امریکہ : کیا سفید فام نسل پرستی بڑھ رہی ہے ؟

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں جان لیوا تشدد ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتہائی دائیں بازو کی تنظیمیں امریکہ میں کافی نمایاں طور پر اُبھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسےگروہوں کی سرگرمیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی سے تقویت ملی ہے۔ یہ گروہ بائیں بازو کی سوچ اور اعتدال پسند خیالات کو رد کرتے ہیں۔ خیال ہے کہ سوشل میڈیا بھی ایسے گروہوں کو بڑھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے سدرن پاورٹی لا کے مطابق وہ ایسے 1600 شدت پسند گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مگر ایسے گروہ کتنے مقبول ہیں اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مندرجہ ذیل سفید فام نسل پرست گروہ امریکہ میں کافی متحرک ہیں۔
آلٹرنٹیو رائٹ (آلٹ رائٹ)
دی آلٹرنٹیو رائٹ یا آلٹ رائٹ کے نام سے مقبول اشتعال انگیزی پھیلانے والے یہ افراد ایک گروہ کی شکل میں سامنے آئے ہیں جنہیں سیاسی لحاظ سے درست زبان کے استعمال سے نفرت ہے اور صدر ٹرمپ انہیں محبوب ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ متعصب سفید فام قوم پرست ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس گروہ کی حالیہ مقبولیت میں اضافے کی وجہ 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعصبانہ جذبات کا اظہار ہے۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے انہوں نے 2016 میں اس گروہ کے خیالات سے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔

آلٹ رائٹ کو میڈیا میں اُس وقت مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی 2016 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کی حیثیت سے حریف ہلیری کلنٹن کی تصویر داؤدی ستارے سے مشابہ ایک چھ کونے والے ستارے کے ہمراہ ٹویٹ کی اور ساتھ یہ لکھا کہ ‘اب تک کی سب سے زیادہ کرپٹ امیدوار!’
رچرڈ برٹرنڈ سپینسر جنہوں نے آلٹرنیٹو رائٹ اصطلاح کا استعمال شروع کیا تھا کہتے ہیں کہ اس گروہ کا مقصد ‘سفید فام افراد کی پہچان’ اور ‘روایتی مغربی معاشرے کی بقا’ ہے۔ آزادی، آزادیِ اظہار اور دوسروں کی دل آزاری کرنے کا حق حاصل ہونا ان کا نصب العین ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد نسل پرست ہیں، عورتوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور یہودیت مخالف ہیں۔ یہ مومنٹ زیادہ تر تو آن لائن ہے اور اس کے ممبر باقاعدہ کسی ادارے کا حصہ نہیں اس لیے تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

کو کلکس کلین (کے کے کے)
امریکہ کا سب سے معروف سفید فام نسل پرست گروہ کے کے کے جنوبی ریاستوں کے سابق فوجیوں نے 1865 میں امریکی خانہ جنگی کے بعد قائم کیا تھا۔ اس گروہ نے پہلے جنوبی حصوں میں زور پکڑا مگر انیس سو کے اوائل میں ملک بھر میں پھیل گیا۔ اس گروہ کے مختلف حصے سیاہ فام امریکیوں، یہودیوں اور مہاجرین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے سے ہم جنس پسند افراد بھی اس گروہ کا نشانہ بن گئے ہیں۔ اس گروہ کا مقصد ہے کہ ایسے سب لوگوں کو جن کے خلاف یہ تعصب رکھتے ہیں انہیں مساوی حقوق حاصل نہ ہوں۔ تاریخی طور پر اس گروہ کے ممبران ایسے لباس پہنا کرتے تھے جن سے اِن کے چہرے چھپ جاتے تھے اور وہ ان کپڑوں میں وہ ایسے لوگوں کی جانیں لے لیتے تھے جو جنوبی ریاستوں میں سفید فام قوم پرستی پر اعتراض کرتے تھے۔

اس گروہ کے کچھ دھڑے اپنے آپ کو ‘سفید فام محب وطن عیسائی’ ادارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ گروہ ہر امریکی ریاست میں موجود ہے اور کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد پانچ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ کو کلکس کلین سے منسلک درجنوں گروہ ہیں جن میں کانفیڈرٹ وائٹ نائٹس اور ٹریڈشنل امیرکن نائٹس شامل ہیں۔ امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں 12 اگست 2017 کو ہونے والی مارچ میں ایک عورت ہلاک ہوئی۔

