خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف نے 2013 میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 110 پر پونے والے انتخابات کے لیے اہل نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے آئین کے ارٹیکل 62 (ون) (ویف) کے تحت مقرر کردہ شرائط پر پورا نہیں اترتے، اسی لیے انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے رجسٹرار کو خواجہ آصف کی نااہلی کے فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو منتحب نمائندوں کو نااہل کرنے کے لیے عدالتی اختیارات کا استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر ہی حل کرنے چاہئیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں آنے سے دیگر سائیلین کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست دائر کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی رہنما کی درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابات سے قبل ظاہر نہیں کیں اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے مستحق نہیں۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ خواجہ آصف نے اپنے نامزدگی فارم میں اپنے تمام اثاثے ظاہر نہیں کیے اور غلط بیانی کی، خواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر پہلے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، تاہم بعد میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طرف سے معذرت کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نئے بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ مزید کوئی دستاویز پیش کرنی ہے تو تحریری درخواست کے ساتھ جمع کرائی جا سکتی ہے، جس کے بعد خواجہ آصف نے دبئی کی کمپنی کا خط پیش کیا۔ خط میں خواجہ آصف کی ملازمت کی تصدیق کی گئی اور بتایا گیا کہ کمپنی کی طرف سے ان پر دبئی میں موجودگی کی شرط عائد نہیں کی گئی، جب بھی ضرورت ہو تو فون پر خواجہ آصف سے قانونی رائے حاصل کر لی جاتی ہے۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔ دوسری جانب خواجہ آصف سمیت حکمراں جماعت کے کوئی بھی رہنما عدالت میں موجود نہیں تھا۔

بشکریہ روزنامہ ڈآن اردو

Advertisements

جوڈیشل ایکٹو ازم یا ایگزیکٹو ازم ؟

افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس بننے سے پہلے بیشتر پاکستانی نہیں جانتے تھے کہ ازخود نوٹس کیا ہوتا ہے۔ وہ آئے دن پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی خبروں پر ازخود نوٹس لیتے اور میڈیا اپنی خبر کے عدالتی نوٹس کی خصوصی کوریج کرتا۔ ان ازخود نوٹسز سے معاشرے پر کیا مثبت اثرات پڑے، اس سوال کے متضاد جوابات ملتے ہیں۔ افتخار محمد چودھری کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے بھی ازخود نوٹس لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس پر کچھ سینئر وکلا نے دبی آواز میں اعتراض شروع کیا۔ موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں یہ سلسلہ بڑھ گیا۔ انھوں نے پے در پے کئی ازخود نوٹس ایسے لیے جن پر وکلا تنظیموں اور سینئر صحافیوں کو تعجب ہوا اور انھوں نے تنقید بھی کی۔ ان میں اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا معاملہ بھی تھا جنھوں نے زینب قتل کیس میں بڑے بڑے دعوے کیے۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تو وہ کوئی دعویٰ ثابت نہ کر سکے۔

گزشتہ روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے انکشاف کیا کہ انھوں نے وکلا تنظیموں اور میڈیا کے اعتراضات پر ازخود نوٹس لینا بند کر دیے ہیں۔ سابق وزیر قانون اعتزاز احسن نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے کئی ایسے ازخود نوٹس لیے جو انھیں نہیں لینا چاہیے تھے۔ ایسے نوٹس پہلی یا دوسری پیشی پر نمٹانے پڑے کیونکہ حقیقت کچھ اور تھی اور اخبار میں کچھ اور آیا تھا۔ چیف جسٹس اپنے ازخود نوٹس کے اختیار سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ لیکن، ممکن ہے کہ انھوں نے اپنے لیے کچھ حدود و قیود مقرر کی ہوں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹوزم بری چیز نہیں ہے۔ لیکن افتخار محمد چودھری پندرہ سولہ ججوں کو ساتھ بٹھا کر مقدمہ سنتے تھے۔ اس کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی ہونا ناممکن ہو جاتا تھا۔ اگر چھوٹے بینچ کیس سن رہے ہوں اور لارجر بینچ کو نظرثانی کا اختیار ہو تو پھر کوئی ہرج نہیں۔ سابق وزیر قانون خالد رانجھا کہتے ہیں کہ ایکٹوزم اور ایگزیکٹوزم میں باریک سی لائن ہوتی ہے۔ جب ایکٹوزم بڑھ جاتا ہے تو اس کی شکل ایگزیکٹوزم کی ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو اعتراض اس پر ہوتا ہے۔ ایکٹوزم زیادہ ہو جائے تو خیال ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے اور کوئی کام نہیں کر رہی۔ عدالت کا زیادہ متحرک ہونا الیکشن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں توازن ہونا چاہیے اور کم سے کم مداخلت کرنی چاہیے۔ سینئر قانون دان سمجھتے ہیں کہ ازخود نوٹس اور جوڈیشل ایکٹوزم کے ضابطے طے کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام عدلیہ کو ازخود کرنا چاہیے ورنہ کسی موقع پر پارلیمان کو قانون سازی کرنا پڑے گی۔

مبشر علی زیدی

بشکریہ وائس آف امریکہ

نقیب اللہ قتل کیس : راؤ انوار ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار، عمل دہشتگردی قرار

نقیب اللہ قتل کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے ماورائے عدالت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عمل کو دہشت گردی قرار دے دیا۔ سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ تیار کر لی جس میں ڈی پی او بہاولپور کی رپورٹ کا بھی ذکر ہے اور ڈی پی او بہاولپور کے مطابق محمد صابر اور محمد اسحاق کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ راؤ انوار نے نقیب اللہ و د یگر کو ماورائے عدالت قتل کیا، راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران کا عمل دہشت گردی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقیب اللہ اور دیگر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا، ماورائے عدالت قتل کو تحفظ دینے کے لیے میڈیا میں جھوٹ بولا گیا، واقعے کے بعد راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران و اہلکاروں نے شواہد ضائع کیے۔ رپورٹ کے مطابق راؤ انوار اور دیگر ملزمان نے اپنے اختیارات کا بھی ناجائز استعمال کیا، ملزمان کا مقصد اپنے دیگر غیر قانونی اقدامات کو تقویت اور دوام پہنچانا تھا۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ کی تیاری میں جیو فینسنگ اور فارنزک رپورٹ کا سہارا لیا ہے جب کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ سے چاروں افراد کا الگ الگ قتل ثابت ہوتا ہے، چاروں افراد کو دو الگ الگ کمروں میں قتل کیا گیا، ایک کمرے کے قالین پر دو افراد کے خون کے شواہد ملے جب کہ دوسرے کمرے کے قالین پر چاروں کے خون کے شواہد ملے، ثابت ہوتا کہ چاروں افراد کو جھوٹے پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا جس کے بعد بعد میں لاشیں دو مختلف کمروں میں ڈال دی گئیں۔

مقتول نظر جان کے کپڑوں پر موجود گولیوں کے سوراخ کی فارنزک رپورٹ بھی حصہ ہے جب کہ بتایا گیا ہے کہ مقتول نظر جان پر ایک سے پانچ فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد اس کے ہمراہ بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا، ملزم کیس میں ملوث نہ ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا جب کہ پوچھ گچھ کے دوران ملزم راؤ انوار نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ جیو فینسنگ اور دیگر شہادتوں سے راؤ انوار کی موقع پر موجودگی ثابت ہے، مقتولین کو دہشت گرد قرار دے کر جھوٹے پولیس مقابلے میں ہلاک کرنا بخوبی ثابت ہے۔ رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کو رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ جے آئی ٹی کی روشنی میں ضمنی چالان پیش کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

فہیم صدیقی
بشکریہ جیو نیوز اردو

مجبوری میں لکھا گیا کالم : وسعت اللہ خان

مجھے نہیں معلوم کہ سبب کیا ہے البتہ پچھلے چند برس میں ایک تبدیلی تو ضرور آئی ہے۔ اب لوگ اپنے الفاظ واپس لینے لگے ہیں اور معذرت بھی کرنے لگے ہیں۔ درگذر کرنے والوں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جیسے سندھ یونیورسٹی کی برفت انتظامیہ نے سائن بورڈز کے بارے میں ایک نوٹیفکیشن نکالا اردو میڈیا نے اس کا مطلب کچھ اور نکالا اور پھر برفت انتظامیہ نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اردو میڈیا پر ٹھنڈی بالٹی ڈال دی۔ جیسے محتاط انور مقصود کا قلم پھسل کر نسل پرستانہ جوہڑ میں جا گرا۔ توجہ دلانے پر اس نے لاکھوں ٹوٹے دلوں سے معذرت کر لی۔

مگر ایسا ہوتا ہی کیوں ہے کہ کوئی ایک نوٹیفکیشن جاری ہونے پر لگے کہ دوسرے کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا اور کسی ایک جملے پر یوں محسوس ہو گویا پوری نسل اور قوم پر ہی خطِ تنسیخ پھیر دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو باہر سے تو جانتے ہیں مگر اندر سے جاننے میں نہ کوئی دلچسپی ہے ، نہ وقت دینے کو تیار ہیں۔ ذرا سا ناخن لگ جائے تو تعلق کا پینٹ اکھڑنے لگتا ہے۔ اگرچہ مجھے کسی بھی مضمون میں اپنی ذات کو بیچ میں لانے کا عمل گھٹیا پن لگتا ہے مگر پچھلے دو ہفتے کے دوران سوشل میڈیا پر جو لفظیاتی مجرہ ہوا ہے، اسے دیکھ کر میں اپنے تجربات بتانے پر مجبور ہو گیا ہوں۔

میں ان چند خوش قسمت لکھاریوں میں سے ہوں جنہوں نے سندھیوں اور غیر سندھیوں کا تھوڑا بہت اعتماد کمایا ہے۔ میرے لیے یہ تولنا بہت مشکل ہے کہ کون مجھ سے زیادہ محبت کرتا ہے اور میں خود کو کس کے زیادہ قریب پاتا ہوں۔ اسی لیے میں سندھ کو اپنے گھر کا ڈرائنگ روم تصور کر کے بے دھڑک اچھی بری باتیں کرتا ہوں مگر لوگ غصے میں نہیں آتے بلکہ مثبت انداز میں دھواں دھار بحث کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں، فقرے بھی کستے ہیں، ایک دوسرے سے سیکھتے بھی ہیں اور پھر اگلی ملاقات کے وعدے پر رخصت ہو جاتے ہیں۔

مگر یہ لگڑری سندھیوں اور غیر سندھیوں کی اکثریت کو حاصل نہیں۔ وہ ایک دوسرے کے قریب قریب تو ضرور رہتے ہیں لیکن ان کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ وقت گذارنے کا ضروری لازمی وقت نہیں۔ لہذا ایک دوسرے کے بارے میں ان کا امیج وہی پرانا سٹیریو ٹائپ ہے۔ جو انھوں نے کسی اور سے سن رکھا ہے اور کسی اور نے کسی اور سے سن رکھا ہے۔ میں جب حیدرآباد ، تھر ، سکھر یا لاڑکانہ ، شکار پور جاتا ہوں تو ہر ایک کو بتاتا ہوں کہ میں تم لوگوں سے ملنے آیا ہوں۔ ہر دروازہ ، ہر بازو کھلتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی دیدہ و دل راہ ِ فراش کرنے والے سندھی کراچی آتے ہیں تو مجھے کوئی اطلاع نہیں ہوتی۔ وہ اپنے سارے کام کاج نمٹا کے خاموشی سے چلے جاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ احسان کرتے ہیں کہ جاتے وقت کال کر لیتے ہیں کہ ہم یہاں آئے ، ایک ہفتہ رہے اب جا رہے ہیں آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا۔ سوچا کہ آپ مصروف آدمی ہیں۔

جب کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ میری مصروفیت کو اپنا دفاعی ہتھیار بنانے والے یہ لوگ اپنے تمام ہم نسل و ہم زبان دوستوں سے مل ملا کر واپس جا رہے ہیں۔ یہاں پر آ کر مجھے احساس ہوتا ہے کہ شائد یہ سندھی مجھے اپنے جیسا سمجھنے سے لاشعوری طور پر جھجھک رہے ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جسے میں دو طرفہ تعلق سمجھ رہا ہوں شائد وہ یکطرفہ ہی ہے۔ یا شائد سپرہائی وے پر قائم ٹول پلازہ میں کوئی گڑ بڑ ہے کہ جس کے آرپار ہوتے ہی رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ جہاں تک اردو بولنے والوں کی نفسیات کا معاملہ ہے تو جو اردو کمیونٹی کراچی اور حیدرآباد سے باہر کے علاقوں میں آباد ہے اس کا نسلی و لسانی ربط و ضبط سندھیوں کے ساتھ زیادہ مضبوط ہے۔

وہ گھر میں اردو مگر باہر سندھی بولتے ہیں۔ ستر برس میں رہن سہن اور کسی حد تک ریتی رواج پر بھی ایک دوسرے کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ مگر کراچی کا اردو داں مڈل کلاسیا اسی الگ تھلگ سٹیریو ٹائپ پروفائلنگ میں مبتلا ہے جس طرح سندھی مڈل کلاس یا اشرافیہ ایک علیحدہ سماجی کلب کے طور پر رہنے کی عادی ہے۔ سندھی بولنے والے تو پھر بھی کسی نہ کسی ضرورت یا مجبوری یا شوق میں ٹول پلازہ کے آر پار آنے جانے اور رہنے کے عادی ہیں مگر کراچی کی اردو مڈل کلاس اور اشرافیہ نے شادی بیاہ ، مرگ یا عید کے بکرے خریدنے کی ضرورت کے علاوہ شائد ہی اس لیے ٹول پلازہ عبور کیا ہو کہ چلو دیکھتے ہیں اس پار کیسے لوگ ہیں ، کیسے رہتے ہیں ، کن باتوں پر خوش اور اداس ہوتے ہیں ، ان کے خواب اور تعبیریں کیا ہیں۔ سندھ ایک ہی ملک ہے یا اس ملک میں چار پانچ چھوٹے ملک اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ ایک دوسرے سے بڑی سی اکائی میں جڑے ہوئے ہیں۔

اردو مڈل کلاس اور اشرافیہ جتنا لاہور ، اسلام آباد ، کاغان اور نیویارک کے بارے میں جانتی ہے اس سے بہت کم تھر ، کوٹ ڈیجی اور بھٹ شاہ کے بارے میں جانتی ہے۔ اور پھر جب یہی سندھی اور اردو لوگ اسمبلیوں میں منتخب ہو کر آتے ہیں تو اپنے اپنے سٹیریو چشمے اتارنا نہیں بھولتے۔ یوں نہ جاننے کی خواہش سیاسی کش مکش کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہر ہر لکھے اور بولے لفظ کو پہلے سے بنی ہوئی نفسیات کے ترازو میں تول کے دیکھا جاتا ہے اور یوں کاروبارِ غلط فہمی رواں رہتا ہے۔ سندھیوں نے تو ضرورت کی مجبوری میں اردو اور انگریزی سیکھ لی مگر سندھیوں کو سمجھنے کے لیے اردو دانوں نے سندھی سیکھنے کی کتنی شعوری کوشش کی ؟ ہو سکتا ہے آپ کو سندھی اردو مشاعروں میں جا کر کوئی خوشی ہوتی ہو مگر مجھے دکھ ہوتا ہے۔ یہ لسانی ہم آہنگی کا ثبوت نہیں لسانی کم مائیگی کا ثبوت ہیں۔

سندھی زبان مجھے بھی نہیں آتی مگر میں سندھی مافی الضمیر سمجھ کر اور سرائیکی بول کے کام چلا لیتا ہوں کیونکہ سندھیوں کی اکثریت دو لسانی ہے۔ مگر صرف اردو بول کر سندھ کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے سندھی ضرورت کی مجبوری میں ضرورت کی اردو بول کر زبان میں پوشیدہ ان لطیف جذبوں کو پوری طرح سمجھنے اور چسکے لینے سے قاصر ہیں جو صرف ایک زبان کو پوری طرح جاننے اور برتنے سے ہی سمجھ میں آ سکتے ہیں۔ اسی طرح صرف تہنجو نالو چھا آہے سیکھ لینا سندھی نہیں۔ جس اسکول میں بچے انگریزی اور اردو سیکھتے ہیں۔ اسی اسکول میں سندھی کا بھی قاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔ کبھی خیال آیا اپنے بچے سے یہ پوچھنے کا کہ بیٹا انگلش میں طوطے کو پیرٹ کہتے ہیں مگر سندھی میں کیا کہتے ہیں ؟ جس دن یہ خیال آ گیا اس دن کے بعد کسی کو کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پنجاب میں کوئی اردو دان کسی پنجابی سے یا پنجابی کسی اردو داں لکھاری سے معافی نہیں مانگتا۔ کیونکہ دونوں کو دونوں زبانیں آتی ہیں۔ زبان ہی وہ سڑک ہے جو دل کو دل سے ملا سکتی ہے۔ باقی سب تھیوریاں ہیں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

نواز شریف بمقابلہ چیف جسٹس، ’جنگ‘ کہاں تک جائے گی ؟

سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور عدلیہ کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناؤ میں مزید شدت آج اس وقت آئی، جب نواز شریف نے یہ بیان دیا کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ جسٹس ثاقب نثار کی قیادت میں ’بدترین آمریت‘ ہے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ایک حاضر سروس چیف جسٹس پر آمر ہونے اور بدترین آمریت نافذ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس بیان سے ملک میں کشیدگی کی فضا مزید بڑھے گی۔ سیاست دانوں کے خدشات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ماضی میں آمریت کے خلاف لڑنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے خبردار کیا ہے کہ اداروں کے درمیان کشیدگی جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہو گی۔

قائدِ حزبِ اختلا ف نے نواز شریف اور چیف جسٹس دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اسلام آباد میں آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا، ’’معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ نواز شریف کو اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیں۔ اور معذرت کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ چیف جسٹس کو بھی اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیں۔‘‘ واضح رہے کہ نون لیگ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد سے ملکی عدلیہ کو ہدفِ تنقید بنا رہی ہے۔ پہلے لیگی رہنماوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ عدالت نواز لیگ کے رہنماوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس کی طرف سے ہسپتالوں کے دوروں اور سول معاملات میں مبینہ مداخلت پر بھی چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے غیر ضروری سکیورٹی مختلف افراد سے واپس لینے کا حکم دیا، جس کو مریم نواز کی طرف سے ہدفِ تنقید بنایا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی سیاسی جماعتیں نواز شریف کی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ اسد بٹ کے خیال میں یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ملک بدترین سینسرشپ سے گزر رہا ہے۔ نواز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں نے سیاسی طور پر کبھی بھی نواز شریف کی حمایت نہیں کی لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں سخت ترین سینسر شپ ہے۔ لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں غیر جمہوری قوتوں کے آگے جھک چکی ہیں اور آپ نے اس کا ایک مظاہرہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران بھی دیکھا۔ میڈیا کا بالکل گلہ دبا دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک دو اخبار بھی کچھ ایسا لکھ دیں جو طاقتور حلقوں کو ناگوار گزرے تو ان کو بلا کر دھمکی دی جاتی ہے۔ ہمیں خود بھی کام کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ پہلے تو مارشل لاء ننگے طریقے سے ایک آمر لگاتا تھا لیکن آج جمہوریت بھی ہے، پارلیمنٹ بھی ہے، سول سوسائٹی بھی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں آمریت کی فضاء ہے۔‘‘

نواز شریف کے اس بیان کے حوالے سے ملک میں لوگوں کی آراء تقسیم ہیں۔ تحریک انصاف اور کئی دیگر جماعتیں نواز شریف کے خلاف احتساب اور عدالتی کارروائیوں کو بالکل صحیح قرار دیتی ہیں جب کہ نواز مخالف سیاسی تجزیہ کار بھی عدالتوں کے کام میں کوئی برائی نہیں دیکھتے۔ لیکن نون لیگ اور اس کے اتحادی اس احتساب کو امتیازی قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے عدلیہ کا دفاع کرتے ہوئے تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس وقت ملک میں آمریت نہیں تھی، جب انہوں نے ماڈل ٹاون میں درجنوں افراد کو ہلاک کروایا اور سینکڑوں کو زخمی کیا۔ جب عدالتیں خاموش تھیں تو سب ٹھیک تھا۔ آج اگر عدالت نے اس واقعے کی تفصیل مانگ لی ہے اور اس پر کارروائی کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے تو عدالتیں خراب ہو گئیں ہیں اور چیف جسٹس نے آمریت قائم کر دی ہے۔

جب انہوں نے عدالتوں پر حملے کئے اور عدالتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں تو عدالتیں اچھی تھیں۔ آج یہ حملہ نہیں کر سکتے اور انہیں احتساب کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے تو عدالتیں خراب ہیں اور انہوں نے آمریت مسلط کر دی ہے۔ یہ سب کچھ عدالتوں کو بدنام کرنے کے لئے اور احتساب عدالت کے فیصلے کو پہلے ہی سے متنازعہ بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے لیکن اس سے نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سیدھی سے بات ہے کہ ایوین فیلڈ فلیٹ کی منی ٹریل دے دیں تو ان کی جان چھوٹ جائے گا۔‘‘ سیاسی مبصرین کے خیال میں آنے والے دنوں میں ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ ایک طرف عدلیہ، فوج اور نواز شریف کے درمیان کشیدگی ہے اور دوسری طرف وفاق کے علامت سمجھے جانے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات پر بھی اب کھل کو تنقید ہو رہی ہے، جس میں جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق کے بیان کے بعد مزید شدت آگئی ہے۔

بشکریہ DW اردو

Rao Anwar found ‘responsible’ of Naqeeb Mehsud’s murder

Rao Anwar, who was remanded in custody, has been found responsible for the murder of Naqeebullah Mehsud, an aspiring Pashtun model from the country’s tribal region. Mehsud was killed in a fake police encounter on Jan. 12 this year. “Rao Anwar has been found guilty,” a senior official who is part of the Joint Investigation Team (JIT) probing Anwar, told Arab News. The apex court on March 24 had formed a JIT headed by Aftab Ahmed Pathan, Additional IG Sindh, to probe the incident. The JIT comprised  Waliullah Dal, Additional IG Special Branch; Azad Ahmed Khan, DIG South; Zulfiqar Larik, DIG East; and Dr. Rizwan Ahmed, SSP Central Karachi.
The official, who requested anonymity, told Arab News that the JIT report will be produced in the court once signed by all of its members. Anwar was presented before the Anti-Terrorism Court (ATC) in Karachi on Saturday which sent him on judicial remand to prison till May 2, prosecutor Zafar Solangi told Arab News. When asked for a comment upon his appearance at the ATC, Anwar said: “I have challenged the JIT and I don’t accept its findings.” He further claimed: “I have not recorded any statement before this JIT.” On April 5, Anwar filed a petition praying for the inclusion of representatives of “the intelligence agencies, armed forces and civil armed forces.”
Anwar claimed that the inclusion of the members from intelligence agencies and armed forces was required by law. The police officer was brought to the court amid tight security arrangements, where he was produced along with 11 other accused. Investigation officer, SSP Dr. Rizwan Ahmed, who is also part of the JIT probing the incident, told the court that investigations are underway and the JIT’s report will be presented before the court once it was finalized. He sought a week for the submission of the report. Anwar was given into 30-day police custody upon the last court hearing. Anwar, who is accused of killing Mehsud in a fake police encounter, claims that the slain Pashtun model was an active member of banned terrorist outfits Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), Al Qaeda, and Lashkar-e-Jhangvi (LeJ). However, the evident subsequently began to pile up against the police team involved in his killing.
Following the incident, a formal inquiry was launched against Anwar. As pressure mounted on him, he decided to go underground and even made a botched attempt to fly out of Pakistan. He also wrote a few letters to the Supreme Court after the top court began a suo motu hearing of Naqeebullah’s murder, telling the judges that the system was heavily stacked against him and he was not hopeful of getting any justice in the case. In response, the country’s top court decided to grant him some relief, asking him to surrender himself and let the law take its course. The court was also willing to reconstitute a joint investigation team to look into Naqeebullah’s killing since the absconding police officer had voiced concern over its composition.
Authorities froze Anwar’s accounts after his repeated non-appearance before the court. In a surprise move last month, the absconding police officer came to the court in a white car. He was clad in a black dress and wore a medical mask to cover his face. Anwar’s lawyer told the chief justice that his client had “surrendered” and wanted protective bail. However, the Supreme Court turned down the request and ordered the law enforcement authorities to lock up the former SSP.
Source : Arab News

چار ہزار پاکستانیوں کا سودا کیوں ؟

قومی مفادات اورتقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان میں کس طرح آئین و قانون سے ماورأ من مانے اقدامات کئے جاتے رہے، ان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف کے دور آمریت میں جب آفتاب شیر پاؤ ملک کے وزیرداخلہ تھے، حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود چار ہزار پاکستانیوں کو خفیہ طریقے سے ڈالروں کے عوض دوسرے ملکوں کے حوالے کر دیا گیا اور پارلیمنٹ سمیت کسی نے بھی انسانی حقوق کی پامالی کانوٹس نہیں لیا۔

اس تلخ حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں بتایا کہ پرویز مشرف نے اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا مگر ان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پارلیمنٹ آئین اورعدالتیں ہونے کے باوجود ان افراد کو آخر کیسے اور کس قانون کے تحت دوسرے ملکوں کے حوالے کیا گیا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین بھی ہیں کہا کہ پارلیمنٹ کو پرویز مشرف اور ان کے وزیر داخلہ کے اس اقدام کی تحقیقات کرنی چاہئے تھی مگر وہاں سے کوئی آواز نہیں اٹھی۔

تعجب خیز امر یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کو مطلوب بعض معروف شخصیات سمیت بہت سے لوگ بیرونی ملکوں میں موجود ہیں لیکن یہ ممالک حوالگی کے دو طرفہ معاہدے کی عدم موجودگی یا دوسری وجوہات کو جواز بنا کر انہیں پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر رہے ہیں جبکہ ایک ڈکٹیٹر نے کسی جواز کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو ڈالر لے کر دوسرے ملکوں کی تحویل میں دے دیا۔ یہی نہیں بلکہ کئی غیر ملکیوں کو بھی جو پاکستان میں جاسوسی اور دوسرے جرائم میں ملوث پائے جاتے رہے، انہیں مقدمات چلائے اور سزائیں دلائے بغیر سیاسی مصلحتوں کی آڑ میں بحفاظت باہر جانے دیا گیا۔ یہ رویہ قومی مفاد ہی نہیں، ایک خود مختار قوم کی غیرت کے بھی منافی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے لاپتہ افراد کی جانب سے کمیشن کو 368 کیسز موصول ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ سے ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز پاکستان کی بجائے غیر ملکوں کے مفاد میں کام کر رہی ہیں اورانہیں فنڈنگ بھی انہی ممالک کی جانب سے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی این جی اوز پر پابندی لگنی چاہئے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ ریاست کی ذمہ داری ہیں۔

اگر لاپتہ افراد دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے اہل خانہ بھی دہشت گرد ہیں۔ ریاست کو ان کی خبر گیری کرنی چاہئے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے لاپتہ افراد اورغیر ملکیوں کو بیچے جانے والے پاکستانیوں کے بارے میں جو حقائق بیان کئے ہیں، پالیسی سازوں کو ان پر توجہ دینی چاہئے اور حکومتوں کی جانب سے اس معاملے میں جو کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں ان کی تحقیقات کے علاوہ ایسی بے قاعدگیوں کا اعادہ روکنے کےلئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ

نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور دیگر نااہل افراد کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت یہ نااہلی تاحیات رہے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں ،کیس کا فیصلہ 14 فروری 2018ء کو محفوظ کیا تھا۔

آج جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بنچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں تھے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کر سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے،جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے نااہلی رہے گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ تحریر کیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے اسی 5 رکنی لارجر بنچ نے 14 فروری کو مختلف اپیلوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے رواں سال جنوری میں 15 مختلف درخواستیں یکجا کر کے سماعت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ نواز شریف کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا کہ انہوں نےکوئی درخواست داخل نہیں کی۔ نواز شریف نے جواب میں کہا کہ نااہلی صرف اس مدت کے لیے ہو گی جس مدت کے لیے امیدوار منتخب ہو۔ جہانگیر ترین کے وکیل اور نااہل ہونے والے دیگر اپیل کنندگان نے تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔

پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔ پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس اعجازالحسن شامل تھے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال نے جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف اور جہانگیر ترین کے خلاف فیصلوں میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا تھا۔ سپریم کورٹ عبدالغفور لہڑی کیس میں 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کو تاحیات قرار دے چکی ہے۔

قندوز کے شہید میڈیا کے کیمرہ سے اوجھل کیوں؟؟

جنوری 2015 میں فرانس کے میگزین چارلی ایبڈو (جو گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی وجہ سے مشہور تھا) کے دفتر پر ایک دہشتگرد حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ۔ اس واقعہ کی عالمی میڈیا نے اس انداز میں کوریج کی کہ پوری دنیا اس واقعہ کی مذمت کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ یہاں تک کے پاکستان کے صدر ممنوں حسین نے ایک تعزیتی خط فرانسیسی حکومت کو فوری لکھ دیا، ہمارے دفتر خارجہ نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی، کئی سیاستدانوں نے بھی اپنا اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، ہمارا میڈیا بھی عالمی میڈیا کے زیر اثر اس واقعہ کو خوب فوکس کرتا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بہت سے سیکولرز اور لبرلز نے سوشل میڈیا کے ذریعے فرانس اور چارلی ایبڈو کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کئی روز تک سوشل میڈیا بشمول ٹویٹر کے ذریعے “I am Charlie Hebdo” (میں چارلی ہیبڈو ہوں) کی عالمی مہم کا حصہ بنے رہے۔

گزشتہ ہفتہ افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک مدرسہ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں ڈیڑھ سو سے افراد جن میں اکثریت بچوں کی تھی کو شہید کیا گیا۔ ابتدا میں میڈیا کے ذریعے کہا گیا کہ حملہ دہشتگردوں پر کیا گیا لیکن جب حقیقت کھلی کہ اس بربریت کا شکار معصوم بچے تھے جو قرآن پاک کاحفظ مکمل ہونے پر وہاں دستاربندی کے لیے جمع ہوے تھے تو میڈیا پر خاموشی طاری ہو گئی۔ شہادت پانے والے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو دل دہل گئے کہ اتنا بڑا ظلم لیکن دوسری طرف مجرمانہ خاموشی۔ عالمی میڈیا سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول تھا، ہمارے لوکل میڈیا نے بھی اس ظلم و بربریت پر کوئی توجہ نہ دی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

ویسے سب کو خبر تو مل گئی کہ فضائی حملہ میں معصوم حفاظ کرام شہید ہوئے لیکن نہ تو صدر پاکستان کی طرف سے اس سانحہ پر کوئی مذمتی بیان جاری ہوا، نہ ہی کوئی دوسرا حکومتی یا ریاستی ذمہ دار بولا۔ وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے جب اس ظلم پر کوئی بات نہ کی تو ایک صحافی نے سوال کیا کہ ویسے تو دفتر خارجہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ پر فوری مذمتی بیان جاری کرتا ہے لیکن قندوز سانحہ پر کیوں خاموش ہے؟؟اس کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کچھ رسمی مذمتی الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کرتے۔

کیا خوب پالیسی ہے ہماری؟؟؟ اور کیسا امتیازی سلوک ساری دنیا قندوز سانحہ جیسے شہداء کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے؟؟ یعنی اگر دہشتگردی کسی فرد نے کی یا کسی پرائیویٹ گروہ نے تو پھر تو اس پر مذمت کی جائے گی اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی جائے گی۔ لیکن اگر دہشتگردی ریاست کی طرف سے کی جائے اور مرنے والوں کی تعداد چاہیے سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں تک بھی پہنچ جائے تو نہ کوئی مذمت، نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی افسوس اور نہ کوئی معافی اور یہی ہم افغانستان، عراق، شام، کشمیر، فلسطین، یمن اور دوسرے کئی اسلامی ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔ انصاف نام کی کو ئی چیز نہیں، جب لگتا ہے کہ ضمیر مر چکے ہیں۔ 9/11 کے بعداس ریاستی دھشتگردی کو کھلی چھٹی دے دی گئی جس کے لیے شرط صرف ایک ہی رہی اور وہ یہ کہ ریاستی دہشتگردی کا نشانہ صرف مسلمانوں کو ہی ہونا چاہیے۔

مغرب سے یا اُن کے میڈیا سے کوئی کیا گلہ کرے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم مسلمان، ہماری حکومتیں اور ہمارا میڈیا بھی وہی کرتا ہے جو امریکا کی پالیسی ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز کو ہی دیکھ لیجیے جنہوں نے پاکستانی قوم کو بھارتی فلمی اداکارہ سری دیوی کی موت پر دن رات کوریج کر کے گھنٹوں سوگ منایا اور ایک وقت تو یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ ہمارا میڈیا کہیں سری دیوی کو شہید کا درجہ ہی نہ دے دے۔ گزشتہ ہفتہ ایک اور بھارتی اداکار سلمان خان کو پانچ سال سزا ملنے پر ہمارے چینلز نے اسے پاکستانیوں کا بہت بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا لیکن افسوس کہ انہی چینلز کو قندوز مدرسے میں شہید کیے جانے والے معصوم بچوں کے نہ توچہرے نظر آئے نہ ہی اُنہیں ان بچوں کے والدین پر جو گزری اُس کی فکر تھی۔

سوشل میڈیا اور ٹیوٹر پر بھی میڈیا سے تعلق رکھنے والے اور دوسرے وہ سیکولرز اور لبرلز جو فرانس حملہ پر 12 افراد کی ہلاکت پر کئی روز افسوس کا اظہار کرتے رہے، کی اکثریت کے پاس بھی ان ڈیڑھ سو سے زائد حفاظ کرام کی شہادت پر افسوس اور اس ظلم کی مذمت کے لیے کچھ بھی کہنے کا وقت نہیں تھا۔ کسی نے سوال نہیں اٹھایا کہ ان معصوم بچوں کا آخر قصور کیا تھا؟ یہ بچے تو حافظ قرآن تھے جو ایک بہت بڑی سعادت کی بات تھی لیکن ایسے معصوموں کی شہادت پر ماسوائے پاکستان کے مذہبی ر ہنماوں کے کسی صف اول کے سیاسی رہنما کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ اس معاملہ پر بات کرے اور ان انسان دشمن عمل کی مذمت کرے۔

کیا داڑھی والوں اور مدرسے میں پڑھنے والوں کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں؟؟ اُنہیں جو چاہے مار دے!!! ظلم ظلم ہے چاہے اس کا شکار کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ قندوز سانحہ ریاستی دہشتگردی کا ایک سنگین واقعہ ہے۔ اس ظلم کو اجاگر کرنے اور اس کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ وہی میڈیا جو ہمیں رلاتا بھی ہے اور ہنساتا بھی ہے ، وہی میڈیا جس کا اب یہ دائرہ اختیار بنا دیا گیا ہے کہ کس کو ظالم اور کس کو مظلوم بنا کر دکھائے۔ یہ میڈیا ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس واقعہ پر ہمیں افسردہ کرے، کہاں رلائے اور کس واقعہ کو چاہے وہ کتنا ہی بڑا سانحہ ہو اُسے کوئی اہمیت نہ دے۔

افغانستان پر حملہ کرنا مقصود تھا تو اس کا راستہ میڈیا ہی کے ذریعے ہموار کیا گیا۔ عراق کو تباہ و برباد کرنا تھا تو مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ میڈیا ہی کے ذریعے بیچا گیا۔ لیبیا پر حملہ کرنا تھا تو کرنل قدافی کو ولن کے طور پر میڈیا ہی کے ذریعے پیش کیا گیا۔ میری درخواست مسلمان ممالک کے میڈیا سے ہے کہ مہربانی کر کے ایک لمحہ کے لیے سوچیں کہ مغرب اور مغربی میڈیا کی نقالی میں ہم بھی کہیں معصوم مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ تو نہیں رنگ رہے۔

