؟ پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دے کر سی پیک کے صلے کا آئندہ ماہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس کا سہرا اپنے سر باندھ سکے؟ آنے والا وقت دلچسپ ہے۔

عمر چیمہ

بشکریہ روزنامہ جنگ

Advertisements

پاکستان توہین مذہب کی کڑی سزا دینے والے ملکوں میں سر فہرست

ایک پاکستانی عدالت نے ایک شخص کو فیس بک پر مبینہ طور پر توہین مذہب سے متعلق مواد شائع کرنے پر موت کی سزا سنائی۔ یہ میڈیا کے حوالے سے دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ پاکستان کا نام ان تین ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں توہین مذہب کے جرم میں موت تک کی سزا دی جاتی ہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمشن کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے ان 71 ممالک کی فہرست میں جہاں توہین مذہب کے قوانین موجود ہیں، پاکستان، ایران اور یمن سخت سزائیں دینے میں سر فہرست ہیں۔ توہین مذہب کے قوانین کی موجودگی کے باوجود سب سے کم سزائیں آئرلینڈ اور سپین میں دی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یورپ کے کئی ملکوں میں اگرچہ توہین مذہب کے قانون موجود ہیں لیکن ان کا إطلاق شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توہین مذہب کا قانون رکھنے والے 86 فی صد ملکوں اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا قید ہے۔ رپورٹ میں پاکستان اور ایران کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں پیغمبر اسلام کی بے حرمتی پر عدالتیں عموماً موت کی سزا سنا دیتی ہیں۔ ایک پاکستانی عدالت نے ایک شخص کو فیس بک پر مبینہ طور پر توہین مذہب سے متعلق مواد شائع کرنے پر موت کی سزا سنائی۔ یہ میڈیا کے حوالے سے دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قانون کے سلسلے میں اسلامی ملکوں میں سب سے اچھا ریکارڈ سعودی عرب کا ہے۔ وہاں اس جرم کے لیے سزا کا تعین نہیں کیا گیا ۔اس کا فیصلہ پر اسیکیوٹر اور جج جرم کو نوعیت کے مطابق کرتے ہیں۔ جہاں قانون حد نہیں لگاتا وہاں جج کے پاس آزادی سے فیصلہ کرنے کی کافی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

کیا شریفوں کی خاندانی سیاست کا تسلسل انجام کو پہنچا ؟

نواز شریف کی بے وقار رخصتی سے شاید ملک کی سب سے طاقتور سیاسی خاندانی سلسلے کے لیے کسی سنگین دھچکے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اپنے غیر معمولی حکم نامے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے، اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے، ملک کے سیاسی منظر نامے پر غالب تقریباً تمام شریفوں کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس فیصلے کے بعد شریف خاندان کی سیاسی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا یا نہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ قیادت کی چھڑی اب شہباز شریف کے ہاتھوں میں تھما دی جائے گئی، تا کہ کم از کم موجودہ حالات میں اقتدار پر خاندانی سلسلے کو قائم و دائم رکھا جا سکے۔

بلاشبہ، موجودہ وزیر اعظم کے خلاف بے مثال عدالتی کارروائی ملک کی جمہوری ارتقاء کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی کے قیام کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ فیصلے پر اٹھائے جانے والے شکوک شبہات کو خلاف دستور عمل کہا گیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ تمام کارروائی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی گئی اور کچھ بھی آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہوا۔ یہ بات ملک میں انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ کے بجائے ایک آزاد عدلیہ کی تشکیل کی جانب بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا فیصلے کے بعد محسوس ہو رہی تکلیف سے اختلاف رائے رکھی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ، ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ایک ہنگامے اور سیاسی غیر یقینی کے دور کو جنم دیا ہے— جب کسی مضبوط خاندانی سیاسی سلسلہ کو ہلا کر رکھ دیا جائے تو ایسا ہونا لازم ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ملک میں سیاسی انتشار کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مگر بلاشبہ اس سے جمہوری سیاسی عمل کو کوئی ایسا خطرہ نہیں جس کے خدشات نواز شریف کے حامی ظاہر کر رہے ہیں۔