نیو نازی گروپ
نیو نازی کی اصطلاح ایسے گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو یہودیت مخالف خیالات رکھتے ہیں اور انہیں ایڈولف ہٹلر اور نازی جرمنی سے محبت ہے۔ ایسے گروہوں کے خیالات امریکہ میں پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہیں۔ ایک مشہور کیس میں امریکی سپریم کورٹ نے پہلی ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیو نازی گروہ کو سکوکی اور الانوئے کے ایسے علاقوں سے سواسٹیکا یا نازی نشان اُٹھائے مارچ کرنے کی اجازت دی جہاں زیادہ تر یہودی بستے تھے۔ امریکہ میں متعدد نیو نازی ادارے ہیں جن میں امیرکن نازی پارٹی اور نیشنل سوشلسٹ مومنٹ شامل ہے۔ ان سب میں نمایاں نیشنل الائینس ہے جس کا ایک دھڑ ‘یونائیٹ دا رائٹ’ ہے اور اسی گروہ نے 12 اگست 2017 کو مارچ کا انعقاد کیا جس میں ایک عورت ہلاک جب کے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل داغنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ گوام پر حملہ کرنے کے فیصلے سے قبل کم جونگ ان امریکی اقدامات پر نظر رکھیں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریانے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے ‘میزائل داغنے کے منصوبے کا کافی دیر تک جائزہ لیا’ اور سینیئر فوجی افسران سے اس بارے میں گفتگو کی۔ ‘ رپورٹ کے مطابق ‘شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔’ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ ‘امریکہ جوہری ہتھیار ہمارے ملک کے قریب لایا ہے اور یہ اس کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے تو وہ درست فیصلہ لے تا کہ عسکری تصادم نہ ہو۔’

شمالی کوریا کے سربراہ نے فوج کو حکم دیا کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی حملہ جنگ میں بدل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ‘کسی بھی وقت، کسی کی جانب سے کیے گئے حملے’ سے نمٹنے اور ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے پڑوسی جنوبی کوریا نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ سے ملاقات میں اعادہ کیا کہ ‘جنوبی کوریا کی سب سے اہم ترجیح امن ہے۔’ ساتھ ساتھ انھوں نے شمالی کوریا سے بھی اشتعال انگیزی ختم کرنے کو کہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ شمالی کوریا پر ‘آگ اور قہر’ کی بارش کر دی جائے گی۔ تاہم شمالی کوریا کے روایتی ساتھی چین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ضبط سے کام لیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے الفاظ اور افعال کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔’ اس سے قبل اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔

حزب المجاہدین دہشت گرد نہیں

70 سال پہلے بھارت نے اقوام متحدہ سے خود قرارداد منظور کرانے کے باوجود کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کی بجائے ریاست کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس عمل کے دوران لاکھوں کشمیری شہید ہو گئے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور کشمیری نوجوانوں کا اپنے دفاع میں مزاحمت کرنا دہشت گردی نہیں لیکن امریکہ بھارت کے ایما پر تحریک آزادی کو منظم کرنے والی ایک تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح لشکر طیبہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور بھارت نے ان دونوں تنظیموں اور ان کے سربراہوں کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سے عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی جسے چین نے ویٹو کر کے ناکام بنا دیا۔

حکومت پاکستان نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی تھی اور کہا تھاکہ ان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ سید صلاح الدین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کیا ہے اور اس کا مقصد بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا لائسنس دینا ہے۔ کوئی تنظیم، گروہ یا عسکریت پسند کسی ملک پر قبضہ کر کے اپنا نظام لانے اور وہاں قائم قانونی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح کارروائی کرے تو اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند سیاسی قیادت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ بھارتی فوج اسے کچلنے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے تو کشمیری نوجوانوں کا حق ہے کہ اپنا دفاع کریں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے بہتر ہو گا کہ امریکہ بھارت پر دبائو ڈال کر اس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرائے اور عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت دلائے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

افغانستان ، جنگ کے بدلتے ہوئے انداز : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

افغانستان کی جنگ آزادی میں تین دہائیوں کے قلیل عرصے میں جنگ کے طریقوں میں دو مرتبہ اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔1987ء میں افغان مجاہدین نے‘ سٹنگر میزائیلوں’ کے ذریعے روسیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور اب خود کش بمباروں کے ذریعے امریکیوں کو افغانستان سے متعلق منصوبے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سٹنگرز میزائیل: 1986ءمیں روسیوں نے افغانستان میں ہیلی بورن کمانڈو بریگیڈ شامل کیا جس سے مجاہدین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس وقت امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل کرسٹ (General Crist) نے پشاور میں میرے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ وہ مجاہدین کی پسپائی اختیار کرنے پر حیران تھے۔

اس کے ایک ہفتہ کے اندر امریکی فوج کے کمانڈر جنرل وکم (Wikam General ) نے مجاہدین کے پسپا ہونے کی تصدیق کرنے کیلئے پشاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے حالات کا زمینی جائزہ لیا اور مجاہدین کو ہاتھ سے چلنے والے سٹنگر میزائیلوں کی ضرورت کے معاملے پر مطمئن ہو کر واپس چلے گئے اورجلد ہی مجاہدین کو سٹنگر میزائیل دے دیئے گئے جنہیں مجاہدین نے استعمال کیا اور روسی ہیلی کاپٹروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کے سبب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور روسیوں کو پسپا ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہ ہر لحاظ سے مناسب اور بر وقت فیصلہ تھا۔

خودکش بمبار: یہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے۔ طالبان کمانڈر ہیبت اللہ کے بیٹے عبدالرحمن خالد کی قیادت میں خود کش بمباروں کے دستے نے بارود بھری امریکی (Humvy) پر بیٹھ کر خود کش حملہ کر کے مدافعت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اس کارروائی نے نوجوان حریت پسندوں کو نیا ولولہ عطا کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کریں گے۔ ذرا سوچئے کہ اگر خود کش بمباروں سے بھری ہوئی نصف درجن ایسی گاڑیاں کسی ٹھکانے پر حملہ کر دیں تو دفاعی فوجوں کی ہمت اور حوصلے کو توڑ کر رکھ دیں گی اور جب وہ بھاگیں گے تو ان کے پیچھے درجنوں خودکش بمبار ان کا تعاقب کر رہے ہوں گے اور اس طرح ایک کے بعد دوسرے حصار ٹوٹتے جائیں گے۔ اب ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں نے ان خطرات کو بھانپ لیا ہے اور افغانستان سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

دراصل امریکہ اور اس کے اتحادی 2010ءمیں مکمل طور پر شکست کھا چکے تھے لیکن ان میں روسیوں کی طرح شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنا نمائندہ رچرڈ آرمیٹیج جو کہ افغانستان کے سینٹ کی کمیٹی کے سربراہ تھے’ انہیں میری طرف بھیجا تا کہ افغان مجاہدین کے ساتھ بات چیت کی راہ نکالی جائے۔ (رچرڈ آرمیٹیج وہی شخص ہیں جنہوں نے 9/11 کے بعد جنرل مشرف کوسخت دھمکیاں دیں اور انہیں افغانستان کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کیلئے امریکہ کے سات مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا)۔ ہم نے ملا عمر سے رابطہ کیا اور ان کی جانب سے اشارہ مل چکا تھا اور انہوں نے امریکیوں سے بات چیت کیلئے ایک پانچ رکنی وفد بھی تیار کر لیا تھا لیکن اسی دوران واشنگٹن میں کچھ ایسی سازش بنی کہ پینٹاگون نے رچرڈ آرمیٹیج کو روک دیا ’جنہوں نے کرنل امام اور خالد خواجہ کے اغوا اور قتل کے بعد ہمارے ساتھ رابطے ختم کر دیئے۔ 2010ء سے امریکہ اور اس کے اتحادی ”سامنے نظر آتی ہوئی شکست کو فتح میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں“ لیکن ملا عمر کے پرعزم مطالبے کی وجہ سے اس سلسلے میں انہیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی۔

ملا عمر نے کہا تھا کہ: ”افغانستان سے نکل جاو اور ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دو۔“ ایسا بہر صورت ہونا ہی تھا جیسا کہ میں نے بھری محفل میں جنرل مشرف کی جانب سے افغانستان کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ”طالبان پھر سے منظم ہو کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنے ملک کی مکمل آزادی تک جنگ لڑیں گے’ وہ جیتیں گے اور امریکہ اوراتحادی ہار جائیں گے۔“ میری اس بات پر سب حاضرین طنزاً ہنس پڑے تھے مگر آج وہ خود اپنے آپ پر ہنس رہے ہوں گے۔ لہٰذا اب امریکہ کے ممتاز تجزیہ کار اور پالیسی ساز حلقوں کی جانب سے ”افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی تبدیل کرنے“ کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔

•افسوسناک بات یہ ہے کہ 16 سالوں تک خزانے لٹانے اور اتنا بیش بہا خون بہانے کے باوجود محفوظ اور پرامن افغانستان کے خواب کی تکمیل کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

•”ہم افغانستان میں اس وقت تک ہرگزکامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہمیں پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل نہ ہو۔“ (جنرل ڈیون فورڈ’ امریکی جوائنت چیف آف سٹاف۔)

• ”وائیٹ ہاوس کواب اس امر کا ادراک کرلینا چاہیئے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج سالانہ 23 بلین ڈالر سے زائد اخراجات کر رہی ہے لیکن اس کے مقابلے میں امریکی مفادات کا تحفظ بہت کم ہے۔ ایک ناکام جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو بڑھانا کسی طور سودمند فعل نہیں ہے۔ امریکی فوج ماضی کی کارروائی ہی دہرا رہی ہے لیکن توقع مختلف نتائج کی ہے۔“

•”امریکی پالیسی سازحلقوں نے بالآخر افغانستان کے بارے منصوبے تبدیل کرنے کی ضرورت کا ادراک کر لیا ہے جو پچیس سالوں سے ایک ہی پالیسی پر گامزن ہیں اور توقعات مختلف نتائج کی رکھتے ہیں۔“ یہ عقلمندی کی علامت ہرگز نہیں ہے کہ آپ بار بار ایک ہی جیسی کاروائیاں کرتے رہیں اور توقع مختلف نتائج کی رکھیں۔“

•”اگر امریکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ کر کے انہیں آزاد کرانا چاہتا ہے تو قبل اس کے کہ دہشت گردوں کا صفایا ہو ’اسے اپنی فوجوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے“ اور افغانستان کی سرزمین افغانیوں کےلئے تنگ نہ ہو گی۔

• ”پاکستان کیلئے تزویراتی گہرائی کا مطالبہ طالبان کے‘ غیر ملکی فوجوں کے انخلاء اور افغان (پاکستان) پختونوں کوغیر ملکی دباو سے آزاد باعزت زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے’ برحق ہے۔ اگرچہ یہ بہت ہی مشکل فیصلہ ہے لیکن بدترین اقدامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔“

امریکہ کو اب ہمارے تزویراتی گہرائی کے نظریے کی حقیقت کا ادراک ہوا ہے کیونکہ افغانستان میں تحریک آزادی اب عروج پر ہے اور اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان 1988ء کی طرح باہمی اتحاد سے خطے میں مسلم ممالک کا تزویراتی محور بنا سکتے ہیں اور تمام زاویوں سے تزویراتی سلامتی کے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ 25 اگست 1988ء کو نیا چیف آف آرمی سٹاف بننے پر میں نے اپنے سینئر افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”ہم اسلام کے غلبے اور جمہوری اقدار کی ترویج کا سورج طلوع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان، ایران اور افغانستان تینوں ممالک باہم متحد ہو کر آزاد، مستحکم اور پرعزم انداز سے مشترکہ منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک باہمی اتحاد سے طاقت کے ایک مرکز کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہی اتحاد عالم اسلام کی تزویراتی گہرائی کا نظریہ ہے۔“

یہ ایسا نظریہ ہے جسے بہرصورت حقیقت کا روپ دھارنا لازم ہے۔ ”اس نظریے کے خلاف ہمارے دشمنوں سے زیادہ ہمارے اپنے آستین کے سانپوں نے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ یہ ہے وہ خواب جسے شرمندہ تعبیر ہونا ہے تاکہ ”افغانستان سے غیر ملکی فوجو ں کے انخلاء کا ہمارا مطالبہ پورا ہو سکے اور ہم غیروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے آزاد باعز ت زندگی گزار سکیں۔ ہمیں توقع رکھنی چاہیئے کہ ہماری حکومت اس اہم مسئلہ کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین ہدف سمجھتے ہوئے، شرمندہ تعبیر کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرے گی۔ اس خواب کی تعبیر ملکی دفاع کی سب سے اہم حقیقت ہو گی۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

ایٹم بم گرانے کے لیے ناگا ساکی کو کیسے چنا گیا ؟

چھ اگست سنہ 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔ اس دھماکے کے بعد 13 مربع کلومیٹر تک کے علاقے میں تباہی پھیل گئی تھی۔ ایک جھٹکے میں ہزاروں زندگیاں برباد ہو گئیں۔ اس سے ہونے والے نقصان کا جب تک پورا اندازہ لگایا جاتا، 9 اگست کو جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرا دیا گیا۔ حالانکہ ناگاساکی اصل نشانہ نہیں تھا۔

تو آخر ناگاساکی نشانہ کیوں بنا؟
آٹھ اگست 1945 کی رات گزر چکی تھی۔ امریکہ کے بم گرانے والے بی۔ 29 سُوپر فوٹریس طیارے پر بم لدا ہوا تھا۔ بڑے سے تربوز کے سائز والے اس بم کا وزن 4050 کلوگرام تھا۔ اس دوسرے بم کے نشانے پر جاپان کا صنعتی شہر کوکرا تھا۔ یہاں جاپان کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں تھیں۔
صبح نو بج کر پچاس منٹ پر نیچے کوکرا نظر آنے لگا۔ اس وقت بی۔ 29 طیارہ 31 ہزار ٖفٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ لیکن شہر کے اوپر بادل تھے۔ طیارہ فضا میں گھوم کر بادلوں کے ہٹنے کا انتظار کرتا رہا۔ بی۔ 29 پھر سے لوٹ کر کوکرا پر آیا لیکن جب بم گرانے کا وقت آیا تو شہر پر دھوئیں کا قبضہ تھا اور نیچے توپیں آگ اگل رہی تھیں۔ بی۔ 29 کا ایندھن تیزی سے کم ہو رہا تھا اور اب طیارے میں صرف اتنا ایندھن ہی بچا تھا کہ وہ واپس لوٹ سکے۔ طیارہ زیادہ دیر فضا میں انتظار نہیں کر سکتا تھا۔

اس مہم کے گروپ کپتان لیونارڈ چیشر نے بعد میں بتایا ‘ہم نے صبح نو بجے پرواز شروع کی تو کوکرا نشانے پر تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بادل تھے۔ تبھی ہمیں اس علاقے کو چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔ اور ہم دوسرے ٹارگٹ کی طرف بڑھے جو کہ ناگاساکی تھا۔‘ کچھ ہی دیر میں ایک بھاری بھرکم بم تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 52 سیکینڈ تک گرنے کے بعد بم زمین سے 500 فٹ اونچائی پر پھٹ گیا۔ گھڑی میں وقت تھا گیارہ بج کر دو منٹ۔ کھمبی کی شکل کا آگ کا ایک بہت بڑا گولا اٹھا جس کا سائز آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور پورے شہر کو نگل گیا۔ ناگا ساکی کے ساحل پر کھڑی تمام کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی تھی۔ کوئی یہ جان بھی نہیں سکا کہ ان کے شہر کے ساتھ ہوا کیا۔ احساس ہونے سے پہلے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔

شہر کے باہر چند جنگی قیدی کانوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بتایا ‘پورے شہر سے انسانوں کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ کچھ بہت ہی غیر معمولی ہوا ہے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ لوگوں کے چہرے، ہاتھ، پیر گل رہے تھے۔ ایٹم بم کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔‘
ناگاساکی پہاڑوں سے گھرا تھا اس لیے تباہی 6.7 مربع کلومیٹر سے باہر نہیں پھیل سکی۔ بعد میں اندازہ لگایا گیا کہ ہیروشیما میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ ناگاساکی میں مرنے والوں کی تعداد 74 ہزار تھی۔

موہن لال شرما
بی بی سی ہندی

لاس اینجلس : امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر

لاس اینجلس (انگریزی: LosAngeles) المعروف ایل اے (L.A) بلحاظ آبادی امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا سب سے بڑا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر تقریباً 40 لاکھ کی آبادی کا حامل ہے اور 498 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ امریکی محکمہ شماریات کے مطابق لاس اینجلس کا ام البلد 4850 مربع میل پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ (13 ملین) افراد رہتے ہیں۔ لاس اینجلس 1781ء میں ہسپانوی عیسائی مبلغین نے بسایا، البتہ اسے بلدیہ کا درجہ 4 اپریل 1850ء کو کیلیفورنیا کو ریاست کا درجہ دیئے جانے سے 5 ماہ قبل دیا گیا۔

یہ ثقافت، سائنس، طرزیات، بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین مراکز میں سے ایک ہے اور دنیا کے کچھ معروف ترین تعلیمی اداروں کا حامل ہے۔ شہر اور اس کے نواح کے علاقے دنیا کی سب سے مشہور تفریح فلم و ٹی وی پروگراموں کے باعث عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ بھی اسی شہر میں واقع ہے، اس طرح یہ شہر دنیا کے مشہور ترین اداکاروں، فلمی ستاروں، گلوکاروں، ہدایت کاروں و فلمسازوں کی آماجگاہ ہے۔ شہر 1932ء اور 1984ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا شرف حاصل کر چکا ہے۔

 

ملازم کو نوکری سے نکالنے پر گوگل کے خلاف بینر لگ گئے

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک انجنیئر کو ملازمت سے فارغ کیے پر کمپنی کے سربراہ خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں احتجاجی بینر لگ گئے۔ خیال رہے کہ گوگل کے چیف ایگزیٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے نوجوان انجنیئر جیمز ڈیمور کو کمپنی میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر تنقید کرنے پر گزشتہ ہفتے 8 اگست کو ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ سندر پچائی نے ملازم کو ایمیل کے ذریعے نوکری سے فارغ ہونے کی اطلاع دی۔

انجنیئر جیمز ڈیمور نے گوگل میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر کمپنی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 300 الفاظ پر مشتمل اپنے مضمون میں کہا تھا کہ خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی ماہر نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی تعداد نہ بڑھائی جائے۔ ملازم کی جانب سے جنسی تعصب پر مبنی تجویز سامنے آنے کے بعد گوگل کے سی ای او نے جیمز ڈیمور کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا، جس پر سب سے پہلے ملازم نے خود اور اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے احتجاج شروع کیا، لیکن اب یہ احتجاج مختلف شہروں میں آویزاں کیے گئے بینرز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد جیمیز ڈیمور نے گوگل کے ہیڈ آفیس کے باہر 11 اگست کو بینر اٹھا کر احتجاج کیا۔ ملازم کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد لاس اینجلس سمیت امریکا کے مختلف شہروں میں گوگل کے بھارتی نژاد سی ای او سندر پچائی کے خلاف احتجاجی بینر لگ گئے۔ بینرز میں سندر پچائی اور ایپل کے سی ای او کا موازنہ کیا گیا، جب کہ کچھ بینرز صرف گوگل کمپنی کے خلاف لگائے گئے۔ گوگل کے خلاف احتجاجی بینر لگائے جانے کے ساتھ کچھ مقامات پر گوگل کے دفاتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر کے سڑک کنارے بینر آویزاں کیے گئے۔ لاس اینجلس کی ایک خاتون نے وینیس علاقے کی تصاویر ٹوئیٹ کیں، جن میں بتایا گیا کہ گوگل کے دفتر جانے والے راستے کو بند کردیا گیا۔

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔

جاپان پر ایٹم بم حملے کے 72 سال

ونی چی وا کہہ کر میرے سامنے موجود جاپانی بزرگ آدھے سے زیادہ جھک چکے تھے یہ جاپان کے روزمرہ آداب کا حصہ ہے جس میں صبح ہونے والی ملاقات میں او ہائی او گزائی مس OhaiOGuzaimasu مطلب صبح کا سلام کہہ کر رکوع کی حالت تک جھک کر سامنے والے کو خوش آمدید کیا جاتا ہے جبکہ اسی طرح دوپہر میں ہونے والی ملاقات میں کونی چی وا کہہ کر رکوع کی حالت تک جھک کر خوش آمدید کہا جاتا ہے جبکہ شام میں ہونے والی ملاقات میں کمباوا Kumbawa کہہ کر جھک کر خوش آمدید کہا جاتا ہے، جاپانی قوم اپنی ثقافت میں انتہائی تہذیب کا مظاہرہ کرتی ہے۔

میں اس وقت اپنے پاکستانی دوست کے جاپانی سسر سے ملاقات کے لئے جاپان کے صنعتی شہر اوساکا میں موجود تھا، اوساکا جاپان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جبکہ ٹوکیو سے تقریباً چار سو کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، ٹوکیو سے براستہ ہوائی جہاز اور بلٹ ٹرین یہاں بآسانی پہنچا جا سکتا ہے، میرے سامنے موجود بزرگ کی عمر پچاسی برس کے لگ بھگ ہو گی لیکن وہ کافی چاق و چوبند دکھائی دے رہے تھے، جاپانی بزرگ کا نام یاس اوزاوا Yas Ozawa تھا انہوں نے جاپان پر ہونے والے تاریخ کے بدترین ایٹمی حملے کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ ان خو ش نصیب لوگوں میں سے بھی تھے جو ہیروشیما میں ہوتے ہوئے بھی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے، اوساکا شہر کے مغرب میں واقع جاپان کے پرانے انداز میں تعمیر ہونے والا یہ مکان انتہائی بہترین حالت میں موجود تھا، ہمیں جس کمرے میں بٹھایا گیا تھا وہ تاتامی Tatamiسے مزین تھا.

تاتامی کو پاکستان میں موجود چٹائی سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جاپان میں تاتامی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے جو انھیں ان کے ماضی اور کلچر کی یاد دلاتی ہے ہر گھر میں ایک کمرہ تاتامی سے ضرور مزین کیا جاتا ہے جہاں گھر کے افراد بیٹھ کر چائے یا قہوہ نوش کرتے ہیں۔ ہم بھی اس کمرے میں بیٹھ چکے تھے،ابتدائی تعارف کے بعد میں نے جاپانی بزرگ یاس اوزاوا کی شخصیت کا جائزہ لیا،تازہ تازہ شیو،انتہائی سلیقے سے بنے ہوئے بال، چہرے پر جھریاں موجود تھیں تاہم ان کی شخصیت بارعب اور رکھ رکھائو والی تھی، ہمارے سامنے جاپانی گرین ٹی جسے أوچا بھی کہا جاتا ہے رکھ دیا گیا، کچھ دیر خاموشی کے بعد میں نے جاپانی بزرگ سے دوسری جنگ عظیم کے دوران تاریخ انسانیت پر ہونے والے بدترین امریکی ایٹمی حملے کے حوالے سے ان کی یادداشتوں کے بارے میں دریافت کیا، ایک لمحے کے لئے ان کی آنکھوں میں ایک نمی سی بھی نظر آئی،ایسا محسوس ہوا کہ بزرگ اب سے بہتر برس قبل ہیروشیما میں موجود تھے.

چند لمحے توقف کے بعد گویا ہوئے، وہ پیر چھ اگست 1945 کا دن تھا، میری عمر اس وقت تیرہ برس ہو گی، مجھ سمیت ہیروشیما کے عوام کو یہ تو معلوم تھا کہ دوسری جنگ عظیم ہو رہی ہے اور جاپان بھی اس جنگ میں شریک ہے لیکن جاپانی عوام کے روزمرہ کے معمولات پوری طرح جاری تھے، بچے اسکول جا رہے تھے تو بڑے اپنے کاروبار اور ملازمتوں میں مصروف تھے تو خواتین گھر کے کاموں میں، کہیں بھی یہ احساس نہیں تھا کہ کچھ ایسا ہونے والا ہے جو دنیا کی تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا، بزرگ ایک لمحے کے توقف کے بعد ایک بار پھر گویا ہوئے وہ بولے کہ ہمارے ہاں چھ بجے صبح ہو جایا کرتی تھی جبکہ والدہ شاید اس سے بھی قبل اٹھا کرتی تھیں.

اس روز بھی سب اپنے معمول کے مطابق اٹھے والد صاحب تیار ہوکر ساڑھے سات بجے دفتر کے لئے روانہ ہو گئے، میں اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ اسکول کے لئے چلا گیا جو گھر سے دس پندرہ منٹ کی مسافت پر تھا،اس دن گھر سے اسکول جاتے وقت وہ پندرہ منٹ بہت ہی اچھے گزرے تھے میں اپنے دوستوں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ اسکول کے راستے میں تھا ہمارا معمول تھا کہ راستے میں کوئی کچرا نظر آ جائے تو تمام دوست کچرے کو اٹھا کر کوڑے دان میں پھینکنا اپنا فرض سمجھتے تھے، راستے میں لگی کیاریوں سے کچھ خوشبو دار پھول جمع کر کے اپنے اساتذہ کو بطور تحفہ بھی دیا کرتے، ہم تمام دوست اپنے شہر ہیروشیما کی خوبصورتی دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے، اس روز بھی آٹھ بجے سے قبل ہم اسکول پہنچ کر اپنی اپنی کلاسوں میں بیٹھ گئے تھے کسی کوکچھ نہیں معلوم تھا کہ اب سے پندرہ منٹ بعد ہیروشیما پر کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے.

جنگ کے حوالے سے صبح صبح اساتذہ کرام کلاسوں میں آکر جنگ میں جاپانی افواج کی بہادری کے کارناموں اور فتح کی خبریں سنایا کرتے تھے اور تمام بچے اپنی افواج کی کامیابی پر دل ہی دل میں خوش بھی ہوا کرتے تھے، اس روز بھی ہماری کلاس میں استاد جنگ کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے بچوں کو آگاہ کر رہے تھے اور اسی دوران اتنا شدید دھماکہ ہو گیا کہ اس دھماکے کی گونج کو الفاظ میں بیان کرنا کسی کے لئے بھی شاید ممکن نہ ہو،اسکول کی کھڑکیوں کے شیشے کرچی کرچی ہو چکے تھے دھماکے سے اسکول کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا بچے زخمی حالت میں زمین پر گرے ہوئے تھے استاد جو سامنے کھڑے ہو کر پڑھا رہے تھے ان کے سر پر بھی کچھ ایسا لگا تھا کہ وہ خون میں لت پت تھے، اسکول کے باہر کالے بادلوں کا شدید دھواں موجود تھا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ انتہائی شدید گرم ہوائیں ہمیں جھلسا رہی تھیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ کالا دھواں بڑھتا جا رہا تھا،کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو گیا ہے شاید ہمارا اسکول دھماکے کی جگہ سے کچھ دور واقع تھا اس لئے ہم میں سے کچھ بچوں کی زندگی بچالی گئی تھی.

کئی گھنٹے بے ہوشی میں گزارنے کے بعد جب آنکھ کھلی تو خود کو تاحال اسی کلاس میں زخمی و ہلاک ہونے والے بچوں کے درمیان ہی پایا، کوئی امدادی ٹیم ہم تک نہیں پہنچ پائی تھی، میں بھی ہلنے جلنے سے قاصر تھا مجھے اپنا بھائی، اپنی والدہ اور والد کی بہت یاد ستا رہی تھی نہ جانے ان پر کیا گزری ہو گی، مزید کئی گھنٹوں بعد امدادی ٹیم ہم تک پہنچی، زخمی بچوں کو طبی امداد کے لئے شہر سے دور اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا، شہر کی تباہی دیکھی نہیں جا رہی تھی،عمارتیں کھنڈر بن چکی تھیں، پورا شہر جل رہا تھا، درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہو چکا تھا ایسا لگ رہا تھا کسی نے جلتے چولہے پر ڈال دیا ہو، لاشیں جل چکی تھیں، گاڑیاں اورعمارتیں جل چکی تھیں.

کچھ بھی بچا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، گلستان قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا، کئی دن اسپتال میں گزارے چھوٹا بھائی اور والد ایٹمی حملے میں دنیا سے رخصت ہو چکے تھے والدہ سے زخمی حالت میں ملاقات ہوئی، بزرگ انتہائی صدمے میں اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے لیکن میں نے محسوس کیا کہ مزید تفصیلات ان کے لئے کسی گہری تکلیف کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا میں نے وہیں پر بات ختم کی اور ان کا شکریہ ادا کیا سبق یہ ہے کہ ایٹم بم پر فخر کرنے والوں کو ایٹم بم کے نقصانات کا بھی خیال ہونا چاہیے جس کے ثمرات انسانی نسلوں کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔

محمد عرفان صدیقی
x

امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل تیار

    شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے وسط تک وہ امریکی علاقے گوائم کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائل تیار کر لے گا۔ ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر کم جونگ ان نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو ہوسونگ-12 راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے گوائم سے 30 کلومیٹر دور سمند میں جا گریں گے۔ ادھر امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو ‘اسے اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی جانب لے جائیں۔’

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جنگ میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔’ جیمز میٹس کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان سے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘آگ اور غصے’کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سخت پیغام میں امریکی وزیرِ دفاع نے شمالی کوریا سے اپنے ہتھیاروں کا پروگرام بند کرنے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کی جانب سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ شمالی کوریا نے بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے، اسٹریٹجک بمبار طیارے اور 163،000 امریکی رہتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے دورے سے واپس آتے ہوئے ریکس ٹلرسن کا ہوائی جہاز ایندھن لینے کے لیے گوام پر اترا تھا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ٹلرسن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے روس اور چین کے تعاون سے بین الاقوامی مہم کے مثبت نتائج ہوں گے اور شمالی کوریا کے ساتھ ایک ‘نئے مستقبل’ کو لے کر بات چیت ہو سکے گی۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو سفارت کاری کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے اور اسے ایک واضح پیغام دینے کی ضرورت تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘ آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیو جرسی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ‘شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔’ امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں۔