ٹرمپ کا مسلمانوں پر سفری پابندی سے متعلق بیان پر معافی مانگنے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے سے متعلق اپنے بیان پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجریا کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے درمیان امریکی امیگریشن پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کمزور، قابل رحم، اور متروک قرار دیا۔ انہوں نے اپنی صدارتی مہم 2016 کے دوران مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے کے نعرے پر معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر سفری پابندی سے متعلق بیان میں ایسا کچھ منفی نہیں جس پر معافی مانگی جائے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ حکومت اپنے ملک کی حفاظت کے لیے مضبوط اور فول پروف امیگریشن نظام رکھتی ہے۔ میرے معافی مانگنے سے بھی کچھ نہیں ہو گا کیوں کہ امیگریشن سے متعلق قوانین اپنی جگہ موجود رہیں گے جسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ دنیا ہماری پالیسی پر ہنستی ہے اور ہماری نرمی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگ امریکا میں داخل ہوتے ہیں اور امریکا کو ہی آنکھیں دکھاتے ہیں جیسے میکسیکو سے امریکا میں ہونے والی ہجرت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امیگریشن کے حوالے سے اپنے سخت اور نفرت آمیز موقف کے باعث مقدمات کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کے بعد انہیں اپنے مقدمات میں مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Advertisements

امریکا، چین اقتصادی جنگ کے عالمی تجارت پر اثرات

ایک دور تھا جب دنیا بھر میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور دنیا دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم تھی۔ اس وقت ایک مرد قلندر سید ابولاعلی مودودی نے کہا تھا کہ ’’ایک دور آئے گا جب اشتراکیت کو ماسکو اور سرمایہ دارانہ نظام کو واشنگٹن میں پناہ نہ ملے گی‘‘۔ اشتراکیت تو سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی زمین بوس ہو گیا اور دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کو واحد معاشی نظام کے طور پر قبول کر لیا گیا لیکن 2008ء میں آنے والے مالیاتی بحران نے سرمایہ داری کے ستونوں پر لرزہ طاری کر دیا اور اس میں دراڑ پڑنی شروع ہو گئیں۔

پھر چین دنیا کی اقتصادی طاقت کے طور پر اُبھرنے لگا اور رفتہ رفتہ یورپ و امریکا کی مارکیٹوں پر چھا گیا۔ وال مارٹ جیسا امریکی ادارہ چینی اشیا سے بھر گیا اور امریکی چینی اشیا کے ایسے ہی عادی ہو گئے جیسے کسی زمانے میں گراں خواب چینی افیون کے عادی تھے۔ ایک امریکی اوسطاً روزانہ دس چینی اشیا استعمال کرتا ہے۔ وہ صبح اُٹھ کر جس بلیڈ سے شیو کرتا ہے وہ چینی ہوتا ہے، ناشتے کی میز پر کراکری سمیت متعدد اشیا چینی، دفتر میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری و دیگر سامان چینی، باتھ روم میں استعمال ہونے والے سامان چینی۔ اس صورت حال نے امریکیوں کو شدید پریشانی کا شکار کر دیا۔ کوئی صورت ایسی نظر نہیں آرہی تھی جس سے چینی اشیا سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر کار آمد ہو سکے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عالمی اقتصادی شطرنج کی بساط پر سرمایہ داری کی بنیاد رکھنے اور آزاد تجارت کے تصور کو متعارف کرانے والے ممالک اب اس سے پسپائی اختیار کر رہے ہیں کیوں کہ چین کے اقتصادی ہتھیاروں یعنی کم قیمت، بہتر معیار، مسلسل جدوجہد اور انتھک محنت کا توڑ امریکا اور مغربی ممالک کے پاس نہیں۔ چناں چہ جس جمہوریت، دنیا بھر سے ٹیلنٹ، صلاحیت، قابلیت کو اپنے اپنے ملکوں میں سمیٹنے اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کی بدولت مغرب و امریکا نے ترقی کی معراج پائی اسی جمہوریت کا سہارا لے کر امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے انتہا پسند کو اپنا قائد منتخب کیا۔

اس طرح بھارت اور امریکا جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں دونوں ممالک نے انتہا پسندوں کو اقتدار کا راستہ دکھا کر دنیا کے امن کو خطرات سے دو چار کر دیا۔ امریکا میں اب تاریک وطن کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے، برطانیہ نے بریگزٹ کی راہ اپنالی ہے، مغرب کے متعدد ممالک میں قوم پرستی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے، گورے اور کالے، امیر و غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ 5 اپریل 2018ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو چینی برآمدات پر اضافی ٹیرف میں ایک سو ارب ڈالر کے تازیانے کی دھمکی دی۔ اس سے صرف ایک دن قبل ٹرمپ انتظامیہ نے 50 ارب ڈالر کی چینی برآمدات پر تادیبی ٹیکس کے اپنے منصوبے کا آغاز کیا۔

جس طرح پاکستان میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا یہ اور بات ہے کہ اقتدار سے رخصتی کے بعد ’’سب سے پہلے وہ پاکستان سے رخصت ہوئے‘‘ اور ان کے درآمد شدہ وزیراعظم شوکت عزیز کی طرح وہ آج بھی ملک سے باہر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی سب سے ’’پہلے امریکا‘‘ کا نعرہ بلند کر کے چین کے ساتھ اقتصادی جنگ چھیڑ دی۔ اس سے قبل 2018ء کے آغاز میں 22 جنوری کو امریکا نے بڑے پیمانے پر چینی درآمد شدہ شمسی سامان اور واشنگ مشینوں پر ٹیرف کا اعلان کر کے اس جنگ کا عندیہ دے دیا تھا۔

پھر چین نے 4 فروری کو جانوروں کی خوراک پر اینٹی ڈمپنگ کی تحقیق کا آغاز کیا۔ 8 فروری کو چین کے اعلیٰ سفارت کاروں سے تجارتی جنگ روکنے کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ 2 مارچ کو امریکا نے ایلومینیم کی درآمدات پر تادیبی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کو کاروباری حلقوں اور اقتصادی ماہرین نے آگ سے کھیلنے سے مشابہت دی۔ لہٰذا 6 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتصادی مشیر کرے کوھن نے استعفا دیتے ہوئے اس آگ سے اپنے دامن کو بچانے ہی میں عافیت محسوس کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات کے مضمرات کو عالمی سطح پر بھی محسوس کیا گیا، عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او نے 13 اپریل کو خبردار کیا کہ ٹرمپ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کاروباری کشیدگی چین اور یورپی یونین جیسے اہم امریکی کاروباری شراکت داروں پر پہلے ہی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کرسچین لگارڈ نے 12 پریل کو کہا کہ عالمی معیشت پر گہرے بادل چھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کے عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ چین نے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی اسٹیل ہارٹس، تازہ پھلوں اور شراب پر پندرہ فی صد پورک پر 25 فی صد ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا اور اس اقتصادی جنگ کے اثرات مختلف اسٹاک مارکیٹوں پر پڑنے شروع ہوئے اور جاپان، جرمنی سمیت متعدد ممالک کی اسٹاک مارکیٹس کے انڈیکس میں کمی آئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اقدامات چین کی عالمی اقتصادی اُفق پر بڑھتی ہوئی پیش رفت کو روکنے کے علاوہ پنسلونیا میں انتخابات جیتنا بھی مقصد تھا جو امریکا کی اسٹیل کی پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔ کیا امریکا اس اقتصادی جنگ کو جیت جائے گا؟ یہ سوال بڑا اہم ہے، عالمی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی اقتصادی پیش رفت اس قدر وسیع، ہمہ گیر اور توانا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں اس کے قدم نہیں روک سکتیں۔ خود ٹرمپ اپنے ٹویٹ میں اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوئے اور کہا کہ ہماری تجارتی جنگ چین سے نہیں ہے۔ یہ جنگ ہم برسوں پہلے نااہل لوگوں کے باعث ہار چکے ہیں۔

اب امریکا کو ہر سال 500 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا چین کا 170 ارب ڈالر کا مقروض ہے جب کہ 2016ء میں اسے چین کے ساتھ 342 ارب ڈالر اور 2017ء میں یہ خسارہ بڑھ کر 566 ارب ڈالر ہو گیا۔ امریکا اور چین کی اقتصادی جنگ، تارکین وطن کے خلاف امریکا و مغرب میں بڑھتی ہوئی نفرت، گورے کالے اور امیر و غریب میں بڑھتے ہوئے فرق، افغانستان، شام، فلسطین و کشمیر میں جاری خونریزی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ موجودہ عالمی سیاسی و اقتصادی نظام ناکام ہو چکا ہے۔

انسانوں کے درمیان نفرتوں کی بڑھتی ہوئی خلیج، تہذیبوں کے تصادم اور عالمی اقتصادی جنگ کو روکنے کے لیے اسلام کے نظام اخوت، انسانی بھائی چارے اور اسلامی معیشت کے رہنما اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اسلامی ممالک اس کی ابتدا کر کے مغرب اور امریکا کو رول ماڈل فراہم کریں تو دنیا کے دیگر ممالک بھی اس نظام کی افادیت کے قائل ہو جائیں گے۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ کمیونزم کی ماسکو بدری کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام اور آزاد تجارت کا تصور واشنگٹن سے رخصتی کے لیے پَر تول رہا ہے اور جنگ عظیم اوّل و دوئم کی خونخوار قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر سید محبوب

امریکہ، روس شام میں کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں ۔ لیکن، کیا وہاں اُنہی کا کنٹرول ہے؟

گذشتہ ہفتے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام میں وسیع تر لڑائی بھڑکانے سے احتراز برتا، جب مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں اُنھوں نے بشار الاسد کے خلاف ٹھیک ٹھیک نشانے پر میزائل داغے۔ لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آگے بہت سے خطرات لاحق ہیں جن کے سبب بڑی طاقتوں کے علاوہ ہمسایہ ملک شام کی دلدل میں الجھ سکتے ہیں جس کا نتیجہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تنازع کے صورت میں سامنے آسکتا ہے، بیشک وہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اسد کو اقتدار سے ہٹانے کا معاملہ ترک کر دیا ہو اور ترکی کی سرحد کے قریب شمال اور اردن سے ملحقہ جنوب میں چند مقامات ہیں جن پر ہی باغیوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے، جب کہ شام کے تنازع کا خاتمہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔

چھوٹے چھوٹے تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ جو فریق تنازع میں ملوث ہیں اُن کے لیے یہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے، جب کہ معاملہ طاقت کی سطح کو مضبوط کرنے پر الجھن اور جستجو کا ہے۔ متعدد غیر ملکی طاقتیں لڑائی کے بعد شام کی تعمیر نو میں نہ صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ ایسا کر کے اپنے طویل مدتی مفاد کو قائم رکھنے کی خواہاں ہیں، اور ساتھ ہی جو علاقہ اس وقت اُن کے قبضے میں ہے وہ اُسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ شمال میں ترکی امریکہ کے شامی کُرد اتحادیوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا چاہتا ہے، اور اسے وسیع تر کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ سنی عرب باغی اور کُرد ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے ہیں، جس پر امریکہ متوجہ ہو سکتا ہے۔ ادھر، القاعدہ اب بھی ایک مہلک اور با اثر فورس ہے جب کہ داعش گروپ کی باقیات پر حاوی پانا ابھی باقی ہے۔

ترکی کے علاوہ، کافی علاقہ ایسا ہے جو ایرانی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے، جس میں ایران کا لبنانی ساتھی حزب اللہ شامل ہے، جس نے ملک کے کئی فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں، جس کام میں عراق اور افغانستان سے آنے والے ایرانی قیادت والے شیعہ افراد شامل رہے ہیں۔ اور، شام میں بیرونی طاقتوں کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ وہ کس طرح اپنے نام پر جاری جھگڑوں سے جان چھڑائیں اور بناوٹی ساتھیوں سے کس طرح دور رہیں، جس کثیر فریقی پیچیدہ صورت حال میں ملیشیائیں، جنگجو اور ملک آ جاتے ہیں، جن سبھی کے ایجنڈے متضاد نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کی تین سرکاری تنصیبات کا صفایا کرنے کے لیے داغے گئے 105 کروز میزائل حملوں کے بعد مغربی سیاسی اور فوجی قائدین کو ایک سکون ملا۔ صورت حال تب بدتر ہوتی اگر سزا دینے کی اِس کارروائی کے دوران جوابی روسی کارروائی سامنے آتی۔ اور داغے گئے میزائلوں کو مار کرانے کی شامی فوج کی کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، حالانکہ، پینٹاگان کے حکام کے مطابق، روس اور شام نے اس قسم کے دعوے ضرور کیے۔ تاہم، صورت حال بگڑنے کا خدشہ اب بھی باقی ہے، حالانکہ ہفتے کو ایسا نہیں تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سب سے بڑا خطرہ شام میں اسرائیل اور شام کے درمیان الجھاؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

سی آئی اے کے سربراہ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے “خفیہ” ملاقات

امریکی خفیہ ایجنسی “سی آئی اے” کے سربراہ مائک پومپیو نے شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا ہے جہاں مبینہ طور پر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس امر کا دعوی امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ شمالی کوریا سے اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق شمالی کوریا اور امریکہ کے حکام کی براہ راست بات چیت ہوئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تاریخی ملاقات کے بارے میں معاملات طے کیے جا سکیں، تاہم امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ بات چیت میں کون شامل تھا۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیراعظم شِنزو آبے سے ملاقات کے موقعے پر بتایا کہ’ہماری اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور اس وقت پانچ مقامات زیر غور ہیں جہاں میری کم جونگ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔‘ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات جون کے ابتدا میں یا اس سے کچھ دیر پہلے ہو سکتی ہے۔ جاپانی وزیراعظم شِنزو آبے نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات پر رضامند ہونے کے جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی۔ خیال رہے کہ جاپان کو خدشات ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان باہمی بات چیت کے منصوبے میں جاپان نظرانداز ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے معاملے پر متحد ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ رواں ماہ کے شروع میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے جوہری ہتھیاروں اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی ملاقات کی خبر مارچ میں سامنے آئی تھی اور وہ عالمی برادری کے لیے نہایت حیران کن تھی۔ واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے ایک سال قبل تک ان دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کیے اور دھمکیاں تک دی تھیں۔

پینٹا گون چیف دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ سے بچائیں

پینٹاگون کو جاری کئے گئے ایک پیپر میں ڈینئل ایلسبرگ نے خبردار کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع جم میٹس سے کہا ہے کہ وہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کاروائی کا آغاز کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حکم سے بچائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برس کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ صورتحال جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جانب جا رہی ہے ۔ پیپر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بااختیار شخص ہونے کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کر رہے ہیں۔

ایلسبرگ جو ایک سابق فوجی تجزیہ نگاربھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ کا منصوبہ عالمی تباہی میں تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ پینٹاگون پیپر 3 بڑی جوہری طاقتیں امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے بشارت الاسد کے خلاف اقدامات کرنے اور شام میں کیمیائی حملے کے بعد دیئے گئے ان بیانات کے بعد سامنے آئے ہیں ۔ الیسبرگ کا مزید کہنا ہے کہ یہ ایک بہت خطرناک وقت ہے ۔انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر کاروائی کرنے کے لفظی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ایک اور جوہری طاقت کو جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں ۔

جب کہ 4 جوہری طاقتیں مل کر شام پر کاروائی کر رہی ہیں اور ان پر سیاسی دبائو بھی ہے ۔ ایلسبرگ نے میٹس پر زور دیا ہے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کیلئے تیار رہنا چاہیئے ، تاہم میٹس کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے اس قسم کے حکم کو اپرول کے بغیر نہیں مانا جائے گا اور مٹس ڈونلڈ ٹرمپ کو شام اور شمالی کوریا میں ایسے کسی اقدام سے روک لیں گے ۔

ٹرمپ ’مافیا کے سرغنہ’ کی طرح وائٹ ہاؤس چلاتے ہیں، جیمز کومی

امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی مافیا کے سرغنہ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے لیے مکمل وفاداری چاہتا ہے، جسے لگتا ہے ساری دنیا اس کے خلاف ہے اور جو ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے۔ یہ وہی کومی ہیں جنہیں گزشتہ برس مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اپنے بنائے ہوئے خول میں قید رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی گھسیٹ کے اس میں لے جانا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کتاب اگلے ہفتے عوام کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ سے اپنی ملاقاتوں کو دہراتے ہوئے جیمز کومی نے لکھا کہ ’منظوری کا منتظر ایک خاموش ماحول، تمام تر طاقت کا حامل سربراہ، وفاداری کا حلف، ہر بات کے بارے میں جھوٹ، پوری دنیا ایک طرف ہم ایک طرف والا رویہ، ادارے کے قواعد و ضوابط سے بالا صرف وفاداری کا یقین دلانا، ملازمت کے شروع میں ایسا لگتا تھا جیسے میں کسی ہجوم کے خلاف وکالت کرتا ہوں۔ کومی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شروع سے ہی صحیح اور غلط کی تمیز نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جیمز کومی نے نے لکھا ہے کہ ’امریکی صدر ایک بداخلاق شخص ہیں جنہیں اخلاقی اقدار کی کوئی پرواہ نہیں، ان کی سربراہی صرف لین دین کے فلسفے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے مکمل وفاداری پر بنی ہوئی ہے۔‘

اعلیٰ وفاداری
اے ہائیر لائلٹی : ٹروتھ، لائیز اینڈ لیڈر شپ کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کی اشاعت نے وائٹ ہاؤس میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ بھی پہلے سے مشکلات میں گھرے ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانیوں میں متوقع اضافے پر فکرمند ہے۔ کتاب کے اقتباسات سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جیمز کومی کی کردار کشی کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، تاکہ عوام پر کتاب کا اثر نہ ہو پائے۔ اس سلسلے میں ریپبلکن پارٹی نے رواں ہفتے ایک ویب سائٹ کا بھی اجرا کیا جس کا عنوان ہے جھوٹے کومی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جیمز کومی کوئی معمولی شخصیت نہیں، بلکہ تین صدور کے ادوار میں ایف بی آئی کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور واشنگٹن میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حلقوں میں مشہور ہیں۔ گزشتہ برس جیمز کومی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر، صدر کے سابق مشیر قومی سلامتی مائیک فلن سے جاری تفتیش ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور وفاداری کا ثبوت طلب کیا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے 9 مئی کو جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا جو انتخابات میں روسی مداخلت پر تحقیقات کر رہے تھے۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد امریکی شعبہ انصاف نے رابرٹ ملر کو اس تفتیش کے لیے مقرر کر دیا تھا، جنہوں نے تمام تر رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب تک 19 افراد پر فرد جرم عائد کی جس میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ تاہم مذکورہ کتاب میں روس کے ساتھ روابط کی تحقیقات کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی گئی کیونکہ جیمز کومی، رابرٹ ملر سے جاری حساس نوعیت کی تفتیش کی رازداری کے پابند ہیں، جسے ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔

امریکا، برطانیہ اور فرانس کی شام پر حملے کی منصوبہ بندی

شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، روس نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کر دی ہے، قرارداد شام میں کیمیائی حملے سے متعلق تحقیقات سے تھی، امریکا نے بھی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد کو ویٹو کر دیا، اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ شام پر کسی بھی حملے سے قبل ہوش سے کام لیا جائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو روز کے دوران زہریلی حملے سے متعلق سخت رد عمل دیں گے، برطانوی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر مغربی اتحادیوں نے مطالبہ کیا تو وہ بھی شامی حکومت پر حملے میں شامل ہو سکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیردفاع جم میٹس نے اپنے بیرونی دورے منسوخ کر دیے ہیں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے پر ردعمل دینے کے لیے ہمارے پاس عسکری سطح پر کئی راستے موجود ہیں جس کے لیے مغربی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے، صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو بھی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی حکومت کو کیمیائی حملوں کی اجازت نہیں دے سکتے، دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شام پر حملے کا فیصلہ کیا تو وہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے اتحادیوں امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر رد عمل دیں گے، میکغوں کا کہنا تھا کہ فرانس کی معلومات کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذمہ دار شامی حکومت ہے.

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر حملے کا مطالبہ کیا تو وہ یقیناً ایسا کریں گے، ادھر ممکنہ حملے کے پیش نظر شامی فوج نے اپنی تمام فوجی پوزیشنز کو الرٹ کر دیا ہے، سیرین آبزرویٹری کے مطابق تمام فضائی، بری اور بحری اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، شامی فوج کے ایک زریعہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قطر کے امیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی اور ٹرمپ نے شام کی صورت حال اور خلیجی امور پر بات کی۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر میں مفاہمت چاہتے ہیں ۔

انتہاپسند امریکی طالبعلم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 17 کو ہلاک کر دیا

امریکہ ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک متشبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ نکولوس کروز کے نام سے ہوئی ہے جو ایک سکول کا سابق طالب ہیں اور انھیں سکول سے نکالا گیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مقامی چینل سی بی ایس کو بتایا کہ ملزم نے فائرنگ کرنے سے پہلے فائر الام بجایا جس سے افراتفری پیدا ہوئی۔ بروارڈ کاونٹی شیرف سکاٹ اسرائیل نے صحافیوں کو بتایا کہ نکلولوس کروز نے ایک رائفل استعمال کیا اور ان کے پاس ’لاتعداد میگزینز‘ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکول کے باہر سے فائرنگ کرنا شروع کی جہاں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہوئے اور مزید 12 افراد کو ہلاک کیا۔

اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔ اس سے قبل سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے سپرینٹینڈینٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص ’ممکنہ طور پر سابق طالب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ شخص اب زیر حراست ہے۔‘ مقامی سکول پبلک سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی سکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سکول کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب طالب علموں کو نکالا جا رہا ہے۔ ہمیں ممکنا طور پر زخمی ہونے والوں کے بارے میں بھی اطلاعات ملی ہیں۔‘

سکول کا کہنا تھا کہ پولیس سکول کی ایک عمارت سے طالب علموں کو نکال رہی ہے۔ کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔ بحٖفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘ جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایوری ٹاون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکہ میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

شام میں امریکی حملے میں درجنوں روسی جنگجو ہلاک

شمال مشرقی شام میں روسی جنگجو امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ بات ان روسیوں کے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتائی۔ اطلاعات کے مطابق ان جنگجوؤں کو ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا جو شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان اموات کی خِبریں امریکی میڈیا میں آئی ہیں لیکن روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ان اطلاعات کو ‘بنیادی ذرائع’ تصور نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس کے حملوں میں کم از کم ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سینکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔ جب انھوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ امریکہ نے اس کے جواب میں بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا۔ شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ اس حملے میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں اور اسے ‘وحشیانہ قتلِ عام’ قرار دیا ۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نے پینٹاگون کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے اڈے پر حملے میں شام کے حکومت نواز جنگجوؤں کے ساتھ روسی کرائے کے فوجی بھی شامل تھے۔ سی بی ایس نے کہا : ‘اگر واقعی روسی مارے گئے ہیں تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ شام میں کسی امریکی کارروائی میں روسی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔’ روسی جنگجوؤں کے دو ساتھیوں نے بی بی سی سے تصدیق کی کہ وہ سات فروری کو مارے گئے تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے نام ولادی میر لوگینوف اور کریل آنانیف بتائے۔ بعض روپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ درجنوں روسی ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ انھیں نجی روسی کمپنی واگنر نے بھرتی کیا تھا۔ اس کمپنی نے ابھی تک اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کیا امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے ؟

امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے۔ امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار) نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی جو امریکی کانگریس، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی گئی۔ رپورٹ میں اعتراف کیا کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے اور امریکا کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہو رہی ہے، اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔

سگار کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں بم حملوں کے اعداد و شمار 2012 کی نسبت 3 گنا زیادہ ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ سپاہیوں کو ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے، گزشتہ 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اکتوبر میں افغانستان میں فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر دی گئی لیکن اس کے باوجود گزشتہ سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فی صد اضافہ ہوا اور پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ افغان صوبے فرح میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی سرکاری چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