امریکا نے فلسطینوں کی امداد روک لی

امریکا نے فلسطین پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے ساڑھے 6 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کو 6 کروڑ ڈالر جاری کر دیے ہیں تاہم مزید 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق فنڈنگ کے تمام معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ فنڈنگ کے معاملے میں دیگر ممالک بھی زیادہ حصہ ادا کریں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے امداد کی کٹوتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی خدمات بہت اہمیت رکھتی ہیں اور امداد کٹوتی کی صورت میں ادارے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Advertisements

امریکہ کی جانب سے فلسطینیوں کی امداد روکنے کی دھمکی

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی دھمکی دی ہے، یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہ یوں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ امن عمل میں تعطل واقع ہو گیا ہے۔ اپنی دو عدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہنا ہے کہ ’’ہم فلسطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر ادا کرتے ہیں، جس پیسے کی نہ تو قدر کی جاتی ہے نہ اُسے سراہا جاتا ہے۔ وہ طویل مدت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، نہ ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے میں جب فلسطینی امن بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ہم کیوں اُن کو اتنی بڑی رقوم دیتے رہیں؟‘‘

ٹرمپ نے گذشتہ سال کے اواخر میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس پر متعدد لوگ ناراض ہوئے۔ ایک طویل عرصے سے ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ امن کی ثالثی کے کردار کے خواہاں ہیں، جسے اُنھوں نے بالآخر ہونے والا ’’حتمی معاہدہ‘‘ قرار دیا ہے۔ صدر کی ٹوئیٹ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے انکشاف کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے اُس ادارے کو رقوم کی فراہمی بند کی جائے گی جو انسانی بنیادوں پر فلسطینی مہاجرین کو امداد فراہم کرتا ہے۔ سفیر نکی ہیلی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’بنیادی طور پر صدر نے یہ کہا ہے کہ وہ مزید رقوم دینے کے خواہاں نہیں، جب تک فلسطینی مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ ’یو این آر ڈبلیو اے‘ کی ویب سائٹ کے مطابق، ادارے کو امریکہ سب سے زیادہ رقوم فراہم کرتا ہے، جس کے لیے سال 2016ء میں تقریباً 37 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

کیا روس اور چین، شمالی کوریا کی مدد کر رہے ہیں ؟

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ شمالی کوریا کو چین اور روس کے بحری جہازوں کے ذریعے تیل منتقل کیا گیا ہے۔ چین نے تیل منتقلی کی تردید کی ہے۔ روس کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دو سینیئر مغربی سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کو روس کے بحری جہازوں سے کھلے سمندر میں تیل منتقل کیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ روس کی جانب سے ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے لیے تیل کا حصول حکومتی عملداری قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تیل مال بردار بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکروں پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترسیل کے عمل میں امکاناً روس کے نجی کاروباری حلقوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس مناسبت سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریائی مال بردار بحری جہاز روسی بندرگاہوں سے تواتر کے ساتھ آ جا رہے ہیں۔ ان ذرائع نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے یہ تیل کی منتقلی بحر الکاہل میں ہوئی ہے۔ روسی تیل بردار بحری جہاز مشرقی روسی بندرگاہی علاقوں سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بحری جہازوں کی آمد و رفت انٹیلیجنس سیٹلائٹ پر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تیل کی منتقلی کے حوالے سے معلومات مغربی سکیورٹی ذرائع نے نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی روئٹر کو بتائی ہیں۔ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بظاہر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تیل کی منتقلی میں روسی حکومت ملوث ہے۔ روس کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کی تردید کر دی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ چین نے شمالی کوریا کو تیل کی فراہمی میں چھوٹ دے رکھی ہے۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں۔ ایک جنوبی کوریائی اخبار Chosun Ilbo نے ایک امریکی انٹیلیجنس سیٹلائٹ سے اتاری گئی ایک تصویر شائع کی تھی اور لکھا تھا کہ ایک چینی بحری جہاز سے شمالی کوریائی ٹینکر پر تیل کی منتقلی دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام نے اس جنوبی کوریائی اخباری رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

دنیا بھر میں تین ملین افراد ’بے وطن‘ ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تیس لاکھ افراد کو بے وطنیت کا سامنا ہے جن کی اکثریت کا تعلق کسی نہ کسی خطے کی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیت سے ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت میانمار کے روہنگیا مسلمان دنیا کی سب سے بڑی ’بے وطن‘ اقلیت ہیں۔ صرف اگست کے بعد سے اب تک چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مبينہ تشدد اور جبر کے باعث میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔

یہ ہمارا گھر ہے – شہریت کی تلاش میں بے وطن اقلیتیں‘ کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ بھی دنیا بھر میں کئی مذہبی، نسلی یا ثقافتی اقلیتوں کو بے وطنیت کا سامنا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق بے وطن انسانوں کے ساتھ دنیا بھر میں امتیازی سلوک کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب بھی کیا جاتا ہے۔ ادارے نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سن 2024 تک ایسی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یو این ایچ سی آر کے ایک سینئر اہلکار کارول بیچلر نے رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ دنیا میں کسی ملک کی شہریت کے بغیر رہ رہے ہیں تو آپ کی کوئی شناخت نہیں، نہ کوئی دستاویزات ہیں اور نہ ہی تعلیم، ملازمت اور صحت جیسی بنیادی سہولیات۔‘‘ عالمی ادارے نے اقوام عالم سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دی جائے، بصورت دیگر ان بچوں کو بھی بے وطنیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں کئی برسوں سے کسی ملک میں رہنے والے مہاجرین کو بھی مقامی شہریت دیے جانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق بے وطن اقلیتوں میں روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ شامی کرد، مقدونیا کی روما برادری، مدگاسکر کی کارانا اور کینیا کی پیمبا اقلیت سے تعلق رکھنے والے انسان سرفہرست ہیں۔

بے وطن انسانوں کے اعداد و شمار کے بارے میں بیچلر کا کہنا تھا، ’’ہم مصدقہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت بے وطن انسانوں کی تعداد تین ملین سے زائد ہے۔‘‘ ان سے پوچھا گیا کہ کیا روہنگیا مسلمان کا شمار بھی ایسے انسانوں میں ہوتا ہے جنہیں دانستاﹰ شہریت سے محروم رکھا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا، ’’میانمار میں شہریت سے متعلق قوانین ہیں جن میں ان افراد کی فہرست بھی شامل ہے جنہیں میانمار کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے لیکن روہنگیا اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔‘‘ عالمی ادارہ برائے مہاجرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بےوطنیت کی یہ تکلیف دہ صورت حال ختم ہونی چاہیے اور وہ تمام قوانین بھی، جن کی مدد سے ایسے امتیازی برتاؤ کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

مسعود اظہر کے خلاف بھارتی قرارداد کو دوبارہ ویٹو کر دیں گے، چین

چین سلامتی کونسل میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی بھارتی کوشش کو دوبارہ ناکام بنا دے گا۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کا مسعود اظہار پر پابندی لگانے کے معاملے پر اختلاف ہے۔ بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا شن ینگ نے مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ فی الوقت سلامتی کونسل کے ارکان کا اس معاملے پر اختلاف ہے اور چین نے مزید غور و خوض کرنے کے لیے تکنیکی طور پر اس معاملے کو روکا ہے۔ واضح رہے کہ چین نے اگست میں سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارتی قرارداد تکنیکی بنیادوں پر روک تھی جس کی مدت میں اس جمعرات کو ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ عسکری تنظیم جیش محمد پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔

زہریلی گیس کے استعمال کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

روس نے اقوام متحدہ میں ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد پر روک لگا دی جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ شام میں ہونے والے حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تفتیش کرنے والے معائنہ کاروں کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کی جائے۔ سلامتی کونسل میں ہونے والی رائے دہی میں 11 ملکوں نے مزید ایک سال کی توسیع کی حمایت کی، روس اور بولیویا نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ چین اور قزاقستان ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چھان بین کرنے والی ٹیم، جسے ’جوائنٹ انویسٹی گیٹو مکینزم‘ کا نام دیا گیا ہے، اپنی رپورٹ کا اعلان کرے گی، جس میں جنوبی ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ خان شیخون کے قصبے میں ہونے والے اس حملے کے ذمے دار فریق کی نشاندہی کی جائے گی، جس حملے میں بیسیوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ تین روز بعد، امریکہ نے شام کے فضائی اڈے پر کارروائی کی، جب امریکہ نے بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا کہ اُس نے حملے میں زہریلی گیس استعمال کی تھی۔

اس سوال پر آیا سارین یا سارین جیسا مواد قابل اعتراض ہے، اور یہ کس نے استعمال کی، اس بات کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے، اور توقع یہ ہے کہ مشترکہ تفتیشی ٹیم اس معاملے پر اپنی رپورٹ دے گی۔ یہ بات روس کے سیاسی مؤقف کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ شامی حکومت ہی اس حملے کی ذمے دار ہے، ایسے میں جب روس صدر اسد کا شدید حامی ہے۔ شام تنازعے میں حکومت ہی ایک ایسا فریق ہے جس کے پاس فضائی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ یہ گیس زمین پر موجود بم سے نکلی تھی، ناکہ فضا سے گرائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ میں روس کے ایلچی، وسالی نبن زیا نے ابتدائی طور پر کمیٹی کی جاری ہونے والی رپورٹ کے اجرا کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ عجلت میں کرائی جانے والی ووٹنگ روس کو پریشان کرنے کی ایک امریکی چال ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

شمالی کوریا نے وائٹ ہاﺅس پر میزائل برسانے کی تیاری مکمل کر لی

شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پوسٹرز آویزاں کردیئے گئے ہیں جن پر امریکا سے فیصلہ کن جنگ اور امریکی ایوانِ صدر یعنی وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش برسانے کا واضح عندیہ دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پوسٹرز پر لکھا ہے کہ شمالی کوریا پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی تیاری کیجیے۔

پوسٹرز میں شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو زندہ جلاتے ہوئے اور کم عمر لوگوں کو کنویں میں پھینکتے ہوئے دکھایا ہے۔ شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ان پوسٹرز میں صاف لکھا ہوا ہے کہ امریکا سے عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے جس میں وائٹ ہاس پر میزائلوں کی بارش کی جائے گی۔ پوسٹروں میں 1950 کی دہائی میں جنگ کے دوران امریکی جارحیت اور امریکی مظالم کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔

امریکی لڑاکا طیاروں کی شمالی کوریا کے ساحل کے قریب پروازیں

امریکہ کے بمبار اور دیگر لڑاکا طیاروں نے شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے لیے اس کے ساحل کے قریب واقع بین الاقومی فضائی حدود میں پروازیں کی ہیں۔ اس اقدام کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں تناؤ میں مزید شدت آ گئی ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے جب پیانگ یانگ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا تجربہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے بمبار طیارے قبل ازیں بھی ایسی پروازیں کر چکے ہیں جب کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔ پینٹاگان نے کہا ہے کہ امریکہ کے بمبار اور لڑاکا طیاروں نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے سے بہت دور شمال میں پراوز کی۔

ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور خودکش مشن پر ہیں

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے یہ پروازیں شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد سے کافی دور شمال میں کی ہیں ۔  پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن امریکی ارادے کا ثبوت ہے اور واضح پیغام ہے کہ صدر( ٹرمپ) کے پاس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی راستے موجود ہیں۔ ‘ہم امریکی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ’خودکش مشن’ پر ہیں۔ شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ مسٹر ٹرمپ جو ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔’ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے’۔

شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو اپنی تقریر کی قیمت چکانا ہو گی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو دفاع کر ضرورت پیش آئی تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔
اس سے پہلے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے : کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت’ چکانی پڑے گی۔ خیال رہے کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر امریکہ کو دفاع پر مجبور کیا گیا تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔‘ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ‘ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔’ کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔’ خیال رہے کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔’

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ‘وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’ شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ان کا ملک امریکی دھمکی کے جواب میں ہائیڈروجن بم ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی ہونہاپ کے مطابق ری یونگ ہو کا کہنا تھا ‘یہ بحرالکاہل میں ہائیڈروجن بم کا سب سے طاقتور دھماکہ ہو سکتا ہے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ‘یہ اقدامات آمدن کے ان ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جو شمالی کوریا کو مہلک ہتھیار بنانے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔’ ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل، ماہی گیری، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جانب تھا۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو طویل عرصے تک بین الاقوامی مالیاتی نظام کے تحت اس کے جوہری ہتھیار اور میزائل پروگراموں کے لیے فنڈز کی بے جا سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔’ امریکی صدر نے زور دیا کہ ‘یہ پابندیاں صرف ایک ملک پر لگائی گئی ہیں اور وہ شمالی کوریا ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو