شمالی کوریا نے وائٹ ہاﺅس پر میزائل برسانے کی تیاری مکمل کر لی

شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پوسٹرز آویزاں کردیئے گئے ہیں جن پر امریکا سے فیصلہ کن جنگ اور امریکی ایوانِ صدر یعنی وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش برسانے کا واضح عندیہ دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پوسٹرز پر لکھا ہے کہ شمالی کوریا پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی تیاری کیجیے۔

پوسٹرز میں شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو زندہ جلاتے ہوئے اور کم عمر لوگوں کو کنویں میں پھینکتے ہوئے دکھایا ہے۔ شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ان پوسٹرز میں صاف لکھا ہوا ہے کہ امریکا سے عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے جس میں وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش کی جائے گی۔ پوسٹروں میں 1950 کی دہائی میں جنگ کے دوران امریکی جارحیت اور امریکی مظالم کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔

Advertisements

امریکی لڑاکا طیاروں کی شمالی کوریا کے ساحل کے قریب پروازیں

امریکہ کے بمبار اور دیگر لڑاکا طیاروں نے شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے لیے اس کے ساحل کے قریب واقع بین الاقومی فضائی حدود میں پروازیں کی ہیں۔ اس اقدام کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں تناؤ میں مزید شدت آ گئی ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے جب پیانگ یانگ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا تجربہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے بمبار طیارے قبل ازیں بھی ایسی پروازیں کر چکے ہیں جب کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔ پینٹاگان نے کہا ہے کہ امریکہ کے بمبار اور لڑاکا طیاروں نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے سے بہت دور شمال میں پراوز کی۔

ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور خودکش مشن پر ہیں

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے یہ پروازیں شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد سے کافی دور شمال میں کی ہیں ۔  پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن امریکی ارادے کا ثبوت ہے اور واضح پیغام ہے کہ صدر( ٹرمپ) کے پاس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی راستے موجود ہیں۔ ‘ہم امریکی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ’خودکش مشن’ پر ہیں۔ شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ مسٹر ٹرمپ جو ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔’ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے’۔

شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو اپنی تقریر کی قیمت چکانا ہو گی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو دفاع کر ضرورت پیش آئی تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔
اس سے پہلے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے : کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ خیال رہے کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر امریکہ کو دفاع پر مجبور کیا گیا تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔‘ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ‘ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔’ کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔’ خیال رہے کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔’

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ‘وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’ شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ان کا ملک امریکی دھمکی کے جواب میں ہائیڈروجن بم ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی ہونہاپ کے مطابق ری یونگ ہو کا کہنا تھا ‘یہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا سب سے طاقتور دھماکہ ہو سکتا ہے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ‘یہ اقدامات آمدن کے ان ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جو شمالی کوریا کو مہلک ہتھیار بنانے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔’ ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل، ماہی گیری، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جانب تھا۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو طویل عرصے تک بین الاقوامی مالیاتی نظام کے تحت اس کے جوہری ہتھیار اور میزائل پروگراموں کے لیے فنڈز کی بے جا سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔’ امریکی صدر نے زور دیا کہ ‘یہ پابندیاں صرف ایک ملک پر لگائی گئی ہیں اور وہ شمالی کوریا ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکا اور شمالی کوریا بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں

روس نے امریکی صدر اور سربراہ شمالی کوریا کے مابین لفظی جنگ کو بچوں کی لڑائی کے مانند قرار دے دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی لفظی گولہ باری سے لگتا ہے کہ دونوں حریف سربراہ اسکول کے بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں یہ لفظی لڑائی ایسی ہی ہے جیسے نرسری میں پڑھنے والے کم سن بچے لڑتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ ردعمل ٹرمپ اور کم جونگ ان کی حالیہ بیان بازی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کم جونگ کو راکٹ مین کہہ کر پکارا تھا.

جس کے جواب میں کم جانگ نے کہا کہ خوف زدہ کتے اونچا بھونکتے ہیں میں بوڑھےکو گولیوں سے راہ راست پرلاؤں گا۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ دماغوں کی گرمی ختم کرنے کے لیے خاموشی کی ضرورت ہے، شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی مگر جنگ بھی ناقابل قبول ہے، تنازع کے حل کے لیے روس اور چین کےساتھ مل کرجذباتی نہیں بلکہ منطقی طرز اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مدد سے تنازع کے پرامن حل کے لیے معقول نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کریں گے ایسا جذباتی رویہ نہیں اپنائیں گے جیسے کنڈر گارڈن میں بچوں کی لڑائی ہوتی ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

ٹرمپ کی تقریر : ’کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں’

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو دی گئی دھمکی پر اس کا پہلا سرکاری ردعمل ہے۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا تو اسے تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اس بارے میں نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ’وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔’ کم جونگ ان کو راکٹ مین کہنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ’ میں ان کے ساتھیوں سے اظہارِ افسوس کرتا ہوں۔’ شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہؤ جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔ دو دن پہلے ہی شمالی کوریا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس پر مزید پابندیوں اور دباؤ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ‘ہمارے ایٹمی پروگرام میں مزید تیزی آ جائے گی’۔ شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں ‘انتہائی برے، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

شمالی کوریا کا جاپان پر میزائل حملہ

اکثر جاپانی میڈیا شمالی کوریا کی بے قابو جنگی طاقت اور جنگی جنون کے حوالے سے رپورٹس تو دکھاتا ہی رہا ہے جس میں شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ئن کی جانب سے خطرناک میزائلوں اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاریوں کے حوالے سے خبریں جاپانی میڈیا کی ہیڈ لائن میں رہتی ہیں تاہم جاپانی عوام کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ تباہ کن ہتھیار اور خطرناک میزائل جاپان کی جانب بھی رخ کر سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان ایک تو دنیا کا پرامن ملک ہے جو ماضی میں تو کسی سے دشمنی رکھتا ہو لیکن حالیہ زمانے میں جاپان نے ہمیشہ ہی دنیا کے ساتھ امن سے رہنے کی کوشش کی ہے ، پھر امریکہ کی جانب سے جاپان کی سلامتی کی ضمانت اور کسی بھی طرح کے خطرناک میزائلوں حتی کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حملے سے بھی جاپان کو بچانے کا معاہدہ امریکہ اور جاپان کے درمیان موجود ہے.

 یہی وجہ ہے کہ جاپانی عوام چین کی نیند سوتے رہے لیکن گزشتہ رات یہ چین کی نیند بے بسی میں تبدیل ہو گئی جب شمالی کوریا نے جاپان کی جانب ایک خطرناک میزائل فائر کیا جو جاپان کی سمندری حدود سے ہوتا ہوا اس کے سمندری علاقے ہکائیدو میں گر کر تباہ ہو گیا ، شمالی کوریا کی غیر مہذب حرکت نے جاپانی حکومت اور عوام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ، رات دو بچے اچانک جاپانی شہریوں کے موبائل فون پر میزائل حملے کی اطلاع اور حفاظتی اقدامات کرنے کے پیغامات نے ان کو نیند سے جھنجھوڑ کر رکھ  دیا ، ایسے الارم اور پیغامات عموماََ زلزلوں کے حوالے سے موصول ہوتے ہیں۔ جاپانی حکومت کے لئے بھی یہ ایک پریشان کن امر تھا ، کیونکہ جاپانی حکومت اپنے عوام کی سلامتی کو بہت عزیز رکھتی ہے اور شمالی کوریاکے میزائل کا جاپانی سرحدوں سے گزر جانا کہیں دفاعی ناکامی تو نہیں ہے اس حوالے سے جاپانی حکومت کا رد عمل سامنے آنا باقی ہے.

گزشتہ دنوں ہی جاپانی قومی ٹی وی چینل نے شمالی کوریا کی جانب سے تیار کئے گئے میزائلوں کے حوالےسے ڈاکیومنٹری پروگرام نشر کیا تھا جس میں شمالی کوریا کے میزائلوں کی جدیدیت اور کسی بھی حملے میں انھیں جاپان کی جانب داغے جانے کے بعد جاپانی رد عمل کے حوالے سے بھی بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والے کسی بھی میزائل کا جاپانی اور امریکی ریڈار فوری طور پر پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور شمالی کوریا سے جاپان کی جا نب پہنچنے میں میزائل کو کم سے کم نو منٹ کا عرصہ درکار ہو گا اتنی دیر میں جاپان میں نصب دفاعی میزائل نظام حرکت میں آ جائے گا اور آنے والے میزائل کو مار گرایا جائے گا جبکہ پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جاپان نے دفاعی میزائل نظام نہ صرف اپنی سمندری حدود میں بلکہ اہم شہرو ں میں بھی نصب کر رکھا ہے جو فوری طور پر حرکت میں آئے گا اور شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی حدود میں داخل ہونے والے کسی بھی میزائل کو مار گرائے گا.

اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سےآنےوالا میزائل جاپانی سمندری حدود میں فضا میں تباہ ہو کر تین ٹکڑوں میں سمندر میں گرا ہے جس سے لگتا ہے کہ شاید شمالی کوریا کے اس میزائل کو جاپانی دفاعی میزائل سسٹم کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ، اس حوالے سے جاپان میں شہری دفاع کے ادارے بھی بھرپور کام کر رہے ہیں ، جاپانی حدود میں میزائل کے داخلے کے ساتھ ہی ملک بھر میں سائرن بجا دئیے گئے ، میزائل حملے کی اطلاع اور اس سے بچائو کی معلومات بھی عوام کو موبائل فون کے ذریعے فراہم کی گئیں۔

امن کے دنوں میں جاپانی سرکاری ادارے اپنے عوام کو زلزلوں اور میزائل حملوں سے بچنے کی مشقیں کراتے رہتے ہیں جس سے عوام ذہنی طور پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے لئے تیار رہتے ہیں اور گھروں میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کا کچھ نہ کچھ سامان بھی ضرور رکھتے ہیں جیسے پانی ، خشک خوراک و میڈیکل دوائیں وغیرہ ۔ یہ تو جاپانی عوام کی مشکل حالات سے نمٹنے کی تیاری کی بات تھی جہاں تک جاپانی حکومت کی بات ہے تو حملے کے فوری بعد جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے امریکی صدر سے شمالی کوریا کے میزائل حملے پر خصوصی گفتگو کی اوردونوں ممالک نے شمالی کوریا کی اس حرکت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان جسے عالمی سلامتی کے لئے ممکنہ خطرہ قرار دیتا ہے اس کے لئے تو اپنی فوجیں بھی افغانستان بھجوا رہا ہے لیکن پاکستان جیسے دوست ملک جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار جانوں کی قربانیاں دیں ، سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار بھی نبھایا ایسے دوست کو امریکہ کھونے کو تیار ہے جبکہ دوسری جانب شمالی کوریا جیسا ملک جو امریکہ کے قریبی اتحادی جاپان (جس کی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ نے اٹھا رکھی ہے اسکےعوض سالانہ اربوں ڈالر بھی وصول کرتا ہے) کی سلامتی کے لئے حقیقی خطرہ ثابت ہو رہا ہے ، اس پر میزائل حملہ کر دیتا ہے اور امریکہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ شمالی کوریا امریکہ کو خطے میں اپنی فوجیں رکھنے کا جواز فراہم کر رہا ہے اس سے جاپان اور جنوبی کوریا کو ڈرا کر امریکہ اپنی افواج خطے میں رکھنے کے ساتھ ان ممالک سے بھاری معاوضہ بھی وصول کرتے رہنا چاہتا ہے ورنہ شمالی کوریا جیسے ملک کی قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا امریکہ کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، جب امریکہ یمن ، شام ، لیبیا ، عراق جیسے ممالک کے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کر سکتا ہے تو شمالی کوریا کی حکومت کی تبدیلی فوجی آپریشن جیسے اقدام امریکہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں لیکن نہ امریکہ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ کوئی مجبوری.

دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے امن پسندی کے جس راستے کا انتخاب کیا وہ اسے ترقی کی معراج تک تو ضرور لے گیا لیکن جاپان کی صرف تعلیم اور صنعتی ترقی نے جاپان کی مخالفت اور تاریخی دشمنیا ں دل میں رکھنے والے بہت سے دشمن ممالک کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اس کو بلیک میل کرنے کا راستہ بھی فراہم کر دیا ہے تاہم اب جاپانی عوام کو احساس ہو رہا ہے کہ صرف تعلیم اور صنعت کے میدان میں ترقی کافی نہیں بلکہ اپنی اور اپنے عوام کی حفاظت کے لئے مضبوط فوجی طاقت ہونا بھی ضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاپانی حکومت دفاع میں خود کفیل ہونے کا فیصلہ کب کرتی ہے۔

محمد عرفان صدیقی

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کی جاپان پر پرواز

شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والا ایک میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزرا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جنوبی کوریا کی مسلح افواج کے مطابق شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا جس نے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا جانے والا نیا میزائل 550 کلومیٹر کی بلندی تک گیا اور 2700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شمالی بحرالکاہل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

اس تجرباتی پرواز کے دوران میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکیڈو کے اوپر سے بھی گزرا جس نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا تیسرا اور پیانگ یانگ کے کسی میزائل کے جاپان کی حدود سے گزرنے کا پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 1998ء اور 2009ء میں شمالی کوریا کے راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرے تھے لیکن دونوں بار شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ راکٹ مصنوعی سیارے خلا میں لے جا رہے تھے۔ شمالی کوریا نے یہ نیا میزائل تجربہ ایسے وقت کیا ہے جب اس کے قریبی سمندر میں امریکہ اورجنوبی کوریا کی افواج کی جنگی مشقیں جاری ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے حالیہ چند ماہ کے دوران میزائل تجربات تیز کر دیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تیزی سے اپنے بین البراعظمی میزائل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رواں سال شمالی کوریا اب تک 13 میزائل تجربات کر چکا ہے اور اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی شدید مذمت اور پابندیوں کے باوجود اس کی جانب سے میزائل تجربات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ منگل کے تجربے اور اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جاپان نے سخت مذمت کی ہے۔

جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی یہ حرکت ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جو اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاپان کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ جاپانی حکام نے کہا ہے کہ میزائل کی ہکیڈو کے اوپر پرواز سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ میزائل کی پرواز سے قبل جزیرے کے رہائشیوں کو ان کے موبائل فونز پر “خطرے” کا پیغام بھیج دیا گیا تھا جن میں لوگوں سے گھروں میں رہنے کی درخواست کی گئی تھی۔
خطے میں امریکہ کے دوسرے بڑے اتحادی اور شمالی کوریا کے پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے میزائل تجربے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پیانگ یانگ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو اس کےخلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ سے ’قاتل روبوٹس‘ کی تیاری پر پابندی لگانے کا مطالبہ

روبوٹکس کے 100 سے زیادہ ماہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘قاتل روبوٹس’ کی ایجاد پر جاری منصوبے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ارب پتی ایولن مسک سمیت مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے سو سے زائد ماہرین نے خط میں اقوام متحدہ ‘جنگی صلاحیتوں میں تیسرے انقلاب’ سے خبردار کیا ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘یہ خطرناک خودکار’ ٹیکنالوجی ایک پینڈورا باکس ہے جس کے کھلنے سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور اس سے مقابلہ کرنے کے لیے وقت بہت کم ہے۔ ان 116 ماہرین نے ہتھیاروں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔  اس خط میں جلد سے جلد قدم لینے کی درخواست کی گئی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا کہ ‘ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ایک دفعہ یہ پینڈورا باکس کھل گیا تو اس کا بند ہونا مشکل ہے۔’

ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ہتھیاروں کی یہ ٹیکنالوجی ‘اخلاقی طور پر غلط’ ہے. چنانچہ ان پر اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت پابندی لگائی جائے۔ اقوام متحدہ کا ایک نامزد گروپ خودکار ہتھیاروں پر گفتگو کے لیے پیر کو ملاقات کرنے والا تھا لیکن اب یہ میٹنگ نومبر میں ہو گی۔ اقوام متحدہ کی کمیٹیاں اس سے پہلے بھی قاتل روبوٹس کی تیاری اور اس پر پابندی لگانے کے بارے میں غور کر چکی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2015 میں بھی ہزار سے زیادہ ماہرین نے اقوام متحدہ کو خط میں خودکار ہتھیاروں کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

قاتل روبوٹ کیا ہے؟
قاتل روبوٹ ایک خودکار ہتھیار ہے جو انسانی مدد کے بغیر اپنے ہدف کو چن سکتا ہے اور نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ روبوٹ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔ ان ہتھیاروں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی قوانین کی مدد سے ان خودکار روبوٹس کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار انسانیت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

اقوام متحدہ کا جنگی جرائم کی تحقیقات کا کمیشن شام میں کچھ نہیں کر سکتا

ماضی میں جنگی جرائم کے مقدمات میں وکیلِ استغاثہ کے فرائص انجام دینے والی کارلہ دل پونٹے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرنے والے کمیشن سے استعفیٰ دے رہی ہیں کیونکہ یہ کمیشن ’کچھ بھی نہیں کرتا‘۔ کارلہ دل پونٹے اقوام متحدہ کے شام کے حوالے سے کمیشن کا تقریباً پانچ سال تک حصہ رہی ہیں۔ شامی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کارلہ دل پونٹے سوئس حکومت میں وکیلِ استغاثہ کے عہدے پر فائض رہ چکی ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویا کی جنگوں میں جرائم کی تفتیشات کی تھیں۔

ایک سوئس اخبار ’بلک‘ سے بات کرتے ہوئے کارلہ دل پونٹے نے کہا کہ ’میں تنگ آ چکی ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے۔ میں نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے اور آئندہ چند روز میں اسے جمع کروا دوں گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’شام میں ہر کوئی بری سائڈ پر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے انسانیت کے خلاف انتہائی گھنونے جرائم سرزد کیے ہیں اور جزب مخالف میں بھی شدت پسند اور دہشتگرد ہیں۔‘
بعد میں انھوں نے لوکارنو فلم فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کمیشن چھوڑ رہی ہوں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیکیورٹی کونسل کچھ نہیں کرتی، میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ شام کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے۔‘

اس کمیشن کی ذمہ داریوں میں شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس کمیشن نے ایک درجن کے قریب رپورٹیں جاری کیں ہیں تاہم ان کی تحقیقاتی ٹیم کبھی بھی خود شام نہیں جا سکی ہے۔ ان رپورٹوں کے لیے ان کا انحصار انٹرویوز، تصاویر، میڈیکل ریکارڈز اور دیگر دستاویزات پر رہا ہے۔ کارلہ دل پونٹے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جرائم پہلے کبھی نہیں دیکھے، نہ سابق یوگوسلاویا میں اور نہ ہی روانڈا میں۔ کارلہ دل پونٹے اور کمیشن کے دیگر اراکین نے کئی بار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے شام کی صورتحال کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