گریجویشن کی جعلی ڈگری پر آپ کس ملک میں سینیٹر بن سکتے ہیں ؟

پاکستان الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی گریجویشن بی اے  کی ڈگری جعلی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے جعلی ڈگری کو جواز بنا کر سینیٹر یاسمین شاہ کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسمین شاہ اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق غلط بیانی کر کے 2003 میں سینیٹر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے یاسمین شاہ کی 2003 میں بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ بطور سینیٹر یاسمین شاہ کو دی گئی تمام مراعات ان سے واپس وصول کی جائیں۔

Advertisements

مذہبی جماعتوں کا نیا اتحاد بن سکے گا ؟

پاکستان میں آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کا وقت قریب آتے ہی ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔ لاہور میں جماعتِ اسلامی کے ہیڈ کوراٹر منصورہ میں ماضی کے مذہبی سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل میں شامل چھ بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ایک اجلاس کے بعد اس سیاسی اتحاد کو دوبارہ بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جس کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ کراچی میں کیا جائے گا۔ سنہ 2002 کے عام انتخابات سے پہلے وجود میں آنے والی متحدہ مجلسِ عمل نے ان انتخابات میں نہ صرف قومی اسمبلی میں 40 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔

چھ جماعتی اتحاد کی اس کامیابی میں زیادہ تر حصہ جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) کا تھا جن کے طرزِسیاست کے لیے اس وقت کے ملکی حالات انتہائی موزوں تھے۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اقتدار سنبھالے تین برس ہو چکے تھے اور ملک کی دو بڑی جماعتوں کی قیادت ملک بدر کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکہ افغانستان پر حملہ کر چکا تھا۔ ایسی فضا میں مذہبی جماعتوں کے اسلامی اتحاد کے پیغام کو خاصی حمایت ملی۔ تاہم موجودہ حالات اس سے کہیں مختلف ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی سود مند ثابت ہو گی؟ خصوصاٌ اس وقت جب اس میں شامل دو بڑی جماعتیں جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) گذشتہ تقریباً پانچ سالوں سے ملک کی دو بڑی حریف جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کیے ہوئے ہیں۔ جماعتِ اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں پاکستان تحریکِ انصاف جبکہ جے یو آئی ایف مرکز میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایتی ہے۔ کیا اب وہ پانچ سالہ پرانے ان سیاسی اتحاد کو خیرباد کہہ دیں گے؟ دونوں جماعتوں کے رہنما اس حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی ایف کے رہنما اور سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ان دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد ختم ہو جائیں گے۔

‘جب متحدہ مجلسِ عمل کے اتحاد کا باضابطہ اعلان ہو گا تو اس کے بعد ہم اپنے (موجودہ) اتحادیوں سے یہ کہہ سکیں گے کہ چونکہ اب ہمارا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل پا چکا ہے تو اب ہمارے فیصلے اس پلیٹ فارم سے ہوں گے۔ اب یہ ممکن نہیں ہو گا کہ ہم آپ کے ساتھ رہیں اور آپ کے فیصلوں کو بھی مانیں اور اپنے (نئے) اتحادیوں کے فیصلوں پر بھی عمل کریں۔ دو کشتیوں میں پاؤں نہیں رکھے جا سکتے۔’ مولانا عبدالغفور حیدری گذشتہ کچھ عرصے سے ذاتی طور پر متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے لیے کوشاں تھے اور حالیہ اعلان سے قبل ان کی جماعتِ اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان سے متعدد ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی اتحادی سے بلا جواز یا لڑ جھگڑ کر علیحدٰہ ہونا بھی مناسب نہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے موجودہ اتحادی ان کے نئے اتحاد کی تشکیل کے بعد ان کی مجبوری کو سمجھ پائیں گے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد چھوڑنے، اس کے وقت اور طریقۂ کار کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب جے یو آئی ایف کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے  وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف سمیت چند دینی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے شہباز شریف کے اس موقف کی تائید کی کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔ بنیادی طور پر چھ جماعتوں کے سیاسی اتحاد کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ نئے اتحاد میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو دینی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینا چاہیں ان کو مسلک کی تفریق کیے بغیر شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔

جماعت الدعوۃ کے ایک عہدیدار کے مطابق متحدہ مجلسِ عمل کے بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اوائل میں ان کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دینے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ اتحاد کا باضابطہ اعلان ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تاحال باضابطہ طور پر ملی مسلم لیگ کا سیاسی جماعت کے طور پر اندارج نہیں کیا ہے۔ ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کو تاحال اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ ‘وہ تو ابھی تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ جب رجسٹرڈ ہو جائے گی تو اس کو دعوت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مشترکہ فورم ہی سے کیا جائے گا۔’

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

بشکریہ بی بی سی اردو

پاکستانی سیاست میں’ اسٹیبلشمنٹ’ کی مداخلت کا پردہ چاک

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان سیاسی اتحاد کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا۔ پاکستان ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کروائی، 8 ماہ سے فاروق ستار اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے پی ایس پی کو ایم کیو ایم میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں بنی، 5 مقدمات میں نامزد ملزم گرفتاری کے 5 گھنٹے بعد ایم کیو ایم کا سربراہ بن کر باہر نکلتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جس دن سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی اس کے 4 گھنٹے بعد سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے اتحاد پر مجبور کیا حتیٰ کہ گورنر سندھ نے بھی یہی کہا جب کہ ہر گھنٹے بعد قلابازیاں اور کامیڈی شو ہو رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم اور فاروق ستار فرمائشی پروگرام کر کے اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے ہمیں بلاتے ہیں، بتائیں پاکستان کا کون سا سیاست دان اور صحافی ہے جو اسٹیبشلمنٹ سے بات نہیں کرتا، ہمارے کارکن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا منشور گھر گھر پہنچا رہے ہیں جبکہ میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ہوں، تاہم میں پاکستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملتا ضرور ہوں کیونکہ سارے کام تو وہ کر رہے ہیں، اپنی اسٹیبشلمنٹ سے نہیں ملوں گا تو کیا ہندوستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملوں گا۔

چیرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے یہ تاثر پورے پاکستانی عوام کے دماغ میں بٹھا دیا کہ پی ایس پی اسٹیبشلمنٹ کی آلہ کار ہے تو ہاں ہمیں اسٹیبشلمنٹ نے بلا کر فاروق ستار سے ملایا اور وہ پہلے سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم کو جب حکومت میں شامل ہونا ہوتا تھا تو نئے صوبےکی بات کرتے تھے، فاروق ستار نے بانی ایم کیوایم کے تمام آئٹمز کر کے نئے صوبے کا بھی اعلان کر دیا، یہ لوگ کچرہ اٹھا نہیں سکتے، لالو کھیت صاف کر نہیں سکتے، نیا صوبہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں زندہ نہیں، اگر وہ ہوتیں توان کو سیاست کیلیےاستعمال نہیں کرتا، عشرت العباد سرٹیفکیٹ بنوانے کے پچاس ہزارروپے لیتا تھا، رؤف صدیقی وزیر صنعت تھا وہ لندن پیسے بھجواتا رہا، 12 لاکھ پینشن دلوانے کیلیے میئر کراچی نے6 لاکھ روپے رشوت لی تھی، جبکہ ہمارے آنے کے بعد ایم کیو ایم کا لاشوں کا کاروبار نہیں چل رہا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں سیاسی اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ‘ایک عرصے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں مشاورتی عمل جاری تھا، لیکن اب فیصلہ کیا ہے کہ مل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کی جائے اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ سیاسی اتحاد عارضی اور جزوی عمل نہیں، آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کو لے کر جائیں گے، آئندہ ملاقاتوں میں فریم ورک کو تشکیل دیں گے، اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے کیونکہ سندھ اور کراچی کی خدمت کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہو گا، جبکہ امید ہے اب ہمارے سیل دفاتر واپس مل جائیں گے۔’

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا

شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا۔
سیول پہنچنے پر ایک بیان میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دیدی اور کہا کہ دعا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف کبھی طاقت کا ستعمال نہ کرنا پڑے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیاروں اور میزائل پروگرام پر امریکا سے بات کرے۔

نامعلوم افراد نامعلوم ہی رہیں گے ؟

لوگ پوچھتے ہیں کہ احمد نورانی کو کس نے اس درندگی سے مارا۔ لیکن میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ میں کیا بتائوں کس نے مارا۔ پوچھا جاتا ہے کہ نورانی پر حملہ کرنے والے کون تھے۔ اس کا بھی میں کیا جواب دوں۔ سوال ہوتا ہے کہ کوئی ملزم پکڑا گیا، کسی کی شناخت ہوئی، سی سی ٹی وی سے کچھ پتا چلا۔ اس پر میں کہتا ہوں پولیس کوشش کر رہی ہے لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا۔ اس یقین کی وجہ ہمارا وہ ماضی ہے جس میں صحافیوں پر کئے گئے حملوں کے ملزمان اور ماسٹر مائنڈز کی کبھی نہ شناخت ہوئی اور نہ کسی مجرم کو سزا ملی۔

نامعلوم حملہ آور ہمیشہ نامعلوم ہی رہے۔ تشدد کے شکار صحافیوں کے نصیب میں تو بس تسلیاں، پھول، اظہار ہمدردیاں اور کھوکھلی یقین دہانیاں ہوتی ہیں کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے گا اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔ یہاں تو کئی صحافیوں کی جان بھی لے لی گئی لیکن قاتل نہیں پکڑے گئے۔ جو کچھ آج احمد نورانی کے ساتھ ہوا کچھ ایسا ہی عمر چیمہ کے ساتھ چند سال قبل ہوا۔ چیمہ کو اغوا کر کے اُس کے ساتھ تشدد کرنے والوں نے اُسے کسی سڑک کنارے پھینکا تو وہاں سے وہ سیدھا میرے گھر پہنچا اور مجھے اپنی روداد سنائی کہ کس طرح اُس کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ احمد نورانی نے بھی حملہ کے بعد ہسپتال جاتے ہوئے سب سے پہلے مجھ سے ہی رابطہ کیا۔ چیمہ جب پھٹے کپڑوں اور تشدد سے نیلوں بھرے جسم کے ساتھ میرے پاس پہنچا تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور کیسے اُسے دلاسہ دوں۔ یہی حال نورانی کی باری میں ہوا۔

جب ہسپتال پہنچا، اُسے دیکھا تو الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ کیسے اُس کو تسلی دوں ۔ چیمہ کی باری کچھ ذمہ داروں نے مجھے بتایا کہ معاملہ لڑکی کا ہے۔ میں نے درخواست کی معاملہ جو بھی ہے تشدد کرنے والوں کو پکڑیں۔ اب کی بار کسی ذمہ دار نے کوئی ایسی بات ہم سے تو نہیں کی لیکن ایک مقامی اردو اخبار نے نورانی پر تشدد کو بھی لڑکی سے جوڑ دیا۔ میڈیا آزاد ہے جو مرضی لکھے اور کہے اُسے کون روک سکتا ہے۔ پہلے تو پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نورانی پر حملہ آئی بی نے کروایا بعد میں لڑکی آ گئی۔ چلیں اگر لڑکی کا بھی مسئلہ ہے تو اُن نامعلوموں کو تو پکڑیں جنہوں نے پہلے اور کئی دوسروں کے علاوہ چیمہ اور اب کی بار نورانی، مطیع اللہ جان وغیرہ پر حملے کیے ۔

کم از کم اُس لڑکی کو تو سامنے لائیں جس کا معاملہ تھا۔ ایک چینل نے تو یہ تک کہہ دیا کہ احمد نورانی کو جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بھیجے گئے پھول پیش کیے تو اُس نے اُن پھولوں کو پھینک دیا۔ نورانی کے بھائی سے بات ہوئی تو وہ حیران ہوا کہ ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں۔ نورانی کے بھائی نے بتایا کہ وہ گلدستہ جسے ایک میڈیا چینل کے مطابق پھینک دیا گیا تھا وہ اب بھی اُن کے گھر موجود ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایک میجر صاحب جو وہ گلدستہ نورانی کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے پیش کرنے آئے تھے اُن کا نورانی نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ آج شام کو ہی جیو ٹی وی کے ذریعے پتا چلا کہ احمد نورانی کی میجر جنرل آصف غفور سے ٹیلیفون پر بات بھی ہوئی۔

احمد نورانی نے نہ صرف جنرل غفور کا شکریہ ادا کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اُس کی طرف سے کسی پر نہ تو الزام لگایا گیا نہ ہی اُس نے گلدستہ کے حوالہ سے وہ بات کی جس کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ نورانی نے اچھا عمل کیا کیوں کہ ایک ایسے ماحول میں جہاں کئی کردار حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور اُن اختلافات پر تیل چھڑکنے کی مسلسل کوشش میں لگے ہیں وہیں ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت جنگ گروپ کا بھی فوج سے ٹکرائو پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کوشش میں چند ریٹائرڈ فوجی افسران کے ساتھ ساتھ میڈیا میں موجود ایک طبقہ بھی پیش پیش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے احمد نورانی پر حملہ کیا یا کروایا وہ بھی جنگ گروپ اور فوج کے درمیان اختلاف پیدا کر کے اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہوں۔

وہ جو بھی تھے انہیں ہر حال میں گرفتار ہونا چاہیے ۔ پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے نورانی کوگلدستہ بجھوانہ اور پھر احمد نورانی کی طرف سے جواب میں جنرل آصف غفور کو فون کر کے اُن کا شکریہ ادا کرنا جہاں ایک مثبت عمل ہے وہیں اس سے سازشی عناصر کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اگر کوئی صحافی یا میڈیا گروپ ، تجزیہ کار یا کوئی سیاستدان سویلین بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی اور فوج کے سیاسی کردار کے خلاف بات کرتا ہے تو یہ وہ باتیں ہیں جو پاکستان اور فوج دونوں کے بہترین مفاد میں ہیں لیکن سازشی طبقہ ایسی باتوں کو بھی فوج کے خلاف سازش بنا کر پیش کرتا ہے۔

انصار عباسی

کاتالونیہ اسپین سے آزادی کیوں چاہتا ہے ؟

کاتالونیہ کی آزادی کی کوششیں سپین میں گذشتہ 40 سالوں میں ملک کا سب سے بڑا سیاسی بحران ہے۔ مگر اس معاملے کی بنیادی محرکات ہیں کیا؟

کاتالونیہ کیا ہے؟
کاتالونیہ سپین کے شمال مشرق میں ایک خودمختار علاقہ ہے جس کی ایک ہزار سال قدیم اور علیحدہ تاریخ ہے۔ اس قدرے مالدار علاقے میں تقریباً 75 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ ان کی اپنی زبان ہے، اپنی پارلیمان ہے، اپنا جھنڈا اور ترانہ ہے۔ کاتالونیہ کی اپنی پولیس بھی ہے اور کچھ پبلک سروسز پر اس کا اپنا کنٹرول بھی ہے۔

تنازع کیا ہے؟
کاتالونیہ میں قوم پرستوں کو کئی برسوں سے شکایت رہی ہے کہ اس خطے کو سپین کے نسبتاً غریب علاقوں میں بہت زیادہ پیسے بھیجنا پڑتے ہیں۔ کاتالونیہ کا بجٹ اور ان کے ٹیکس کا نظام دارالحکومت میڈریڈ میں مرکزی حکومت کے زیرِ اختیار ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2010 میں سپین کی جانب سے ان کی خود مختاری کے حوالے سے کی گئی تبدیلیاں ان کی مخصوص کاتالونی شناخت کو کمزور کرتی ہیں۔ یکم نومبر کو ایک ریفرینڈم میں کاتالونیہ کے 90 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے۔ تاہم اس ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 43 فیصد تھی۔ اس ریفرینڈم کو سپین کی آئینی عدالت غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

سپین کی قومی پولیس نے جب لوگوں کو اس ریفرینڈم میں شرکت کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ کاتالونیہ کی علاقائی پارلیمان نے اسمبلی میں رائے شماری کے بعد سپین سے آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سپین میں آئین کی شق 155 کا استعمال کرتے ہوئی ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خطے میں براہِ راست کنٹرول کی کوشش کی۔

16% سپین کی آبادی جو کاتالونیہ میں رہتی ہے
25.6% سپین کی برآمدات میں کاتالونیہ کا حصہ
19% سپین کی قومی پیداوار میں کاتالونیہ کا حصہ
20.7% سپین میں بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری میں کاتالونیہ کا حصہ
وزارتِ اقتصادیات، ایورو سٹیٹ، بینک آف سپین

میڈریڈ کیا کر رہا ہے؟
اسپین کی حکومت نے کاتالونی رہنماؤں کو فارغ کر دیا ہے، کاتالونیہ کی علاقائی پارلیمان کی جانب سے آزادی کے اعلان کے کچھ دیر بعد کاتالونیہ کی پارلیمان کو تحلیل کر کے 21 دسمبر کو مقامی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم معزول کیے گئے کاتالان صدر کارلس پوئیمونٹ اپنے موقف پر قائم ہیں اور انھوں نے میڈریڈ کے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ وہ سول نافرمانی کریں۔

یہ تنازع کیوں اہم ہے؟
ایسا نہیں لگتا کہ یہ مسئلہ مسلح کشیدگی کی شکل اختیار کرے گا تاہم اس سے خطے کو اور سپین کو مالی طور پر نقصان ہو سکتا ہے جس سے یورو زون میں ایک نئی طرز کا عدم استحکام سامنے آ سکتا ہے۔ اس معاملے پر یورپ میں دیگر علیحدگی پسند تحریکیں بھی خاص نظر رکھے ہوئی ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کاتالونیا کی حکومت نے اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا

نیم خود مختار کاتالونیا کی علاقائی حکومت نے اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہسپانوی حکومت نے کاتالونیا کی علاقائی حکومت کو ختم کرتے ہوئے اس خطے کے فوری طور پر کنٹرول میں لیے جانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اسپین میں کاتالونیا کی آزادی کے مسئلے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ملکی دارالحکومت میڈرڈ میں ہسپانوی سینیٹ نے فوری طور پر کاتالونیا کی علاقائی حکومت کے اختیارات واپس لینے کی قرارداد منظور کر لی ہے، جس کے ساتھ ہی قانونی طور پر اس صوبے کی نیم خود مختار حکومت کی مخصوص حیثیت قانونی طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں ملکی پارلیمان کے ایوان بالا میں زیادہ تر ارکان نے کاتالونیا کو فوری طور مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لانے کے حق میں ووٹ دیا۔ مرکزی حکومت کے ان اقدامات سے پہلے بارسلونا میں کاتالونیا کی علاقائی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اسپین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس علاقائی پارلیمانی قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی کاتالونیا کا یورپی یونین کے رکن ملک اسپین سے علیحدگی کا عمل قانونی طور پر شروع ہو گیا ہے۔ دریں اثناء ہسپانوی وزیر اعظم ماریانو راخوئے نے کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ اس پیچیدہ اور خراب تر ہوتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقائی حکومت کے آزادی کے اعلان کے باوجود یورپی یونین کی نظر میں اسپین کی مرکزی حکومت ہی اقتدار کا مرکز ہے اور یونین تمام معاملات اسی کے ساتھ طے کرے گی۔

ہسپانوی ایوان بالا میں 214 ووٹ کاتالونیا کی علاقائی حکومت ختم کرنے کے حق میں ڈالے گئے جبکہ اس کی مخالفت میں صرف سینتالیس ووٹ پڑے۔ ایوان بالا میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق اس علاقے میں چھ ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسپین کی مرکزی حکومت نے سن 1978ء کے بعد پہلی مرتبہ ملکی آئین کا آرٹیکل نمبر 155 بھی لاگو کر دیا ہے، جس کے تحت ’باغی علاقوں‘ کی خود مختاری ختم کی جا سکتی ہے۔ کاتالونیا کی علاقائی حکومت کی طرف سے آزادی کے اعلان کے بعد بارسلونا میں موجود ہزاروں مظاہرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بلند کیے۔ مظاہرین کا رقص کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب ایک ’آزاد کاتالونیا ری پبلک‘ کی بنیاد رکھی جائے گی۔ دوسری جانب ملکی وزیر اعظم نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ راخوئے کا کہنا تھا، ’’میں تمام ہسپانوی باشندوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ کاتالونیا میں ریاستی قوانین کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘

بشکریہ DW اردو

اقتدار یا ملک ، کس کو بچانا ضروری ہے ؟

پاکستان کو سپورٹ کرنے والے کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے آئندہ کے لئے کسی بھی نئے قرضہ کی فراہمی کے لئے امریکی اشارے پر اپنے دانت تیز کرنے شروع کر دیئے ہیں تاکہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں اگر پاکستان کو ایک بار پھر IMF کے پاس کسی نئے قرضہ ( جس کی مالیت 5ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے ) کے لئے جانا پڑے تو وہ اپنی پرانی مگر کچھ سختی کے ساتھ نئی شرائط منوانے پر زور دے سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جیسے سیاسی ایشوز پر سیاسی قائدین اور جماعتیں آپس میں تقسیم ہیں اور ہر جماعت اپنی اپنی بولی بول رہی ہے کسی کو جمہوریت سے پیار ہے اور کوئی الیکشن جلد کرانے کی جدوجہد میں ہے یہی صورتحال احتساب کے عمل کی ہے اس پر بھی ہر کوئی جماعت اپنی ہی پالیسی کا اظہار کر رہی ہے عین اس طرح ہمارے اقتصادی ماہرین کی اکثریت بھی IMF سے کسی نئے قرضہ کے حق اور مخالفت میں رائے دے رہے ہیں.

یہ بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ ہمارا ملک قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اپنی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پس منظر میں ختم نہیں کر سکتا بلکہ بعض ماہرین تو اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ جو اب تک 75 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے خدانخواستہ 80 ارب یا 90 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا تو پھر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ہمارے قومی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کئی نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اللہ نہ کرے ایسے حالات پیدا ہوں لیکن اگر ملک میں زراعت اور صنعت کا شعبہ حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے ریڈار پر نہیں آئے گا اور FBR اپنے ٹیکسوں کے نظام کو وسیع کرنے کے لئے جامع اصلاحات کر کے ٹیکس نیٹ کو ممبران پارلیمنٹ سے لیکر جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے بڑے کاروباری اداروں اور شخصیات سے ان کی پوری آمدنی پر پورا ٹیکس وصول نہیں کرے گا اس وقت تک بجلی چوری کی طرح ٹیکس چوری بھی بڑھتی رہے گی اور دونوں طرف صنعت و زراعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہماری برآمدات میں اضافے کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔

اس وقت صرف پاور سیکٹر میں اصلاحات کے بڑے حکومتی دعوے سامنے آ رہے ہیں مگر بجلی کی قیمت سے جو صنعتی و تجارتی شعبہ کی لاگت بڑھتی جا رہی ہے اس پر حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی فوری طور پر صنعت ، تجارت، ٹیکسیشن اور دیگر ماہرین کی ایک خود مختار ٹاسک فورس بنائیں جو ہر ماہ میں کم از کم ایک بار پاکستان کے حقیقی اقتصادی مسائل سے آگاہ کرے اور اس کی روشنی میں وزیراعظم ہر سہ ماہی میں مالی سال کے بجٹ کو ریویو کریں اس سلسلہ میں فیڈریشن کے نمائندوں کی مشاورت سے بڑی اچھی ٹاسک فورس بن سکتی ہے جس کے لئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے کرتا دھرتا افتخار علی ملک اور موجودہ صدر زبیر طفیل سمیت مختلف شخصیات سے مشاورت کر کے پاکستان کو بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران سے نکالنے کا کام شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔

ورنہ پاکستان میں روایتی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے ایڈہاک ازم کے ذریعے سیاسی نعرے لگائے جاتے رہیں گے۔ ابھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ نعرے لگا رہی ہے کل اور پارٹی و بنی گالہ یا بلاول ہائوس والے یہی کام کر سکتے ہیں اب تو کچھ اشارے ایسے بھی ملنے شروع ہو گئے ہیں کہ کسی ایک حد پر خاص جگہ پر پیپلز پارٹی کے لئے بھی ’’سافٹ کارنر‘‘ بنایا جا رہا ہے۔  بہرحال اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ سیاست سے ہٹ کر معیشت پر فوکس بڑھایا جائے۔ معیشت اگر ٹھیک ہو گی تو سیاست اور سیاسی کاروبار سب کچھ چلے گا اس سلسلہ میں وزیراعظم عباسی اگر چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں انہیں معاشی فرنٹ پر قومی مقاصد کی زیادہ سمجھ بوجھ ہے لیکن اگر وہ کسی سے ”HONEST” ایڈوائس لیں گے تو پھر ہی بات بن سکتی ہے ورنہ خطرات اور خدشات کا سلسلہ بڑھتا رہے گا پھر اقتدار بچانے سے زیادہ ملک بچانے کی فکر لاحق ہو سکتی ہے۔

سکندر حمید لودھی

پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے : کیا امریکا کا ارادہ بدل رہا ہے؟

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دشمنوں کے ٹھکانے پر امریکا کے حالیہ فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ ایف مِک کینزی نے یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹس پر کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ستمبر سے پاک افغان خطے میں امریکا کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے گزشتہ تین ہفتے کے دوران افغانستان میں 70 زمینی اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ دو روز کے دوران متعدد ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی عہدیداروں نے اگرچہ ڈرون حملوں پر تبصرہ نہیں کیا لیکن جنرل مک کینزی نے رواں ہفتے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران افغانستان میں امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ حملے جنگ کی ضروریات کے مطابق کیے گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر حملہ مسلح تصادم کے قانون کے مطابق ہوتا ہے، جس میں شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے کم سے کم ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جس نے اگست میں جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، اب ڈرونز کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی نظرثانی کر رہی ہے۔

اس رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی دیگر رپورٹس میں دیگر میڈیا اداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ، ڈرون حملوں پر سابق اوبامہ انتظامیہ کی عائدہ کردہ دو اہم پابندیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ 1۔ صرف اعلیٰ سطح کے دہشت گردوں کو، جو امریکا کے لیے ’مسلسل اور قریبی‘ خطرہ ہوں، ہدف بنایا جائے گا۔ 2۔ ڈرون حملوں اور ریڈز سے قبل ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جائے گی۔ نئی پالیسی، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، امریکی فوج اور سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کم خطرناک اہداف کو بھی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائیں، جبکہ ان حملوں کے لیے انہیں اعلیٰ حکام کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدارارن کا، جو مجوزہ پالیسی سے متعلق متعدد میڈیا اداروں سے بات کر چکے ہیں، کہنا تھا کہ انتظامیہ اوباما دور کی اس شرط کو قائم رکھے گی کہ حملوں میں عام شہریوں کی کم سے کم ہلاکتوں کو ممکن بنایا جائے۔
ایک دوسرے میڈیا ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’سی آئی اے‘ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ڈرون حملوں کے اختیارات کو وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت سی آئی اے پاکستانی قبائلی علاقوں میں صرف القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’وائٹ ہاؤس، سی آئی اے کی اس درخواست کے حق میں نظر آتا ہے۔

انور اقبال

بشکریہ ڈان اردو

کیا تھی اور کیا ہو گئی

اگلے برس پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی ہے۔ اگر پاکستان کے ستر برس کی سیاسی تنظیمی تاریخ دیکھی جائے تو بس ایک ہی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کے کارکنوں نے ایوب خان سے ضیا الحق تک ہر تانا شاہی کو منہ دیا ، جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی، جلا وطنی اختیار کی اور کچھ جذباتی پرستاروں نے مسلح جدوجہد کا ناکام راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی۔ یہ سب مصائب اور سختیاں دراصل اس سیاسی شعور کو خراج تھا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی سب سے نمائندہ عوامی وفاقی جماعت پیپلز پارٹی کے ذریعے بھٹو اور ان کے جواں سال ساتھیوں کی اس کوشش کو پیش کیا گیا جس کے تحت سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑک اور گلی میں عام آدمی کے ہاتھ میں پہنچایا گیا اور اس عام آدمی نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محض ووٹر نہیں بلکہ اس ملک کی قسمت میں ایک اسٹیک ہولڈر بھی ہے۔

اگرچہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہی ہوا جو اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے یعنی پنیری کوئی اور لگاتا ہے پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تمام تر مزاجی و سیاسی کمزوریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات جھٹلانا خاصا مشکل ہے کہ بھٹو پہلی اور تیسری دنیا میں مملکتِ پاکستان کا پہلا جمہوری سویلین وزیٹنگ کارڈ تھا۔ اگر ایوب خانی آمریت ( جس کا بھٹو صاحب بھی حصہ رہے ) پاکستان کو صنعتی دور میں داخل کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو بھٹو دور پاکستان کو اسٹیل ، ایٹم ، متحرک خارجہ پالیسی اور ایک باقاعدہ آئینی دور میں داخل کرنے کا سہرا سر پہ باندھ سکتا ہے۔

اس پارٹی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس کے پاس نڈر، بے لوث اور خواب دیکھنے والے سیاسی کارکنوں ’’جیالوں ’’ کی سب سے بڑی افرادی قوت تھی۔ اس کا ثبوت ضیا الحق کی دس سالہ فوجی آمریت میں ہر طرح سے ملا۔ پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی مگر ایک بار ہی پانچ برس کی آئینی مدت پوری کر پائی ( یہ انہونی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہی ہوئی)۔ مگر وہ بھی اس وقت جب نہ بھٹو رہا نہ اس کی بیٹی۔ لیکن پانچ برس اقتدار میں ٹکے رہنے کی پیپلز پارٹی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ہو گیا جو کوئی ڈکٹیٹر پوری طاقت لگا کے بھی نہ کر پایا۔ یعنی 1970ء میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے پاپولر پارٹی جس کی جڑیں پورے ملک میں یہاں سے وہاں تک تھیں اور جو سیاست کو بند کمروں سے کھینچ کر فٹ پاتھ تک لائی تھی۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ وہی جماعت یہ سیاست فٹ پاتھ سے اٹھا کر پھر سے بند کمرے میں لے گئی اور صرف ایک صوبے یعنی سندھ میں قید ہو کے رہ گئی۔
وہ پیپلز پارٹی جو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ساٹھ سے زائد سر پھروں نے انچاس برس پہلے اینٹ اینٹ کر کے اٹھائی تھی اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں اسی لاہور کے چھ کے چھ حلقے پیپلز پارٹی کی جھولی میں پکے ہوئے انتخابی سیب کی طرح گرے تھے، اسی شہر لاہور میں نصف صدی بعد یہ حال ہے کہ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں جیتنے والی مسلم لیگ ن نے لگ بھگ باسٹھ ہزار ، مدِ مقابل تحریکِ انصاف نے لگ بھگ اڑتالیس ہزار ووٹ ، تیسرے نمبر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی لبیک پارٹی نے ساڑھے سات ہزار اور غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ کے آزاد امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ حاصل کیے۔جب کہ چوتھے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی نے چودہ سو چودہ ووٹ حاصل کیے۔لیکن ان انتخابی نتائج سے بھی کہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے حلقہ 120 میں پارٹی کی ’’شکست کے اسباب‘‘ جاننے کے لیے تنظیمی سطح پر تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے نو برس سے اس لیے حکومت کر رہی ہے کیونکہ اسے چیلنج کرنے کے لیے کوئی دوسری موثر مقامی یا وفاقی سیاسی پارٹی نہیں۔ شائد اسی واک اوور کا اثر ہے کہ خود احتسابی تو دور کی بات الٹا دماغ پہلے سے ساتویں آسمان پر جا پہنچا ہے۔ پارٹی چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ شہداد کوٹ کے باسیو، کان کھول کر سن لو، ایک ہی نعرہ ہے بھٹو کا نعرہ۔ ایک ہی نشان ہے یعنی تیر، سارے تماشے بند کرو اور صرف تیر کو ووٹ دو۔ اگر کسی کے سر میں کوئی اور خیال کلبلا رہا ہے تو اپنے دماغ سے فوراً نکال دے‘‘۔ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر برہان چانڈیو نے اپنے ووٹروں کی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا ’’ تم کون سا احسان کرتے ہو ہم پر۔ بس پانچ سال میں ایک بار ووٹ ہی تو دیتے ہو‘‘۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے اپنے حلقے میں مسائل بیان کرنے والے گستاخوں سے چند دن پہلے کہا ’’ تم ووٹ دینے نہ دینے کی مجھ سے بات نہ کرو میں ووٹ پر موتتا بھی نہیں‘‘۔ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی ایسے لوگوں کے قبضے میں چلی جائے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ لے دے کہ یہی تو ایک جماعت تھی جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی۔ اب اس نے بھی ووٹ کو جوتے کی نوک پر ( کہنا میں کچھ اور چاہ رہا تھا ) رکھنا سیکھ لیا ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ ویژن ہو تو پھر کسی بھی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا بنتا نہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جس گھر کے جس لان میں جنمی سنا ہے ڈاکٹر مبشر حسن کی ضعیفی ( خدا ان کا سایہ قائم رکھے ) کے سبب وہ لان جھاڑ جھنکار کے محاصرے میں ہے۔ اور کسی کو نہیں کم ازکم بلاول، بختاور اور آصفہ کو ضرور ایک بار یہ باغیچہ دیکھنا چاہیے جہاں ان کے نانا نے نصف صدی پہلے بیٹھ کر کچھ ضروری خواب دیکھے تھے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

وسعت اللہ خان