چين بھارت کی جنگ میں پاکستان کا ردِعمل کیا ہو گا ؟

حال ہی میں انڈیا کے فوجی سربراہ جنرل بیپن راوت نے کہا تھا کہ انڈین فوج ڈھائی محاذوں پر جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ بیپن راوت کے اس بیان پر انڈیا سمیت ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کی میڈیا میں بھی کافی توجہ دی گئی تھی۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا تھا کہ بیپن راوت نے چین، پاکستان اور انڈیا میں فعال باغی گروہوں سے جنگ جیتنے کی بات کہی تھی۔ پاکستانی میڈیا میں بھی بیپن راوت کا یہ بیان شہ سرخیوں میں آیا تھا۔ خیال رہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ دو ماہ سے ڈوكلام سرحد پر کشیدگی ہے۔ چینی میڈیا میں جنگ کی دھمکیاں مسلسل جاری ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ڈوكلام سرحد کی خلاف ورزی کی ہے۔

چین یہ بھی کہہ چکا ہے کہ انڈیا اپنے فوجیوں کو واپس بلا لے جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ چین وہاں سڑک کی تعمیر کا کام بند کرے۔ چینی میڈیا میں ہندوستان کو 1962 کی جنگ کی یاد دلائی جا رہی ہے جس میں انڈیا کو بری طرح سے شکست ہوئی تھی۔ کیا ہندوستان کو لگتا ہے کہ اگر چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو اسے پاکستان سے بھی لڑنا پڑے گا؟ ذرا غور کریں کہ سنہ 1962 کی انڈیا چین جنگ میں پاکستان کا کردار کیا تھا؟ کیا تب بھی پاکستان نے چین کا ہی ساتھ دیا تھا؟ اگر اب انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟

آزادی کے بعد انڈیا کی تمام جنگوں کے گواہ سینیئر صحافی کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘میں اس وقت لال بہادر شاستری (جو نہرو کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم بنے) کے ساتھ کام کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر چین کے ساتھ 1962 کی جنگ میں پاکستان ہمارے ساتھ آ جاتا تو ہم جنگ جیت جاتے۔ ایسے میں وہ ہم کشمیر بھی مانگتے تو ان سے نہیں کہنا مشکل ہو جاتا۔ انڈیا نے پاکستان سے مدد نہیں مانگی تھی، لیکن مدد کی توقع ضرور رکھتے تھے۔’ انھوں نے مزید بتایا کہ لال بہادر جی نے ان سے کہا تھا کہ ‘اس صورت حال میں میں نے ایوب خان سے پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی مدد کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اور اس جنگ میں پاکستان انڈیا کے ساتھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے میں نے جناح سے پوچھا تھا کہ اگر انڈیا پر کوئی تیسری طاقت حملہ کرتی ہے تو پاکستان کا رخ کیا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم انڈیا کے ساتھ ہوں گے۔ ہم ساتھ مل کر ڈریگن کو بھگا دیں گے۔ اس معاملے میں ان کا موقف بالکل واضح تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم دونوں بہترین دوست ہوں گے۔ جناح کہتے تھے کہ جرمنی اور فرانس میں اتنی لڑائی ہوئی تو کیا وہ دوست نہیں ہوئے۔’

پاکستان امریکہ کے دباؤ میں تھا؟
تو کیا چین انڈیا جنگ میں پاکستان غیر جانبدار تھا ؟ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں پروفیسر سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘اس وقت پاکستان پر محمد ایوب خان کی حکومت تھی۔ پاکستان امریکہ کے کافی دباؤ میں تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر کافی دباؤ ڈالا تھا کہ وہ انڈیا چین کے فرنٹ پر کچھ نہ کرے ۔ ‘ پروفیسر پانڈے بتاتی ہیں کہ اس وقت پاکستان نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ اس پر امریکہ کا دباؤ تھا۔ سنہ 1962 میں سرد جنگ کی آہٹ جنوبی ایشیا میں محسوس کی جا رہی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ‘پاکستان اور امریکہ میں دفاعی معاہدہ ہو چکا تھا اور وہ ویسٹرن الائنس نظام کا بھی حصہ بن گیا تھا۔ امریکہ نے 1962 کی جنگ میں انڈیا کی مدد کی تھی لہٰذا یہ بہت ممکن ہے کہ اس نے پاکستان کو روکا تھا۔’

1962 کی جنگ کو 55 سال ہو گئے ہیں۔ کیا اتنے سال بعد بھی انڈیا اور چین کی کشیدگي میں پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ کلدیپ نیر کہتے ہیں: ‘اس وقت بھی پاکستان میں یہی احساس تھا کہ چلو انڈیا کو چین اچھی طرح سے شکست دے رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں فرائیڈے ٹائمز کے مالک بی آر شیٹی انڈیا کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں انڈیا اور پاکستان دوستی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔’ نیر مزید کہتے ہیں: ‘اب انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کی صورت بنتی ہے تو پاکستان کھل کر انڈیا کے خلاف ہو گا۔ وہ جو بھی کر سکتا ہے کرے گا۔ پاکستان دوسرا مورچہ کھول کر سامنے آئے اس پر تو مجھے شبہ ہے، لیکن وہ چین کی مدد کرے گا۔

انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ چین کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو پاکستان اس کی طرف نہیں ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان پر اتنا دباؤ برقرار رکھے کہ وہ غیر جانبدار رہے۔’ جبکہ سویتا پانڈے کہتی ہیں: ’55 سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ پوری دنیا کی سیاست بدل گئی ہے۔ پہلے جو طاقت کا توازن تھا وہ آج نہیں ہے۔ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مختلف مسئلہ ہے اور چین کے ساتھ انڈیا کا مختلف مسئلہ ہے۔’

پاکستان چین دوستی انڈیا کے لیے باعث تشویش؟
پروفیسر پانڈے نے کہا: ‘پوری دنیا اس بات کو سمجھتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی انڈیا کے تعلق سے ہی ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے دو سرحدوں پر جنگ لڑنا کافی مشکل کام ہے۔ پاکستان کے رشتے تین محاذوں پر خراب ہیں۔ وہ انڈیا کے علاوہ ایران اور افغانستان سے بھی دوچار ہے۔ فوج کے سربراہ نے خواہ کوئی بیان دیا ہے، لیکن دو محاذوں پر جنگ لڑنا آسان نہیں ہے۔’
اب پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان اور چین کے رشتے بھی کافی گہرے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات مبینہ طور پر خراب ہیں۔ ایسے میں کیا 1962 کی طرح 2017 میں بھی پاکستان پر امریکہ کا دباؤ کام کرے گا ؟ سوتا پانڈے کہتی ہیں: ‘ہم جب بھی جنگ یا کشیدگی کی بات کرتے ہیں تو بیرونی طاقت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ بیرونی طاقت کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان امریکہ کے دباؤ میں آ کر کچھ نہیں کرے گا۔ پھر بھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان پر امریکہ کا اثر ہے۔’

دو محاذوں پر جنگ کس قدر مشکل؟

انڈیا نے 1962 کے بعد 1965 کی جنگ لڑی تھی۔ سویتا پانڈے کہتی ہیں کہ ‘پاکستان نے یہ سوچا تھا کہ ہندوستانی فوج کا حوصلہ پست ہے اور ایسے وقت میں حملہ کیا تو انڈیا کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ پاکستان کا یہ اندازہ بالکل غلط تھا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔’ پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ 1965 کی جنگ پاکستان کے لیے عبرت تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب پاکستان براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار کو ترجیح دیتا ہے۔ تو کیا 1962 کی جنگ سے ہی پاکستان کو تحریک ملی تھی کہ وہ انڈیا کو ہرا سکتا ہے؟

اس کے جواب میں پروفیسر پانڈے کہتی ہیں کہ اس دلیل میں دم ہے اور پاکستان نے ایسا سوچا تھا۔ انھوں نے کہا: ‘پاکستان کو لگا تھا کہ یہ اچھا موقع ہے اور وہ کشمیر میں اتھل پتھل کرا سکتا ہے۔ 1962 میں پاکستان اور چین کے تعلقات ویسے نہیں تھے جیسے آج ہیں۔ 1962 کی لڑائی کے بعد ہی پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ 1963 میں پاکستان نے انڈیا کے علاقے چین کے حوالے کر دیے تھے۔ 1962 کی جنگ کے بعد ہی پاکستان اور چین کے درمیان دوستی بڑھی تھی۔’
پاکستان میں چین کی جس طرح موجودگی ہے ایسی صورت میں کیا دونوں ممالک حالت جنگ میں ساتھ نہیں آئیں گے؟ جے این یو کے جنوبی ایشیائی سٹڈیز کے پروفیسر پی لاما کہتے ہیں: ‘پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک اور قراقرم ہائی وے کا جو تعلق ہے اس کا انڈیا مخالف ہے۔ انڈیا کی مخالفت اس لیے ہے کہ چین نے بغیر انڈیا کی اجازت کے کے او پی سے راستہ بنا لیا تھا۔’

رجنیش کمار
بی بی سی ہندی، دہلی

سانحہ 17 اگست : جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی حادثہ یا سازش ؟

17 اگست 1988ء کو اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور میں ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے طیارے C-130 میں سابق جنرل اختر عبدالرحمن اور امریکی سفیر رافیل سمیت 30 افراد سوار تھے جو سب کے سب راہی اجل ہوئے۔ اس وقت کے امریکی ترجمان فلس اوکلے کے مطابق طیارہ بہاولپور میں تقریباََ 4:30ََ منٹ پر یعنی پرواز کے دس منٹ بعد تباہ ہو گیا۔ سب لوگ بہاولپور میں ایم ون ٹینک کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد واپس راولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے تو حادثہ پیش آگیا۔

پاکستانی سرکاری بیان کے مطابق طیارہ فضا میں 4 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی کریش کر گیا۔ ایک چشم دید گواہ کے مطابق اس سہ پہر فضا میں طیارے میں سے دھواں بلند ہوا اور پھر وہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حادثے کے بعد دس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور جائے حادثہ سے ملنے والی ضیاء الحق کی باقیات کو فیصل مسجد اسلام آباد میں دفنایا گیا۔ اس وقت کے امریکی نائب صدر بش نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ صدر ضیا ہمارے دوست تھے اور ان کی موت ایک المیہ سے کم نہیں ہے‘‘۔ جائے حادثہ پر امریکی فرانزک ماہرین نے تحقیقات بھی کیں۔ اس دور میں بعض افراد نے کہا کہ طیارے کو ایک سازش کے تحت فضا میں تباہ کیا گیا ، کچھ نے کہا کہ اس میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔

طیارے میں سوار بعض افراد پر بھی شک کیا گیا کہ وہ بھی خود طیارے کی تباہی کی سازش میں ملوث تھے لیکن ان کے بھی کریش میں جاں بحق ہونے کے بعد مزید تحقیقات ممکن نہ رہیں اور فائل بند کردی گئی ۔ کچھ عرصے بعد ایکسپلوڈنگ مینگوز کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی لیکن مصنف کسی واضح سازش کی طرف نہ پہنچ سکا ۔ یہ ضرور تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہوا تھا کیوں کہ ہائی پروفائل طیارے کا حادثہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اسے صرف تکنیکی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ایجنسی موساعد کا نام بھی لیا گیا۔ ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ پاکستان نے افغان جنگ میں روسی مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا اس لئے روس بھی ضیاالحق کیخلاف سازش کر سکتا ہے ۔

مذہبی جماعتیں افغان جنگ کی وجہ سے ان کے قریب ہوئیں اور پاکستان امریکی مدد کے ساتھ روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اسی افغان جنگ سے پھر طالبان نکلے اور انہوں نے کچھ عرصہ بعد افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ’’ ان کے والد کا طیارہ کریش ہونا بہت بڑی سازش تھی‘‘ ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضیاالحق کے کئی اقدامات سے ان کے بہت سے عالمی اور مقامی دشمن پیدا ہو چکے تھے۔ ضیا الحق 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کوختم کر کے برسر اقتدار آئے تھے، انہوں نے90 دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ ایفا نہ ہو سکا۔احتساب کا نعرہ لگا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔

نظریہ ضرورت بھی اسی دور میں سامنے آیا جس کے تحت عدالت عظمیٰ نے ان کی حکومت کو جائز قرار دے دیا تھا ۔ بھٹو کو پھانسی دے کر انہوں نے اپنے ممکنہ سیاسی حریف سے چھٹکار تو پا لیا لیکن اس سے خود ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔ مارشل لا ء کے نفاذ کے بعد جسٹس یعقوب علی کو ہٹا کر ان کی جگہ پر جسٹس (ر) انوارلحق کو چیف جسٹس بنانے کیلئے (سابق) صدر فضل الہٰی پر پریشر ڈالا گیا۔ آئین میں کچھ اسلامی شقیں شامل کیں جن میں 62,63 ( صادق امین) کی شقیں آج بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے اقتدار منتخب نمائندوں کو سپرد کرنے سے پہلے19 دسمبر 1984 ء کو ایک صدارتی ریفرنڈم کرایا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعے سابق صدر کو بے پنا ہ اختیارات مل گئے۔ جن میں 58 ٹو بی بھی شامل تھی جس کے تحت صدر اسمبلی اور وزیراعظم کو برطرف کر سکتا تھا۔

ان کے دور میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے اور جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ ان کی حکومت کو 58 ٹو بی کے ذریعے ختم کیا گیا۔ سب سے اہم بات کہ اس دور میں ایٹم بم بنانے کا پروگرام جاری رکھا گیا جسے غیر ملکی طاقتوں نے اسلامی بم کا نام دیا۔ معاشی میدان میں انہوں نے بھٹو کے نیشنلائزیشن پروگرام کے برعکس کارپوریٹ پروگرام متعارف کروایا اور کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طرف توجہ دی گئی۔ان کے دور میں تحریک آزادی کشمیر کو تیز تر ہو گئی جس پر بھارت سیخ پا ہوا۔ اسی دور میں پاک بھارت تعلقات کو نارمل کرنے کیلئے کرکٹ ڈپلومیسی کا بھی آغاز ہوا ۔

حدود آرڈیننس کا اجرا بھی اسی دور میں ہوا، اور مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کیلئے بنائی جانے والی پالیسی نے معتدل طبقوں کو ناراض کیا ۔ان کے ان اقدامات سے معاشرہ میں انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ۔ اپنے دس سالہ دورا قتدار میں ضیاء الحق نے ملکی اقتدار پر بھرپور طریقے سے گرفت مضبوط کرلی تھی۔ انہوں نے ملک میں اپنے طور پر اسلامائزیشن کے لئے اقدامات اٹھائے جن کو مختلف طبقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا جھکائو عرب ممالک کی طرف زیادہ رہا اسی لئے انہوں نے نصاب میں عربی زبان کو شامل کیا۔ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انہوں نے مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کو آگے لانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ان طبقات کے ذریعے سے اپنی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔

سیاست کو دبایا گیا جس سے مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا۔ نئے مدارس بنے اور شریعہ قانون کو نافذ کیا گیا۔ کلچرل پالیسی بنائی گئی جس میں ڈراموں میں خواتین کیلئے اورخاتون نیوز کاسٹر کیلئے دوپٹہ پہننا لازمی قرار دیا گیا ۔ افغان جنگ بھی ان ہی کے دور میں ایک بڑا اہم موڑ تھا جب پاکستان ایک ایسی جنگ میں کود پڑا جس کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح پاکستان واضح طور پر روس کے خلاف امریکی کیمپ میں چلا گیا جس کے بدلے میں امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔

 طیب رضا عابدی

جنرل مشرف : قانون کی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی

مغرب نے دوست بن کر ترکی کو کس طرح دھوکا دیا ؟

ترکی میں گذشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس واقعے میں کم از کم ڈھائی سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس موقعے پر ترک صدر طیب اردوغان نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام عائد کیا۔ برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے کہا ان ممالک نے ترکی کی دوستی کو دھوکا دیا اور یہ انتظار کرتے رہے کہ بغاوت کا کیا نیتجہ نکلتا ہے۔ انھوں نے کہ کچھ ممالک نے تو فتح اللہ گولن کے ساتھیوں کو پناہ تک دے دی۔ انھوں نے بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں پر کی گئی تنقید کو مسترد کرنے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی جمہوریت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

