سلطنتِ متحدہ کے زوال کے اسباب

اورنگ زیب عالمگیر کے بعد مغل سلطنت کو بکھرنے میں بارہ بادشاہ اور ڈیڑھ سو برس لگے۔ مگر سلطنتِ متحدہ تو ایک بادشاہ کے بعد ہی بہادرشاہ ظفر کی از دلی تا پالم بادشاہت ہو گئی۔ سلطنتِ متحدہ کے مطلق العنان دور میں تین مشہور بغاوتوں کے تذکرے ملتے ہیں۔ پہلی مسلح ’’حقیقی‘‘ بغاوت کو جزوی طور پر کچلا جا سکا۔ اس کے فوراً بعد دربار کے اندر ایک بغاوت پکڑی گئی جسے ولی عہد ( شہزادہ عظیم احمد طارق ) سمیت ترنت کچل دیا گیا۔ تیسری بغاوت بہت برس بعد شہزادہ عمران فاروق نے کی مگر بیل منڈہے چڑھنے سے پہلے ہی منڈی مروڑ دی گئی۔ جیسا کہ دستور ہے سلطنت ِ متحدہ کو درپیش اندرونی چیلنجوں اور محلاتی اکھاڑ پچھاڑ کے سبب سلطنت کا نظم و نسق اتنا زیر و زبر ہو گیا کہ رعایا بھی بلبلا اٹھی۔

معاملات گرفت سے مکمل طور پر نکلنے کا پہلا ثبوت مارچ دو ہزار سولہ میں سامنے آیا جب ایک بیرون ملک میں پناہ گزین شہزادہ مقامی امرا کی مدد کے سہارے پیراشوٹ کے ذریعے اترا اور اس نے مرکزی سلطنت سے مکمل ناطہ توڑتے ہوئے اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے ریاستِ کمالستان کی بنیاد رکھ دی۔
پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بائیس اگست دو ہزار سولہ کو سلطنت متحدہ کے ظلِ الہی کے جی میں جانے کیا آیا کہ اچانک سیاسی ہارا کاری کر لی۔ یوں سلطنتِ متحدہ کا پگھلاؤ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ سلطنتِ متحدہ عملاً پانچ جاگیروں میں بٹ چکی ہے۔ معزول بادشاہ لندن میں اپنی ہی تصویر تلے تصویر بنا بیٹھا ہے۔

کل تک چار دانگِ عالم میں جس کا طوطی بولتا آج اس کا طوطا بھی نہیں بولتا۔ اللہ اللہ چرخِ نیلا فام کو یہ دن بھی دکھانا تھا۔ تازہ حال قاصد یوں بیان کرتا ہے کہ سلطنتِ کا پہلا ’’حقیقی باغی شہزادہ‘‘ اپنے ہی آفاق میں گم ہے۔ معزول شاہ کی وراثت کے دعوے داروں میں سال بھر سے تخت نشینی کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ جنگ کیا ہے گویا تخت پر دال بٹ رہی ہے۔ پالم ( پی آئی بی کالونی ) میں ولی عہد ( فاروق ستار) دربار کر رہا ہے تو ڈھائی کوس پر واقع چاندنی چوک (بہادر آباد ) میں چھوٹا شہزادہ ’’ عامر ‘‘بنا ہوا ہے اور لال قلعے (نائن زیرو) پر روہیلوں ( رینجرز ) کا پہرہ ہے۔

جیسا کہ ایسے حالات میں ہوتا ہے، فوری دعوے داروں کو چھوڑ کر وہ تمام شہزادے ، شہزادیاں ، بیگمات ، امرا ، پنج ہزاری ، محافظ ، داروغہ ، خدام ، کرتب باز ، پٹے دار ، دفعدار ، توپچی ، گھڑ سوار ، بگلچی ، مشالچی ، باورچی ، ایلچی ، قاصد ، کن سوئے ، مامائیں ، اصیلائیں ، مغلانیاں ، اتالیق ، چوبدار ، آبدار ، سائس مہاوت ، گل فروش ، خواجہ سرا ، کرخندار یہاں سے وہاں بورائے بورائے پھر رہے ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں ، کوئی دیکھ نہ لے یہ سوچ کر ہر کسی کی آنکھیں گول گول گھوم رہی ہیں۔ کون کس کا ہے ، کس کی تار اندر ہی اندر کس سے جڑی ہے ، کون مخبر تو کون جانثار ، کس پے اندھا اعتماد کریں ، کس بات کا کیا مطلب لیں، ایسی دیوار کہاں کہ جس کے کان اور آنکھیں نہ ہوں۔

سیاست گئی بھاڑ میں ، یاں تو اپنے لالے پڑے ہیں، کہیں چوکھٹ سے باہر قدم رکھوں اور پیچھے کھڑا معتمد گھر کا ہی سودا کر لے ، باہر والے کے لیے شمشیر کھینچوں تو پشت میں خنجر ہی نہ اتر جائے۔ کاش دو کے بجائے تین آنکھیں ہوں تو عقب بھی سلامت رہے، یعنی وہ تمام کیفیات اس وقت ہر اس گروہ میں پائی جاتی ہیں جو سلطنتِ متحدہ کے پارچے در پارچے سمیٹنے میں غلطاں ہے۔ جب بس خواب ہی دکھائے جاتے رہیں تو تعبیر ایسی ہی نکلتی ہے۔ سلطنتِ متحدہ انیس سو چوراسی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بطن سے پیدا ہوئی تھی۔ چونتیس برس کم نہیں ہوتے، تین نسلیں لڑکپن سے ادھیڑ عمری میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ان چونتیس برسوں میں ایک قومیت پاتال سے آسمان تک پہنچائی جا سکتی ہے اور قیادت محض خواب فروش ہو تو آسمان سے پاتال تک پہنچا دیتی ہے۔ یقین نہ آئے تو چوراسی سے پہلے کی اردو قوم کا تعلیمی ، کاروباری و ملازمتی احوال دیکھ لیں اور آج تیسری نسل کی قابلیت اور اس قابلیت کی کھڑکی سے اس نسل کے مستقبل میں جھانک لیں، لگ پتہ جائے گا۔

نیوٹن کا قانونِ کشش ِ ثقل محض طبیعاتی نہیں سیاسی بھی ہے۔ نفرت جتنی تیزی سے اوپر جاتی ہے اس سے دوگنی رفتار سے ٹکڑا ٹکڑا جلتے شہابِ ثاقب کی طرح واپس آتی ہے۔ محبت آہستہ آہستہ ابھرتی ہے مگر پھر اپنے زور پر پرواز کرتی چلی جاتی ہے، نیوٹن کا یہ قانون مذہبی ، قومی ، علاقائی ، نسلی، گروہی سیاست پر برابر لاگو ہوتا ہے گر دیکھنے والی آنکھ ، محسوس کرنے والا دل اور سوچنے والا دماغ ہو تو۔ چونتیس سال کم نہیں ہوتے مگر اختیار اور کامیابی اگر باپ کی کمائی کی طرح چاروں ہاتھوں پیروں سے لٹانے کی لت پڑ جائے تو چونتیس برس بھی چونتیس ساعت کے برابر ہیں۔

ان چونتیس برسوں میں سودے بازی کی بے مثال طاقت کے سبب سندھ کی شہری آبادی کے لیے کیا کیا نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام سیاسی راستے نائن زیرو تک جاتے تھے۔ جس قیادت کے اشارے پر ایک لاکھ کا مجمع سکوت بن جاتا تھا ، جس کے ایک اعلان پر دو کروڑ کا شہر آدھے گھنٹے کے اندر جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر تھم جاتا وہ قیادت ایسی تابع فرمان رعایا سے مسائل کا کون سا ہمالیہ سر نہ کروا سکتی تھی۔ مگر چونتیس سال گویا لیاری و ملیر ندی میں بہا کر سمندر برد کر دیے گئے۔ سب سے بڑا شہر سب سے بڑا ماڈل بن سکتا تھا مگر اسے سالگرہ کا کیک سمجھ کے برت لیا گیا۔ خود کو ہی لوٹ لیا گیا، مرثیہ خانی سلطنتِ متحدہ کے قیام سے پہلے بھی تھی، سلطنت کے عروج میں کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی اور آج بھی جاری ہے۔

صورت یوں ہے کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں، کہاں جسے ٹکٹ ملتا تھا اس کی انتخابی لاٹری نکل آتی تھی، کہاں یہ عالم کہ دیکھتے ہی دیکھتے لاٹری لفنٹری اور پھر لوٹری میں بدلتی چلی گئی۔ وہ تخت جو لاکھوں لوگوں کی قسمت کے فیصلے مورچھل کے اشارے پر کرتا تھا آج اس کی قسمت کے فیصلے بچولیے سنار ، فکسر ، لقے ، سیاسی کباڑی اور کوتوالی کے سراغرساں کر رہے ہیں ۔  انیسویں صدی کے ہندوستان میں کیسی آپا دھاپی، چھیچھا لیدر اور طوائف الملوکی مچی پڑی تھی۔ وہ نظارہ کرنے کے لیے کسی ٹائم مشین میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں، کوئی بھی کن میلیا دو ہزار سترہ کے کراچی میں کہیں سے بھی دیکھ سکتا ہے کہ ہر دھڑے میں کتنے دعویدار و تعلقہ دار ہیں۔ نام پرنس لطافت علی خان کا اور فیصلے کمپنی بہادر کے مقرر کردہ ریذیڈنٹ جنرل کے۔ آج کی زبان میں ریذیڈنٹ جنرل کو پولٹیکل انجینیر کہوے ہیں۔

اب کے اس زلف میں وہ پیچ پڑا ہے کہ اسے
دستِ قدرت ہی سنوارے تو سنوارے میری جاں

وسعت اللہ خان

Advertisements

پاکستان کے لیے آزمائش کا دور، لیکن ……

پاکستان آزمائش کے دور سے گزر رہا ہے۔ اسے ہندوستان اور امریکا کی طرف سے بیک وقت خطرات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کے مبینہ ‘محفوظ ٹھکانوں’ کے خاتمے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ امریکا کی جانب سے اپنی علاقائی خواہشات کی تائید پر ہندوستان پھولے نہیں سما رہا ہے۔ پاک امریکا تنازعے پر خوش اور مقبوضہ کشمیر میں تازہ ترین عوامی بغاوت کو دبانے میں ناکام ہندوستان نے پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس دوران پاکستان کی علاقائی سیاست اتھل پتھل کا شکار ہے اور قوم دو مونہے بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے قیادت سے تقریباً محروم ہے۔

ہندوستان سے ہمارے وجود کو نہایت سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ہندوستان کہتا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی روزانہ خلاف ورزی پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت کرنے کی ‘سزا’ دینے کے لیے ہے۔ ‘سرجیکل اسٹرائیکس’، ‘محدود جنگ’، اور ‘کولڈ اسٹارٹ’ حملے کی بیان بازیوں کے علاوہ ہندوستانی ایئر چیف نے زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ‘ڈھونڈ کر تباہ’ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ہندوستانی آرمی چیف نے پاکستان کو ایک ‘نیوکلیئر دھوکے باز’ قرار دیتے ہوئے سرحد پار حملے کی تیاری کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح کی غیر ذمہ دارارنہ دھمکیوں کی عالمی طور پر مذمت کرنی چاہیے۔

پاکستان کو واضح طور پر ہندوستان کو بتا دینا چاہیے کہ کسی بھی قسم کے فوجی ایڈوینچر کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ پاکستان کو سیکیورٹی کونسل سمیت تمام بڑی قوتوں کو ہندوستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور عسکری دھمکیوں کے اندر پنہاں خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے۔ پاکستان لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی مزید مؤثر موجودگی کی تجویز دے سکتا ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ واشنگٹن کو ہندوستان کے خطرناک جنگی عزائم کی حوصلہ افزائی کرنے سے بھی خبردار کرے۔ پاکستان کی جانب سے کشمیر یا دیگر مسائل پر یکطرفہ پاکستانی سمجھوتے یا دستبرداری سے ہندوستانی دباؤ کم نہیں ہو گا۔ پاکستان کے اہم ترین مفادات پر کسی بھی سمجھوتے کے علاوہ اگر پاکستان نے اپنی جانب سے کوئی کمزوری دکھائی تو تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستان کی بیان بازیوں اور دباؤ میں اضافہ ہی ہو گا۔

اس کے مقابلے میں طالبان/حقانی نیٹ ورک کے ‘محفوظ ٹھکانوں’ کے متعلق امریکی دباؤ بھلے ہی گمراہ کن ہے مگر اس کے طویل مدت میں پاکستان پر محدود اسٹریٹجک اثرات ہوں گے۔ امریکا کی مؤثر فورس تیار کرنے کی نئی حکمتِ عملی کے جو بھی نتائج ہوں، جلد یا بدیر امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہی ہو گا۔ غیر ملکیوں کی عدم موجودگی، افغانستان کے جغرافیے اور اس کی آبادی کی لسانی قومی و لسانی ترکیب کا مطلب ہے کہ پاکستان کا اس ملک میں اثر رہے گا۔ اس لیے امریکا اور ہندوستان کے دباؤ کا گٹھ جوڑ توڑنے کے لیے پاکستان امریکا کی جانب ہندوستان کی بہ نسبت زیادہ لچک دکھانے کی گنجائش رکھتا ہے۔

نئی دہلی کے مقاصد اسٹریٹجک اور دائمی ہیں؛ امریکا کے افغانستان سے متعلق مطالبے چاہے جتنے بھی گمراہ کن ہوں، اور چاہے وہ جیتے یا ہارے، یہ مطالبے ہمیشہ عارضی نوعیت کے ہی ہوں گے۔ اگر پاکستان کے لیڈروں نے ٹرمپ کی صدارت کی شروعات میں ہی مستعدی اور صراحت کے ساتھ کام لیا ہوتا تو افغانستان میں امریکا کے ساتھ باہمی تعاون پر ایک وسیع مفاہمت پیدا ہو سکتی تھی۔ اب بھی پاکستان کو افغانستان میں پاک امریکا تعاون کے ایک وسیع النظر فریم ورک پر باہمی رضامندی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس فریم ورک میں یہ عناصر شامل ہونے چاہیئں:

دولتِ اسلامیہ گروہ اور اس کے حلیفوں کے خلاف پاک امریکا مکمل تعاون (جیسا کہ ماضی میں القاعدہ کے خلاف کیا گیا).

کابل اور افغان طالبان کے درمیان تنازعے کا گفت و شنید سے سیاسی حل افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے امریکا کی سربراہی میں اتحادی افواج کا ایکشن.

پاکستان کی خودمختاری اور افغانستان میں اس کے جائز مفادات کی تعظیم امریکا اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی جڑ، یعنی پاکستان میں افغان طالبان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں پر کھلے اور بے باکانہ انداز میں بات ہونی چاہیے۔ پاکستان کے پاس امریکا کے افغان طالبان، بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو پکڑنے یا مارنے کے مطالبے پر عمل نہ کرنے کی اپنی وجوہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ‘محفوظ ٹھکانوں’ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ دراندازوں کی چوکیاں ہیں، ٹریننگ کیمپ ہیں یا صرف ان کی موجودگی ہے جیسے کہ افغان مہاجر کیمپوں میں؟

دوسری بات، طالبان رہنماؤں کے قتل سے وہی لوگ ختم ہو جائیں گے جن کے ساتھ امن پر گفت و شنید کی جانی ہے۔ پھر قیادت کے بغیر ہونے والی دراندازی کے ساتھ امن معاہدہ طے نہیں پا سکتا، یہ ہم شام اور لیبیا میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ تیسری بات، افغان طالبان رہنماؤں کے خلاف پاکستان کا ایکشن افغان خانہ جنگی کو پاکستانی سرزمین پر لے آئے گا۔ تحریکِ طالبان پاکستان/جماعت الاحرار اور افغان طالبان کے درمیان گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ کسی بھی صورت میں پاکستان کے ایکشن سے صرف چند طالبان رہنما ہی ختم ہوں گے۔ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو زیادہ خطرہ کرپشن، منشیات کی تجارت اور اندرونی جنگ و جدل سے ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکام پالیسی کے حوالے سے ایک خلا میں موجود ہیں۔ وزارتِ خارجہ کا حالیہ اعلان کہ افغان طالبان اور حقانی گروپ کے 27 ارکان کو کابل کے ‘حوالے’ کر دیا گیا ہے، اس کے پالیسی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس طرح کے متضاد اقدامات پاکستان کے لیے دو جہاں کا خطرہ پیدا کر دیں گے۔ نہ ہی امریکا اس سے راضی ہو گا، بلکہ اس سے تو ہم افغان طالبان کو بھی اپنا دشمن بنا لیں گے۔

اسی طرح اسلام آباد نے بھول پن سے افغان پروپیگنڈے کو اس وقت تسلیم کر لیا جب اس نے این ڈی ایس کے سربراہ اور افغان وزیرِ داخلہ کا استقبال کیا۔ یہ دونوں حکام حالیہ کابل حملوں میں پاکستان کی ‘خفیہ معاونت’ کی شکایت کرنے آئے تھے، جبکہ ان کے پاس اپنے اس بلند و بانگ دعوے کی حمایت میں ذرہ برابر بھی ثبوت نہیں تھا۔ پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ تنازعے سے پرہیز کا ایک واحد راستہ یہ ہے کہ افغان طالبان کو ایک پرامن سمجھوتے کے لیے مذاکرات پر راضی کیا جائے۔ ٹرمپ کے بیانات کے باوجود امریکی حکام نے مبینہ طور پر یقین دلایا ہے کہ وہ طالبان سے بات چیت چاہتے ہیں۔ ان مذاکرات میں شرکت کر کے طالبان اپنے لیے مذاکراتی فریق کی حیثیت سے ایک جائز سیاسی رتبہ حاصل کر لیں گے۔ اس طرح کی بات چیت ایک سے زیادہ انداز میں کی جا سکتی ہے اور اس مرحلے میں روس، ایران اور ترکی کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی بھرپور کوششوں کے باوجود اور اس کی کمزوریوں اور پریشانی کو دیکھتے ہوئے امریکا پاکستان کے خلاف مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے جس میں سیاسی و اقتصادی پابندیاں، یکطرفہ ڈرون حملے اور پاکستانی سرزمین پر اسپیشل آپریشنز شامل ہیں۔ پاکستان کو اس طرح کے اقدامات کا ردِعمل دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امریکا اور ہندوستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف دھمکیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو چاہیے کہ کسی بھی سمجھوتے کی صورت میں اس کا اسٹریٹجک مقصد افغانستان سے امریکا و نیٹو افواج کا مکمل انخلاء ہونا چاہیے۔ سن زو نے آرٹ آف وار میں لکھا تھا: ‘ناقابلِ تسخیر ہونے کا راز اپنے دفاع میں ہے۔’ مشرق اور مغرب دونوں ہی جانب پاکستان کے اسٹریٹجک مقاصد دفاعی ہیں۔ پاکستان امریکا یا ہندوستان سے عسکری طور پر بھلے ہی کمزور ہو، مگر اس کی ایٹمی صلاحیت اسے بیرونی دباؤ اور جارحیت سے فیصلہ کن طور پر محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

منیر اکرم
یہ مضمون ڈان اخبار میں 4 فروری 2018 کو شائع ہوا۔

پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

موروثی یا خاندانی سیاست پاکستان میں ایک منفی اصطلاح کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رکن اسمبلی جہانگیر خان ترین کی نااہلی کے بعد انہی کے بیٹے علی ترین کو ان کی خالی نشست کیلئے نامزد کیا تو عمران خان پر بھی موروثی سیاست کی حمایت کرنے کے الزامات لگے۔ حالانکہ عمران خان کے اپنے خاندان کا کوئی فرد یا ان کے بیٹوں میں سے کوئی بھی اس وقت سیاست میں نہیں ہے۔ جب کہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی قومی سیاست پر، قومی وسائل پر، نجی یا قومی شعبے میں تاریخی وجوہات کی بنا پر اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے۔ تاہم اس اجارہ داری کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مختلف انداز، زاویے اور درجے ہوتے ہیں اور ان تمام باتوں کا ان ممالک کے سماجوں کی ترقی، تعلیم اور معیشت طے کرتی ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں موروثی سیاست کا کردار زیادہ ہو گا جبکہ صنعتی معیشت میں کم۔

بے نظیر بھٹو کی پر تشدد موت نے بلاول کو کم عمری میں بڑا لیڈر بنا دیا۔ موروثی سیاست یا قیادت صرف بڑے خاندانوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز سیاست معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی بہت زیادہ مروج ہے۔ ایک خاندان کی اجارہ داری صرف قومی یا صوبائی اسمبلیوں تک ہی محدود نہیں، مقامی حکومتوں میں بھی امیدواروں کی شرح موروثی سیاست کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ میڈیا پر بیٹھ کر موروثی یا خاندانی سیاست کو برا بھلا تو کہا جاتا ہے مگر عملاً اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمینٹ اینڈ اکنامک آلٹرنیٹوز کے محقق، ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ساتھیوں (حسن جاوید، اور محمد فاروق نصیر) نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تھا۔ ان کے مطابق، امریکی کانگریس میں 1996 میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد تھا، بھارت کی لوک سبھا میں 2010 تک 28 فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا۔ (کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے۔)

انہی محقیقن کے مطابق، موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریباً 400 خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازیاں کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے مطابق 1985 کے انتخابات سے 2008 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔ اور تاحال یہ حالات بدلے نہیں ہیں۔ اب بھی زیادہ تر خاندانی سیاست میں بیٹوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، پھر بھتیجوں کا نمبر ہے اور سب سے کم دامادوں کا حصہ ہے۔ بیٹیوں کا حصہ شاذ و نادر نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ موروثی یا خاندانی سیاست دان 2008 کے انتخابات تک قومی اسمبلی کا پچاس فیصد رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ “الیکٹ ایبلز” امیدوار ڈھونڈے اور اس طرح نئی جماعت بھی موروثی سیاست سے بچ نہیں پاتی ہے۔

نواز شریف کا سیاسی کردار ان کے والد کی خواہش کی وجہ سے شروع ہوا۔ مریم نواز کے مسلم لیگ میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے جماعت کے اندر کشیدگی بڑھی۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں نئے امیدوار انتخابات میں آئے مگر ان ہی میں سے نئے آنے والوں میں سے چند ایک نے اپنی نئی حاندانی سیاسی اجارہ داریاں قائم کر لیں۔ جرنیلوں کے بچوں نے انتخابات لڑ کر اپنی اجارہ داریاں بنانے کی کوششیں کیں ہیں۔ یعنی فوجی حکمرانوں نے موروثی قیادت کو کمزور نہیں کیا۔ اس لئے اس سے یہ بات نظر آتی ہے کہ نئی قیادت کے آنے سے ضروری نہیں ہے کہ موروثی سیاست یا خاندانی سیاست کا نظام کمزور ہو گا۔ اسی تحقیق میں یہ بھی نظر آیا کہ موروثی سیاست جاگیرداروں کے طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاست میں آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری طبقے بھی اپنے اپنے وارث سیاست میں لیکر آئے اور اس طرح انھوں نے موروثی سیاست کی روایت کو جلا بخشی۔ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امیدواروں کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط تو رکھی تھی مگر جب انھوں نے جوڑ توڑ کی سیاست کی تو سیاسی خاندانوں کے گریجویٹ چشم و چراغ پھر سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔

پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان بشمول نواز شریف، چوہدھریز آف گجرات، ٹوانے، قریشی، گیلانی، جنوبی پنجاب کے مخدوم اور اقتدار میں رہنے والے جرنیلوں کے بچے، نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں بھی براہ راست ان ہی کے خاندان کے افراد یا ان سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔ نواز شریف کی اپنی بیٹی، مریم نواز کو مسلم لیگ کا لیڈر بنانے کی کوشش بھی ان کی جماعت میں کشیدگی بڑھنے کی ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔ شدت پسند اور کالعدم مذہبی جماعتوں میں سوائے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے، کسی میں موروں سیاست نہیں ہے۔ مگر جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن اپنے والد مفتی محمود کی وجہ سے لیڈر بنے، جبکہ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کے بعد ان کی بیٹی قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔

موروثی یا خاندانی سیاست کی یہی حالت صوبہ خیبر پختون خواہ کی ہے جہاں اس وقت بڑا سیاسی خاندان پرویز خٹک کا ہے، روایتی طور پر وہاں بڑا سیاسی خاندان خان عبدالولی خان کا رہا ہے۔ ہوتیوں کا خاندان، سیف اللہ کا خاندان، یوسف خٹک کا خاندان، ایوب خان کا خاندان اور مولانا مفتی محمود کا خاندان اس موروثی سیاست سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد کا خاندان بھی جماعت اسلامی میں موروثی سیاست کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ سندھ میں کیونکہ سیاست زیادہ تر جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے تو وہاں موروثی سیاست معاشرتی طور پر بہت زیادہ مضبوط ہے۔

سندھ میں عموماً موروثی سیاست کے حوالے سے بھٹو خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ تاہم وہاں، زیادہ تر سیاسی رہنما موروثی لیڈر ہی ہوتے ہیں۔ البتہ بھٹو خاندان کے بارے میں یہ کوئی بات نہیں کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو موروثی سیاست نہیں ملی تھی۔ وراثت کے لحاظ سے ممتاز بھٹو کو سیاست کرنا تھی اور اگر بھٹو کی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو بے نظیر بھٹو کے لیڈر بننے کے امکانات بہت ہی کم تھے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی اپنی پر تشدد موت نے ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی جس کی وجہ سے قیادت ان کے بیٹے کو ملی۔ تشدد اور مارشل لا وغیرہ نے پیپلز پارٹی میں موروثی سیاست کو مضبوط کیا۔

بے نظیر بھٹو کو ان کے والد نے اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی مگر وہ انھیں بین الاقوامی سیاست میں لانا چاہتے نہ کہ پاکستان کی قومی سیاست میں۔ مگر مارشل لا اور پھر بھٹو کی پھانسی نے حالات بدل دیے۔ بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی، زہری، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک، سابق وزیر اعلیٰ، کے علاوہ ڈاکٹر اللہ نذر کی زیر قیادت قوم پرست بلوچ لبریشن آرمی ایسی ہے جہاں فی الحال موروثی قیادت نظر نہیں آتی ہے۔

سوائے ڈاکٹر اللہ نذر کی بلوچ لبریشن آرمی کے، بلوچستان میں سیاسی قیادت قبائلی نظام کی وجہ سے موروثی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ شدت پسند تنظیمیں، لشکر طیبہ، جماعت الدعوٰۃ، جماعت اہل سنت والجماعت اور تحریک طالبان پاکستان میں تاحال موروثی سیاست نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن تحریک نفاذ شریعت محمدی میں موروثی قیادت واضح طور پر نظر آتی ہے کیونکہ صوفی محمد کے داماد فقیر اللہ نے قیادت سنبھال لی۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے محقیقین، عبدالقادر مشتاق، محمد ابراہیم اور محمد کلیم کے مطابق، موروثی سیاست کے بارے میں ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں اس لئے انہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے۔

پاکستان میں موروثی سیاست یا خاندانی سیاست و قیادت نہ صرف اعلیٰ سطح پر مروج ہے بلکہ کونسلر کی سطح کے انتخابات میں بھی لوگ عموماً ایک ہی خاندان سے وابسطہ امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔ پھر ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ موروثی سیاست ان معاشروں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن میں جمہوری روایات پھلی پھولی نہیں ہوتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں گاہے بگاہے جمہوری نظام میں مداخلت کرتی رہتی ہیں (بھارتی پنجاب میں اگر موروثی یا خاندانی سیاست کا حصہ 28 فیصد ہے تو پاکستانی پنجاب میں 53 فیصد)۔ تاہم اب ایک رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں کمزور ہو رہی ہے۔

روزا بروکس اپنی کتاب A Dynasty is not Democracy میں کہتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے جبکہ ایک طاقتور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کر سکتی ہے۔

ثقلین امام
بی بی سی اردو، لندن

ظفر عارف مر گئے پر سوال زندہ ہے

چونکہ میں اس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھا لہذا سینئرز کی نصیحت تھی کہ حسن ظفر عارف جیسے ملحد کیمونسٹ اساتذہ سے دور رہو۔ میں نے یہ نصیحت پلے باندھ لی اور کبھی بھی ان کے قریب نہیں پھٹکا مبادا میرے نظریہِ پاکستان میں کوئی کجی آ جائے۔ ویسے بھی ڈاکٹر ظفر عارف کی آنکھیں باز کی طرح دبیز تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ وہ سرخ نظریاتی آسمان پر مسلسل اڑتے ہوئے ادھرِ اًدھر دیکھتے رہتے ہیں اور معصوم و بے ضرر نئی نسل جہاں بھی نظریاتی کنفیوژن کا شکار دکھائی دے جپھٹا مار کے پنجوں میں دبا لے جاتے ہیں اور پھر ان لڑکے لڑکیوں کو اپنی گفتگو کے راتب سے کچھ ایسے رام کرتے ہیں کہ وہ اس باز نما انسان کے آلے دو الے ہی ہو کے رہ جاتے ہیں۔

میں گواہ ہوں کہ ڈاکٹر ظفر عارف نے اپنے کچھڑی بال بکھرا کر جینز کی ایک سائیڈ سے بوہمین انداز میں قمیض نکال کر یونیورسٹی میں بند گلے کی شیروانی اور تھری پیس سوٹنگ کی استادانہ ثقافت پر ’’ شبخون ’’ مارا۔ حسرت ہی رہی کہ ظفر عارف کبھی تو ’’شرفا’’ جیسے لباس یافتہ استاد نظر آتے۔ انھیں کلاس میں پاٹ دار آواز میں لیکچر دینے کے بعد بھی چین نہیں پڑتا تھا۔ اکثر کراچی یونیورسٹی کے کیفے ڈی پھونس پر لڑکے لڑکیوں کے اصرار پر انڈہ گھٹالہ کھانے کے بعد پلیا پر بیٹھ کر مباحث کا جال پھینکتے۔ ظفر عارف نے شعبہِ فلسفہ کے کاریڈور میں لڑکے لڑکیوں کے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کا رواج شروع کیا۔ اس آلتی پالتی گروپ میں صرف فلسفہ پڑھنے والے ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کے بگڑے بچے بھی شامل تھے۔ اور ان سب کے بیچ ظفر عارف بگلہ سگریٹ کشیدن کرتے کرتے کچے ذہنوں کو مرغولہ بناتے بناتے کسی اور ہی منطقی دنیا میں لے جاتے۔ اگر یہ سگریٹ سادے ہوتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ مگر یہ مارکسزم کی ہیروئن سے بھرے سگریٹ تھے جنہوں نے ظفر عارف کے گرد قائم نوخیز جھمگٹے کو کہیں کا نہ رکھا۔