بلکہ اس سے تو خاندانی سیاست کو ٹھیس پہنچی ہے جو کہ ملک میں جمہوری اداروں اور اقدار کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے نے اس سوچ کا بھی خاتمہ کیا کہ چونکہ نواز شریف پنجابی ہیں اس لیے ان کا کوئی بال بھی بیگا نہیں کر سکتا جبکہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں سے بڑی آسانی سے ہٹا جا سکتا ہے۔ اس لیے شریف کی سبکدوشی پر واویلا کرنا اور مقدمے کے معاملات کو جمہوریت کے لیے دھچکا تصور کرنا، سمجھ سے بالا تر ہے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ ایک پورے قانونی عمل سے گزرا اور اسے سازش کا ایک حصہ یا ایک عدالتی بغاوت بالکل نہیں کہا جا سکتا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ، جس میں نواز شریف اور ان کے خاندان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، کے آنے کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ وزیر اعظم بڑے مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شریف خاندان لندن جائیداد کی منی ٹریل فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ان پر جھوٹا بیان دینے اور چند غیر ملکی اثاثے چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ لیکن ایک پورے خاندان کے خلاف اتنی سخت کارروائی اور اتفاقی فیصلے نے نہ صرف حکومت بلکہ حکومت سے باہر بیٹھے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بلاشبہ، خاندان کے دیگر افراد پر الزامات اور ان کے خلاف مقدمات نیب کو بھیجنے سے خاندانی تسلسل کا منصوبہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔ جہاں جعلی کاغذات کے الزام کے بعد، عدالتی فیصلہ مریم نواز کے خلاف آنے کی تو توقع تھی وہاں اس فہرست میں شہباز شریف کا نام شامل ہونا خلاف توقع ہے۔ جس نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بد سے بدتر حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر پارٹی میں موجود کئی لوگ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ جونیئر شریف نیب میں الزامات کا سامنا کرتے ہوئے بھی پارٹی کو قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ ہاں مسلم لیگ ن کے پاس اب بھی مظلومیت کا کارڈ اور سبکدوش وزیر اعظم کو ’سیاسی شہید’ کے طور پر پیش کرنی کی چال باقی ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات میں یہ چال کام آئے گی بھی یا نہیں۔ نواز شریف کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کمزور پڑنے سے ان کا پارٹی پر اثر رسوخ بھی محدود ہو چکا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے جنم لینے والے نواز شریف کو 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبے کے تحت ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں سیاست میں اتارا گیا تا کہ بے نظیر بھٹو کو چیلنچ دینے کے لیے سیاسی میدان میں کوئی دوسرا لیڈر موجود ہو۔ 1990 کی دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک کے سفر میں انہیں فوج اور پنجاب کی طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی رہی۔ اسی سیاسی طاقت کی بدولت شریف خاندان کو کاروبار میں بھی زبردست ترقی نصیب ہوئی۔ اس مالی اسکینڈل نے نواز شریف کے پورے سیاسی کریئر میں، خاص طور پر ملک کی سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد، پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر پاناما پیپرز میں ان کے خاندان کا نام آنے کے بعد اسکینڈل کھل کر سامنے آیا اور ان کے زوال کی وجہ بھی بنا۔ سیاسی طاقت کے عروج تک پہنچنے کے بعد نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو توڑنے کی بھی کوشش کی، جس کے باعث وہ اپنی گزشتہ حکومتوں کی میعاد پوری نہیں کر پائے تھے۔ کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سرپرست رہنے والا شخص اب خود ان کے لیے زہر قاتل بن گیا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ان کا تیسرا دور بھی فوجی قیادت کے ساتھ مسلسل تنازع کی زد میں رہا۔

اگرچہ مسلم لیگ ن کی ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی قربت رہی ہے مگر نواز شریف نے اسے ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی، لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ مگر پھر بھی نواز شریف برسا برس، حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جس کی بنا پر وہ تیسری بار منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے۔ پنجاب پر ان کے خاندان کی گرفت مضبوط بنانے کی خاطر طاقتور پنجابی سول اسٹیبلشمنٹ، بشمول بیوروکریسی اور عدلیہ کے کچھ حلقوں کو مدد کرتے دیکھا گیا ہے۔

ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ آیا رسوا نواز شریف پارٹی کو متحد رکھ پائیں گے یا نہیں۔ سب سے زیادہ ضروری یہ کہ، کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان پر الزامات عائد ہونے کے بعد چھوٹے میاں کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حمایت جاری رکھے گی؟ کیونکہ اس سے قبل ہمیں برے حالات میں میں ٹوٹ پھوٹ کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مشرف کی بغاوت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کے قیام کی صورت میں موجود ہے۔ جب حیران کن طور پر، وفاداریاں بدلنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نہ صرف حکومتی بینچوں بلکہ کابینہ میں بھی واپس شامل ہو گئی تھی۔

شریف خاندان کے لیے ایسی صورتحال سے بچنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پارٹی اتحاد کا انحصار پی پی پی اور پی ٹی آئی کی مسلم لیگ ن کے گڑھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت پر بھی ہے، جو کہ مرکزی سیاسی میدان بھی رہا ہے۔ جبکہ نواز شریف کے زوال سے دیگر صوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اقتدار میں ان کی واپسی کی تو زیادہ امید نظر نہیں آتی، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آیا یہ خاندانی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی ہے یا نہیں۔

زاہد حسین

شریف خاندان اقتدار گھر میں ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

ایک قانون کا حکمنامہ ہوتا ہے اور ایک اچھی سیاست ہوتی ہے۔ ایک قانونی دھچکے سے نکلنے کی راہ ہوتی ہے اور ایک غلطیوں کو دہرانا ہوتا ہے۔ ایک شریف خاندان ہے، اور ایک سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نواز شریف کی عدالتی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ تا حد نگاہ بلکہ اس سے بھی آگے تک بس شریف خاندان کی ہی حکمرانی رائج ہو۔ یا جس طرح سعد رفیق نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایک شریف کو ہٹاؤ گے تو ہم دوسرا لائیں گے، دوسرے کو ہٹاؤ گے تو ہم تیسرا پھر چوتھا شریف لائیں گے۔

ایک سیاسی پارٹی اپنا رہنما چننے کا جواز رکھتی ہے اور نواز شریف کی برطرفی سے پیدا ہونے والے متنازع حالات میں یہ بات تو ناگزیر تھی کہ دوسرے نام کے لیے سبکدوش وزیر اعظم کی ترجیحات ہی زیادہ باوزن ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان کی شدید تنگ نظری خطرناک ہے اور سیاسی طور پر پریشان کن بھی۔
نواز شریف کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن کو تین فیصلے کرنے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی فیصلہ اہم یا معقول ثابت نہیں ہوا ہے۔ پہلا تو شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بنانا۔ عبوری کیوں؟ عباسی اور سابق کابینہ میں شامل ان کے کئی دیگر ساتھی اگلے سال منعقد ہونے والے عام انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے ہر طرح سے باصلاحیت ہیں۔

ویسے تو مسلم لیگ ن اپنے دور کے کارناموں اور تجربہ کار ٹیم کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ لیکن خاقان عباسی اور ان کے دیگر ساتھی ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ وزیرِ اعظم رہنے کے لیے نااہل اس لیے ہیں کیوں کہ ان کے ناموں کے آگے شریف نہیں لگا۔ ملک کی تشکیل کے 70 ویں سال میں ایک پارٹی جو محمد علی جناح کی پارٹی کے نام پر قابض ہو وہ شرمناک حد تک اقرباء پرور ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو بلا تاخیر پنجاب سے نکال کر مرکز میں لانے کا فیصلہ بھی سیاسی طور پر مسائل سے بھرپور ہے۔

شہباز شریف کی وفاقی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش سے تو سیاسی حلقے کئی برسوں سے آشنا ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی نصیب ہوئی — اور انہیں وفاقی انتظامی تجربہ دینے بھی انکار کر دیا جو کہ آج مفید ثابت ہوتا— کیونکہ ان کے بھائی ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہتے تھے اور وفاقی دارالحکومت کے اندر اپنی ہم پلہ طاقتور شخصیت کی موجودگی سے متاثر ہونا نہیں چاہتے تھے۔ 1990 میں وہ رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں لیکن اب سے دو ماہ بعد ایک بار پھر حلف اٹھائیں گے تو اس وقت ایک بڑی حد تک مختلف پارلیمنٹ ہو گی اور اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی مختلف ہو گا۔ درحقیقت، شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ایک سیاسی تجربہ ہے جس کا نتیجہ کافی بدتر نکل سکتا ہے۔