صدر اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹے سے بال بال بچا تھا اور آج وہ عین اسی وقت پارلیمان سے خطاب کریں گے جب گذشتہ برس یہ بغاوت ہوئی تھی۔ فوج کے ایک حصے نے صدر رجب طیب اردوغان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔ اس کے بعد سے حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا ہے اور یہ سلسلہ آج ایک برس پورا ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔ ترک حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ یہ برطرفیاں سیاسی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت کا حامیوں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

تاہم ان برطرفیوں اور 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی گرفتاریوں نے حزبِ اختلاف کو مزید تحریک دے دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اردوغان اس بغاوت کے بعد ابھرنے والے جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔
گذشہ ہفتے لاکھوں افراد نے استنبول میں اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف 450 کلومیٹر طویل ‘انصاف مارچ’ میں حصہ لیا تھا۔ اس مارچ کے منتظم اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما کمال کلیچ داروغلو نے بغاوت کی مذمت کی مگر کہا کہ اردوغان نے اس کے بعد سے ایک اور ‘بغاوت’ شروع کر رکھی ہے۔ صدر نے اس مارچ میں حصہ لینے والوں کو دہشت گردی کے حامی قرار دیا تھا۔ اس دن کو سالانہ قومی تعطیل کے طور پر منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ صدر اردغان استنبول میں باسفورس کے پل پر ایک جلسے سے خطاب کریں گے۔ اسی مقام پر گذشتہ برس لوگوں نے باغی فوجیوں کا راستہ روکا تھا۔

اس پوسٹر پر ان لوگوں کی تصویریں ہیں جو بغاوت کے دوران مارے گئے تھے
ترک حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ اس ناکام بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے۔ فتح اللہ گولن اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی ترکی کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ استنبول میں جگہ جگہ بڑے بورڈ لگے ہیں جن میں لوگوں کو فوج سے نبرد آزما ہوتے دکھایا گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

آمنہ کی تلاش : مسلسل جہدو جہد کے بارہ سال

آمنہ کی کہانی،،،.ان کی زبانی
اپنے شوہر مسعود کی بازیابی کے لیے میری جہدوجہد کو بارہ سال ہو گئے ہیں. پوری ایک دھای سے زیادہ کا عرصہ ھو گیا ھے. گویا بارہ سال کا غم ایک لمحے میں سمٹ آیا. مگر آج بھی کسی خفیہ قید خانے میں ہیں. بارہ سال درد کی ایک ٹھیس جیسے پہلے کبھی نہیں تھی. درد کے اس حساس نے میری روح کو جلا کر راکھ کر دیا ھے. مگر اپنی ہی راکھ سے گویا دوبارہ پیدا ھو کر میں ایک نئے ارادے جزبے اور جرات سے آشنا ھوئی ھوں. میرا ایمان ھے ان شاہ اللہ یہ کالی رات ایک دن ختم ھو گی میرا شوہر مجھے مل جاے گا.

میراشوہر کا تعلق رولپنڈی سے ھے.ان کے والد آرمی سے کرنل کے رینک سے فارغ ھوے تھے، مسعود راولپنڈی کے تعلیمی اور کاروباری حلقوں کی ایک معروف شخصت تھے، وہ ایک شفیق باپ اور بے مثل شوہر اور اپنے بوڑے ماں باپ کے فرمابردار بیٹا تھے. سچا محب وطن اور قوم کی تعمیر کے جذبے سے سرشار تھے. 30 جولای 2005 سے ان کو جبری اغوا کیا گیا. میں نے آج تک ایک دن بھی آرام نہیں کیا. میں طاقت کے ایوانوں کا ہر دروازہ کھکھٹایا. مقدمے کیے. وکیل کی طرح لڑی ہزروں مظاہرے ریلیاں نکالی اور دھرنے دے چکی ھوں.

اقوام متحدہ کے ہیومن رایٹس کولسل میں بھی خطاب کیا میں نے مسعود اور دوسرے جبری گمشدہ افراد کی باریابی کے لیے دنیا بھر کا سفر کیا اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے ضمیر کوجنجھوڑا . مسعود کی باریابی کی جہدوجہد بارہ سال داستان کا اختتام نہیں ھے بلکہ یہ ایک نئی شروعات ھے . اگر آپ نے کسی دل سے چاہا ھے تو میرے جذبات اور درد کو سمجھ سکتے ہیں. میری سب پاکستانیوں سے استدھا آپ ایک جبری طور پر جدا کہے گھے خاندان کے لیے آواز اٹھائیں آپ کی سچای اور اخلاق سے بھرپور آواز دور تک حکمرانوں کے ایوانوں تک جاے گی،، اور ایک بکھرے ھوے خاندان کو اکٹھا کرنے میں مدد گار ھو گی.
،،،،،،،،،،،،،،قوم کی بیٹی کا سوال،،
،،،سب پاکستان کے نام،،،

آمنہ مسعود جنجوعہ

چیرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رایٹس

برہان وانی کی شہادت کا ایک سال

بھارتی میڈیا، اسرائیلی میڈیا، امریکی میڈیا، یورپی میڈیا حتی کہ پاکستان کے پٹھو میڈیا نے برہان وانی کا تعلق لشکر طیبہ یا جماعت الدعوہ سے نہیں جوڑا،۔ کسی نے اسے مقبو ضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیموں سے وابستہ نہیں کیا، بس وہ ایک عام سا کشمیری نوجوان تھا، اس کے بھائی کو بھارتی دہشت گرد فوج نے گولیوں سے بھون دیا تھا، اس کا باپ ایک اسکول ماسٹر تھا، وہ بھی بچوں کو درسی کتابیں پڑھاتا اور گھر آجاتا، برہان وانی کے بھائی کو اس کی آنکھوں کے سامنے بھارتی فوج نے گولیوں سے شہید کیا تو اس کا خون کھول اٹھا، وہ گھنے جنگلوں کی طرف نکل گیا۔

برہان وانی خالی ہاتھ تھا مگر اس نے اپنے دیس کی آزادی کے لئے سوشل میڈیا کا محاذ چن لیا، وہ ا ٓزادی کا پرچار کرتا تھا، یہ آزادی ا س کا بنیادی حق تھا، اس حق کو امریکہ نے بھی استعمال کیا اور برطانوی استعمار کو مار بھگایا، اس حق کو نیلسن منڈیلا نے بھی استعمال کیا اور سفید فام استعمار اور استبداد سے نجات پائی، اس حق کو یاسر عرفات نے بھی استعما ل کیا اور وہ اسرائیل کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا رہا۔ الجزائر اور انگولا نے آزادی کی تحریک چلائی تو میں نویں جماعت میں تھا اور فیض احمد فیض کا لیل و نہار پڑھتا تھا جو ان ممالک کے حریت پسندوں کے حق میں آواز بلند کرتا تھا۔

برہان وانی نے آزادی کے حق میں آواز بلند کی، اس کے ہاتھ میں اسلحہ نہیں تھا مگر پوری وادی کشمیر کے نوجوان اس کے پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے تھے، بھارت نے اس آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کے لئے جنگلوں کا محاصرہ کیا اور برہان وانی کو شہید کر دیا۔ برہان وانی غیر مسلح تھا جبکہ بھارتی فوج دہشت گردی کے لئے ہر ہتھیار سے لیس تھی، مسئلہ شہادت پر رکا نہیں، اس کی لاش کو سری نگر کے بازاروں میں گھمایا گیا اور ٹی وی اسکرینوں پر بار بار د کھایا گیا، بھارت کا پیغام یہ تھا کو جو کوئی برہان وانی کے نقش قدم پہ چلے گا، اس کے خلاف اسی قسم کی دہشت گردی کی جائے گی۔

مگر بھارتی فوج کے اندازے غلط ثابت ہوئے، وہ کشمیری نوجوانوں کو خوف زدہ کرنے میں ناکام رہی، پہلے تو برہان وانی اکیلا تھا، اب وادی کشمیر کے سبھی نوجوان سروں پہ کفن پہن کر باہر نکل آئے، تاجروں نے دکانیں بند کر دیں، سرکاری ملازمین نے دفاتر کا بائیکاٹ کر دیا، ایک سری نگر کیا، کشمیر کے سارے شہر اور قصبے سنسان ہو گئے، صرف بھارتی فوج کے بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ یا گولیوں کی تڑ تڑاہٹ۔ اور پھر سار اکشمیر اچانک ابل پڑا، اور آزادی، آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا، بھارتی فوج نے اس احتجاج کو دبانے کے لئے نیا حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ لیا ، وہ پیلٹ گنوں سے فائر کرنے لگا جس سے تین سالہ بچی سے لے کر نوجوانوں اور بوڑھوں تک کی آنکھیں ضائع ہونے لگیں، کشمیر کے سارے ہسپتالوں کے برآمدے ان زخمیوں سے بھر گئے۔ یہ سب کشمیری تھے۔

کشمیری حریت پسندوں کو اس حربے سے بھی دھمکایا نہ جا سکا۔ آزادی کے نعرے گونج رہے تھے اور بھارتی فوج کے حوصلے پست ہو رہے تھے، اسنے بزدلوں کی طرح غیر مسلح اور بے گناہ کشمیریوں کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ برہان وانی کی شہادت کو ایک سال ہونے والا ہے، سات جولائی کو اس کا یوم شہادت ہے اور کشمیریوں کے جذبے ہمالہ کی چوٹیوں کی طرح بلند وبالا ہیں۔ سات جولائی سے تیرہ جولائی تک شہیدوں کی یاد منانے کا اعلان کیا گیا ہے، تیرہ جولائی کا دن بھارتی بربریت کے دن کے طور پر برسوں سے منایا جا رہا ہے، اس روز بھارتی فوج نے پہلی مرتبہ کشمیریوں کے سینے چھلنی کئے تھے اور سڑکوں پر شہیدوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ برہان وانی کی شہادت سے جنم لینے والی تحریک کو بھارت بیرونی تحریک نہیں کہہ سکا ۔ اس تحریک کا کوئی تعلق آل پارٹیز حریت کانفرنس ے بھی نہیں ہے مگر سبھی لیڈر خواہ علی گیلانی ہوں ، یا میر واعظ یا مسرت عالم یا آسیہ اندرابی، سبھی نے شہیدوں کے کفن کو پرچم بنا لیا ہے ۔

مجھے معلوم ہے کہ پاکستان میں جو شخص بے گناہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرے گا، اسے حافظ سعید کے انجام تک پہنچا دیا جائے گا، مگر مجھے اس انجام سے کوئی خوف اور ڈر نہیں ، اس لئے کہ میرے مرشد کو کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے سے کوئی خوف اور ڈر نہیں تھا، انہوں نے برملا کہا تھا کہ انہیں ایک ایٹمی میزائل کے ساتھ باندھ کر جموں میں بھارتی فوج کی چھائونی پر داغ دیا جائے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرے مرشد نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی انہیں دہشت گرد سمجھتا ہے تو بڑے شوق سے انہیں گوانتا نامو بے میں لے جا کر پنجرے میں بند کر دے ۔

اور مجھے اس وقت زیادہ حوصلہ ملتا ہے جب مجھے یہ یاد آتا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا، کس کس کو دہشت گرد کہو گے، کہہ لو جس کو بھی کہنا ہے مگر ہم کہتے رہیں گے کہ کشمیر میں دہشتگرسی کی مجرم بھارتی فوج ہے اور بھارتی ریاست ہے، اسے ختم ہونا چاہئے، بربریت کا یہ سلسلہ ستر سال سے جاری ہے، فرعو ن نے بڑے مظالم کئے، بخت نصر ایک جابر حکمران تھا، ہلاکو اور چنگیز نے لاشوں کے ڈھیر پر تخت سجایا، ہٹلر کو ہولو کاسٹ کا مجرم کہا جاتا ہے مگر بھارت نے جبر اور قہر اور دہشت گردی کے سارے ریکارڈ مات کر دیئے ہیں، اور ساری دنیا بھارت کی اس دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، وزیر اعظم نوازشریف نے یو این او میں بھارت کے اس ظلم کا پردہ چاک کیا مگراس ادارے کے ارکان نے سنی ان سنی کر دی، آج مظلوم کشمیری یکہ و تنہا ہیں۔ کہنے کو پاکستان نعرے بہت لگاتا ہے مگر کشمیر میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، تسلسل سے جاری ہے، کسی وقفے کے بغیر جاری ہے اور واحد مسلم ایٹمی طاقت خاموش تماشائی ہے، صرف خاموش تماشائی ہوتی تو کشمیریوں کی آس پھر بھی باقی رہتی، اب تو پاکستان میں جو شخص کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کرتا ہے، اسے حافظ سعید بنا دیا جاتا ہے ۔

مگر یاد رکھیں کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے، پاکستان میں ایک لفظ کشمیر کا شامل ہے۔ اس لفظ کو شامل کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا پڑے گا ورنہ جارحیت اور دہشت گردی پہ مائل بھارت ، مستقل طور پر پانی بند کر دے گا، اب بھی وہ ہماری ضرورت کے وقت پانی بند کر دیتا ہے اور جب ضرورت نہ ہو تو ڈیموں کے منہ کھول دیتا ہے ا ور پاکستان کوسیلاب میں غرق کر دیتا ہے، پاکستان یہ نقصان برداشت کرنے کے قابل نہیں مگر آفریں ہے کشمیریوں کی کہ وہ جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں اورا ٓزادی ، آزادی کے نعرے لگا تے ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے عزم کو دہراتے ہیں۔ بھارتی لیڈر پاگل پن میں کہتے ہیں کہ ایٹم بم مار کر ان کا قصہ ہمیشہ کے لئے پاک کردو۔ کوئی ان کی نسل کشی کے منصوبے پروان چڑھا رہا ہے یہی کچھ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا۔

برہان وانی کی شہادت کو ایک سال بیتنے کو ہے، سات جولائی سر پہ ہے، آئے ہم اس شہید اعظم کو یاد رکھیں۔ زبانی کلامی ہی سہی ! اسے خراج عقیدت پیش کریں، اس کے لئے چند آنسو تو بہا لیں ۔ اس نوجوان نے کشمیری تحریک حرہت کو ایک نئی جہت عطا کی، اب اس تحریک حریت کو بیرونی بیساکھیوں کی قطعی طور پر ضرورت نہیں، اب حافظ سعید کو ہم مستقل طور پر بند رکھ سکتے ہیں ۔ کشمیری نوجوان حافظ سعید کے پیغام حریت کوحرز جاں بنا چکے ۔

پاکستان کی کل فوج سات لاکھ نہیں، بھارت کی سات لاکھ فوج صرف کشمیریوں کے سروں پر سنگینیں تان کر کھڑی ہے۔ سات جولائی سے تیرہ جولائی تک شہیدوں کی یاد منائی جائے گی۔ کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، کشمیری شہدا کو سلام پیش کیا جائے گا۔ جو اپنے بل بوتے پر، اغیار کی مدد کا خیال ترک کر کے سر پہ کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہ غیر مسلح ہیں، مگر ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہی یہ ہے کہ وہ غیر مسلح ہیں۔ وہ بے گناہ ہیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کانعرہ ہے آزادی ، یہ آزادی انہیں ملنی چاہئے۔

 اسد اللہ غالب

الجزیرہ کی کہانی

الجزیرہ عرب دنیا کا آزاد ٹی وی چینل ہے، جس کی نشریات عربی اورانگریزی میں ہوتی ہیں۔ الجزیرہ کی نشریات دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس کی عربی کی نشریات مشرق وسطیٰ میں دیکھی جاتی ہیں اور انگریزی زبان کے چینل دیکھنے والے پاکستان، افغانستان، ایران، بھارت، وسطی ایشیائی ممالک، چین، یورپ اور امریکا میں بھی موجود ہیں۔ الجزیرہ قطر کے شاہی خاندان نے قائم کیا تھا۔ یوں تو قطر میں ایک مطلق العنان بادشاہت قائم ہے مگر قطر کے حکمرانوں نے ایک آزاد ٹی وی چینل قائم کر کے اپنے پڑوسی امارات کو مشکل میں ڈال دیا۔
برطانیہ کے صحافی ہیو ملز نے الجزیرہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس کا نام انھوں نے Inside story of The Arab News Channel that is challenging the West رکھا۔ ہیو ملز کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کے ناظرین کی تعداد 50 ملین سے زیادہ ہے۔ الجزیرہ کے قیام کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ گزشتہ صدی کی 90ء کی دہائی کے ابتداء میں سعودی عرب کے شاہ فہد کے ایک قریبی رشتے دار نے بی بی سی کے اشتراک سے ایک چینل قائم کرنے کے لیے کمپنی ORBIT کے نام سے قائم کی تھی۔

اس کمپنی کا مقصد بی بی سی کی ورلڈ سروس کی نشریات کو عربی زبان میں پیش کرنا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں بی بی سی کی اردو کی نشریات تو عرصہ دراز سے دیکھی جاتی تھیں مگر اس علاقے میں انگریزی سمجھنے والے افراد کی تعداد کم تھی، یوں عربی زبان کی نشریات کا معاملہ مختلف تھا۔ بی بی سی کے حکام نے یہ شرط رکھی کہ عربی چینل کی پالیسی وہی ہوگی جو بی بی سی انگریزی چینل کی ہے، یوں 22 مارچ 1994ء کو بی بی سی اور اورینٹ میں 10 سالہ نشریات کا معاہدہ ہوا۔ مگر کچھ برسوں بعد اوریئنٹ کمپنی کو بی بی سی کی نشریات پر اعتراضات پیدا ہوئے۔ بی بی سی اورکمپنی کے درمیان معاہدہ ختم ہو گیا اور 20 ستمبر 1994ء کو یہ سروس بند ہو گئی۔ بی بی سی عربی سروس کے اچانک بند ہونے سے 250 پیشہ ور عربی صحافی بے روزگار ہو گئے۔

اس دوران الجزیرہ کے قیام کا خیال قطری حکمرانوں کے ذہن میں آیا اور بی بی سی سے فارغ ہونے والے 120 صحافی الجزیرہ میں شامل ہو گئے۔ الجزیرہ کی انتظامیہ نے فلسطینی صحافیوں کو ترجیح دی۔ فلسطینی صحافیوں کے بارے میں تصورتھا کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں اور بی بی سی سمیت میڈیا کے اداروں میں کام کرتے رہے ہیں۔ الجزیرہ کے منتظم مصطفی کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کے آپریشن اور بی بی سی کے آپریشن میں فرق تھا۔ الجزیرہ نے عربی زبان میں 24 گھنٹے نشریات کا فیصلہ کیا تھا۔ عربی صحافیوں کو بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا چینل کے معیارکے برابر اپنے مواد کو تیار کرنا تھا۔ الجزیرہ نے پہلے ایک عربی سیٹلائیٹ کے ذریعے 6 گھنٹے کی نشریات کا آغاز کیا، جنوری 1997ء میں نشریات کا دورانیہ 8 گھنٹے ہوا اور پھر 24 گھنٹے ہو گیا۔ نومبر 1997ء میں الجزیرہ اس پوزیشن میں آ گیا کہ دنیا کے دیگر چینل سے مقابلہ کر سکے۔الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی چینلز میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ الجزیرہ کے انتظامی، ادارتی اور تکنیکی معاملات مکمل طور پر عربوں کے پاس ہیں اور الجزیرہ کے لیے ساری سرمایہ کاری بھی قطر نے کی ہے، یوں الجزیرہ پر بظاہر غیر عربیوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔

الجزیرہ کی خبروں کے علاوہ ٹاک شوز نے بھی خصوصی شہرت حاصل کی۔الجزیرہ کے ٹاک شوز لندن اور دیگر شہروں سے پیش کیے جاتے ہیں، یوں مختلف پس منظر رکھنے والے ماہرین کے خیالات ناظرین کو سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان ٹاک شوز میں دو مہمان ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد خیالات رکھتے ہیں۔ الجزیرہ کا ایک ٹاک شو Opposite Direction بہت مقبول ہوا۔ تاہم الجزیرہ کے ان پروگراموں کے خلاف عرب ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے۔ Opposite Direction میں سابق صدر کرنل قذافی کے ایک مخالف نے انھیں ڈکٹیٹر قرار دیا تھا تو لیبیا نے قطر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ اسی طرح حماس کے ایک رہنما کے انٹرویو نشر ہونے پر فلسطینی اتھارٹی نے الزام لگایا کہ فلسطین اتھارٹی کا امیج خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح تیونس، بحرین اور ایران کی حکومت ان پروگراموں سے ناراض ہوئی۔

شام کے صدر اسد نے الجزیرہ کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دے دیا۔ جب الجزیرہ نے صدر صدام کے دور میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بناء پر عراق میں غذائی قلت پر ڈاکیومنٹری بنائی تو صدام کا خیال تھا کہ اس سے ان کے اقوام متحدہ کے خلاف مؤقف کو تقویت ملے گی مگر جب الجزیرہ نے صدام کی سالگرہ کی تقریبات کی کوریج کی تو وہ ناراض ہو گئے تھے۔ الجزیرہ والے کہتے ہیں کہ اگرچہ چینل کی فنڈنگ قطر کی حکومت کرتی ہے مگر یہ اسی طرح کرتی ہے جیسے برطانیہ کی حکومت بی بی سی کی کرتی ہے مگر بی بی سی کی طرح الجزیرہ اپنی انتظامی اور ادارتی پالیسی بنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں آزاد ہے۔ الجزیرہ نے یکم فروری 1999ء کو تین مختلف چینلز سے 24 گھنٹے نشریات شروع کی۔ اس کے ملازمین کی تعداد 500 تک پہنچ گئی تھی اور عرب ممالک کے علاوہ روس اور امریکا میں بھی اس کے بیورو قائم ہوئے۔

ایرانی ٹی وی چینل سے تہران میں بیورو کھولنے کا معاہدہ ہوا۔ اسی زمانے میں چینل نے اسرائیلی کیبل کمپنی سے معاہدہ کیا۔ انگریزی کے ڈیجیٹل چینل ایک ڈاکیومنٹری کے چینل کے ساتھ اسرائیل میں آباد عربوں کے لیے علیحدہ چینل شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ افغانستان پر طالبان حکومت نے 2000ء میں الجزیرہ اور سی این این کو پیشکش کی تھی کہ وہ کابل میں اپنے بیورو قائم کریں۔ سی این این نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا مگر الجزیرہ نے کابل میں بیورو قائم کرنے کا فیصلہ کیا، یوں افغانستان کی صورتحال کو الجزیرہ نے بہتر انداز میں کور کیا۔ اکتوبر 2000ء میں فلسطین میں دوسری انتفاضہ شروع ہوئی۔ مقبوضہ عرب علاقوں میں فلسطینیوں نے اسرائیل کے اقتدار کو چینلج کیا۔ انتفاضہ کے واقعات کی کوریج کے اسرائیل، مقبوضہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں مختلف نتائج برآمد ہوئے۔

2003ء میں رام اللہ میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید ال عمری نے دنیا کا سب سے خطرناک کام انجام دیا۔ انھوں نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مرنے والے ہزاروں فلسطینیوں کی لاشوں کو دکھایا اور دنیا کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔ پھر یہ بھی خبریں شایع ہوئیں کہ اسرائیلی وزیراعظم اوروزیرخارجہ کسی دوسری عرب چینل کے مقابلے میں الجزیرہ کو مسلسل دیکھتے ہیں۔ 2001ء میں اسرائیل کے وزیراعظم نے الجزیرہ کوایک طویل انٹرویو دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے انٹرویو میں انتفاضہ کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ انھوں نے پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی علاقے میں تشدد کو رکوائیں۔ الجزیرہ نے فلسطین اور اسرائیل میں اس انٹرویو پر انعامات حاصل کیے مگر اسرائیلی وزیراعظم انتخابات میں شکست کھا گئے۔ اسرائیل کی نئی حکومت نے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ الجزیرہ کی نشریات کی بناء پر انھیں میڈیا وار میں شکست ہوئی،اس بناء پر اسرائیلی حکومت نے ایک انگریزی اورعربی کے چینل کے لیے فنڈ فراہم کیے تاکہ الجزیرہ کا جواب دیا جا سکے۔

اس زمانے میں فلسطینی اتھارٹی اور یاسرعرفات الجزیرہ کی کوریج سے ناراض ہوئے۔ یاسرعرفات کو شکایت تھی کہ اس چینل نے ایک ڈاکومنٹری میں یاسر عرفات کی زندگی کے بارے میں امیج کو بگاڑا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے الجزیرہ پر پابندی لگا دی اور الجزیرہ کے رپورٹرزکی آمدورفت محدود کر دی۔ نائن الیون کی دہشتگردی کے واقعے کے بعد الجزیرہ کے نیویارک بیوروکو ایک فیکس موصول ہوا۔ اسامہ بن لادن کے دستخط سے جاری ہونے والے فیکس میں نائن الیون کی دہشتگردی کے واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا گیا اورکہا گیا کہ یہ انفرادی کارروائی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ افغانستان میں ہیں مگر وہ طالبان کے قانون کے پابند ہیں، امریکا نے اس تردید کو مسترد کر دیا تھا۔ اسامہ نے کئی دفعہ الجزیرہ کو بیان جاری کیے۔

ان بیانات میں انھوں نے امریکا کی عراق میں پیش قدمی پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ مغربی میڈیا نے الجزیرہ کے اسامہ کے فوٹیج کو مسلسل استعمال کیا۔ الجزیرہ نے افغانستان میں اتحادی فوج کے حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے واقعات کو براہِ راست کور کیا جس سے امریکا اورالجزیرہ کے تعلقا ت کشیدہ ہو گئے۔ کابل میں الجزیرہ کے دفترکے قریب 227 کلو گرام کے دو امریکی بم گرائے گئے۔ دفتر میں کوئی موجود نہیں تھا، یوں جانی نقصان نہیں ہوا۔عراق جنگ کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔ عراق جنگ میں الجزیرہ کے کئی رپورٹر جوعراق کے شہروں میں کام کر رہے تھے زخمی ہوئے۔ امریکی انتظامیہ نے قطرکی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ الجزیرہ کو بند کیا جائے۔ الجزیرہ نے مصر، لیبیا، شام، یمن اور باقی عرب دنیا کے واقعات کو بھی اسی طرح کور کیا جس سے حقائق ظاہر ہوئے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان