شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل داغنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ گوام پر حملہ کرنے کے فیصلے سے قبل کم جونگ ان امریکی اقدامات پر نظر رکھیں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریانے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے ‘میزائل داغنے کے منصوبے کا کافی دیر تک جائزہ لیا’ اور سینیئر فوجی افسران سے اس بارے میں گفتگو کی۔ ‘ رپورٹ کے مطابق ‘شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔’ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ ‘امریکہ جوہری ہتھیار ہمارے ملک کے قریب لایا ہے اور یہ اس کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے تو وہ درست فیصلہ لے تا کہ عسکری تصادم نہ ہو۔’

شمالی کوریا کے سربراہ نے فوج کو حکم دیا کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی حملہ جنگ میں بدل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ‘کسی بھی وقت، کسی کی جانب سے کیے گئے حملے’ سے نمٹنے اور ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے پڑوسی جنوبی کوریا نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ سے ملاقات میں اعادہ کیا کہ ‘جنوبی کوریا کی سب سے اہم ترجیح امن ہے۔’ ساتھ ساتھ انھوں نے شمالی کوریا سے بھی اشتعال انگیزی ختم کرنے کو کہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ شمالی کوریا پر ‘آگ اور قہر’ کی بارش کر دی جائے گی۔ تاہم شمالی کوریا کے روایتی ساتھی چین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ضبط سے کام لیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے الفاظ اور افعال کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔’ اس سے قبل اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’ اب پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے ‘سخت تنبیہ’ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا کہ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ان کے میزائل کی رینج میں ہے۔ یہ نیا تجربہ شمالی کوریا کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل’ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی میزائل کے تجربے کی مذمت کی ہے تاہم اس سے منسلک تمام فریقین کو ‘ضبط سے کام لینے’ اور ‘کشیدگی سے بچنے’ کی تلقین کی ہے۔

اس تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے شمالی کوریا نے کہا کہ بیلسٹک میزائل نے صرف 47 منٹ میں 3724 کلو میٹر کی بلندی حاصل کر لی تھی۔ کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا : ‘رہنما نے فخر کے ساتھ کہا کہ اب امریکہ کی ساری سرزمین ہمارے نشانے کی زد میں ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ راکٹ کا جو ماڈل اس تجربے میں استعمال کیا گیا وہ ہواسونگ-14 تھا اور یہی ماڈل تین جولائی کو استعمال کیا گيا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی جاپان کے سمندر میں گرا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق شمالی کوریا کے اس تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مشق کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر یہ میزائل داغے گئے۔ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آزادانہ طور پر اقدامات کرے گا اور وہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے دفاعی نظام ٹرمینل ہائی آلٹیچیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کو جلد از جلد نصب کرے گا۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بار بار میزائل کے تجربے کیے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ شمالی کوریا نے تازہ ترین تجربہ نے ملک کے شمالی حصے سے رات 11:43 بجے کیا۔

امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل تیار

    شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے وسط تک وہ امریکی علاقے گوائم کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائل تیار کر لے گا۔ ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر کم جونگ ان نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو ہوسونگ-12 راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے گوائم سے 30 کلومیٹر دور سمند میں جا گریں گے۔ ادھر امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو ‘اسے اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی جانب لے جائیں۔’

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جنگ میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔’ جیمز میٹس کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان سے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘آگ اور غصے’کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سخت پیغام میں امریکی وزیرِ دفاع نے شمالی کوریا سے اپنے ہتھیاروں کا پروگرام بند کرنے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کی جانب سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ شمالی کوریا نے بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے، اسٹریٹجک بمبار طیارے اور 163،000 امریکی رہتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے دورے سے واپس آتے ہوئے ریکس ٹلرسن کا ہوائی جہاز ایندھن لینے کے لیے گوام پر اترا تھا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ٹلرسن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے روس اور چین کے تعاون سے بین الاقوامی مہم کے مثبت نتائج ہوں گے اور شمالی کوریا کے ساتھ ایک ‘نئے مستقبل’ کو لے کر بات چیت ہو سکے گی۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو سفارت کاری کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے اور اسے ایک واضح پیغام دینے کی ضرورت تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘ آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیو جرسی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ‘شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔’ امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں۔

شمالی کوریا : فوجی پریڈ میں اسلحہ کی نمائش، امریکا پر ہیبت طاری

امریکا پر شمالی کوریا میں فوجی پریڈ کے دوران اسلحہ کی نمائش کی ہیبت طاری ہے۔ امریکی ماہردفاع نے بعض میزائلوں کو نقلی اور کھلونا ہتھیار قرار دے دیا، امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بڑا تنازع ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا میں ہونے والی فوجی پریڈ میں اسلحہ کی نمائش پر امریکی ماہر دفاع مائیکل پریگینٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پریڈ میں شمالی کوریا نے جن ہتھیاروں کی نمائش کی وہ نقلی تھے۔ امریکی ماہر دفاع نے ہتھیاروں کے کور پلاسٹک اورفوجیوں کے جنگی چشموں کےغیر معیاری ہونے کا بھی دعوی کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے لگے

 امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، ایک طرف امریکا اور جنوبی کوریا نے جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں تو دوسری جانب شمالی کوریا نے بھی اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی کوریا کے ممکنہ ایٹمی حملے سے نمٹنے کے لئے نیویارک کے اطراف امریکا اور جنوبی کوریا نے جوہری مشقیں جاری ہیں، آپریشن گوتھم شیلڈ کے نام سے شروع کی گئی مشقوں کا مقصد کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اور جنوبی کورین افواج نے شمالی کوریا کی سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کر رکھی ہیں، مشقوں میں جدید ترین جنگی طیاروں کےساتھ ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر اور ٹینک بھی حصہ لے رہے ہیں۔

امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس کارل ونسن بھی فلپائن کے ساحل پر لنگرانداز ہو گیا ہے جہاں سے شمالی کوریا کو با آسانی نشانا بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی فضائیہ نے کیلیفورنیا میں بیلسٹک میزائل ’منٹ مین‘ کا تجربہ بھی کیا ہے جو بحر اوقیانوس تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے کہا ہے کہ امریکا کم جونگ ان کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکا اور جنوبی کوریا کو دھمکی دی ہے کہ اس کے 50 لاکھ بچے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں، اگر حملے کی غلطی کی تو امریکا اور جنوبی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، جنوبی کوریا میں امریکا کا تعینات کردہ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی خاک میں ملا دیں گے۔ چین نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان شدید کشیدگی کے بعد ملکی سطح پر تیارہ کردہ پہلا طیارہ بردار بحری بیڑہ سمندر میں اتار دیا ہے۔ چین کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارنامہ چین کی فوجی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شمالی کوریا امریکی بحری جہاز ڈبونے کے لیے تیار ہے

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو ‘ڈبونے کے لیے تیار ہے۔’ رودونگ سنمن اخبار نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز کارل ونسن ‘ایک ہی وار’ میں ڈبویا جا سکتا ہے۔ اس بحری جہاز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنبیہ کے ساتھ جزیرہ نما کوریا کی طرف بھیجا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے معاملے پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب شمالی کوریا نے حال میں ایک میزائل کا تجربہ کرنے کی کوشش کی اور ایک فوجی پیریڈ کے دوران اپنے جدید ترین اسلحے کا مظاہرہ کیا۔

روندونگ سنمن حکومتی جماعت ورکرز پارٹی کا ترجمان اخبار ہے۔ اس میں اتوار کو شائع ہونے والے تبصرے کے بعد ایک اور خبر میں ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو سؤروں کے ایک فارم کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے: ‘ہماری انقلابی افواج ایٹمی طاقت سے چلنے والے امریکی طیارہ بردار جہاز کو ایک ہی وار میں ڈبونے کے لیے تیار ہیں۔‘ تبصرے میں مزید لکھا ہے کہ ایک ‘ناگوار جانور’ پر حملہ ‘ہماری فوج کی طاقت کے مظاہرے کی اصل مثال ہو گا۔’

سرکاری اخبار منجو جوسون نے بھی کچھ ایسی ہی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فوج ‘دشمن کے خلاف ایسے بےرحمانہ وار کرے گی کہ وہ دوبارہ زندہ نہ ہو سکے۔’

 گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے ایشیائی ملکوں کے دورے کے دوران شمالی کوریا کے بارے میں خاصا سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ‘شمالی کوریا کی بطور دہشت گردی کے سرکاری سرپرست حیثیت کا جائزہ لے رہا ہے اور دوسرے طریقوں پر بھی غور کر رہا ہے جن کے تحت پیونگ یانگ کی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔’ اس کا جواب دیتے ہوئے روندونگ سنمن نے لکھا: ‘ہمارا زبردست طاقتور پیش بندانہ وار نہ صرف امریکی فوج کو جنوبی کوریا سے مکمل طور پر ختم کر دے گا بلکہ وہ خود امریکی سرزمین کو بھی راکھ میں تبدیل کر دے گا۔’ شمالی کوریا نے آسٹریلیا کو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امریکی کا اتحادی بنا رہا تو اسے ایٹمی اسلحے کا نشانہ بنایا جائے گا۔ شمالی کوریا جوہری صلاحیت کے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسے شواہد نہیں مل سکے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ونسن بحیرۂ فلپائن میں جاپانی بحریہ کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے۔