بالآخر، اب حمزہ شریف کے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر پنجاب اسمبلی میں اپنے والد کی جگہ لینے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔ ٹھیک آلِ سعود کی طرح آلِ شریف بھی طاقت کو صرف اپنی نسل تک محدود رکھنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید واحد عارضی اچھائی یہ ہوئی ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں، ورنہ منظر نامہ مختلف ہوتا۔ سچ ہے کہ شریف خاندان نے موروثی سیاست میں کسی حد تک بھٹو خاندان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ اداریہ یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار شائع ہوا۔

کیا نواز شریف کے احتساب سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی ؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں چند دن یا چند ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر پاناما پیپرز اسکینڈل پر ہونے والی اس طویل، قانونی جنگ نے ملک میں جمہوری سیاست کے ارتقاء پر واضح نقوش چھوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایک جمہوری سیاست کی نشونما میں موجود مشکلات کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف کمرہءِ عدالت کے اندر اور باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں آپس میں اُلجھے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس دوران پارلیمنٹ بالکل غیر ضروری محسوس ہو رہی ہے۔

یقینی طور پر، اگر قائدِ ایوان نواز شریف کے گرد گھومنے والے مسائل کے حل کے لیے قانون سازوں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکمراں اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا ہوتا تو اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مقدمے میں اختلافی فیصلے کی وجہ سے ججوں کو وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہمارے ملک کی قانونی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ جس میں سپریم کورٹ ملک کے سب سے بڑے سیاستدان کے خلاف اس طرح کا ایکشن لے۔

کئی حلقوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا کہ احتساب سے بالاتر لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا، مگر حکومتی وفاداروں کے نزدیک ان کے محبوب رہنما کے خلاف ‘قوم کی بے لوث خدمت’ کرنے پر ‘عالمی سازش’ کی جا رہی ہے۔ کابینہ ارکان بار بار یہ جملہ دہراتے ہیں کہ ‘پہلے ان کی حکومت کو ایٹمی دھماکے کرنے پر ختم کر دیا گیا، اور اب انہیں سی پیک شروع کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔’ اور اب جب سپریم کورٹ اس کیس کو انجام تک پہنچانے کے قریب ہے، تو چیزیں مزید پریشان کن ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ ‘لبرل’ عذر خواہوں کی جانب سے ایک اور سازشی مفروضہ یہ پیش کیا گیا کہ عدالتی اقدامات ملکی جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جج صاحبان اور فوج کے درمیان اتحاد ہے۔ اس مفروضے کی حمایت میں ماضی سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر ایسا کرتے ہوئے یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ وہ تمام مثالیں فوجی دورِ حکومت کی ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق سیکیورٹی ادارے جج صاحبان کو ‘ڈکٹیشن’ دے رہے ہیں۔ ‘جمہوریت خطرے میں ہے’ کی گردان، چیزوں کو چلتے رہنے دینے کے لیے اکثر کام آتی ہے۔ کچھ لوگوں کو تو جلد ہی شارعِ دستور پر ٹینک چلتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل نے فوج کو اس معاملے میں گہرائی تک دھنسا دیا ہے۔ ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ارکان کی جے آئی ٹی میں موجودگی بلاشبہ سول ملٹری تعلقات میں خلیج پیدا کرے گی اور اس سے بچنا چاہیے تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو ایجنسیوں کی جے آئی ٹی میں موجودگی جے آئی ٹی کی تحقیقات کو مزید اثر و رسوخ فراہم کر رہی ہوں۔ مگر یہ کہنا کہ عدالت نے فوج کے کہنے پر ایکشن لیا ہے، اس سازشی مفروضے کو خوامخواہ بہت دور تک دھکیلنے والی بات ہے۔ یہ مفروضہ پیش کرنے والے لوگ اس سوال کو گول کر جاتے ہیں کہ پاناما لیکس پر انکوائری تک بات کیوں نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔ ملک کے اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر فائز شخص کو کسی بھی شخص سے زیادہ قابلِ احتساب ہونا چاہیے۔ نواز شریف کے پاس اس مسئلے پر پارلیمنٹ سے کلین چٹ حاصل کرنے کا موقع تھا، مگر ان کے خاندان اور ان کے بیانات میں تضادات کی وجہ سے وہ اس صورتحال تک پہنچے۔

