دنیا بھر میں تین ملین افراد ’بے وطن‘ ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تیس لاکھ افراد کو بے وطنیت کا سامنا ہے جن کی اکثریت کا تعلق کسی نہ کسی خطے کی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیت سے ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت میانمار کے روہنگیا مسلمان دنیا کی سب سے بڑی ’بے وطن‘ اقلیت ہیں۔ صرف اگست کے بعد سے اب تک چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مبينہ تشدد اور جبر کے باعث میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔

یہ ہمارا گھر ہے – شہریت کی تلاش میں بے وطن اقلیتیں‘ کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ بھی دنیا بھر میں کئی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیتوں کو بے وطنیت کا سامنا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق بے وطن انسانوں کے ساتھ دنیا بھر میں امتیازی سلوک کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب بھی کیا جاتا ہے۔ ادارے نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سن 2024 تک ایسی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یو این ایچ سی آر کے ایک سینئر اہلکار کارول بیچلر نے رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ دنیا میں کسی ملک کی شہریت کے بغیر رہ رہے ہیں تو آپ کی کوئی شناخت نہیں، نہ کوئی دستاویزات ہیں اور نہ ہی تعلیم، ملازمت اور صحت جیسی بنیادی سہولیات۔‘‘ عالمی ادارے نے اقوام عالم سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دی جائے، بصورت دیگر ان بچوں کو بھی بے وطنیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں کئی برسوں سے کسی ملک میں رہنے والے مہاجرین کو بھی مقامی شہریت دیے جانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق بے وطن اقلیتوں میں روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ شامی کرد، مقدونیا کی روما برادری، مدگاسکر کی کارانا اور کینیا کی پیمبا اقلیت سے تعلق رکھنے والے انسان سرفہرست ہیں۔

بے وطن انسانوں کے اعداد و شمار کے بارے میں بیچلر کا کہنا تھا، ’’ہم مصدقہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت بے وطن انسانوں کی تعداد تین ملین سے زائد ہے۔‘‘ ان سے پوچھا گیا کہ کیا روہنگیا مسلمان کا شمار بھی ایسے انسانوں میں ہوتا ہے جنہیں دانستاﹰ شہریت سے محروم رکھا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا، ’’میانمار میں شہریت سے متعلق قوانین ہیں جن میں ان افراد کی فہرست بھی شامل ہے جنہیں میانمار کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے لیکن روہنگیا اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔‘‘ عالمی ادارہ برائے مہاجرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بےوطنیت کی یہ تکلیف دہ صورت حال ختم ہونی چاہیے اور وہ تمام قوانین بھی، جن کی مدد سے ایسے امتیازی برتاؤ کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

Advertisements

مسعود اظہر کے خلاف بھارتی قرارداد کو دوبارہ ویٹو کر دیں گے، چین

چین سلامتی کونسل میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی بھارتی کوشش کو دوبارہ ناکام بنا دے گا۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کا مسعود اظہار پر پابندی لگانے کے معاملے پر اختلاف ہے۔ بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا شن ینگ نے مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ فی الوقت سلامتی کونسل کے ارکان کا اس معاملے پر اختلاف ہے اور چین نے مزید غور و خوض کرنے کے لیے تکنیکی طور پر اس معاملے کو روکا ہے۔ واضح رہے کہ چین نے اگست میں سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارتی قرارداد تکنیکی بنیادوں پر روک تھی جس کی مدت میں اس جمعرات کو ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ عسکری تنظیم جیش محمد پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔

زہریلی گیس کے استعمال کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

روس نے اقوام متحدہ میں ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد پر روک لگا دی جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ شام میں ہونے والے حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تفتیش کرنے والے معائنہ کاروں کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کی جائے۔ سلامتی کونسل میں ہونے والی رائے دہی میں 11 ملکوں نے مزید ایک سال کی توسیع کی حمایت کی، روس اور بولیویا نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ چین اور قزاقستان ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چھان بین کرنے والی ٹیم، جسے ’جوائنٹ انویسٹی گیٹو مکینزم‘ کا نام دیا گیا ہے، اپنی رپورٹ کا اعلان کرے گی، جس میں جنوبی ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ خان شیخون کے قصبے میں ہونے والے اس حملے کے ذمے دار فریق کی نشاندہی کی جائے گی، جس حملے میں بیسیوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ تین روز بعد، امریکہ نے شام کے فضائی اڈے پر کارروائی کی، جب امریکہ نے بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا کہ اُس نے حملے میں زہریلی گیس استعمال کی تھی۔

اس سوال پر آیا سارین یا سارین جیسا مواد قابل اعتراض ہے، اور یہ کس نے استعمال کی، اس بات کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے، اور توقع یہ ہے کہ مشترکہ تفتیشی ٹیم اس معاملے پر اپنی رپورٹ دے گی۔ یہ بات روس کے سیاسی مؤقف کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ شامی حکومت ہی اس حملے کی ذمے دار ہے، ایسے میں جب روس صدر اسد کا شدید حامی ہے۔ شام تنازعے میں حکومت ہی ایک ایسا فریق ہے جس کے پاس فضائی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ یہ گیس زمین پر موجود بم سے نکلی تھی، ناکہ فضا سے گرائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ میں روس کے ایلچی، وسالی نبن زیا نے ابتدائی طور پر کمیٹی کی جاری ہونے والی رپورٹ کے اجرا کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ عجلت میں کرائی جانے والی ووٹنگ روس کو پریشان کرنے کی ایک امریکی چال ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

شمالی کوریا نے وائٹ ہاﺅس پر میزائل برسانے کی تیاری مکمل کر لی

شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پوسٹرز آویزاں کردیئے گئے ہیں جن پر امریکا سے فیصلہ کن جنگ اور امریکی ایوانِ صدر یعنی وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش برسانے کا واضح عندیہ دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پوسٹرز پر لکھا ہے کہ شمالی کوریا پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی تیاری کیجیے۔

پوسٹرز میں شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو زندہ جلاتے ہوئے اور کم عمر لوگوں کو کنویں میں پھینکتے ہوئے دکھایا ہے۔ شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ان پوسٹرز میں صاف لکھا ہوا ہے کہ امریکا سے عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے جس میں وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش کی جائے گی۔ پوسٹروں میں 1950 کی دہائی میں جنگ کے دوران امریکی جارحیت اور امریکی مظالم کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔

امریکی لڑاکا طیاروں کی شمالی کوریا کے ساحل کے قریب پروازیں

امریکہ کے بمبار اور دیگر لڑاکا طیاروں نے شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے لیے اس کے ساحل کے قریب واقع بین الاقومی فضائی حدود میں پروازیں کی ہیں۔ اس اقدام کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں تناؤ میں مزید شدت آ گئی ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے جب پیانگ یانگ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا تجربہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے بمبار طیارے قبل ازیں بھی ایسی پروازیں کر چکے ہیں جب کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔ پینٹاگان نے کہا ہے کہ امریکہ کے بمبار اور لڑاکا طیاروں نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے سے بہت دور شمال میں پراوز کی۔

ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور خودکش مشن پر ہیں

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے یہ پروازیں شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد سے کافی دور شمال میں کی ہیں ۔  پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن امریکی ارادے کا ثبوت ہے اور واضح پیغام ہے کہ صدر( ٹرمپ) کے پاس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی راستے موجود ہیں۔ ‘ہم امریکی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ’خودکش مشن’ پر ہیں۔ شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ مسٹر ٹرمپ جو ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔’ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے’۔

شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو اپنی تقریر کی قیمت چکانا ہو گی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو دفاع کر ضرورت پیش آئی تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔
اس سے پہلے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے : کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ خیال رہے کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر امریکہ کو دفاع پر مجبور کیا گیا تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔‘ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ‘ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔’ کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔’ خیال رہے کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔’

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ‘وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’ شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ان کا ملک امریکی دھمکی کے جواب میں ہائیڈروجن بم ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی ہونہاپ کے مطابق ری یونگ ہو کا کہنا تھا ‘یہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا سب سے طاقتور دھماکہ ہو سکتا ہے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ‘یہ اقدامات آمدن کے ان ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جو شمالی کوریا کو مہلک ہتھیار بنانے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔’ ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل، ماہی گیری، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جانب تھا۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو طویل عرصے تک بین الاقوامی مالیاتی نظام کے تحت اس کے جوہری ہتھیار اور میزائل پروگراموں کے لیے فنڈز کی بے جا سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔’ امریکی صدر نے زور دیا کہ ‘یہ پابندیاں صرف ایک ملک پر لگائی گئی ہیں اور وہ شمالی کوریا ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکا اور شمالی کوریا بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں

روس نے امریکی صدر اور سربراہ شمالی کوریا کے مابین لفظی جنگ کو بچوں کی لڑائی کے مانند قرار دے دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی لفظی گولہ باری سے لگتا ہے کہ دونوں حریف سربراہ اسکول کے بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں یہ لفظی لڑائی ایسی ہی ہے جیسے نرسری میں پڑھنے والے کم سن بچے لڑتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ ردعمل ٹرمپ اور کم جونگ ان کی حالیہ بیان بازی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کم جونگ کو راکٹ مین کہہ کر پکارا تھا.

جس کے جواب میں کم جانگ نے کہا کہ خوف زدہ کتے اونچا بھونکتے ہیں میں بوڑھےکو گولیوں سے راہ راست پرلاؤں گا۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ دماغوں کی گرمی ختم کرنے کے لیے خاموشی کی ضرورت ہے، شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی مگر جنگ بھی ناقابل قبول ہے، تنازع کے حل کے لیے روس اور چین کےساتھ مل کرجذباتی نہیں بلکہ منطقی طرز اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مدد سے تنازع کے پرامن حل کے لیے معقول نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کریں گے ایسا جذباتی رویہ نہیں اپنائیں گے جیسے کنڈر گارڈن میں بچوں کی لڑائی ہوتی ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

ٹرمپ کی تقریر : ’کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں’

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو دی گئی دھمکی پر اس کا پہلا سرکاری ردعمل ہے۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا تو اسے تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اس بارے میں نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ’وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔’ کم جونگ ان کو راکٹ مین کہنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ’ میں ان کے ساتھیوں سے اظہارِ افسوس کرتا ہوں۔’ شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہؤ جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔ دو دن پہلے ہی شمالی کوریا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس پر مزید پابندیوں اور دباؤ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ‘ہمارے ایٹمی پروگرام میں مزید تیزی آ جائے گی’۔ شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں ‘انتہائی برے، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

شمالی کوریا کا جاپان پر میزائل حملہ

اکثر جاپانی میڈیا شمالی کوریا کی بے قابو جنگی طاقت اور جنگی جنون کے حوالے سے رپورٹس تو دکھاتا ہی رہا ہے جس میں شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ئن کی جانب سے خطرناک میزائلوں اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاریوں کے حوالے سے خبریں جاپانی میڈیا کی ہیڈ لائن میں رہتی ہیں تاہم جاپانی عوام کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ تباہ کن ہتھیار اور خطرناک میزائل جاپان کی جانب بھی رخ کر سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان ایک تو دنیا کا پرامن ملک ہے جو ماضی میں تو کسی سے دشمنی رکھتا ہو لیکن حالیہ زمانے میں جاپان نے ہمیشہ ہی دنیا کے ساتھ امن سے رہنے کی کوشش کی ہے ، پھر امریکہ کی جانب سے جاپان کی سلامتی کی ضمانت اور کسی بھی طرح کے خطرناک میزائلوں حتی کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حملے سے بھی جاپان کو بچانے کا معاہدہ امریکہ اور جاپان کے درمیان موجود ہے.

 یہی وجہ ہے کہ جاپانی عوام چین کی نیند سوتے رہے لیکن گزشتہ رات یہ چین کی نیند بے بسی میں تبدیل ہو گئی جب شمالی کوریا نے جاپان کی جانب ایک خطرناک میزائل فائر کیا جو جاپان کی سمندری حدود سے ہوتا ہوا اس کے سمندری علاقے ہکائیدو میں گر کر تباہ ہو گیا ، شمالی کوریا کی غیر مہذب حرکت نے جاپانی حکومت اور عوام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ، رات دو بچے اچانک جاپانی شہریوں کے موبائل فون پر میزائل حملے کی اطلاع اور حفاظتی اقدامات کرنے کے پیغامات نے ان کو نیند سے جھنجھوڑ کر رکھ  دیا ، ایسے الارم اور پیغامات عموماََ زلزلوں کے حوالے سے موصول ہوتے ہیں۔ جاپانی حکومت کے لئے بھی یہ ایک پریشان کن امر تھا ، کیونکہ جاپانی حکومت اپنے عوام کی سلامتی کو بہت عزیز رکھتی ہے اور شمالی کوریاکے میزائل کا جاپانی سرحدوں سے گزر جانا کہیں دفاعی ناکامی تو نہیں ہے اس حوالے سے جاپانی حکومت کا رد عمل سامنے آنا باقی ہے.

گزشتہ دنوں ہی جاپانی قومی ٹی وی چینل نے شمالی کوریا کی جانب سے تیار کئے گئے میزائلوں کے حوالےسے ڈاکیومنٹری پروگرام نشر کیا تھا جس میں شمالی کوریا کے میزائلوں کی جدیدیت اور کسی بھی حملے میں انھیں جاپان کی جانب داغے جانے کے بعد جاپانی رد عمل کے حوالے سے بھی بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والے کسی بھی میزائل کا جاپانی اور امریکی ریڈار فوری طور پر پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور شمالی کوریا سے جاپان کی جا نب پہنچنے میں میزائل کو کم سے کم نو منٹ کا عرصہ درکار ہو گا اتنی دیر میں جاپان میں نصب دفاعی میزائل نظام حرکت میں آ جائے گا اور آنے والے میزائل کو مار گرایا جائے گا جبکہ پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جاپان نے دفاعی میزائل نظام نہ صرف اپنی سمندری حدود میں بلکہ اہم شہرو ں میں بھی نصب کر رکھا ہے جو فوری طور پر حرکت میں آئے گا اور شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی حدود میں داخل ہونے والے کسی بھی میزائل کو مار گرائے گا.

اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سےآنےوالا میزائل جاپانی سمندری حدود میں فضا میں تباہ ہو کر تین ٹکڑوں میں سمندر میں گرا ہے جس سے لگتا ہے کہ شاید شمالی کوریا کے اس میزائل کو جاپانی دفاعی میزائل سسٹم کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ، اس حوالے سے جاپان میں شہری دفاع کے ادارے بھی بھرپور کام کر رہے ہیں ، جاپانی حدود میں میزائل کے داخلے کے ساتھ ہی ملک بھر میں سائرن بجا دئیے گئے ، میزائل حملے کی اطلاع اور اس سے بچائو کی معلومات بھی عوام کو موبائل فون کے ذریعے فراہم کی گئیں۔

امن کے دنوں میں جاپانی سرکاری ادارے اپنے عوام کو زلزلوں اور میزائل حملوں سے بچنے کی مشقیں کراتے رہتے ہیں جس سے عوام ذہنی طور پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے لئے تیار رہتے ہیں اور گھروں میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کا کچھ نہ کچھ سامان بھی ضرور رکھتے ہیں جیسے پانی ، خشک خوراک و میڈیکل دوائیں وغیرہ ۔ یہ تو جاپانی عوام کی مشکل حالات سے نمٹنے کی تیاری کی بات تھی جہاں تک جاپانی حکومت کی بات ہے تو حملے کے فوری بعد جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے امریکی صدر سے شمالی کوریا کے میزائل حملے پر خصوصی گفتگو کی اوردونوں ممالک نے شمالی کوریا کی اس حرکت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان جسے عالمی سلامتی کے لئے ممکنہ خطرہ قرار دیتا ہے اس کے لئے تو اپنی فوجیں بھی افغانستان بھجوا رہا ہے لیکن پاکستان جیسے دوست ملک جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار جانوں کی قربانیاں دیں ، سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار بھی نبھایا ایسے دوست کو امریکہ کھونے کو تیار ہے جبکہ دوسری جانب شمالی کوریا جیسا ملک جو امریکہ کے قریبی اتحادی جاپان (جس کی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ نے اٹھا رکھی ہے اسکےعوض سالانہ اربوں ڈالر بھی وصول کرتا ہے) کی سلامتی کے لئے حقیقی خطرہ ثابت ہو رہا ہے ، اس پر میزائل حملہ کر دیتا ہے اور امریکہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ شمالی کوریا امریکہ کو خطے میں اپنی فوجیں رکھنے کا جواز فراہم کر رہا ہے اس سے جاپان اور جنوبی کوریا کو ڈرا کر امریکہ اپنی افواج خطے میں رکھنے کے ساتھ ان ممالک سے بھاری معاوضہ بھی وصول کرتے رہنا چاہتا ہے ورنہ شمالی کوریا جیسے ملک کی قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا امریکہ کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، جب امریکہ یمن ، شام ، لیبیا ، عراق جیسے ممالک کے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کر سکتا ہے تو شمالی کوریا کی حکومت کی تبدیلی فوجی آپریشن جیسے اقدام امریکہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں لیکن نہ امریکہ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ کوئی مجبوری.

دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے امن پسندی کے جس راستے کا انتخاب کیا وہ اسے ترقی کی معراج تک تو ضرور لے گیا لیکن جاپان کی صرف تعلیم اور صنعتی ترقی نے جاپان کی مخالفت اور تاریخی دشمنیا ں دل میں رکھنے والے بہت سے دشمن ممالک کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اس کو بلیک میل کرنے کا راستہ بھی فراہم کر دیا ہے تاہم اب جاپانی عوام کو احساس ہو رہا ہے کہ صرف تعلیم اور صنعت کے میدان میں ترقی کافی نہیں بلکہ اپنی اور اپنے عوام کی حفاظت کے لئے مضبوط فوجی طاقت ہونا بھی ضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاپانی حکومت دفاع میں خود کفیل ہونے کا فیصلہ کب کرتی ہے۔

محمد عرفان صدیقی