پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے : کیا امریکا کا ارادہ بدل رہا ہے؟

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دشمنوں کے ٹھکانے پر امریکا کے حالیہ فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ ایف مِک کینزی نے یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹس پر کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ستمبر سے پاک افغان خطے میں امریکا کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے گزشتہ تین ہفتے کے دوران افغانستان میں 70 زمینی اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ دو روز کے دوران متعدد ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی عہدیداروں نے اگرچہ ڈرون حملوں پر تبصرہ نہیں کیا لیکن جنرل مک کینزی نے رواں ہفتے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران افغانستان میں امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ حملے جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر حملہ مسلح تصادم کے قانون کے مطابق ہوتا ہے، جس میں شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے کم سے کم ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جس نے اگست میں جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، اب ڈرونز کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی دیگر رپورٹس میں دیگر میڈیا اداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، ڈرون حملوں پر سابق اوبامہ انتظامیہ کی عائدہ کردہ دو اہم پابندیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ 1۔ صرف اعلیٰ سطح کے دہشت گردوں کو، جو امریکا کے لیے ’مسلسل اور قریبی‘ خطرہ ہوں، ہدف بنایا جائے گا۔ 2۔ ڈرون حملوں اور ریڈز سے قبل ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جائے گی۔ نئی پالیسی، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، امریکی فوج اور سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کم خطرناک اہداف کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائیں، جبکہ ان حملوں کے لیے انہیں اعلیٰ حکام کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدارارن کا، جو مجوزہ پالیسی سے متعلق متعدد میڈیا اداروں سے بات کر چکے ہیں، کہنا تھا کہ انتظامیہ اوباما دور کی اس شرط کو قائم رکھے گی کہ حملوں میں عام شہریوں کی کم سے کم ہلاکتوں کو ممکن بنایا جائے۔
ایک دوسرے میڈیا ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’سی آئی اے‘ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ڈرون حملوں کے اختیارات کو وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت سی آئی اے پاکستانی قبائلی علاقوں میں صرف القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وائٹ ہاؤس، سی آئی اے کی اس درخواست کے حق میں نظر آتا ہے۔

انور اقبال

بشکریہ ڈان اردو

Advertisements

کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان

حقانی نیٹ ورک کیا ہے؟

حقانی نیٹ ورک ایک افغان جنگجو گروہ ہے، جو افغانستان میں مقامی اور امریکی تحادی افواج کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ افغان حکام اور عالمی برادری اسے افغانستان میں فعال ایک انتہائی خطرناک عسکری گروہ قرار دیتے ہیں۔ عشروں پہلے سوویت یونین کے دستوں کے خلاف لڑنے والے کمانڈر جلال الدین حقانی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی تھی۔ افغان جنگ کے دوران اسّی کی دہائی میں اس گروہ کو امریکی حمایت بھی حاصل تھی۔ سن 1995 میں اس نیٹ ورک نے طالبان کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ 1996ء میں طالبان حقانی نیٹ ورک کی مدد سے ہی کابل پر قبضہ کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دے دیا تھا۔

طالبان کی حکومت میں جلال الدین حقانی کو قبائلی امور کا وزیر بنا دیا گیا تھا۔ امریکی اتحادی افواج کی کارروائی یعنی سن دو ہزار ایک تک وہ اسی منصب پر فائز رہے۔ امریکی اتحادی افواج نے سن دو ہزار ایک میں ہی طالبان کی خود ساختہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ملا عمر کے بعد جلال الدین حقانی کو طالبان کا معتبر ترین رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ سن 1939 میں افغان صوبے پکتیا میں پیدا ہونے والے جلال الدین حقانی نے پاکستان میں قائم دارالعلوم حقانیہ نامی مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی کا عنصر نمایاں ہے۔

بشکریہ DW اردو

کیا کھیل ختم ہو گیا ہے؟

موجودہ حکومت کے قبل از وقت ختم ہونے کے حوالے سے اگرچہ کچھ عرصے سے افواہوں کی چکی بہت تیز چلتی آرہی ہے، یہ پلاٹ اب کافی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے اقتدار کے ایسے سویلین کھلاڑیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے جو پہلے ایسی رپورٹس پر ہنس دیا کرتے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے اگرچہ ہفتے کی پریس کانفرنس میں کسی غیر آئینی اقدام کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو روز قبل اس یاد دہانی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ہفتے میں تین مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں۔

وزیراعظم جیسے عہدے کے حامل شخص کی طرف سے ایسی بات ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ پردے کے پیچھے جو کھیل جاری ہے اس سے کچھ اشارے ملتے ہیں کہ معاملات کس طرح ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا جمہوریت پر لیکچر شروع ہونے سے کچھ قبل ایک ہائی پروفائل اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک بااثر رکن اور سویلین سیٹ کے ایک اہم عہدے دار کے مابین ہوا تھا۔ سویلین کو بتایا گیا تھا کہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بااثر رکن نے وضاحت کی کہ اتنی زیادہ گڑبڑ کے ساتھ حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ موجودہ سیٹ اپ کے خلاف معاشی اعداد و شمار چارج شیٹ میں سب سے اوپر ہیں۔ قومی خزانے کا خالی ہونا تشویش کی وجہ بتایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آنے والا منصوبہ ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے قادیانی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی تلخ تنقید پر ناپسندیدگی بھی پہنچائی گئی جس میں مخصوص افراد کو ہدف بنانے کی نیت کار فرما تھی۔ پارلیمنٹ کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو بھی قومی احتساب بیورو کے تحت لانے کو بھی متعلقہ حلقوں کی جانب سے تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ عدلیہ کے خلاف بے رحمانہ مہم اور اسے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوشش کہ یہ نواز شریف کو نکالنے کے لئے کی گئی تھی، اس پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح قانون میں ترمیم کے ذریعے نااہل وزیراعظم کو پارٹی سربراہ کے طور پر واپس لانے کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی ساکھ کیا ہو گی جسے عدالت سے ایک نااہل شخص ریمورٹ کنٹرول سے چلا رہا ہو۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں الیکشن بل 2017 کی منظوری کو وقت سے پہلے روکنے کی کوشش کی گئی، یہ بات الگ سے معلوم ہوئی ہے۔ سرکاری پارٹی کے ارکان کو پرائیوٹ نمبرز سے کالیں موصول ہوئیں جن میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس قانون کی منظوری کا حصہ بننے سے باز رہیں، اس کوشش کو اعلی سیاسی سطح پر رابطوں کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ اپنے والد کی سیاسی وارث کے طور پر مریم نواز کے ابھرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی بااثر شخصیت اور سویلین عہدے دار کے مابین ملاقات میں سوال اٹھایا گیا۔

اتفاق کی بات ہے کہ اس منصوبے پر مسلم لیگ ن کی بھاری بھرکم شخصیات نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان کی شکایت ہے کہ خاندان سے باہر کے پارٹی ممبران کی تو بات ہی الگ ہے، نواز شریف تو پارٹی کے اندر اتفاق رائے پائے جانے کے باوجود اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ کو گھر بھیجنے کے منصوبے پر غور ہو رہا ہے، یہ کس طرح ہو گا؟ کسی کے پاس بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔ اس سازش کے محرم راز حکام سے پس پردہ تبادلہ خیال سے ظاہر ہوتا ہے کہ براہ راست مداخلت کے آپشن کو ترجیح دینے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ آرمی چیف کسی غیرآئینی قدم کے حق میں نہیں ہیں، یہ وہ نکتہ ہے جس کی توثیق ڈی جی، آئی ایس پی آر نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں کی، جب انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو گا۔

اس کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عدلیہ ثالثی کا کردار ادا کرے۔ تبدیلی کے لئے دو ممکنہ منصوبے زیر غور ہیں۔ ایک، حکمران جماعت میں فارورڈ بلا ک کی تشکیل اور دوسرا، اسلام آباد کی جانب مارچ۔ پہلا منصوبہ اسی وقت روبہ عمل آسکتا ہے کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے حکمران جماعت میں سے کافی تعداد میں انحراف کرنے والے دستیاب ہوں۔ ایک کامیاب کوشش سے آخرکار نئے انتخابات کا مطالبہ پھوٹ سکتا ہے لیکن احتساب کے بعد، جس سے پارلیمنٹ کی منظوری سے قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ کس قدر قابل عمل ہے اس کا کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔

اگرچہ سرکاری ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سربراہ کے بارے میں قانون میں ترمیم پر رائے شماری سے روکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا لیکن حکمران جماعت کے لئے جو اشارے باہر آرہے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ چار منحرفین کو مختلف محاذوں پر اپنا راستہ بنانے کا کام تفویض کیا گیا تھا اور ان کی کوششوں کے نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکور کو 50 تک لانے کا دعوی کیا ہے۔ کون اس گروپ کی قیادت کرے گا، اسے ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا منصوبہ جس پر غور کیا جا رہا ہے وہ ایک سیاسی جماعت کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کا ہے جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا یا جس طرح 2016 میں محاصرے کی کال کے ذریعے کوشش کی گئی تھی۔ کوئی بھی ایشو احتجاج کا نکتہ بن سکتا ہے۔ شریف خاندان کی جانب سے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے مبینہ تاخیری حربے، پولیس اور وکلا میں ہاتھا پائی یا اگلی سماعت پر کوئی بھی مہم جوئی بہانہ فراہم کر سکتی ہے۔
انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر عدلیہ پر تنقید بھی ایک وجہ بن سکتی ہے اور یہ مطالبہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت کی موجودگی میں احتساب ممکن نہیں ہے۔

اس مطالبے کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کوئی درخواست دائر کر سکتا ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دفعہ 190 کو لاگو کیا جائے جس کے تحت تمام ایگزیکٹو اور جوڈیشل حکام سپریم کورٹ کی معاونت کریں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کس طرح ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا قومی اتفاق رائے سے بننے والی حکومت ان آپشنز کو استعمال کرکے قائم کی جائے گی۔ اس کا جواب اس منصوبے کے معمار کے پاس ہے۔ اس وقت آئین کے بجائے کنفیوژن بالاتر ہے۔ دی نیوز کو قابل بھروسہ ذرائع سے پتہ چلا ہے، مشرق وسطی کے دو ممالک نے نئے سیٹ اپ کے قیام کی صورت میں بیل آؤٹ پیکج پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آدمی یہی نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ممکنہ تبدیلی کا منصوبہ نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی جہات بھی رکھتا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے یمن کے لئے فوجی دستوں کی فراہمی سے انکار کو ابھی تک بھلایا نہیں گیا ہے۔ یہ اتفاقی مطابقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچانک بہتر تعلقات سے ہوئی ہے۔ افغان صدر پاکستان آر ہے ہیں جبکہ ’’را‘‘ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کی لندن میں ملاقات اس عزم پر ختم ہوئی ہے کہ نفرت سے گریز جائے۔ کیا خطے میں تاریخی موقعے کو گرفت میں لینے کےلئے اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے؟ پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دے کر سی پیک کے صلے کا آئندہ ماہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس کا سہرا اپنے سر باندھ سکے؟ آنے والا وقت دلچسپ ہے۔

عمر چیمہ

بشکریہ روزنامہ جنگ

ترک فوج شامی صوبے ادلب ميں داخل

پچھلے دنوں ترکی، روس اور ايران کی ثالثی ميں شام ميں ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام کے سلسلے ميں طے پانے والے سمجھوتے کے تحت ترک افواج شام کے شمال مغربی صوبے ادلب ميں داخل ہو گئی ہيں۔ ترک افواج کا ايک قافلہ جہاديوں کے زير کنٹرول شامی صوبے ادلب ميں داخل ہو گيا ہے۔ اس پيش رفت کی تصديق شامی امور پر نگاہ رکھنے والے مبصر ادارے سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس نے کر دی ہے۔ يہ فوجی قافلہ اب حلب کے مغربی حصے کی جانب گامزن ہے۔ تاحال يہ واضح نہيں کہ یہ قافلہ کتنا بڑا ہے اور اس بارے ميں ابھی تک انقرہ نے بھی باقاعدہ کوئی بيان جاری نہيں کيا ہے۔ قبل ازيں اسی ہفتے کے آغاز پر ترک فوج نے اپنے ايک بيان کے ذريعے مطلع کيا تھا کہ ادلب ميں آپريشن کے ليے چيک پوسٹيں تعمير کی جائيں گی۔

پچھلے ہفتے ترک صدر رجب طيب ايردوآن نے بھی کہا تھا کہ ترک افواج کی حمايت سے شام ميں سرگرم ترکی نواز باغی ’حيات تحرير الشام‘ نامی جہادی اتحاد کے خلاف عسکری مہم کی قيادت کريں گے۔ يہ آپريشن در اصل ايران، روس اور ترکی کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد آستانہ مذاکراتی امن عمل کے تحت شام ميں ’تشدد ميں کمی‘ کے ليے مخصوص علاقوں کا قيام ہے۔ امن عمل کا طويل المدتی مقصد شام ميں قيام امن ہے تاہم ابتدائی طور پر اس جنگ زدہ ملک ميں چار ’ڈی اسکليشن زونز‘ کے قيام پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سلسلے ميں تين ’ڈی اسکليشن زونز‘ پہلے ہی مقرر کيے جا چکے ہيں، جن ميں سے ايک دارالحکومت دمشق کے پاس، دوسرا وسطی حمص ميں اور تيسرا جنوبی شام ميں واقع ہے۔ ان زونز کی نگرانی روسی ملٹری پوليس کے سپرد ہے۔ ادلب صوبے ميں اکثريتی علاقوں پر ’حيات تحرير الشام‘ کا کنٹرول ہے۔

آصف زرداری اور نواز شریف کا مک مکا ؟

سابق صدر آصف علی زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سنی؟ زرداری صاحب نے بغیر کسی توقف کے کہا کہ اب میں نواز شریف کی کوئی بات نہیں سنتا اور موضوع بدلتے ہوئے بتانے لگے کہ قبائلی علاقے کے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات بڑی اچھی رہی۔ وہ سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میں نے دوبارہ انہیں نواز شریف کی تقریر کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ انہوں نے آپ کا ذکر خیر کیا آپ کی صدارت کی مدت ختم ہونے پر وزیراعظم ہائوس میں منعقد کئے گئے الوداعی ظہرانے کا ذکر کیا اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا ذکر کیا۔

میری باتیں سن کر آصف زرداری صاحب کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا۔ کہنے لگے تمہیں تو سب پتا ہے کچھ واقعات کے تم عینی شاہد ہو۔ میں باربار نواز شریف سے دھوکہ نہیں کھا سکتا، باربار زخم نہیں کھا سکتا اور پھر انہو ں نے پچھلے چار سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے متعلق شکوے شکایتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ آصف زرداری کہہ رہے تھے کہ ہم وفاق کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو ہم دبے لفظوں میں چوں چراں کر دیتے ہیں۔ گلا پھاڑ کر چیخ و پکار نہیں کرتے کیونکہ ہمیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہم پر صوبائی تعصب پھیلانے کا الزام نہ لگ جائے لیکن نواز شریف کو کھلی چھٹی ہے۔ وہ روز سانحہ مشرقی پاکستان کا نام لے کر قوم کو ایک نئے سانحے سے ڈراتا ہے اور میرے پاس پیغام بھیجتا ہے کہ آئو سویلین اتھارٹی کے لئے متحدہ محاذ بنائیں لیکن اس مرتبہ میں دھوکہ نہیں کھائوں گا۔

نواز شریف ہمیشہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بناتا ہے اور پھر خاموشی سے کسی اور کے ساتھ ڈیل کر لیتا ہے۔ آج نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر رینجرز کے آنے پر بڑا اعتراض ہے۔ جب ہم چیختے تھے کہ سندھ میں رینجرز ہمارے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو نواز شریف کا وزیر داخلہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتا تھا کہ میں رینجرز کے پیچھے کھڑا ہوں۔ آج اسحاق ڈار بڑا مظلوم بن رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کہتا تھا کہ ڈار صاحب سندھ کے فنڈز کم نہ کرو۔ سندھ کو اس کا حق دو تو وہ سنی ان سنی کردیتا تھا۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نواز شریف کے وزیروں نے نواز شریف کی مرضی سے کیا اس لئے نواز شریف کو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہے تو چوہدری نثار کے ساتھ کریں ہمارے ساتھ نہیں۔ آصف زرداری صاحب کی باتیں سن کر میں ان انتہائی باخبر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا جن کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف او ر آصف زرداری اندر سے ایک ہیں اور ایسے ہی دعوئوں کی بنیاد پر تحریک ِ انصاف نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ سے ہاتھ ملا لیا۔ جب سیاسی اور قومی فیصلے غلط اطلاعات اور غلط اندازوں کی بنیاد پر کئے جائیں تو نتائج بھی غلط نکلتے ہیں۔

نواز شریف اور ان کے مشیروں کا خیال ہے انہیں پیپلزپارٹی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نااہلی کے باوجود پیپلزپارٹی کو ایسے شاہانہ انداز میں ڈائیلاگ کی دعوت دے رہے ہیں جیسے پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں کے باعث پنجاب میں شدید بحران کا شکار ہے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کارکن اپنی پارٹی کی بجائے تحریک ِ انصاف کو ووٹ ڈالنے لگا ہے اور اس موقع پر پیپلزپارٹی نواز شریف سے ہاتھ ملا لے تو پنجاب میں اس کا مکمل صفایا ہو سکتا ہے۔ سویلین بالادستی کے لئے سیاسی جماعتوں کومشترکہ حکمت ِ عملی ضرو ر اختیار کرنی چاہئے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب سیاسی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے گی۔

یہ تو ممکن نہیں کہ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو تو پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوجائے دھرنا ناکام ہو جائے تو وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی گرفتاریاں شروع کر دے۔ ان کے نام ای سی ایل پر ڈال دے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلزپارٹی کو کرپشن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں بھی پھنسا دے پھر جب نواز شریف پر دوبارہ مشکل وقت آئے تو پیپلزپارٹی سے توقع کی جائے کہ وہ جمہوریت کے نام پر دوبارہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ آصف علی زرداری ابھی نہیں بھولے کہ 2015 میں ان کی ایک تقریر پر تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ایک ملاقات ہی منسوخ کر ڈالی تھی حالانکہ زرداری صاحب نے بھی سیاستدانوں پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے نا صرف آصف زرداری کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات منسوخ کرائی بلکہ زرداری پر اداروں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے بیانات بھی دیئے۔ آج کل پیپلزپارٹی کے کئی رہنما مسلم لیگ (ن) پر اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا الزام لگا رہے ہیں۔ نواز شریف پر احتساب عدالتو ں میں مقدما ت چل رہے ہیں اور وہ اپنی تقریروں میں ان مقدمات کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ان کا گرینڈ ڈائیلاگ اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک وہ اپنی حالیہ غلطیوں پر معذرت نہیں کرتے۔ تحریک ِ انصاف ابھی تک بضد ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے آپس میں کوئی خفیہ مک مکا کر رکھا ہے لیکن بہت جلد تحریک ِ انصاف کو پتا چلے گا کہ اس کی سیاسی حکمت ِ عملی غلط اندازے پر مبنی تھی اور اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔ اپوزیشن کے اختلافات کافائدہ صرف اور صرف حکومت کو ملے گا۔

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اعتماد نہیں اور نواز شریف کے خیال میں عمران خان بڑے مفاد پرست ہیں۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر گرد اڑا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ریاستی اداروں میں موجود کچھ لوگ حب الوطنی کے نام پر قانون کو مذاق بنا دیں۔ 2 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں رینجرز نے جو طرز ِ عمل اختیار کیا وہ ناقابل قبول ہے۔ رینجرز کو بتانا ہو گا کہ وہ کس کے حکم پر احتساب عدالت میں گئی؟ کچھ وفاقی وزرا اس معاملے کو دبانے کے چکر میں ہیں اور شنید ہے کہ انہیں نواز شریف کی تائید حاصل ہے۔ ان وزرا کا رویہ آصف علی زرداری کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سویلین بالادستی کا نام تو لیتی ہے لیکن کام نہیں کرتی۔ خاموشی سے ڈیل کر لیتی ہے۔ رینجرز کا معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لئے چیلنج ہے انہیں حقائق سامنے لا کر بتانا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور خفیہ ڈیل کا زمانہ گزر گیا۔

حامد میر

جماعت اسلامی کی سیاسی ناکامی

ملکی سیاست کرپشن کے ایشو کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ نہ نوازشریف اور زرداری کی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور نہ عمران خان طرح وہ سینکڑوں کنال رقبے پر محیط گھر میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سراج الحق نے نتھیا گلی کے وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک دن بھی نہیں گزارا لیکن عمران خان صاحب نے اسے جتنا استعمال کیا، اتنا شاید گزشتہ بیس سالوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح جماعت اسلامی خاندانی جماعت ہے اور نہ پی ٹی آئی کی طرح شخصی۔ اس کے اندر جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کراچی کے اردو بولنے والے درویش سید منور حسن امیر منتخب ہوجاتے ہیں تو کبھی افغان سرحد پر مسکینی گائوں کے دیہات میں ایک مولوی کے گھر جنم لینے والے پختون سراج الحق قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ سیاسی قائدین کی صف میں اگر کوئی رہنما سب سے زیادہ محنت کررہے ہیں تو وہ بلاشبہ سراج الحق ہی ہیں۔ صبح کراچی میں، دوپہر لاہور میں تو شام کو کہیں ملاکنڈ میں نظرآتے ہیں۔ تاہم ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں کمی آرہی ہے بلکہ وہ دن بدن قومی سیاست سے غیرمتعلق ہوتی جا رہی ہے۔

وہ کراچی جہاں کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتا تھا اور مئیر تک جماعت اسلامی سے منتخب ہوا کرتا تھا، وہاں آج انتخابی میدان میں جماعت اسلامی مقابلے کے بھی قابل نہیں رہی۔ لاہور جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سے جماعت اسلامی کے امیدوار منتخب نہ بھی ہوتے تو دوسرے نمبر پر ضرور آتے لیکن وہاں بد حالی کا یہ عالم ہے کہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں جماعت کا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکا۔ بلوچستان میں توجماعت اسلامی پہلے عوامی سطح پرمقبول جماعت تھی اور نہ اب بن سکتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے تو وہاں پر بھی عملاً جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اب تو یہ لطیفہ نما فقرہ زبان زدعام ہو گیا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی ہے جو صرف ملاکنڈ ڈویژن میں چل سکتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کی قیادت خواب تو کچھ اور دیکھ اور دکھا بھی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اگلے انتخابات میں عوامی میدان میں جماعت اسلامی مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔

جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کر رہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجائو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنا لیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اور نہ مکمل سیاسی۔

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جا رہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیر محسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کر لیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہو گیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کر سکی۔

تیسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کر لیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروں میں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان بیٹھے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکار لیتے ہیں۔

قاضی حسین احمد مرحوم کے دور میں جماعت اسلامی کی سوچ کو جس طرح بین الاقوامی بنا دیا گیا، اس کی وجہ سے بھی جماعت اسلامی کو شدید نقصان پہنچا۔ جماعت اسلامی نے افغانستان اور کشمیر کو اپنی سیاست کا محور بنا لیا تھا اور وہاں بری طرح مار پڑ گئی لیکن جماعت اسلامی اب بھی ان ایشوز سے جان نہیں چھڑا سکی۔ آپ جماعت اسلامی کے احتجاجی جلوسوں کا ریکارڈ نکالیں تو پتہ چلے گا کہ پچاس فی صد سے زیادہ بنگلہ دیش، ترکی، امریکہ اور میانمار وغیرہ کے ایشوز پر نکالے گئے لیکن پاکستان کے داخلی اور عوام سے متعلقہ ایشوز پر بہت کم سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس حد سے زیادہ بین الاقوامیت نے بھی جماعت اسلامی کے وابستگان کو عوام سے بڑی حد تک لا تعلق کر دیا ہے۔

عوامل اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ماضی قریب میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف نے پہنچایا ہے۔ یہ جماعت اپنی ساخت میں اور مقصد کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سے کوسوں دور ہے لیکن چونکہ اس کی نوک پلک امپائروں نے درست کی، اس لئے اس کی قیادت کو زیادہ تر جماعت اسلامی کے نعرے تھما دئیے گئے۔ اس نے جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف نعرے کو بھی اپنا لیا۔ چونکہ عمران خان ایک سیلیبرٹی تھے اور ان کے ساتھ وابستگی کی صورت میں انہیں جماعت اسلامی کی طرح پابندیوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا (جماعت اسلامی کی صفوں میں کئی سال تک اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ تصویر حلال ہے یا حرام ہے جبکہ موسیقی کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے جبکہ تحریک انصاف میں ہر طرح کے حدودو قیود سے آزاد رہ کر بھی انسان انقلاب کا نعرہ لگا سکتا ہے) اس لئے اس نے میدان میں آتے ہی نوجوان نسل میں انقلابی سوچ رکھنے والے جماعت اسلامی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی کے اندر خالص سیاسی ذہن رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھی پی ٹی آئی میں چلی گئی۔

تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل خیبرپختونخوا میں چند وزارتوں کی خاطر پی ٹی آئی سے اتحاد کر کے خود ہی ٹھونک دی۔ اس اتحاد کی خاطر جماعت اسلامی کی قیادت نے جن مصلحتوں سے کام لیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وہ احتساب کا نعرہ لگاتی رہی لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کے ساتھ بد ترین مذاق پر خاموش رہی۔ آفتاب شیرپائو کے نکالے جانے، پھر منتیں کر کے منانے اور پھر نکالے جانے پر خاموشی کے لئے کسی جماعت کے لئے بڑا بے ضمیر ہونا پڑتا ہے جس کی توقع جماعت اسلامی سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ قانون کی بالا دستی کے نعرے لگاتی رہی لیکن اس اتحاد کی خاطر سول نافرمانی کے اعلان کی مذمت بھی نہ کر سکی۔ بینک آف خیبر کے معاملے نے تو جماعت اسلامی کو عوام کی نظروں میں رسوا کرکے رکھ دیا۔

دوسری طرف قومی سطح پر سیاست کا مہار یا تو نوازشریف کے ہاتھ آگیا ہے یا پھر عمران خان کے ہاتھ میں۔ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کا دم چھلا تصور کیا جانے لگا۔ اس کی تازہ مثال پانامہ کیس ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہلے سراج الحق گئے اور جب لاک ڈائون ناکام ہوا تو امپائروں نے خان صاحب کو سراج الحق کی اقتدا میں سپریم کورٹ بھجوا دیا لیکن کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں بھی اگر کریڈٹ ہو تو وہ پی ٹی آئی لے جا رہی ہے جبکہ ڈس کریڈٹ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کر رہی ہے۔ مثلاً بلدیاتی اداروں کے قانون کا کریڈٹ ملکی سطح پر تحریک انصاف نے لیا حالانکہ یہ وزارت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔

اسی طرح پشاور کی سڑکوں کا کسی حد تک حلیہ درست کرنے کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیات کے وزیر عنایت اللہ کو جاتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ ملک بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک انصاف لے گئی۔ دوسری طرف اگر احتساب کا مذاق اڑایا گیا یا پھر اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر ایک من پسند پولیس افسر کو لگا دیا گیا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا براہ راست کوئی کردار نہیں لیکن بدنامی جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آ رہی ہے کیونکہ وہ ان معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کے متحرک امیر سراج الحق اگر جماعت اسلامی کی طرف عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تووہ یہ منزل صرف ذاتی طور پر بے پناہ محنت کر کے ہر گز حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے انہیں مذکورہ عوامل کی طرف توجہ دے کر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو اگلے انتخابات میں حشر حلقہ این اے 120 سے بدتر ہو گا اور اگر ایم ایم اے بنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا دم چھلا بنایا گیا تو رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاست میں بدنامی بھی ہے اور ناکامی بھی مقدر ہے۔

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

سلیم صافی

کاتالونیا ریفرنڈم، پولیس پولنگ اسٹیشنوں میں داخل

کاتالونیا کی حکومت اور ریفرنڈم کے حامیوں نے اسپین کی مرکزی حکومت کی تمام تر مخالفت کے باوجود پولنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب کہ ہسپانوی پولیس زبردستی پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہو کر بیلٹ باکسز قبضے میں لے رہی ہے۔ کاتالونیا میں ہسپانوی پولیس نے ریفرنڈم کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے اس دوران ربڑ کی گولیاں بھی استعمال کیں۔ طبی ذرائع کے مطابق پولیس کی کارروائی میں زخمی ہونے والے 38 افراد کو ہسپتالوں میں لایا گیا جن میں سے زیادہ تر معمولی زخمی ہیں۔ کاتالونیا کے رہنما نے پولیس کی جانب سے ’ربڑ کی گولیاں استعمال کرنے اور لاٹھی چارج‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔

ہسپانوی علاقے کاتالونیا کی مقامی حکومت نے اسپین سے علیحدگی کے لیے منعقدہ ریفرنڈم میں پولنگ کا سلسلہ مرکزی حکومت کی مخالفت کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ریفرنڈم کو روکنے کی خاطر اسپین بھر سے پولیس کاتالونیا میں جمع ہے اور مرکزی حکومت ریفرنڈم روکنے کی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ شب تک ہسپانوی پولیس نے نصف سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو سیل کر دیا تھا جب کہ ہسپانوی علاقے کاتالونیا میں آزادی کے حامی بے شمار افراد نے بھی درجنوں اسکولوں کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ ان اسکولوں کو مجوزہ ریفرنڈم کے دوران بطور پولنگ اسٹیشنوں کے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ریفرنڈم کی مہم
جمعہ انتیس سمبر کو کاتالونیا میں ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے جاری انتخابی مہم ختم ہو گئی۔ اس موقع پر بارسلونا میں کاتالونیا کے علیحدگی پسندوں نے ایک بڑی ریلی کا انتظام کیا۔ اس پیش رفت کے باوجود کاتالونیا کی مقامی حکومت نے پولنگ شروع کر رکھی ہے۔ ریفرنڈم کے حامیوں کی بڑی تعداد ایسے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطار بنا کر ووٹ ڈالنے کے لیے جمع رہے۔ مقامی حکومت نے ریفرنڈم کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے آج صبح ہی اعلان کیا تھا کہ ووٹ ڈالنے کے خواہش مند ایسے افراد ، جن کے متعلقہ پولنگ اسٹیشن ہسپانوی پولیس نے سیل کر رکھے ہیں، دوسرے پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسپین بھر سے کاتالونیا لائی گئی پولیس ریفرنڈم کو ناکام بنانے کی کوششوں میں ہے۔ ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہونے کے بعد پولیس متعدد پولنگ اسٹیشنوں میں دروازے توڑ کر داخل ہو گئی اور پولنگ کے لیے استعمال ہونے والے بیلٹ باکسز کو قبضے میں لینا شروع کر دیا۔ ہسپانوی دارلحکومت میڈرڈ میں قائم مرکزی حکومت اس ریفرنڈم کو اول دن سے غیرقانونی قرار دیتی ہے اور اسے کالعدم بھی قرار دے چکی ہے۔ اسی طرح اسپین کی سپریم کورٹ نے بھی اس ریفرنڈم کو خلاف ضابطہ قرار دے دیا ہے۔ اس اعلیٰ عدالت نے کاتالونیا کی پارلیمنٹ کو بھی ریفرنڈم میں شرکت کرنے سے باز رہنے کی تلقین کر رکھی ہے۔

کاتالونیا میں اس ریفرنڈم سے معاشرتی و سماجی تقسیم انتہائی واضح ہو گئی ہے۔ سارا علاقہ آزادی کے پرجوش حامیوں اور اسپین کے ساتھ رہنے والوں میں تقسیم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صورت حال بہت مخدوش دکھائی دیتی ہے اور کوئی ایک ناخوشگوار واقعہ پرتشدد حالات پیدا کر سکتا ہے۔ آزادی پسند حکومت اس کوشش میں ہے کہ ریفرنڈم کا انعقاد کامیاب بنایا جا سکے۔

کاتالونیا میں اسپین کی پولیس آزادی ریفرنڈم رکوانے کیلیے کوشاں

ہسپانوی علاقے کاتالونیا میں آزادی کے ریفرنڈم کی پولنگ کے لیے مقامی حکومت پرعزم ہے۔ اس ریفرنڈم کو اسپین کی مرکزی حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ہسپانوی علاقے کاتالونیا میں آزادی کے حامی بے شمار افراد نے درجنوں اسکولوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان اسکولوں کو مجوزہ ریفرنڈم کے دوران بطور پولنگ اسٹیشنوں کے استعمال کیا جانا ہے۔ آزادی ریفرنڈم کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے کاتالونیا کے علیحدگی پسند پوری طرح سرگرم اور مصروف ہیں۔ کاتالونیا کی صوبائی حکومت کے سربراہ کارلیس پُوج ڈیمونٹ نے ایک بڑے عوامی اجتماع سے جذباتی انداز میں خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حالات انتہائی تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ حالات اُن کے اُس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے والے ہیں، جو کبھی بعید از قیاس تھا۔

اس ریفرنڈم کے لیے جاری انتخابی مہم ختم ہو گئی ہے۔ ہسپانوی دارلحکومت میڈرڈ میں قائم مرکزی حکومت اس ریفرنڈم کو اول دن سے غیرقانونی قرار دیتی ہے اور اسے کالعدم بھی قرار دے چکی ہے۔ اسی طرح اسپین کی سپریم کورٹ نے بھی اس ریفرنڈم کو خلاف ضابطہ قرار دے دیا ہے۔ اس اعلیٰ عدالت نے کاتالونیا کی پارلیمنٹ کو بھی ریفرنڈم میں شرکت کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ میڈرڈ حکومت نے اپنی روانہ کردہ پولیس کو خاص ہدایت کی ہے کہ وہ پولنگ کے عمل کو ممکن نہ ہونے دے۔ علیحدگی پسندوں کے بے شمار حامی ٹریکٹروں پر سوار ہو کر بارسلونا میں داخل ہوئے ہیں اور وہ پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی طرح شہر کے فائر فائٹرز بھی پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی کے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

کاتالونیا میں اس ریفرنڈم سے معاشرتی و سماجی تقسیم انتہائی واضح ہو گئی ہے۔ سارا علاقہ آزادی کے پرجوش حامیوں اور اسپین کے ساتھ رہنے والوں میں تقسیم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صورت حال بہت مخدوش دکھائی دیتی ہے اور کوئی ایک ناخوشگوار واقعہ پرتشدد حالات پیدا کر سکتا ہے۔ آزادی پسند حکومت اس کوشش میں ہے کہ ریفرنڈم کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔ کاتالونیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت Ciudadanos اس ریفرنڈم کے خلاف ہے اور اُس نے اپنے دو ہزار حامیوں کے ساتھ اس کی مخالفت میں ایک ریلی بھی نکالی۔ یورپی یونین ابھی تک اس صورت حال پر خاموش ہے اور وہ اس کاتالونیا کے ریفرنڈم کو میڈرڈ حکومت کا داخلی مسئلہ خیال کرتی ہے۔

بشکریہ DW اردو

یورپ میں آزادی کی تحریکیں

یورپ کے مختلف ممالک میں آزادی کے حصول کی جدوجہد جاری ہے۔ اسکاٹ لینڈ، باسک اور اسپین کے خطے کاتالونیا کے باسی ایک خود مختار ریاست چاہتے ہیں۔ بیلجیئم میں زبان کی بنیاد پر تنازعہ موجود ہے۔ سلطنت برطانیہ کے ساتھ 300 سال رہنے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ کے باسیوں کو ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے خود مختاری حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ یورپ میں دفتر شماریات کے مطابق یورپی ممالک میں اقتصادی طور پر مستحکم علاقے اپنے اپنے وطنوں سے الگ ہونا چاہتے ۔ ’’برطانیہ پر حکومت کرو ، ہم پر نہیں‘‘ اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کا نعرہ بھی اس سے کچھ ملتا جلتا ہو گا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور اسکاٹ لینڈ کی صوبائی حکومت کے سربراہ الیکس سیل منڈ ’ Alex Salmond ‘ کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں آزادی کا ریفرنڈم 2014ء میں منعقد کرایا جائے گا۔

لیکن اسکاٹ لینڈ اپنے اس نعرے کے ساتھ یورپ میں تنہا نہیں ہے۔ اسپین میں بھی باسک علیحدگی پسند خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ باسک علاقے رقبے کے لحاظ سے اسپین کا دس فیصد بنتے ہیں تاہم مجموعی قومی پیداوار میں ان علاقوں کا حصہ ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اسی طرح اب اگر شمالی اٹلی اور میلان کے ارد گرد کے علاقوں کی بات کی جائے تو وہ ملک کے معاشی اعتبار سے کمزور جنوبی حصے کی مزید مدد نہیں کرنا چاہتے۔ اسی طرح اسکاٹ لینڈ بھی تیل کی پیدوار سے ہونے والی آمدنی اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن بیلجیئم میں صورتحال بہت ہی نازک ہے، جہاں ولندیزی اور فرانسیسی بولنے والوں یعنی فلیمش اور والونیہ آبادیوں کے مابین شدید اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ولندیزی اکثریت والے علاقوں کا ملک کے دیگر حصے سے الگ ہونے کا مطالبہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں بھی اقتصادی پہلو نمایاں ہے کیونکہ بیلجیئم کی مجموعی قومی پیداوار میں ولندیزی علاقوں کا حصہ ساٹھ فیصد بنتا ہے۔

اس تناظر میں جرمنی کی یونیورسٹی کیل کی پروفیسر زلکے گوچ کہتی ہیں کہ علیحدہ ہونے کے مطالبے کے پیچھے صرف معاشی ہی نہیں ہیں بلکہ اور بھی کئی پہلو ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ مطالبہ ایک زبان اور ایک ثقافت کے علاوہ یکساں ماضی ہونے کی وجہ سے بھی جنم لیتا ہے۔ ان کے بقول اس تناظر میں مذہب اور کسی ملک کا جغرافیہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کہتے کہ اسپین اور آئرلینڈ کو علیحدگی پسندوں کی جانب سے بم دھماکوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن یورپ کی ان تحریکوں کا دنیا کے دوسرے خطوں سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر اریٹیریا، سوڈان یا مشرقی تیمور میں چلنے والی تحریکیں بہت زیادہ خونریز ہیں۔ ماہرین کے بقول باسک، فلیمش اور اسکاٹ لینڈ سب ہی خود مختار بننے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں ہے۔

 بشکریہ DW اردو