مگر پھر بھی نواز شریف کے پاس پانچ رکنی بینچ اور پھر جے آئی ٹی میں خود کے دفاع کا موقع تھا۔ اب کیس واپس تین رکنی بینچ کے سامنے ہے اور ان کے پاس ایک اور لائف لائن موجود ہے۔ اس لیے ایک طاقتور وزیرِ اعظم کے خلاف سازش اور انہیں پھنسانے کا الزام کافی مضحکہ خیز ہے۔ مظلومیت کا کارڈ شریف خاندان کو کچھ ہمدردی دلوا سکتا ہے مگر عدالت کے سامنے یہ کارڈ نواز شریف کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں احتساب کو سیاسی مخالفین کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ فوجی حکمرانوں نے احتساب کا نعرہ لگا کر منتخب سیاسی حکومتوں کو گرایا اور سیاسی رہنماؤں کو اطاعت پر مجبور کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح نیب قوانین کو جنرل مشرف کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ جن لوگوں پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد تھے، انہیں حکومت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے پر کابینہ میں لے لیا گیا۔ چنانچہ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ احتساب ایک خراب لفظ بن گیا۔

مگر وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف جاری پاناما لیکس کی حالیہ تحقیقات کو ماضی کے ہتھکنڈوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت عدالت تو سیاسی قیادت کو احتساب کا مرحلہ مزید شفاف اور معقول بنانے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دے کر تحقیقات مضبوط کرنے کا موقع دے رہی ہے۔ جمہوری نظام قانون کی حکمرانی کے بغیر کمزور ہی رہے گا، اور قانون کی حکمرانی کو اب وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے شروع ہونا چاہیے۔

مگر عام طور پر یہ نکتہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ صرف سویلین رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ جنرل احتساب کے دائرہءِ کار میں نہیں آتے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ قانون سے بالاتر کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ سابق جرنیلوں اور دیگر طاقتور گروہوں کو حاصل استثنیٰ پر سوال جائز ہے۔ مگر اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ یا سب کا احتساب ہو یا کسی کا نا ہو۔ احتساب ایک مرحلہ ہے، اور اسے ایک دفعہ کے اقدام، یا سویلین سیاسی رہنماؤں کے خلاف مہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو مکمل طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی حال دیگر سرکاری اداروں کا بھی ہے۔

ہمارے سیاسی اور عدالتی نظام میں موجود دراڑیں پاناما کیس کی وجہ سے مزید واضح ہو گئی ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف زیادہ تر مقدمات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا تھا جہاں سے انہیں باہر نکالنے کی ہمت کوئی ادارہ نہ کرتا۔ دیگر سیاسی رہنما بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس بات کا تو یقین نہیں کہ وزیرِ اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے چیزیں تبدیل ہوں گی۔ مگر اس بے مثال اقدام سے نظام میں اصلاحات اور احتساب کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
جج صاحبان کے آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ اگر عدالتیں اور دیگر ادارے اپنا کام نہ کریں، تو جمہوری نظام نہیں چل سکتا۔

زاہد حسین

سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔ ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی بھی ہدایت کی اور تمام مواد احتساب عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا۔

عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔

آئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون ؟

سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تمام درخواستوں میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ فیصلہ کرے کہ وزیر اعظم نواز شریف آئین کی شق باسٹھ (ایک) (ف) کے تحت’صادق’ اور ‘امین’ نہیں ہیں۔ اس شق کے مطابق
(1) (62) : کوئی بھی شخص ممبرِ پارلیمان منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا جب تک کہ
(ف) وہ ذی فہم، راست باز، نیک چلن، صادق اور امین، اس کے خلاف اس ضمن میں۔۔۔۔ ;عدالتی فیصلہ نہ ہو
صادق اور امین ہونے کی شرط ملک کے سابق فوجی صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں متعارف کروائی گئی تھیں لیکن ہم ان شقوں کی کی تاریخ اور ان سے متعلق تنازعے کی بات کیے بغیر دیکھیں گے کہ آئین میں یہ کس صورت میں موجود ہیں۔

‘صادق’ اور ‘امین’ عدلیہ کی نظرمیں
اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہم سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی مدد لیں گے جو پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور دیگر سیاستدانوں کی وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دلوانے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر دیا تھا۔ ہم فریقین کے دلائل اور ان پر سپریم کورٹ کی ان دلائل پر رائے میں جائے بغیر صرف یہ دیکھیں گے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار نے اپنے موقف کے حق میں آئین کی شق باسٹھ (ایک) (ف) کا سہارا لیا تھا۔ مذکورہ مقدمے کے لیے سپریم کورٹ کا بنچ ججوں پر مشتمل تھا اور سبھی نے آئین کی اس شق پر بات کی۔

جسٹس عظمت سعید کا شمار پانچ میں سے ان تین ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جے آئی ٹی کے ذریعے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف شکایات کی تفتیش کا حکم دیا تھا اور جو اب اس بنچ میں شامل ہیں جو جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فیصلہ محفوظ کر چکا ہے۔ انھوں نے فیصلے میں شق باسٹھ کے بارے میں لکھا کہ اس شق کی بنیاد پر کسی کو پرکھنے سے پہلے اس ضمن میں کوئی عدالتی فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ اسی تین رکنی بنچ کے ایک اور رکن جسٹس اعجاز افضل خان نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ شق کی موجودہ صورت میں ہر شخص کو اس وقت تک ذی فہم، پارسا، نیک، صادق اور امین سمجھا جائے گا جب تک اس ضمن میں اس کے خلاف کوئی عدالت فیصلہ نہیں دے دیتی۔

پانچ رکنی بنچ کے ایک رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ جنہوں نے جسٹس گلزار احمد کے ساتھ مل کر اقلیتی فیصلہ لکھا تھا اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی آئین کی شق باسٹھ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ درست ہے کہ کسی امیدوار کی صداقت کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی عدالت کی طرف سے اس ضمن میں فیصلہ موجود ہونا چاہیے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں اب رجحان پیدا ہو چکا ہے کہ عدالت پہلے اس کے سامنے پیش کئے گئے شواہد کی روشنی میں امیدوار کے ایماندار ہونے کا فیصلہ کرتی ہے اور پھر اسی دوران اس کے اہل یا نااہل ہونے کا بھی فیصلہ کر دیتی ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس نااہلی کے معاملے میں حقائق کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے پاناما لیکس کی مقدمے میں لکھا کہ 18 ویں ترمیم سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کے خلاف شکایت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد کسی کے خلاف عدالتی فیصلہ ہونے کی شرط شامل ہو گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خِانہ کے خلاف مقدمے میں یہ بھی معاملہ زیر بحث آیا ہے کہ آیا سپریم کورٹ خود بھی ان کے خلاف الزامات پر فیصلہ دے سکتی ہے یا اس کے لیے معاملہ ٹرائل کورٹ میں بھیجا جائے گا۔

اخلاقی اور قانونی تقاضوں میں فرق اور عدالتی مشکلات
جسٹس عظمت سعید نے واضح کیا کہ عدالتیں قانون کی بنیاد پر کام کرتی ہیں اور اخلاقی سوالات ان کے دائرے سے باہر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شق باسٹھ میں جب لفظ ‘صادق’ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد قانونی لحاظ سے سچا ہونا ہے۔ یہ اخلاقیات کا سوال نہیں بلکہ اس صداقت کی قانونی حیثیت ہے۔ یہ ایک ‘آبجیکٹو’ تقاضا ہے نہ کہ ‘سبجیکٹو’۔ انھوں نے کہا کہ عدالتوں نے اس معاملے میں کبھی اخلاقی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وکلا کی طرف سے سپریم کورٹ کے کسی ایک بھی ایسے فیصلہ کا حوالہ نہیں دیا گیا جس میں جسی کو صرف اس بنیاد پر شق باسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو کہ وہ بے ایمان تھا اور یہ مبینہ بے ایمانی کسی قانون کی خلاف ورزی یا قانونی ذمہ داری کی عدم ادائیگی نہیں تھی۔

تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شق باسٹھ تریسٹھ کے بارے میں اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین میں دی گئی اصطلاحات میں ‘صادق’ اور ‘امین’ کی تشریح واضح نہیں ہے اور یہ بھی کہ کسی ایک مقدمے کے شواہد اور واقعات پر ان کا کس طرح اطلاق ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ابہام عدالتوں کو ان شقوں کی تشریح اور نفاذ کے معاملے میں کافی گنجائش اور لچک فراہم کرتا ہے اور عدالت کے پاس نتیجے تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کرنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

آئین کے تقاضے
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ شق باسٹھ کی حقیقت یہی ہے اور جو کہ ملک کی سپریم کورٹ نے بار بار واضح کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ باسٹھ ایک ف کو ‘سیاسی انجنیئرنگ ‘ کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایسے اختیارات اپنے آپ کو تفویض کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کہ وہ امیدواروں کی اخلاقی بنیادوں پر چھانٹی کر سکیں جیسا کہ ایک ‘ہمسایہ ملک میں بزرگوں کی مجلس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔’ ‘ہمارے آئینی نظام میں پاکستان میں حکومت کا حق عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو ہے نہ کہ چند افراد یا کسی ادارے کے منتخب کردہ افراد کو۔’

‘صادق’ اور ‘امین’ اور اسلامی حوالے
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلہ میں آئین کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ اور امیدواروں کے لیے قرآن سے حوالے دیتے ہوئے ‘صادق’ اور ‘امین’ ہونے کے تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ ان شقوں کو آئین کا حصہ بناتے ہوئے قرآن سے رہنمائی لی گئی ہے، جہاں انھوں نے لکھا کہ گھریلوں ملازم کے لیے ‘قوی الامین’ اور وسائل کی حفاظت پر معمور کئے جانے والے افراد کے لیے ‘حفیظ الامین’ کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ غالباً ‘صادق’ اور ‘امین’ کے بارے میں شقوں کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا اور نافذ کرنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے ہی ایک پرانے فیصلہ (اسحاق خان خاکوانی اور دیگر بنام میاں محمد نواز شریف اور دیگر) کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ آئین میں اتنی سخت شرائط کیوں رکھی گئی اور ان پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے پرانے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی کہ ذی فہم اور نیک اور پارسا ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اس شخص کی پوری زندگی کا احاطہ کرنا اور اس کی ذہنی کیفیت سمجھنا ضروری ہے۔ جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ ‘صادق’ اور ‘آمین’ کی شرط تو ظاہر ہے پیغمبر اسلام کی صفات تھیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں ان شرائط کا مطلب یہ یقینی بنانا تھا کہ بہترین صرف اچھے اور نیک مسلمان ہی اسمبلیوں تک پہنچیں اور وہ لوگ ریاست پاکستان میں اللہ کی حاکمیت ایک امانت کے طور پر نافذ کر سکیں۔ ‘لیکن ملک کے آئین کو مثالی ہونے کی بجائے عملی ہونا چاہیے’، انھوں نے مزید لکھا۔ انھوں نے کہا کہ پیغمبر آنا بند ہو گئے ہیں اور اب ہمارے سامنے صرف گناہ گار انسان ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ اللہ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تفریق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حقوق اللہ میں عبادات شامل ہیں جیسے کہ روزہ اور حج اور ان کا معاملہ خالق اور مخلوق کے درمیان ہے۔ جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ ان کے مطابق شق باسٹھ کا اطلاق کسی شخص کے ذاتی کردار کے مقابلے میں عوامی کردار تک محدود رکھنا جس سے دوسرے لوگ متاثر ہوتے ہوں فائدہ مند اور قابل عمل ہے۔

اسد چوہدری
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

امریکی سکیورٹی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی لکھی ہے جس میں انھوں نے لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلی روداد بیان کی ہے جس میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی بحران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔

ریمنڈ ڈیوس انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے اور انھوں نے ایسی ہی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی بارہا مشق کی تھی۔ انھوں نے فوراً اپنا پستول نکال کر اس کے میگزین میں موجود 17 میں سے دس گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین سے فائر کر کے ان دونوں موٹر سائیکل سواروں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو جان سے مار ڈالا۔ ریمنڈ ڈیوس کو ان دونوں کی ہلاکت کا ذرا بھر افسوس نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ میں نے نہیں بلکہ محمد فہیم نے پستول نکال کر کیا تھا: ‘اگر کوئی مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو (انھیں مار کر) میرا ضمیر صاف رہے گا کیوں کہ میرا اولین مقصد اپنے خاندان میں واپس آنا ہے۔’ ریمنڈ ڈیوس کو اسی دن گرفتار کر کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اسی وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کے لیے آئی تو اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی اور یوں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں گرفتار کر کے پہلے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد میں لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب امریکی سفارت خانے کو پتہ چلا تو انھوں نے ڈیوس کو رہائی دلوانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔
یہ وہی زمانہ ہے جب امریکی حکام کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور انھوں نے اسامہ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر اسامہ کے خلاف آپریشن ہوا اور اس دوران ڈیوس پاکستانی حراست میں رہے تو انھیں مار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خود اس وقت کے صدر براک اوباما نے 15 فروری کو خود ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘ہمارا سفارت کار ہے’ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

کتاب کے مطابق ریمنڈ ڈیوس پر تشدد نہیں کیا گیا، تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی دیا جاتا تھا اور اس دوران آنکھیں انھیں گھورتی رہتی تھیں۔ رات کو ان کے کمرے میں تیز بلب روشن رہتے تھے اور تیز موسیقی بجائی جاتی تھی تاکہ وہ سو نہ سکیں۔ اس دوران اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت منجدھار میں پھنسی ہوئی ہے، ‘اگر عوام کی سنی جاتی ہے تو دنیا ناراض ہو جاتی ہے اور اگر دنیا کے سنی جاتی ہے تو پھر عوام ناراض ہو جاتی ہے۔’ حسبِ توقع پاکستانی حکومت دباؤ میں آ گئی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مقدمہ عدالت میں تھا اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس لیے تیز اذہان سر جوڑ کر بیٹھے اور یہ تدبیر سوچی گئی کہ دیت اور خون بہا کے شرعی قانون کو حرکت میں لایا جائے۔

چنانچہ مقتولین کے ورثا کو منوا کر انھیں 24 لاکھ ڈالر خون بہا دیا گیا اور یوں 49 دن پاکستانی حراست میں رہنے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کر دیا گیا۔ اس وقت پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ ایک طرف ریمنڈ ڈیوس کے نقطۂ نظر سے ان سے کی جانے والی تفتیش اور مختلف عدالتوں میں پیشیوں کا احوال بیان ہوتا ہے، پھر اگلے باب میں امریکہ میں موجود ان کی بیوی کی زبانی ان پر گزرنے والے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بیچ میں امریکی سفارت خانے کی سرتوڑ کوششیں دکھائی جاتی ہیں، اور پھر ہم دوبارہ جیل پہنچ جاتے ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے اس کے بعض حصوں پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کتاب تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد اب کہیں جا کر شائع ہوئی ہے۔
‘دا کنٹریکٹر’ کے مطالعے سے پاکستانی تاریخ کے ایک خجالت آمیز موڑ کے مختلف پہلوؤں پر اس کے مرکزی کردار کے نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
اس کتاب میں سنسنی خیز جاسوسی ناولوں کی مخصوص تکنیک استعمال کرتے ہوئے قاری کے تجسس جو بار بار ہوا دی جاتی ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ کتاب خوب بکے گی اور اگر اس پر ہالی وڈ نے فلم بنائی، جس کا عین امکان ہے، تو مار دھاڑ سے بھرپور یہ فلم بھی باکس آفس پر خاصی کامیاب ثابت ہو گی۔

ظفر سید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد