ایم کیوایم ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہوئی؟

سال 2013 تک ایم کیوایم ایک مضبوط اور منظم ترین جماعت تھی لیکن اب بکھر رہی ہے اورعملی طور پر4 دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، یہ شہرمیں ’سیاسی انتشار‘ کی علامت ہے کیونکہ اِن دھڑوں کی خالق جماعت نے بھی ایم کیوایم (پاکستان) کے اندر کی خراب صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور تیاری کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ایم کیوایم (پاکستان) کا تھا لیکن غلط وجوہات کیلئےافراتفری اور تقسیم کی وجہ سے اپنی ہی جماعت میں مزید پریشانی پیدا کر دی گئی اور دیگر سیاسی جماعتیں آخری دھچکے کا ’انتظار‘ کر رہی ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی، جن کا کراچی کی سیاست میں کردار ہے انھوں نے اپنی مہم اور رکنیت سازی کی مہم تیز کر دی ہے۔ کراچی کےامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے بروز سوموار اعلان کیا کہ پارٹی کراچی کیلئے ایک ’متبادل منصوبہ‘ پیش کرے گی۔ لہذا اب ہر جماعت کی نظر قومی اسمبلی کی 20 یا 21 اور صوبائی اسمبلی کی 51 سیٹوں پر ہے۔

پی پی پی سندھ سے سینٹ کی 8 سے 10 نشستوں کے اضافے کیلئے پُرامید ہے۔ انھیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کے دونوں دھڑے اپنی منظوری کیلئے اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی پوزیشن بہترہے لیکن کیا ان کے پاس اتنے ایم پی ایز ہیں کہ وہ سینٹ کی کم از کم ایک یا دو سیٹیں نکال سکیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ قانونی جنگ جو بھی جیتے، ہار صرف ایم کیوایم کی ہی گی ، اور فائدہ تیسری پارٹی کا ہو گا۔ اگر ایم کیوایم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو اپنے قائد یا بانی کے بعد رابطہ کمیٹی سب سے طاقتور آرگن ہے۔

سن 1984 سے 1992 تک ایم کیوایم کے پاس سیاسی سیٹ اپ تھا اوررابطہ کمیٹی کی بجائے اس کے پاس سینٹرل ورکنگ کمیٹی، چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگرعہدیدارتھے۔ آرمی آپریشن کے بعد اس کی سینٹرل باڈی ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ رابطہ کمیٹی بنا دی گئی۔ بائیس اگست 2016 کے بعد حادثاتی طور پرایم کیوایم (پاکستان) نےایک الگ سیاسی شناخت کے ساتھ جنم لیا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پارٹی نقصان کی بھرپائی کی کوشش کی لیکن جو دبائو اس کے کنوینئر ڈاکٹرفاروق ستار پر ڈالا گیا وہ اسے برداشت نہ کر سکے۔ جب انھوں نے اور دیگر نے ایم کیوایم (پاکستان) کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے نرمی کی امید کر رہے تھے۔

انھوں نے ایم کیوایم کے بانی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی اور بغاوت کرنے پر اُن کے خلاف ٹرائل کا مطالبہ کیا لیکن وہ ایم کیوایم لندن سے مبینہ تعلقات کے ’شکوک‘ زائل نہ کر سکے۔ پھر انھیں ایم کیوایم کا نام ترک کرنے کیلئے دبائو کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر وہ نئی جماعت یا گروپ بنا لیتے تو انھیں ریلیف مل جاتا۔
ایک جانب انھیں اسٹیبلشمنٹ کے چند حلقوں کی جانب سے دبائو کا سامنا تھا اور دوسری جانب حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عملی طور پر تمام اختیارات لے لیے اور میئرکراچی اور نظام کو بے اختیار بنا دیا لہذا ایم کیوایم (پاکستان) اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کے نام مقدمات اور انکوائریوں سے نکلوا سکی اور نہ ہی اپنے بے روزگار کارکنوں کو نوکریاں دلوا سکی۔ ان کے چند دفاتر کھول دیئے گئے لیکن انھیں سیکٹر اور یونٹس کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نائن زیرو سے خورشید میموریل ہال اور جناح گراؤنڈ تک سب ایم کیوایم کیلئے ’نوگوایریا‘ رہے۔ ایم کیوایم (پاکستان) کو اپنی خدمتِ خلق فائونڈیشن بھی آزادانہ طور پرچلانے کی اجازت دی گئی نہ ہی ’چندہ‘ جمع کرنے دیا گیا۔ سیاسی محاذ پر مرکز میں موجود پی ایم ایل اور سندھ میں پی پی پی نے ایم کیوایم سے دوری بنائے رہی اور یقین دہانی کے باوجود انھیں حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس کے باعث ایم کیوایم (پاک) کے اندر سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہو گیا اور اس کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور دیگرعہدیداران پریشان ہو گئے۔ بعض اوقات اُن کے رہنماوں کو اُن غیر سیاسی لوگوں کی میٹنگز میں بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا، جو ایم کیوایم کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ چند ماہ میں ایم کیوایم کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز، سیکٹرز اور یونٹس نےایم کیوایم (پاک) سے پی ایس پی کی جانب اپنی وفاداریاں تبدیلی کرنا شروع کر دی یا بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔

مظہر عباس

Advertisements

فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی نے ایک دوسرے کو فارغ کر دیا

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں ایک ہفتے سے جاری اندورنی خلفشار کا آخر کار ڈراپ سین ہو گیا۔ رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار نے ایک دوسرے کو مائنس کرتے ہوئے الزامات کی بارش کر دی۔ پہلے رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کر کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو کنوینر نامزد کیا اور تھوڑی دیر بعد فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ روز بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے بہادر آباد میں عامر خان، خالد مقبول صدیقی اور نسرین جلیل سمیت دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے دھوکے بازی کی۔

فاروق ستار پر کئی چارجز ہیں ، رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار کی کوتاہی سے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) ایک فلاحی ادارہ ہے، فارو ق ستار اس کے چیف ٹرسٹی ہیں، لیکن کے کے ایف تباہ ہو گئی، رابطہ کمیٹی کہتی رہ گئی لیکن کچھ نہ کیا گیا، پورا کراچی سمجھا جا رہا تھا لیکن فاروق ستار سمجھنے کو تیار نہ ہوئے۔

بعدازاں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی اور تمام شعبہ جات کا نمائندہ اجلاس ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا نام بحیثیت کنوینر نامزد کیا جس کے بعد کنور نوید جمیل نے اس تجویز پر اجلاس کے شرکاء سے رائے لی تو متفقہ طور پر اجلاس نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو بحیثیت کنوینر منتخب کیا۔ بعد ازاں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے اپنی سبکدوشی کے اعلان کے بعد پی آئی بی کے ایم سی گراؤنڈ میں کارکنوں کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے جوابی وار کرتے ہوئے بطور سر براہ رابطہ کمیٹی سمیت تمام تنظیمی ڈھانچے کو فارغ کر کے ان کے تمام اختیارات کو ختم کر دیا ہے اور انٹر پارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کیا۔

ایم کیو ایم میں ہونے والی توڑ پھوڑ جہاں سیاسی حلقوں میں دل چسپی کا باعث ہے وہی ایم کیو ایم کے کار کنوں، ووٹرز اور مہاجر عوام میں مایوسی اور بدلی کا باعث ہے۔ اہم سیاسی حلقوں نے ایم کیو ایم پاکستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ کراچی میں کسی بھی قیمت پر امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

فاروق ستار مشکل میں

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار واپس لینے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے بھی سبک دوش کرنے کا اعلان کر دیا. کنور نوید جمیل نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ فاروق ستار پر کئی الزامات ہیں اور ان کی غفلت کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پوری رابطہ کمیٹی نے مل کر فاروق ستار کو پارٹی رہنما بنایا تھا اور وہ 22 اگست سے پہلے بھی پارٹی کے رہنما تھے لیکن انھوں نے رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی آئین میں تبدیلی کی۔

فاروق ستار کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستارنے دھوکے سے پارٹی آئین تبدیل کر کے خود کو سربراہ بنایا اور اب فاروق ستار ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر نہیں رہے کیونکہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کےاعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے کہا کہ فاروق ستار اب ہماری پارٹی کے کارکن ہیں، اور اگر فاروق ستار اپنی اصلاح کرتے ہیں تو وہ دوبارہ کنوینر بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صورت حال کی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہے، ہماری کوشش تھی گھر کی بات گھر میں رہے۔

کنورنوید جمیل نے کہا کہ فاروق ستار پر بہت سارے الزامات ہیں، ان کی غفلت کی وجہ سے ایم کیو ایم کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن منسوخ ہوئی، بار بار توجہ دلانے کے باوجود فاروق ستار نے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ ان کی تمام تر توجہ این جی او بنانے پر رہی ہے۔ کنورنوید نے کہا کہ کامران ٹیسوری کی رابطہ کمیٹی میں شمولیت پرتمام اراکین نےاعتراض کیا تھا۔ ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بڑی مشکل سے کیا گیا ہے اور اگر اس وقت یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو پھر اگلے انتخابات کے بعد ایوان ٹیسوریوں سے بھرا ہوتا۔

رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار میں اختلافات بڑھ گئے

رابطہ کمیٹی اراکین اور فاروق ستار میں اختلافات ختم نہیں ہو سکے بلکہ مزید بڑھ گئے۔ سینیٹ کی نشستوں کے لیئے رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار اپنے اپنے امیدواروں کے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ ترجمان فاروق ستار کہتے ہیں اب کاغذات جمع کرانے کے بعد مشاورت ہو گی۔ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ آپ بھی فارم جمع کرا دیں ہم بھی کرا دیتے ہیں جبکہ آپ سربراہ کو آئین دکھا رہے ہیں تو کیا دو تہائی اکثریت سے آپ سربراہ کو فارغ کرنا چاہتے ہیں؟ اور اگر دو تہائی اکثریت آپ کے پاس ہے تو جو چاہے فیصلہ آپ کر لیں۔

فاروق ستار جو اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے گھر سے نکل کر بہادر آباد جانے والا تھا ، سیڑھیاں اترتے ہوئے جیسے ہی پریس کانفرنس کا معلوم ہوا میں نے انہیں روکنے کا کہا، میں آنے کے لیے تیار تھا، منع نہیں کیا تھا، مگر پریس کانفرنس کر دی گئی، اتنی جلدی کیا تھی۔ صحافی کے سوال کے جواب میں فاروق کا کہنا تھا کہ میں نے بھی پریس کانفرنس روکنے کی پرچیاں بھجوائیں مگر نہیں روکی گئی، عامر خان کی دعوت پر بہادر آباد جانے کا فیصلہ ساتھیوں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریس کانفرنس کر کے ناموں کا اعلان کر دیا تو میرے پاس گنجائش نہیں بچی، میرا انتظار نہیں کیا گیا، سینیٹ کی سیٹوں کے لیئے ناموں کا اعلان کر کے غلطی کی گئی، جوابی پریس کانفرنس کر کے تسلیم کریں کہ جو کہا غلط کہا اور بدتمیزی کرنے والے کا نام بتائیں، جس پر نظم و ضبط کے مطابق کارروائی ہو گی۔

فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو کے دوران کینیڈا سے حیدر عباس رضوی کا فاروق ستار سے فون پر رابطہ، فون پر گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے حیدر عباس کو جھڑ ک دیا کہا کہ آپ نے بھی بہادر آباد کو سپورٹ کرنے کا کہا ہے اور کینیڈا میں بیٹھ کر پارٹی بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے بہت سارے ایسے اراکین ہیں جو سرکاری ملازم ہیں جبکہ انتخابی قوانین میں وہ کسی پارٹی کے عہدیدار نہیں ہو سکتے اور اگر رابطہ کمیٹی کے ان دس ناموں کو نکال دیا جائے تو کیا بچے گا ؟ انہوں نے کہا کہ بار بار آئین دکھا رہے ہیں، اجلاس غیر آئینی تھا کیونکہ میری اجازت نہیں تھی، پریس کانفرنس میں پہلے دن کی پوزیشن مستحکم کی گئی، تقسیم کی جانب کون لے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا فیصل سبزواری بھائی نے بہت سی کڑوی کسیلی باتیں کیں ہیں، فیصل سبزواری کی باتوں سے دل آزری ہوئی جس سے صدمہ ہوا، فیصل سبزواری کی پریس کانفرنس میں شدید غصہ، میری پریس کانفرنس میں صدمہ نظر آئے گا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میرے ذہن میں بھی آٹھ دس نام تھے، مگر آپ نے تو اعلان کر دیا کہ فارم جمع کرانے جا رہے ہیں، ہم ابھی فیصلہ کرتے ناموں کا، آپ نے تو اعلان کر دیا۔ سربراہ ایم کیوایم پاکستان نے مزید کہا کہ کنور نوید کہہ رہے تھے کہ فاروق بھائی آرہے ہیں آپ پریس کانفرنس نہ کریں، میرے ساتھی نادانی میں غیر آئینی اجلاس میں ہونے والے غیر آئینی فیصلوں کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر میں کسی ساتھی نے رابطہ کمیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی تومیں معافی مانگتا ہوں،مجھے نام بتائیں جس نے گالیاں دیں، میں خود معافی منگواوں گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ کراچی

پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

موروثی یا خاندانی سیاست پاکستان میں ایک منفی اصطلاح کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رکن اسمبلی جہانگیر خان ترین کی نااہلی کے بعد انہی کے بیٹے علی ترین کو ان کی خالی نشست کیلئے نامزد کیا تو عمران خان پر بھی موروثی سیاست کی حمایت کرنے کے الزامات لگے۔ حالانکہ عمران خان کے اپنے خاندان کا کوئی فرد یا ان کے بیٹوں میں سے کوئی بھی اس وقت سیاست میں نہیں ہے۔ جب کہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی قومی سیاست پر، قومی وسائل پر، نجی یا قومی شعبے میں تاریخی وجوہات کی بنا پر اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے۔ تاہم اس اجارہ داری کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مختلف انداز، زاویے اور درجے ہوتے ہیں اور ان تمام باتوں کا ان ممالک کے سماجوں کی ترقی، تعلیم اور معیشت طے کرتی ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں موروثی سیاست کا کردار زیادہ ہو گا جبکہ صنعتی معیشت میں کم۔

بے نظیر بھٹو کی پر تشدد موت نے بلاول کو کم عمری میں بڑا لیڈر بنا دیا۔ موروثی سیاست یا قیادت صرف بڑے خاندانوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز سیاست معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی بہت زیادہ مروج ہے۔ ایک خاندان کی اجارہ داری صرف قومی یا صوبائی اسمبلیوں تک ہی محدود نہیں، مقامی حکومتوں میں بھی امیدواروں کی شرح موروثی سیاست کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ میڈیا پر بیٹھ کر موروثی یا خاندانی سیاست کو برا بھلا تو کہا جاتا ہے مگر عملاً اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمینٹ اینڈ اکنامک آلٹرنیٹوز کے محقق، ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ساتھیوں (حسن جاوید، اور محمد فاروق نصیر) نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تھا۔ ان کے مطابق، امریکی کانگریس میں 1996 میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد تھا، بھارت کی لوک سبھا میں 2010 تک 28 فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا۔ (کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے۔)

انہی محقیقن کے مطابق، موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریباً 400 خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازیاں کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے مطابق 1985 کے انتخابات سے 2008 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔ اور تاحال یہ حالات بدلے نہیں ہیں۔ اب بھی زیادہ تر خاندانی سیاست میں بیٹوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، پھر بھتیجوں کا نمبر ہے اور سب سے کم دامادوں کا حصہ ہے۔ بیٹیوں کا حصہ شاذ و نادر نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ موروثی یا خاندانی سیاست دان 2008 کے انتخابات تک قومی اسمبلی کا پچاس فیصد رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ “الیکٹ ایبلز” امیدوار ڈھونڈے اور اس طرح نئی جماعت بھی موروثی سیاست سے بچ نہیں پاتی ہے۔

نواز شریف کا سیاسی کردار ان کے والد کی خواہش کی وجہ سے شروع ہوا۔ مریم نواز کے مسلم لیگ میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے جماعت کے اندر کشیدگی بڑھی۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں نئے امیدوار انتخابات میں آئے مگر ان ہی میں سے نئے آنے والوں میں سے چند ایک نے اپنی نئی حاندانی سیاسی اجارہ داریاں قائم کر لیں۔ جرنیلوں کے بچوں نے انتخابات لڑ کر اپنی اجارہ داریاں بنانے کی کوششیں کیں ہیں۔ یعنی فوجی حکمرانوں نے موروثی قیادت کو کمزور نہیں کیا۔ اس لئے اس سے یہ بات نظر آتی ہے کہ نئی قیادت کے آنے سے ضروری نہیں ہے کہ موروثی سیاست یا خاندانی سیاست کا نظام کمزور ہو گا۔ اسی تحقیق میں یہ بھی نظر آیا کہ موروثی سیاست جاگیرداروں کے طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاست میں آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری طبقے بھی اپنے اپنے وارث سیاست میں لیکر آئے اور اس طرح انھوں نے موروثی سیاست کی روایت کو جلا بخشی۔ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امیدواروں کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط تو رکھی تھی مگر جب انھوں نے جوڑ توڑ کی سیاست کی تو سیاسی خاندانوں کے گریجویٹ چشم و چراغ پھر سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔

پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان بشمول نواز شریف، چوہدھریز آف گجرات، ٹوانے، قریشی، گیلانی، جنوبی پنجاب کے مخدوم اور اقتدار میں رہنے والے جرنیلوں کے بچے، نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں بھی براہ راست ان ہی کے خاندان کے افراد یا ان سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔ نواز شریف کی اپنی بیٹی، مریم نواز کو مسلم لیگ کا لیڈر بنانے کی کوشش بھی ان کی جماعت میں کشیدگی بڑھنے کی ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔ شدت پسند اور کالعدم مذہبی جماعتوں میں سوائے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے، کسی میں موروں سیاست نہیں ہے۔ مگر جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن اپنے والد مفتی محمود کی وجہ سے لیڈر بنے، جبکہ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کے بعد ان کی بیٹی قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔

موروثی یا خاندانی سیاست کی یہی حالت صوبہ خیبر پختون خواہ کی ہے جہاں اس وقت بڑا سیاسی خاندان پرویز خٹک کا ہے، روایتی طور پر وہاں بڑا سیاسی خاندان خان عبدالولی خان کا رہا ہے۔ ہوتیوں کا خاندان، سیف اللہ کا خاندان، یوسف خٹک کا خاندان، ایوب خان کا خاندان اور مولانا مفتی محمود کا خاندان اس موروثی سیاست سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد کا خاندان بھی جماعت اسلامی میں موروثی سیاست کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ سندھ میں کیونکہ سیاست زیادہ تر جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے تو وہاں موروثی سیاست معاشرتی طور پر بہت زیادہ مضبوط ہے۔

سندھ میں عموماً موروثی سیاست کے حوالے سے بھٹو خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ تاہم وہاں، زیادہ تر سیاسی رہنما موروثی لیڈر ہی ہوتے ہیں۔ البتہ بھٹو خاندان کے بارے میں یہ کوئی بات نہیں کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو موروثی سیاست نہیں ملی تھی۔ وراثت کے لحاظ سے ممتاز بھٹو کو سیاست کرنا تھی اور اگر بھٹو کی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو بے نظیر بھٹو کے لیڈر بننے کے امکانات بہت ہی کم تھے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی اپنی پر تشدد موت نے ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی جس کی وجہ سے قیادت ان کے بیٹے کو ملی۔ تشدد اور مارشل لا وغیرہ نے پیپلز پارٹی میں موروثی سیاست کو مضبوط کیا۔

بے نظیر بھٹو کو ان کے والد نے اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی مگر وہ انھیں بین الاقوامی سیاست میں لانا چاہتے نہ کہ پاکستان کی قومی سیاست میں۔ مگر مارشل لا اور پھر بھٹو کی پھانسی نے حالات بدل دیے۔ بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی، زہری، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک، سابق وزیر اعلیٰ، کے علاوہ ڈاکٹر اللہ نذر کی زیر قیادت قوم پرست بلوچ لبریشن آرمی ایسی ہے جہاں فی الحال موروثی قیادت نظر نہیں آتی ہے۔

سوائے ڈاکٹر اللہ نذر کی بلوچ لبریشن آرمی کے، بلوچستان میں سیاسی قیادت قبائلی نظام کی وجہ سے موروثی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ شدت پسند تنظیمیں، لشکر طیبہ، جماعت الدعوٰۃ، جماعت اہل سنت والجماعت اور تحریک طالبان پاکستان میں تاحال موروثی سیاست نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن تحریک نفاذ شریعت محمدی میں موروثی قیادت واضح طور پر نظر آتی ہے کیونکہ صوفی محمد کے داماد فقیر اللہ نے قیادت سنبھال لی۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے محقیقین، عبدالقادر مشتاق، محمد ابراہیم اور محمد کلیم کے مطابق، موروثی سیاست کے بارے میں ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں اس لئے انہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے۔

پاکستان میں موروثی سیاست یا خاندانی سیاست و قیادت نہ صرف اعلیٰ سطح پر مروج ہے بلکہ کونسلر کی سطح کے انتخابات میں بھی لوگ عموماً ایک ہی خاندان سے وابسطہ امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔ پھر ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ موروثی سیاست ان معاشروں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن میں جمہوری روایات پھلی پھولی نہیں ہوتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں گاہے بگاہے جمہوری نظام میں مداخلت کرتی رہتی ہیں (بھارتی پنجاب میں اگر موروثی یا خاندانی سیاست کا حصہ 28 فیصد ہے تو پاکستانی پنجاب میں 53 فیصد)۔ تاہم اب ایک رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں کمزور ہو رہی ہے۔

روزا بروکس اپنی کتاب A Dynasty is not Democracy میں کہتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے جبکہ ایک طاقتور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کر سکتی ہے۔

ثقلین امام
بی بی سی اردو، لندن

سابق سفیر حسین حقانی کےخلاف غداری کے مقدمات درج

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف فوج اور ملک مخالف تقاریر، مضامین اور کتابیں تحریر کرنے کے الزام میں غداری کے تین مقدمات دو تھانوں میں درج کر لیے گئے۔ یہ مقدمات گذشتہ روز مومن، محمد اصغر اور شمش الحق کی مدعیت میں تھانہ کینٹ اور تھانہ بلی ٹنگ میں درج کیے گئے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تھانہ بلٹی ٹنگ پولیس نے بتایا کہ اصغر نامی شہری نے ایف آئی آر میں بیان دیا کہ حسین حقانی نے امریکا میں بطور سفیر بھارتی جاسوسوں اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کو ویزے جاری کیے۔

اصغر نے موقف اختیار کیا کہ حسین حقانی نے اپنی تصنیف کردہ کتابوں میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جو انہیں غدار ثابت کرتی ہیں۔ پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120 بی اور 121 اے کے تحت مقدمات درج کر لیے، خیال رہے کہ دفعہ 120 بی مجرمانہ سازش تیار کرنے اور 121 اے پاکستان کے خلاف جنگ چھڑنے کے حوالے سے ہے۔ پولیس حکام کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق حسین حقانی کو فوری طور پر تھانوں میں حاضر ہونا چاہیے ورنہ انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حسین حقانی نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم تحریر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں انہوں نے اوباما انتظامیہ کی مدد کی جبکہ حکومت پاکستان اور خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) تمام حالات سے بے خبر تھی۔
انہوں نے اپنے مضمون میں امریکیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

حسین حقانی نے لکھا تھا کہ ‘اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے، 3 سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی تھی’۔ اس حوالے سے امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر عابدہ حسین نے حسین حقانی کے حالیہ مضمون کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بنانے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سفارتی ویزوں کے اجرا کے حوالے سے حسین حقانی کے بیانات سے ‘پاکستان کے ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے’۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز وائز’ میں گفتگو کرتے ہوئے عابدہ حسین نے کہا تھا کہ ‘ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حسین حقانی کے اس مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ بات کوئی وزن نہیں رکھتی، سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں حسین حقانی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کر کے ایک نہایت غلط اقدام اٹھایا تھا۔ میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔

یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔ اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکیورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔ کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ‘حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی’۔

کیا چین اور روس ‘دہشت گردی’ سے بڑھ کر خطرہ ہیں ؟

واشنگٹن نے چین اور روس کی بڑھتی ہوئی عسکری ‘جارحیت’ کو اپنے لیے سب سے بڑا قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے نئی قومی دفاعی حکمت عملی میں دونوں ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی بجٹ میں اضافے کا فیصلہ کر لیا۔
امریکا کے سیکریٹری دفاع جنرل جیمز میٹس نے کہا کہ ‘ہم دہشت گردوں کے خلاف مہمات جاری رکھیں گے لیکن اب امریکا کی قومی سلامتی میں بڑی طاقتوں (چین اور روس) کے ساتھ عسکری مسابقت ترجیحات کی حامل ہو گی’۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جنرل جیمز میٹس نے واضح کیا کہ شام اور عراق میں کالعدم تنظیم داعش کی نام نہاد خلافت کو شکست دی جا چکی ہے تاہم داعش، القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیمیں تاحال عالمی خطرہ ہیں۔ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساؤتھ چائنا سمندر میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور دنیا بھر میں اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ سے امریکا کو سخت پریشانی لاحق ہے۔

خیال رہے کہ اس ضمن میں امریکا الزام لگا چکا ہے کہ بیجنگ سائبر حملوں کے ذریعے واشنگٹن میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے معلومات چوری کر رہا ہے۔ اس سے قبل امریکا اپنے سب سے بڑے حریف روس کے پڑوسی ملک یوکرین اور خلیجی ملک شام میں عسکری طاقت کے ذریعے دخل اندازی سمیت امریکا کے 2016 میں ہونے والے انتخابات میں چھڑ چھاڑ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ پینٹاگون سے جاری 11 صفحات پر مشمتل دستاویزات میں حکمت عملی سے متعلق کہا گیا کہ امریکا اپنے عسکری امور پر غیر معمولی تبدیلی کا خواہاں ہے۔

ڈپٹی اسسٹنٹ ڈیفنس سیکریٹری ایلبریج کولبے نے کہا کہ ‘ہم گزشتہ 25 سالوں سے بہت کچھ کر رہے ہیں اور اب ہماری موجودہ حکمت عملی کا مرکز عسکری صلاحیت پر ہی مرکوز رہے گا’۔ پینٹاگون کے دستاویزات میں تحریر کے مطابق موجودہ حکمت عملی کی بنیاد جنگ میں عسکری تیاریوں خصوصاً بڑی طاقوں کے مقابلے پر مشتمل ہو گی’۔ واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں ڈیفنس چیف نے مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اور اقتصادی اثرو رسوخ پر خبردار کرتے ہوئے ایشیا پیسیفک خطے میں مزید جنگی بیڑے اور فوجیوں کی تعیناتی کی تجویز پیش کی تھی۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا موجودہ فیصلہ گزشتہ انتظامیہ کی تجویز سے مماثلت رکھتا ہے تاہم ‘سب سے پہلے امریکا’ کا نعرہ گزشتہ حکمت عملی میں شامل نہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا کے اتحادی اور شراکت دار ممالک اہم حیثیت رکھتے ہیں جن کی موجودگی سے اضافی صلاحیت اور خطے میں رسائی ممکن ہوتی ہے ۔ ایلبریج کولبے نے کہا کہ ‘یہ سال 1999 نہیں جب کوئی کہے گا کہ امریکا خود سے کچھ نہیں کر سکتا، تاہم اب یہ حقیقت پسندانہ سچائی ہے کہ ہمیں مل کر اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا تاکہ مثبت انداز میں مثبت نتائج حاصل ہو سکیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا دہشت گردی پہلی ترجیح نہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘دہشت گردی ایک اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور ایران اور شمالی کوریا اس معاملے میں ہنگامی مسئلہ ہیں۔

اسرائیل بالی وڈ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

نیتن یاہو نے بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بھارت کے ساتھ سفارتی روابط کے پچیس برس مکمل ہونے پر ایک تقریب میں شرکت کے لیے دلی آئے تھے تاکہ وہ اسے یادگار بنا سکیں۔ روایت کے برعکس خود وزیراعظم نریندر مودی نے ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کے ساتھ ایک سو تیس افراد پر مشتمل اسرائيلی تاجروں کا ایک وفد بھی بھارت میں تھا۔ اس چھ روزہ دورے کے دوران انہوں نے دلی سمیت احمدآباد، آگرہ اور ممبئی جیسے شہروں کا دورہ کیا جس کے تعلق سے میڈیا میں بہت سی ملاقاتوں اور معاہدوں کا ذکر رہا۔

لیکن اس میں سب سے اہم دورہ ممبئی کا تھا جہاں انہوں نے ہوٹل تاج محل میں ‘شلوم بالی وڈ’ کے نام سے ایک خاص پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام میں اداکار امیتابھ بچن، ان کے صاحبزادے ابھیشیک بچن، بہو ایشوریا رائے، ہدایت کار سبھاش گھئی، کرن جوہر اور امیتیاز علی جیسی کئی معروف فلمی شخصیات موجود تھیں۔ نیتن یاہو نے اس موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بالی وڈ کو پسند کرتی ہے اور اسرائیل کو بھی بالی وڈ سے پیار ہے۔ میں خود بالی وڈ سے پیار کرتا ہوں۔‘‘ امیتابھ بچن سمیت دیگر بالی وڈ کی شخصیات نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔

تاہم بینجمن نیتن یاہو ابتدا سے آخر تک بھارت اور اسرائیل کی دوستی اور تعلقات کی ہی قسمیں کھاتے رہے۔ انہوں نے پروگرام کے اختتام پر کہا، ’’میں ان تعلقات کے حوالے سے اتنا جذباتی ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر بھارتی اور اسرائیلی شہری دونوں ملکوں کے درمیان غیر معمولی دوستی سے واقف ہو۔ اس کے لیے میرے ذہن میں ایک خیال ہے، سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصاویر میں سے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں لی گئی وہ تصویر بھی ہے جس میں بریڈ پٹ سمیت کئی اہم شخصیات ایک ساتھ ہیں، تو اسی طرز پر ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ کے تمام سیلیبریٹیز اور پروڈیوسرز ایک سیلفی کے لیے سٹیج پر ایک ساتھ جمع ہوں، تاکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اس دوستی کو دیکھ سکیں۔‘‘ انھوں نے آسکر طرز کی ہی ایک سیلفی لی جو بھارتی میڈیا کی سرخی بنی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب اسرائیل نے بھارت کی معروف فلم انڈسٹری کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان کے اس دورے سے پہلے بھی اسرائیل بالی وڈ کو ا پنی طرف راغب کرنے کی کئی کوششیں کر چکا ہے اور اسرائیل میں بالی وڈ کی فلموں کی شوٹنگ کے لیے اشتہار بھی شائع ہوئے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں ہی بالی وڈ کے فلمسازوں پر مشتمل ایک وفد نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا جس میں معروف فلم ڈائریکٹر امتیاز علی بھی شامل تھے۔ اس کی دعوت اسرائیلی حکومت نے دی تھی اور اہتمام اس کی وزارت خارجہ کے محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ بالی وڈ اپنی فلمیں ان کے ملک میں بھی شوٹ کرے اور اس کے لیے انہوں نے بطور خصوصی رقم کا بھی اہتمام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ خصوصی ثقافتی رشتے قائم کرنے کی جو کوششیں ہیں اس میں بالی وڈ بہت اہم ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا، ’’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ آئيں اور آپ کو مزيد مالی امداد درکار ہو تو وہ بھی ہم مہیا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ اسرائیل میں ہو۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اداکار اور فلمساز نتن یاہو کے پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، انہیں سکیورٹی چیک پر ایک عام بالی وڈ فلم کے دورانیے سے بھی زیادہ وقت تک کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہی سوال ڈی ڈبلیو نے پروفیسر مونیش الگ سے پوچھا، جو معاشیات کے ماہر ہیں لیکن بالی وڈ کی سیاست پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’حالیہ دنوں میں اسرائیل کے تعلق سے عالمی سطح پر جو واقعات پیش آئے اس سے یہ واضح ہے کہ معاشی اور دفاعی نکتہ نظر سے مضبوط ہونے کے باوجود اسرائیل اپنی بیجا پالیسیوں کے سبب مقبول نہیں ہے بلکہ معتوب ہے اس لیے تہذیبی اور ثقافتی سطح پر اپنی مقبولیت کے وہ تمام راستوں کی تلاش میں ہے۔ اسرائیل کو معلوم ہے کہ بالی وڈ کی فلمیں سینٹرل اور جنوبی ایشیا سے لیکر مشرقی وسطی تک مقبول ہیں اور وہ اس کی مدد سے ثقافتی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔‘‘

پروفیسر مونیش کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا،’’بھارت میں اس وقت ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت کی حکمرانی ہے اور نتن یاہو تو اس سے بھی آگے ہیں، تو دونوں میں نظریاتی اتحاد کمال کا ہے۔ یہ سیاست میں موقع پرستی کی بہترین مثال ہے کہ ہر صورتحال کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بھارتی فلمی صنعت بھی مالی مفاد کے لیے ماضی میں موقع پرستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ تو خاموشی سے اور بتدریج تہذیب و ثقافت میں سرائیت کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ آخر فلمیں شبیہہ کو بگاڑنے اور درست کرنے میں بھی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ تجارتی نکتہ نظر سے بھی اہم ہے اور اسرائیل اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو یہ ایک تیر سے تین شکار والی بات ہے۔‘‘

ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں اسرائیل کی جانب سے ایک ویڈیو بھی پیش کی گئی جس میں حیفہ، ایلات، مسادا، یروشلم اور تل ابیب کے کئی ایسے مقامات بھی پیش کیے گے جہاں فلموں کی شوٹنگ ممکن ہے۔ اسرائیل فلموں میں ان مقات کی تشہیر سے اپنی سیاحت کو بھی فروغ دینے کا ادارہ رکھتا ہے۔ اس موقع پر بینجمن نیتن یاہو نے معروف فلم ساز کرن جوہر اور اپوروا مہتا کو اسرائیل میں پہلی بار فلم شوٹ کرنے کے لیے ایک یادگار پیش کی۔ واضح رہے کہ کرن جوہر کی آنے والی فلم ’ڈرائیو‘ کا ایک نغمہ چند ماہ قبل تل ابیب میں شوٹ کیا گيا تھا۔ یہ فلم ترون منسکھانی نے ڈائریکٹ کی ہے جس میں سشانت سنگھ راجپوت اور جیکلین فرناڈیز جیسے اداکاروں نے کام کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے یہ کہ بالی وڈ کا کون سا ہدایت کار پہلی بار اپنی فلم کا بیشتر حصہ اسرائیل میں شوٹ کرتا ہے اور وہ اسے کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

بشکریہ DW اردو

 

دہلی اور تل ابیب قربتیں ۔ کیا کہہ رہی ہیں

مسلمانوں کے ازلی دشمن یہود وہنود راز و نیاز کر رہے ہیں۔ دہلی اور تل ابیب میں فاصلے گھٹ رہے ہیں۔ دہلی ایئرپورٹ پر یاہو مودی بغل گیری جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ضرور بگاڑے گا۔ مودی پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں جنہوں نے اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ یاہو پچھلے 15 سال میں پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں جو چھ دن کے دورے پر بھارت آئے ہوئے ہیں۔ اس دورے کے ایجنڈے میں عسکریت سرفہرست ہے۔ اس کے بعد تجارت، ویسے تو عسکریت بھی اب ایک تجارت ہی بن چکی ہے۔ اسرائیل سے اب تک بھارت ایک ارب ڈالر کا اسلحہ سالانہ لے رہا ہے۔ اسرائیل بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والوں میں ابھی چوتھے نمبر پر ہے۔ پہلے نمبر پر آنے کی اس کی تمنّا ہے۔ اسی لئے 100 اسرائیلی کمپنیوں کے 130 نمائندے یاہو کے ساتھ دہلی میں اُترے ہیں۔ آتے ہی وہ بھارت میں پھیل گئے ہیں۔ بھارت کی مختلف بڑی کمپنیوں سے معاہدہ کر رہے ہیں۔ بھارت کے لئے سب سے زیادہ کشش ڈرون بنانے والے گروپ ’’ایروناٹک ڈیفنس سسٹم‘‘ میں ہے۔

اسرائیل اور بھارت دونوں ہمارے اتحادی امریکہ کے نک چڑھے ہیں۔ بلکہ ہماری آج کل کی زبان میں امریکہ کے لاڈلے ہیں۔ دونوں میں کئی امور قدر مشترک ہیں پہلی امریکہ کی سرپرستی۔ دوسری ہمسایوں سے دشمنی۔ ہمسایوں کو چین سے نہ رہنے دینا۔ دونوں میں سب سے اہم قدر مشترک مسلم دشمنی۔ مودی بہت ہی استقامت اور توجہ سے اپنے ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر ایک چائے والے سے لے کر غاروں، جنگلوں، تہہ خانوں، آشرموں، مندروں سے ہوتے ہوئے پردھان منتری بھون تک پہنچنے والے نریندرمودی نے سارے پاپڑ ہی بیلے ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے جہاندیدہ، سرد و گرم چشیدہ گرگ باراں دیدہ (خرانٹ بھیڑیا) بن چکے ہیں۔ بھارت نے بھی امریکہ کی طرح اپنے قومی مفادات طے کر رکھے ہیں۔ کوئی بھی وزیراعظم ہو، کسی بھی سیاسی جماعت کا، وہ ان مفادات کی تکمیل کے لئے سرگرم رہتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے وفد کے 130 ارکان میں 11 سالہ یہودی لڑکا موشے بھی ہے۔ جس کے والدین بمبئی حملوں میں مارے گئے۔ بھارت نے ان حملوں کا الزام پاکستان پر رکھ کر عالمی طور پر خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کی سلور جوبلی بھی ہے۔ باقاعدہ سفارتی تعلقات تو25 سال سے ہیں۔ لیکن بے قاعدہ تعلقات بھارت اور چین کے درمیان 1962ء میں سرحدی تنازع سے شروع ہو گئے تھے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی بھارتی منظم کوشش میں اسرائیل نے مکمل ساتھ دیا تھا۔ اسلحے کی ترسیل جاری رکھی تھی۔ حالانکہ اس کے سرپرست امریکہ نے بھارت پاکستان دونوں کو اسلحے کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم سے بھارتی وزیراعظم کی جوشیلی جھپی (معانقہ) ہم پاکستانیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی کیوں ہے؟ کیا ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے یا آنکھیں بند کر کے اپنے دھرنوں، ٹویٹوں، عدالتی پیشیوں، جنسی بے راہرویوں، مذہبی ریلیوں اور اپنے اپنے سیاسی بادشاہوں کی ناز برداریوں میں ہی مصروف رہنا چاہئے۔ ہماری سیکرٹری خارجہ اس وقت امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک چھوٹی سی افسر کے پروٹوکول میں مصروف ہیں۔ ایک امریکی صدر کے ٹویٹ کے مقابلے میں امریکہ کے ادنیٰ اہلکاروں کے بیانات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ سب ڈوبتے تنکے کا سہارا لینے کے مترادف کوششیں ہیں۔ 20 کروڑ بالخصوص 60 فیصد جوان آبادی والے ملک کو اتنے عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے پاس اللہ کا عنایت کردہ بہت کچھ ہے۔

ہم کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ ہمیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ مگر ہم تو اپنی لگائی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ 1800علماء کا فتویٰ یقیناً خوش آئند ہے۔ لیکن ان علماء کو اب ان منحرفین سے مکالمہ کرنا ہو گا۔ جن کے ذہنوں اور دِلوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ ریاست پاکستان، اس کے سربراہ اور حکام مرتد ہو گئے ہیں۔ یہ واجب القتل ہیں، کیا ہم ان سب سے اسلحہ واپس لے لیں گے جو آئینی اور قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے مجاز نہیں ہیں۔ کیا اب جہاد کی پرائیویٹائزیشن ختم کر دی جائے گی۔ پاکستان نے اسرائیل کے وجود میں آنے سے اب تک اس کو تسلیم نہیں کیا۔ ہر عالمی فورم پر اس کی مخالفت کی ہے۔ 70 سالہ اس عرصے میں اسرائیل سے براہِ راست متصادم مسلم ملکوں نے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا۔ بلکہ اس سے مضبوط سفارتی تجارتی تعلقات بھی قائم کر لئے ہیں۔ سابق صدر مشرف کہا کرتے تھے کہ ہماری ساری لڑائیاں انڈیا سے ہوئی ہیں۔ لیکن ہمارے پاسپورٹ پر لکھا جاتا ہے۔ All Countries of The World Except Israel۔

اس دور میں کوشش بھی کی گئی کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں۔ ہمارے برادر مسلم ملک ترکی نے پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی میزبانی بھی کی۔ نیو یارک میں ’’یہودی کونسل‘‘ کا نمک بھی ہم نے مشرف صاحب کے ساتھ ایک ڈنر میں کھایا۔ یہودی بھی پاکستانیوں کی میزبانی کر کے پرجوش تھے۔ کئی ہفتوں تک پاکستان میں یہ مباحث چلتے رہے کہ پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کیلئے دروازے کھولنے والے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ اس طرح ہم اسرائیل کو بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا راستہ روک دیں گے۔ لیکن یہ کوششیں دونوں طرف سے وقتی تھیں۔ اسرائیل سے ہماری دشمنی فلسطینیوں کی ریاست پر غاصبانہ قبضے کے سبب ہے۔ یہی وجہ انڈیا سے بھی مسلسل مخالفت کی ہے۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ تسلط، فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے سے مماثل ہے۔

اسرائیل کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی بہت بُری طرح کھٹکتا ہے۔ اس نے کئی بار کہوٹا پر حملوں کا پروگرام بھی بنایا ہے، جیسے وہ افریقی ممالک میں کر چکا ہے۔ اسرائیل اور انڈیا مل کر پاکستان کو دبائو میں رکھنا چاہتے ہیں، انڈیا پھر دائود ابراہیم کو اپنے حوالے کرنے کے مطالبے کر رہا ہے۔ حافظ محمد سعید کی نظربندی ختم ہونے پر بہت برہم ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ حافظ محمد سعید کو راستے سے ہٹایا جائے۔ ہماری معاشی ابتری دیکھ کر اس کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ وہ ہمیں لقمۂ تر خیال کرتا ہے۔ وہ ہمیں لالچ بھی دے رہا ہے کہ اگر ہم اس کی دونوں خواہشیں پوری کر دیں تو وہ ہماری معیشت مضبوط کرنے میں مدد کرے گا اور آئندہ آزاد کشمیر پر اپنا حق نہیں جتائے گا۔ دہلی ایئرپورٹ پر یہود و ہنود کی یہ گرمجوشی پاکستان پر زور دیتی ہے کہ ہم مل جل کر اپنے قومی مفادات کا تعین کریں۔ ان کی روشنی میں سارے ملکوں سے معاملات طے کریں۔ چین سے بھی ان کے تناظر میں ہی سی پیک میں اشتراک بڑھائیں۔ سی پیک یکطرفہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے متعلقہ سب امور میں پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔.

محمود شام

ظفر عارف مر گئے پر سوال زندہ ہے

چونکہ میں اس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھا لہذا سینئرز کی نصیحت تھی کہ حسن ظفر عارف جیسے ملحد کیمونسٹ اساتذہ سے دور رہو۔ میں نے یہ نصیحت پلے باندھ لی اور کبھی بھی ان کے قریب نہیں پھٹکا مبادا میرے نظریہِ پاکستان میں کوئی کجی آ جائے۔ ویسے بھی ڈاکٹر ظفر عارف کی آنکھیں باز کی طرح دبیز تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ وہ سرخ نظریاتی آسمان پر مسلسل اڑتے ہوئے ادھرِ اًدھر دیکھتے رہتے ہیں اور معصوم و بے ضرر نئی نسل جہاں بھی نظریاتی کنفیوژن کا شکار دکھائی دے جپھٹا مار کے پنجوں میں دبا لے جاتے ہیں اور پھر ان لڑکے لڑکیوں کو اپنی گفتگو کے راتب سے کچھ ایسے رام کرتے ہیں کہ وہ اس باز نما انسان کے آلے دو الے ہی ہو کے رہ جاتے ہیں۔

میں گواہ ہوں کہ ڈاکٹر ظفر عارف نے اپنے کچھڑی بال بکھرا کر جینز کی ایک سائیڈ سے بوہمین انداز میں قمیض نکال کر یونیورسٹی میں بند گلے کی شیروانی اور تھری پیس سوٹنگ کی استادانہ ثقافت پر ’’ شبخون ’’ مارا۔ حسرت ہی رہی کہ ظفر عارف کبھی تو ’’شرفا’’ جیسے لباس یافتہ استاد نظر آتے۔ انھیں کلاس میں پاٹ دار آواز میں لیکچر دینے کے بعد بھی چین نہیں پڑتا تھا۔ اکثر کراچی یونیورسٹی کے کیفے ڈی پھونس پر لڑکے لڑکیوں کے اصرار پر انڈہ گھٹالہ کھانے کے بعد پلیا پر بیٹھ کر مباحث کا جال پھینکتے۔ ظفر عارف نے شعبہِ فلسفہ کے کاریڈور میں لڑکے لڑکیوں کے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کا رواج شروع کیا۔ اس آلتی پالتی گروپ میں صرف فلسفہ پڑھنے والے ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کے بگڑے بچے بھی شامل تھے۔ اور ان سب کے بیچ ظفر عارف بگلہ سگریٹ کشیدن کرتے کرتے کچے ذہنوں کو مرغولہ بناتے بناتے کسی اور ہی منطقی دنیا میں لے جاتے۔ اگر یہ سگریٹ سادے ہوتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ مگر یہ مارکسزم کی ہیروئن سے بھرے سگریٹ تھے جنہوں نے ظفر عارف کے گرد قائم نوخیز جھمگٹے کو کہیں کا نہ رکھا۔

نسبی لحاظ سے گنگا جمنی پس منظر کے باوجود ظفر عارف نے نئی نسل کو مشرقی تہذیب اور ایشیائی اقدار ( جو بھارت اور پاکستان کے سوا کسی ایشیائی ملک میں نہیں پائی جاتیں ) سے ’’ برگشتہ‘‘ کرنے کی پوری کوشش کی۔ جو طلبا و طالبات ’’ نظریاتی بے راہ روی ‘‘کے جال میں نہیں آتے تھے وہ یہ سن کے مارے احساسِ کمتری ڈھے جاتے کہ ڈاکٹر صاحب نے برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی اور فل برائٹ اسکالر شپ لے کر ہارورڈ میں پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچ کی ندی پار کی ہے۔ ان کا طریقہِ واردات یہ ہوتا کہ خود فکری منبر پر بیٹھ کر یکطرفہ لیکچر پلانے کے بجائے دماغ کو جھنجنا دینے والا کوئی مقدمہ یا سوال بطور کانٹا اچھال دیتے اور جب کوئی طالبِ علم مارے سادگی یہ کانٹا نگل لیتا تو پھر ڈاکٹر صاحب جہاندیدہ مچھیرے کی طرح گفتگو کی ڈور کو ڈھیل دیتے جاتے اور جب طالبِ علم اپنے ہی کچے پکے دلائل کے بوجھ سے تھک جاتا تو ڈاکٹر صاحب ڈور کھینچنا شروع کرتے اور پھر مچھلی ان کے فکری ٹوکرے میں پٹاک سے گر جاتی۔

ڈاکٹر صاحب اس ’’ کارِ بے راہ روی ’’ میں اکیلے نہیں تھے بلکہ نسل در نسل فکری و نظریاتی جمی جمائی زمین کو تلپٹ کرنے کے لیے کوشاں اس ’’ شب خونی گروہ ’’ کا حصہ تھے جو اسلامک ہسٹری کے ڈاکٹر قاسم مراد ، مسز مہر افروز مراد اور ہائیڈل برگ سے آنے والے محمد میاں پر مشتمل تھا ( محمد میاں جمعیت میں سید منور حسن کو این ایس ایف سے کھینچ کے لانے والوں میں شامل تھے اور پھر خود محمد میاں جمعیت سے اکھڑ کر بائیں بازو میں چلے گئے حالانکہ جمعیت کا اﷲ اکبر والا اوول شیپ بیج محمد میاں کا ڈیزائن کردہ تھا)۔ شائد اسی پس منظر کے سبب جب میں چند طلبا کے ساتھ محمد میاں سے کارل مارکس کے کیمونسٹ مینی فیسٹو کی شرح سمجھنے کے لیے کچھ دنوں تک ان کے اسٹڈی سرکل میں جاتا رہا تو محمد میاں نے ’’ ایک جماعتی‘‘ کی شمولیت پر کسی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔

جیسا کہ میں اوپر بتا چکا کہ میرا شمار ان طلبا میں تھا جو نظریاتی آلودگی کے خوف سے ظفر عارف سے فاصلے پر رہتے تھے۔ بیشتر اساتذہ بھی ظفر عارف کو تدریسی شعبے کی ایسی کالی بھیڑ سمجھتے تھے جو روائیتی تعلیمی جگالی کے بجائے تدریسی تقدس پامال کرتی پھر رہی تھی۔ ظفر عارف خدا جانے کس انفرادی یا اجتماعی ایجنڈے کے تحت طلبا کو معاشرے کا ایک وفادار اور بااقدار شہری بنانے کے بجائے ہر شے پر سوال اٹھانے کی تربیت دے کر اپنے رویے اور باتوں سے گویا بغاوت پر اکسا رہے تھے۔

اب حکومت بھلے سویلین ہو کہ فوجی ، رویہ جمہوری ہو کہ غیر جمہوری ایک اچھے استاد کا اس چخ پخ سے کیا لینا دینا ؟ مگر یہاں بھی ظفر عارف نے روایت شکنی کرتے ہوئے سندھ کے گورنر لیفٹننٹ جنرل جہانداد خان کے نام کھلا خط لکھ مارا اور چیلنج کیا کہ کوئی بھی جرنیل یا افسر شاہ آخر کس حیثیت میں ڈکٹیٹ کر سکتا ہے کہ یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے اور کیا نہیں ؟ کون سی بات کتنے ناپ تول سے کی جائے اور کہاں لب سی لیے جائیں اور ڈکٹیشن بھی ایک ایسی حکومت کی جانب سے جس کا اپنا جائز ہونا ثابت نہیں۔ ظاہر ہے اس بدتمیزی کا یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ ظفر عارف جیسوں کو نوکری سے چلتا کر کے جیل میں ڈال دیا جائے۔ سو ڈال دیا گیا۔ نہ صرف فوجی حکومت بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ ، بیشتر اساتذہ اور جمعیت جیسی طلبا تنظیموں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

اس کے بعد ظفر عارف نے کیا کیا کیا مجھے کوئی خاص معلومات نہیں۔ سنا کہ نئی نئی پاکستان آنے والی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہو گئے اور ستر کلفٹن میں اسٹڈی سرکل رچانا شروع کر دیا ، پھر سنا کہ پیپلز پارٹی سے ڈی ایکٹیویٹ ہو گئے یا کر دیے گئے اور ناشری و طباعت و ترجمے پر ہاتھ ڈال دیا۔ ظاہر ہے کاروباری سوجھ بوجھ تو تھی نہیں کہ اپنے نفع نقصان کا کھاتہ رکھ سکتے چنانچہ کچھ ہی عرصے میں یہ دھندہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ کسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں بھی پڑھا سکتے تھے مگر ظفر عارف جیسی بلا سرکاری یونیورسٹی سے ہضم نہ ہوئی تو پرائیویٹ کالج اور یونیورسٹیاں کس کھیت کا بتھوا تھیں۔

پھر سنا پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں شامل ہو گئے۔ پھر بہت عرصے تک ریڈار سے غائب رہے اور ایک دن اچانک پتہ چلاکہ الطاف حسین کے نظریے کو اپنا لیا اور انٹرنینشنلسٹ سے نیشنلسٹ ہو گئے۔ بحیثیت ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم ( المعروف لندن ) پریس کلب میں بھی آنے لگے۔ اس دوران ان سے سرسری مل کر مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب تنہا رہ گئے ہیں۔ پچھلی نسل کے لیے وہ محض ایک یاد اور آج کی نسل کے لیے ایک مس فٹ تھے۔ مس فٹ ہونے کی تنہائی کیا ہوتی ہے یہ محسوس تو کی جا سکتی ہے سمجھائی نہیں جا سکتی۔ اور پھر دو روز قبل خبر آئی کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف اپنی گاڑی میں کراچی کی ایک انجانی جگہ پر مردہ پائے گئے۔ بہتر برس کی عمر طبعی انتقال کے لیے تو موزوں ہے قتل ہونے یا پراسرار طور پر مردہ ہونے کے لیے ہرگز ہرگز نہیں۔

شائد ڈاکٹر صاحب اس ضیعف عمر میں بھی بہت سوں کے لیے توانا لال بتی تھے لہذا ان کا بجھنا کئی دیدگان و نادیدگان کے لیے بہتر تھا۔ ڈاکٹر صاحب میں ایک بچے کی سی انرجی تھی۔ شائد پہلی بار انھیں موت کی شکل میں آرام دہ بستر نصیب ہو گیا۔ مگر ایسوں کی موت سے بھی گل گھوٹو کے مرض سے جوج رہے سماج کو سکون ملے گا کہ نہیں ؟ کاش یہ سوال بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتا تو کیسا اچھا ہوتا۔

وسعت اللہ خان