بیچارا انقلاب

انقلاب پریشان ہے۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ نے انقلاب کو پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا ہے کیونکہ اس مارچ کے دوران نواز شریف کی زبان پر بار بار انقلاب کا ذکر آتا رہا۔ جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوران تقاریر میں نواز شریف نے خود کو بڑا نظریاتی انسان قرار دیا اور لاہور پہنچ کر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئین کو بدل ڈالیں گے۔ انقلاب پہلی دفعہ پریشان نہیں ہوا۔ تین سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لاہور سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تو یہ دونوں اصحاب بھی انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دونوں اپنے اپنے کنٹینروں پر چڑھ کر انقلاب کی باتیں کرنے لگے تو نواز شریف نے ان کے مارچ کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

پھر یہ مارچ دھرنے میں بدل گیا۔ دھرنا کامیاب نہ ہو سکا اور انقلاب کا ذکر ختم ہو گیا۔ تین سال کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ شروع کیا تو یارانِ نکتہ داں نے سوال اُٹھایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مارچ کا مقصد بڑا واضح تھا وہ نواز شریف کی حکومت گرانے اسلام آباد آئے تھے لیکن نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور کی طرف مارچ کا کیا مقصد ہے؟ وفاق میں بھی اُن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی اُن کی حکومت اُن کا مارچ کس کے خلاف ہے؟ نواز شریف کی تقاریر سے واضح ہو گیا کہ اُن کا مارچ سپریم کورٹ کے خلاف تھا اور لاہور میں اُن کی تقریر سے یہ اشارہ ملا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین میں کچھ تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کا تعلق آئین کی دفعہ 62، 63 اور 184 سے ہو گا تا کہ آئندہ سپریم کورٹ کسی رکن پارلیمنٹ کو بے ایمان یا جھوٹا قرار دے کر نااہل قرار نہ دے سکے۔ نواز شریف نے لاہور کی تقریر میں کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کی تجاویز سے متفق ہیں اور اُن کی جماعت ان تجاویز پر عملدرآمد کی حمایت کرے گی۔ نواز شریف بھول گئے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے نااہل قرار دلوایا تھا۔ چیئرمین سینیٹ نے کوئی غلط بات نہیں کی لیکن جب اسی چیئرمین سینیٹ نے چند ماہ قبل یہ شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم اور اُن کے وزراء ایوان بالا کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تو نواز شریف کیوں خاموش رہے؟ چیئرمین سینیٹ نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ یہ باتیں پچھلے تین سال سے کر رہے ہیں لیکن نواز شریف نے پہلی دفعہ اُن کی تائید کی ہے کیونکہ اب نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف بھول گئے کہ جس شام اُنہوں نے چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اُسی شام پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی چنیوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 2007ء میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ اعتراف کر لیا تھا کہ مشرف کے ساتھ این آر او اُن کی غلطی تھی۔ وہ عالمی سطح کی لیڈر تھیں لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ اُنہوں نے آخری ملاقات میں مجھ ناچیز کو یہ کہہ دیا کہ این آر او کے متعلق آپ کی رائے درست تھی یہ این آر او محض ایک دھوکہ تھا میری رائے غلط نکلی۔

ایک غلطی کے اعتراف نے میری نظروں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قد بہت بلند کر دیا لیکن نواز شریف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں اُنہوں نے خفیہ اداروں اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے جو کردار ادا کیا وہ غلط تھا۔ نواز شریف یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ محض انقلاب کا لفظ اپنی زبان پر لا کر پیپلز پارٹی کو اپنے دام الفت میں پھنسا لیں گے۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب کی نہیں بلکہ ردِّ انقلاب کی علامت ہے۔ اس پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف میں گھسنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں پہلے ہی ردِّ انقلاب کی بہت سی علامتیں اکٹھی ہو چکی ہیں لہٰذا وہاں نئے آنے والوں کے خلاف ایک بڑی مزاحمت سر اُٹھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون پیپلز پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دے گا اس لئے فی الحال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر انقلاب لانے کا خیال کسی سراب سے کم نہیں۔

انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان، آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظریے پر عملدرآمد اوپر سے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ انقلابی نظریہ اوپر والے لے کر نہیں چلتے بلکہ نیچے والے اوپر لے کر جاتے ہیں۔ انقلابی نظریے کی علامت چے گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ لگا دے تو اُس کی بات پر کون یقین کرے گا؟ فرانس، روس، چین اور ایران کے انقلابات کی تاریخ اٹھا لیں۔ یہ انقلابات نچلے اور متوسط طبقے نے امیر طبقے کے خلاف برپا کئے۔ انقلابی نظریہ پرولتاری طبقے میں پیدا ہوا سرمایہ داروں میں پیدا نہیں ہوا۔ ذرا غور تو فرمایئے! آج کل کون کون انقلاب کی بات کر رہا ہے؟ چشم تصور سے سوچئے کہ انقلاب کتنا پریشان ہو گا۔ فرانس، روس، چین اور ایران کا انقلاب تاریخ کی کتابوں میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا نام اُن لوگوں کی زبان پر کیوں آنے لگا جو ہمیشہ میرا راستہ روکتے رہے؟ انقلاب یہ سوچ رہا ہو گا کہ آج میں اُن کا محبوب کیسے بن گیا جو ہمیشہ ضد انقلاب تھے؟

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے ذریعے یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ نااہل ضرور ہوئے لیکن اُن کی سیاست ختم نہیں ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ مارچ میں پنجاب پولیس کھلم کھلا اُن کے جلسوں کے انتظامات کر رہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن اُن کی عدلیہ مخالف تقاریر بھی نشر کر رہا تھا لیکن سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب پولیس نہیں ہو گی۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی زبان سے انقلاب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ تینوں میں سے کسی کا کردار انقلابی نہیں ہے۔ انقلاب آئین میں تبدیلی سے نہیں پورے سیاسی نظام کی تبدیلی سے آتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی بقاء وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الحال اس نظام کو چلنے دیں اور قوم کو انقلاب کا فریب نہ دیں کہیں انقلاب مزید پریشان ہو کر قوم کے دماغ میں نہ گھس جائے پھر کسی کی خیر نہ ہو گی۔

حامد میر

سانحہ 17 اگست : جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی حادثہ یا سازش ؟

17 اگست 1988ء کو اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور میں ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے طیارے C-130 میں سابق جنرل اختر عبدالرحمن اور امریکی سفیر رافیل سمیت 30 افراد سوار تھے جو سب کے سب راہی اجل ہوئے۔ اس وقت کے امریکی ترجمان فلس اوکلے کے مطابق طیارہ بہاولپور میں تقریباََ 4:30ََ منٹ پر یعنی پرواز کے دس منٹ بعد تباہ ہو گیا۔ سب لوگ بہاولپور میں ایم ون ٹینک کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد واپس راولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے تو حادثہ پیش آگیا۔

پاکستانی سرکاری بیان کے مطابق طیارہ فضا میں 4 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی کریش کر گیا۔ ایک چشم دید گواہ کے مطابق اس سہ پہر فضا میں طیارے میں سے دھواں بلند ہوا اور پھر وہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حادثے کے بعد دس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور جائے حادثہ سے ملنے والی ضیاء الحق کی باقیات کو فیصل مسجد اسلام آباد میں دفنایا گیا۔ اس وقت کے امریکی نائب صدر بش نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ صدر ضیا ہمارے دوست تھے اور ان کی موت ایک المیہ سے کم نہیں ہے‘‘۔ جائے حادثہ پر امریکی فرانزک ماہرین نے تحقیقات بھی کیں۔ اس دور میں بعض افراد نے کہا کہ طیارے کو ایک سازش کے تحت فضا میں تباہ کیا گیا ، کچھ نے کہا کہ اس میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔

طیارے میں سوار بعض افراد پر بھی شک کیا گیا کہ وہ بھی خود طیارے کی تباہی کی سازش میں ملوث تھے لیکن ان کے بھی کریش میں جاں بحق ہونے کے بعد مزید تحقیقات ممکن نہ رہیں اور فائل بند کردی گئی ۔ کچھ عرصے بعد ایکسپلوڈنگ مینگوز کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی لیکن مصنف کسی واضح سازش کی طرف نہ پہنچ سکا ۔ یہ ضرور تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہوا تھا کیوں کہ ہائی پروفائل طیارے کا حادثہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اسے صرف تکنیکی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ایجنسی موساعد کا نام بھی لیا گیا۔ ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ پاکستان نے افغان جنگ میں روسی مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا اس لئے روس بھی ضیاالحق کیخلاف سازش کر سکتا ہے ۔

مذہبی جماعتیں افغان جنگ کی وجہ سے ان کے قریب ہوئیں اور پاکستان امریکی مدد کے ساتھ روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اسی افغان جنگ سے پھر طالبان نکلے اور انہوں نے کچھ عرصہ بعد افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ’’ ان کے والد کا طیارہ کریش ہونا بہت بڑی سازش تھی‘‘ ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضیاالحق کے کئی اقدامات سے ان کے بہت سے عالمی اور مقامی دشمن پیدا ہو چکے تھے۔ ضیا الحق 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کوختم کر کے برسر اقتدار آئے تھے، انہوں نے90 دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ ایفا نہ ہو سکا۔احتساب کا نعرہ لگا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔

نظریہ ضرورت بھی اسی دور میں سامنے آیا جس کے تحت عدالت عظمیٰ نے ان کی حکومت کو جائز قرار دے دیا تھا ۔ بھٹو کو پھانسی دے کر انہوں نے اپنے ممکنہ سیاسی حریف سے چھٹکار تو پا لیا لیکن اس سے خود ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔ مارشل لا ء کے نفاذ کے بعد جسٹس یعقوب علی کو ہٹا کر ان کی جگہ پر جسٹس (ر) انوارلحق کو چیف جسٹس بنانے کیلئے (سابق) صدر فضل الہٰی پر پریشر ڈالا گیا۔ آئین میں کچھ اسلامی شقیں شامل کیں جن میں 62,63 ( صادق امین) کی شقیں آج بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے اقتدار منتخب نمائندوں کو سپرد کرنے سے پہلے19 دسمبر 1984 ء کو ایک صدارتی ریفرنڈم کرایا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعے سابق صدر کو بے پنا ہ اختیارات مل گئے۔ جن میں 58 ٹو بی بھی شامل تھی جس کے تحت صدر اسمبلی اور وزیراعظم کو برطرف کر سکتا تھا۔

ان کے دور میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے اور جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ ان کی حکومت کو 58 ٹو بی کے ذریعے ختم کیا گیا۔ سب سے اہم بات کہ اس دور میں ایٹم بم بنانے کا پروگرام جاری رکھا گیا جسے غیر ملکی طاقتوں نے اسلامی بم کا نام دیا۔ معاشی میدان میں انہوں نے بھٹو کے نیشنلائزیشن پروگرام کے برعکس کارپوریٹ پروگرام متعارف کروایا اور کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طرف توجہ دی گئی۔ان کے دور میں تحریک آزادی کشمیر کو تیز تر ہو گئی جس پر بھارت سیخ پا ہوا۔ اسی دور میں پاک بھارت تعلقات کو نارمل کرنے کیلئے کرکٹ ڈپلومیسی کا بھی آغاز ہوا ۔

حدود آرڈیننس کا اجرا بھی اسی دور میں ہوا، اور مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کیلئے بنائی جانے والی پالیسی نے معتدل طبقوں کو ناراض کیا ۔ان کے ان اقدامات سے معاشرہ میں انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ۔ اپنے دس سالہ دورا قتدار میں ضیاء الحق نے ملکی اقتدار پر بھرپور طریقے سے گرفت مضبوط کرلی تھی۔ انہوں نے ملک میں اپنے طور پر اسلامائزیشن کے لئے اقدامات اٹھائے جن کو مختلف طبقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا جھکائو عرب ممالک کی طرف زیادہ رہا اسی لئے انہوں نے نصاب میں عربی زبان کو شامل کیا۔ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انہوں نے مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کو آگے لانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ان طبقات کے ذریعے سے اپنی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔

سیاست کو دبایا گیا جس سے مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا۔ نئے مدارس بنے اور شریعہ قانون کو نافذ کیا گیا۔ کلچرل پالیسی بنائی گئی جس میں ڈراموں میں خواتین کیلئے اورخاتون نیوز کاسٹر کیلئے دوپٹہ پہننا لازمی قرار دیا گیا ۔ افغان جنگ بھی ان ہی کے دور میں ایک بڑا اہم موڑ تھا جب پاکستان ایک ایسی جنگ میں کود پڑا جس کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح پاکستان واضح طور پر روس کے خلاف امریکی کیمپ میں چلا گیا جس کے بدلے میں امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔

 طیب رضا عابدی

سول اور ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سول ملٹری تعلقات میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بعد شائع کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوتے کہا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے بیانات ان کی نااہلی کے بعد زیادہ واضح ہو رہے ہیں، دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فوج اس قسم کے بیانات جاری نہیں کرتی اور ایسے بیان وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یقین کرتا ہوں کہ سول ملڑی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں یہ بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں‘۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے نقطہ نظر میں بہت بڑا اختلاف موجود ہے‘۔ پلڈاٹ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے دو اجلاس 2013 اور 2014 میں منعقد ہوئے تھے، 2015 میں مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ 2016 میں کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم رواں سال میں گذشتہ 3 ماہ کے دوران کمیٹی کے 3 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ پلڈاٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ’این ایس سی میں بیشتر افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان معاملے پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت میں اختلاف موجود ہیں‘۔

بین الاقوامی نقطہ نظر
مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ’صادق اور امین نہ ہونے پر‘ نااہل قرار دیئے جانے پر اٹھنے والے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیا جانا چاہیے۔ جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا وہیں باہر کی دنیا اس پیش رفت کے لیے ایک ہی لینس کا استعمال کر رہی ہے، یہ لینس سول ملڑی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس پیش رفت کے حوالے سے تجزیہ کیا کہ ’نواز شریف کی نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘ بلکہ اس کی جگہ ’بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج کی پالیسیز کو نظر انداز کرنے اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خارجہ پالیسی میں عسکری گروپوں کو استعمال کرنے کے خاتمے کے مطالبے‘ کے باعث ہے۔

جاوید ہاشمی کی تنقید
پلڈاٹ کی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی نے 12 جولائی 2017 کو اپنی پریس کانفرنس میں پاناما پیپرز تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد نواز شریف کو ’سیاست سے باہر کرنا ہے‘، انہوں نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو جنرلز اور ججز کے غلط کاموں پر بات کرے۔ مانیٹرنگ نے دعویٰ کیا کہ جاوید ہاشمی نے سابق فوجی جرنلوں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے خلاف احتساب نہ ہونے پر پریشانی کا اظہار کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس ادارے نے کچھ نہیں کیا‘۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

آزادی کو کیا سمجھتے ہو ؟

ہوا ، بادل ، بارش ، روشنی ، خوشبو ، خوشی ، محبت آپ محسوس کر سکتے ہیں چھو بھی سکتے ہیں مگر قید نہیں کر سکتے۔ آزادی کا بھی ایسا ہی قصہ ہے ۔ یہ کوئی برتن یا دس بائی آٹھ کا پانا یا فیتہ بند تحفہ نہیں بلکہ احساس کا نام ہے۔ ایک جانور ، ایک سال کا بچہ اور ایک نابینا بھی بتا سکتا ہے کہ آزادی فضا میں گھلی ہوئی ہے کہ نہیں۔ جہاں دلیل سے آزادی ثابت کرنا پڑ جائے سمجھ لو آزادی نہیں آزادی کا دھوکہ ہے۔ آزادی کو گلے میں اتارا نہیں جا سکتا ، گلہ آزاد ہو تو آزادی خود بخود گنگنانے لگتی ہے ، آزادی کوئی سجا نہیں سکتا کیونکہ آزادی خود ایک زیور ہے ۔ آزادی کو کوئی بےگھر نہیں کر سکتا۔ باہر تنگ ہو جائے تو وہ دل و دماغ میں گھر بسا لیتی ہے۔

مگر آزادی کے غصے سے ڈرنا چاہیے۔ وہ اپنی بے توقیری اور توہین کا انتقام غلامی کا شکنجہ کس کے لیتی ہے۔ کون سا شکنجہ ؟ جسمانی کہ ذہنی ؟ یہ بھی آزادی طے کرتی ہے ۔ آزادی کا گلہ گھونٹنا دراصل اپنا گلا گھونٹنا ہے۔ آزادی زود رنج ہے، اس کے نخرے، خرچے ، پسند نا پسند نظرانداز کرنے والوں کو آزادی بنجر تنہائی کی وادی میں دھکیل دیتی ہے اور پھر گاہے ماہے اپنی جھلک اور چھب دکھلانے کا عذاب نازل کرتی رہتی ہے۔ ہاں آزادی کو بس ایک بار منایا جا سکتا ہے بارِ دگر نہیں۔

کسی بھی ریاست اور سماج میں آزادی کی مقدار ماپنے کے کئی طریقے ہیں۔ گھٹن کے خاتمے اور کھلی فضا میں سانس لینا آزادی ہے۔ بد عقلی، اندھی منطق اور مریضانہ خود اذیتی کا پا بجولاں ہونا آزادی ہے ۔ انسانی تخیل کے پر شعوری طور پر نہ کاٹنا آزادی ہے۔ سچ بولنے پر تحفظ اور جھوٹ کا کڑا محاسبہ اور سچ کے نام پر جھوٹ تھوپنے کی حوصلہ شکنی آزادی ہے۔ بلا خوف و خطر کہنا، سننا ، اختلاف کرنا ، اختلاف کا احترام کرنا اور اختلاف کر کے بھی زندہ رہنا اور رہنے دینا ہی آزادی ہے ۔ اگر کسی باغ پر آزادی کا بورڈ لگا ہو اور وہاں صرف گلاب کو پھلنے پھولنے کی اجازت ہو تو یہ باغ نہیں گلابوں کا جنگل ہے۔

جب آزادی کے چھوٹے دائروں کو اجتماعی فلاح کے نام پر ایک بڑے دائرے میں مدغم کر کے چھوٹے دائروں کی شناخت مٹا دی جائے تو پھر بڑے دائرے میں صرف فسطائیت ہی آزاد گھوم سکتی ہے بھلے اس نے کوئی بھی چولا پہن رکھا ہو۔ بھلے اس کے تھیلے میں بہلانے والے کتنے ہی شاندار کھلونے کیوں نہ ہوں ۔بھلے اس کی ڈگڈگی سے کیسے ہی خواب بندھے ہوں۔ فسطائیت کی آزادی باقیوں کے لیے زنجیرِ غلامی کے سوا کچھ نہیں؟ جس طرح ایک ریاست میں دو بادشاہ ممکن نہیں اسی طرح ایک سماج میں یا تو آزادی راج کر سکتی ہے یا غلامی۔ دونوں میں پرامن بقائے باہمی تب ہی ممکن ہے اگر آگ اور پانی میں سمجھوتہ ہو سکے۔ اس اصول کے علاوہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ دلیلِ دلال کے سوا کچھ نہیں۔

چلیے چھوڑیے اس خشک آزادی نامے کو۔ کچھ اشعار سنیے۔

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا
یعنی میرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا

میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں، اور جواب میں
مجھ کو ہنسا دیا گیا ، مجھ کو رلا دیا گیا

میرے جنوں کو تھی بہت خواہشِ سیر و جستجو
مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا

میں نے کہا کہ زندگی ؟ درد دیا گیا مجھے
میں نے کہا کہ آگہی ؟ زہر پلا دیا گیا

خواب تھا میرا عشق بھی، خواب تھا تیرا حسن بھی
خواب میں یعنی ایک اور خواب دکھا دیا گیا

( احمد نوید )

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

آزادی کے ستّر سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان الحمد للہ آج اپنی زندگی کے اکہترویں سال کا آغاز کر رہا ہے۔ جن انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود اس ملک کے قیام کیلئے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی جدوجہد اس بنیاد پر کامیابی سے ہمکنارہوئی کہ انہیں اپنے نظریہ حیات کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے علیحدہ خطہ زمین چاہیے اور اس کے بعد سات دہائیوں کے دوران ملک کے اندر ریاستی اداروں کی باہمی کشمکش ، مقتدر طبقوں کی خود غرضیوں، بھارت کی مسلسل پاکستان مخالف پالیسیوں، کشمیر کے تنازع، ہتھیاروں کی دوڑ، تین پاک بھارت جنگوں، سقوط مشرقی پاکستان اورخطے میں امریکی پالیسیوں کے باعث ابھرنے والے دہشت گردی کے فتنے کی شکل میں جن سنگین اندرونی اور بیرونی چیلنجوں سے پاکستانی قوم نبرد آزما رہی ان کے پیش نظر پاکستان کو انسانی تاریخ کا ایک زندہ معجزہ کہنا غلط نہیں۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اپنی سحر انگیز قیادت میں بننے والے اس ملک کا ایک سال بعد ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ قائد ملت لیاقت علی خان کو طالع آزما عناصر نے پاکستان کی عمر کے چوتھے برس کی تکمیل سے پہلے ایک سفاک قاتل کی بندوق کی گولی کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا۔ انکے قتل کے اصل منصوبہ سازوں کا سراغ لگانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ۔ اسکے بعد ریاستی طاقت کے اصل مراکز پر غیرجمہوری قوتوں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی ۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں خواجہ ناظم الدین کی حکومت اور دستور ساز اسمبلی برطرف ہوئی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین نے گورنر جنرل غلام محمد کے ان اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت سے دستور ساز اسمبلی کی بحالی کا حکم ملا۔

گورنر جنرل نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی اور اس وقت کے چیف جسٹس نے گورنر کے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکم کو نظریہ ضرورت ایجاد کر کے جائز قرار دے دیا۔ نظریہ ضرورت کا آسیب اسکے بعد ہمارے نظام انصاف پر مسلسل مسلط رہا اور آئینی و جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے والی طاقتوں کو اسی بنیاد پر سند ِ جواز ملتی رہی۔ یہ صورت حال ملک میں جمہوری اور آئینی نظام کے استحکام میں رکاوٹ بنی رہی ۔ منتخب حکومتوں اور آئین مملکت کا غیر جمہوری عناصر کے ہاتھوں بار بار خاتمہ یا تعطل بنیادی قومی پالیسیوں کی مستقل بنیادوں پر تشکیل میں حائل رہا ۔ یہ کشمکش سات دہائیوں سے جاری ہے جبکہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ریاستی اداروں میں تعاون اور مفاہمت ناگزیر ہے ۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے حالیہ خطابات میں اس کشمکش کی خاصی تفصیلات موجود ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام اب تک عملاً ایڈھاک ازم یا ہنگامی بنیادوں پر چل رہا ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کیلئے مستقل قومی پالیسیاں تشکیل دینے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال پر قابو پا کر آئینی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانا اور منتخب جمہوری حکومتوں کو اپنی میعاد پوری کر نے کا موقع دیا جانا ملک کی بقا اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔منتخب حکمرانوں کو بھی من مانے اقدامات کے بجائے جمہوری معیارات کی پابندی کرتے ہوئے پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کو قرار واقعی اہمیت دینی چاہئے ۔

اس کیساتھ ساتھ ایک ایسا ہمہ گیر، بے لاگ اور خودمختار نظام احتساب تشکیل دیا جانا بھی لازمی ہے جو سیاسی حکومتوں اور قیادتوں ہی کے محاسبہ تک محدود نہ ہو بلکہ عدلیہ، انتظامیہ، فوج اور میڈیا سمیت تمام ریاستی اداروں اور زندگی کے تمام شعبوں کے وابستگان تک وسیع ہو۔ مستحکم آئینی نظام کا تسلسل ہی عوام کے بنیادی مسائل کے حل، قومی ضروریات کے مطابق مستقل اقتصادی حکمت عملی کی تشکیل، ملک کی نظریاتی بنیادوں اور عملی ضروریات کے تقاضوں پر پورا اترنے والے تعلیمی نظام کی ترویج، قومی مفادات کی محافظ خارجہ پالیسی کی تیاری اور پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کیساتھ تعلقات کے پائیدار اصولوں کے تعین کی راہ ہموار کر کے قوم کو حقیقی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

کیا شریفوں کی خاندانی سیاست کا تسلسل انجام کو پہنچا ؟

نواز شریف کی بے وقار رخصتی سے شاید ملک کی سب سے طاقتور سیاسی خاندانی سلسلے کے لیے کسی سنگین دھچکے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اپنے غیر معمولی حکم نامے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے، اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے، ملک کے سیاسی منظر نامے پر غالب تقریباً تمام شریفوں کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس فیصلے کے بعد شریف خاندان کی سیاسی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا یا نہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ قیادت کی چھڑی اب شہباز شریف کے ہاتھوں میں تھما دی جائے گئی، تا کہ کم از کم موجودہ حالات میں اقتدار پر خاندانی سلسلے کو قائم و دائم رکھا جا سکے۔

بلاشبہ، موجودہ وزیر اعظم کے خلاف بے مثال عدالتی کارروائی ملک کی جمہوری ارتقاء کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی کے قیام کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ فیصلے پر اٹھائے جانے والے شکوک شبہات کو خلاف دستور عمل کہا گیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ تمام کارروائی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی گئی اور کچھ بھی آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر نہیں ہوا۔ یہ بات ملک میں انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ کے بجائے ایک آزاد عدلیہ کی تشکیل کی جانب بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا فیصلے کے بعد محسوس ہو رہی تکلیف سے اختلاف رائے رکھی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ، ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ایک ہنگامے اور سیاسی غیر یقینی کے دور کو جنم دیا ہے— جب کسی مضبوط خاندانی سیاسی سلسلہ کو ہلا کر رکھ دیا جائے تو ایسا ہونا لازم ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس حکم نامے نے ملک میں سیاسی انتشار کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مگر بلاشبہ اس سے جمہوری سیاسی عمل کو کوئی ایسا خطرہ نہیں جس کے خدشات نواز شریف کے حامی ظاہر کر رہے ہیں۔

بلکہ اس سے تو خاندانی سیاست کو ٹھیس پہنچی ہے جو کہ ملک میں جمہوری اداروں اور اقدار کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے نے اس سوچ کا بھی خاتمہ کیا کہ چونکہ نواز شریف پنجابی ہیں اس لیے ان کا کوئی بال بھی بیگا نہیں کر سکتا جبکہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں سے بڑی آسانی سے ہٹا جا سکتا ہے۔ اس لیے شریف کی سبکدوشی پر واویلا کرنا اور مقدمے کے معاملات کو جمہوریت کے لیے دھچکا تصور کرنا، سمجھ سے بالا تر ہے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ ایک پورے قانونی عمل سے گزرا اور اسے سازش کا ایک حصہ یا ایک عدالتی بغاوت بالکل نہیں کہا جا سکتا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ، جس میں نواز شریف اور ان کے خاندان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، کے آنے کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ وزیر اعظم بڑے مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شریف خاندان لندن جائیداد کی منی ٹریل فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ان پر جھوٹا بیان دینے اور چند غیر ملکی اثاثے چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ لیکن ایک پورے خاندان کے خلاف اتنی سخت کارروائی اور اتفاقی فیصلے نے نہ صرف حکومت بلکہ حکومت سے باہر بیٹھے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بلاشبہ، خاندان کے دیگر افراد پر الزامات اور ان کے خلاف مقدمات نیب کو بھیجنے سے خاندانی تسلسل کا منصوبہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔ جہاں جعلی کاغذات کے الزام کے بعد، عدالتی فیصلہ مریم نواز کے خلاف آنے کی تو توقع تھی وہاں اس فہرست میں شہباز شریف کا نام شامل ہونا خلاف توقع ہے۔ جس نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بد سے بدتر حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر پارٹی میں موجود کئی لوگ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں کہ جونیئر شریف نیب میں الزامات کا سامنا کرتے ہوئے بھی پارٹی کو قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ ہاں مسلم لیگ ن کے پاس اب بھی مظلومیت کا کارڈ اور سبکدوش وزیر اعظم کو ’سیاسی شہید’ کے طور پر پیش کرنی کی چال باقی ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات میں یہ چال کام آئے گی بھی یا نہیں۔ نواز شریف کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کمزور پڑنے سے ان کا پارٹی پر اثر رسوخ بھی محدود ہو چکا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے جنم لینے والے نواز شریف کو 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک منصوبے کے تحت ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں سیاست میں اتارا گیا تا کہ بے نظیر بھٹو کو چیلنچ دینے کے لیے سیاسی میدان میں کوئی دوسرا لیڈر موجود ہو۔ 1990 کی دہائی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک کے سفر میں انہیں فوج اور پنجاب کی طاقتور سول اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی رہی۔ اسی سیاسی طاقت کی بدولت شریف خاندان کو کاروبار میں بھی زبردست ترقی نصیب ہوئی۔ اس مالی اسکینڈل نے نواز شریف کے پورے سیاسی کریئر میں، خاص طور پر ملک کی سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد، پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر پاناما پیپرز میں ان کے خاندان کا نام آنے کے بعد اسکینڈل کھل کر سامنے آیا اور ان کے زوال کی وجہ بھی بنا۔ سیاسی طاقت کے عروج تک پہنچنے کے بعد نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو توڑنے کی بھی کوشش کی، جس کے باعث وہ اپنی گزشتہ حکومتوں کی میعاد پوری نہیں کر پائے تھے۔ کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سرپرست رہنے والا شخص اب خود ان کے لیے زہر قاتل بن گیا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ان کا تیسرا دور بھی فوجی قیادت کے ساتھ مسلسل تنازع کی زد میں رہا۔

اگرچہ مسلم لیگ ن کی ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی قربت رہی ہے مگر نواز شریف نے اسے ایک عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی، لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ مگر پھر بھی نواز شریف برسا برس، حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جس کی بنا پر وہ تیسری بار منتخب ہو کر وزیر اعظم بنے۔ پنجاب پر ان کے خاندان کی گرفت مضبوط بنانے کی خاطر طاقتور پنجابی سول اسٹیبلشمنٹ، بشمول بیوروکریسی اور عدلیہ کے کچھ حلقوں کو مدد کرتے دیکھا گیا ہے۔

ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ آیا رسوا نواز شریف پارٹی کو متحد رکھ پائیں گے یا نہیں۔ سب سے زیادہ ضروری یہ کہ، کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان پر الزامات عائد ہونے کے بعد چھوٹے میاں کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حمایت جاری رکھے گی؟ کیونکہ اس سے قبل ہمیں برے حالات میں میں ٹوٹ پھوٹ کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مشرف کی بغاوت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کے قیام کی صورت میں موجود ہے۔ جب حیران کن طور پر، وفاداریاں بدلنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نہ صرف حکومتی بینچوں بلکہ کابینہ میں بھی واپس شامل ہو گئی تھی۔

شریف خاندان کے لیے ایسی صورتحال سے بچنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پارٹی اتحاد کا انحصار پی پی پی اور پی ٹی آئی کی مسلم لیگ ن کے گڑھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت پر بھی ہے، جو کہ مرکزی سیاسی میدان بھی رہا ہے۔ جبکہ نواز شریف کے زوال سے دیگر صوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اقتدار میں ان کی واپسی کی تو زیادہ امید نظر نہیں آتی، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آیا یہ خاندانی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی ہے یا نہیں۔

زاہد حسین

شریف خاندان اقتدار گھر میں ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

ایک قانون کا حکمنامہ ہوتا ہے اور ایک اچھی سیاست ہوتی ہے۔ ایک قانونی دھچکے سے نکلنے کی راہ ہوتی ہے اور ایک غلطیوں کو دہرانا ہوتا ہے۔ ایک شریف خاندان ہے، اور ایک سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نواز شریف کی عدالتی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ تا حد نگاہ بلکہ اس سے بھی آگے تک بس شریف خاندان کی ہی حکمرانی رائج ہو۔ یا جس طرح سعد رفیق نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایک شریف کو ہٹاؤ گے تو ہم دوسرا لائیں گے، دوسرے کو ہٹاؤ گے تو ہم تیسرا پھر چوتھا شریف لائیں گے۔

ایک سیاسی پارٹی اپنا رہنما چننے کا جواز رکھتی ہے اور نواز شریف کی برطرفی سے پیدا ہونے والے متنازع حالات میں یہ بات تو ناگزیر تھی کہ دوسرے نام کے لیے سبکدوش وزیر اعظم کی ترجیحات ہی زیادہ باوزن ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان کی شدید تنگ نظری خطرناک ہے اور سیاسی طور پر پریشان کن بھی۔
نواز شریف کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ن کو تین فیصلے کرنے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی فیصلہ اہم یا معقول ثابت نہیں ہوا ہے۔ پہلا تو شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بنانا۔ عبوری کیوں؟ عباسی اور سابق کابینہ میں شامل ان کے کئی دیگر ساتھی اگلے سال منعقد ہونے والے عام انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے ہر طرح سے باصلاحیت ہیں۔

ویسے تو مسلم لیگ ن اپنے دور کے کارناموں اور تجربہ کار ٹیم کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ لیکن خاقان عباسی اور ان کے دیگر ساتھی ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ وزیرِ اعظم رہنے کے لیے نااہل اس لیے ہیں کیوں کہ ان کے ناموں کے آگے شریف نہیں لگا۔ ملک کی تشکیل کے 70 ویں سال میں ایک پارٹی جو محمد علی جناح کی پارٹی کے نام پر قابض ہو وہ شرمناک حد تک اقرباء پرور ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو بلا تاخیر پنجاب سے نکال کر مرکز میں لانے کا فیصلہ بھی سیاسی طور پر مسائل سے بھرپور ہے۔

شہباز شریف کی وفاقی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش سے تو سیاسی حلقے کئی برسوں سے آشنا ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی نصیب ہوئی — اور انہیں وفاقی انتظامی تجربہ دینے بھی انکار کر دیا جو کہ آج مفید ثابت ہوتا— کیونکہ ان کے بھائی ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہتے تھے اور وفاقی دارالحکومت کے اندر اپنی ہم پلہ طاقتور شخصیت کی موجودگی سے متاثر ہونا نہیں چاہتے تھے۔ 1990 میں وہ رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں لیکن اب سے دو ماہ بعد ایک بار پھر حلف اٹھائیں گے تو اس وقت ایک بڑی حد تک مختلف پارلیمنٹ ہو گی اور اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی مختلف ہو گا۔ درحقیقت، شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ایک سیاسی تجربہ ہے جس کا نتیجہ کافی بدتر نکل سکتا ہے۔

بالآخر، اب حمزہ شریف کے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ کر پنجاب اسمبلی میں اپنے والد کی جگہ لینے کے امکانات کافی روشن نظر آ رہے ہیں۔ ٹھیک آلِ سعود کی طرح آلِ شریف بھی طاقت کو صرف اپنی نسل تک محدود رکھنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید واحد عارضی اچھائی یہ ہوئی ہے کہ مریم نواز وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں، ورنہ منظر نامہ مختلف ہوتا۔ سچ ہے کہ شریف خاندان نے موروثی سیاست میں کسی حد تک بھٹو خاندان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ اداریہ یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار شائع ہوا۔

تہذیب و شائستگی کا جنازہ

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا ہے۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جب انسان تہذیب و شائستگی کا دامن چھوڑ دے تو وہ بہت نیچے گر جاتا ہے۔ وطن عزیز میں آج کل عجیب ماحول پیدا کر دیا گیا ہے، جو تباہ کن اور بھیانک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان کے اخلاق و کردار کو گھن لگ جائے تو اس کا علاج بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ زبان کا غلط استعمال ایسے زخم لگاتا ہے، جو کبھی مندمل نہیں ہوتے۔ ہمارا دشمن ہر جانب سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور ہم پاکستانی ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مگن ہیں۔

آج کل کا دور میڈیا کا دور ہے۔ وقتِ حاضر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہیں وسیع تر سوشل میڈیا کا میدان ہے۔ سیاسی شخصیات کے آپس میں اختلافات فطری طور پر ہوتے ہیں۔ ان کے اظہار کے لئے مہذب طریقے پوری دنیا میں رائج ہیں۔ سیاسی میدان میں مہذب قومیں شفاف طریقے سے انتخابات کا اہتمام کرتی ہیں اور عوام الناس کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے جسے چاہیں ووٹ کے ذریعے منتخب کر لیں۔ منتخب ہونے والا اور شکست کھانے والا دونوں امیدوار اور دونوں پارٹیاں نتیجہ سننے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر کسی بے ضابطگی کا خدشہ اور امکان نظر آئے تو اس کے لئے متاثرہ فریق ادارتی نظام سے رجوع کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ عوام اپنی آزادانہ رائے کا استعمال نہیں کر سکتے۔ اسی عامل نے ہمارے ہر شعبۂ زندگی کو اپاہج کر دیا ہے۔

تمام سیاسی قوتوں کو اس جانب مثبت انداز میں سوچ بچار کر کے پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کسی شخصیت سے اختلاف رکھتے ہیں تو بھی اس کے انسانی حقوق اور معاشرتی احترام کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی اخبار کو اٹھا کر طائرانہ نگاہ سے دیکھ لیں یا کسی چینل کے سامنے چند لمحے بیٹھ جائیں، آپ پریشان ہو جائیں گے کہ سارا تالاب ہی گندا نظر آتا ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں تو ہر لمحے آپ کے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور موبائل پر ایسی چیزیں کثرت اور تسلسل کے ساتھ آتی ہیں کہ آپ سوچتے ہیں کہ اس ذہنی عذاب سے نجات کیسے ممکن ہے؟ مرد و خواتین کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حدود متعین کی ہیں۔

عصمت و عفت اور شرم و حیا اسلام کی پہچان ہے۔ سیاسی سکینڈل کے ساتھ ساتھ اخلاقی سکینڈلز کی میدانِ زندگی میں ایک دوڑ لگ گئی ہے۔ ’’ایسے کو تیسا‘‘اور ’’اینٹ کا جواب پتھر‘‘ کا اصول اپنا کر آستینیں چڑھائے سیاسی قائدین و کارکنان نے وہ ہا ہا کار مچا رکھی ہے کہ خدا کی پناہ! الزام لگتے ہیں، پھر انہیں بہت برے انداز میں پورے معاشرے میں اچھالا جاتا ہے۔ ان کی حقیقت کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ سیاسی اور سماجی رہنماؤں ، دینی و مذہبی قائدین، ذرائع ابلاغ میں مصروفِ عمل شخصیات، سبھی کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اگر ان کے اخلاق و کردار اور زبان و بیان سے شائستگی رخصت ہو جائے گی تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔

جو بھی کسی پر الزام لگائے، اُسے ثابت کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جس پر الزام لگے، اسے دفاع کا حق دیئے بغیر مجرم قرار دینا اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ دیگر سیاسی دھڑوں کے قائدین بھی عدالتوں سے نکل کر چوکوں، چوراہوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ ’’نہلے پر دھلا‘‘ کی یہ جنگ انتہائی بدبودار اور گھناؤنی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ راتوں رات یہ سارے کیس بازار میں آ گئے ہیں۔ ہمارا دشمن ہر طرح ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے اور ہم باہمی اتحاد و اتفاق کی بجائے مخالفانہ بیان بازی، کردار کشی اور گالم گلوچ کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

مال و دولت کی تباہی اور کرپشن بھی انتہائی نقصان دہ ہے، مگر اخلاق و شائستگی کا جنازہ نکل جانا تو بہت بڑا المیہ ہے۔ جب لیڈر اس سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو ان کے کارکنان کیوں پیچھے رہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں ہر بڑی سیاسی قوت کے چاہنے والے اینکرز بھی موجود ہیں اور مالکان بھی۔ وہ اس جنگ میں ایک دوسرے کو چت کرنے کے لئے جو طریقے اپناتے ہیں، وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ صحافت میں دیانت نہ ہو اور تحریر و تقریر میں اخلاقی اقدار اور انسانی شائستگی غائب ہو جائے تو انسان جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے۔ ہمارا دشمن ہمیں ہر جانب سے گھیرے میں لے رہا ہے۔

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے میاں نواز شریف کے استعفے سے قبل پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ ملک و قوم کو تباہ کرنے کے لئے کئی عالمگیر سازشیں سرگرم عمل ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک باخبر سیاستدان کی وارننگ تھی، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملکی سیاست و معاملات کے اس نازک موڑ پر تمام ابنائے اسلام اور دخترانِ ملت سے درخواست ہے کہ وہ یہ طرزِ عمل ترک کر دیں۔ جن لوگوں نے واقعتا زیادتیاں کی ہیں، وہ متاثرہ فریق سے معافی بھی مانگیں اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کا معاوضہ بھی دیں۔ اگر جرم ایسا ہے جو قابل تعزیر ہے تو اس پر بھی قانون و انصاف کے تقاضوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

اس کے ساتھ لازمی ہے کہ غلط الزام لگانے والوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ آج کے بچے اور نوخیز نسل کل کے حکمران اور ارباب حل و عقد ہوں گے۔ اس پُر تعفن ماحول میں پروان چڑھنے اور میڈیا کے زہرناک شوروغل میں سانس لینے والی یہ نسل کیا اخلاق و کردار لے کر میدان میں آئے گی؟۔ خدا کے لئے اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی کے سمندر میں دھکیلنے سے اجتناب کیجیے۔ حضور پاکؐ جن کا ہم سب کلمہ پڑھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ مومن جھوٹا اور فحش گو نہیں ہوتا۔ اہلِ ایمان! ذرا سنجیدگی کے ساتھ اس عاجزانہ استدعا پر توجہ فرمائیے۔

حافظ محمد ادریس

 

نوازشریف کا قافلہ (جی ٹی) روڈ پر رواں دواں

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف پارٹی کے کارکنوں کے ہمراہ ایک قافلے کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور کی جانب رواں دواں ہیں۔ نواز شریف کی ریلی کے پیش نظر راولپنڈی کے متعدد روٹس کو سیل کردیا گیا۔

سابق وزیراعظم کی ریلی کے پیش نظر گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ان کے لیے بلٹ پروف کنٹینر بھی تیار کیا گیا، ریلی کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات رہی۔ ہنگامی صورتحال میں ریلی کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت پنجاب کا موبائل ہیلتھ یونٹ بھی خصوصی طور پر قائم کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم موجود رہے گی۔