انصار عباسی

ایم کیوایم ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہوئی؟

سال 2013 تک ایم کیوایم ایک مضبوط اور منظم ترین جماعت تھی لیکن اب بکھر رہی ہے اورعملی طور پر4 دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، یہ شہرمیں ’سیاسی انتشار‘ کی علامت ہے کیونکہ اِن دھڑوں کی خالق جماعت نے بھی ایم کیوایم (پاکستان) کے اندر کی خراب صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور تیاری کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ایم کیوایم (پاکستان) کا تھا لیکن غلط وجوہات کیلئےافراتفری اور تقسیم کی وجہ سے اپنی ہی جماعت میں مزید پریشانی پیدا کر دی گئی اور دیگر سیاسی جماعتیں آخری دھچکے کا ’انتظار‘ کر رہی ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی، جن کا کراچی کی سیاست میں کردار ہے انھوں نے اپنی مہم اور رکنیت سازی کی مہم تیز کر دی ہے۔ کراچی کےامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے بروز سوموار اعلان کیا کہ پارٹی کراچی کیلئے ایک ’متبادل منصوبہ‘ پیش کرے گی۔ لہذا اب ہر جماعت کی نظر قومی اسمبلی کی 20 یا 21 اور صوبائی اسمبلی کی 51 سیٹوں پر ہے۔

پی پی پی سندھ سے سینٹ کی 8 سے 10 نشستوں کے اضافے کیلئے پُرامید ہے۔ انھیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کے دونوں دھڑے اپنی منظوری کیلئے اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی پوزیشن بہترہے لیکن کیا ان کے پاس اتنے ایم پی ایز ہیں کہ وہ سینٹ کی کم از کم ایک یا دو سیٹیں نکال سکیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ قانونی جنگ جو بھی جیتے، ہار صرف ایم کیوایم کی ہی گی ، اور فائدہ تیسری پارٹی کا ہو گا۔ اگر ایم کیوایم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو اپنے قائد یا بانی کے بعد رابطہ کمیٹی سب سے طاقتور آرگن ہے۔

سن 1984 سے 1992 تک ایم کیوایم کے پاس سیاسی سیٹ اپ تھا اوررابطہ کمیٹی کی بجائے اس کے پاس سینٹرل ورکنگ کمیٹی، چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگرعہدیدارتھے۔ آرمی آپریشن کے بعد اس کی سینٹرل باڈی ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ رابطہ کمیٹی بنا دی گئی۔ بائیس اگست 2016 کے بعد حادثاتی طور پرایم کیوایم (پاکستان) نےایک الگ سیاسی شناخت کے ساتھ جنم لیا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پارٹی نقصان کی بھرپائی کی کوشش کی لیکن جو دبائو اس کے کنوینئر ڈاکٹرفاروق ستار پر ڈالا گیا وہ اسے برداشت نہ کر سکے۔ جب انھوں نے اور دیگر نے ایم کیوایم (پاکستان) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے نرمی کی امید کر رہے تھے۔

انھوں نے ایم کیوایم کے بانی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی اور بغاوت کرنے پر اُن کے خلاف ٹرائل کا مطالبہ کیا لیکن وہ ایم کیوایم لندن سے مبینہ تعلقات کے ’شکوک‘ زائل نہ کر سکے۔ پھر انھیں ایم کیوایم کا نام ترک کرنے کیلئے دبائو کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر وہ نئی جماعت یا گروپ بنا لیتے تو انھیں ریلیف مل جاتا۔
ایک جانب انھیں اسٹیبلشمنٹ کے چند حلقوں کی جانب سے دبائو کا سامنا تھا اور دوسری جانب حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عملی طور پر تمام اختیارات لے لیے اور میئرکراچی اور نظام کو بے اختیار بنا دیا لہذا ایم کیوایم (پاکستان) اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کے نام مقدمات اور انکوائریوں سے نکلوا سکی اور نہ ہی اپنے بے روزگار کارکنوں کو نوکریاں دلوا سکی۔ ان کے چند دفاتر کھول دیئے گئے لیکن انھیں سیکٹر اور یونٹس کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نائن زیرو سے خورشید میموریل ہال اور جناح گراؤنڈ تک سب ایم کیوایم کیلئے ’نوگوایریا‘ رہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کو اپنی خدمتِ خلق فائونڈیشن بھی آزادانہ طور پرچلانے کی اجازت دی گئی نہ ہی ’چندہ‘ جمع کرنے دیا گیا۔ سیاسی محاذ پر مرکز میں موجود پی ایم ایل اور سندھ میں پی پی پی نے ایم کیوایم سے دوری بنائے رہی اور یقین دہانی کے باوجود انھیں حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس کے باعث ایم کیوایم (پاک) کے اندر سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہو گیا اور اس کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگرعہدیداران پریشان ہو گئے۔ بعض اوقات اُن کے رہنماوں کو اُن غیر سیاسی لوگوں کی میٹنگز میں بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا، جو ایم کیوایم کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ چند ماہ میں ایم کیوایم کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز، سیکٹرز اور یونٹس نےایم کیوایم (پاک) سے پی ایس پی کی جانب اپنی وفاداریاں تبدیلی کرنا شروع کر دی یا بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔

مظہر عباس