نسبی لحاظ سے گنگا جمنی پس منظر کے باوجود ظفر عارف نے نئی نسل کو مشرقی تہذیب اور ایشیائی اقدار ( جو بھارت اور پاکستان کے سوا کسی ایشیائی ملک میں نہیں پائی جاتیں ) سے ’’ برگشتہ‘‘ کرنے کی پوری کوشش کی۔ جو طلبا و طالبات ’’ نظریاتی بے راہ روی ‘‘کے جال میں نہیں آتے تھے وہ یہ سن کے مارے احساسِ کمتری ڈھے جاتے کہ ڈاکٹر صاحب نے برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی اور فل برائٹ اسکالر شپ لے کر ہارورڈ میں پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچ کی ندی پار کی ہے۔ ان کا طریقہِ واردات یہ ہوتا کہ خود فکری منبر پر بیٹھ کر یکطرفہ لیکچر پلانے کے بجائے دماغ کو جھنجنا دینے والا کوئی مقدمہ یا سوال بطور کانٹا اچھال دیتے اور جب کوئی طالبِ علم مارے سادگی یہ کانٹا نگل لیتا تو پھر ڈاکٹر صاحب جہاندیدہ مچھیرے کی طرح گفتگو کی ڈور کو ڈھیل دیتے جاتے اور جب طالبِ علم اپنے ہی کچے پکے دلائل کے بوجھ سے تھک جاتا تو ڈاکٹر صاحب ڈور کھینچنا شروع کرتے اور پھر مچھلی ان کے فکری ٹوکرے میں پٹاک سے گر جاتی۔

ڈاکٹر صاحب اس ’’ کارِ بے راہ روی ’’ میں اکیلے نہیں تھے بلکہ نسل در نسل فکری و نظریاتی جمی جمائی زمین کو تلپٹ کرنے کے لیے کوشاں اس ’’ شب خونی گروہ ’’ کا حصہ تھے جو اسلامک ہسٹری کے ڈاکٹر قاسم مراد ، مسز مہر افروز مراد اور ہائیڈل برگ سے آنے والے محمد میاں پر مشتمل تھا ( محمد میاں جمعیت میں سید منور حسن کو این ایس ایف سے کھینچ کے لانے والوں میں شامل تھے اور پھر خود محمد میاں جمعیت سے اکھڑ کر بائیں بازو میں چلے گئے حالانکہ جمعیت کا اﷲ اکبر والا اوول شیپ بیج محمد میاں کا ڈیزائن کردہ تھا)۔ شائد اسی پس منظر کے سبب جب میں چند طلبا کے ساتھ محمد میاں سے کارل مارکس کے کیمونسٹ مینی فیسٹو کی شرح سمجھنے کے لیے کچھ دنوں تک ان کے اسٹڈی سرکل میں جاتا رہا تو محمد میاں نے ’’ ایک جماعتی‘‘ کی شمولیت پر کسی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔

جیسا کہ میں اوپر بتا چکا کہ میرا شمار ان طلبا میں تھا جو نظریاتی آلودگی کے خوف سے ظفر عارف سے فاصلے پر رہتے تھے۔ بیشتر اساتذہ بھی ظفر عارف کو تدریسی شعبے کی ایسی کالی بھیڑ سمجھتے تھے جو روائیتی تعلیمی جگالی کے بجائے تدریسی تقدس پامال کرتی پھر رہی تھی۔ ظفر عارف خدا جانے کس انفرادی یا اجتماعی ایجنڈے کے تحت طلبا کو معاشرے کا ایک وفادار اور بااقدار شہری بنانے کے بجائے ہر شے پر سوال اٹھانے کی تربیت دے کر اپنے رویے اور باتوں سے گویا بغاوت پر اکسا رہے تھے۔

اب حکومت بھلے سویلین ہو کہ فوجی ، رویہ جمہوری ہو کہ غیر جمہوری ایک اچھے استاد کا اس چخ پخ سے کیا لینا دینا ؟ مگر یہاں بھی ظفر عارف نے روایت شکنی کرتے ہوئے سندھ کے گورنر لیفٹننٹ جنرل جہانداد خان کے نام کھلا خط لکھ مارا اور چیلنج کیا کہ کوئی بھی جرنیل یا افسر شاہ آخر کس حیثیت میں ڈکٹیٹ کر سکتا ہے کہ یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے اور کیا نہیں ؟ کون سی بات کتنے ناپ تول سے کی جائے اور کہاں لب سی لیے جائیں اور ڈکٹیشن بھی ایک ایسی حکومت کی جانب سے جس کا اپنا جائز ہونا ثابت نہیں۔ ظاہر ہے اس بدتمیزی کا یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ ظفر عارف جیسوں کو نوکری سے چلتا کر کے جیل میں ڈال دیا جائے۔ سو ڈال دیا گیا۔ نہ صرف فوجی حکومت بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ ، بیشتر اساتذہ اور جمعیت جیسی طلبا تنظیموں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

اس کے بعد ظفر عارف نے کیا کیا کیا مجھے کوئی خاص معلومات نہیں۔ سنا کہ نئی نئی پاکستان آنے والی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہو گئے اور ستر کلفٹن میں اسٹڈی سرکل رچانا شروع کر دیا ، پھر سنا کہ پیپلز پارٹی سے ڈی ایکٹیویٹ ہو گئے یا کر دیے گئے اور ناشری و طباعت و ترجمے پر ہاتھ ڈال دیا۔ ظاہر ہے کاروباری سوجھ بوجھ تو تھی نہیں کہ اپنے نفع نقصان کا کھاتہ رکھ سکتے چنانچہ کچھ ہی عرصے میں یہ دھندہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ کسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں بھی پڑھا سکتے تھے مگر ظفر عارف جیسی بلا سرکاری یونیورسٹی سے ہضم نہ ہوئی تو پرائیویٹ کالج اور یونیورسٹیاں کس کھیت کا بتھوا تھیں۔

پھر سنا پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں شامل ہو گئے۔ پھر بہت عرصے تک ریڈار سے غائب رہے اور ایک دن اچانک پتہ چلاکہ الطاف حسین کے نظریے کو اپنا لیا اور انٹرنینشنلسٹ سے نیشنلسٹ ہو گئے۔ بحیثیت ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم ( المعروف لندن ) پریس کلب میں بھی آنے لگے۔ اس دوران ان سے سرسری مل کر مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب تنہا رہ گئے ہیں۔ پچھلی نسل کے لیے وہ محض ایک یاد اور آج کی نسل کے لیے ایک مس فٹ تھے۔ مس فٹ ہونے کی تنہائی کیا ہوتی ہے یہ محسوس تو کی جا سکتی ہے سمجھائی نہیں جا سکتی۔ اور پھر دو روز قبل خبر آئی کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف اپنی گاڑی میں کراچی کی ایک انجانی جگہ پر مردہ پائے گئے۔ بہتر برس کی عمر طبعی انتقال کے لیے تو موزوں ہے قتل ہونے یا پراسرار طور پر مردہ ہونے کے لیے ہرگز ہرگز نہیں۔

شائد ڈاکٹر صاحب اس ضیعف عمر میں بھی بہت سوں کے لیے توانا لال بتی تھے لہذا ان کا بجھنا کئی دیدگان و نادیدگان کے لیے بہتر تھا۔ ڈاکٹر صاحب میں ایک بچے کی سی انرجی تھی۔ شائد پہلی بار انھیں موت کی شکل میں آرام دہ بستر نصیب ہو گیا۔ مگر ایسوں کی موت سے بھی گل گھوٹو کے مرض سے جوج رہے سماج کو سکون ملے گا کہ نہیں ؟ کاش یہ سوال بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتا تو کیسا اچھا ہوتا۔

وسعت اللہ خان

نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر سکتے ہیں

برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر سکتے ہیں، سعودی عرب میں تمام معاملات طے پا سکتے ہیں، سابق وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر شہباز شریف کو جاں نشین بنانے کا اعلان کرایا گیا۔ پل پل بدلتی سیاسی صورتحال پر بھی تبصرے جاری ہیں، لیگی قیادت سعودی عرب میں موجود ہے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اے پی سی بلا کر فیصلے کر لیے۔ جگہ جگہ نئے این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کیا واقعی کوئی تبدیلی آنے والی ہے؟؟

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ نواز شریف سیاست چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب میں معاملات طے پانے کا امکان ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق نواز شریف نے سیاست چھوڑنے کی حامی بھر لی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے دباؤ پر مریم نواز کے بجائے شہباز شریف کو اپنا جانشین بھی نامزد کیا۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ خود ساختہ جلا وطنی پر نواز شریف کیلئے مقدمات سے چھٹکارا بھی ممکن ہے۔

گریجویشن کی جعلی ڈگری پر آپ کس ملک میں سینیٹر بن سکتے ہیں ؟

پاکستان الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی گریجویشن بی اے  کی ڈگری جعلی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے جعلی ڈگری کو جواز بنا کر سینیٹر یاسمین شاہ کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسمین شاہ اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق غلط بیانی کر کے 2003 میں سینیٹر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے یاسمین شاہ کی 2003 میں بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔

پیراڈائز پیپرز کیا ہیں ؟

  گزشتہ برس جاری ہونے والے پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فونسیکا کی دستاویزات پر مبنی تھے لیکن اب جاری ہونے والے پیراڈائز پیپرز کمپنی ’’ایپل بائی‘‘ کی دستاویز پر مشتمل ہیں۔ پاناما پیپرز میں 50 ممالک کے 140 نمایاں افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ پاناما لیکس میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات سامنے آئیں تھیں اور اس کام کے لیے 376 صحافیوں نے کام کیا تھا۔پیراڈائز پیپرز میں 47 ممالک کے 127 نمایاں افراد کے نام شامل ہیں۔ پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34 لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کے لیے 67 ممالک کے 381 صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں 1950 سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120 شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔

پاناما کے بعد پیراڈائز لیکس، اہم پاکستانی شخصیات کے نام شامل

پیراڈائز لیکس میں مشرف دور کے وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام سامنے آ گیا، شوکت عزیز نے انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا جبکہ ان کی اہلیہ اور بچے بینی فشری تھے ۔ وزیر خزانہ بننے سے کچھ پہلے شوکت عزیز نے ڈیلاویئر(امریکا) میں ٹرسٹ قائم کیا جسے برمودا سے چلایا جا رہا تھا، بطور وزیر خزانہ اور بطور وزیراعظم شوکت عزیز نے کبھی یہ اثاثے ظاہر نہیں کئے، شوکت عزیز کے وکیل کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کو اپنے ٹرسٹ پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ان کے وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ شوکت عزیز کی اہلیہ اور بچے بھی بینی فشری تھے، بینیفشل مالک نہیں۔

شوکت عزیز پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ رہے، 1999 میں شوکت عزیز وزیر خزانہ مقرر ہوئے، 28 اگست 2004 کو وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا، 15 نومبر 2007 کو بطور وزیراعظم سبکدوش ہو گئے جس کے بعد سے شوکت عزیز بیرون ملک مقیم ہیں۔ ساتھ ہی نیشنل انشورنس کمپنی کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کا نام بھی سامنے آ یا ہے، ایاز خان نیازی کے برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شور اثاثے سامنے آئے ہیں، یہ سب کمپنیاں 2010 میں قائم کی گئیں جب ایاز نیازی این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

ایاز نیازی کے دو بھائی حسین خان نیازی اور محمد علی خان نیازی بینی فشل اونر تھے، ایاز نیازی، ان کے والد عبدالرزاق خان اور والدہ کے نام بطور ڈائرکٹر ہیں ۔
ایاز نیازی کو فروری 2009 میں نیشنل انشورنس کمپنی کا چیئرمین بنایا گیا، بینکنگ یا انشورنس کی تعلیم یا تجربہ نہ ہو نے کے باوجود تقرر ہوا۔ ایاز نیازی کا نام این آئی سی ایل کرپشن کیس میں سامنے آیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے این آئی سی ایل کرپشن کا نوٹس لیا، انہیں اکتوبر 2010 میں جبری رخصت پر بھیجا گیا، نومبر 2010 میں ایاز نیازی نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا انہیں دسمبر 2011 میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ۔

پیراڈائز پیپرز میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ  اردن کی سابق ملکہ نور گلوکارہ میڈونا اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ملکہ الزبتھ نے آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اس کے علاوہ امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے بھی روسی بااثر شخصیات کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی سے مالی فائدے حاصل کئے۔ پیراڈائز پیپرز میں امریکی صدرٹرمپ کے 13 قریبی ساتھیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کینیڈین وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور مشیر کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں شامل ہے۔

اردن کی سابق ملکہ نور دو ٹرسٹوں کی بینی فشری رہی ہیں، یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آف شور کمپنی کے ڈائرکٹر نکلے۔ مائیکرو سوفٹ اور ’’ای بے‘‘کے بانیوں کے نام بھی سامنے آ گئے، گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔فیس بک اور ‘ایپل کے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر ٹیکس بچانے کا انکشاف بھی پیراڈائز لیکس میں ہوا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

اقتدار یا ملک ، کس کو بچانا ضروری ہے ؟

پاکستان کو سپورٹ کرنے والے کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے آئندہ کے لئے کسی بھی نئے قرضہ کی فراہمی کے لئے امریکی اشارے پر اپنے دانت تیز کرنے شروع کر دیئے ہیں تاکہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں اگر پاکستان کو ایک بار پھر IMF کے پاس کسی نئے قرضہ ( جس کی مالیت 5ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے ) کے لئے جانا پڑے تو وہ اپنی پرانی مگر کچھ سختی کے ساتھ نئی شرائط منوانے پر زور دے سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جیسے سیاسی ایشوز پر سیاسی قائدین اور جماعتیں آپس میں تقسیم ہیں اور ہر جماعت اپنی اپنی بولی بول رہی ہے کسی کو جمہوریت سے پیار ہے اور کوئی الیکشن جلد کرانے کی جدوجہد میں ہے یہی صورتحال احتساب کے عمل کی ہے اس پر بھی ہر کوئی جماعت اپنی ہی پالیسی کا اظہار کر رہی ہے عین اس طرح ہمارے اقتصادی ماہرین کی اکثریت بھی IMF سے کسی نئے قرضہ کے حق اور مخالفت میں رائے دے رہے ہیں.

یہ بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ ہمارا ملک قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اپنی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پس منظر میں ختم نہیں کر سکتا بلکہ بعض ماہرین تو اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ جو اب تک 75 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے خدانخواستہ 80 ارب یا 90 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا تو پھر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ہمارے قومی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کئی نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اللہ نہ کرے ایسے حالات پیدا ہوں لیکن اگر ملک میں زراعت اور صنعت کا شعبہ حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے ریڈار پر نہیں آئے گا اور FBR اپنے ٹیکسوں کے نظام کو وسیع کرنے کے لئے جامع اصلاحات کر کے ٹیکس نیٹ کو ممبران پارلیمنٹ سے لیکر جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے بڑے کاروباری اداروں اور شخصیات سے ان کی پوری آمدنی پر پورا ٹیکس وصول نہیں کرے گا اس وقت تک بجلی چوری کی طرح ٹیکس چوری بھی بڑھتی رہے گی اور دونوں طرف صنعت و زراعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہماری برآمدات میں اضافے کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔

اس وقت صرف پاور سیکٹر میں اصلاحات کے بڑے حکومتی دعوے سامنے آ رہے ہیں مگر بجلی کی قیمت سے جو صنعتی و تجارتی شعبہ کی لاگت بڑھتی جا رہی ہے اس پر حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی فوری طور پر صنعت ، تجارت، ٹیکسیشن اور دیگر ماہرین کی ایک خود مختار ٹاسک فورس بنائیں جو ہر ماہ میں کم از کم ایک بار پاکستان کے حقیقی اقتصادی مسائل سے آگاہ کرے اور اس کی روشنی میں وزیراعظم ہر سہ ماہی میں مالی سال کے بجٹ کو ریویو کریں اس سلسلہ میں فیڈریشن کے نمائندوں کی مشاورت سے بڑی اچھی ٹاسک فورس بن سکتی ہے جس کے لئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے کرتا دھرتا افتخار علی ملک اور موجودہ صدر زبیر طفیل سمیت مختلف شخصیات سے مشاورت کر کے پاکستان کو بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران سے نکالنے کا کام شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔

ورنہ پاکستان میں روایتی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے ایڈہاک ازم کے ذریعے سیاسی نعرے لگائے جاتے رہیں گے۔ ابھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ نعرے لگا رہی ہے کل اور پارٹی و بنی گالہ یا بلاول ہائوس والے یہی کام کر سکتے ہیں اب تو کچھ اشارے ایسے بھی ملنے شروع ہو گئے ہیں کہ کسی ایک حد پر خاص جگہ پر پیپلز پارٹی کے لئے بھی ’’سافٹ کارنر‘‘ بنایا جا رہا ہے۔  بہرحال اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ سیاست سے ہٹ کر معیشت پر فوکس بڑھایا جائے۔ معیشت اگر ٹھیک ہو گی تو سیاست اور سیاسی کاروبار سب کچھ چلے گا اس سلسلہ میں وزیراعظم عباسی اگر چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں انہیں معاشی فرنٹ پر قومی مقاصد کی زیادہ سمجھ بوجھ ہے لیکن اگر وہ کسی سے ”HONEST” ایڈوائس لیں گے تو پھر ہی بات بن سکتی ہے ورنہ خطرات اور خدشات کا سلسلہ بڑھتا رہے گا پھر اقتدار بچانے سے زیادہ ملک بچانے کی فکر لاحق ہو سکتی ہے۔

سکندر حمید لودھی

کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان